ru
Feedback

Не попадитесь на канал ботавода! Telemetrio находит и помечает такие каналы 👉 Хотите видеть метку — оформите подписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Открыть в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Больше
1 285
Подписчики
-324 часа
-77 дней
-730 дней
Архив постов
وَاَخْرَجَ اِبْنُ عَسَاکِرٍ عَن الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ اَنَا وَاﷲِ رَایْتُ رَاْسَ الْحُسَیْنَ حِیْنَ حُمِلَ وَاَنَا بِدَمِشْقَ وَبَیْنَ یَدَیِ الرَّاْسِ رَجُلٌ یَقْرَاُسُوْرَۃَ الْکَھْفِ حَتَّی بَلَغَ قَوْلَہُ تَعَالٰی اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَہْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا فَانْطَقَ اﷲُ الرَّاْسَ بِلِسَانٍ ذَرِبٍ فَقَالَ اَعْجَبَ مِنْ اَصْحَابِ الْکَھْفِ قَتْلِیْ وَحَمْلِیْ۔ ترجمہ: ابن عساکر منہال بن عمرو سے روایت کرتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے شہر دمشق میں سر حسین کو دیکھا جسے نیزہ بردار لیے جا رہے تھے۔ سر مبارک کے آگے ایک شخص سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا جب وہ اس آیت پر پہنچا۔ اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَہْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا ۔(14) تو اللہ تعالیٰ نے سر مبارک کو گویائی عطا فرمائی اور اس نے بزبان فصیح کہا: اصحاب کہف کے قصہ سے عجیب تر میرا قتل کیا جانا اور میرے سر کا نیزہ پر اٹھایا جانا ہے۔ اصحاب کہف کا قصہ یہ ہے کہ وہ تین سو نو سال تک ایک غار میں سوئے رہے جب وہ بیدار ہوئے تو ان کا خیال تھا کہ وہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سوتے رہے ہیں۔ یہ عجائبات قدرت میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اس قصہ کی تفصیلات کتبِ تفسیر و احادیث اور تاریخ میں مذکور ہیں۔لیکن سید الشہداء کا قتل اور ان کے سر مبارک کا نیزہ پر اٹھا کر لے جایا جانا قصۂ اصحابِ کہف سے بھی عجیب تر ہے۔ کیا یہ بات عجیب نہیں ہے کہ یزیدی جماعت نے کلمۂ شہادت کے ذریعے اقرارِنبوت و ختم رسالت کے باوجود اپنی دنیاوی لالچ اور جاہ و حشم کی خاطر فرزندِ رسول، جگر گوشۂ بتول کو بے سرو سامانی کے عالم میں قتل کر دیا۔ اور خاندانِ نبوت کو حوادث و آفات سے دوچار کیا اور نوجوانانِ بہشت کے سردار کے سر مبارک کو خنجر وتیغ سے کاٹ کر نیزے پر سوار کیا۔اور سرا پردۂ نبوی ﷺ کی عفت مآب مستورات کو بے پردہ اونٹوں کی پشت پر سوار کر کے شہر بہ شہر قریہ بہ قریہ سفر کرایا۔ اور جو کچھ ظلم ان ظالموں نے اہلبیتِ نبوت کے سروں پر ڈھائے ان کی ہلکی سی جھلک تحریر کی گئی ہے۔ اس کے باوجود وہ اسلام کے مدعی تھے اور اپنے آپ کو مومن و مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ فاعتبروا یا اولی الالباب ان ھذا لشیء عجاب اللھم صلی علی محمد وآل محمد وعجل فرجھم 📚 حواشی و توضیحات 1۔ حاشیہ: بیہقی کی مکمل روایت یوں ہے: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ شَوْقٍ الْعَبْديَّةُ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي نَضْرَةُ الأَزْدِيَّةِ، قَالَتْ: " لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ مَطَرَتِ السَّمَاءُ دَمًا، فَأَصْبَحْتُ وَكُلُّ شَيْءٍ مَلآنُ دَمًا " بیہقی: دلائل النبوۃ ، ج: ۶،ص: ۴۷۱، حدیث نمبر: ۲۸۱۲، مطبوعہ:دارالکتب العلمیۃ، بیروت 2۔ حاشیہ: بیہقی کی مکمل روایت یوں ہے: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: أَوَّلُ مَا عُرِفَ الزُّهْرِيُّ تَكَلَّمَ فِي مَجْلِسِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَقَالَ الْوَلِيدُ: أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا فَعَلَتْ أَحْجَارُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ يَوْمَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: بَلَغَنِي أَنَّهُ " لَمْ يُقْلَبْ حَجَرٌ إِلا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ عَبِيطٌ " بیہقی: دلائل النبوۃ، ج: ۶،ص:۴۷۱، حدیث نمبر::۲۸۱۴،مطبوعہ:دارالکتب العلمیۃ ، بیروت 3۔ اسی روایت کو یوسف المزی نےاپنی کتاب تہذیب الکمال میں درج کیا ہے۔روایت درج ذیل ہے: وقال يعقوب بْن سفيان الفارسي: حدثني أيوب بْن مُحَمَّد الرقي، قال: حدثنا سلام بْن سليمان الثقفي، عن زيد بْن عمرو الكندي، قال: حدثتني أم حيان، قالت: يوم قتل الحسين أظلمت علينا ثلاثا ولم يمس أحد من زعفرانهم شيئا فجعله على وجهه إلا احترق، ولم يقلب حجرا ببيت المقدس إلا أصيب تحته دم عبيط۔ یوسف المزی: تہذیب الکمال، ص: ۱۰۰۲، حدیث نمبر:۵۵۶، مطبوعہ: موسسۃ الرسالۃ ، بیروت، لبنان 4۔ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: " أَصَابُوا إِبِلا فِي عَسْكَرِ الْحُسَيْنِ يَوْمَ قُتِلَ فَنَحَرُوهَا وَطَبَخُوهَا، قَالَ: فَصَارَتْ مِثْلَ الْعَلْقَمِ، فَمَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يَسِيغُوا مِنْهَا شَيْئًا "

منقول ہے ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ کو جب یہ علم ہوا تو آپ اس قدر روئیں کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی۔ 🔷 وَاَخْرَجَ اَبُوْ نُعَیْمٍ عَنْ مَزِیْدَۃَ بْنِ جَابِرِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ اُمِّہِ قَالَتْ سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوْحُ عَلَی الْحُسَیْنِ وَھِیَ تَقُوْلُ: اَبغی حُسَیْنٔ ھَبَلًا کَانَ حُسَیْنٔ جَبَلًا (9) ترجمہ: ابونعیم مزیدہ بن جابر حضرمی کےطریق سے ان کی والدہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے جنات کو قتل حسین پر نوحہ کناں پایا وہ ان الفاظ میں نوحہ کر رہے تھے: ہوئے شہید سناؤں تمہیں بدیدۂ تر حسین کوہِ رضا صبر و رضا کے پیکر جان لینا چاہیے کہ جنات کے یہ نوحے جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے اس غرض سے تھے کہ امام عالی مقام کے خصائل و اوصاف حمیدہ کا ذکر ہو نہ کہ اہل بدعت کی طرح مذموم نوحے تھے جن پر احادیث صحیحہ میں وعید وارد ہوئی ہے۔ ■ خونی تحریر وَاَخْرَجَ اَبُوْ نُعَیْمٍ مِنْ طَرِیْقِ ابْنِ لھِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْ قُنْبُلِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ الْحُسَیْنُ اِجْتَزُّوا رَاْسَہُ وَقَعَدُوْا فِیْ اَوَّلِ مَرْحَلَۃٍ یَشْرَبُوْنَ النَّبِیْذَ فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِیْدٍ فَکَتَبَ سَطْرًا بِدَمٍ۔ اَتَرْجُوْا اُمَۃً قَتَلَتْ حُسَیْنًا شَفَاعَۃَ جَدِّہِ یَوْمَ الْحِسَابِ(10) ترجمہ؛ اور ابونعیم نے ابن لہیعہ کے طریق سے ابوقنبل سے روایت کیا ہے: جب امام حسینؑ شہید کر دیے گئے اور قاتلین سر مبارک کو کاٹ کر شام کی طرف روانہ ہوئے۔ قاتلین پہلی منزل پر بیٹھ کر نبیذ پی رہے تھے کہ ان کے سامنے غیب سے ایک آہنی قلم نمودار ہوا جس نے خون سے یہ تحریر لکھی: شبیر کے قاتل کیا فردائے قیامت میں امید بھی رکھتے ہیں نانا کی شفاعت کی یعنی سیدالشہداء کا سر مبارک کاٹ کر دارالامارۃ شام میں یزید بن معاویہ کے پاس لے جارہے تھے۔جوں ہی پہلی منزل پر پہنچے اور شراب نوشی میں مشغول ہوئے تو دیکھا غیب سے لوہے کا ایک قلم برآمد ہوا اور ایک شعر خون سے لکھا۔ ■ راہب کا مسلمان ہونا بعض روایات میں ہے کہ جب خواتینِ اہلبیت کو اونٹوں پر سوار کرایا گیا اور مظلوموں کے سروں کو نیزوں پر چڑھا کر شام کی طرف روانہ ہوئے تو ایک منزل پر کلیسا کے قریب قیام کیا تو دیکھا کہ کلیسا کی دیوار پر یہ شعر مرقوم تھا۔ اس کلیسا کے راہب سے پوچھا گیا کہ یہ شعر لکھنے والا کون شخص ہے۔ تو راہب نے بتایا کہ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ شعر اس دیوار پر تمہارے نبی (ﷺ) کی بعثت سے پانچ سو سال پہلے سے لکھا ہوا ہے۔(11) اور بعض کہتے ہیں کہ کلیسا کی دیوار میں شگاف نمودار ہوا اور ایک غیبی قلم بردار ہاتھ اس شگاف میں سے باہر آیا اور خون کے ساتھ دیوار پر یہ شعر لکھا۔ راہب نے دس ہزار درہم میں سراطہر کو حاصل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب راہب کو اسیرانِ اہلبیت کا حال معلوم ہوا اور اس نے نیزے پر امام عالی مقام کے سر مبارک کو ملاحظہ کیا تو اپنے آپ سے کہنے لگا: اس قوم کے لوگ کتنے برے ہیں کہ اپنے نبی کے بیٹے کو مار ڈالا اور اس کے اہلبیت کو ذلیل و خوار کر دیا۔ اور اشقیاء کی اس جماعت سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: مجھ سے دس ہزار درہم لے لو اور یہ سر جو تم نے نیزے پر چڑھا رکھا ہے میرے حوالے کر دو۔ یزیدی جو کہ انتہاء درجہ کے حریص اور لالچی تھے انہوں نے یہ پیش کش قبول کر لی۔چنانچہ راہب نے ان سے سر مبارک کو لے لیا اور کلیسا کے اندر خلوت گاہ میں لے جا کر غسل دیا اور خوشبو لگا کر اپنے زانو پر رکھا اور انوار خداوندی کے جمال کا مشاہدہ کرنے لگا۔ اور راہب کا دل نور ایمان سے بھر گیا۔ راہب بچشم خود ملاحظہ کر رہا تھا کہ سر مبارک سے لے کر آسمان تک انوارِتجلیات کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس کا ذکر محال ہے۔ اسی طرح تمام رات سر مبارک پر آسمان سے نور کی بارش ہوتی رہی اور راہب ملاحظہ کرتا رہا۔ یہانتک کہ مسلمان ہو گیا اور اپنے دل کو نورِ ایمان سے جلا بخشتے ہوئے اپنی بقیہ زندگی احکامِ اسلام کے مطابق محبت و ولائے اہلبیت میں گزار دی۔ راہب نے وعدے کے مطابق دس ہزار درہم ان بدبختوں کے حوالے کر دیے۔ جب ان بد مآل لشکریوں نے یہ درہم آپس میں تقسیم کرنے کی غرض سے تھیلی سے نکالے تو وہ تمام کے تمام درہم خاکستر بن کر ٹھیکریوں کی شکل اختیار کر چکے تھے اور ہر درہم کے ایک رخ پر یہ آیہ شریف تحریر تھی: وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ(12) اور دوسری جانب آیت کریمہ: وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ۔تحریر تھی۔(13) ■ سر مبارک کا گفتگو کرنا احباب بصیرت اور اصحاب معرفت سے یہ امر پوشیدہ نہیں ہو گا کہ یہ تمام آثارِ عجیبہ اور شواہد غریبہ جن کا ذکر ہوا ہے واقعۂ کربلا اور شہادت سید الشہداء کی عظمت کی روشن دلیلیں ہیں۔ لیکن ایک ایسی عجیب بات جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہے:

🔷 بعض روایات میں آیا ہے کہ قتل حسینؑ کے روز آسمان سے ایسا خون برسا کہ خراسان، شام اور کوفہ کے گلی کوچوں میں آب رواں کی صورت جاری ہو گیا۔ 🔷 منقول ہے کہ جب امام عالی مقام کے سر مبارک کو دارالامارۃ کوفہ میں لایا گیا اور وہاں رکھا گیا تو دارالامارۃ کی دیواروں ںسے خون جاری ہو گیا۔ 🔷 بیت المقدس کے پتھروں کے نیچے سے تازہ اور سرخ خون کا برآمد ہونا اور زعفران کا جلنا رسالہ سرالشہادتین کے متن میں زہری اور ام حبان کی روایات میں مذکور ہے۔ ■ سورج گرہن کا لگنا روایت ہے کہ شہادت امام عالی مقام کے روز آفتاب کو ایسا گرہن لگا کہ دوپہر کے وقت ستارے ظاہر ہو گئے۔ اور لوگوں کو یہ گمان ہونے لگا کہ قیامت قائم ہو گئی اور علامات قیامت ظاہر ہونے لگیں۔ ■ گوشت کا کڑوا ہونا وَاَخْرَجَ الْبَیْہَقِیُّ عَنْ جَمِیْلِ بْنِ مُرَّۃَ قَالَ اَصَابُوْا اِبِلًا فِیْ عَسْکَرِالْحُسَیْنِ یَوْمَ قُتِلَ فَنَحَرُوْھَاوَ طَبَخُوْھَا فَصَارَتْ مِثْلَ الْعَلْقَمِ فَمَا اسْتَطَاعُوْا اَنْ یُسِیْغُوْامِنْہَا شَیْئًا۔(4) ترجمہ: بیہقی نے جمیل بن مرہ سے روایت بیان کی ہے: یزید کے لشکری امام عالی مقام کی شہادت کے بعد آپ کے لشکر کے اونٹ پکڑ کر لے گئے اور انہیں ذبح کر کے پکایا۔ان کا گوشت اندرائن کے پھل جیسا کڑوا تھا۔کسی کو اسے کھانے کی ہمت نہ ہوئی۔ ■ ورس کا جلنا صواعق محرقہ میں منقول ہے کہ ایک قافلہ جو یمن سے عراق کی جانب ورس(5) نامی گھاس لے کر جا رہا تھا عراق کے راستے میں لشکر یزید کے ساتھ ملا تو قافلے کے اونٹوں پر لدا ہوا تمام کا تمام ورس جل کر خاکستر ہوگیا۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ وہ ورس جو قاتلانِ حسین کے لشکر میں تھا جل کر خاک ہو گیا اورجن اونٹوں کو ذبح کیا گیا ان کے گوشت میں سے آگ بھڑک اٹھی۔ وَاَخْرَجَ الْبَیھَقِیُّ وَاَبُوْ نُعَیْمٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی جَدَّتِیْ قَالَتْ لَقَدْ رَایْتُ الْوَرَسَ عَادَ رمَادًا وَلَقَدْ رَایْتُ اللَّحْمَ کَانَ فِیْہِ النَّارَحَیْنَ قُتِلَ الْحُسَیْنُ۔(6) ترجمہ: بیہقی اور ابونعیم نے سفیان سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا: مجھے میری دادی نے بتایا، جس دن امام حسین شہید ہوئے، ورس راکھ ہو گئی اور گوشت میں آگ بھڑک اٹھتی۔ اور اسی طرح کے دوسرے عبرت انگیز واقعات رونما ہوئے۔ ■ عجیب عذاب وَاَخْرَجَ اَبُوْ نُعَیْمٍ مِنْ طَرِیْقِ سُفْیَانَ عَنْ جَدَّتِہِ قَالَ شَہِدَ رَجُلَانِ قَتْلَ الْحُسَیْنِ فَاَمَّا اَحَدُھُمَا فَطَالَ ذَکَرُہُ حَتَّی کَانَ یَلُفُّہُ وَاَمَّا الْآخَرَ فَکَانَ یَسْتَقْبِلُ الرَّاوِیَۃَ بِفِیْہِ حَتَّی یَاتِیَ عَلَی اَخِرِھَا فَمَا یَرْویْ۔ ابونعیم روایت کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنی دادی سے سنا: اس نے کہا: دو آدمی جو قتل حسین میں شریک تھے سو ایک کا آلۂ تناسل اتنا بڑھ گیا تھا کہ اپنی کمر سے باندھ لیتا تھا اور دوسرے کو اتنی پیاس تھی کہ پکھال کی پکھال پی جاتا اور اس کی پیاس نہ بجھتی۔ ■ جنات کا نوحہ 🔷 وَاَخْرَجَ اَبُوْ نُعَیْمٍ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْجِنَّۃَ تَنُوْحُ عَلَی الْحُسَیْنِ وَھِیَ تَقُوْلُ: مَسَحُ النَّبِیُّ جَبِیْنَہ فَلَہُ بَرِیْقٌ فِی الْخُدُوْداَبَوَاہُ فِیْ عُلْیَا قُرَیْش وَجَدُّہُ خَیْرُالْجَدُوْد (7) ترجمہ: ابونعیم نے حبیب بن ثابت سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا: میں نے ایک جنیہ (مونث جن) کو امام حسین پر نوحہ کرتے سنا وہ کہتی تھی: مَسَحُ النَّبِیُّ جَبِیْنَہ فَلَہُ بَرِیْقٌ فِی الْخُدُوْد اَبَوَاہُ فِیْ عُلْیَا قُرَیْش وَجَدُّہُ خَیْرُ الْجَدُوْد ترجمہ: نبی مکرم ﷺ نے ان کی جبین پرہاتھ پھیرا ۔جس سے ان کے رخساروں پر نور کی لپٹیں اٹھتی تھیں۔ ان کے والدین اشراف قریش میں سے تھے۔ اور ان کے نانا بہترین نانا تھے۔ 🔷 وَاَخْرَجَ اَبُوْنُعَیْمٍ مِن طَرِیْقِ حَبِیْبِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ مَا سَمِعْتُ نَوْحَ الْجِنِّ مُنْذُ قُبِضَ النَّبِیُّ ﷺ اِلَّا اللَّیْلَۃَ وَمَا اَرَی ابْنِی اِلَّا قَدْ قُتِلَ تَعْنِی الْحُسَیْنِ فَقَالَت لجَارِیَتِھَا اخْرُجِیْ فَاسْئَلِی فَاَخْبَرَتْ اَنَّہُ قَدْ قُتِلَ وَاِذَاالْجِنَّۃُ تَنُوْحُ: اَلَا یَاعَیْنُ فَاحتفِلِی بجَہْدِ وَمَنْ یَبْکِی عَلَی الشُّہَدَاءِ بَعْدِی عَلَی رَہَطٍ تَقُوْدُھُمُ الْمَنَایَا اِلَی مُتَجَبِّرٍ فِیْ مُلْکِ عَہْدِی (8) ترجمہ: اور ابونعیم حبیب بن ثابت کے واسطہ سے سیدہ ام سلمہ سے روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے انتقال سے آج رات تک میں نے جنات کا نوحہ نہیں سنا۔ اور آج رات کے اس نوحے سے میں نے جان لیا کہ میرا بیٹا حسین۴ شہید ہوگیا: پھرحضرت ام سلمہ نے اپنی لونڈی سے فرمایا: تو گھر سے نکل کر پوچھ۔ تو معلوم ہوا کہ امام حسین۴ شہید ہو گئے۔ جنات یہ کہہ کر روتے تھے: ہوسکے جتنا رولے تو اے چشم کون روئے گا پھر شہیدوں پر پاس ظالم کے کھینچ کر لائی موت اے وائے ان عزیزوں کو

📚 حوالہ جات: (1) مفاتیح الجنان، صفحہ: 439. (2) مابعد کربلا، صفحہ: 310. (3) کامل الزیارات، صفحہ: 288. (4) مابعد کربلا، صفحہ: 103. (5) مابعد کربلا، صفحہ: 103. (6) کامل الزیارات، صفحہ: 303. (7) کامل الزیارات، صفحہ: 303. (8) زیارت ناحیہ، صفحہ: 44. (9) مابعد کربلا، صفحہ: 105. (10) مابعد کربلا، صفحہ: 105. (11) کامل الزیارات، صفحہ: 305. (12) مابعد کربلا، صفحہ: 106. (13) کامل الزیارات، صفحہ: 390. (14) کامل الزیارات، صفحہ: 321. (15) مابعد کربلا، صفحہ: 321. (16) مابعد کربلا، صفحہ: 105. (17) کلمہ طیبہ، صفحہ: 106. (18) کامل الزیارات، صفحہ: 353. (19) زیارت عاشورہ سے ماخوذ دعاء. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ■ سانحہ کربلا کے بعد عجیب واقعات سانحہ کربلا کے بعد کچھ عجیب واقعات اہلسنت کی کتب سے۔۔۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی مشہور عالم کتاب سرالشہادتین کی شرح تحریرالشہادتین سے کچھ ایسی روایات و واقعات ملاحظہ کریں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت امام حسینؑ کی شہادت کے بعد دنیا میں عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے۔ ■ آسمان سے خون کا برسنا وَاَخْرَجَ الْبَیْہَقِیُّ وَاَبُوْ نُعَیْمٍ عَنْ بُصْرَۃَ الْاَزْدِیَّۃِ قَالَتْ لَمَّا قُتِلَ الْحُسَیْنُ مَطَرَتِ السَّمَائُ دَمًا فَاَصْبَحْنَا وَحِبَابُنَا وَجَرَارُنَاوَکُلُّ شَیْئٍ لَنَا مَلْآنٌ دَمًا۔ ترجمہ: بیہقی اور ابونعیم نے نضرہ ازدیہ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت حسین شہید ہوئے تو آسمان سےخون برسا اور صبح کے وقت ہمارے مٹکے، گھڑے اور تمام برتن خون سے لبالب بھرے ہوئے تھے۔(1) ■ بیت المقدس میں خون وَاَخْرَجَ الْبَیْہَقِیُّ وَاَبُوْ نُعَیْمٍ عَنِ الزَّہْرِی قَالَ بَلَغَنِی اَنَّہُ یَوْمَ قُتِلَ الْحُسَیْنُ لَمْ یُقْلَبْ حَجَرٌ مِنْ اَحْجَارِ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ اِلَّاوُجِدَ تَحْتَہُ دَمٌ عَبِیْطٌ۔(2) ترجمہ: بیہقی اور ابونعیم نے زہری سے روایت کی ہے: زہری نے کہا: مجھ کو خبر پہنچی کہ جس دن حسین شہید ہوئے بیت المقدس میں جس پتھر کو اٹھایا جاتا تھا اس کے نیچے تازہ سرخ خون نکلتا تھا۔ ■ تین دن تک اندھیرا وَاَخْرَجَ الْبَیْہَقِیُّ عَنْ اُمِ حبَّانَ قَالَتْ یَومَ قُتِلَ الْحُسَیْنُ اَظْلَمَتْ عَلَیْنَا ثَلاثًا وَلَمْ یَمَسَّ مِنَّا اَحَدٌ مِنْ زَعْفَرَانِہِمْ شَیْئًا یَجْعَلُہُ عَلَی وَجْہِہِ اِلَّااِحْتَرَقَ وَلَمْ یُقْلَبْ حَجَرُ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ اِلَّا وُجِدَ تَحْتَہُ دَمٌ عَبِیْطٌ۔(3) بیہقی نے ام حبان سے روایت کی انہوں نے کہا کہ جس دن حسین شہید ہوئے اس کے بعد تین دن تک اندھیرا چھایا رہا، جس نے منہ پر زعفران ملا اس کا منہ جل گیا اور بیت المقدس میں جو پتھر اٹھایا گیا اس کے نیچے سے تازہ سرخ خون برآمد ہوا۔ ■ گریہ سماوی وَاَخْرَجَ الْبَیْہَقِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی جَدَّتِی قَالَتْ کُنْتُ اَیَّامَ قَتْلِ الْحُسَیْنِ جَارِیَۃً شَابَّۃً فَکَانَتِ السَّمَائُ اَیَّامًا تَبْکِی لَہُ۔ اور بیہقی نے علی بن مسھر سے روایت کی کہ اس نے کہا کہ مجھے میری دادی نے بتایاکہ جب امام حسین شہید ہوئے میں نوجوان لڑکی تھی۔ امام عالی مقام کی شہادت کے سانحہ پر کئی دن تک آسمان روتا رہا۔ جاننا چاہیے کہ گریۂ آسمان کے متعلق سلف سے متعدد روایات منقول ہیں۔ 🔷 ابن جوزیؒ نے ابن سیرینؒ سے روایت کی ہے کہ قتلِ حسینؑ کے دن سے تین روز تک دنیا تاریک رہی۔ اس کے بعد آسمان میں سرخی ظاہر ہوئی۔ 🔷 ثعلبیؒ سے منقول ہے کہ قتلِ حسین پر آسمان رویا اور آسمان کا رونا اس کی سرخی ہے۔ 🔷 منقول ہے کہ آسمان چھ مہینے تک سرخ رہا۔ 🔷 ابن سیرینؒ کہتے ہیں کہ آسمان کے کنارے پر جو سرخیِ شفق ہے یہ قتلِ حسین کے واقعہ کے بعد ظاہر ہوئی۔ اس سے قبل آسمان پر اس سرخی کا وجود نہ تھا۔ 🔷 ابن سعدؒ سے بھی روایت ہے کہ شفق کی سرخی سیدالشہداء کی شہادت سے قبل نظر نہ آتی تھی۔ آسمان کی سرخی غضب خداوندی کی علامت ہے۔ 🔷 ابن جوزیؒ کہتے ہیں کہ آسمان کے سرخ ہو جانے میں یہ حکمت ہے کہ جب غصے کی وجہ سے خون جوش میں آتا ہے تو چہرے کی رنگت سرخ ہو جاتی ہے لیکن ذات باری تعالیٰ جو جسم اور دیگر لوازم سے منزہ ہے، نے اپنے غضب کے اظہار کا ذریعہ کنارۂ آسمان کی سرخی کو بنایا تاکہ شفق کی یہ سرخی قاتلانِ حسین کی انتہائے معصیت اور غضب الٰہی کی شدت پر دلیل بن جائے۔ 🔷 بعض کا کہنا ہے کہ قتلِ حسینؑ کے بعد سات روز تک آسمان نے گریہ کیا اور آسمان کا یہ رونا اس درجہ تک پہنچ گیا تھا کہ آسمان کی سرخی کے سبب تمام در و دیوار اور عمارتیں بھی زرد و سرخ ہو گئیں اور آسمان سے اتنے شہاب برسے کہ ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے۔ اسی طرح قتلِ حسین کے دن آسمان سے خون برسا جس کے نشانات ایک عرصے تک زمین پر باقی رہے۔ اور جو کپڑا یا لباس اس خون سے رنگین ہوا اس کی سرخی کپڑے کے بوسیدہ اور پارہ پارہ ہونے تک زائل نہ ہوئی۔

🔻 امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو کوے نے خود کو آپ کے خون میں غلطان کر کے گریہ کیا پھر وہاں سے اڑتا ہوا مدینہ جا پہنچا اور امام حسین علیہ السلام کی بیٹی جناب فاطمہ صغری کے گھر کی دیوار پر بیٹھ گیا جب بیبی نے اس کو دیکھا تو شدید گریہ فرمایا. (12) 🔻 پرندوں میں سب سے زیادہ جس کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر صدمہ پہنچا وہ پرندہ الو ہے. اس سلسلے میں امام ہشتم حضرت علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: یہ پرندہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں گھروں اور محلوں میں رہتا تھا اور جب کوئی انسان کچھ کھا رہا ہو تو اس کے سامنے آکر بیٹھ جاتا اور لوگ بھی اس کو کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتے تھے وہ اسے کھا کر پھر اڑ جاتا تھا لیکن جب امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے تو اس نے آبادیوں کو چھوڑ دیا اور ویرانے، پہاڑوں اور صحراؤں کو بسا لیا اور کہنے لگا تم بدتریں قوم ہو کیونکہ تم نے اپنے نبی (ص) کے فرزند کو شہید کردیا مجھے اب تم پر بھروسہ نہیں رہا. (13) 🔻 اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: الو پورے دن روزہ رکھتا ہے اور رات آنے پر خدا کے رزق سے افطار کرتا ہے (14) پھر اس وقت سے لیکر صبح تک امام حسین علیہ السلام پر نوحہ وماتم کرتا ہے. 🔻 اسی طرح امام حسین علیہ السلام کے ذوالجناح نے بھی آپ کی شہادت کے بعد شدید گریہ کیا ہے. ارباب مقاتل کے مطابق آپ کے دلدل نے قریب کھڑے ہو کر اپنے منہ اور پیشانی کو آپ کے خون سے رنگین کیا اور ٹاپوں کو زمین پر مارنا اور ہنہنانا شروع کردیا یا ساتھ ہی ساتھ اس کی آنکھوں سے اشک بھی جاری تھے. (15) 🔻 اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر دشت و بیابان میں جنگلی حیوانات نے اور سمندر میں مچھلیوں نے شدید گریہ کیا تھا. (16) 🔻 اسی طرح حیوانات کے گریہ و ماتم کی داستان علامہ میزا طبرسی نوری نے جناب آخوند ملا زین العابدین سلماسی سے یوں نقل کیا ہے: میں اپنے بھانجے کلباسی مرحوم اور بعض زائروں کے ہمراہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے واپس آرہا تھا ہم سب نے ہمدان شہر کے قریب الوندنامی پہاڑ کے دامن میں خیمہ لگا دیئے اور آرام کرنے لگے جب شام ہونے لگی تو وادی میں ایک سفیدی دکھائی دی. ہم سب نے غور کیا تو سمجھ میں آیا کہ ایک بوڑھا شخص سفید داڑھی اور چھوٹے سے عمامے کیساتھ بیٹھا ہوا ہے ہم اس کے نزدیک گئے. جب اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیا تو اس نے بتایا میں ہمدان کا رہنے والا ہوں. میں ہمیشہ اس بلندی پر آکر نماز مغرب پڑھتا ہوں ایک دفعہ جب میں یہاں نماز پڑھ رہا تھا تو اچانک ایک عجیب قسم کا شور و غل سنائی دیا میں نے نماز کو جلدی تمام کرکے اب جو گھوم کر دیکھا تو دم بخود رہ گیا. کیا دیکھتا ہوں کہ مختلف قسم کے وحشی حیوانات جن میں شیر، چلتا، بھیڑیا، ہرن وغیرہ شامل ہیں (جن کا عام طور پر ایک جگہ جمع ہونا تقریباً محال ہے) ایک دائرہ کی شکل میں کھڑے ہیں اور اپنے اپنے منہ سے عجیب و غریب قسم کی آواز یں نکال رہے ہیں میں یہ دیکھ کر لرز گیا مگر پھر سوچنے لگا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سب ایک دوسرے کے جانی دشمن ہونے کے باوجود ایک جگہ اکٹھے ہوگئے ہیں ضرور کوئی بات ہے یک لحظہ میرے ذہن میں بجلی کوندی مجھے یاد آیا کہ آج شب عاشورہ ہے اور یہ سب گریہ و ماتم کے لئے جمع ہوئے ہیں میں بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور سر سے عمامہ پھینک کر آگے بڑھا اور خود کو زمین پر گرا کر سروصورت پیٹنے لگا پھرحسین حسین کہتا ہوا ان کی طرف بڑھنے لگا ان سب نے مجھے اپنے قریب دیکھ کر راستہ دیا اور پھر وہ سب میرے چاروں طرف دائرے کی شکل میں کھڑے ہوگئے ان میں سے بعض خود کو زمین پر گرائے دے رہے تھے اور بعض اپنے سروں کو زمین پر پٹک رہے تھے اس طرح وہ سب ماتم کر رہے تھے یہ سلسلہ پوری رات جاری رہا یہاں تک کہ صبح قریب آگئی اس وقت وہ سب ایک ایک کرکے وہاں سے چلے گئے. اس سال سے آج تک ہر شب عاشورہ وہ سب اکٹھا ہوتے ہیں اور اسی طرح گریہ و ماتم کرتے ہیں. آج 18 سال گذر گئے یہاں پر آتا ہوں اور اگر تاریخ یا مہینہ میں دھوکا ہوجاتا ہے تو ان جانوروں کی عزاداری سے شب عاشورہ کا پتہ لگا لیتا ہوں. (17) ↩ ان روایات اور واقعات کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا اثر صرف بنی آدم ہی پر نہیں ہوا بلکہ کل کائنات نے آپ پر نوحہ و ماتم کیا ہے اسی وجہ سے آنحضرت نے فرمایا تھا کہ: انا قتیل العبرة (میں کشتہ گریاں ہوں) (18) ہمارا سلام ہو اس عظیم شہید پر جس کی شہادت نے بے جان اسلام میں نئی روح پھونک دی اور جس کے مصائب و آلام پر زمین و آسمان ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات نے گریہ کیا. خداوندا.! ہمیں بھی اس عظیم ذات کے توسط سے اپنے نزدیک آبرومند قرار دے اور دنیا و آخرت میں آنحضرت کی ہمراہی نصیب فرما نیز روز قیامت آنحضرت اور ان کے باوفا جاں نثاروں کے ساتھ قرار دے. (19)

🔴 تمام ارض و سماء کا گریہ و ماتم 🔴 عام طور پر مظلوم کی عزاداری کا دائرہ خاندان اور اعزاء ہی کے درمیان محدود رہتا ہے اور ورثاء بھی سوگواری کو ایک رسم کے طور پر انجام دیکر دوبارہ اپنے کام و زندگی میں لگ جاتے ہیں. مگر اس کے برخلاف سر زمین کربلا پر کچھ اس طرح سے مظالم ڈھائے گئے کہ نہ صرف پوری انسانیت نے ماتم کیا بلکہ تمام عالم امکان نے ان مصائب و آلام پر خون کے آنسو بہائے اور اپنے اپنے انداز میں ماتم کرکے بارگاہ اہل بیت علیہم السلام میں تعزیت پیش کی. 🔻 امام زمانہ علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں: " وعزاہ بک الملائکہ و الانبیاء و اختلفت جنود الملائکة المقربین تعزی اباک امیر المومنین." ترجمہ: آپ کی شہادت پر ملائکہ اور انبیاء نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعزیت پیش کی اور مقرب فرشتوں کے لشکر نے آ کر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں تسلیت عرض کی. 10 محرم الحرام سنہ 61 ھ آل محمد علیہم السلام کے لئے نہایت المناک تاریخ ہے کیونکہ اسی دن نازش کونین شاہ مشرقین امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب اور اعزاء کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد جب خود کو بھی شہادت کے لئے پیش کردیا تو دشمن یہ سمجھا کہ آپ کے سروگردن کی جدائی ہی میں اس کی فتح و ظفر پوشیدہ ہے لہذا آنحضرت کے سوکھے گلے کو تہ تیغ کر کے آپ کے سراطہر کو نیزہ پر بلند کیا مگر جہاں ایک طرف فتح کے نقارے بج رہے تھے اور خوشی سے جشن منایا جارہا تھا وہیں کائنات اس ظلم پر گریہ کناں تھی اور ارباب ظلم پر لعنت بھیج رہی تھی. 🔻 تمام موجودات و‏مخلوقات کے اس گریہ کی طرف امام حسین علیہ السلام کی نیمہ شعبان کی زیارت میں یوں اشارہ ملتا ہے: "بابی انت و امی و نفسی یااباعبدللہ لقد اقشعرت لدمائکم اظلة العرش مع اظلة الخلائق و بکتکم السماء و الارض و سکان الجنان و البحر و الجبر." (1) 🔻 اسی طرح امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جب میرے جدبزرگوار امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تو آسمان سے خون اور سرخ مٹی کی بارش ہوئی. (2) 🔻 امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد ایک سال تک آسمان پر سرخی چھائی رہی جو اس کا گریہ تھا. (3) 🔻 اسی طرح ینابیع المودة نے بھی محمد ابن سیریں سے نقل کیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے قبل سرخی شفق کا وجود نہ تھا. (یعنی آپ کی شہادت سے یہ سرخی پیدا ہوئی)(4) 🔻 صاحب دلائل النبوة نے لکھا ہے کہ جس دن امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی اس دن اگر کوئی اونٹ پانی پینا چاہتا تھا تو دریا کا پانی خون بن جاتا تھا. 🔻 سبط ابن جوزی نے بھی لکھا ہے کہ امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہا اور آسمان بالکل سرخ دکھائی دیتا تھا. 🔻 اسی طرح زہری کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد اگر بیت المقدس میں کوئی پتھر اٹھایا جاتا تھا تو اس کے نیچے سے تازہ خون ابلنے لگتا تھا. (5) 🔻 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ روز عاشورا چار ہزار فرشتوں نے آسمان سے نازل ہوکر امام حسین علیہ السلام کے رکاب میں جنگ کرنی چاہی مگر آپ نے اجازت نہیں دی پھر جب وہ سب دوبارہ خدا سے اجازت لینے کے لئے گئے اور واپس آئے تو امام علیہ السلام کی شہادت واقع ہوچکی تھی یہ فرشتے اس وقت سے کربلا میں گریہ کررہے ہیں. (6) 🔻 اسی طرح متعدد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جناب نے بھی آنحضرت کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا ہے. جناب ام سلمہ کا بیان ہے کہ جب امام حسین (ع) کی شہادت واقع ہوئی تو جن و عورت نے آنحضرت پر ماتم کیا اور نوحہ پڑھا. (7) 🔻 اسی سلسلے میں امام زمان علیہ السلام اپنے جد مظلوم کی زیارت میں فرماتے ہیں: " و اقیمت لک الماتم فی اعلی علیین و لطمت علیک الحورالعین و بکت السماء و سکانھا و الجنان و خزانھا و الھضاب و اقطارھا والبحار وحیتانھا و الجنان و ولدانھا و البیت و المقام و المشعر الحرام ولحل الاحرام." (8) ترجمہ: یعنی اعلی علیین میں آپ کے لئے عزاداری ہوئی اور حورعین نے اپنی صورت پر طمانچے مارے، آسمان اور اسکے ساکنین، جنت اور اس کے محافظین، پہاڑ اور اس کی ترائی، سمندر اور اس کی مچھلیوں، باغ بہشت اور اس کے غلمان، خانہ کعبہ، مقام ابراہیم، مشعر الحرام، حرم بیت اللہ اور اسکے اطراف سب نے آپ پر گریہ کیا. 🔻 اسی طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ جہنم نے بھی آپ کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا نیز آپ کے قاتلوں پر لعنت بھیجی. (9) 🔻 یہی نہیں بلکہ سانحہ کربلا کے بعد چرند و پرند نے بھی امام علیہ السلام کی شہادت پر نوحہ وبکا کیا ہے. روایت میں ملتا ہے کہ کبوتر نے روز عاشورہ گریہ کیا اور اس وقت سے لیکر آج تک آنحضرت کے قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہے. (10) 🔻 اسی طرح ایک روایت میں ملتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گھر وں میں کبوتر پالو کیونکہ وہ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہے. (11)

🔴 تمام ارض و سماء کا گریہ و ماتم 🔴 عام طور پر مظلوم کی عزاداری کا دائرہ خاندان اور اعزاء ہی کے درمیان محدود رہتا ہے اور ورثاء بھی سوگواری کو ایک رسم کے طور پر انجام دیکر دوبارہ اپنے کام و زندگی میں لگ جاتے ہیں. مگر اس کے برخلاف سر زمین کربلا پر کچھ اس طرح سے مظالم ڈھائے گئے کہ نہ صرف پوری انسانیت نے ماتم کیا بلکہ تمام عالم امکان نے ان مصائب و آلام پر خون کے آنسو بہائے اور اپنے اپنے انداز میں ماتم کرکے بارگاہ اہلبیتؑ میں تعزیت پیش کی. 🔻 امام زمانہ علیہ السلام فرماتے ہیں: " وعزاہ بک الملائکہ و الانبیاء و اختلفت جنود الملائکة المقربین تعزی اباک امیر المومنین." ترجمہ: آپ کی شہادت پر ملائکہؑ اور انبیاءؑ نے پیغمبر اسلامؐ کو تعزیت پیش کی اور مقرب فرشتوں کے لشکر نے آ کر امیرالمؤمنین علیؑ کی خدمت میں تسلیت عرض کی. 10 محرم الحرام سنہ 61 ھ آل محمد علیہم السلام کے لئے نہایت المناک تاریخ ہے کیونکہ اسی دن نازش کونین شاہ مشرقین امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب اور اعزاء کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد جب خود کو بھی شہادت کے لئے پیش کردیا تو دشمن یہ سمجھا کہ آپ کے سروگردن کی جدائی ہی میں اس کی فتح و ظفر پوشیدہ ہے لہذا آنحضرت کے سوکھے گلے کو تہ تیغ کر کے آپ کے سراطہر کو نیزہ پر بلند کیا مگر جہاں ایک طرف فتح کے نقارے بج رہے تھے اور خوشی سے جشن منایا جارہا تھا وہیں کائنات اس ظلم پر گریہ کناں تھی اور ارباب ظلم پر لعنت بھیج رہی تھی. 🔻 تمام موجودات و‏مخلوقات کے اس گریہ کی طرف امام حسین علیہ السلام کی نیمہ شعبان کی زیارت میں یوں اشارہ ملتا ہے: "بابی انت و امی و نفسی یااباعبدللہ لقد اقشعرت لدمائکم اظلة العرش مع اظلة الخلائق و بکتکم السماء و الارض و سکان الجنان و البحر و الجبر."(1) 🔻 اسی طرح امام رضاؑ نے فرمایا: جب میرے جدبزرگوار امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تو آسمان سے خون اور سرخ مٹی کی بارش ہوئی.(2) 🔻 امام صادقؑ نے فرمایا: امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد ایک سال تک آسمان پر سرخی چھائی رہی جو اس کا گریہ تھا.(3) 🔻 اسی طرح ینابیع المودة نے بھی محمد ابن سیریں سے نقل کیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے قبل سرخی شفق کا وجود نہ تھا. (یعنی آپ کی شہادت سے یہ سرخی پیدا ہوئی)(4) 🔻 صاحب دلائل النبوة نے لکھا ہے کہ جس دن امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی اس دن اگر کوئی اونٹ پانی پینا چاہتا تھا تو دریا کا پانی خون بن جاتا تھا. 🔻 سبط ابن جوزی نے بھی لکھا ہے کہ امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہا اور آسمان بالکل سرخ دکھائی دیتا تھا. 🔻 اسی طرح زہری کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد اگر بیت المقدس میں کوئی پتھر اٹھایا جاتا تھا تو اس کے نیچے سے تازہ خون ابلنے لگتا تھا.(5) 🔻 امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ روز عاشورا چار ہزار فرشتوں نے آسمان سے نازل ہوکر امام حسین علیہ السلام کے رکاب میں جنگ کرنی چاہی مگر آپ نے اجازت نہیں دی پھر جب وہ سب دوبارہ خدا سے اجازت لینے کے لئے گئے اور واپس آئے تو امام علیہ السلام کی شہادت واقع ہوچکی تھی یہ فرشتے اس وقت سے کربلا میں گریہ کررہے ہیں.(6) 🔻 اسی طرح متعدد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جناب نے بھی آنحضرت کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا ہے. جناب ام سلمہ کا بیان ہے کہ جب امام حسینؑ کی شہادت واقع ہوئی تو جن و عورت نے آنحضرت پر ماتم کیا اور نوحہ پڑھا.(7) 🔻 اسی سلسلے میں امام زمان علیہ السلام اپنے جد مظلوم کی زیارت میں فرماتے ہیں: " و اقیمت لک الماتم فی اعلی علیین و لطمت علیک الحورالعین و بکت السماء و سکانھا و الجنان و خزانھا و الھضاب و اقطارھا والبحار وحیتانھا و الجنان و ولدانھا و البیت و المقام و المشعر الحرام ولحل الاحرام."(8) ترجمہ: یعنی اعلی علیین میں آپ کے لئے عزاداری ہوئی اور حورعین نے اپنی صورت پر طمانچے مارے، آسمان اور اسکے ساکنین، جنت اور اس کے محافظین، پہاڑ اور اس کی ترائی، سمندر اور اس کی مچھلیوں، باغ بہشت اور اس کے غلمان، خانہ کعبہ، مقام ابراہیم، مشعر الحرام، حرم بیت اللہ اور اسکے اطراف سب نے آپ پر گریہ کیا. 🔻 اسی طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ جہنم نے بھی آپ کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا نیز آپ کے قاتلوں پر لعنت بھیجی.(9) 🔻 یہی نہیں بلکہ سانحہ کربلا کے بعد چرند و پرند نے بھی امامؑ کی شہادت پر نوحہ وبکا کیا ہے. روایت میں ملتا ہے کہ کبوتر نے روز عاشورہ گریہ کیا اور اس وقت سے لیکر آج تک آنحضرت کے قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہے.(10) 📚 حوالہ جات 1۔ مفاتیح الجنان، ص439۔ 2۔ مابعد کربلا، ص310۔ 3۔ کامل الزیارات، ص288۔ 4، 5۔ مابعد کربلا، ص103۔ 6، 7۔ کامل الزیارات، ص303۔ 8۔ زیارت ناحیہ، ص44۔ 9، 10۔ مابعد کربلا، ص105۔ https://t.me/islamwitheman 👈 مزید تفصیل کے لیے👇👇👇 https://www.facebook.com/100009586292189/posts/1725256557803871/ ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

آپ نے پانی پر قبضہ کیا مشک بھری اور واپس اذن خیام ہوئے. جب لشکر نے دیکھا کہ آپ بغیر تلوار کے ہیں تو آپ پر حملہ کیا اور پانی کی مشک بچاتے ہوئے آپ کا داہنا ہاتھ زیند بن ورقا کی تلوار سے قلم ہوا. بایاں ہاتھ حکیم ابن طفیل نے قلم کیا. مشکیزے پر تیر لگنے سے سارا پانی بہہ گیا اور ایک تیر آپ کی سینے پر لگا. آپ کی شہادت پر امام علیہ السلام نے فرمایا: "ہائے میری کمر ٹوٹ گئی." آپ کو کمال حسن کی وجہ سے قمر بنی ہاشم بھی کہا جاتا ہے مشہور القاب "سقہ" اور ابوقریہ ہیں. شہادت کے وقت آپ کی عمر 34 برس تھی. 🌹16= علی اکبر بن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب آپ امام علیہ السلام کے منجھلے بیٹے تھے امیرالمؤمنین علیہ السلام اور جناب خاتون جنت سلام اللہ علیھا کے پوتے تھے. آپ کی والدہ کا نام "ام لیلی" تھا. آپ صورت اور سیرت میں پیغمبر اسلام کے مشابہ تھے آپ کا نام علی ابن حسین، کنیت ابوالحسن اور لقب اکبر تھا. آپ نے میدان کربلا میں 120 دشمنوں کو قتل کیا اور منقذ ابن مرہ عبدی نے آپ کے گلوئے مبارک پر تیر مار اور ابن نمیر نے سینہ اقدس پر نیزے کا وار کیا. شہادت کے وقت آپ کی عمر 18 برس تھی. 🌹17= محمد بن ابی سعید بن عقیل. آپ جناب عقیل کے فرزند اور نہایت کم سن تھے. جناب علی اکبر کی شہادت کے بعد آپ چوب خیمہ لے کر باہر نکلے اور امام علیہ السلام کی طرف رخ کیا ابھی آپ امام علیہ السلام کے نزدیک بھی نہیں پہنچے تھے کہ نفیظ ابن یاسی نے آپ پر تلوار کی ضرب لگائی اور آپ شہید ہو گئے. 🌹18= علی اصغر ابن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام علیہ السلام کے کمسن ترین فرزند اور ۱۰ رجب سن 60 کو پیدا ہوئے آپ کی والدہ کا نام رباب بنت امراءالقیس بن عدی بن اوس تھا. یوم عاشور کو جب امام علیہ السلام نے آواز استغاثہ بلند کی تو آپ نے خود کو جھولے سے گرا دیا. امام علیہ السلام جب بے شیر شہزادے کو لے کر میدان میں گئے تو لشکر میں ہلچل مچ گئی اور لشکر بے قابو ہونے لگا اور ابن سعد نے حرملہ کو حکم دیا کہ تیر سہہ شعبہ استعمال کرو. اس لعین نے گلوئے صغیر کو تاکا اور تیر کمان سے چھوڑ دیا تیر کا لگنا تھا کہ شش ماہہ امام علیہ السلام کے ہاتھوں پر منقلب ہو گئے. امام علیہ السلام نے خون علی اصغر علیہ السلام آسمان کی طرف پھر زمین کی طرف پھینکنا چاہا مگر دونوں نے اس خون ناحق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا بالآخر آپ علیہ السلام نے اس لہو کو اپنے چہرہ مبارک پر مل لیا، اور فرمایا کہ "اسی حالت میں اپنے نانا کی بارگاہ میں جاؤں گا." ↩انکار آسمان کو ہے راضی زمیں نہیں. اصغر تمہارے خون کا ٹھکانا کہیں نہیں. 🔴 شہادت خامس آل عبا 🔴 جب امام حسین علیہ السلام کا کوئی معین اور مددگار باقی نہ رہا تو آپ خود میدان کارزار میں آئے آپ علیہ السلام کے جسم مبارک پر 1951 زخم آئےاور آپ زمین پر اس طرح تشریف لائے کے آپ علیہ السلام نہ تو زین پر تھے اور نہ زمین پر، نماز عصر کا وقت آ چکا تھا، آپ سجدہ خالق میں گئے تو شمر ملعون نے کند خنجر سے آپ کا سر مبارک جدا کر دیا. ↕↕یہ واقعہ (عظیم قربانیاں) 10 محرم سن 61 ہجری بمطابق 31 مئی 680 عیسوی بروز جمعہ اس دنیا میں وقوع ہوا. اور دین اسلام کی لازوال تاریخ رقم کر گیا. ↩مجاہد فی سبیل اللہ ایسے کم نظر آئے..... قیامت ہو جنہیں اک اک گھڑی شوق شہادت میں. حوالہ کتب: ریاض الشہادة، سیرآلائمہ، ناسخ التواریخ، زیارت ناحیہ، ابصارالعین، جلاءالعیون، اسرار شہادت، قمقام، دمعہ ساکبہ، روضةالشہداء، نورالعین، مقاتل الطالبین، مجالس مفجعہ، ذکرالعباس، چودہ ستارے. 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

↕اٹھارہ شہدائے بنی ہاشم علیہم السلام↕ کارزار کربلا میں امام علیہ السلام کے اصحاب باصفا اور موالیان باوفا کی شہادت کے بعد امام علیہ السلام کے اعزاء و اقرباء، برادران، اور اولاد نے راہ اسلام میں عظیم اور لازوال قربانیاں دیں اور اسلام کو سدا بہار بنا دیا. ↩اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے ایک ضرب ید اللہ ایک سجدہ شبیری.......... 🌹1= عبداللہ ابن مسلم. آپ حضرت مسلم علیہ السلام کے فرزند اور امام علیہ السلام کے بھانجے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نواسے تھے. آپ کی والدہ ماجدہ رقیہ بنت علی علیہ السلام اور نانی کا نام صہبا بنت عباد. آپ کی والدہ قبیلہ بنی ثعلبتہ کی فرد اور کنیت ام حبیبہ تھی. آپ اٹھارہ بنی ہاشم کے سب سے پہلے شہید ہیں آپ نے 90 دشمنوں کو واصل نار کیا اور دوران جنگ عمر ابن صبیح صیدادی نے آپ کی پیشانی پر تیر مارا جس کو روکتے ہوئے وہ آپ کا ہاتھ پیشانی میں پیوست ہو گیا. اس نے دوسرا تیر آپ کے سینے پر مارا جس سے آپ نے شہادت پائی. 🌹2= محمد ابن مسلم. آپ بھائی کو زخمی دیکھ کر امام علیہ السلام سے اذن شہادت لے کر میدان میں گئے اور گهمسان کی جنگ کی آپ کو ابوجرہم ازدی اور لقیط ابن ایاش جہمی نے شہید کیا. 🌹3= جعفر ابن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند اور آپ کی والدہ "حوصا" بنت عمرہ بن عام بن حسان بن کعب بن عبد بن ابی بکر ابن کلاب عامری اور آپ کی نانی ریطہ بنت عبداللہ بن ابی بکر تھیں. میدان جنگ میں 15 دشمنوں کو قتل کر کے بشر ابن خوط کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹4= عبد الرحمان بن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند، اورمیدان کربلا میں 17 دشمنوں کو قتل کر کے عثمان بن خالد ابن اثیم اور بشر بن خوط کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹5= عبداللہ ابن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند، اور میدان کربلا میں بہت سے دشمنوں کو قتل کر کے عثمان بن خالد کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹6= موسی ابن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند، اور میدان کربلا میں 70 دشمنوں کو قتل کر کے سرور کائنات کی بارگاہ میں پہنچے. 🌹7= عون بن عبداللہ بن جعفر طیار. آپ جناب عبداللہ کے فرزند، اور حضرت جعفر طیار کے پوتے تھے. امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نواسے، آپ کی والدہ زینب کبری سلام اللہ علیھا اور نانی جناب خاتون جنت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں. جناب عبداللہ ابن جعفر علالت کی وجہ سے اپنے بیٹوں کو امام علیہ السلام کی بارگاہ میں دے دیا تھا اور امام علیہ السلام پر جانثاری کی ہدایت کر کے چلے گئے تھے. جناب عون کے رجز کے اشعار نے اشقیا کے دل دہلا دیئے تھے. آپ نے 30 سوار، 18 پیادے قتل کئے اور عبدابن قطنہ نبھانی کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹8= محمد ابن عبداللہ بن جعفر طیار. آپ جناب عون کے بھائی، اور 10 دشمنوں کا قتل کرنے کے بعد عامر بن نہشل کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹9= عبداللہ الاکبر عرف عمرو بن الحسن ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام حسن علیہ السلام کے بڑے بیٹے اور آپ کی کنیت ابوبکر تھی. آپ کی والدہ گرامی کا نام جناب "رملہ" اور کچھ روایات کے مطابق "نفیلہ" تھا. میدان کربلا میں 80 آدمیوں کو قتل کرنے کے بعد عبداللہ بن عقبی غنوی کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹10= قاسم بن حسن ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام حسن علیہ السلام اور جناب رملہ کے فرزند تھے آپ نہایت جری تھے ارزق شامی جیسے نامی گرامی پہلوان کو میدان کربلا میں قتل کیا. اور جب دشمنوں سے زیر نہ ہوئے تو سب نے اچانک چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا اور عمیر بن نفیل ازدی کے وار سے گھائل ہوئے. گھوڑے سے گرنے کے بعد زندہ ہی پامال سم اسپاں ہو گئے. 🌹11= عبداللہ ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام حسن علیہ السلام کے فرزند اور والدہ بنت شلیل بن عبداللہ بجلی تھیں آپ کے نانا صحابی رسول تھے، کربلا میں سن بلوغ تک نہ پہنچے تھے، مگر شجاعت بے مثال کے مالک تھے. 14 دشمنوں کو قتل کر کے بدست ہانی ابن شیت خضرمی شہید ہوئے. 🌹12= عبداللہ بن علی ابن ابی طالب. آپ علمدار کربلا کے حقیقی بھائی اور فرزند جناب ام البنین اور امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے. کربلا میں ہانی بن ثبیث حضرمی کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹13= عثمان بن علی ابن ابی طالب. آپ بھی علمدار کربلا کے بھائی تھے آپ کی عمر 23 برس تھی اور میدان کربلا میں خولی شقی کے تیر سے گھائل ہو کر زخمی ہوئے اور قبیلہ ابان بن وارم کے ایک شخص کی تلوار سے شہید ہوئے. 🌹14= جعفر بن علی ابن ابی طالب. آپ کی عمر 21 برس اور میدان کربلا میں ہانی ابن ثبیث کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹15= علمدار کربلا عباس بن علی ابن ابی طالب. ان بہادران بنی ہاشم کی شہادت کے بعد علمدار کربلا نے اذن شہادت طلب کیا مگر امام علیہ السلام نے اذن جنگ نہ دیا اور فرمایا کہ اطفال کے لیے پانی کا بندوبست کرو آپ مشکیزہ اور علم لے کے میدان میں گئے، جنگ کی اجازت نہ ملنےکے باوجود آپ کی ہیبت سے لشکر میں ہلچل مچ گئی تھی.

روایت ہے کہ مقام زرو پر امام نے آپ کی آمد کا انتظار کیا. اور میسرہ کی کمان آپ کے سپرد کی. یوم عاشور آپ نے 62 دشمن واصل نار کئے اور بدیل ابن حریم عفقائی کی تلوار کی ضرب سے گھائل ہوئے اور حصین بن نمیر کی تلوار جو آپ کے سر مبارک پر لگی شہید ہوئے. روایت ہے کہ آپ کا قاتل ابن زیاد سے 100 درہم کا انعام لے کے اور آپ کا سر مباک گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر مکہ پہنچا جہان حبیب کے ایک فرزند نے اس کو قتل کر کے آپ کا سر مبارک مقام معلی میں جو اب "راس الحبیب" کے نام سے مشہور ہے دفن کر دیا. 🌺57= ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی. آپ نماز ظہر کے لئے عین ہنگامہ کارزار میں امام علیہ السلام جب امامت فرما رہے تھے، امام علیہ السلام کی حاظت کرتے ہوئے کمال دلیری سے شمشیرزنی کی اور اپنے چچازاد بھائی قیس ابن عبداللہ انصاری کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌺58= انیس بن معقل الاصبحی. آپ آل محمد علیہم السلام کے جانثاروں میں سے تھے. یوم عاشور ظہر کی نماز سے کچھ پہلے 10 دشمنوں کو قتل کرنے کے بعد شہید ہوئے. 🌺59= جابر ابن عروۃ الغفاری. آپ صحابی رسول تھے اور کافی غزوات میں شریک ہوئے. آپ نہایت ضعیف تھے. جنگ پر جانے سے قبل آپ نے عمامہ سے اپنی کمر اور ایک کپڑے سے اپنی پلکوں کو اٹھا کر باندھ لیا تھا. غضب کا معرکہ لڑا اور 60 افراد کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺60= سالم مولی عامرالعبدی. آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے اور کربلا میں شہید ہوئے. 🌺61= جنادہ ابن کعب الخزرجی. آپ قبیلہ خزرج کی یادگار تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے. 18 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺62= عمر بن جنادۃ النصاری. آپ جنادہ ابن کعب کے فرزند تھے باپ کی شہادت کے بعد والدہ نے آپ کو تیار کر کے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کیا امام نے کہا: "ابھی تمہارا باپ شہید ہوا ہے میں تم کو اجازت نہیں دے سکتا." تو آپ کی والدہ نے امام علیہ السلام کی قدم بوسی کی اور اجازت طلب کی. امام علیہ السلام سے اجازت لے کر میدان میں گئے اور شہید ہوئے. روایت ہے کہ قاتل نے سر کاٹ کر خیام کی طرف پھینکا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان میں پھینک دیا جو قاتل کے سینے پر لگا اور وہ وہیں واصل جہنم ہو گیا. 🌺63= جنادہ بن الحرث السلمانی. آپ کوفہ کے رہائشی تھے اور امام علیہ السلام سے راستے میں ملاقات کر کے شامل ہوئے. کربلا میں میدان جنگ میں ظہر سے قبل شہید ہوئے. 🌺64= عابس ابن شبیب الشاکری. آپ قبیلہ بنوشاکر کی یادگار تھے اور یہ وہی قبیلہ ہے جس کی بابت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جنگ صفین میں فرمایا تھا: "اگر بنوشاکر کے 1000 افراد موجود ہوں تو دنیا میں اسلام کے علاہ کوئی اور مذہب نہ ہو." یوم عاشور پر جب میدان میں آ کر مبازر طلب کیا تو کوئی بھی سامنے نہیں آیا بالآخر آپ پر اجتماعی پتھراؤ کیا گیا اور سب نے مل کر حملہ کیا جس سے آپ شہید ہوئے. 🌺65= شوذب ابن عبداللہ الہمدانی. آپ عابس الشاکری کے غلام تھے اور بلا کے جری تھے. آپ بھی اپنے مالک کے ہمراہ میدان کربلا میں شہید ہوئے. 🌺66= عبدالرحمان بن عروۃ الغفاری. آپ کوفہ کے رہائشی تھے اور میدان کربلا میں امام علیہ السلام کے نصرت اور تائید میں شہید ہوئے. 🌺67= حرث ابن امرو القیس الکندی. آپ صبح عاشور لشکر ابن سعد سے نکل کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوئے اور جام شہادت نوش کیا. 🌺68= یزید ابن زیاد الہدلی. آپ کی کنیت ابوالشعشا تھی. آپ اپنی قوم کے سردار اور فنون جنگ میں طاق تھے. آپ میدان کربلا میں بے جگری سے لڑے تو دشمنوں نے آپ کے گھوڑے کے پیر کاٹ دیئے اس وقت آپ کے ترکش میں 100 تیر تھے آپ نے ہر تیر سے ایک فرد کو واصل نار کیا. تیر ختم ہونے کے بعد تلواربازی کی اور نیزہ لگنے سے گھائل ہوئے. اور درجہ شہادت حاصل کیا. 🌺69= ابو عمرہ النہثلی. آپ میدان کربلا کی انفرادی جنگ میں شہید ہوئے آپ کا قاتل عامر بن نہشل تھا. 🌺70= جندب بن حجیر الخولانی الکندی. آپ انصار امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے اور کوفہ سے نکل کر لشکر حر کی آمد سے پیشتر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے. یوم عاشورہ کو حمایت فرزند رسول علیہ السلام میں جنت کے حقدار ہوئے. 🌺71= سلامن بن مضارب الانماری. آپ زہیر ابن قین کے چچا زاد بھائی تھے. مکہ سے امام علیہ السلام کے ہمرکاب ہوئے اور یوم عاشور بعد نماز ظہر شہادت سے سرفراز ہوئے. 🌺72= مالک ابن عبداللہ الجابری. آپ یوم عاشورہ سے چند یوم پہلے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے. آپ کی شہادت پر امام نے وہ ایک جملہ کہا جو تاریخ میں محفوظ ہے: "اے میرے وفادار بہادروں! تم میرے نانا کی خدمت میں چلو میں تمہارے پیچھے آ رہا ہوں."

🌺42= عبد الرحمن بن عبد المزنی. آپ نہایت سعید اور محب آل محمد تھے یوم عاشور اذن جنگ حاصل کر کے میدان میں آئے اور بے جگری سے لڑ کر شہید ہوئے. 🌺43= نافع بن ہلال الجملی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں شامل تھے جمل، نہروان اور صفین میں شر کت کی. کربلا میں سعی آب کی کوششوں میں علمدارکربلا کے ساتھ شریک ہوئے. 12 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺44= عمر ابن قزظتہ الانصاری. آپ مدینہ سے آ کر کوفہ میں مقیم ہو گئے تھے، اصحاب امیرالمؤمنین میں شامل تھے. میدان کربلا میں امام علیہ السلام کے پیغامات عمر بن سعد تک پہنچایا کرتے تھے. آپ نے بہت بے جگری سے جنگ لڑی اور بالآخر شہید ہو کر راہ حق میں کامیاب ہوئے. 🌺45= جون بن حوی غلام الغفاری. آپ جناب ابوذر غفاری کے غلام تھے. جون پہلے امام حسن علیہ السلام کی خدمت کرتے تھے اور اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کے خدمت میں مصروف ہو گئے. آپ امام علیہ السلام کے ہمراہ مکہ سے مدینہ اور کربلا آئے، عاشورہ کے دن آپ پہلے فرد ہیں جن کو امام علیہ السلام نے کئی بار اذن شہادت طلب کرنے کے باوجود منع فرمایا اور کہا: "جون مجھے پسند نہیں کہ میں تم کو قتل ہوتا دیکھوں." پھر جون کا وہ جملہ جو تاریخ میں مرقوم ہے: " مولا میرا پسینہ بدبودار، حسب خراب اور رنگ کالا ہی سہی لیکن عزم شہادت میں کوئی خامی نہیں ہے. مولا براہ خدا اجازت عطا کریں تا کہ سرخ رو ہو سکوں." اذن ملنے کے بعد جب آپ شہید ہو گئے تو امام علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ: "پروردگار ان کے پسینے کو مشکبار رنگ کو سفید اور حسب کو آل محمد کے انتساب سے ممتاز کر دے." روایت ہے کہ دعا ختم ہوتے ہی جون مثل گلاب اور پسینہ انتہائی معطر ہو گیا تھا. 🌺46= عمر ابن خال الصیدادی. آپ کوفہ سے نکل کر مقام عذیب پر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوم عاشورہ کو عروس شہادت سے ہم کنار ہوئے. 🌺47= حنظلہ ابن اسعد الشبامی. آپ امام علیہ السلام کے پاس کربلا میں پہنچے تھے اور بہت جواں مردی کے ساتھ جنگ کر کے شہید ہوئے. 🌺48= سوید ابن عمارالاتماری. آپ بڑے شجاع اور آزمودہ کارزار تھے آپ کو میدان کربلا میں عروہ بن بکار اور یزید بن ورقا نے شہید کیا. 🌺49= یحیی بن سلیم امازنی. آپ شب عاشور بریر ہمدانی کے ساتھ پانی کے لئے کی جانے والی کوشش میں شریک تھے. اور یوم عاشور کو امام علیہ السلام کے انصاروں کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہوئے. 🌺50= قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری. آپ نہایت شریف اور جانباز تھے. یوم عاشور امام علیہ السلام سے اجازت حاصل کرنے کے بعد دشمن پر اتنی بے جگری سے حملے کئے کہ دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے. آپ رجز پڑھتے اور حملے کرتے یہاں تک کے شہید ہو گئے. 🌺51= مالک ان انس المالکی. آپ کا نام انس بن حرژ بن کاہل بن عمر بن صعب بن اسد بن حزیمہ اسدی کاہلی تھا. آپ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے صحابی اور راوی حدیث بھی ہیں. آپ کوفہ سے نکل کے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں کربلا میں حاضر ہوئے. آپ نہایت کبیرالسن تھے. اور یوم عاشور ظہر کی نماز سے کچھ پہلے شہید ہوئے. 🌺52= زیاد ابن غریب الصائدی. آپ کی کنیت ابو عمرۃ تھی. آپ بنی ہمدان کی شاخ بنی حائد کے چراغ تھے. امام علیہ السلام سے کربلا میں ملاقات کی اور درجہ شہادت حاصل کیا. آپ کا قاتل عامر بن نہشل تھا. 🌺53= عمر بن مطاع الجعفی. امام علیہ السلام سے کربلا میں ملاقات کی اور درجہ شہادت حاصل کیا. 🌺54= حجاج ابن مسروق المدحجی. آپ کا شمار انصار امیرالمؤمنین علیہ السلام میں ہوتا تھا. امام علیہ السلام کی مکہ سے روانگی کا سن کر آپ بھی کوفہ سے عازم سفر ہوئے اور منزل قصر بنی مقاتل میں شرف ملاقات حاصل کیا اور 15 دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد واپس امام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے واپسی پر آپ کا غلام "مبارک" بھی ہمراہ ہو گیا دونوں نے کمال کی جنگ کی اور 150 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺55= زہیر ابن قین بجلی. آپ کوفہ کے رہائشی تھے پہلے عثمانی بعد میں حسینی علوی ہو گئے. حج سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپسی پر امام علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور امام علیہ السلام کے ہمراہ ہو گئے. امام کے لشکر میں شامل ہونے کے بعد اپنی زوجہ کو طلاق دے کے واپس بھیج دیا اور خود شیہد ہو گئے. روایت ہے کہ شب عاشور جب ایک رات کی مہلت لینے کے لیے علمدار کربلا گئے تهے تو آپ بھی ان کے ہمراہ گئے تھے. مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کے میمنہ کی سربراہی بھی جناب کو ہی عطا کی گئی تھی. آپ نے 120 افراد کو قتل کر کے جام شہادت نوش کیا. 🌺56= حبیب ابن مظاہر الاسدی. آپ صحابی رسول صلی علیہ وآلہ وسلم تھے اور امام علیہ السلام کے بچپن کے دوست تھے. آپ کاایک اعزاز یہ بھی ہے کہ آپ نے 3 اماموں علیہم السلام کی صحبت کا شرف حاصل کیا.

🌺31= بشر بن عمر الکندی. آپ حضر موت کے رہنے والے تھے اور قبیلہ کندہ کے فرد تھے آپ بھی جنگ اولین میں شہید ہوئے. 🌺32= عبداللہ بن عروہ الغفاری. آپ کربلا میں امام علیہ السلام سے آ کر ملے اور جنگ ملغوبہ میں شہادت پائی. 🌺33= بریر ابن خضیر الہمدانی. آپ قبیلہ بنو ہمدان کی شاخ بنو مشرق کی عظیم شخصیت تھے. انصار امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے اور مکہ سے امام علیہ السلام کے ہم رکاب ہوئے. شب عاشور پانی کی جدوجہد میں جو کارنامہ کیا ہے وہ تاریخ میں سونے کے حروف سے رقم ہے. آپ کا شب عاشور پانی لانا وہ واقعہ تاریخ میں رقم ہے ۔مائتین صفحہ 316-323۔ یوم عاشور سب سے پہلا گریہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا وہ آپ کے جسد خاکی پر کیا تھا "ان بریر امن عباد اللہ الصالحین" ہاے بریر ہم سے جدا ہو گئے جو خدا کے بہترین بندوں میں سے ایک تھے. 🌺34= وہب ابن عبداللہ الکلبی. یہ حسینی بہادر نصرانی تھا اور کسی سفر میں اپنی بیوی اور والدہ کے ہمراہ جا رہا تھا امام علیہ السلام کے نصرت کے لئے رکا اور اسلام قبول کیا اور کتاب ذکر العباس میں تفصیل سے موجود ہے. آپ نے 24 پیادے قتل کئے اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ آپ کی لاش پر گئیں اور اسی دوران شمر کے حکم پر اس کے غلام رستم نے آپ کو بھی شہید کر دیا. بعض مؤرخین نے آپ کی زوجہ کو پہلی خاتون شہید لکھا ہے. روایت ہے کے آپ کا سر کاٹ کے خیام حسینی کی طرف پهینکا گیا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان کی طرف پهینک دیا اور فرمایا: "ہم راہ مولا میں جو چیز دے دیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے." روایت ہے کہ آپ کی والدہ نے بھی 2 دشمنوں کو واصل جہنم کیا تھا. دمعةالساکبہ، ص: 331. طوفان بکا 13. 🌺35= ادہم بن امیتہ العبدی. آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ میں سکونت اختیار کی تھی. ماریہ کے مکان پر ہونے والے تمام اجلاسوں میں شریک ہوئے. ایک دن یزید بن ثبیط نے کہا کے میں امام علیہ السلام کی امداد کے لئے مکہ جا رہا ہوں. آپ نے کہا کے میں بھی ساتھ چلوں گا. آپ مکہ پہنچے اور یوم عاشور اپنی جان عزیز امام علیہ السلام پر قربان کر کے امر ہو گئے. 🌺36= امیہ بن سعد الطائی. آپ کوفے میں رہتے تھے جب آپ کو علم ہوا کے امام حسین علیہ السلام کربلا پہنچ گئے ہیں تو آپ فی الفور کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو گئےاور یوم عاشور کمال جذبہ قربانی کے پیش نظر امام علیہ السلام اور اسلام پر قربان ہو گئے. 🌺37= سعد ابن حنظلہ التمیمی. آپ کے بیشتر حالات تاریخ میں موجود نہیں ہیں مگر ایک جملہ موجود ہے کہ آپ نہایت بے جگری سے لڑے اور بہت سے دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتار کر میدان کارزار میں جام شہادت نوش کیا. 🌺38= عمیر ابن عبداللہ المدحجی. جناب سعد ابن حنظلہ کی شہادت کے بعد آپ میدان میں آئے اور کمال بے جگری سے لڑے، بالاخر مسلم صبانی اور عبداللہ بجلی نے آپ کو شہید کیا. 🌺39= مسلم بن عوسجہ الاسدی. آپ کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے. 24 ہجری میں فتح آذربائیجان میں حذیفہ یمان کے ہمراہ جو کارنامے انجام دیئے وہ تاریخ میں موجود ہیں. نو محرم کی شام میں امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں امام علیہ السلام نے جب انصار اور احباب سے واپس جانے کو کہا تھا تو اعزاء کی طرف سے حضرت عباس علمدار علیہ السلام اور انصار کی طرف سے جناب مسلم بن عوسجہ نے کہا تھا: " کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا ہم اگر ساری عمر مارے جائیں اور جلا بھی دیئے جائیں تب بھی آپ کی معرفت اور ساتھ نہیں چھوڑیں گے. آپ علیہ السلام کی خدمت میں شہادت، شہادت عظیم ہے." شب عاشور جب خندق کے گرد آگ جلانے پر لشکر کفار سے لڑائی ہوئی تھی تو آپ نے ہی اسکا منہ توڑ جواب دیا تھا. جب آپ مسلم بن عبداللہ اور عبداللہ بن خشکارہ بلخی کے ہاتھوں شہید ہوئے تو شبت ابن ربعی اگرچہ دشمن تھا بولا "افسوس تم ایسے شخص کے مرنے پر خوشی کر رہے ہو جس کے اسلام پر احسانات ہیں جس نے جنگ آذربائیجان میں مشرکوں کی کمر توڑ دی تھی." آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند میدان میں آئے اور 30 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺40= ہلال ابن نافع البجلی. آپ کی پرورش امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کی تھی. تیر اندازی میں ثانی نہیں رکھتے تھے. اور عادت تھی کی تیروں پر اپنا نام کندہ کر کے استعمال کرتے تھے. شب عاشور امام علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور موقعہ جنگ کا معائنہ کیا. ترکش میں موجود 80 تیروں سے 75 دشمنوں کو قتل کیا اور اسکے بعد تلوار سے 13 کو واصل جہنم کیا. اور پھر کفار کی طرف سے اجتماعی حملے میں شہید ہوئے. 🌺41= سعید بن عبداللہ الحنفی. آپ کوفے کی نامی گرامی اشخاص میں تھے. اور میدان کربلا میں بوقت نماز ظہر جب دوران جماعت دشمنوں نے تیر اندازی شروع کی تو آپ امام علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ایک بھی تیر امام کی طرف آنے نہ دیا تا آنکہ شہید ہو گئے.

🌺16= عمرو بن عبداللہ الجندعی. جندع قبائل ہمدان کی ایک شاخ کا نام تھا آپ کربلا میں شامل لشکر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. علامہ مجلسی، فاضل اربلی اور سپہر کاشانی نے اپنی کتابوں میں جنگ ملغوبہ کے بجائے میدان کارزار میں شہادت بیان کی ہے. زیارت ناحیہ میں درد آگین الفاظ کے ساتھ آپ پر سلام کیا گیا ہے. 🌺17= حلاس بن عمر الراسبی. آپ کوفہ کے رہائشی اور قبیلہ ازو کی شاخ راسب کی یادگار تھے اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام میں شمار ہوتے تھے. کوفہ سے عمر سعد کے لشکر کے ہمراہ آئے تھے اور جب آپ کو یقین ہو گیا کے صلح نہ ہو سکے گی تو شب عاشور امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺18= نعمان بن عمر الراسبی. آپ بھی قبیلہ ازو کے چشم و چراغ تھے آپ حلاس ازدی کے سگے بھائی تھے لشکر ابن سعد سے بغاوت کر کے شب عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر حیات ابدی کے مالک بن گئے. 🌺19= سوار ابن ابی عمیر الہمدانی. آپ ھمدان کے رہنے والے تھے اور محرم کے مہینے میں امام علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے. اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺20= عمار ابن سلامتہ الدالانی. آپ قبائل ہمدان کی ایک شاخ بنی دالان کے ایک معزز فرد تھے اورآپ کو صحابی رسول صلی علیہ و آلہ وسلم اور صحابی امیرالمؤمنین علیہ السلام ہونے کا شرف حاصل ہے. جنگ جمل، صفین و نہروان میں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ رہے. آپ بھی جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺21= زاہر بن عمر الکندی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ایک صحابی عمرو بن الحمق کے ہر وقت ہمراہ رہتے تھے آپ نہایت زبردست پہلوان مشہور تھے اور عرب کے لوگ آپ سے متاثر تھے آپ حج کے لیے مکہ پہنچے اور پھر امام علیہ السلام کے ہمراہ ہو گئے. آپ مکہ سے کربلا امام علیہ السلام کے ہمراہ آئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. آپ کے پوتوں میں محمد بن سنان امام رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے روایوں میں شامل ہیں محمد ابن سنان کی وفات 220 ہجری میں ہوئی. 🌺22= جبلہ ابن علی الشیبانی. آپ جناب مسلم علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہو گئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺23= مسعود بن حجاج التیمی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک تھے. آپ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ کربلا پہنچے اور پھر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر حیات ابدی کے مالک بن گئے. علماء نے لکھا ہے کہ آپ کے ہمراہ اپ کے فرزند عبدالحمن ابن مسعود بھی شہید ہوئے تھے. 🌺24= حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی. آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور آپ کا تعلق بنی سعد سے تھا آپ رئیس بصرہ مسعود بن عمر کا خط لے کر امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پھر واپس نہیں گئے. اور یوم عاشور جنگ ملغوبہ میں امام علیہ السلام پر قربان ہو گئے. 🌺25= عبداللہ ابن بشر الخثعمی. آپ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ کوفہ سے کربلا آئے تھے اور صبح عاشور، امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر شہداء میں شامل ہوئے. 🌺26= عمار ابن حسان الطائی. آپ امام عالی مقام علیہ السلام کے ساتھ مکہ سے کربلا آئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺27= عبداللہ ابن عمیر الکلبی. آپ قبیلہ علیم کے چراغ تھے آپ پہلوانی میں بہت ماہر تھے اور کوفہ کے محلہ ہمدان کے قریب چاہ جعد میں رہتے تھے. کوفہ سے اپنی زوجہ کے ہمراہ نکل کر امام کے لشکر میں شامل ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. آپ کی زوجہ ام وہب جب آپ کی لاش پر پہنچی تو شمر کے ایک غلام رستم نے اس مومنہ کے سر پر گرز کا وار کر کے ان کو بھی شہید کر دیا. آپ کی زوجہ کو کربلا کی پہلی خاتون شہید کہا جاتا ہے. 🌺28= مسلم ابن کشیر الازدی. آپ امام علیہ السلام کے کربلا پہنچنے سے قبل کسی مقام پر امام علیہ السلام کے ہمراہ شامل ہو گئے تھے اور صبح عاشور شہید ہوئے. کچھ مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کے ہمراہ آپ کے ایک غلام رافع ابن عبداللہ بھی شامل تھے جو کربلا میں نماز ظہر کے بعد شہید ہوئے. 🌺29= زہیر ابن سیلم الازدی. آپ قبیلہ ازد کے نمایاں فرد تھے اور شب عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچ کر شامل لشکر ہوئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺30= عبداللہ بن یزید العبدی. آپ اپنی قوم کے سردار اور کوفے میں ماریہ کےگھر جو اجلاس ہوتا تھا اس میں شرکت کرتے تھے آپ مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے اور کربلا میں اولین جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا. کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ آپ کے بھائی عبیداللہ اور والد گرامی یزید ابن ثبیط بھی مکہ سے ہم رکاب ہوئے اور عبیداللہ نے اولین اور بعد نماز جنگ میں والد نے شہادت پائی.

🌺2= علی ابن حر الریاحی. آپ حر بن یزید الریاحی کے بیٹے تھے۔ نام علی تھا حر علیہ السلام کی شہادت کے بعد حر شہید کے قدموں سے اپنی آنکھوں کو ملایا اور امام علیہ السلام کے قدم بوس ہو کر اذن شہادت طلب کیا اور شہید ہوئے. 🌺3= نعیم بن العجلان الانصاری. آپ قبیلہ خزرج کے چشم و چراخ تھے اور آپ کے 2 بھائی نضر اور نعمان اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام میں تھے اور آپ واقعہ کربلا میں عاشور کے اولین شہداء میں شامل ہوئے. یہ وہ جنگ تھی جو صبح عاشور بوقت نماز فجر ہوئی تھی. تاریخ میں یہ جنگ، جنگ مغلوبہ کے نام سے مشہور ہے. 🌺4= عمران بن کعب الاشجعی. آپ کا پورا نام عمران بن کعب ابن حارث الاشجعی تھا. آپ نے امام عالی مقام علیہ السلام کا جس وقت سے ساتھ دیا آخر دم تک اسی پر قائم رہے آپ بھی جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺5= حنظلہ ابن عمر الشیبانی. آپ بھی امام علیہ السلام کے وفاداروں میں تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺6= قاسط بن زہیر التغلبی. جناب امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے جمل، نہروان، صفین میں جانبازی سے شریک ہوئے تھے اور بہت جری تھے. آپ کوفہ سے امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے آئے تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺7= کردوس بن زہیر التغلبی. آپ کا نام کردوس بن زہیر حرث تغلبی تھا آپ قاسط بن زہیر کے حقیقی بھائی تھے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے. روایت ہے کہ آپ بھی اپنے تیسرے بھائی مسقط بن زہیر کے ہمراہ امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے شب عاشور کربلا میں وارد ہوئے تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺8= کنانہ بن عتیق التغلبی. آپ کوفہ کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتے تھے. قرأت قرآن میں بھی شہرت رکھتے تھے. کربلا میں جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺9= عمر بن صبیقی الضبعی. آپ کا پورا نام عمر بن صبیقہ ابن قیس بن ثعلبتہ الضبعی تھا. ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ امام علیہ السلام سے مقابلے کے لیے کربلا آئے تھے. لیکن صحیح حالات سے باخبر ہونے کے بعد لشکر کو خیر باد کہہ کر امام علیہ السلام کی بارگاہ میں معافی طلب کر کے جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺10= ضرغامہ ابن مالک التغلبی. آپ کا نام اسحاق اور لقب ضرغامہ تھا. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے جانباز صحابی مالک اشتر کے بیٹے اور ابراہیم بن مالک کے بھائی تھے. کوفے میں جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کے ہاتھ پر امام علیہ السلام کی بیعت کر کے کربلا پہنچ کر یوم عاشور 500 درندوں کو واصل جہنم کر کے شہید ہوئے. 🌺11= غامر بن مسلم العبدی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے شیعہ اور بصرہ کے رہنے والے تھے آپ کا پورا نام غامر بن مسلم عبدی المطری تھا. آپ مکہ معظمہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ ہو گئے تھے اور تا دم آخر ساتھ ہی رہے آپ کے ہمراہ آپ کا غلام سالم بھی تھا، زیارت ناحیہ کی بناء پر آپ کا غلام بھی آپ کے ہمراہ ہی شہید ہوا. 🌺12= سیف ابن مالک العبدی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے ماریہ کے مکان پر جو خفیہ اجتماع ہوا کرتا تھا آپ اس میں شامل ہوا کرتے تھے. آپ نے مکہ میں امام علیہ السلام کی معیت اختیار کی اور جنگ ملغوبہ میں یوم عاشور کو شہید ہوئے. 🌺13= عبد الرحمان الارجبی. آپ قبیلہ بنوہمدان کے شاخ بنو ارجب کے چشم و چراغ تھے آپ کا پورا نام عبد الرحمن بن عبداللہ الکذن بن ارجب بن دعام بن مالک بن معاویہ بن صعب بن رومان بن بکیر الھمدانی الارجبی تھا. آپ اس دوسرے وفد کے ایک رکن تھے جو کوفے سے خطوط لے کے مکہ گئے تھے جبکہ آپ کے ہمراہ قیس اور 50 خطوط تھے. یہ وفد 12 رمضان کو امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچا تھا. کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کے جناب مسلم علیہ السلام کے ہمراہ یہی عبد الرحمن، قیس اور عمارہ شامل تھے. عبدالرحمٰن جناب مسلم کو کوفے پہنچا کر واپس امام علیہ السلام کی خدمت میں مستقل شامل ہو گئے تھے اور عاشور کو امام علیہ السلام کے ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوئے. 🌺14= مجمع بن عبداللہ العامذی. آپ قبیلہ مذحج کے نمایاں فرد تھے. آپ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے. یہ وہی ہیں جنہوں نے امام علیہ السلام کو مقام عذیب میں کوفے کے تمام حالات سے آگاہ کیا تھا اور کوفہ جانے والے امام کے آخری قاصد قیس ابن مسہر کی گرفتاری اور انکی شہادت سے امام علیہ السلام کو آگاہ کیا تھا. آپ بھی جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. کچھ روایات نے آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند عائذ بن مجمع کی شہادت بھی کربلا میں لکھی ہے. 🌺15= حیان بن حارث السلمانی. آپ قبیلہ ازو کے چشم و چراغ تھے. مدینے سے کربلا جاتے ہوئے امام علیہ السلام کے ہمراہ ہوئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں امام علیہ السلام کی نصرت کرتے ہوئے شہید ہوئے.

🔴 شہدائے کربلا کے مختصر احوال 🔴 کربلا کے بہتر (72) شہداء علیہم السلام اور اٹھارہ (18) بنی ہاشم علیہم السلام کے اسمائے گرامی اور مختصر حالات. ↕فہرست انصار امام حسین علیہ السلام 1. حضرت حر ابن یزید الریاحی 2. علی ابن حر الریاحی 3. نعیم بن العجلان الانصاری 4.عمران بن کعب الاشجعی 5. حنظلہ ابن عمر الشیبانی 6. قاسط بن زہیر التغلبی 7. کردوس بن زہیر التغلبی 8. کنانہ بن عتیق التغلبی 9. عمر بن صبیقی الضبعی 10. ضرغامہ ابن مالک التغلبی 11. غامر بن مسلم العبدی 12. سیف ابن مالک العبدی 13. عبد الرحمان الارجبی 14. مجمع بن عبداللہ العامذی 15. حیان بن حارث السلمانی 16. عمرو بن عبداللہ الجندعی 17. حلاس بن عما الراسبی 18. نعمان بن عمرالراسبی 19. سوار ابن ابی عمیر الہمدانی 20. عمار ابن سلامتہ الدالانی 21. زاہر بن عمر الکندی 22. جبلہ ابن علی الشیبانی 23. مسعود بن حجاج التیمی 24. حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی 25. عبداللہ ابن بشر الخثعمی 26. عمار ابن حسان الطائی 27. عبداللہ ابن عمیر الکلبی 28. مسلم ابن کشیر الازدی 29. زہیر ابن سیلم الازدی 30. عبد اللہ بن یزید العبدی 31. بشر بن عمر الکندی 32. عبداللہ بن عروہ الغفاری 33. بریر ابن خضیر الہمدانی 34. وہب ابن عبداللہ الکلبی 35. ادہم بن امیتہ العبدی 36. امیہ بن سعد الطائی 37. سعد ابن حنظلہ التمیمی 38. عمیر ابن عبداللہ المد حجی 39. مسلم بن عوسجہ الاسدی 40. ہلال ابن نافع البجلی 41. سعید بن عبداللہ الحنفی 42. عبد الرحمن بن عبد المزنی 43. نافع بن ہلال الجملی 44. عمر ابن قرظتہ الانصاری 45. جون بن حوی غلام الغفاری 46. عمر ابن خالد الصیدادی 47. حنظلہ ابن اسعد الشبامی 48. سوید ابن عمار الاتماری 49. یحیی بن سلیم المازنی 50. قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری 51. مالک ان انس المالکی 52. زیاد ابن غریب الصائدی 53. عمر بن مطاع الجعفی۔ 54. حجاج ابن مسروق المدحجی 55. زہیر ابن قین ابجلی 56. حبیب ابن مظاہر الاسدی 57. ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی 58. انیس بن معقل الاصبحی 59. جابر ان عروۃ الغفاری 60. سالم مولی عامر العبدی 61. جنادہ ابن کعب الخزرجی 62. عمر بن جنادۃ الانصاری 63. جنادہ بن الحرث السلمانی 64. عابس ابن شبیب الشاکری 65. شوذب ابن عبداللہ الہمدانی 66. عبد الرحمان بن عروۃ الغفاری 67. حرث ابن امرو القیس الکندی 68. یزید ابن زیاد الہدلی 69. ابو عمرو النہثلی 70. جندب بن حجیر الخولانی الکندی 71. سلمان بن مضارب الانماری 72. مالک ابن عبداللہ الجابری ↕اٹھارہ (18) شہدائے بنی ہاشم علیہم السلام. 1. عبداللہ ابن مسلم 2. محمد ابن مسلم 3. جعفر ابن عقیل 4. عبد الرحمان بن عقیل 5. عبداللہ ابن عقیل 6. موسی ابن عقیل 7. عون بن عبداللہ بن جعفر طیار 8. محمد ابن عبداللہ بن جعفر طیار 9. عبداللہ الاکبر عرف عمرو بن الحسن ابن علی ابن ابی طالب 10. قاسم بن حسن ابن علی ابن ابی طالب 11. عبداللہ ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب 12. عبداللہ بن علی ابن ابی طالب 13. عثمان بن علی ابن ابی طالب 14. جعفر بن علی ابن ابی طالب 15. علمدار کربلا عباس بن علی ابن ابی طالب 16. علی اکبر بن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب 17. محمد بن ابی سعید بن عقیل 18. علی اصغر ابن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب 🔴 مختصر احوال زندگی و شہادت 🔴 🌺1= حضرت حر ابن یزید الریاحی آپ کا نام گرامی حر بن یزید ابن ناجیہ ابن قعنب بن عتاب بن حرمی ابن ایاح بن یربوع بن خنظلہ بن مالک بن زید مناۃ ابن تمیم الیرنوعی الریاحی تھا. آپ کا شمار کوفے کے رؤسا میں ہوتا تھا. اور واقعہ کربلا آپ کی امام علیہ السلام سے پہلی ملاقات مقام شراف پر ہوئی تھی جب حر کا لشکر پانی کی تلاش میں بے حال اور پریشان تھا. امام عالی مقام ساقی کوثر نے لشکر کو سیراب کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد حر نے نماز امام کی اقتداء میں پڑهی اور بعد نماز راستہ روکنے اور محاصرہ کرنےکا عندیہ دیا. امام نے فرمایا کہ حق پر جان دینا ہماری عبادت ہے راستے میں مقام عذیب پر طرماح ابن عدی اپنے 4 ساتھیوں سمیت امام سے آ ملے. قصر بنی مقاتل پر مالک بن نصر حکم نامہ حاکم لے کے آیا جس میں مرقوم تھا کہ جہان یہ حکم ملے امام علیہ السلام کو وہیں ٹھہرا دینا. اور اس امر کا خاص خیال رکھا جائے کے آس پاس پانی اور جزی کا انتظام نہ ہو. القصہ مختصر شب عاشور حر ساری رات پریشان اور متفکر رہے کہ جنت اور دوزخ میں سے کس کا انتخاب کریں. اور صبح عاشور امام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اذن معافی اور اذن جہاد طلب کر کے پچاس دشمنوں کو واصل جہنم کر کے ایوب ابن مشرح کے تیر سے گھائل ہو کے گھوڑے سے نیچے گرے اور قسور ابن کنانہ کے تیر سے جو آپ کے سینے پر لگا شہید ہوئے. ریاض الشہادة میں روایت ہے کہ بنی اسد نے امام حسین علیہ السلام سے ایک فرسخ کے فاصلے پر غربی جانب حر علیہ السلام کو دفن کیا اور وہیں آپ علیہ السلام کا روضہ بنا ہوا ہے.

🔷️ مصائب ذوالجناح 🔷️ امام حسین علیہ السلام کی سواری جو "ذوالجناح" کے نام سے موسوم تھی اس نے اپنے مالک کا ساتھ اس آخری وقت تک دیا جب کہ کوئی مددگار باقی نہ تھا. کسے نہیں معلوم کہ کربلا میں فرزندِ رسول کے لئے پانی کا قحط ہوگیا تھا. بھلا کون کہہ کہہ سکتا ہے کہ چھوٹے بچوں کیلئے جس میں علی اصغر۴ کا سا شیر خوار بھی ہو لب تر کرنے کے لئے پانی نہ موجود ہو تو گھوڑے پانی سے سیراب کئے جاسکتے ہوں گے؟ ہرگز نہیں. اگر بچوں کے لئے سب سے آخری قطرہ پینے کے پانی کا صرف ہوسکتا ہے تو گھوڑے اس کے قبل سے پیاسے ہوں گے. اس کے بعد صبح سے سہ پہر کے وقت تک برابر سیدالشہدا۴ کو عرب کی تیز دھوپ گرم ہوا میں خیمہ گاہ سے میدانِ جنگ تک لانا اور لے جانا. ہر عزیز کی رخصت کے وقت خیمہ کے پاس ہونا اور عزیز کی جانکنی کے وقت میدانِ جنگ میں اس کے سرہانے. یہ تمام آمدورفت گھوڑے کی پشت ہی پر ہوتی تھی. پھر حملے لڑائی اور وہ قیامت خیز لڑائی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ہے. سب سے پہلے آغازِ جنگ تیروں کی بارش ہی سے ہوا تھا. اس کے بعد ظہر سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جب تمام یزیدی فوج نے مجموعی طور تیروں کی بارش کی ہے اور ہزاروں تیروں کی باڑھیں ایک ساتھ چلی ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ اس کی سب سے بڑی زد گھوڑوں ہی پر ہوئی تھی. چنانچہ فوجِ حسینی۴ کہ زیادہ گھوڑے اس میں ختم ہوگئے اور اکثر سوار پیادہ ہوگئے. کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت ذوالجناح کو کوئی زخم نہیں آیا. وہ وقت جب ہزاروں کی فوج کے سیلاب میں ایک تنہا حسین۴ ڈوبتے تھے اور دشمنوں کو منتشر کر کے باہر آتے تھے. نیزوں کے حملے بھی تھے اور تلواریں بھی، تیر بھی تھے اور تبر بھی. اس وقت کیا حسین۴ کا گھوڑا محفوظ تھا؟ اس جنگ و جدال، اس ہنگامہ قتال میں گھوڑے کی پیاس، اس کے جگر کی سوزش اس کے احساس سے تعلق رکھتی ہے. مگر وہ یادگار ہے کہ جب فوج سے میدان صاف ہوا، فرات کا دامن بالکل خالی ہوگیا حسین۴ نہر کے قریب آئے گھوڑا اپنا نہر میں ڈالدیا اور یہ کہا یا اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ اے میرے باوفا تو بہت پیاسا ہوگا یہ پانی موجود ہے اپنی پیاس بجھالے. اس وقت کوئی نہیں. فرات کی موجیں گواہی دیں گی، ساحلِ فرات شہادت دے گا کہ گھوڑے نے اپنی گردن اٹھالی تھی، اپنا سر بلند کرلیا تھا، اپنا منھ بند کرلیا تھا، مطلب یہ تھا کہ میں ہرگز پانی نہیں پیوں گا، جب تک آپ اس پانی سے سیراب نہیں ہوں. حسین۴ نہر سے باہر نکل آئے اور گھوڑا بھی پیاسا نکلا. پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب گھوڑے کی تمام کوششِ جنگ ختم ہوچکی، جب اس کی پشت اس کے راکب سے خالی ہوگئی، جب اس کے مالک کو چاروں طرف سے خوں آشام دشمنوں کی تلواروں نے گھیر لیا. اس وقت اس کے لئے حسین۴ کی سب سے بڑی خدمت کا وقت آیا. اس وقت اس نے وہ کام انجام دیا جو اس کے لئے مخصوص ہوگیا. اس نے خود اپنے اس فرض کا احساس کیا کہ وہ بے کس و بے بس عورتوں کو جو خیموں میں اپنے والی و وارث کی خبر کی منتظر تھیں جاکر اپنے مالک کی خبر پہنچا دے. اس نے اپنی پیشانی خون میں تر کی، وہ سیدھا خیمہ حسین۴ کے دروازے پر پہنچا. اس نے ہنہنا کر اپنی آواز پہنچائی. منتظر سیدانیاں اس کی آواز کو سنتے ہی دروازہ پر آگئیں. وہ دیکھا جو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا. اس کا خالی زین، اس کی رنگین پیشانی، اس کی کٹی باگیں، اس کا زخمی جسم، اس کے جسم میں پیوست تیر وہ سب کچھ کہہ رہے تھے جس کی خبر دینے کو وہ دروازہ پر آیا تھا. یہ تھی آخری خدمت جو ذوالجناح نے انجام دی اور یہ ہے وہ یادگار واقعہ جو اس یادگار جانور کے ساتھ تعلق رکھتا ہے. یہی وہ یادگار ہے جو حسین ابنِ علی۴ کی عزاداری کے سلسلہ میں ذوالجناح کی شبیہہ نکال کر قائم کی جاتی ہے. ذوالجناح زندہ ہے جب تک حسین۴ کا نام زندہ ہے. اپنے راکب کی بدولت وہ بھی ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی یادگار ہمیشہ قائم رہیگی. https://t.me/islamwitheman 👈 مزید تفصیل جاننے کے لیے۔۔۔ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1724577821205078&id=100009586292189 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 عاشورا کے دن ابلیس کا گریہ 🔷 آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نقل کرتےہیں: 61 ہجری عاشورا کی عصر کے وقت چھوٹے شیطانوں نے دیکھا کہ آج ابلیس ان کا سردار اپنے سر اور چہرے کو پیٹ کر گریہ کر رہا ہے، ان کے شاگردوں نے جب پوچھا: اعلیٰ حضرت آج تو تمہیں خوش ہونا چاہئے، کیوں پریشان ہو اور گریہ کر رہے ہو؟ ابلیس نے کہا: میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے کہ اس جماعت کو حسین کے قتل پر اُکسایا. چھوٹے شیطانوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ ظاھری مسلمان جھنم میں جائیں؟ اور ایسا ہی تو ہوا ہے؟ ابلیس نے کہا: کیوں نہیں ایسا ہی ہوا ہے لیکن میں اس نکتہ سے غافل رہا کہ اس کام سے لوگوں کے لئے رحمت کا دروازہ کھل جائے گا۔ کیونکہ جو بھی حضرت امام حسین علیہ السلام سے متوسل ہوگا شفاعت سے فائدہ مند ہوگا۔ السلام علیک یا اباعبدالله یاباب رحمه الله الواسعه۔ 📙 مآخذ: داستانهای روح افزا، صفحه ۱۲۷۔ http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 آخری جنگ 🔴 جب امام حسین علیہ السلام بالکل تنہا رہ گئے، خیمے سے وداع کر کے نکلے تو ایسی بے پناہ شجاعت دکھائی، جو مقابل آیا اسے واصل جہنم کیا. آپ کی شجاعت کا اعتراف دشمن نے بھی کیا، فوج یزید کا وقائع نگار حمید بن مسلم کہتا ہے: "اللہ کی قسم میں نے کبھی دشمنوں کے نرغے میں گھرے ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کا سارا گھرانا اس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہوا ہو، اور پھر حسین علیہ السلام جیسا شجاع، ثابت قدم، مطمئن اور جری ہو. حالت یہ تھی کہ چاروں طرف سے پیادے ان پر حملہ کرتے تھے مگر جب حسین علیہ السلام تلوار سونت کر ان پر جوابی حملہ کرتے تو وہ اس طرح بھاگ کھڑے ہوتے جس طرح بھیڑیے کے حملے کے وقت بکریاں بھاگ جاتی ہیں. حالانکہ ان کی تعداد تیس ہزار تھی، مگر جب امام ان پر حملہ کرتے تو ان کے سامنے سے یہ لوگ ٹڈیوں کی طرح بھاگ کهڑے ہوتے." (لہوف، ص105) یہ صورتحال دیکھ کر شمر ملعون نے ایک مذموم چال چلی، وہ فوج کا ایک دستہ لے کر اہل حرم کے خیموں کی طرف غارتگری کیلئے متوجہ ہوا. امام علیہ السلام نے فوج اشقیاء کو مخاطب کر کے کہا: "اے آل ابو سفیان کے شیعوں! اگر تمہیں مذہب کا خیال اور آخرت کا خوف نہیں ہے تب بھی تم عرب ہونے کے دعویدار ہو، اپنی غیرت کا ثبوت دو. میں کہتا ہوں میں تم سے جنگ لڑ رہا ہوں اور تم مجھ سے. خواتین کا اس میں کیا قصور؟" یہ سن کر شمر ملعون ارادے سے باز آگیا. لڑتے لڑتے ایک موقع ایسا بھی آیا کہ آپ فرات تک پہنچ گئے، گھوڑے کو پانی میں داخل کیا، چاہا کہ پانی پیئں، ایک ملعون حصین بن تمیم نے آپ کے تیر مارا جو حلق میں پیوست ہوا، آپ نے ہاتھ آگے بڑھا کر چلو میں خون بھرا اور آسمان کی طرف پھینکا اور فرمایا کہ اے پروردگار میں اس جفاکار قوم کا شکوہ تیری بارگاہ میں کرتا ہوں جس نے میرا خون بہایا اور مجھے پانی پینے سے روکا. کسی نے کہا کہ آپ یہاں پانی پیتے ہیں ادھر آپ کے خیموں کو تاراج کیا جا رہا ہے، آپ فورا واپس آئے دیکھا کہ خیمے سالم ہیں. آپ دوسری مرتبہ خیمے تشریف لے گئے اور مخدرات کو صبر کی تلقین کی. دوبارہ میدان کارزار تشریف لے گئے اور ایسی شجاعت دکھائی کے کشتوں کے پشتے لگا دیے. یہ صورتحال دیکھ کر شمر نے تیر اندازوں کو تیر چلانے کا حکم دیا. آپ پر اتنے تیر چلائے گئے کہ جسم کے گوشے گوشے میں تیر پیوست ہو گیا. ایک شقی نے آپ کی پیشانی اقدس پر پتھر مارا جس کی وجہ سے چہرا لہولہان ہوا، آپ نے کرتہ کا دامن اٹھایا تاکہ خون پونچھیں، کہ اس اثناء میں ایک تین نوک والا تیر آیا اور آپ کے سینے میں پیوست ہوا. اسی اثنا میں ایک ملعون صالح بن وہب مزنی نے آپ کی پشت پر اس زور سے نیزہ مارا کہ آپ گھوڑے سے داہنے رخ پر گر گئے. آپ گرنے کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے، تھوڑا چلتے پھر گر جاتے. آپ کا یہ بار بار گرنا ضعف کی وجہ سے نہ تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپ چند قدم چلتے، کوئی شقی آپ کو نیزہ مارتا، کوئی تلوار اور آپ گر جاتے. ایک ملعون نے آپ کے دہن اقدس میں تیر مارا، ایک نے حلق میں تیر مارا، ایک نے بائیں شانے پر تلوار ایک نے دائیں شانے پر. سنان بن انس نخعی نے نیزہ مارا آپ منہ کے بل گر پڑے پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور حلق سے تیر کھینچا. اس وقت دشمنوں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا. آپ کو زمین پر گرے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن کوئی ملعون آپ کو شہید کرنے کا گناہ اپنے سر نہیں لینا چاہ رہا تھا. خولی بن یزید آگے بڑھا لیکن لرزہ براندام ہو کر واپس چلا گیا. شمر لعین خود آگے بڑھا اور گستاخانہ انداز میں آپ کے سینہ پر سوار ہوا. شمر مبروص تھا یعنی برص کی بیماری تھی. امام حسین علیہ السلام نے اس ملعون کو دیکھ کر فرمایا کہ رسول اللہ (ص) نے سچ فرمایا تھا کہ میں ایک سفید داغ والے کتے کو دیکھ رہا ہوں جو میرے اہلبیت (ع) کے خون میں منہ ڈال رہا ہے. اس لعین نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی گردن پیچھے سے کاٹ ڈالی. آپ کے باوفا گھوڑے نے آپ کے خون سے اپنی پیشانی تر کر لی، اور واپس خیمے میں پہنچا. گھوڑے کی ہنہناہٹ سن کر بیبیاں باہر نکلیں، دیکھا کہ گھوڑا خالی ہے اور زخمی ہے. یقین ہو گیا کہ امام عالی مقام (ع) شہید ہو چکے ہیں، بیبیوں نے گریہ و بکاء کیا. (امالی صدوق: ص98) انا للہ وانا الیہ راجعون وسیعلم الذین ظلمو ایّ منقلب ینقلبون. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

یہاں پہنچے تو خیمہ ہائے اہل بیت کو محفوظ پایا. یہ افواہ اس لعین نے آپ کو پانی نوش کرنے سے روکنے کی خاطر اڑائی تهی. سوگوارو! شیخ مجلسی علیہ الرحمہ لکهتے ہیں. جب آپ دوبارہ خیمہ گاہ پہنچے تو آپ نے اہل بیت کو سخت غم و کرب کی حالت میں دیکها. مسلسل جنگ کے سبب آپکے جسم مطہر پر بہت سے زخم تهے . ابهی آپ خیمے کے اندر تهے کہ ایک ملعون بولا. "اے حسین! کب تک عورتوں میں چھپے رہیں گے؟ اللہ اکبر یہ سنکر حسینی غیرت سے مزید بیٹهنا گوارا نہ ہوا اور آپ نے اہل بیت سے وداع ثانی میں انکو دوبارہ صبر کی وصیت کی. اور انہیں ان مصائب کے عوض بہترین اجر و ثواب کا یقین دلایا. اور پردوں کی حفاظت کی ہدایت کی اور ان سے فرمایا: " اب آزمایشوں کیلئے تیار ہو جاؤ اور جان لو کہ اللہ تمہارا محافظ و مددگار ہے وہ عنقریب تمہیں دشمنوں کے شر سے نجات دے گا. اور تمہاری عاقبت بخیر کرے گا. اور وہ بہت جلد تمہارے دشمنوں کو اقسام و انواع کے عذابوں میں مبتلاء کریگا اور تمہیں ان مصیبتوں کا بہترین صلہ دے گا. اور انواع و اقسام کی کرامتوں اور عزت وشرف سے مالا مال کرےگا. پس کوئی شکوہ زبان پر نہ آنے پائے اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالنا جس سے تمہاری بے قدری ہو اور جو تمہاری شان کیمطابق نہ ہو." روایت میں ہے کہ حسین دوبارہ میدان میں پہنچے. شدت پیاس سے آپ جان بلب تهے. آپ نے اتمام حجت تمام کرنے کیلئے ان ملاعین سے پانی طلب کیا. یہ سنا تو ایک لعین نے کہا کہ "اے حسین اب تم (نعوذ باللہ) حمیم (جہنمیوں کو پلایا جانیوالا گرم پانی) پیو گے." تو حسین نے جواب دیا "اے شخص! تم پر ہلاکت ہو. میں ان میں سے نہیں ہوں جو "حامیہ" (جہنمی گہاٹ جہاں سے اہل جہنم کو عذاب کے طور پر کهولتا ہوا پانی پلایا جائیگا ) پر پہنچینگے اور حمیم پئیں گے. بلکہ میں تو اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس پہنچونگا اور ان کے ساتھ انکے گهر میں رہونگا. جو اللہ کی بارگاہ میں تقرب و قربت الہی کے اعتبار سے سب سے قریب ترین و بلند مقام ہے. اور بہترین و لذیذ جنتی مشروب سے سیراب ہونگا. اور پیغمبر اکرم سے تمہارے ان مظالم کی شکایت کرونگا جو تم لوگوں نے مجھ پر کئے ہیں." ایک روایت کیمطابق ایک ظالم نے کہا: "اے حسین آپ دیکھ رہے ہیں کہ فرات کا پانی کسطرح مچهلی کے شکم کیطرح چمک رہا ہے پس آپ کبهی بهی اس سے سیراب نہ ہو سکیں گے اور پیاسے ہی قتل ہونگے." یہ سنکر حسین علیہ السلام نے کہا: "اے اللہ! اسے پیاسا ہی ہلاک کردے." راوی کہتا ہے کہ میں اس شخص کے مرتے وقت اس کے پاس تها اور وہ پیاس پیاس کہتا تها لوگ اسے پانی پلاتے تهے اور وہ العطش کہتے کہتے مرا. ابن طاؤس لہوف میں راوی ہیں کہ پهر شمر کی قیادت میں ایک گروہ نے جو دس افراد پر مشتمل تها اہل حرم کے خیموں پر حملہ کی نیت سے رخ کیا. پس یہ دیکها تو حسین نے بآواز بلند صدا دی "اے ابوسفیان کی اولاد کے پیروکارو! اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور آخرت سے نہیں ڈرتے تو کم ازکم اپنی دنیا میں آزاد بنو. اور اپنے عرب رسومات کا خیال کرو. اگر تم عرب ہو." پس شمر پکارا "اے فرزند فاطمہ! آپ کیا کہہ رہے ہیں ہمیں آپکی بات سمجھ نہیں آ رہی." تو حسین نے جواب دیا: "میں کہہ رہا ہوں کہ تمہاری دشمنی اور لڑائی مجھ سے ہے اور ان عورتوں اور بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے. پس جب تک میں زندہ ہوں تم اپنے ان ذلیل و پست لوگوں کو عورتوں پر حملہ کرنے سے روکو." یہ سنکر شمر نے چیخ کر اپنے لوگوں سے کہا "واپس آؤ بیشک حسین شریف خاندان سے تعلق رکهتے ہیں ہماری انکی عورتوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے." راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد آپ نے پانی کے حصول کی خاطر فرات کیطرف دوبارہ پیش قدمی کی کیونکہ آپ پر پیاس کا شدید غلبہ ہوگیا تها. لیکن آپ زخموں سے سخت نڈهال تهے پس ان سب نے ملکر فرات پر پہنچنے سے روکنے کیلئے آپ پر سخت حملے کئے یہاں تک کہ آپکو فرات سے دور ہٹا دیا گیا. سلام ہو اس پیاسے پر جنکے لیے سلسبیل و کوثر خلق ہوا. ولا حول ولا قوہ الا باللہ العلی العظیم. حوالہ جات: (1) نفس المہموم 322.323 (2) اللہوف 106 (3) البحار 45/50 (4) المناقب 4/ 58 (5) جلاء العیون للمجلسی -201. https://t.me/islamwitheman/7146 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 خامس آل عباء کی اہل بیت سے وداع 🔴 روایت کے مطابق علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کے بعد حسینؑ نے اہل بیت سے وداع کیا. ہر ایک بیبی کا نام لیکر ان پر سلام کیا. انہیں تسلی دی. اور صبر و توکل اختیار کرنے کی وصیت کی. اور آمدہ مشکلات پر استقامت دکهانے کی تاکید فرمائی. پهر آپ گهوڑے پر سوار ہوئے. تلوار نیام سے نکالی. اور دشمنوں کے سامنے کھڑے ہوگئے. اور ایک بلیغ افتخار سے بهرپور رجز پڑھا جسے ہم یہاں طوالت کے پیش نظر نقل نہیں کر رہے پھر وہ مشہور قول فرمایا: ( اگر جسم مرنے کیلئے ہی خلق ہوئے ہیں تو اللہ کی راہ میں مرنا سب سے بہترین ہے) اس كے بعد آپ نے دشمنوں کو مبارزہ کی دعوت دی. راوی کہتا ہے کہ جو بهی حسینؑ کے نزدیک آیا ضرور واصل جہنم ہوا. پهر آپ نے میمنہ پر حملہ کیا اور یہ شعر پڑها: (عار قبول کرنے سے مرنا افضل ہے اور جہنم کی آگ میں جانے سے دنیا کی عار بہتر ہے) پس ایک کثیر تعداد میں دشمنوں کو واصل جہنم کیا. اس کےبعد میسرہ پر حملہ کیا. اور یہ اشعار ارشاد فرمائے: (میں حسین بن علی ہوں اور میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں سر نہ جھکاؤں گا. میں اپنے بابا کی اولاد کا دفاع کرونگا. اور دین مصطفی پر چلوں گا) راوی کہتا ہے. (واللہ میں نے کسی شکستہ دل کی ایسی جنگ نہیں دیکهی جس کے سارے قریبی مارے جا چکے ہوں اور وہ یوں دشمن کے خلاف ثابت قدمی سے جنگ کرے) ابن ابی الحدید کہتا ہے کہ "اس دن حسین کی شجاعت علی کی شجاعت سے یک گونہ مختلف تهی کیونکہ علی نے جب بهی تلوار چلائی ان کے سامنے ان کے اہل حرم محصور نہ تهے اور نہ اصحاب و انصار اور اہل بیت کا یوں قتل عام آپ نے دیکها جسطرح حسین علیہ السلام نے دیکها اور نہ علی علیہ السلام نے کوئی جنگ تین دن کی بهوک پیاس کے ساتھ لڑی تهی اور نہ یوں کسی نے اسطرح لاشوں پر لاشے اٹھائے تهے." راوی کہتا ہے کہ حسینؑ تیس ہزار کے دشمنوں کی صف میں تنہا گهس کر حملہ کرتے تهے اور انہیں تہس نہس کرتے تهے. پهر دوبارہ اپنی جگہ آ کر ٹھہر جاتے تهے اور فرماتے تهے: ولا حول ولا قوہ الا باللہ العلی العظیم. " اثبات الوصیہ" میں ہے کہ اس دن حسین نے 1800 (اٹهارہ سو) ملاعین کو واصل جہنم کیا. بحار میں ابن شہر آشوب سے روایت ہے کہ حسینؑ نے جنگ جاری رکهی یہاں تک آپ کے ہاتهوں دشمن کے مقتولین کی 1950 تعداد (انیس سو پچاس ) تک جاپہنچی. جب شجاعت حسینیہ کا یہ منظر ابن سعد لعین نے دیکها تو اپنی فوجوں سے کہا: "تم پر ہلاکت ہو یہ فرزند علی ابن ابیطالب ہیں. یہ شہسوار عرب کے بیٹے ہیں. ان پر ہر طرف سے حملہ کردو. پس اس دوران چار ہزار تیر انداز آگے بڑهے جنہوں نے آپ کیطرف ایسی تیر اندازی کی جس سے آپ اور اہل حرم کے درمیاں ایک رکاوٹ پیدا ہو گئی. حمید بن مسلم کہتا ہے. حسین نے شہادت کے دن ریش مطہر پر وسمہ لگایا ہوا تها. اور جنگ شروع ہونے سے قبل اور دوران جنگ میں نے حسینؑ کو کہتے سنا: "کیا تم مجھ پر جرأت کرتے ہو؟ واللہ! میں اللہ سے پر امید ہوں کہ وہ مجهے تمہارے ہاتهوں قتل کے بعد شہادت سے عزت عطا فرمائیگا. پهر میرا انتقام تم سے لے گا. اور تمہیں پتہ بهی نہ چلے گا کہ کتنی جلدی تم سے انتقام لیا جائیگا. اللہ تمہیں بہت کم مہلت دیگا. واللہ! میرے قتل کے بعد تمہاری تلواریں آپس میں چلینگی. اور تم ایک دوسرے کو قتل کرتے پهرو گے اور اللہ اس کے بعد تب تک راضی نہ ہوگا جب تک تم پر تکلیفوں والا عذاب نازل نہ کرے." روایت میں ہے کہ حسینؑ جنگ کرتے جاتے تهے اور اصحاب کو نام بنام پکارتے تهے. "اے حبیب بن مظاہر! اے مسلم بن عوسجہ! اے زہیر بن قین! کاش تم حسینؑ کی شجاعت دیکهتے . اور اس پیاسے کی جنگ دیکهو، اور اس مظلوم بیکس کی جنگ دیکهو اے میرے وفادار اصحاب! آخر تمہیں کیا ہوگیا تم میری آواز کا جواب نہیں دیتے. ابهی چند لمحے قبل میں تمہیں آواز دیتا تها اور تم لبیک لبیک کہتے تهے. بیشک اب تم اپنے وعدہ گاہ پہنچ گئے. تمہارے بعد دنیا کی زندگی میں کوئی بهلائی نہیں. بس میں بهی تم سے ملحق ہونے آ رہا ہوں. " یہ فرما کر شدید جنگ کی اور میمنہ کو میسرہ اور میسرہ کو میمنہ پر الٹ دیا اسقدر شجاعت حسینؑ نے دکهائی کہ دشمن کے قلب لشکر سے الامان، الحفیظ کی آوازیں بلند ہوئیں. نفس المہموم کی روایت کیمطابق شدید جنگ کے دوران حسینؑ لڑتے لڑتے نہر فرات میں داخل ہوئے. (دو ہی شجاع ترین فرات میں داخل ہوئے تهے ایک عباس اور ایک حسین.ؑ دونوں پر اللہ کا سلام) جب پانی دیکها تو گهوڑے سے فرمایا کہ تو پیاسا ہے پی لے. لیکن اسپ وفادار نے حسینؑ کیطرف دیکها. گویا زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ آپ بهی تو پیاسے ہیں جب تک آپ سیراب نہیں ہونگے میں بهی نہیں پئیوں گا. پس ابهی حسینؑ جهکے ہی تهے کہ ایک ظالم نے آواز دی "اے حسینؑ آپ یہاں پانی پینے کی تیاری کر رہے ہیں. ادهر دشمن آپکے حرم کے خیموں میں گهس گئے ہیں." اللہ اکبر، تین دن کے پیاسے اور شدت جنگ سے نڈهال حسین کی ہاشمی غیرت نے یہ سنا تو برداشت نہ ہوا اور خیمہ گاہ کیطرف پلٹے. لیکن

ISLAM WITH EMAN - Статистика и аналитика Telegram-канала @islamwitheman