ISLAM WITH EMAN
Kanalga Telegram’da o‘tish
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Ko'proq ko'rsatish1 285
Obunachilar
Ma'lumot yo'q24 soatlar
-57 kun
-730 kun
Postlar arxiv
1 285
بشیرا مراثی اور معاشرتی المیہ
کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آ گیا ۔ کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا۔ تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑ توڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا۔ جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی۔
وقت گزرتا گیا۔ استاد بشیر کی دُھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہوا ۔ آسکر کے لئے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔ گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرافٹنگ اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ۔ دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔ کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔ کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔
پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گٹھنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر بُرد کرنے والی بُڈھی جیسی ہو گئی۔ اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا، برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی، پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے، انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی، رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ گاؤں میں حویلی تعمیر کی، کنواں کھدوایا، اسکول بنوایا، اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللّٰہ بچائی خاتون مرحومہ” کا کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔
تو صاحبو! گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے، لوگ 'سلام چوہدری صاحب' کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کا علاج ہو کہ بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیمِ اسناد ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔
پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا، اچھا لگا، چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی، ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔ چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے، حسب نسب پوچھا، جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔
شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکی کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکی کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا، کچھ آنکھیں چار ہوئیں، کچھ یادداشت کھنگالی گئی، آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔ “اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔ “اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا؟” کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی “اوئے لعنتی دی اولاد”اوئے میراثیاں دا ٹولہ” ، “اوئے بلی، کتے کھان والیو” ۔ “اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو” ، ”اوئے سورا” ۔۔۔ شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔
اونچے شملے تھے، کلف لگے سوٹ تھے، دولت تھی، عزت تھی، سوشل ورک تھا، اعزازی ڈگری تھی ۔۔۔ پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔ بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں، واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے، انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*عدل اور اس دنیا میں رائج انصاف*
ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔
"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔
1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔
2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔
3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔
4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔
5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔
ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔
📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"
"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)
ڈاکٹر وردہ وڑايچ
1 285
■ اربعین حسینی کے متعلق پوسٹیں۔ پوسٹ دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
http://t.me/islamwitheman/1738
🌏 أربعين اور عراقی قوم
http://t.me/islamwitheman/1700
⚫ أربعين حسینی اور اعمال
http://t.me/islamwitheman/1741
🌸 زیارت اربعین
http://t.me/islamwitheman/1742
🔵 زیارت امام حسینؑ کی اہمیت
http://t.me/islamwitheman/1745
🔵 زیارت امام حسینؑ کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1746
💖 سلیمان اعمش کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1747
⚫ چہلم اوّل امام حسینؑ
http://t.me/islamwitheman/1749
⚫ چہلم امام حسین علیہ السلام
http://t.me/islamwitheman/1750
🌹 زیارت امام حسینؑ کا ثواب
http://t.me/islamwitheman/1751
🌹 زیارت عاشورا کے فوائد
http://t.me/islamwitheman/1972
🌹 زیارت عاشورا اور یوم الورود
http://t.me/islamwitheman/1973
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
#پاکستان_زندہ_باد
میرا ملک میری جان پاکستان پاکستان
میری عزت میرا مان پاکستان پاکستان
■ وطن عزیز۔۔
1= حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا:
خداوندعالم اس شخص کوسخت ناپسند فرماتا ہے جس کے گھر میں کوئی شخص (بری نیت سے) داخل ہو اور وہ اس سے نہ لڑے۔ (اس گھر سے مراد پاکستان بھی ھو سکتا ھے)
(عیون اخبارالرضا، ص28)
2= حضرت علی علیہ السلام:
تونگری پردیس میں بھی وطن ہے اور غربت وطن میں بھی پردیس ہے۔
(نہج البلاغہ، حکمت56)
3= تیرے لئے کوئی ایک وطن دوسرے وطن سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا، بہترین وطن وہ ہے جو تیرا بوجھ اٹھا لے۔
(بحارالانوار، جلد78، ص13)
4= کسی وطن میں کوئی خاص اچھائی نہیں ہے، اچھائی اس جگہ پر ہے جہاں امن وامان اور مسرت وخوشحالی ہو۔
(بحارالانوار، جلد69، ص401)
5= شہروں کی آبادی وطن سے محبت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
(بحارالانوار، جلد78، ص45)
6= مرد کی شرافت تین چیزوں میں ہے:
1) گزشتہ زمانے پر افسوس اور گریہ و بکاء۔
2) وطن کی طرف جھکاؤ۔
3) اور پرانے دوستوں کی دوستی بحال رکھنا۔
(بحارالانوار، جلد74، ص364)
■ پردیس۔۔
1= حضرت علی علیہ السلام:
پردیس میں کسی قسم کا ننگ و عار نہیں، بلکہ ننگ و عار تو وطن میں غربت کی حالت میں ہوتی ہے۔
(غررالحکم)
2= عقلمندی پردیس میں قرب کا سبب ہوتی ہے اورحماقت وطن میں بھی پردیس کا (سبب) ہوتی ہے۔
(غررالحکم)
3= کسی ایک شہر کو دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں، بہترین شہر وہ ہے جو تیرا بوجھ اٹھائے۔
(نہج البلاغہ، حکمت442)
■ دفاعِ وطن کیلئے خطباتِ امیرامومنینؑ:
1= جب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے لشکر نے ''انبار'' پر حملہ کر دیا ہے، تو آپ نے اس کے خلاف لوگوں کو اٹھ کھڑا ہونے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کا کہا نہ مانا تو اس پر فرمایا:
میں نے اس قوم سے لڑنے کیلئے رات کو بھی اور دن کو بھی، اعلانیہ بھی اور پوشیدہ بھی تمہیں پکارا اور للکارا، اور تم سے کہا کہ قبل اس کے کہ وہ جنگ کے لئے بڑھیں تم ان پر دھاوا بول دو۔ خدا کی قسم جن افرادِ قوم پر ان کے گھروں کے حدود کے اندر ہی حملہ ہو جاتا ہے، وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ لیکن تم نے جہاد کو دوسروں پر ڈال دیا اور ایک دوسرے کی مدد سے پہلو بچانے لگے۔ یہانتک کہ تم پر غارت گریاں ہوئیں اور تمہارے شہروں پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔
(نہج البلاغہ، خطبہ27)
2= جب ملکی سرحدوں پر دشمن کی فوجوں نے حملہ کردیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
''اس گھر کے بعد اور کونسا گھر ہے جس کی حفاظت کرو گے اور میرے بعد کس امام کے ساتھ ہوکر جہاد کرو گے؟۔''
(نہج البلاغہ، خطبہ29)
■ بدترین وطن۔۔
1= حضرت رسولِخداؐ نے فرمایا:
کسی وطن میں کوئی خوبی نہیں جب تک کہ اس میں امن و امان اور مسرت و خوشحالی نہ ہو۔
(بحارالانوار، جلد77، ص58)
2= بدترین وطن وہ ہے جس میں امن و سکون سے رہنا نصیب نہ ہو۔
(غررالحکم)
📚نقل از تفسیرالمعین والترجمۃالقرآن الکریم، ص49۔ تالیف: علامہ محمد علی فاضل
https://t.me/islamwitheman/3788
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
■ توبہ کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں..
🔵 ان الله یحب التوابين
https://t.me/islamwitheman/88
🔴 الله تعالیٰ کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴 اعترافِ گناہ
https://t.me/islamwitheman/156
🔴 حسنِ نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌻 پنسل اور ربڑ
https://t.me/islamwitheman/376
🔵 خود احتسابی
https://t.me/islamwitheman/467
🔷 الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
🔷 انسان کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1330
🔷 دو آنسو
http://t.me/islamwitheman/1396
🌹 بشر حافی کی توبہ
http://t.me/islamwitheman/1409
🔷 ایک میت کی نصیحت
http://t.me/islamwitheman/1607
🌸 استعاذہ
http://t.me/islamwitheman/1620
🔷 ایک چور کی توبہ کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1706
🌺 توبہ
https://t.me/islamwitheman/1771
🔹 تَوبَةً نَصُوحاً
https://t.me/islamwitheman/2035
😭 نصوح کی توبہ
https://t.me/islamwitheman/2318
🔴 حسنِ نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/4748
🌳 توبہ النصوح
https://t.me/islamwitheman/6836
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌳 توبہ النصوح 🌳
نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.
وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔
یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.
ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے
بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا
نصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔
جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں تو
سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا، میری لاج رکھ لے مولا۔
دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔
نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔
نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔
کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔
نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔
جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک
پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔
ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس
چر رہی تھی۔
اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ، جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں،
لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔
کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے
انہوں نے نصوح سے پانی مانگا
نصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،
قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا
نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔
نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔
نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔
آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔
وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔
بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔
اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئیں۔
جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،
بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔
جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔
چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔
نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔
ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہ
ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی ۔ برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔
نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے
آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے
نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔
وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔
بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے
یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے
یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔
اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔
کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم
انوار المجالس صفحہ 432۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🌹 انسانی نسل 🌹
نسلِ انسانی کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے بعد
قرآنِ پاک اور قدیم الہامی روایات کے مطابق آج روئے زمین پر جتنے انسان بستے ہیں وہ سب حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے، جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو شرک اور گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر اکثریت نے انکار کیا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا اور اہلِ ایمان کو نجات دی۔
حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے:
1. سام
2. حام
3. یافث
4. کنعان (یام)
طوفان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کنعان کو بھی دعوت دی کہ وہ کشتی میں سوار ہو جائے، مگر اس نے غرور اور کفر میں ڈوبے رہنے کا انتخاب کیا اور قوم کے ساتھ غرق ہو گیا۔ اس کی والدہ اور باقی اہلِ خانہ بھی جو ایمان نہ لائے تھے، اسی انجام کو پہنچے۔
اس طرح طوفان کے بعد زمین پر انسانوں کا نیا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — کی نسل سے ہوا۔ یہی نسلیں مختلف سمتوں میں پھیل کر آج کے تمام انسانوں کی آبادی کی بنیاد بنیں۔
سام بن نوح علیہ السلام
سام حضرت نوح علیہ السلام کے بڑے بیٹوں میں سے تھے۔ طوفان کے بعد وہ مشرق کی طرف، خاص طور پر یمن میں آباد ہوئے۔
ان کی نسل سے عرب، فارس، روم، بنی اسرائیل، آشوری، ارمنی، اور کلدانی جیسی بڑی اقوام وجود میں آئیں۔ سام کو "ابوالعرب" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب قبائل کا سلسلہ نسب انہی تک پہنچتا ہے۔
بنی اسرائیل بھی سام کی اولاد ہیں اور اسی نسبت سے انہیں "سامی اقوام" کہا جاتا ہے۔ سام کی نسل نے جزیرہ نما عرب، عراق، شام، فلسطین اور ایران جیسے خطوں میں اپنی تہذیبیں قائم کیں۔
حام بن نوح علیہ السلام
حام طوفان کے بعد براعظم افریقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے مصری، حبشی، نوبی، بربر، کنعانی، ہندی، اور کچھ جنوبی ایشیائی اقوام پیدا ہوئیں۔
مصراِیم بن حام نے قدیم مصری تہذیب کی بنیاد رکھی۔ ان کے بیٹوں کی نسل میں افریقہ اور بعض ایشیائی خطوں میں پھیلی ہوئی اقوام شامل ہیں۔ زیادہ تر حام کی نسل والے گہرے رنگت اور مضبوط جسمانی ساخت کے مالک تھے
یافث بن نوح علیہ السلام
یافث سب سے بڑے یا بعض روایات کے مطابق درمیانی بیٹے تھے، جو شمال اور مغرب کی سمت میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے ترک، روس، تاتار، مغول، چین، جاپان، یاجوج ماجوج، یونانی اور شمالی یورپ کی اقوام پیدا ہوئیں۔
یہ نسل دنیا کے سرد اور معتدل علاقوں میں پھیلی اور تجارت، جہازرانی اور جنگی فنون میں مہارت حاصل کی۔
آج زمین پر بسنے والے تمام انسان، چاہے وہ کسی بھی نسل زبان یا رنگ کے ہوں، حضرت نوح علیہ السلام کے ان تین بیٹوں سام، حام اور یافث کی اولاد ہیں۔ اس حقیقت کو جان کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی خاندان کی اولاد ہے، اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ عدل احترام اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔
🌍 آج زمین پر جتنے بھی انسان ہیں، سب کا نسب حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — سے جڑتا ہے طوفانِ نوح کے بعد یہی تینوں نسلِ انسانی کو دنیا کے کونے کونے میں لے کر پھیلے
﴿وَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلۡبَاقِينَ﴾
ترجمہ: اور ہم نے نوح کی اولاد ہی کو باقی رہنے والا بنایا۔ (سورۃ الصافات: 77)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/6834
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
"ایک داو کافی ہوتا ہے، اگر وہ مکمل ہو!"
جاپان میں مارشل آرٹ کا ایک طالب علم تھا۔ ایک
حادثے میں اس کا بایاں بازو کٹ گیا۔ وہ مایوس ہو چکا تھا کہ اب وہ مارشل آرٹ سیکھ ہی نہیں سکتا۔ لیکن ایک سن سے (استاد) نے اسے شاگردی میں لے لیا اور مہینوں تک صرف ایک ہی داو اور ایک ہی کک سکھاتا رہا۔
طالبعلم نے حیرت سے پوچھا:
"سن سے، آپ مجھے کچھ اور کیوں نہیں سکھاتے؟"
استاد نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا، تمہارے لیے یہی ایک داو کافی ہے۔ بس اسے اتنی بار دہراو کہ تم اس پر مکمل مہارت حاصل کر لو۔"
وقت گزرا، طالبعلم نے ایک مارشل آرٹ ٹورنامنٹ میں اسی ایک داو سے کئی طاقتور حریفوں کو شکست دی۔ حیران ہو کر وہ استاد کے پاس پہنچا اور بولا:
"سن سے، آپ کو کیسے معلوم تھا کہ یہ ایک داو میرے لیے کافی ہو گا؟"
استاد نے کہا:
"ہر داو کی کچھ کمزوریاں ہوتی ہیں۔ تمہارے داو کی کمزوری بایاں بازو ہے – جو تمہارے پاس ہے ہی نہیں! جبکہ تم نے اسی ایک داو کو اتنے بار دہرایا کہ مہارت کی آخری حد تک پہنچ گئے۔ اب دنیا کے لیے تمہارا یہ داو ناقابلِ شکست ہے۔"
🔘 سبق
ہم اکثر سوچتے ہیں ہمیں ہر چیز آنا چاہیے… اور آخر میں ہم بکھر جاتے ہیں۔
جبکہ کامیاب وہ ہوتا ہے جو ایک چیز دل سے، سمجھ سے، تجربے سے اور مہارت سے سیکھتا ہے اور پھر اسے اپنی طاقت بنا لیتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 ہاتھی اور کتیا 🔷
ایک ہاتھنی اور ایک کتیا ایک ہی وقت میں حاملہ ہو گئیں۔
تین مہینے بعد کتیا نے چھ بچے جنے جبکہ ہاتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ چھ مہینے بعد، کتیا دوبارہ حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد اس نے درجنوں بچے جنے، لیکن ہاتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔
یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور کتیا کے بارہ بچے ہو گئے جبکہ ہاتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔
اٹھارہ مہینے بعد، کتیا نے ہاتھنی کے قریب جا کر اس سے پوچھا،
"کیا تمہیں یقین ہے کہ تم حاملہ ہو؟ ہم دونوں ایک ہی وقت میں حاملہ ہوئیں تھیں، میں تین بار دس دس بچے جن چکی ہوں اور وہ اب بڑے کتے بن گئے ہیں جبکہ تم ابھی تک حاملہ ہو، یہ کیا ماجرا ہے؟"
ہاتھنی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "ایک بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔
جو کچھ میں اپنے اندر پال رہی ہوں وہ کوئی کتا نہیں بلکہ ہاتھی ہے۔ میں دو سال بعد صرف ایک ہاتھی جنتی ہوں، جب میرا بچہ زمین پر قدم رکھے گا، تو زمین پر لرزش محسوس ہوگی۔
جب میرا بچہ سڑک پار کرے گا، تو لوگ چلنا چھوڑ دیں گے اور اسے تعریفی نظروں سے دیکھیں گے۔
جو کچھ میں پال رہی ہوں وہ ایسا وجود ہے جو سب کی توجہ کھینچے گا، جو کچھ میں پال رہی ہوں وہ عظیم اور بڑا ہے۔"
# خلاصہ:
✦ جب آپ دیکھیں کہ دوسرے لوگ جلدی جلدی اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں تو اپنا اعتماد نہ کھوئیں۔
✦ اگر آپ نے ابھی تک اپنی تمنائیں پوری نہیں کیں تو دوسروں سے حسد نہ کریں۔
✦ نہ مایوس ہوں اور نہ پریشان، اپنے آپ سے کہیں:
"میرا وقت آنے والا ہے، اور جب میرا مقصد ظاہر ہوگا تو لوگ اسے تعریفی نظروں سے دیکھیں گے۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
خون کا گاڑھا ہونا اور کولیسٹرول کا قدرتی علاج
اگر آپ کو درج ذیل علامات محسوس ہو رہی ہیں:
🔹 چند قدم چلنے سے سانس چڑھتا ہے۔
🔹 سیڑھیاں چڑھنے پر تھکن اور دم گھٹنا
🔹 کام کا دل نہ کرنا، نیند کی زیادتی
🔹 صبح بستر سے اٹھنے میں دقت
🔹 جسمانی کمزوری، سستی اور بےرغبت طبیعت
تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ آپ کا خون گاڑھا ہو چکا ہے یا کولیسٹرول کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
✅ تشخیص کا پہلا قدم:
لیپڈ پروفائل ٹیسٹ ضرور کروائیں تاکہ خون میں چربی (کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈز وغیرہ) کی سطح معلوم ہو سکے۔
قدرتی نسخہ برائے کولیسٹرول اور خون کی روانی
ھوالشافی!
السی: 30 گرام
سونف: 10 گرام
دارچینی: 5 گرام
طریقہ استعمال:-
تمام اجزاء کو پیس کر باریک سفوف (پاؤڈر) بنا لیں۔
روزانہ صبح نہار منہ ایک چھوٹا چمچ یہ سفوف دہی میں ملا کر کھائیں۔
مسلسل 15 دن تک استعمال کریں۔
نتیجہ:-
15 دن بعد دوبارہ لیپڈ پروفائل ٹیسٹ کروائیں۔ ان شاءاللہ آپ کو واضح فرق نظر آئے گا — خون کی روانی بہتر، کولیسٹرول کم، اور جسم میں توانائی محسوس ہوگی۔.
نوٹ:-
یہ ایک آزمودہ اور قدرتی نسخہ ہے، مگر اگر آپ کسی دوا کا استعمال کر رہے ہیں یا کسی مرض میں مبتلا ہیں تو پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
منقول۔۔۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
تو تقریباً 5 لاکھ میٹر نیچے آپ کو زمین کی Inner Core ملے گی جو کے جمے ہُوئے لوہے کی بنی ہُوئی ہے یہاں پر کشش ثقل صفر ہوجائے گی اور زمین کی اس تہہ میں سوراخ کرنا آپ کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا لیکن اگر یہاں بھی آپ کامیاب ہوگئے تو تقریبا 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے آپ زمین کے بلکل وسط میں پہنچ جائیں گے اور یہاں سے آگے ڈرل کرنے کے لیے آپکو نیچے جانے کی بجائے اوپر کی طرف Climb کرنا پڑے گا۔
مُجھے اُمید ہے کہ اگر آپ 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے پہنچ گئے تو پھر یقیناً وہاں سے زمین کی دوسری طرف Climb کرتے ہُوئے نکلنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو زمین کے آر پار ایک سوراخ ہوجائے گا اور ارجنٹینا سے چین کا سفر کرنے لیے آپکو صرف ایک گھنٹہ درکار ہوگا اور یہ سفر آپ سوراخ کی ایک سائیڈ سے چھلانگ لگا کر کریں گے اور یہ چھلانگ آپ کو سوراخ کے دوسری طرف نکال دے گی۔
زمین کے اس سوراخ میں چھلانگ لگانے کے لیے آپ کو اور بھی کئی طرح کی چیزیں درکا ہو گی جیسے خلائی سُوٹ جو پریشر کو برداشت سکے وغیرہ وغیرہ لیکن آج تک کوئی انسان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہُوا اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ناممکن ہی دیکھائی دیتا ہے مگر ایک چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ نے انسان کو عقل سلیم عطا کی ہے اور عقل سلیم میں کوئی چیز نا ممکن نہیں ہے۔
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
زمین کے آر پار سوراخ
اگر ہم زمین پر لاہور شہر کے بلکل نیچے زمین کی دوسری طرف جانا چاہیں تو ہمیں 20 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا لیکن اگر ہم زمین کی سطح پر سفر کرنے کی بجائے لاہور شہر کے نیچے زمین کی دوسرے طرف ایک سیدھا سوراخ کریں اور اُس میں چھلانگ لگا دیں تو کیا ہوگا۔
اگر ہم ایسا سوراخ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم زمین کی دوسری طرف ساؤتھ امریکہ کے سمندر میں نکلیں گے جہاں سے قریب ترین ملک چلی ہے اور وہ بھی 608 کلومیٹر کے فاصلے پر لیکن اگر ہم ارجنٹینا سے زمین میں ایک سیدھا سوراخ کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو سوراخ دوسری طرف چین میں نکلے گا۔
.سائنس دان زمین کو زمین کی سطح کے بعد تین بُنیادی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں
Mentle.
Outer core.
Inner core
انسان آج تک ان تین حصوں کے پار نہیں جاسکا اور اگر ہم زمین کی سطح پر سوراخ کرنا شروع کریں تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر سے ساڑھے تین کلومیٹر نیچے ہمیں Devil Worm ملیں گے ڈیول وارم زیر زمین گہرائی میں رہنے والے واحد جانور ہیں جو انسان نے 2011 میں دریافت کیے تھے اور پھر 3600 میٹر کی گہرائی سے آگے درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوجائے گا۔
زمین کی سطح کے 4000 میٹر نیچے زمین کا درجہ حرارت 60C تک پہنچ جائے گا جہاں سے نیچے مزید سوراخ کرنے کے لیے ہمیں ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے برف درکار ہوگی، سوراخ مزید گہرا کرتے ہُوئے جب 8800 میٹر نیچے پہنچے گا تو یہ زمین کے سب سے اُونچے پہاڑماونٹ ایورسٹ کی بُلندی جتنا گہرا ہوجائے گا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ انسان زمین کے اندر اس سے بھی آگے جا چُکا ہے اور
Kola Superdeep Borehole
کے نام سے سائندانوں نے اب تک زمین میں 12260 میٹر کی گہرائی تک سُوراخ کیا ہے۔
اس گہرائی پر زمین کا درجہ حرارت 180 ڈگری سے تجاوز کرجاتا ہے اور پریشر سطح سمندر کے پریشر سے 4 ہزار گُنا زیادہ ہو جاتا ہے اور اگر آپ سوراخ کرتے کرتے اس مُقام پر پہنچ جائیں تو آپ کو اس مُقام پر زندہ رہنے کے لیے سوراخ کے ارد گرد ایسی انسولیشن کرنی پڑے گی جو اس شدید درجہ حرارت کو سوراخ میں داخل ہونے سے روک دے وگرنہ آپ اپنے سوراخ کرنے کے سامان سمیت پگھل جائیں گے۔
اگر آپ سوراخ کرتے کرتے 40 ہزار میٹر نیچے پہنچ جائیں تو یہاں سے زمین کی دوسری تہہ Mantle شروع ہوگی اور اس مقام پر زمین کا درجہ حرارت 1 ہزار ڈگری کے قریب پہنچ جائے گا جہاں لوہا اور سلور پگھل جاتے ہیں مگر خوشخبری یہ ہے کے سٹیل نہیں پگھلے گا کیونکہ سٹیل کو پگھلانے کے لیے درجہ حرارت کا 1370 ڈگری سے زیادہ ہونا ضروری ہے چنانچہ آپ سٹیل کی ڈرل سے زمین کی تہہ مینٹل جس کی اوپر والی سطح چٹانوں سے بنی ہے ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جب آپ 1 لاکھ میٹر نیچے پہنچے گے تو آپ کی سٹیل ڈرل کام کرنا چھوڑ دے گی اور پگھل جائے گی اور آپ کو مزید نیچے جانے کے لیے کسی اور دھات کی ڈرل کی ضرورت ہوگی جو اُس درجہ حرارت پر نا پگھلے.
ڈرل کرتے کرتے جب آپ ڈیڑھ لاکھ میٹر نیچے پہنچیں گے تو آپ کو مزے ہی آجائیں گے کیونکہ یہاں آپ کو بیشمار ہیرے ملیں گے کیونکہ اس مُقام پر زمین کا پریشر اور گرمی کاربن کے ایٹم کی ساخت کو بدلتی ہے اور ہیرا وجود میں آتا ہے اور زمین کی اس گہرائی پر آپکو لوہے اور چٹانوں سمیت ہر چیز پگھلی ہُوئی ملے گی جیسے آتش فشاں کا لاوا ہوتا ہے۔
اگر آپ اس مقام پر سے زمین کی مزید تہہ میں جانے میں کامیاب ہوجائیں تو 4 لاکھ 10 ہزار میٹر کی گہرائی پر لاوا ختم ہوجائے گا اور دوبارہ چٹانوں کا سلسلہ شروع ہوگا زمین کی اس گہرائی پر درجہ حرات بے حد زیادہ ہوجاتا ہے مگر چٹانیں اس لیے نہیں پگھلتی کیونکہ زمین کا پریشربڑھتے بڑھتے اُس مقام پر چلا جاتا ہے جہاں مالیکول پگھل نہیں پاتے چنانچہ چٹانیں دوبارہ وجود میں آ جاتی ہیں۔
ڈرل کرتے کرتے جب آپ 3 ملین میٹر کی گہرائی پر پہنچیں گے تو آپ کو زمین کی تیسری تہہ Outer Core ملے گی اور یہ تہہ چٹانوں کی بجائے لوہے اور نکل سے بنی ہُوئی ہے اور اس مقام کا درجہ حرارت سُورج کی سطح کے برابر ہے اور تقریباً 5 سے 6 ہزار ڈگری گرم ہے یہ تہہ زمین کی انتہائی اہم تہہ ہے کیونکہ یہاں پر میگنیٹک فلیڈز بنتی ہیں جو زمین کی سطح سے باہر نکل کر خلا تک جا کر ایک بیرئر بناتی ہیں اور زمین کی سطح کو سولر ونڈز سے محفوظ رکھتی ہیں، زمین کی اس تہہ پر آپ کو لوہا اور نکل پگھلا ہُوا ملے گا اور ڈرل کرنے کے لیے کوئی سُپر مٹریل درکار ہوگا اور انسان کی عقل نے اب تک کوئی ایسی چیز دریافت نہیں کی جو 6 ہزار ڈگری سے اوپر کا درجہ حرارت برداشت کر سکے۔
اس مُقام پر آپ کو ڈرل کرنے میں دوسرا بڑا مسلہ یہ درپیش آئے گا کہ یہاں کشش ثقل بہت کم ہوئے گی اور آپ کو کوئی سُپر سب مرین درکار ہوگی جو اتنے پریشر اور حدت کو برداشت کرتے ہُوئے مزید گہرائی میں جا سکے اور جب آپ Outer Core کو ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے پہنچیں گے
1 285
کم جراثیم والوں کیلئے،
جن کےجراثیم کم ہوں تو بےفکر ہو کر یہ نسخہ آزمائیں۔ مادہ منویہ کو خوب گاڑھا کرتا ہے۔ سرعت انزال کا بہترین علاج بھی ہے، جریان احتلام کے لیے بہترین دوائی ہے۔
ھوالشافی؛: درخت پیپل کا کچا پھل اتار کر سایہ دار جگہ پر کسی کپڑے کاغذ پر بکھیر کر خشک کر لیں اور باریک پیس کر سفوف بنا کر محفوظ کر لیں۔
ترکیب تیاری؛
آدھا کلو دودھ لیکر اس کو چولہے پر رکھ کر ابالیں اور اس دوائی کے 2 بڑے چمچ اس دودھ میں ڈال کر پکائیں اور ایک چمچ دیسی گھی اور چینی حسب ضرورت ڈال دیں جب دودھ پک کر ڈیڑھ پاؤ یا ایک پاؤ رہ جائے آگ سے اتار لیں۔
ترکیب استعمال:
ٹھنڈا کر کے نہار منہ کھا لیں اور دو گھنٹے تک اور کچھ نہ کھائیں صبح و شام نہار منہ ایسے ہی بنا کر کھائیں۔ 45 دن کھا کر جہاں چاہیں جراثیم ٹیسٹ رپورٹ کرائیں آگر اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کے جراثیم قابل حمل ہو جائیں گے۔
پرہیز:
دوران علاج قبض نہ ہونے دیں اگر قبض ہو تو دودھ نیم گرم میں اصلی بادام روغن دو چمچ ملا کر سوتے وقت پی لیا کریں۔ اور فارمی انڈے، بیکری و بازاری غذا و مشروبات، سے، ہمبستری سے سختی کے ساتھ پرہیز کریں۔
