ru
Feedback
کلام نور

کلام نور

Открыть в Telegram

✅علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔ 💻دینی معلومات کے لئے وبلاگ اور پیج کے ایڈرس: https://www.facebook.com/klmnoor http://klmnoor.blogspot.com https://t.me/klmnoor 📱آپ کے مفید مشوروں کے لئے: @Klmnoor_admin

Больше
728
Подписчики
Нет данных24 часа
+17 дней
-430 дней
Архив постов
#رمضان_المبارک 🌸حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی نصیحت🌸 🔴 خطَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع فِي أَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ بِأَفْضَلِ الْحَمْدِ وَ أَشْرَفِهَا وَ أَبْلَغِهَا وَ أَثْنَى عَلَيْهِ بِأَحْسَنِ الثَّنَاء وَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّهِ ص ثُمَّ قَال‏: 🔅 أيُّهَا الصَّائِمُ تَدَبَّرْ أَمْرَكَ فَإِنَّكَ فِي شَهْرِكَ هَذَا ضَيْفُ رَبِّكَ انْظُرْ كَيْفَ تَكُونُ فِي لَيْلِكَ وَ نَهَارِكَ وَ كَيْفَ تَحْفَظُ جَوَارِحَكَ عَنْ مَعَاصِي رَبِّكَ انْظُرْ أَنْ لَا تَكُونَ بِاللَّيْلِ نَائِماً وَ بِالنَّهَارِ غَافِلًا فَيَنْقَضِيَ شَهْرُكَ وَ قَدْ بَقِيَ عَلَيْكَ وِزْرُكَ فَتَكُونَ عِنْدَ اسْتِيفَاءِ الصَّائِمِينَ أُجُورَهُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ وَ عِنْدَ فَوْزِهِمْ بِكَرَامَةِ مَلِيكِهِمْ مِنَ الْمَحْرُومِينَ وَ عِنْدَ سَعَادَتِهِمْ بِمُجَاوَرَةِ رَبِّهِمْ مِنَ الْمَطْرُودِين‏ 🔵 حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے رمضان کی پہلی تاریخ مسجد کوفہ میں خطبہ ارشاد فرمایا: خدا کی بہترین حمد و ثنا اور حضرت نبی اکرم  صلّی اللہ علیہ و آلہ پر صلوات و درود کے بعد فرماتے ہیں:۔۔۔ 🔅 اے روزہ دار! اپنے کاموں میں غور و فکر کرو، کیونکہ تم اس مہینے میں اپنے رب کے مہمان ہو! لہذا خیال رہے کہ تم اپنے روز و شب میں کس طرح  رہتے ہو اور کس طرح اپنے اعضاء و جوارح کو خدا کی نافرمانی سے محفوظ رکھتے ہو، دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم رات میں سوتے رہو اور دن غفلت میں کاٹ دو، اس طرح پورا مہینہ ختم ہوجائے اور گناہوں کا بوجھ تمہارے دوش پر ابھی بھی باقی ہو، اور جب روزہ دار حضرات اسکی جزا پا رہے ہوں تو تم گھاٹا اٹھانے والوں میں قرار پاؤ اور جب وہ اپنے مالک کی جانب سے انعام و اکرام سے نوازے جارہے ہوں تو تم محرومین میں رہو اور جب وہ خدا کی بارگاہ میں سعادت سے ہمکنار ہوں تو تم مردود بارگاہ بن جاؤ۔ 📚فضائل الأشهر الثلاثة، ص۱۰۸، كتاب فضائل شهر رمضان https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#ماہ_رمضان_کے_دوسرے_دن_کی_دعا اللَّهُمَّ قَرِّبْنِی فِیهِ إِلَی مَرْضَاتِکَ وَ جَنِّبْنِی فِیهِ مِنْ سَخَطِکَ وَ نَقِمَاتِکَ
#ماہ_رمضان_کے_دوسرے_دن_کی_دعا اللَّهُمَّ قَرِّبْنِی فِیهِ إِلَی مَرْضَاتِکَ وَ جَنِّبْنِی فِیهِ مِنْ سَخَطِکَ وَ نَقِمَاتِکَ وَ وَفِّقْنِی فِیهِ لِقِرَاءَةِ آیَاتِکَ بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِین. اے میرے معبود! آج کے دن مجھے اپنی خوشنودیوں کے قریب کردے اور آج کے دن مجھے اپنی ناراضگی اور اپنے غضب سے محفوظ فرما اور مجھے اپنی آیات کی تلاوت کی توفیق عطا کر تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔. https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#ماہ_رمضان 🌷🌷حضرت رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ 🔴 و هُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَ أَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَ آخِرُهُ ا
#ماہ_رمضان 🌷🌷حضرت رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ 🔴 و هُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَ أَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَ آخِرُهُ الْإِجَابَةُ وَ الْعِتْقُ مِنَ النَّارِ۔ 🔵 رمضان ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصّہ رحمت، اور درمیانی حصّہ مغفرت، اور آخری حصّہ دعا کی قبولیت اور جہنّم سے خلاصی کا حصّہ ہے۔ 📚كافي (ط - دار الحديث)، ج‏۷، ص۳۸۲، باب فضل شهر رمضان. https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

#ماہ_رمضان_کے_پہلے_دن_کی_دعا اللّهمَّ اجْعَلْ صِیامیِ فِیهِ صِیامَ الّْصّائِمینَ، وَ قِیامیِ فِیهِ قِیامَ الْقائِمِینَ، وَ نَ
#ماہ_رمضان_کے_پہلے_دن_کی_دعا اللّهمَّ اجْعَلْ صِیامیِ فِیهِ صِیامَ الّْصّائِمینَ، وَ قِیامیِ فِیهِ قِیامَ الْقائِمِینَ، وَ نَبِّهْنیِ فِیهِ عَنْ نَومَهِ الْغافِلِینَ، وَهَبْ لِی جُرْمِی فِیهِ یا اِلهَ الْعالَمِینَ، وَاعْفُ عَنّیِ یا عافِیاً عَنِ الْمُجْرِمِینَ۔ میرے معبود! میرا آج کا روزہ حقیقی روزہ داروں جیسا قرار دے اور میری عبادت کو سچّے عبادت گزاروں جیسی قرار دے آج مجھے غافل لوگوں جیسی نیند سے بیدار کر دے اور آج میرے گناہ بخش دے اے جہانوں کے معبود اور مجھ سے درگذر کر اے گناہگاروں سے درگذر کرنے والے۔. https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

🌹🌹 حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم: 🟤 أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَ
🌹🌹 حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم: 🟤 أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ وَ أَيَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَيَّامِ وَ لَيَالِيهِ أَفْضَلُ اللَّيَالِي وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ هُوَ شَهْرٌ دُعِيتُمْ فِيهِ إِلَى ضِيَافَةِ اللَّهِ۔ 🔵 اے لوگو! بتحقیق خدا کا مہینہ اپنی برکت و رحمت اور مغفرت کے ہمراہ تم تک آن پہونچا ہے، ایسا مہینہ جو خدا کے نزدیک تمام مہینوں سے بہتر اور اس کے ایام تمام ایام سے افضل اور اس کی راتیں ساری راتوں سے بہتر اور اس کی ساعات تمام ساعتوں سے بہتر ہیں۔ ایسا مہینہ جس میں تم کو اللہ کی ضیافت میں بلایا گیا ہے۔ 📚 فضائل الاشھر الثلاثہ، شیخ صدوق، ص۷۸ و۷۹، ح ۶۱۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

کلام نور, [3/1/2025 7:14 PM] 🌴🌴🌴🌴اے لوگو! تم میں سے جو بھی اپنے اخلاق کو نیک بنائے گا اسے پل صراط سے آسانی کے ساتھ گذرجانے کی اجازت ہوگی جبکہ دوسروں کے قدم پھسل رہے ہونگے، اور جو اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے گا خدا اس کے حساب میں نرمی سے پیش آئے گا؛ اور جو شخص اس مہینہ میں لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا تو خداوند روز قیامت اس کو اپنے غضب سے بچائے گا؛ اور جو اس ماہ میں یتیموں پر مہربانی کرے گا خدا  روز قیامت اس پر مہربانی کرے گا؛ اور جو اس ماہ میں اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحم کرےگا خداوندعالم روز قیامت اسے اپنی رحمت سے متصل کرے گا؛ اور جو اس ماہ میں اپنے رشتہ داروں سے رابطے توڑے گا خدا بھی روز ملاقات اس سے اپنی رحمت منقطع کردےگا؛ اور جو اس ماہ میں مستحب نمازیں ادا کرے گا خدائے کریم اس کے لئے جہنم سے چھٹکارے کا پروانہ لکھ دےگا؛ جو شخص اس میں واجب نمازیں ادا کرےگا اسے دوسرے مہینوں میں پڑھی جانے والی واجب نمازوں سے ستّر گنا زیادہ ثواب ملے گا؛ جو شخص اس مہینہ مجھ پرکثرت سے صلوات بھیجے گا جس دن دوسرے لوگوں کے پلڑے ہلکے ہونگے خدا اس کے پلڑے کو بھاری بنادےگا؛ اور جو شخص اس مہینے قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا خدا اسے دوسرے مہینوں میں پڑھے جانے والے پورے قرآن کا ثواب عطا کرے گا۔ اے لوگو! اس مہنیہ میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ دروازے تم پر بند نہ کرے، اور جہنم کے دروازے بند ہیں خدا سے درخواست کرو کہ ان دروازوں کو تم پر نہ کھولے؛ شیطانوں کو اس مہینہ میں جکڑلیا گیا ہے خدا سے دعا کرو کہ وہ تم پر ان کو مسلط نہ کردے۔ 🌹🌹🌹🌹حضرت امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں: میں کھڑا ہوا اور عرض کیا:  اے نبی خدا! اس مہینہ میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ 🌱فرمایا: اے ابوالحسن! اس ماہ میں سب سے بہتر عمل محرّمات الٰہی سے بچنا اور پرہیز کرنا ہے۔ 🌧پھر آپ صلّی اللہ علیہ و آلہ گریہ فرمانے لگے؛ عرض کیا: یا رسول اللّہ! کون سی چیز آپ کو رلا رہی ہے؟ 💥 فرمایا: یا علی! میں اس پر رورہا ہوں کہ اس مہینہ تمہارے ساتھ جو بے حرمتی کا سلوک ہوگا، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھ رہے ہوگے، دنیا کا شقی ترین، بد بخت ترین، قاتل ناقۂ صالح تمہارے سر پر ضربت لگائے گا اور تمہاری داڑھی خوں سے رنگین ہوجائے گی؛ 🌺امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس وقت میرا دین سالم ہوگا؟ فرمایا: ہاں تمہارا دین سالم ہوگا۔ اس کے بعد رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: اے علی! جس نے تمہیں قتل کیا گویا اس نے مجھے قتل کیا، اور جس نے تم سے بغض اختیار کیا گویا اس نے مجھ سے بغض رکھا، جس نے تم پر سبّ و شتم کیا اس نے مجھ پر سبّ و شتم کیا، کیوں کہ تم مجھ سے ہو، گویا میری جان ہو، تمہاری روح میری روح ، تمہاری طینت میری طینت ہے؛ خدائے متعال نے تمہیں اور ہمیں خلق کیا اور دونوں کا انتخاب کیا، مجھے اس نے نبوت کے لئے اختیار کیا اور تمہیں امامت کے لئے منتخب کیا؛ لہذا جس نے تمہاری امامت کا انکار کیا اس نے میری نبوت کا انکار کیا؛ اے علی! تم میرے وصی اور میری اولاد کے باپ ہو اور میری بیٹی کے شوہر ہو اور تم میری زندگی میں بھی اور میری وفات کے بعد بھی میرے جانشین و خلیفہ ہو، تمہارا حکم میرا حکم، اور تمہاری نہی میری نہی ہے؛ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا، اور سب سے بہتر قرار دیا، بیشک تم خدا کی مخلوقات پر اس کی حجّت ہو اور اسرار خداوندی کے امین، اور اس کے بندوں پر اس کے خلیفہ ہو۔ 📚فضائل الاشھر الثلاثہ، شیخ صدوق، ص۷۸ و۷۹، ح ۶۱۔ 📚الأمالي( للصدوق)، ص ۹۳،  المجلس العشرون 📚إقبال الأعمال (ط - القديمة)،  ج‏۱، ص۲۔ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

کلام نور, [3/1/2025 7:14 PM] أَنْ لَايُفَتِّحَهَاعَلَيْكُمْ وَ الشَّيَاطِينَ مَغْلُولَةٌ فَاسْأَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا يُسَلِّطَهَا عَلَيْكُمْ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع فَقُمْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِي هَذَا الشَّهْرِ فَقَالَ يَا أَبَا الْحَسَنِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِي هَذَا الشَّهْرِ الْوَرَعُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ ثُمَّ بَكَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُبْكِيكَ فَقَالَ يَا عَلِيُّ أَبْكِي لِمَا يُسْتَحَلُّ مِنْكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ كَأَنِّي بِكَ وَ أَنْتَ تُصَلِّي لِرَبِّكَ وَ قَدِ انْبَعَثَ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ شَقِيقُ عَاقِرِ نَاقَةِ ثَمُودَ فَضَرَبَكَ ضَرْبَةً عَلَى قَرْنِكَ فَخَضَبَ مِنْهَا لِحْيَتَكَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ ذَلِكَ فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِي فَقَالَ فِي سَلَامَةٍ مِنْ دِينِكَ ثُمَّ قَالَ ص يَا عَلِيُّ مَنْ قَتَلَكَ فَقَدْ قَتَلَنِي وَ مَنْ أَبْغَضَكَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي وَ مَنْ سَبَّكَ فَقَدْ سَبَّنِي لِأَنَّكَ مِنِّي كَنَفْسِي رُوحُكَ مِنْ رُوحِي وَ طِينَتُكَ مِنْ طِينَتِي إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى خَلَقَنِي وَ إِيَّاكَ وَ اصْطَفَانِي وَ إِيَّاكَ وَ اخْتَارَنِي لِلنُّبُوَّةِ وَ اخْتَارَكَ لِلْإِمَامَةِ فَمَنْ أَنْكَرَ إِمَامَتَكَ فَقَدْ أَنْكَرَ نُبُوَّتِي يَا عَلِيُّ أَنْتَ وَصِيِّي وَ أَبُو وُلْدِي وَ زَوْجُ ابْنَتِي وَ خَلِيفَتِي عَلَى أُمَّتِي فِي حَيَاتِي وَ بَعْدَ مَوْتِي أَمْرُكَ أَمْرِي وَ نَهْيُكَ نَهْيِي أُقْسِمُ بِالَّذِي بَعَثَنِي بِالنُّبُوَّةِ وَ جَعَلَنِي خَيْرَ الْبَرِيَّةِ إِنَّكَ لَحُجَّةُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ وَ أَمِينُهُ عَلَى سِرِّهِ وَ خَلِيفَتُهُ عَلَى عِبَادِهِ. 🌿حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: 🍂 ایک دن رسول خدا  صلّی علیہ و آلہ و سلّم  نے ہمارے لئے خطبہ دیا اور فرمایا: 🌴🌴🌴اے لوگو! بتحقیق خدا کا مہینہ اپنی برکت و رحمت اور مغفرت کے ہمراہ تم تک آن پہونچا ہے، ایسا مہینہ جو خدا کے نزدیک تمام مہینوں سے بہتر اور اس کے ایام تمام ایام سے افضل اور اس کی راتیں ساری راتوں سے بہتر اور اس کی ساعات تمام ساعتوں سے بہتر ہیں۔ ایسا مہینہ جس میں تم کو اللہ کی ضیافت میں بلایا گیا ہے، اور اس مہنیہ میں اللہ کی جانب سے شرف و کرامت بخشے جانے والوں میں قرار دیا گیا؛ اس میں تمہاری سانسیں تسبیح خدا، تمہارا سونا عبادت، تمہارے اعمال قبول اور تمہاری دعائیں مستجاب ہیں؛    🌹لہذا صدق نیت اور پاکیزہ دلوں کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اس مہینہ میں روزہ رکھنے اور اس کی کتاب کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے، بدبخت ہے وہ شخص جو اس عظیم مہینہ میں بھی اللہ کی مغفرت سے محروم رہے؛ ⚡️اور اس مہینہ میں اپنی بھوک اور پیاس سے روز قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو، اور اپنے فقرا و مساکین کو صدقہ دو، اپنے بڑوں کا احترام کرو اور اپنے چھوٹوں پر مہربانی، اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو، اور اپنی زبانوں کو محفوظ رکھو، اور اپنی نگاہوں کو ان چیزوں سے محفوظ رکھو جسے دیکھنا جائز نہیں، اور جس کو سننا تمہارے کانوں کے لئے جائز نہیں اس سے باز رہو، اور لوگوں کے یتیموں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ تاکہ تمہارے یتیموں پر بھی مہربانی کی جائے، اور خدا کے سامنے اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اور اپنی نماز کے وقت اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے بلند کرو کیونکہ اوقات نماز وہ بہترین لمحات ہیں کہ خدائے عزّ وجلّ اپنے بندوں کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے، اگر بندے مناجات کرتے ہیں تو اجابت کرتا ہے اور جب اسے پکارتے ہیں تو انکی آواز پر لبیک کہتا ہے، جب دعا کرتے ہیں تو قبول فرماتا ہے؛. 🌴🌴🌴اے لوگو!تمہاری جانیں تمہارے اعمال کی مرہون منّت ہیں، تو استغفار کے ذریعہ انہیں نجات دلاؤ؛ اور تمہاری پشت تمہارے گناہوں سے بھاری ہو رہی ہے، اسے اپنے طولانی سجدوں سے ہلکی کرو؛ اور جان لو کہ اللّہ تعالی نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ ہرگز نمازیوں اور سجدہ کرنے والوں پر عذاب نہیں کرے گا، اور اس دن کہ جب سب لوگ بارگاہ  رب العزت میں ہونگے انہیں عذاب جہنم سے نہیں ڈرائے گا؛ 🌴🌴🌴🌴اے لوگو! تم میں سے اگر کوئی اس مہینہ میں مومن روزہ دار کو افطار کرائے گا، اسے خدا کے نزدیک ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اسے تمام گذشتہ گناہوں سے مغفرت نصیب ہوگی؛ کسی نے کہا: اے نبی خدا! ہم میں سے ہر ایک اس کام کو انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: جہنم کی آگ سے بچو چاہے کچھ خرمے سے ہی کیوں نہ ہو، جہنم کی آگ سے ڈرو خواہ ایک گھونٹ پانی ہی سے کیوں نہ ہو،

#خطبہ_شعبانیہ ☘️ماہ مبارک رمضان بزبان رسول خدائے منان (صلی اللہ علیہ و آلہ)☘️ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا عَنْ أَبِيهِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ الْبَاقِرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ زَيْنِ الْعَابِدِينَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص خَطَبَنَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ وَ أَيَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَيَّامِ وَ لَيَالِيهِ أَفْضَلُ اللَّيَالِي وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ هُوَ شَهْرٌ دُعِيتُمْ فِيهِ إِلَى ضِيَافَةِ اللَّهِ وَ جُعِلْتُمْ فِيهِ مِنْ أَهْلِ كَرَامَةِ اللَّهِ أَنْفَاسُكُمْ فِيهِ تَسْبِيحٌ وَ نَوْمُكُمْ فِيهِ عِبَادَةٌ وَ عَمَلُكُمْ فِيهِ مَقْبُولٌ وَ دُعَاؤُكُمْ فِيهِ مُسْتَجَابٌ فَاسْأَلُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ بِنِيَّاتٍ صَادِقَةٍ وَ قُلُوبٍ طَاهِرَةٍ أَنْ يُوَفِّقَكُمْ لِصِيَامِهِ وَ تِلَاوَةِ كِتَابِهِ فَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ حُرِمَ غُفْرَانَ اللَّهِ فِي هَذَا الشَّهْرِ الْعَظِيمِ وَ اذْكُرُوا بِجُوعِكُمْ وَ عَطَشِكُمْ فِيهِ جُوعَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ عَطَشَهُ وَ تَصَدَّقُوا عَلَى فُقَرَائِكُمْ وَ مَسَاكِينِكُمْ- وَ وَقِّرُوا كِبَارَكُمْ وَ ارْحَمُوا صِغَارَكُمْ وَ صِلُوا أَرْحَامَكُمْ وَ احْفَظُوا أَلْسِنَتَكُمْ وَ غُضُّوا عَمَّا لَا يَحِلُّ النَّظَرُ إِلَيْهِ أَبْصَارَكُمْ وَ عَمَّا لَا يَحِلُّ الِاسْتِمَاعُ إِلَيْهِ أَسْمَاعَكُمْ وَ تَحَنَّنُوا عَلَى أَيْتَامِ النَّاسِ يُتَحَنَّنْ عَلَى أَيْتَامِكُمْ وَ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَ ارْفَعُوا إِلَيْهِ أَيْدِيَكُمْ بِالدُّعَاءِ فِي أَوْقَاتِ صَلَاتِكُمْ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ السَّاعَاتِ يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِيهَا بِالرَّحْمَةِ إِلَى عِبَادِهِ يُجِيبُهُمْ إِذَا نَاجَوْهُ وَ يُلَبِّيهِمْ إِذَا نَادَوْهُ وَ يُعْطِيهِمْ إِذَا سَأَلُوهُ وَ يَسْتَجِيبُ لَهُمْ إِذَا دَعَوْهُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَنْفُسَكُمْ مَرْهُونَةٌ بِأَعْمَالِكُمْ فَكُفُّوهَا بِاسْتِغْفَارِكُمْ وَ ظُهُورُكُمْ ثَقِيلَةٌ مِنْ أَوْزَارِكُمْ فَخَفِّفُوا عَنْهَا بِطُولِ سُجُودِكُمْ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى ذِكْرُهُ أَقْسَمَ بِعِزَّتِهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ الْمُصَلِّينَ وَ السَّاجِدِينَ وَ أَنْ لَا يُرَوِّعَهُمْ بِالنَّارِ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ فَطَّرَ مِنْكُمْ صَائِماً مُؤْمِناً فِي هَذَا الشَّهْرِ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ عِتْقُ نَسَمَةٍ وَ مَغْفِرَةٌ لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ لَيْسَ كُلُّنَا يَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَ ص اتَّقُوا النَّارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ اتَّقُوا النَّارَ وَ لَوْ بِشَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ حَسَّنَ مِنْكُمْ فِي هَذَا الشَّهْرِ خُلُقَهُ كَانَ لَهُ جَوَازٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ تَزِلُّ فِيهِ الْأَقْدَامُ وَ مَنْ خَفَّفَ فِي هَذَا الشَّهْرِ عَمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ خَفَّفَ اللَّهُ عَلَيْهِ حِسَابَهُ وَ مَنْ كَفَّ فِيهِ شَرَّهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَ مَنْ أَكْرَمَ فِيهِ يَتِيماً أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَ مَنْ وَصَلَ فِيهِ رَحِمَهُ وَصَلَهُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَ مَنْ قَطَعَ فِيهِ رَحِمَهُ قَطَعَ اللَّهُ عَنْهُ رَحْمَتَهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَ مَنْ تَطَوَّعَ فِيهِ‏ ِصَلَاةٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ وَ مَنْ أَدَّى فِيهِ فَرْضاً كَانَ لَهُ ثَوَابُ مَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ وَ مَنْ أَكْثَرَ فِيهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ عَلَيَّ ثَقَّلَ اللَّهُ مِيزَانَهُ يَوْمَ تَخِفُّ الْمَوَازِينُ وَ مَنْ تَلَا فِيهِ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فِي غَيْرِهِ مِنَ الشُّهُورِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ فِي هَذَا الشَّهْرِ مُفَتَّحَةٌ فَاسْأَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا يُغَلِّقَهَا عَلَيْكُمْ وَ أَبْوَابَ النِّيرَانِ مُغَلَّقَةٌ فَاسْأَلُوا رَبَّكُمْ

#شکایت #اللہ_کی_بارگاہ_میں 🌹🌹 حضرت امام صادق علیہ السلام: 🟤 ثَلَاثَةٌ يَشْكُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَسْجِدٌ خَرَ
#شکایت #اللہ_کی_بارگاہ_میں 🌹🌹 حضرت امام صادق علیہ السلام: 🟤 ثَلَاثَةٌ يَشْكُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَسْجِدٌ خَرَابٌ‏ لَا يُصَلِّي‏ فِيهِ‏ أَهْلُهُ‏ وَ عَالِمٌ بَيْنَ جُهَّالٍ وَ مُصْحَفٌ مُعَلَّقٌ قَدْ وَقَعَ عَلَيْهِ الْغُبَارُ لَا يُقْرَأُ فِيهِ. 🔵 تین چیزیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کریں گی۔ ایک ویران مسجد جس کے پاس رہنے والے اس میں نماز نہ پڑھتے ہوں، دوسرے وہ عالم جو جاہلوں کے درمیان موجود ہو، تیسرے طاق پر رکھا ہوا قرآن جس پر گرد جمی ہوئی ہو اور اسے پڑھا نہ جاتا ہو۔ 📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج۲، ص۶۱۳، ح۳، باب قراءة القرآن في المصحف

#نفس_پر_قابو 🌹🌹 حضرت امام صادق علیہ السلام: 🟤 مَنْ‏ مَلَكَ‏ نَفْسَهُ‏ إِذَا رَغِبَ‏ وَ إِذَا رَهِبَ‏ وَ إِذَا اشْتَهَى‏ وَ
#نفس_پر_قابو 🌹🌹 حضرت امام صادق علیہ السلام: 🟤 مَنْ‏ مَلَكَ‏ نَفْسَهُ‏ إِذَا رَغِبَ‏ وَ إِذَا رَهِبَ‏ وَ إِذَا اشْتَهَى‏ وَ إِذَا غَضِبَ‏ وَ إِذَا رَضِيَ‏ حَرَّمَ‏ اللَّهُ‏ جَسَدَهُ‏ عَلَى‏ النَّارِ. 🔵 جو شخص شوق و رغبت کے وقت، خوف کے وقت، شہوت کے وقت، ناراضگی اور خوشی کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آتشِ دوزخ پر حرام فرما دے گا۔ 📚 الأمالي( للصدوق)، ص۳۲۹، ح۷، المجلس الثالث و الخمسون

#ظہور_حضرت_حجت_عجل_اللہ_تعالی_فرجہ 🌹🌹حضرت امام رضا علیہ السلام 🟤 ِلَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ ل
#ظہور_حضرت_حجت_عجل_اللہ_تعالی_فرجہ 🌹🌹حضرت امام رضا علیہ السلام 🟤 ِلَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَخْرُجَ فَيَمْلَأَهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً 🔵 اگر اس دنیا میں سے صرف ایک دن بھی بچا ہو تو خدا اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ امام (عج) قیام کرے اور زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے۔ 📚 عيون أخبار الرضا عليه السلام، ج۲، ص۲۶۵، ح۳۵، باب في ذكر ثواب زيارة الإمام علي بن موسى الرضا ع https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

/ شعبان #ولادت_حضرت_بقیۃ_اللہ_الاعظم_صلوات_اللہ_علیہ۔
/ شعبان #ولادت_حضرت_بقیۃ_اللہ_الاعظم_صلوات_اللہ_علیہ۔

۹. امام عج کے لئے اعمال صالح ہدیہ کرنا، جیسے زیارت قبور ائمہ ع، قرائت قرآن و حجّ و عُمره و طواف. ۱۰. گناہوں سے حقیقی توبہ۔ ۱۱. لوگوں کو امام عج کی جانب متوجہ کرنا #وفات_علی_بن_محمد_سمری_نائب_امام_عصر_عجل_اللہ_فرجہ_الشریف اس روز سنہ ۳۲۹ھ میں شیخ الجلیل، نائب خاص حضرت امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف جناب علی بن محمد سمری کی وفات واقع ہوئی جو غیبت صغریٰ کے اختتام اور غیبت کبریٰ کے آغاز کے معنی میں ہے، کیونکہ حضرت صاحب الامر عجل اللہ فرجہ الشریف نے انہیں حکم فرمایا تھا کہ کسی کو اپنا وصی و جانشین قرار نہ دینا کیونکہ غیبت کبریٰ کا آغاز ہوگیا ہے۔ [الغیبۃ (شیخ طوسی)، ص۳۹۴؛ کمال الدین، ص۵۰۳...] 📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۵/ شعبان، ص۲۴۱ https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

بغداد کے عظیم متکلم اور متعدد کتب کے مؤلف ابو سہل نوبختی سے سوال ہوا: کیوں حسین بن روح کو نیابت کا عہدہ ملا لیکن آپ کو نہیں؟ کہا: ائمہ علیہم السلام بہتر جانتے ہیں، اور وہ جن کو منتخب کریں وہی سب سے زیادہ مناسب اور لائق ہوگا، میں ایسا شخص ہوں جو مخالف سے شدّت کے ساتھ مناظرہ کیا کرتا ہے اور اگر امام عج کا نائب ہوتا اور امام عج کی جگہ کی معلومات رکھتا جیسا کہ ابوالقاسم نیابت کی بنا پر معلومات رکھتے ہیںـ اور امام عج کے بارے میں مخالفوں سے بحث و مناظرہ پر مشکل میں پڑجاتا تو شاید خود پر قابو نہ کر پاتا اور امام عج کی جائے سکونت کو فاش کردیتا؛ لیکن ابو القاسم اگر امام عج ان کے دامن کے نیچے بھی ہوں اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے پھر بھی وہ اپنے دامن کو نہیں ہٹائیں گے اور دشمن کو نہیں دکھائیں گے۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۲۹۱۔۔۔] جناب ابوالقاسم حسین بن روح تقریبا ۲۱ سال تک نیابت کے درجہ پر فائز رہے۔ انہوں نے وفات سے قبل نیابت کے امور کو امام عج کے حکم سے علی بن محمد سمری کے سپرد کیا اور شعبان سنہ ۳۲۶ ھ میں وفات پاگئے۔ ان کی قبر بغداد میں ہے۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۸۷۔۳۹۳۔۔۔] نائب چہارم ابوالحسن سمری ہیں جنہیں حضرت صاحب الزمان عج کے حکم سے حسین بن روح کے بعد نیابت کے امور سپرد کئے گئے۔ علمائے رجال کے قول کے مطابق موصوف کی عظمت و جلالت کسی توصیف کی محتاج نہیں۔ ابوالحسن سمری نے ایک دن بعض بزرگوں کے مجمع میں فرمایا: خدا علی بن بابویہ کی مصیبت میں آپ کو اجر دے، وہ اس وقت وہ دنیا سے چلے گئے۔ ان لوگوں نے وقت، دن اور مہینہ کو محفوظ کرلیا اور ۱۷ یا ۱۸ دن بعد خبر ملی کہ اسی وقت میں علی ابن بابویہ قمی دنیا سے گئے تھے۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۹۶۔۔۔] ← غیبت صغریٰ کا اختتام علی بن محمد سمری کی وفات سے قبل شیعوں میں سے بعض افراد ان کے پاس آئے اور پوچھا: آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا؟ جواب دیا: مجھے اس بات کا حکم نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی کو کچھ کہوں۔ [بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۶۰] اس کے بعد ایک توقیع جو امام سے صادر ہوئی تھی شیعوں کو دکھائی۔ انہوں اس توقیع کی نسخہ نویسی کی جس کا مضمون یوں تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم، اے علی بن محمد سمری، خدا تمہاری مصیبت پر تمہارے بھائیوں کو اجر عظیم دے۔ اگلے چھ دن میں تم دنیا سے جانے والے ہو، لہذا اپنے کو آمادہ کرلو اور کسی کو وصیت نہ کرنا کہ وہ تمہارے بعد تمہارا جانشین ہو۔ غیبت کبری کا اغاز ہوگیا ہے اور اب ظہور نہیں ہوگا یہاں تک کہ حکم خداوندی آجائے، جو ایک طولانی مدّت، دلوں کے سخت ہوجانے اور زمیں کے ستم سے بھر جانے کے بعد ہوگا۔ عنقریب کچھ لوگ ہمارے شیعوں کے درمیان میری زیارت کا دعوی کریں گے۔ معلوم رہے کہ جو بھی خروج سفیانی اور ندائے آسمانی سے پہلے ایسا دعوی کرے (یعنی سفیر اور نائب کے عنوان سے زیارت کا دعوی کرے) وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے ولاحول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ [بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۶۱۔۔۔] چھٹے دن جو نیمہ شعبان سنہ ۳۲۹ کی تاریخ تھی جناب ابوالحسن سمری کی وفات ہوگئی، نہر ابوعتاب کے کنارے خلنجی روڈ، بغداد میں دفن ہوئے۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۹۶۔۔۔] علامہ مجلسی احتجاج طبرسی سے نقل فرماتے ہیں: امام عصر عج کے نائبین خاص میں سے کسی نے بھی امام عج کی جانب سے حکم صریح سے پہلے اور گذشتہ نائب کی جانب سے پیش کیے جانے سے قبل خود کو نائب کے عنوان سے پیش نہیں کیا۔ شیعوں نے بھی کسی کی بات قبول نہ کی مگر یہ کہ امام عصر عج کی جانب سے کوئی علامت اور نشانی مل جائے جو اس کی گفتار کی صداقت اور نیابت پر دلالت کررہی ہو۔ [احتجاج، ج۲، ص۲۹۷۔۔۔] ← زمانۂ غیبت کبری میں ہماری ذمہ داریاں عصر غیبت میں امام عج کے محبّوں اور شیعوں کی بعض ذمہ داریاں مندرجہ ذیل ہیں: ۱. روز جمعه، عید فطر، عید قربان، عید غدیر میں دعائے ندبہ کی تلاوت۔ ۲. جمعہ کے دن امام عج کی زیارت۔ ۳. اعتقاد میں ثابت قدم اور مستحکم رہنے کے لئے اس دعا کی تلاوت: « یا اللهُ، یا رَحمنُ، یا رَحیمُ، یا مُقَلَّبَ القُلُوبِ، ثَبَّت قَلبی عَلی دینِکَ ». [کمال الدین، ص۳۵۲۔۔۔] ۴. جب نام" قائم" لیا جائے تو احترام میں اٹھ کھڑے ہونا۔ ۵. مشکلات اور گرفتاریوں میں امام عج سے توسّل۔ ۶. امام عصر عج کے ظہور میں تعجیل اور سلامتی کے لئے صدقہ دینا۔ ۷. اس دعا کی تلاوت، جس میں ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا ہمیں امام ع کی معرفت عطا کرے: « اللّهُمَّ عَرَّفنی نَفسَکَ فَاِنَّکَ اِن لَم تُعَرَّفنی نَفسَکَ لَم اَعرِف نَبِیَّکَ، اللّهُمَّ عَرَّفنی رَسُولَکَ فَاِنَّکَ اِن لَم تُعَرَّفنی رَسُولَکَ لَم اَعرِف حُجَّتَکَ، اللّهُمَّ عَرَّفنی حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ اِن لَم تُعَرَّفنی حُجَّتَکَ ضَلَلتُ عَن دینی »۔ [الکافی، ج۱، ص۳۳۷۔۔۔] ۸. امام عج سے منسوب مجالس میں شرکت، خاص کر ان کے جدّ بزرگوار حضرت سید الشھداء کی مجالس عزا میں۔

احمد بن اسحاق کہتے ہیں: امام ہادی ع کی شہادت کے بعد امام عسکری ع کی خدمت میں گیا اور یہی بات دہرائی، آپ ع نے اپنے والد کی طرح فرمایا: «ابو عَمرو گذشتہ امام کے امین اور معتمد اور میری زندگی میں اور موت کے بعد بھی میرے معتمد ہیں۔ جو بھی یہ آپ کو بتائیں اور جو چیز بھی آپ تک پہونچائیں وہ میری جانب سے ہے» عثمان بن سعید امام عسکری ع کے بعد حضرت حجّت عج کے حکم سے نیابت اور وکالت کا کام کرتے رہے، اور شیعہ حضرات اپنے مسائل کو انکے پاس پہونچاتے تھے اور امام عج کا جواب ان کے ذریعہ لوگوں تک پہونچتا تھا۔ نائب دوّم ابو جعفر محمّد بن عثمان تھے، وہ بھی اپنے والد کی طرح بزرگان شیعہ میں سے تھے اور تقوی، عدالت، اور بزرگواری میں قابل اعتماد اور شیعوں کے نزدیک محترم شخص تھے۔ عثمان بن سعید نے اپنی وفات سے پہلے امام عصر عج کے حکم پر ابو جعفر کا اپنے جانشیں اور امام عج کی نیابت کے عنوان سے تعارف کرایا۔ امام عسکری ع نے ابوجعفر اور ان کے والد پر اعتماد اور اطمینان کا اظہار فرمایا تھا اور شیعہ حضرات ان کی عدالت، تقوی اور اطاعت پر یقین رکھتے تھے۔ [بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۴۶۔۳۴۴۔۔۔] نائب اوّل عثمان بن سعید کی وفات پر امام عصر عج کی جانب سے ایک توقیع صادر ہوئی جس کا ایک حصّہ کا ترجمہ اس طرح سے ہے: «انا لله و انا الیه راجعون، خدا کے حکم پر تسلیم اور اس کی قضا پر راضی ہوں۔ آپ کے والد نے سعادت کی زندگی گزاری اور بہترین حالت میں دنیا سے گئے۔ خدا ان پر رحمت نازل کرے اور انہیں انکے ائمہ علیہم السلام سے ملحق فرمائے۔ یہ آپ کے والد کی سعادتمندی تھی کہ خدا نے انہیں آپ جیسا فرزند عطا کیا جو ان کے بعد جانشیں بنے اور ان کے امور کے سلسلہ میں ان کا قائم مقام ہو، اور ان کے لئے طلب رحمت و مغفرت کرے»۔ [کمال الدین، ص۵۱۰۔۔۔] محمّد بن عثمان سے سوال ہوا: کیا آپ نے صاحب الامر عج کو دیکھا ہے؟ جواب دیا: ہاں، اور ان سے ہماری آخری ملاقات بیت اللہ میں ہوئی تھی جب وہ فرما رہے تھے: «اللّهُمَّ أنجِز لی ما وَعَدتَنی» اور رکن یمانی کے نزدیک بھی دیکھا جب کہہ رہے تھے: «اللّهُمَّ انتَقِم لی مِن أعدائی»۔ [من لایحضرہ الفقیہ، ج۲، ص۵۲۰۔۔۔] انہوں نے فقہ میں کتاب بھی تالیف فرمائی جو امام عسکری ع اور اپنے والد سے سنے ہوئے اقوال پر مشتمل ہے۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۶۳] محمّد بن عثمان نے اپنے واسطے ایک قبر آمادہ کر رہی تھی اور ساج سے بند کردیا تھا اور اس پر قرآن کی آیتوں اور ائمہ اطہار عج کے اسماء کو تحریر کر رکھا تھا۔ وہ ہر دن اس قبر میں جاتے اور اس میں ایک جز قرآن کی تلاوت کرتے اور باہر آجاتے تھے۔ انہوں نے موت سے پہلے اپنے یوم وفات کی خبر دی تھی اور جس دن کی خبر دی تھی اسی دن وفات پائی۔ [الکنی و الالقاب، ج۳، ص۲۶۸۔۲۶۷۔۔۔] اسی طرح اپنی وفات سے قبل شیعوں کو خبر دی کہ امام عج نے جناب ابو القاسم حسین بن روح نوبختی کو اپنے سفیر اور رابطہ کے لئے انتخاب کیا ہے اور وہ میرے جانشیں ہیں، سب ان سے رجوع کریں۔ [کمال الدین، ص۵۰۳۔۔۔] ان کی وفات آخر جمادی الاولی سنہ ۳۰۵ھ میں ہوئی ہے۔[الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۶۶۔۔۔] نائب سوّم ابو القاسم حسین بن روح نوبختی ہیں، جو موافق و مخالف دونوں کی نظر میں صاحب عظمت، اور تمام فرقوں میں عقل، نظر، تقوی اور فضیلت میں معروف تھے اور نائب دوّم کے وقت انکی جانب سے بعض امور کو انجام دیا کرتے تھے۔ اگرچہ نائب دوّم کے قریبیوں میں، جعفر بن احمد بن متیل سب سے زیادہ ان کے قریب تھے، یہاں تک کہ محمّد بن عثمان کے آخری ایام میں، انکے گھر کا کھانا وغیرہ جعفر بن احمد بن متیل کے گھر میں مہیا کیا جاتا تھا، اور اصحاب کے درمیان جعفر بن احمد کی نیابت کا احتمال زیادہ پایا جاتا تھا، لیکن محمد بن عثمان کے آخری لمحات میں جب جعفر بن احمد سرہانے اور حسین بن روح پائنتی کی جانب بیٹھے تھے، انہوں نے جعفر بن احمد کی جانب رخ کیا اور فرمایا: «مجھے حکم ہوا ہے کہ امور کو حسین بن روح کے سپرد کروں»۔ جعفر بن احمد کہتے ہیں: میں اپنی جگہ سے اٹھا اور حسین بن روح کا ہاتھ پکڑا اور انہیں محمّد بن عثمان کے سرہانے بٹھایا اور خود پائنتی کی جانب جا بیٹھا۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۷۰۔۔۔] ۶ شوال سال ۳۰۵ھ میں امام عصر عج کی جانب سے ان کے لئے پہلی توقیع صادر ہوئی جس میں اس طرح تحریر تھا: «ہم انہیں پہچانتے ہیں، خدا انہیں اپنی تمام خیر و خوبی اور رضا کی طرف لے دے اور ان کی مدد فرمائے۔ ان کے خط سے مطلع ہوا، مجھے ان پر اعتماد اور اطمینان ہے۔ میرے نزدیک ان کا وہ مقام و مرتبہ ہے جو انکی خوشنودی کا سبب ہوگا۔ خدا ان پر اپنے احسان میں اضافہ فرمائے کہ خدا ولی اور ہر چیز پر قادر ہے، اور اس خدا کا شکر جس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے رسول محمد و آل محمد ص پر درود و سلام ہو»۔ [الغیبۃ، (شیخ طوسی)، ص۳۷۳۔۔۔]

گے اور ﺷﻜّﺎﻛﻴﻦ ان کا انکار کریں گے۔ [کفایة الموحّدین، ج۳، ص۳۴۳۔۔۔] ← اوصاف امام عصر عج امام ع کے ظاہری ﺍﻭﺻﺎﻑ حضرت ﺭﺳﻮﻝ ﮔﺮﺍﻣﻰ ﺍﺳﻠﺎﻡ ص سے بہت زیادہ مشابہ ہیں، ﺯُﻣُﺮّﺩ جیسی سبز رنگ کے بالوں کی ایک لکیر گردن سے ناف تک ہے، چہرہ نورانی ستارے کی طرح چکتا دمکتا ہے۔ حضرت اﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ع فرماتے ہیں: «وہ ایک خوش رو، خوش مو جوان ہے اس کے چہرہ کا نور ریش مبارک اور سر کے بالوں کی سیاہی پر غالب ہے۔۔۔۔» [الغیبة (شیخ طوسی)، ص۴۷۰۔۔۔] حضرت ﺍﻣﺎﻡ ﺑﺎﻗﺮ ع فرماتے ہیں: «ان کا ﺭﻧﮓ ﻣﺒﺎﺭک سرخی مائل ہے جیسے شگفتہ گلاب ہو، اور چشم مبارک گشاد، ابرو کے درمیان کی جگہ بلند اور دونوں شانوں کے درمیان کی جگہ چوڑی ہے»۔ [[الغیبة (شیخ طوسی)، ص۲۱۵۔۔۔] چوڑی پیشانی، بلند اور باریک ناک، اور دندان ثنایا کی جڑ کے درمیان فاصلہ ہے۔ ←ﻣﺎﺩﺭ ﺍﻣﺎﻡ عصر عج ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺎﺣﺐ ﺍلأﻣﺮ عج کی والدہ جناب ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ہیں، جنکے دیگر نام اور القاب ملیکہ، ریحانہ، صیقل، اور سوسن ہیں۔ زیارت میں آپ کی توصیف۔ جو تمام کی تمام آپ کی عظمت و منزلت پر دلالت کررہی ہےـ ﺭﺍﺿﻴﻪ، ﻣﺮﺿﻴﻪ، ﺻﺪّﻳﻘﻪ، ﺗﻘﻴّﻪ، ﻧﻘﻴّﻪ، ﺯﻛﻴّﻪ، والدة الامام، المودعة اسرار الملک العلّام، امّ موسی، ابنة حواری عیسی سے کی گئی ہے۔ [بحار الأنوار، ج۹۹، ص۷۰۔۔۔] بنا بر منقول ﺟﻨﺎﺏ ﻧﺮجس خاتون نے سنہ261ھ میں ﺳﺎﻣّﺮﺍﺀ میں رحلت فرمائی اور ﺣﻀﺮﺕ ہاﺩﻯ ﻭ عسکری ع کے جوار میں دفن ہوئیں۔ [ﺭﻳﺎﺣﻴﻦ ﺍﻟﺸﺮﻳﻌﺔ، ﺝ۳، ﺹ۲۶ ـ ۲۵] دوسرے قول کے مطابق آپ امام عسکری ع کی شہادت سے قبل سنہ260ھ میں دنیا سے گئی ہیں۔ کیونکہ جب امام ع نے اپنی شہادت کے بعد کے حالات سے آگاہ کیا تو جناب نرجس خاتون نے آپ ع سے درخواست کی کہ دعا فرمائیں کہ آپ ع سے پہلے ہی رحلت ہوجائے۔ [ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺳﺎﻣﺮﺍﺀ، ﺝ۱، ﺹ۲۴۳۔۔۔] جناب ﺣﻜﻴﻤﻪ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻮﺍﺩ ﺍﻟﺎﺋﻤﺔ ع کی بیٹی ہیں، جنہیں چار معصوم اماموں کی زیارت کی توفیق ملی۔ [ﺑﺤﺎﺭ ﺍلأﻧﻮﺍﺭ، ﺝ۵۰، ﺹ۸] ان کی رحلت سنہ۲۷۴ھ میں سامرا میں ہوئی ہے۔ [ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺳﺎﻣﺮﺍﺀ، ﺝ۱، ﺹ۲۳۹] آپ ﻣَﺤﺮﻡ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺍہل ﺑﻴﺖ ع تھیں، اور حضرت امام عصر عج کی ولادت کے وقت حاضر تھیں اور کئی بار امام عج کی زیارت سے ﻣﺸﺮّﻑ ہوئی ہیں۔ امام عسکری کی شہادت کے بعد آپ ان کے "سفیروں" میں سے تھیں جن کے واسطے سے لوگ اپنی حاجات تک پہونچتے تھے۔ [ﺭﻳﺎﺣﻴﻦ ﺍﻟﺸﺮﻳﻌﺔ، ﺝ۴، ﺹ۱۵۰] ←امام عصر عج کی ولادت کے بعد حضرت امام عصر عج کی ولادت کے ایک دن بعد خادم امام ع کی خدمت میں آیا اور اسے چھینک آگئی، امام ع نے فرمایا: «ﻳَﺮحَمکَ الله» اس کے بعد فرمایا: «چھینک تین دن کے لئے موت سے امان ہے»۔ [کمال الدین، ﺹ۴۳۰، ۴۴۱۔۔۔] یہ واقعہ ۲۵ شعبان میں بھی ذکر ہوا ہے [الغیبة (شیخ طوسی)، ص۲۳۲۔۔۔] امام عج کی ولادت کے تین دن بعد امام عسکری ع اپنے فرزند کو اپنے خاص اصحاب کے سامنے لائے اور اس کی امامت کی تصدیق فرمائی۔ [ﻭﻗﺎﻳﻊ ﺍﻟﺸﻬﻮﺭ، ﺹ۱۴۷] ← غیبت صغریٰ غیبت صغریٰ کے زمانے میں شیعوں میں سے چار لوگ ترتیب کے ساتھ امام عصر عج کے وکیل، اور نائب خاص رہے، جو امام عج کی خدمت میں جاتے تھے اور انہیں امام عج جانب سے وکالت کی تائید حاصل تھی؛ اور خط کے نیچے امام عج کا تحریر شدہ جواب انھیں نوّاب کے ذریعہ لوگوں تک پہونچتا تھا۔ البتّہ ان چار افراد کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں امام عصر عج کی طرف سے وکیل معین تھے جو انہیں چار افراد کے واسطے سے لوگوں کی باتوں کو امام عج کی خدمت میں پہونچاتے تھے اور امام عج کی طرف سے ان کے سلسلہ میں توقیع صادر ہوئی تھی۔ [الغیبة (شیخ طوسی)، ص۴۱۵۔۔۔] ان چار بزرگوں کی سفارت مطلق اور کامل تھی، لیکن دیگر افراد خاص موارد میں سفارتی اختیار رکھتے تھے، جیسے ابو الحسن محمّد بن جعفر اسدی، احمد بن اسحاق اشعری، ابراهیم بن محمّد همدانی، احمد بن حمزة بن الیسع. [الغیبۃ (شیخ طوسی)، ص۴۱۵؛ المهدی علیه السلام، ص ۱۸۱۔۔۔] نوّاب اربعہ مندرجہ ذیل افراد ہیں: ابو عمر عثمان بن سعید عَمری، ابو جعفر محمّد بن عثمان بن سعید عَمری، ابو القاسم حسین بن روح نوبختی، ابو الحسن علی بن محمّد سَمُری. نائب اوّل عثمان بن سعید جلیل القدر اور قابل اعتماد انسان تھے، اور حضرت امام ہادی ع و عسکری ع کے وکیل بھی تھے۔ [المھدی، ص۱۸۱۔۔۔] وہ امام عج کی جانب سے امام عسکری ع کے کفن و دفن پر مامور ہوئے۔ [الغیبة (شیخ طوسی)، ص۳۵۶] چونکہ امام عسکری ع محلہ عسکر میں رہتے تھے اور شیعوں سے ملاقات مشکل ہوتی تھی، عثمان بن سعید جو گھی کے کاروبار میں تھے، چیزوں کو گھی کے برتن میں رکھ کر امام ع کی خدمت میں پہونچاتے تھے۔ احمد بن اسحاق قُمی نے جس وقت امام ہادی ع سے سوال کیا: مولا! میں کبھی یہاں پر ہوں کبھی نہیں ہوں، اور جب یہاں پر ہوں تب بھی ہمیشہ خدمت سے شرفیاب نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورت میں کس کی بات کو قبول کروں اور کس کی اطاعت کروں؟ امام ع نے فرمایا: «یہ عثمان بن سعید عَمری میرے امین اور معتمد ہیں، یہ جو بھی کہیں وہ میری ہی طرف سے کہا ہے اور جو چیز بھی تم تک پہونچائیں وہ میری طرف سے ہوگی»۔

کلام نور: ۱۵/ شعبان #ولادت_حضرت_بقیۃ_اللہ_الاعظم_صلوات_اللہ_علیہ شب جمعہ سنہ ۲۵۵ھ میں، حضرت خاتم الاوصیاء، منتقم آل محمد ص، آخری امام برحق اور ولی مطلق خدا حضرت بقیۃ اللہ حجۃ بن الحسن عجل اللہ تعالی فرجہ کی ولادت با سعادت واقع ہوئی ہے۔ [ الکافی، ج۱، ص۵۱۴؛ الارشاد، ج۲، ص۳۳۹؛ مسار الشیعۀ، ص۳۸۔۔۔] اس رات آب زمزم اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ سب لوگ اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ [تقویم الواعظین، ص۱۳۶] لیکن اب اس کو ڈھک دیا گیا ہے؛ اس شب برائت میں کثیر تعداد میں لوگوں کی آتش جہنم سے آزادی لکھی جاتی ہے؛ اور اس رات کو "شب برات" اور "شب مبارک" اور "شب رحمت" کہتے ہیں۔ حضرت امام باقر و امام صادق علیہما السلام سے روایت ہے کہ فرمایا: جب شب نیمہ شعبان آتی ہے، افق اعلیٰ سے منادی آواز دیتا ہے: " اے زائرین قبر حسین بن علی واپس جائیں کہ تمہارے گناہ بخش دیئے گئے ہیں، تمہارا اجر تمہارے خدا اور رسول خدا ص پر ہے۔ [الکافی، ج۴، ص۵۸۹۔۔۔] لیکن جو زیارت قبر امام حسین علیہ السلام کی استطاعت نہیں رکھتے وہ دیگر ائمہ کی قبور مطہرہ کی زیارت کریں؛ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ان کی قبر کی طرف رخ کرکے سلام کریں۔ [مسار الشیعۀ، ص۳۸۔۔۔] امام عج کے پدر بزرگوار حضرت ابو محمد امام حسن العسکری علیہ السلام ہیں، اور والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون ہیں؛ اور امام عج کا اسم شریف اصحاب اور روایات کے مطابق اپنے جدّ خاتم الانبیاء کے نام پر "م ح م د" عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہے۔ [الارشاد، ج۲، ص۳۳۹۔۔۔ ] ← شب ولادت کے حالات حضرت امام عسکری علیہ السلام شب ولادت میں اپنی پھوپھی جناب حکیمہ خاتون کو پیغام بھیجا کہ: « آج کی شام ہمارے ساتھ افطار کریں کہ یہ شب نیمہ شعبان ہے اور خداوندعالم آج کی رات اپنی حجّت کو آشکار کرنے والا ہے» حضرت امام عصر عج کی ولادت با سعادت سامرا میں طلوع فجر کے وقت نیمہ شعبان ۲۵۵ھ میں ہوئی۔ امام عج کے داہنے شانے پر تحریر تھا: «ﺟﺎﺀَ ﺍﻟﺤَﻖُّ ﻭَ ﺯَﻫَﻖَ ﺍﻟﺒﺎﻃِﻞُ إﻥَّ ﺍﻟﺒﺎﻃِﻞَ ﻛﺎﻥَ ﺯَﻫُﻮقاً» [سوره اسراء، آیت۸۱] ولادت کے بعد آپ عج کو والد کے پاس لایا گیا، آپ عج نے اس جملہ سے کلام کا آغاز کیا: «ﺃﺷﻬَﺪُ ﺃﻥ ﻟﺎ إﻟﻪَ إﻟﺎَّ اللهُ ﻭَ ﺃﺷﻬَﺪُ ﺃﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪﺍً ﺭَﺳُﻮﻝُ الله ﻭَ ﺃﻥَّ ﻋَﻠِﻴّﺎً ﺃﻣﻴﺮَ ﺍﻟﻤُﺆﻣِﻨﻴﻦَ ﻭَﻟِﻰُّ ﺍﻟﻠﻪِ» اور یکے بعد دیگرے ائمہ معصومین کا نام لیا یہاں تک کہ خود اپنے نام تک پہونچے اور اپنے محبّوں کے لئے دعا فرمائی۔ ← امام عصر عج آغوش پدر میں اس کے بعد امام عسکری ع کے امر پر حکیمہ خاتون آپ عج کو آپ کی والدہ جناب نرجس خاتون کے پاس لے گئیں۔ حکیمہ خاتون کہتی ہیں: میں ساتویں دن امام عسکری ع کے پاس گئی، تو آپ ع نے فرمایا: میرے بیٹے کو لائیں؛ میں انہیں امام ع کے پاس لائی؛ آپ ع نے اپنی زبان مبارک کو اس کے دہن مبارک میں رکھ کر فرمایا: میرے بیٹے! کلام کرو۔ میں نے دیکھا خدا کی وحدانیت کے اقرار، ثنائے پیغمبر ص و امیر المومنین ع و دیگر ائمہ ع کو دوبارہ انجام دیا جسے میں نے پہلے روز سنا تھا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: «ﺑِﺴﻢِ ﺍﻟﻠﻪِ ﺍﻟﺮَّﺣﻤﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣﻴﻢِ وَ نُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْأَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامَانَ وَ جُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا كَانُوا يَحْذَرُونَ». [ﺳﻮﺭہ ﻗﺼﺺ، ﺁﻳﺎﺕ 6 ـ 5] پھر ان کے والد بزرگوار نے فرمایا: «جو خدا نے اپنے رسولوں پر نازل کیا ہے اسے پڑھو»۔ ﺣﻀﺮﺕ عج نے سریانی زبان میں ﺻُﺤُﻒ ﺁﺩﻡ کو پڑھنا شروع کیا، اسکے بعد ﻛﺘﺎﺏ إﺩﺭﻳﺲ، ﻧﻮﺡ، ﺻﺎﻟﺢ، ﺻُﺤُﻒ ﺍﺑﺮﺍہیم، ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﻮﺳﻰ، ﺍﻧﺠﻴﻞ ﻋﻴﺴﻰ، ﺯَﺑُﻮﺭ ﺩﺍﻭﺩ اﻭر ﻓﺮﻗﺎﻥ ﻣﺤﻤّﺪ ص کی تلاوت کی، اسکے بعد ﻗﺼﺺ ﺍﻧﺒﻴﺎﺀ ﻭ ﻣﺮﺳﻠﻴﻦ کا بیان شروع کیا۔ حکیمہ خاتون کہتی ہیں: میں چالیس دن کے بعد دوبارہ اپنے بھتیجے امام عسکری ع کے پاس آئی اور دیکھا کہ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ع چلنے لگے ہیں۔ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺴﻜﺮﻯ ع نے فرمایا: «پھوپھی جان! خدا کے نزدیک عزیز مولود یہ ہے»۔ میں نے کہا: میرے مولا! چالیس دن میں اس کی نشو و نما کو دوسروں سے زیادہ دیکھ رہی ہوں! فرمایا: «پھوپھی جان! ہم اوصیائے الہی کے ایک دن کی نشو و نما دوسروں کے ایک ہفتہ کی، اور ایک جمعہ کی نشو و نما دوسروں کے ایک سال کی ہوتی ہے۔ میں اٹھی اور طفل کے سر کا بوسہ لیا اور گھر واپس چلی گئی۔ [بحار الأنوار، ج۵۱، ص۲۰، ۲۷۔۔۔] ←القاب امام عصر عج اس نور الہی کے بعض القاب: "ﺣﺠّﺔ ﺍﻟﻠﻪ" "ﺣﺠّﺔ ﺁﻝ ﻣﺤﻤّﺪ" "ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ" ﻳﻌﻨﻰ اپنے زمانے کا حاکم، "ﻣﺎلک ﺭﻗﺎﺏ ﺍﻟﺨﻠﺎﻳﻖ" ﻳﻌﻨﻰ ہر ﺍﻣﺮ اس کا ﺍﻣﺮ، نہی اس کی نہی، اور ﺣﻜﻢ اس کا ﺣﻜﻢ ہے؛ "ﻣﻬﺪﻯ" کہ مخلوق اس کے ذریعہ ہدایت پائے گی اور اس کے وجود سے ضلالت کی راہ سے ہدایت کی شاہراہ پر آکر کامیاب ہوگی، "ﻗﺎﺋﻢ" جس کے بارے میں امام ﺻﺎﺩﻕ ع فرماتے ہیں: «چونکہ آپ ع قیام فرمائیں گے قائم کہا گیا ہے»، "ﻣﻨﺘﻈَﺮ" ان کی غیبت طولانی ہوگی اور ان کے مخلصین انتظار میں رہیں

#انتظار_فرج #عمل #ورع 🌹🌹حضرت امام صادق علیہ السلام: 🟤 مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ و
#انتظار_فرج #عمل #ورع 🌹🌹حضرت امام صادق علیہ السلام: 🟤 مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ وَ لْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ وَ هُوَ مُنْتَظِرٌ فَإِنْ مَاتَ وَ قَامَ الْقَائِمُ بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ أَدْرَكَهُ، فَجِدُّوا وَ انْتَظِرُوا هَنِيئاً لَكُمْ أَيَّتُهَا الْعِصَابَةُ الْمَرْحُومَةُ۔ 🔵 جو شخص چاہتا ہے کہ اس کا شمار حضرت امام قائم عج کے اصحاب میں ہو تو اسے چاہئے کہ انتظار کرے اور اس انتظار کے ساتھ پرہیزگاری اور اچھے اخلاق سے عمل کرے۔ اس صورت میں اگر اسے موت آجائے اور امام قائم عج اس کے بعد قیام کریں تو اس کا اجر و ثواب اتنا ہی ہے جتنا اس شخص کا ہوگا جو امام قائم عج کے حضور میں پہونچنے والا ہے۔ لہذا اس راہ میں کوشش کرو اور منتظر رہو، مبارک ہو تمہیں اے موردِ رحمت گروہ۔ 📚 الغيبة للنعماني، ص۲۰۰، ح۱۶، باب ما روي فيما أمر به الشيعة من الصبر و الكف و الانتظار للفرج و ترك الاستعجال بأمر الله و تدبيره. https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor

۱۱/ شعبان #ولادت_حضرت_علی_اکبر_علیہ_السلام.
۱۱/ شعبان #ولادت_حضرت_علی_اکبر_علیہ_السلام.

۱۱/ شعبان #ولادت_حضرت_علی_اکبر_علیہ_السلام ۱۱/ شعبان، سنہ ۳۳ھ میں ہمشکل خاتم الانبیاء صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ [علی اکبر علیہ السّلام "مقرّم"، ص۱۵ - ۱۶ بحوالہ انیس الشیعہ، مستدرک سفینۃ البحار، ج۵، ص۴۱۳] آپ علیہ السلام کا نام علی ہے، آپ علیہ السلام کے والد گرامی حضرت سید الشہداء علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ لیلی بنت مره ثقفی ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام کے قول کے مطابق آپ علیہ السلام کی کنیت "ابو الحسن" ہے۔ [کامل الزیارات، ص۲۴۰؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۱۸۶] بزنطی کی روایت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ علیہ السلام شادی شدہ تھے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول زیارت میں بھی ہم پڑھتے ہیں: "صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى عِتْرَتِكَ وَ أَهْلِ بَيْتِكَ وَ آبَائِكَ وَ أَبْنَائِكَ وَ أُمَّهَاتِكَ الْأَخْيَارِ الْأَبْرَارِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهِيراً "۔ [کامل الزیارات، ص۲۴۰؛ بحار الانوار، ج۹۸، ص۱۸۶] اور اس زیارت میں ابن کی جمع "أبناء" کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام  صاحب اولاد بھی تھے۔ [علی اکبر علیہ السلام "مقرّم'، ص۲۰] واقعہ کربلا میں آپ کی عمر مبارک تقریبا ۲۷ سال تھی۔ [علی اکبر علیہ السلام "مقرّم"، ص۲۰-۱۶] 📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۱/ شعبان، ص۲۴۰. https://t.me/klmnoor https://www.facebook.com/klmnoor