ISLAM WITH EMAN
Открыть в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Больше1 286
Подписчики
Нет данных24 часа
-57 дней
-730 дней
Архив постов
1 286
اگر کسی کو بد ہضمی ہو جائے تو اس آیت کو کھانا کھانے کے بعد 7 مرتبہ پڑھ کر نمک پر دم کر کے کھا لے۔ ان شاءاللہ بد ہضمی دور ہو جائے گی۔
1 286
اگر کسی کے منہ میں چھالے پڑ جائیں یا بدن پر پھنسیاں ہو جائیں تو وہ سورہ والضخی 41 مرتبہ پڑھ کر چینی پر دم کر کے چبا لے ان شاءاللہ راحت ہو جائے گی۔
1 286
جس کو سر درد ہو وہ اس آیت کو 3 مرتبہ پڑھ کر سر پر دم کرے ان شاءاللہ درد جاتا رہے گا۔
1 286
اگر کسی کے گردے یا پتے میں پتھری ہو تو اس آیت کو 41 مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے روزانہ پلاتے رہیں ان شاءاللہ تکلیف دور ہو جائے گی۔
1 286
ہر نماز کے بعد اس آیت کو 3 مرتبہ پڑھ کر انگلی پر دم کر کے آنکھوں پر لگائے۔ ان شاءاللہ آنکھوں میں جو نقصان ہو گا ختم ہو جائے گا اور بصارت بڑھ جائے گی۔
1 286
سرمہ لگانے سے چار فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ بال اگتے ہیں، آنکھ سے پانی نہیں بہتا، لعاب دہن شیریں ہو جاتا ہے، آنکھوں کی صفائی ہوتی ہے۔
1 286
اپنے سر کے بالوں کو چھوٹا رکھو تاکہ میل کچیل اور جوؤں سے پاک رہیں۔ اس طرح گردن موٹی اور نظر تیز ہو گی۔
1 286
اگر پیٹ میں درد ہو تو اس آیت کو 5 مرتبہ پڑھ کر پیٹ پر دم کرین ان شاءاللہ پیٹ درد جاتا رہے گا۔
1 286
جس کو پیٹ میں شدید درد ہو یا مروڑ پڑ رہے ہوں وہ ایک اخروٹ لے اور باہر والے سخت چھلکے سمیت اسے گرم کر لے۔ اس کے بعد چھلکا اتار کر فورا گرم گرم کھا لے۔ آرام آ جائے گا۔
مندرجہ بالا طریقہ دل میں درد، سر درد، میگرین، بیماری عصبی اور شکم درد کے لیے بہترین نسخہ ہے۔
1 286
تحریر پڑھنے کے لیے وٹس ایپ لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1756
1 286
✦ الٹی شلوار ✦
"صاحب... اب میرا کام ہو جائے گا نا؟"
وہ دیوار کی طرف منہ کیے تیزی سے کپڑے پہن رہی تھی۔
"ہاں، ہاں، کیوں نہیں۔"
میری سانسیں ابھی تک بے ترتیب تھیں۔
"پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟"
دوپٹے سے منہ پونچھتے ہوئے اُس نے چہرہ چھپایا، پھر جھٹکے سے دوپٹہ لپیٹ لیا۔
"دیکھو... ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے، کل میں مالکان سے تمہارے شوہر کی بات کروں گا۔"
میں نے شرٹ کے بٹن لگائے، بال سنوارے، اور دفتر کے پچھلے دروازے سے باہر ایک نظر ڈالی۔
نیا چوکیدار کبھی کبھار چائے پانی کے نام پر میری خدمت کر دیتا تھا، لیکن احتیاط پھر بھی لازم تھی۔
"تو پھر میں کل آ جاؤں؟"
وہ میری ہاں کی منتظر تھی۔
"کل نہیں!"
میں روز یہ رسک نہیں لے سکتا۔ بس ایک آہ لے کر رہ گیا۔
ہائے، غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل نصیب ہوتے ہیں۔
میں نے آخری بار اُس کے بدن کے خم و پیچ کو آنکھوں سے تولا، پھر بولا:
"ارے سنو، تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔"
وہ چونکی، اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھی، اور شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔
"سیدھی کر لو، میں نکلتا ہوں۔ پانچ منٹ بعد تم بھی چلی جانا، احتیاط سے۔ کوئی دیکھ نہ لے۔"
زیمل خان، جو اس فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا، ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے ٹانگ پر گولی کھا بیٹھا۔ مالکان نے پچاس ہزار کا وعدہ کیا، پھر بھول گئے۔
اس کی بیوی، یہ بیچاری، انہی وعدوں کی آس میں میرے پاس چکر لگا رہی تھی۔ اور میں نے، "مدد" کا وعدہ... کچھ اور انداز میں پورا کیا۔
---
گھر لوٹا تو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پیچھے سے آواز آئی:
"فخر! فخر! ایک خوشخبری ہے!"
میری بیوی تھی۔ بینک میں کلرک تھی۔
خوشی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔
"منیجر صاحب میرے کام سے خوش ہیں۔ پروموشن کی بات کی ہے آج!"
ہنستی بولتی وہ آگے بڑھتی گئی۔ میں اُس کے پیچھے پیچھے دروازے تک آیا۔
"آصفہ ہے نا، وہ میرے خلاف ہے، مگر ڈائریکٹر صاحب میرے حق میں ہیں۔ کہتے ہیں تھوڑا وقت لگے گا، مگر کام ہو جائے گا!"
دروازے کے سامنے آ کر اُس نے ہینڈ بیگ سے چابی نکالی۔
"میں محنت بہت کرتی ہوں نا، اسی لیے شاید..."
وہ بولتی رہی، بولتی رہی...
میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا —
حتیٰ کہ میری نظر اس کی الٹی شلوار پر پڑی۔
ریشمی دھاگوں میں الجھی وہ الٹی شلوار...
اور میں...
بس دیکھتا رہ گیا۔
---
✦ تجزیہ
"الٹی شلوار" ایک کہانی نہیں، ایک آئینہ ہے۔
یہ اُن دو رشتوں کا موازنہ ہے جو بظاہر مختلف مگر اندر سے ایک جیسے "سمجھوتوں" سے جُڑے ہوتے ہیں۔
زیمل خان کی بیوی مجبوری میں جسم بیچنے پر مجبور ہے — تاکہ شوہر کا علاج ہو سکے۔
فخر کی بیوی ترقی کی امید میں خوش ہے — اور قاری کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
کیا اس پروموشن کے پیچھے بھی کوئی سمجھوتہ چھپا ہے؟
"الٹی شلوار" صرف کپڑے کی ترتیب نہیں، ایک نظام کی بے ترتیبی، ایک عورت کی بے بسی اور ایک مرد کی منافقت کی علامت ہے۔
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
1999 میں، عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اس گائیڈلائن کو قبول کر لیا۔
انسولین کمپنیوں نے بھاری منافع کمایا اور مزید فیکٹریاں کھول لیں۔
* 2003 میں، امریکن ڈائیبیٹز ایسوسی ایشن (ADA) نے فاسٹنگ شوگر کی سطح کو 100 mg/dl تک کم کر کے پری-ڈائیبیٹک کا معیار بنا دیا۔
نتیجے میں، 27% لوگ بلاوجہ ذیابیطس کے زمرے میں آ گئے۔
* فی الحال، ADA کے مطابق، کھانے کے بعد شوگر 140 mg/dl کو ذیابیطس سمجھا جاتا ہے۔
اس کی وجہ سے، دنیا کی تقریباً 50% آبادی کو اب ذیابیطس کا لیبل لگ چکا ہے — جن میں سے بہت سے واقعی بیمار نہیں ہیں۔
بھارتی دواساز کمپنیاں اسے مزید کم کر کے HbA1c 5.5% کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاکہ مزید لوگوں کو مریض بنا کر دواؤں کی فروخت بڑھائی جا سکے۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ HbA1c 11% تک کو ذیابیطس نہیں سمجھنا چاہیے۔
### ایک اور مثال:
2012 میں، ایک بڑی دواساز کمپنی پر امریکی سپریم کورٹ نے 3 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔
ان پر الزام تھا کہ 2007–2012 کے درمیان، ان کی ذیابیطس کی دوا نے دل کے دورے کا خطرہ 43% تک بڑھا دیا تھا۔
کمپنی کو یہ پہلے سے معلوم تھا لیکن منافع کے لیے جان بوجھ کر چھپایا گیا۔
اس عرصے میں انہوں نے 300 بلین ڈالر کا منافع کمایا۔
---
یہ آج کی "جدید ترین میڈیکل سسٹم" ہے!
سوچیں… غور کرنا شروع کریں…
اللہ سب کو صحت مند اور خوش رکھے۔ آمین
منقول۔۔۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 286
⭐ آج کا جدید ترین میڈیکل سائنس ⭐
✍ ڈاکٹر انانیہ سرکار کے قلم سے ۔
آپ کو دو یا تین دن بخار رہا۔ اگر آپ نے کوئی دوا نہ بھی لی ہوتی، تو کچھ دنوں میں آپ کا جسم خود بخود ٹھیک ہو جاتا۔
لیکن آپ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔
شروع میں ہی ڈاکٹر نے کئی ٹیسٹ لکھ دیے۔
ٹیسٹ کے نتائج میں بخار کی کوئی خاص وجہ نہیں ملی۔ البتہ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح تھوڑی سی زیادہ نظر آئی — جو عام لوگوں میں بہت عام ہے۔
بخار تو اتر گیا، لیکن اب آپ صرف بخار کے مریض نہیں رہے۔
ڈاکٹر نے آپ کو بتایا:
> "آپ کا کولیسٹرول زیادہ ہے۔ شوگر بھی تھوڑی بڑھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ *پری-ڈائیبیٹک* ہیں۔ آپ کو کولیسٹرول اور شوگر کنٹرول کرنے کی دوائیں لینی پڑیں گی۔"
اس کے ساتھ ہی کھانے پینے کی متعدد پابندیاں لگ گئیں۔
ہو سکتا ہے آپ نے کھانے کی پابندیاں سختی سے نہ بھی مانی ہوں — لیکن دوائیں کھانا آپ نے نہیں بھولنا تھا۔
تین ماہ گزر گئے۔ پھر ٹیسٹ ہوئے۔
آپ کا کولیسٹرول تھوڑا کم ہوا، لیکن اب آپ کا بلڈ پریشر تھوڑا بڑھ گیا۔
ایک اور دوا لکھ دی گئی۔
اب آپ تین دوائیں کھا رہے تھے۔
یہ سب سن کر آپ کی پریشانی بڑھ گئی۔
> "اب کیا ہوگا؟"
> اس فکر کی وجہ سے آپ کی نیند اڑ گئی۔
> ڈاکٹر نے نیند کی گولی لکھ دی — اور اب آپ کی دوائیں چار ہو گئیں۔
یہ سب دوائیں کھانے کے بعد آپ کو تیزابیت اور سینے کی جلن ہونے لگی۔
ڈاکٹر نے مشورہ دیا:
> "کھانے سے پہلے خالی پیٹ گیس کی گولی کھا لیا کریں۔"
> اب آپ پانچ دوائیں کھا رہے تھے۔
چھ ماہ گزر گئے۔ ایک دن آپ کو سینے میں درد ہوا اور آپ ایمرجنسی میں پہنچ گئے۔
مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کہا:
> "اچھا ہوا آپ بروقت آ گئے۔ ورنہ سنگین ہو سکتا تھا۔"
مزید ٹیسٹ تجویز کیے گئے۔
کئی مہنگے ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا:
> "اپنی موجودہ دوائیں جاری رکھیں۔ لیکن اب دل کے لیے دو مزید دوائیں شامل کر لیں۔ نیز، آپ کو اینڈوکرائنولوجسٹ کو بھی دکھانا چاہیے۔"
> اب آپ سات دوائیں کھا رہے تھے۔
کارڈیالوجسٹ کے مشورے پر آپ اینڈوکرائنولوجسٹ کے پاس گئے۔
انہوں نے ایک اور شوگر کی دوا اور تھائیرائیڈ کی گولی شامل کر دی، کیونکہ تھائیرائیڈ کی سطح تھوڑی بڑھی ہوئی تھی۔
اب آپ کی کل دوائیں نو ہو گئیں۔
آہستہ آہستہ آپ یہ ماننے لگے کہ آپ واقعی بیمار ہیں:
* دل کے مریض
* ذیابیطس
* بے خوابی
* گیس کے مسائل
* تھائیرائیڈ کے مسائل
* گردے کے مسائل
... اور فہرست جاری رہی۔
کسی نے آپ کو نہیں بتایا کہ آپ ارادہ، خود اعتمادی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔
بلکہ آپ کو بار بار بتایا گیا کہ آپ ایک سنگین مریض ہیں، کمزور ہیں، ناکارہ ہیں اور ٹوٹے ہوئے انسان ہیں۔
چھ ماہ بعد، ان تمام دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ کو پیشاب کے مسائل ہونے لگے۔
مزید ٹیسٹ سے گردوں کے مسائل کا پتہ چلا۔
ڈاکٹر نے مزید ٹیسٹ کیے۔ رپورٹ دیکھ کر کہا:
> "کریٹینین کی سطح تھوڑی بڑھ گئی ہے۔ لیکن فکر نہ کریں — جب تک آپ باقاعدگی سے دوائیں لیتے رہیں گے۔"
> انہوں نے دو مزید دوائیں شامل کر دیں۔
اب آپ گیارہ دوائیں کھا رہے تھے۔
اب آپ کھانے سے زیادہ دوائیں کھا رہے تھے، اور ان دواؤں کے مضر اثرات کی وجہ سے آپ آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہے تھے۔
اگر ابتدا میں، جب آپ پہلی بار بخار کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے، ڈاکٹر نے صرف یہ کہہ دیا ہوتا:
> "پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ہلکا بخار ہے۔ دوائی کی ضرورت نہیں۔ آرام کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں، تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں، صبح کی سیر کریں — بس۔ کسی دوا کی ضرورت نہیں۔"
لیکن پھر… ڈاکٹر اور دواساز کمپنیاں اپنی روزی کیسے کماتیں؟
### سب سے بڑا سوال:
ڈاکٹر کس بنیاد پر مریضوں کو ہائی کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماری یا گردے کی بیماری کا مریض قرار دیتے ہیں؟
یہ معیارات کون طے کرتا ہے؟
آئیے اس پر تھوڑا گہرائی سے جائیں:
* 1979 میں، شوگر کی سطح 200 mg/dl کو ذیابیطس سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت دنیا کی صرف 3.5% آبادی ٹائپ 2 ذیابیطس میں شمار ہوتی تھی۔
* 1997 میں، انسولین بنانے والی کمپنیوں کے دباؤ میں، ذیابیطس کی حد 126 mg/dl تک گرا دی گئی، جس سے اچانک ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3.5% سے 8% ہو گئی — یعنی 4.5% زیادہ لوگوں کو بغیر کسی اصل علامت کے ذیابیطس کا لیبل لگا دیا گیا۔
1 286
اگر کسی مریض کے CBC میں RBC، WBC اور Platelets تینوں کی مقدار بہت کم ہو تو آخر یہ کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟
ایسی صورت میں ہمیں سب سے پہلے
Aplastic Anemia
کا شک ہونا چاہیے۔ یہ ایک سنگین بیماری ہے جس میں جسم کی
Bone Marrow
(جہاں خون کے نئے خلیے بنتے ہیں) اچانک یا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خون کے تینوں اہم خلیے — یعنی
RBCs (oxygen
لے جانے والے)،
WBCs (infection
سے لڑنے والے)،
اور Platelets (خون روکنے والے) — بہت کم ہو جاتے ہیں۔
جب RBC کم ہوتے ہیں تو مریض کو تھکن، چکر، اور سانس پھولنے کی شکایت ہوتی ہے۔ WBC کی کمی سے بار بار بخار آتا ہے، معمولی انفیکشن بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ اور اگر Platelets کم ہوں تو مریض کو جلدی خون بہتا ہے، نیل پڑ جاتے ہیں، یا ناک اور مسوڑھوں سے خون آتا ہے۔
تشخیص کے لیے سب سے پہلے CBC رپورٹ دیکھی جاتی ہے۔ اگر تو
Hemoglobin، WBC
اور
platelet count
تینوں کم ہوں اور
Reticulocyte Count
بھی Low ہو، تو یہ واضح اشارہ ہوتا ہے کہ Marrow کام نہیں کر رہا۔ اصل تصدیق
Bone Marrow Biopsy
سے کی جاتی ہے، جس میں marrow خالی یا fatty نظر آتا ہے۔
Aplastic Anemia
کی وجہ بعض اوقات دوائیں، وائرس، radiation یا جسم کا اپنا immune system ہوتا ہے۔ لیکن کئی بار اس کی وجہ معلوم نہیں ہو پاتی، جسے idiopathic کہا جاتا ہے۔
علاج میں مریض کو
Blood transfusion
دی جاتی ہیں، infection سے بچاؤ کے لیے Antibiotics اور خاص طور پر
Immunosuppressive Medicines
یا
Bone Marrow Transplant
کیا جاتا ہے، خاص طور پر نوجوان مریضوں میں۔
آخر میں، یہ بیماری خاموشی سے جسم کو کمزور کرتی ہے، اس لیے اگر CBC میں تینوں خون کی اقسام کم ہوں، تو فوری ایکشن لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔
Aplastic Anemia
ایک
Medical Emergency
ہے اور بروقت علاج سے مریض کی زندگی بچائی جا سکتی ہے....
💕💕💕💕💕💕💕
