uk
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

Відкрити в Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

Показати більше
Країна не вказанаКатегорія не вказана
272
Підписники
Немає даних24 години
+77 днів
+2830 днів
Архів дописів
کیچ کے علاقے زامران میں مسلح افراد کی جانب سے پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر شدید حملہ مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099148657572327837?s=52

Mand.jpg1.97 MB

+1
Aashob Statement English BLF September2026 000106 Page 1.jpg5.05 MB

On September 1, 2026, BLF fighters targeted a patrol team heading to an occupying Pakistani army picket post at Pitok area of Dasht, with heavy and automatic weapons. Comming under the attack, one army vehicle was severely damaged, while several personnel onboard were killed and wounded. The Balochistan Liberation Front accepts responsibility for all the above-mentioned operations, blockades, and losses of life and property inflicted on the occupying army. Major Gwahram Baloch Spokesperson– Balochistan Liberation Front 13 September 2026 Ref. No. BLF/September2026/000106

Six military personnel killed and several wounded in seven operations, weapons seized from police personnel: Major Gwahram Baloch Balochistan Liberation Front fighters set up a checkpoint on the main highway at Koh Daghar area of Mand on September 11, 2026, searching vehicles passing through. The objective of the blockade was to maintain the organization's influence in the area and to closely monitor the movements of the occupying Pakistani army and its collaborators. In another operation, our fighters ambushed an occupying Pakistani army convoy on September 10, 2026, at Tatgar in the Yakmach area of Kharan, targeting it with heavy and automatic weapons. Due to constant attacks by the fighters, the frightened occupying army convoy was using civilian vehicles for its movement, two buses carrying military personnel in the convoy came under direct attack, resulting in 6 occupying army personnel being killed on the spot and several others wounded. The organization strongly warns all transporters and vehicle owners not to allow their vehicles to be used for the occupying army's movement, supply of rations, or other support. The occupying army is always on our target, therefore, civilian transporters who facilitate the army will themselves be responsible for any loss of life or property that results. After the attack, the occupying army attempted to advance against the fighters in the desert area of Harmagy with the intent of encircling them however, the alert fighters counter-attacked, foiling the enemy's advance and forcing the army to retreat after suffering further losses. On the same day, BLF fighters set up a checkpoint and conducted snap checking on the main highway from Nasirabad to Nodiz in the Kech area. The fighters continued searching vehicles at their designated checkpoint for the set time without disrupting the flow of traffic for the general public. The main purpose of this blockade was to maintain organizational influence in the area and closely monitor the movements of the occupying army and its local collaborators. After the fighters withdrew safely, the occupying army's convoy and quadcopters arrived at the checkpoint site and fired indiscriminately into the air, harassing local civilians. On the same day, in another operation, our fighters carried out a comprehensive attack with heavy and automatic weapons on an occupying Pakistani army camp located at Del Kick area of Zamuran, resulting in losses of life and property for the enemy forces. In another attack, our fighters first fired several rounds from grenade launchers at an occupying Pakistani army camp established at Rodbun area of Tump, which landed precisely on their targets. The fighters subsequently targeted the camp's defensive positions with other advanced and heavy weapons, causing heavy losses of life and property to the occupying army. In another operation on September 9, 2026, BLF fighters set up a checkpoint on the main highway in the Khairabad area of Turbat, searching vehicles passing through. During the blockade, the fighters stopped the official vehicle of the Assistant Commissioner of Tump. However, the Assistant Commissioner himself was riding in the vehicle behind rather than the one that was stopped, and taking advantage of this, he managed to escape from the scene. The fighters seized all the official weapons and combat equipment of the Assistant Commissioner's security guards. After completing the operation, the occupying army attempted an aerial attack using a quadcopter, but the alert fighters in counter-attack, foiled the attack and forced the enemy to retreat.

+1
Aashob Statement Urdu BLF September2026 000106 Page 1.jpg4.88 MB

7 کارروائیوں میں 6 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی، پولیس اہلکاروں سے اسلحہ ضبط : میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 11 ستمبر 2026 کو مند کے علاقے کوہ ڈغار میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں اپنے تنظیمی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور قابض پاکستانی فوج اور اس کے سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ ایک اور کارروائی میں ہمارے سرمچاروں نے 10 ستمبر 2026 کو خاران کے علاقے یکمچ میں ٹٹگار کے مقام پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے مسلسل حملوں کے باعث خوفزدہ قابض فوج کا یہ قافلہ اپنی نقل و حرکت کے لیے سویلین گاڑیوں کا استعمال کر رہی تھی، اس قافلے میں شامل فوجی اہلکاروں کو منتقل کرنے والی 2 بسیں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 6 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ تنظیم تمام ٹرانسپورٹرز اور گاڑی مالکان کو سخت تنبیہ کرتی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو قابض فوج کی نقل و حرکت، راشن کی فراہمی یا معاونت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ قابض فوج جہاں بھی ہوگی وہ سرمچاروں کے ہدف پر ہے، لہٰذا سویلین ٹرانسپورٹرز فوج کو سہولت فراہم کرنے کی صورت میں اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ حملے کے بعد قابض فوج نے سرمچاروں کو گھیراؤ میں لینے کی نیت سے ہرماگے کے ریگستانی علاقے میں سرمچاروں کے خلاف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تاہم مستعد سرمچاروں نے ان پر جوابی حملہ کر کے دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بنا دیا اور فوج کو مزید نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑا۔ اسی روز سرمچاروں نے کیچ کے علاقے ناصرآباد سے نودز تک مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ سرمچاروں نے عام عوام کی ٹریفک کی روانی کو متاثر کیے بغیر اپنے مقررہ وقت تک ناکہ لگاکر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں تنظیمی اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور قابض فوج و اس کے مقامی سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ سرمچاروں کے باحفاظت نکل جانے کے بعد قابض فوج کے قافلے اور کواڈ کاپٹرز ناکہ بندی کے جگہ پر پہنچے کر اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی اور عام شہریوں کو ہراساں کیا۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے زامران کے علاقے ڈیل کِک میں واقع قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے ہمہ جہت حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن فورسز کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں، اسی تاریخ کو ہمارے سرمچاروں نے تمپ کے علاقے رودبن میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر پہلے گرینیڈ لانچرز سے متعدد گولے داغے جو عین اپنے اہداف پر جا گرے۔ اس کے بعد سرمچاروں نے دیگر جدید و بھاری ہتھیاروں سے کیمپ کے حفاظتی مورچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔ ایک اور کارروائی میں 9 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تربت کے علاقے خیرآباد میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے وہاں سے گذرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی کو روکا۔ تاہم اسسٹنٹ کمشنر خود مذکورہ گاڑی کے بجائے عقبی گاڑی میں سوار تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر کے سیکیورٹی گارڈز کا تمام سرکاری اسلحہ و حربی سامان اپنے قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد قابض فوج نے فضا میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملے کی کوشش کی مگر مستعد سرمچاروں نے جوابی فائرنگ کر کے حملے کو ناکام بنا دیا اور دشمن کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یکم ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے دشت کے علاقے میں پٹوک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کی پیکٹ چوکی پر جانے والی گشتی ٹیم کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانے پر لیا۔ فائرنگ کی زد میں آنے سے فوج کی 1 گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ گاڑی میں سوار متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کارروائیوں، ناکہ بندیوں اور قابض فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کی کامل ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ 13 ستمبر 2026 Ref. No. BLF/September2026/000106

خضدار کے علاقے نال میں بلوچ آزادی پسندوں کا ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ صمد سمالانی کی زیرِ نگرانی جاری تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099030452291924070?s=52

خضدار: نال کے علاقے کوڑاسک میں بلوچ سرمچاروں نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ صمد سمالاڑی کی نگرانی میں سی پیک روڈ پر کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ پر حملہ کیا۔ مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099030000313782394?s=52

photo content

تجارتی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی دو ڈرائیوروں کو گرفتار، سیکورٹی گارڈ کی اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی 12 ستمب
تجارتی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی دو ڈرائیوروں کو گرفتار، سیکورٹی گارڈ کی اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی 12 ستمبر 2026 گزشتہ شب بلوچ ریپبلیکن گارڈز کے سرمچاروں نے مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کچھی بولان کے علاقے کے ایک مقامی ہوٹل پر چھاپہ مار کر بلوچستان سے پنجاب سامان لے جانے والے دو بڑی گاڑی کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد ان کے ڈرائیورز کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انہی گاڑیوں پر بطور حکومتی سیکورٹی گارڈ مقرر کیئے گئے، افراد سے ان کا سرکاری اسلحہ ضبط کر کے اپنے ساتھ لے گئے، بعد ازاں بلوچ ہونے کے ناطے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ہماری تنظیم بلوچ ریپبلیکن گارڈز کے طرف سے گاڑی مالکان اور ڈرائیور حضرات کو تنبیہ کرنے کے باوجود بلوچستان سے بلوچ قومی وسائل کو چوری چھپے رات کے اندھیرے میں پنجاب لے جانا ایک عظیم قومی جرم ہے۔ ہم بلوچ قومی وسائل کے ایک ذرا برابر قومی دشمن پنجاب کو لے جانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ اس حملے کی ذمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور اس طرح کے کاروائیاں بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری رہیں گے دوستین بلوچ ترجمان بلوچ ریپبلکن گارڈز

Dozens of Enemy Personnel Killed and Wounded in a Deadly Attack on the Occupying Pakistani Army in Lasbela – Baloch Liberation Army The Fateh Squad of the Baloch Liberation Army targeted a convoy of the occupying Pakistani army in a deadly attack this morning in Walpat area of Lasbela, in which dozens of personnel of the occupying army were killed and wounded. The Baloch Liberation Army claims responsibility for this attack. Further details in this regard will be released to the media shortly. Jeeyand Baloch Spokesperson, Baloch Liberation Army Dated: 12 September 2026 لسبیلہ میں قابض پاکستانی فوج پر مہلک حملے میں دشمن کے درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی – بلوچ لبریشن آرمی بلوچ لبریشن آرمی کی فتح اسکواڈ نے آج صبح لسبیلہ کے علاقے والپٹ میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو ایک مہلک حملے میں نشانہ بنایا جس میں قابض فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد ہی میڈیا کو جاری کیئے جائیں گے۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی بتاریخ: 12 ستمبر 2026

جیونی میں پاکستانی ایم آئی کے اہلکاروں پر بم دھماکے کی اطلاعات، دھماکے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت اطلاع۔ ذرائع جبکہ تربت کے علاقے ناصر آباد اور نودز میں تربت تا مند روڈ پر مختلف مقامات پر مسلح افراد کی ناکہ بندی اسنیپ چیکنگ #بلوچستان

اج شام پانچ بجے سے لے کر ساتھ بجے تک مسلح افراد نے تربت کے علاقے ناصر آباد اور نودز میں تربت ٹو مند زبیدہ جلال روڈ میں مختلف مقامات پر ناکہ بندی کرکے گاڈیوں کی تلاشی لی اور اسنیپ چیکنگ کی گئی۔ #بلوچستان https://x.com/sobainbalochh/status/2098114114593694018?s=52

3 Sep 2026 - Ziarat Cross in Pishin, BLA's vanguard unit, the 'Fateh Squad', targeted an occupying Pakistani army convoy in a deadly and successful attack. Four vehicles belonging to the Qilla Saifullah Scouts and Frontier Corps (FC) 134 Wing came under attack, two of which, including a military truck, were destroyed in direct hits. Sarmachars killed 18 personnel of the occupying army and seized all their weapons and military equipment. Another squad of Sarmachars took control of an exploitative company's site at Khani Baba, adjacent to Ziarat Cross, destroying 14 heavy machines along with vehicles present there. Sarmachars later released the detained company personnel under organizational policy.

ھاران کے علاقے گْواش میں ھاران یکمچ سی پیک لنک روڈ پر فورسز کے قافلے پر شدید حملہ زرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فورسز کے 15 سے زاہد گاڑیاں اور دو بسیں سی پیک روڈ سے گُزررہے تھے جہاں پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔ جس کے بعد قابض فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں جو تا حال جاری ہے۔