ru
Feedback

Не попадитесь на канал ботавода! Telemetrio находит и помечает такие каналы 👉 Хотите видеть метку — оформите подписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Открыть в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Больше
1 285
Подписчики
Нет данных24 часа
-67 дней
-730 дней
Архив постов
" فذبح الطفل من الاذن الی الاذن" امامؑ مظلوم نے خون علی اصغر علیہ السلام ہاتھوں میں اکٹھا کر کے فضا میں اچھال دیا اور فرمایا : " ثم رجع بالطفل مذبوحاً و دمہ یجری علی صدر الحسین" اے خدا ! اس قوم پہ گواہ رہنا گویا انہوں نے نذر مان رکھی ہے کہ خاندان وحی کے ایک فرد کو بھی باقی نہ چھوڑا جائے اس کے بعد آپؑ اس مقتول بچے کو لئے واپس چلے آئے اس حالت میں کہ بچے کے گلوئے اقدس کا خون آپؑ کے سینہ مبارک پر بہہ رہا تھا۔(٤) ■ سپہر کاشانی مرحوم اس طرح لکھتے ہیں کہ جناب علی اصغر علیہ السلام چھے ماہ کے تھے اور بھوک و پیاس کی وجہ سے مادر گرامی کے دودھ کا چشمہ بند ہو چکا تھا اور معصوم شہزادہ مسلسل گریہ کر رہے تھے۔ امام علیہ السلام نے جب بچے کی حالت دیکھی تو کہا میرے بچے کو میرے پاس لاو تاکہ میں اس سے وداع کر لوں۔ آپؑ نے بچے کو ہاتھوں میں لے کر چوما۔ اسی اثنا میں حرملہ بن کاہل اسدی ملعون نے تیر مار کر بچے کو ذبح کر دیا۔ صاحب عوالم کی روایت کے مطابق امامؑ مظلوم نے جناب علی اصغر علیہ السلام کے بدن کو ان کے خون میں غلطاں کیا اور اپنے گھوڑے سے اترے اس بچے پہ نماز پڑھی اور اپنی تلوار سے زمیں میں گڑھا کھود کر بچے کو دفن کر دیا۔(٥) ■ ایک روایت میں یوں بھی ملتا ہے کہ آپؑ معصوم کو اپنے ہاتھوں میں لے کر لشکرِ اعداء کے سامنے آئے تو فرمایا: اے لوگو! تم نے میرے شیعوں اور میرے اہلبیت کو قتل کر دیا اور میرے ساتھ کئے ہوئے وعدۂ بیعت کو توڑ دیا۔ مجھ سے ہاتھ اٹھا لو تاکہ میں اپنے جد کے حرم مطہر کی طرف چلا جاؤں یا کم از کم مجھے پانی دے دو اب میرے سوا ان عورتوں اور بچوں کا کوئی نہیں رہا جو نیزہ و تلوار چلا سکے۔ ویلکم اسقوا ھذا الر ضیع اما ترونہ کیف یتلظی عطشا من غیرذنب اتاہ الیکم۔ وائے ہو تم پر اس بچے کو پانی دے دو کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ مچھلی کی طرح تڑپ رہا ہے باوجود اس کے کہ اس نے تمہارا کوئی گناہ نہیں کیا امامؑ کا کلام ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ ناگاہ حرملہ بن کاہل اسدی ملعون نے امامؑ مظلوم کی طرف تیر چلایا۔ یہ تیر بچے کے گلوئے اقدس کو ذبح کر گیا۔(٦) خوازمی اس طرح لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے اترے اور بچے کو دفن کرنے کے لئے زمین کو کھودا۔ بچے کے بدن کو خون سے غلطاں کیا اس پر نماز پڑھی اور دفن کر دیا۔(٧) شوشتری مرحوم اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ بعض روایات کے مطابق امام حسین علیہ السلام نے شیر خوار بچے کے لئے قبر کھودی اور اسے دفن کر دیا۔ شاید اس راز کی چند وجوہات ہوں۔ ۱۔ ممکن ہے کہ تنہائی کی وجہ سے بچے کو سپرد خاک کر دیا ہو۔ ۲۔ اس لئے خود دفن کیا کہ دوسرے شہیدوں کی طرح بچے کا سر بدن سے جدا نہ ہو۔ ۳۔ اس لئے دفن کر دیا کہ (دوسرے شہداء کی طرح) تین روز تک زمین پر برہنہ و عریاں نہ پڑا رہے۔ ۴۔ تاکہ گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال نہ ہو۔ ۵۔ امام علیہ السلام اور اہل حرم تاب نہیں رکھتے تھے کہ اس بچے کے بدن کو دوسری بار اس حالت میں دیکھیں۔(٨) لیکن افسوس مسلمانوں نے امامؑ مظلوم کی اس خواہش کو بھی پورا نہیں ہونے دیا۔ ابو خلیق سے جب مختار نے پوچھا ! ملعون میدان کربلا میں تیرا دل میرے آقا امام حسینؑ پر نہیں دکھا؟ اس نے کہا ہاں ایک موقع ایسا آیا کہ میں نے خدا سے اپنی موت مانگی تاکہ حضرت کی یہ حالت نہ دیکھ سکوں۔ جناب مختار نے پوچھا کہ وہ کونسی حالت تھی؟ اس ملعون نے جناب علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ بیان کیا اور امامؑ مظلوم کے بچے کو دفن کرنے کا تذکرہ بھی کیا۔ پھر کہتا ہے کہ ان ظالموں نے اس بچے کے بدن کو پھر بھی سلامت نہ چھوڑا۔ گیارہ محرم کو جب تمام شہداء کے سر فخر و مباہات کے اظہار کے لئے نیزون پر بلند کئے گئے اور انعام کے حصول کے لئے ابن زیاد کے پاس لائے گئے تو ابو ایوب غنوی جو بیلداروں کا سرکردہ تھا اس کو شہداء میں سے ایک کا سر نہ ملا تو اس نے بیلداروں کو حکم دیا کہ زمینِ کربلا کو کھودو اور اس بچے کی لاش تلاش کرو جب لاش جناب علی اصغر علیہ السلام برآمد ہوئی تو ان ظالموں نے سر کو کاٹا اور نیزے پہ سوار کر کے کوفہ لے آئے۔(٩) 📚 حوالہ جات: ١۔ سیدابن طاؤس، لہوف۔ ۲۔ سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص۔ ص۱۴۳۔ نفس المہموم، ص۳۵۰۔ ٣۔ مقتل ابی مخنف، ص۱۳۰۔ ٤۔ ریاض القدس، ج۲، ص۱۱۰۔ ٥۔ ناسخ التواریخ، ج۲، ص363. ٦- مہیج الاحزان، ص۲۴۳ِ ٧۔ مقتل الحسین خوارزمی، ج۲،ص ٨۔ الخصائص الحسینیہ، ص۲۹باب الجنائز۔۔ ٩۔ ریاض القدس، ج۲، ص۱۰۴،۱۰۵۔ https://t.me/islamwitheman/7086 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 شہادت شہزادہ علی اصغرؑ 🔷 ■ جب امام حسین علیہ السلام کے تمام اصحاب، عزیز و اقارب درجہ شہادت پر فائز ہو گئے میدان کرب و بلا میں امام حسین علیہ السلام کی ذات تنہا رہ گئی، کوئی بھی یاور، ناصر و مددگار باقی نہ رہا اس وقت زمانے کے شہنشاہ نے استغاثہ بلند کیا۔ امامؑ کا استغاثہ بلند کرنے کا مقصد کسی دنیادار سے مدد طلب کرنا نہیں تھا بلکہ کریم و رؤف امامؑ کا حالتِ غربت میں بھی کرامتِ بخشش کا در کھلا تھا اور لوگوں کو صدا دے رہے تھے کہ کوئی ہے۔ جو اپنے مقدر کو مثلِ حر بدلنا چاہتا ہے۔ جو اس سفینہ نجات پر سوار ہونا چاہتا ہے۔ جو اپنا خون راہِ خدا میں دے کر حیاتِ جاوداں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ھل من ناصر ینصرنا؟ ھل من ذاب یذب عن حرم رسول اللہ؟ ھل من موحد یخاف اللہ فینا؟ ھل من مغیث یرجوا اللہ باغاثتنا؟ ھل من معین یرجوا ما عند اللہ فی اعانتنا؟ نواسۂ رسولؐ میدانِ کربلا کے تپتے صحرا، اصحاب و عزیز و اقارب کی لاشوں کے درمیان کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے۔ ہے کوئی جو حرمِ رسولؐ کا دفاع کرے؟ ہے کوئی خدا پرست کہ ہمارے بارے میں خدا سے ڈرے؟ ہے کوئی داد رس کہ خدا سے صلہ کی امید میں ہماری مدد کرے؟ ہے کوئی مددگار جو اس امید پر ہمارا ساتھ دے کہ ہم خدا کے حضور اس کی مدد (شفاعت) کریں؟ مخدراتِ عصمت نے حضرت کی صدائے استغاثہ سنی تو صدائے گریہ بلند کی۔ امام علیہ السلام خیام کی طرف تشریف لائے اور اپنی بہن جناب عقیلہ بنی ہاشم سلام اللہ علیھا سے فرمایا: '' ناولنی ولدی الصغیر حتی اودعہ" میرا کمسن بچہ لائیے تاکہ میں اس سے وداع کر سکوں۔ آپؑ جناب علی اصغرؑ کو لے کر خیمے سے باہر آئے اور جب چاہا کہ بچے کا بوسہ لوں تو حرملہ بن کاہل اسدی نے بچے کو تیر کا نشانہ بنایا۔ وہ تیر شہزادے کے گلوئے اقدس میں پیوست ہو گیا اور شہزادے کو ذبح کر گیا۔ امامؑ مظلام نے حضرت زینب سلام اللہ علیھا سے فرمایا: بچے کو لے لیجیے پھر اپنے ہاتھوں کو بچے کی گردن سے ٹپکتے ہوئے خون سے بھرا اور آسمان کی طرف اچھال دیا اور کہا '' ھون علی مانزل بی انہ بعین اللہ" جو بات مجھ پر آنے والی مصیبتوں کو آسان کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ خداوند متعال دیکھ رہا ہے۔ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر واپس نہیں آیا۔(١) ■ سبط ابن جوزی "تذکرۃ الخواص" میں نقل کرتے ہیں کہ جب امام علیہ السلام نے دیکھا کہ فوج اشقیا آپؑ کو قتل کرنے پہ مصر ہے تو آپؑ نے قرآن مجید کو ہاتھوں میں لیا اور کھول کر سر پہ رکھا اسی حالت میں لشکر یزید سےفرمایا: بینی و بینکم کتاب اللہ و جدی رسول اللہ یا قوم! بم تستحلون دمی؟ نواسہ رسولؐ فرماتے ہیں میرے اور تمہارے درمیان خدا کی کتاب اور میرے جد رسولِخداؐ حکم ہیں۔ اے لوگو! تم میرے خون کو کس طرح حلال سمجھتے ہو؟ کیا میں تمہارے پیغمبرؐ کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا تم لوگوں تک میرے نانا کا فرمان نہیں پہنچا کہ آپ نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا : " ھذان سیدان شباب اھل الجنۃ" بھرے مدینہ سے رسولِخداؐ جن ہستیوں کو مباہلہ کے لیے لے کر گئے تھے ان میں مولا امام حسینؑ بھی تھے لیکن روز عاشورہ میدان کربلا میں امامؑ فرما رہے ہیں اگر تمہیں میری باتوں کا یقین نہیں آتا تو جابر، زید بن ارقم اور ابو سعید خدری سے پوچھ لو۔ جب آپؑ لشکر اشقیاء سے احتجاج کر رہے تھے۔ تو آپؑ کی نظر طفل صغیر پہ پڑی جو پیاس کی شدت اور گرمی کی حدت سے رو رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے بچے کو ہاتھوں پہ لیا اور فرمایا: " یاقوم! ان لم تر حمونی فارحموا ھذا الطفل" پس فوج اشقیاء میں سے ایک شخص نے اس بچے کی طرف تیر چلایا اور اسے ذبح کر دیا امام مظلوم نے گریہ کیا اور کہا: " اللھم احکم بیننا و بین قوم دعونا لینصرونا فقتلونا" خدایا! ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما کہ جہنوں نے ہمیں اس لئے بلایا کہ ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اب اس کے بدلے ہمیں قتل کر رہے ہیں۔ امامؑ کا کلام ختم ہوا کہ ندائے غیب آئی۔ " فنوی من الھواء دعہ یاحسین فان لہ مرضعاً فی الجنۃ" اے حسین! اس بچے کو ہماری طرف بھیج دو کہ اس کے لئے بہشت میں دایہ موجود ہے۔(۲) ■ بعض نے اس طرح نقل کیا ہے کہ امامؑ مظلوم بچے کو لے کر لشکر کے سامنے آئے اور اپنے ہاتھوں پہ بلند کر کے فرمایا: " اما ترونہ کیف یتلظیٰ عطشاً فاسقوہ شربۃ من الماء" کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ یہ بچہ پیاس کی شدت سے کس طرح تڑپ رہا ہے اسے پانی دے دو لشکرِ اشقیاء کے بعض افراد ایک دوسرے کو سرزنش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ کیا ہو جائے گا اگر ہم اس بچے کو پانی دے دیں؟ بچے تو بچے ہوتے ہیں بچوں کا کیا قصور ہے پس لشکر کے درمیان ایک ہلچل سی مچ گئی۔ عمر سعد ملعون نے جب یہ دیکھا کہ قریب ہے کہ لشکر بغاوت کر دے تو اس نے حرملہ ملعون کو کہا : اقطع کلام الحسین یہ ملعون گھوڑے کے ساتھ ایک بلند مقام پہ آیا اور گھوڑے سے اتر کر اس نے بچے کی طرف تیر چلایا جس سے بچے نے مرغ بسمل کی طرح تڑپتے ہوئے جان دے دی۔(٣)

🔴 شہادت علی اصغر علیہ السلام 🔴 شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کی حالت مخدوش ہو چکی تھی کیونکہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے آپ کی مادر گرامی کا دودھ بھی بالکل خشک ہو گیا تھا اور یہ چھ ماہ کا بچہ بے حس و حرکت پڑا ہوا تھا. جناب امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ علی اصغر کو لاؤ کہ میں اس کو بھی وداع کر لوں. یہ فرما کر آپ نے ارشاد کیا: ویل لهولاءالقوم اذا کان جدک محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم خصمهم. ترجمہ: اس قوم شقاوت اثر کا برا ہو کہ انہوں نے تمھارے جد بزرگوار محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کی. پس اس بچہ کو ہاتهوں پر اٹھا کر خیمہ سے باہر تشریف لائے اور فوج مخالف کے مقابل کھڑے ہو کر ارشاد فرمانے لگے کہ: اے پروردگار میرے خزانہ میں اس لعل کے سوا کوئی دوسرا موتی نہیں ہے میری دلی خواہش ہے کہ میں اس کو بھی تیری راہ میں تصدق کروں. یہ کہہ کر حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس قوم جفاکار کو مخاطب کر کے کہا: اے کوفیان بے حیا اور اے دوستداران آل معاویہ تم نے مجھ کو تو گنہگار اور قصوروار یقین کر لیا ہے اب اس نادان بچہ کی نسبت تم کیا تہمت لگاتے ہو. اس کو تو پانی دو کہ شدت عطش سے اس کی ماں کا دودھ خشک ہو گیا ہے اور اس وجہ سے اس کی زندگی کی امید نہیں کی جا سکتی. کسی نے جواب نہ دیا. حرملہ ابن کاہل اسدی نے ایک تیر مارا جو علی اصغر علیہ السلام کے حلق پر آ لگا خون کا دڑیڑا جاری ہوا اور شہزادہ علی اصغر شہید ہو گئے. امام عالی مقام نے چلو میں اس خون ناحق کو لے کر آسمان کی طرف پھینکا اور کمال صبر و استقلال سے فرمایا: خدائے سبحان تعالٰی ھمارے ان مصائب کو دیکھ رہا ہے یہ تو تمام مصائب ہم پر آسان ہیں. اے پروردگار میرے بچے کا خون ناحق ناقہ صالح علیہ السلام کے قتل سے آسان نہیں ہے تو اس کا نعم البدل اس سے بہتر عنایت فرما. علامہ سبط ابن جوزی جو سواداعظم اہل سنت میں اکابر علماء سے شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب تذکرہ خواص الآئمہ میں لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے دعا فرمانے کے بعد ہاتف نے ندا دی "دعہ یا حسین فان لہ مرضعہ فی الجنة" ترجمہ: یا حسین اس بچہ کو رخصت کرو اس کے لئے ایک دایہ بہشت عنبر سرشت میں مقرر کر دی گئی ہے. شرح شافیہ میں لکھا ہے کہ پھر اس کے بعد امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے اترے. اس بچہ پر نماز پڑھی اور ذوالفقار سے قبر کهود کر دفن کر دیا. انا للہ وانا الیہ راجعون. الا لعنةالله علی القوم الظالمين. 📚 ذبح عظيم، صفحہ: 443. https://t.me/islamwitheman/7084 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔷 6 محرم الحرام 🔷 6 محرم 30 ہزار یزیدی فوجی دستہ کربلا میں جمع ہوا۔۔۔ 6 محرم کی شام سے کربلا میں لشکر پہنچنا شروع ہوگئے اور 9 محرم کی شام تک لشکروں کی آمد جاری رہی تھی، صاحبِ بحارالأنوار نے مولا امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا؛ کوفیوں کی جو باضابطہ فوج پہنچی تھی اس کی تعداد 30 ہزار تھی۔ یہ تو وہ فوج تھی جو حکومت کی تنخواہ دار فوج تھی، جس وقت 8 محرم کے دن ابنِ زیاد لع نے کوفہ میں یہ اعلان کیا کہ اب اگر کوفہ میں کوئی جوان یا ضعیف مجھے نظر آ گیا تو اس کو قتل کر دوں گا۔ اس اعلان کے بعد تمام اہل کوفہ کربلا میں آگئے، ابنِ زیاد لع نے ابحر بن قیاص کو پلِ فرات پہ مقرر کیا کہ کسی کو واپس کوفہ نہ جانے دیا جائے۔ جس وقت لشکروں کی آمد ہوئی اور ہر لشکر طبل بجاتا ہوا اور نعرے لگاتا کربلا میں داخل ہورہا تھا۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازوں، نعروں، طبل اور نقاروں کا ایسا شور تھا کہ زمینِ کربلا لرز رہی تھی۔ 📚 بحوالہ: مجالس المنتظرین، جلد2، ص86، 87۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 قبیلہ بنی اسد 🔷 امام حسینؑ کے اصحاب میں سے دو جانثاران حضرت مسلم بن عوسجہ اور حبیب بن مظاہر قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے۔ چھ محرم کو حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں حبیب بن مظاہر نے عرض کی کہ اے فرزندِ رسول یہیں قریب ہی میرے قبیلہ بنی اسد کے لوگ سکونت پذیر ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں انکے پاس جاکر آپکی دعوت دوں۔ شاید کہ خداوند عالم آپکو بنی اسد کے ذریعے اس قومِ اشقیاء کے شر سے محفوظ رکھے۔ امامؑ نے انہیں اجازت دی اور وہ رات کے وقت انکے پاس گئے اور ان سے کہا میں تمہارے پاس بہترین تحفہ لایا ہوں اور وہ یہ کہ میں تمہیں نواسۂ رسولؐ کی نصرت کیلئے دعوت دینے آیا ہوں۔ انکے ہمراہ ایسے لوگ ہیں جن میں سے ہر ایک فرد ایک جنگجُو پر بھاری ہے، جو انہیں ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے نہ دشمن کو ان پر غالب آنے دیں گے۔ عمر سعد نے ایک بڑی فوج کیساتھ ان کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور چونکہ تم میرے قوم و قبیلہ کے افراد ہو لہذا میں تمہیں اس راہِ خیر کی ہدایت کرتا ہوں۔ آج تم لوگ میری بات مان لو اور اس کی مدد کے لیے کمر بستہ ہوجاؤ تاکہ اسطرح تم دنیا اور آخرت کے شرف کو حاصل کرلو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم میں سے ایک شخص بھی اپنے نبی کے نواسے کیساتھ اس جگہ پر راہِ خدا میں مارا جائے اور صبر و ثواب کے راستے پر چلے تو بہشتِ بریں میں حضرت رسولِخداؐ اس کے رفیق و ہمدم ہوں گے۔ یہ سن کر اس قبیلہ کا ایک شخص بنام عبداللہ بن بشیر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا "میں سب سے پہلے آپکی دعوت پر لبیک کہتا ہوں۔" اس کے بعد قبیلہ کے دوسرے افراد کھڑے ہوگئے جن کی تعداد نوے بتائی جاتی ہے۔ وہ امامؑ کی مدد کیلئے روانہ ہوگئے۔ مگر اسی اثناء میں ایک شخص نے عمر سعد کو اس ماجرا کی اطلاع دی۔ اس نے ارزق نامی ایک شخص کی سرگردگی میں چار سو سواروں کا دستہ انکی طرف روانہ کردیا اور راستے میں ہی قبیلہ بنی اسد کے لوگوں کو روک لیا اور واپس جانے پہ مجبور کردیا۔ بعض روایات کے مطابق امام حسینؑ 2 محرم الحرام کو جب کربلا پہنچے تو قبیلہ بنی اسد کے سرداروں کو بلایا، ان سے کہا کہ میں یہ زمین خریدنا چاہتا ہوں۔ امام مظلوم نے 60 ہزار درہم دیکر 6 میل زمین خریدی اور فرمایا جس جگہ ہماری قبریں بنائی جائیں، وہاں کھیتی باڑی نہ کیجائے۔ ہمارے زائرین کو ہماری قبروں کے نشان بتانا اور انہیں تین دن تک اپنا مہمان رکھنا، یزیدی فوج اپنے نجس لاشے دفن کرکے چلے جائیں تو تم لوگ اپنے آدمیوں کیساتھ آکر ہماری لاشوں کو دفن کر دینا۔ مردوں کو یہ تاکید کرنے کیبعد نواسۂ رسولؐ نے قبیلہ بنی اسد کی عورتوں کو بلا کر ایک قطار میں کھڑا کیا اور اپنا تعارف کرایا۔ میں زینبؑ کا بھائی ہوں، فاطمہ زہراءؑ کا بیٹا ہوں، میں تمھارے رسولؐ کا نواسہ ہوں، میں علی مرتضٰیؑ کا بیٹا ہوں۔ "بیبیو اگر تمھارے مرد حکومت کے خوف سے ہمیں دفن نہ کرسکیں تو تم فرات سے پانی بھرنے کے بہانے سے ادھر سے گزرنا اور ہر بار ہماری لاشوں پر مٹی ڈالتی رہنا۔" اس کیبعد امام مظلوم نے قبیلہ بنی اسد کے بچوں کو بلایا اور ایک قطار میں کھڑا کر کے ان سے اپنا تعارف کرایا۔ "بچو! میں تمھارے عمر کے بچے رکھتا ہوں، جو روزِ عاشورا سب شہید ہو جائیں گے۔ میں ساقئ کوثر کا فرزند ہوں، اگر تمھارے ماں باپ ہمیں دفن نہ کرسکیں تو تم کھیل کے بہانے ادھر آجانا اور کھیلتے کھیلتے ہماری لاشوں پہ مٹی ڈالتے رہنا۔" علامہ مجلسیؒ بحارالأنوار میں لکھتے ہیں: تیرہ محرم 61 ہجری کو بنی اسد کی خواتین دریائے فرات سے پانی لینے آئیں تو انھوں نے زمین پر بہت سے لاشے بکھرے ہوئے دیکھے کہ جن کے جسموں سے تازہ خون ایسے بہہ رہا تھا کہ گویا انھیں آج ہی شہید کیا گیا ہے، خواتین یہ منظر دیکھ کر روتی ہوئیں واپس اپنے قبیلے والوں کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ تم یہاں اپنے گھروں میں بیٹھے ہو اور رسولِخداؐ کے بیٹے امام حسینؑ اور انکے اہل و عیال اور ساتھیوں کو ریت پہ قربانی کے جانوروں کیطرح ذبح کردیا گیا ہے، جب تم رسولِخداؐ، امیرالمومنینؑ اور حضرت فاطمہؑ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے تو انکے سامنے کیا عذر پیش کرو گے؟ اگرچہ تم نے امام حسینؑ کی مدد و نصرت کا موقع کھو دیا ہے، لیکن ابھی اٹھو اور جاکر ان پاک و پاکیزہ لاشوں کو دفن کرو، اگر تم نے انکو دفن نہ کیا تو ہم خواتین خود جاکر انکے دفن کا کام سرانجام دیں گی، اسکے بعد بنی اسد کے مرد ان طاہر لاشوں کو دفن کرنے کے لئے آئے۔ اب بھی 13 محرم کو قبیلہ بنی اسد کے ہزاروں مرد، خواتین اور بچے بیلچے لئے ہوئے کربلا میں وارد ہوتے ہیں اور ضریح اقدس کے قریب آکر آواز بلند کرتے ہیں "مولا ہم دفن کرنے آئے ہیں۔" 1975ء میں حزب بعث کی حکومت نے اس جلوسِ پر پابندی لگا دی تھی لیکن 2003ء میں ظالمانہ حکومت کے خاتمہ کیبعد آنیوالے پہلے ہی محرم کی تیرہ تاریخ کو یہ ماتمی جلوس دوبارہ مکمل عقیدت کیساتھ 2004ء کو برآمد ہوا اور ہر سال برآمد ہوتا ہے۔ تحریر: توقیر کھرل https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

آج *21 جون* سال کا سب سے طویل دن اور سب سے مختصر رات ہوگی۔ ماہرین فلکیات کے مطابق آج دن کا دورانیہ *13 گھنٹے 41 منٹ جبکہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ* دورانیے کی ہوگی۔21 جون سال کا *طویل ترین دن* سمجھا جاتا ہے۔ اس قدرتی عمل کو *سمر سولسٹس (Summer Solstice)* کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد 22 جون سے دن بتدریج چھوٹے اور راتیں بڑی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

⚫ غم حسین علیہ السلام ⚫ ریان بن شبیب کہتے ہیں: "میں ماہ محرم کی پہلی تاریخ کو امام رضا عليه السلام کی خدمت میں حاضر ھوا. آپ نے فرمایا: " اے ابن شبیب بیشک محرم وہ مہینہ ہے، کہ ماضی میں دور جاہلیت کے لوگ بھی اس مہینہ کے احترام میں قتل و غارت کو حرام جانتے تھے، لیکن اس امت نے نہ اس مہینہ کا احترام کیا اور نہ پیغمبر اکرم صلی الله عليه وآله وسلم کا احترام کیا. اس مہینے میں پیغمبر اکرم صلی الله عليه وآله وسلم کی اولاد کو قتل کیا گیا اور ان کی خواتین کو اسیر بنایا گیا اور ان کے مال کو لوٹ لیا گیا. خدا ان کے اس گناہ کو ہرگز نہیں بخشے گا." اے ابن شبیب! " اگر کسی چیز کے لئے گریہ و زاری کرنا چاہو، تو حسین ابن علی ابن أبى طالب عليه السلام کے لئے گریہ و زاری کرنا کیونکہ انہیں گوسفند (بھیڑ) کی طرح ذبح کیا گیا اور آپ عليه السلام کے خاندان کے اٹھارہ افراد کو شہید کیا گیا، جو زمین پر بے مثال تھے. سات آسمان اور زمین ان کے لیے روئے. آپ عليه السلام کی مدد کے لئے چار ہزار فرشتے زمین پر اترے لیکن انہیں اسکی اجازت نہ ملی. اسوقت سے یہ فرشتے آپ عليه السلام کی قبر پر پریشان اور خاک آلودہ ہیں اور قائم آل محمد (عج) کے ظہور تک اسی حالت میں ھوں گے. ان کا نعرہ ہے "یا لثارات الحسین." (کہاں ہیں حسین ع کا انتقام لینے والے) اے ابن شبیب! " میرے بابا نے اپنے بابا سے اور انھوں نے اپنے جد امجد سے سنا ہے کہ جب میرے جد امام حسین عليه السلام قتل کئے گئے تو آسمان سے خون اور سرخ مٹی کی بارش ھوئی." اے ابن شبیب! " اگر حسین عليه السلام پر گریہ و زاری کرو یہاں تک کہ تمہارے آنسو رخسار تک پہنچ جائیں تو خداوند متعال تمہارے تمام گناھوں کو بخش دے گا چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کم ہوں یا زیادہ." اے ابن شبیب! " اگر تم چاہتے ہو کہ خدا سے اس عالم میں ملاقات کرو کہ تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو تو حسین عليه السلام کی زیارت کرو." اے ابن شبیب! " اگر بہشت میں پیغمبر اکرم صلی الله عليه وآله وسلم کے حجرہ میں رہنا چاہتے ھو، تو حسین عليه السلام کے قاتلوں پر لعنت بھیجو." اے ابن شبیب! " اگر امام حسین عليه السلام کے ہمراہ شہید ہونے والے اصحاب کا ثواب حاصل کرنا چاہتے ھو تو، جب بھی حسین عليه السلام کی یاد آئے، کہنا کہ "يا ليتني كنت معهم فافوز فوزا عظيما." (کاش؛ میں ان کے ساتھ ھوتا اور عظیم درجہ پر فائز ھوتا) اے ابن شبیب! " اگر ہمارے ساتھ بہشت کے بلند درجوں میں رہنا چاہتے ھو، تو ہمارے غم میں مغموم اور ہماری خوشی میں شاد و خوشحال ھو جاؤ اور تم پر لازم ہے کہ ہماری ولایت سے متمسک رہو کیونکہ اگر کوئی شخص پتھر سے بھی محبت رکھے گا تو اللہ اسے اسی پتھر کے ساتھ روز قیامت محشور فرمائے گا." (عیون اخبار رضا. ج 1) (امالی شیخ صدوق علیه الرحمة) https://t.me/islamwitheman/7079 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔴 شہادت عون و محمد علیہما السلام 🔴 🔴 محمد ابن عبدالله بن جعفر طیار کی شہادت: محمد بن عبداللہ یہ رجز پڑھتے ہوئے فوج مخالف سے مقابل ہوئے: یشکوا الی اللہ من العدوان، قتال قوم فی الردی عیان، قد ترکو معالم العران، ومحکم التنزيل والبيان. سخت معرکہ پڑا اور اس شیر بیشہ شجاعت نے دم کے دم میں دس بے دینوں کو مار گرایا اور بعد اس کے عامر ابن نہشل المیمی (لعنتی) کے ہاتهوں شہید ہوئے. اناللہ وانا الیہ راجعون. 🔴 جناب عون بن عبد اللہ بن جعفر طیار علیہ السلام کی شہادت: طبری کہتا ہے کہ لوگوں نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا. پس عبد اللہ بن قطنہ طائی نبہانی نے عون بن عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب علیہ السلام پر حملہ کیا اور انھیں شہید کر دیا. مناقب آل ابی طالب میں ہے کہ جناب عون مبارزہ کے لیے نکلے اور جنگ شروع کی اور یہ رجز پڑھا: اگر تم مجھے نہیں پہچانتے تو جان لو کہ میں جعفر کا بیٹا ہوں جو سچا شہید اور جنت میں زیادہ روشن چہرے والا ہے. جو جنت میں سبز پروں کے ساتھ اڑتا ہے اور میدان محشر میں یہی شرف کافی ہے. پس جناب زینب سلام اللہ علیها کے لال نے جنگ کی تین سواروں اور اٹھارہ پیادوں کو زندگی کی سواری سے پیادہ کیا بالآخر عبد اللہ بن قطنہ (لعین) کے ہاتھ سے شہید ہوئے. اناللہ واناالیہ راجعون. سید مرتضی علم الہدی رحمة اللہ علیہ نے ان کی زیارت ان الفاظ میں ذکر کی: السلام علیک یا عون بن عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب السلام علیک یا بن الناشی فی حجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والمقتدی بالاخلاق رسول اللہ والذاب عن حریم رسول اللہ صبیا و الزائد عن حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مباشرا للحتوف و مجاھدا بالسیوف قبل ان یقوی جسمہ و یشتد عظمہ و یبلغ اشدہ........... فتقربت والمنایا دانیة و زحفت والنفس مطمئنة طیبة تلقی بوجھک بوادہ السھام و تباشر بمھجتک حد الحسام حتی وفدت الی اللہ تعالیٰ باحسن عمل ......الخ ترجمہ: اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں پلنے والے کے بیٹے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کی اقتداء کرتا تھا، اے جسم کے قوی ہونے اور ہڈی کے مضبوط ہونے اور سنِ بلوغ سے پہلے بچپن میں حرم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنوں کو دور کرنے اور روکنے والے، موت کے ساتھ کھیلنے والے، تلواروں سے جہاد کرنے والے تم پر سلام ہو.......... پس تو آگے بڑھا جب کہ موت قریب تھی، تو میدان کی طرف اپنے آپ کو لے جا رہا تھا جب کی نفس مطمئن اور خوش تھا، آنے والے تیر تو اپنے چہرہ پر لیتا تھا اور تلوار کی دھار کو سر پر روکتا تھا، یہاں تک کہ تو بہترین عمل لے کر بارگاہ خدا میں حاضر ہوا .......... الخ الا لعنةالله علی القوم الظالمين. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 حضرت حرؑ کی توبہ اور شہادت 🌷 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی امام باقر علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ: جب امام حسین علیہ السلام کا عمر بن سعد سے سامنا ہوا اور جنگ شروع ہوئی تو خداوند نے حضرت علیہ السلام کی نصرت کے لئے آسمان سے فرشتوں کا ایک گروہ بھیجا جو امام علیہ السلام کے سر پر پرواز کرنے لگے- اس کے بعد حضرت کو دو امروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر اختیار دیا گیا- یا فرشتے ان کی نصرت کریں اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کر دیں یا شہید ہو جائیں لیکن امام علیہ السلام نے شہادت کو ترجیح دی- اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے استغاثہ بلند کیا: ہے کوئی جو رضاۓ خدا کے لئے ہماری مدد کرے؟ ہے کوئی جو حرم رسول خدا سے دشمنوں کو دور کرے؟ اسی اثنا میں حر بن یزید ریاحی عمر بن سعد کے پاس آۓ اور کہنے لگے: امام حسین علیہ السلام سے جنگ لڑو گے تو عمر نے جواب دیا: ہاں خدا کی قسم ان سے جنگ ضرور ہو گی جس میں سب سے آسان کام سروں اور ہاتھوں کو جسم سے جدا کرنا ہو گا- حر نے جب یہ گفتگو سنی تو اپنے لشکر سے جدا ہو کر ایک گوشے میں بیٹھے کانپنے لگے- مہاجر بن اوس نے کہا: اے حر! مجھے تمھاری یہ حالت شک میں مبتلا کر رہی ہے، تم اتنے شجاع ہو، کس لئے کانپ رہے ہو؟ حر نے جواب دیا: خدا کی قسم! میں اپنے آپ کو جنت و جہنم کے درمیان پا رہا ہوں، خدا کی قسم! میں جنت پر کسی چیز کو فوقیت نہ دوں گا اگرچہ میرا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاۓ- اس کے بعد گھوڑے پر سوار ہو کر امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں روانہ ہوۓ اور دونوں ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگے: خدایا! میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، تو میری توبہ قبول فرما لے کیونکہ میں نے تیرے دوستوں کی اور تیرے پیغمبر کی اولاد کو ڈرایا، اس کے بعد حر نے امام علیہ السلام کی خدمت میں دست بستہ عرض کی: میں وہ شخص ہوں کہ جس نے آپ پر سختی کی اور آپ کو مدینہ واپس جانے کی اجازت نہ دی- مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ یہ لوگ اتنی سخت گیری کریں گے- اب میں توبہ کرتا ہوں، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: ہاں! خدا تمھاری توبہ قبول کرے گا، نیچے اتر آؤ- اس نے کہا کہ اترنے سے بہتر یہ ہے کہ اسی حالت میں میں آپ کی نصرت کے لئے لڑوں، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے آپ کا راستہ روکا اور میں ہی وہ پہلا شخص قرار پاؤں کہ جو آپ کی راہ میں مارا جاؤں، شاید میرا شمار ان لوگوں میں ہو جو روز قیامت آپ کے جد امجد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے مصافحہ کریں گے۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے انہیں جنگ کی اجازت دی اور حر نے دلیرانہ حملے کیے اور بڑے بڑے شجاع اور دلیروں کو تہ تیغ کیا اور جام شہادت نوش کیا۔ اس کی لاش کو امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا تو حضرت نے حر کے چہرہ سے گرد و غبار کو صاف کرتے ہوۓ فرمایا: تم آزاد مرد ہو دنیا اور آخرت میں کہ جس طرح تیری ماں نے تیرا نام حر رکھا ہے۔ 📚 مقتل لہوف، صفحہ٧٩-٨٠۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 حر بن یزید ریاحی 🔷 حر بن یزید ریاحی کے نام سے معروف حضرت امام حسین ؑ کے جانثار ہیں جن کا مکمل نام حُرّ بْن یَزید بْن ناجیہ تَمیمی یَرْبوعی ریاحی، ہے۔واقعہ کربلا سے پہلے ایک سپہ سالار کی حیثیت سے ابن زیاد کی جانب سے حضرت امام حسین ؑ کے کارواں کو کوفہ آنے سے روکنے کی ذمہ داری سپرد کی گئی۔لہذا وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ عازم سفر ہوا۔ عاشورا کے روز حر بن یزید نے جب دیکھا کہ کوفیان امام حسین ؑ کے قتل کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں تو لشکر کو چھوڑ کر حضرت امام حسین ؑ سے مل گئے۔بالآخر انکی معیت میں جنگ کرتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ندامت کی وجہ سے کوفی لشکر کو چھوڑ کر حضرت امام حسین سے ملحق ہونے کی وجہ سے شیعہ ان کی نہایت عظمت و احترام کے قائل ہیں۔اسی وجہ سے شیعہ حضرات امید ،قبولیت توبہ اور کامیابی کے نمونے کے طور حضرت حر کو پہچانتے ہیں۔ عبیدالله بن زیاد جبامام حسین(ع) کی کوفہ کی طرف روانگی سے آگاہ ہوا۔اس نے کوفہ بزرگوں اور رؤسا میں سے حرکو طلب کیا اور انہیں 1000 افراد کی سپہ سالاری کے ساتھ حضرت امام حسین کو روکنے کیلئے روانہ کیا. دیگر روایات کی بنا پر عبیدالله بن زیاد نے حصین بن نمیر تمیمی کو چار ہزار کی نفری کے ساتھ قادسیه اعزام کیا تا کہ وہ قادسیہ سے خفّان تک اور قُطقُطانیہ سے لَعلَع تک کے علاقے کو اپنے زیر نظر رکھیں اس طرح وہ اس علاقے میں آنے جانے والوں سے آگاہ رہ سکیں اور حر اور اسکے ہزار سپاہی اسی ۴۰۰۰ افراد کا حصہ تھے کہ جو حصین بن نمیر کی سرکردگی میں مامور ہوئے تھے . ٭غیبی آواز کا سننا خود حر روایت کرتے ہیں کہ جب میں قصر ابن زیاد سے باہر نکلا تا کہ حسین کو روکنے کیلئے سفر کا آغاز کروں تو میں نے تین بار اپنے پیچھے سے ایک غیبی ندا سنی کہ جو مجھے کہہ رہی تھی: اے حرّ! تہیں جنت کی بشارت مبارک ہو.میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کسی کو اپنے پیچھے نہ پایا اور میں نے اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہا : یہ کیسے جنت کی بشارت ہو سکتی ہے جبکہ میں امام حسین سے جنگ کرنے کیلئے جا رہا ہوں* ۔ اس نے اس بات کو ذہن نشین کیا یہاں تک کہ اس نے اس بات کو حضرت امام حسین کے سامنے بیان کیا تو امام نے کہا :تو نے حقیقت میں نیکی اور خیر کی راہ کو پا لیا ہے. *توبہ اور لشکر سے خطاب حر نے توبہ کرنے کے بعد لشکر کے سامنے کو ان الفاظ میں نصیحت کی: امام حسین نے جو تجاویز تمہیں دیں اس بات کا باعث نہیں بنیں کہ خدا تمہیں اس جنگ سے دور رکھے؟ حر نے اسی بات کی عمر بن سعد دوبار کہی تو عمر نے کہا :میں حسین سے جنگ کیلئے تیار ہوں اگر اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہوتا میں اسے اختیار کرتا ۔یہ سن کر حر لشکر کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اے اہل کوفہ! تمہاریں مائیں تمہارے غم میں روئیں!اس نیک شخص کو دعوت دی اور اسے کہا کہ ہم تمہاری رکاب میں جنگ کریں گے.اب جب وہ تمہارے پاس آ گیا ہے تو اب اس کی مدد سے تم نے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔اسکے سامنے جنگ کیلئے صف باندھے کھڑے ہو اور اس کے قتل کے در پے ہو،اسے گھیرے میں لے لیا ہے، اس کے نفس کو محبوس کردیا ہے اور تم نے اس قدر وسیع و عریض زمین پر کہیں جانے سے اسے روک دیا ہے، اسے اس طرح نرغے میں لے لیا ہے کہ وہ نہ تو اپنی مرضی سے کسی چیز کو انجام دے سکتا ہے اور نہ اپنے ضرر کو اپنے آپ سے دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے،اس فرات کا پانی اس پر ،اسکے خاندان اور اصحاب پر بند کر دیا ہے جس سے یہود ،نصارا اور مجوسی پانی رہے ہیں،خنزیر اور کتے پانی پر(کھیل رہے )ہیں ۔انکی تشنگی کا یہ عالم ہے کہ تشنگی نے انہیں بے حال کر دیا ہے۔تم نے محمد اور اسکے خاندان کی کیا پاسداری کی ہے؟پیاس کے دن(قیامت کے روز) خدا تمہیں سیراب نہ کرے!۔یہ سننا تھا کہ لشکر نے اسکی جانب تیر اندازی شروع کر دی۔ حر پیچھے ہٹے اور امام حسین کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ *حضرت حر کی زندگی اورشہادت کی تفصیل۔۔۔۔ http://ur.wikishia.net/view/%D8%AD%D8%B1_%D8%A8%D9%86_%DB%8C%D8%B2%DB%8C%D8%AF_%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AD%DB%8C http://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 قاضی شریح ملعون 🔷 قاضی شریح ملعون جس نے امام حسین علیہ السلام کے قتل کا فتوٰی دیا تھا۔ اسکا نام شریح بن حارث بن منتحج کندی تھا۔ اس کی کنیت ابوامیہ تھی یہ خلیفۂ ثانی کے دور میں کوفہ کا قاضی مقرر ہوا تھا۔ یہ ایسا سیاست دان تھا کہ اسے آنے والا کوئی حاکم تبدیل نہ کر سکا حتٰی کہ امیرِ کائنات علیہ السلام نے اسے کئی بار معزول کرنے کا ارادہ فرمایا مگر کوفی لوگ ہنگامے پر اتر آئے۔ اس نے 27 ہجری میں یہ عہدہ سنبھالا تھا اور 87 ہجری تک یعنی 60 سال اپنی موت تک کوفہ کی قضاوت پر رہا اور یہ 87 ہجری میں جہنم رسید ہوا۔ اس 60 سالہ دورِ قضاوت میں اسے صرف تین سال کے لیے معزول کیا گیا۔ وہ عبداللہ بن زبیر کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد جب حجاج بن یوسف ملعون حاکمِ کوفہ بنا تو اسے دوبارہ بحال کر دیا کیونکہ یہ اموی ملاعین کا خاص خوشامدی تھا۔ یہ وہ ملعون قاضی تھا جس سے عبیداللہ بن زیاد لع نے امام حسین علیہ السلام کے شہید کرنے کا شرعی فتوٰی لیا تھا۔ جس وقت ابن زیاد ملعون نے لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے قتل پر اکسانا شروع کیا تو کوئی بھی جنگ کے لیے تیار نہیں ہوا سوائے خوارج کے۔ باقی سب یہ ہی کہتے تھے کہ کسی مسلمان کا خون کسی مسلمان پر حلال نہیں ہوتا اس لیے ہم مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں کریں گے۔ اس وقت ابن زیاد ملعون نے قاضی شریح کو بلا کر کہا میں تمہیں ایک لاکھ دینار دوں گا تم امام حسین (علیہ السلام) کے قتل کا فتوٰی جاری کرو مگر قاضی رضامند نہ ہوا۔ ابن زیاد ملعون نے سوچا کہ قاضی جیسا لالچی انسان آخر فتوٰی کیوں نہیں دے رہا۔ اس کی عقل میں بات آگئی کہ میں نے ایک لاکھ دینار دینے کا وعدہ کیا ہے اور میرے وعدے پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ پھر ابن زیاد ملعون نے پچاس ہزار دینار قاضی کے گھر امانت کے طور پر یہ کہہ کر رکھوائے کہ یزید نے میرے پاس ایک لاکھ دینار بھیجے ہیں، اوپر سے کربلا کی جنگ نظر آرہی ہے، پتہ نہیں اسکا انجام کیا ہو گا، تمہیں امانت اس لیے دے رہا ہوں اگر میں مر جاؤں تو یہ میرے اہلِ خانہ تک پہنچا دینا۔ جب وہ دینار والا صندوق قاضی شریح کے گھر کے تہہ خانہ میں لایا گیا تو اسے جان بوجھ کر الٹ دیا گیا اور ظاہر یہ کیا گیا کہ صندوق ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ قاضی شریح نے فورًا کہا کہ ان دینار کا ذکر کسی سے نہ کرو تو میں ایسا فتوٰی دینے کو تیار ہوں جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اس وقت ابن زیاد ملعون نے کہا فتوٰی کے لیے کوئی جواز بنایا جاتا ہے تم امامِ کائنات (علیہ السلام) کو شہید کرنے کا جواز بتاؤ گے۔ قاضی نے کہا میں فتوٰی میں لکھوں گا کہ امتِ مسلمہ میں فساد اور تخریب پیدا کرنا اور فتنہ پھیلانا وہ جرم ہے جس کی سزا قتل ہے کیونکہ حدیث شریف میں ہے یعنی فتنہ فساد پھیلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ قتل کی سزا قتل ہے مگر اس میں معافی کی گنجائش موجود ہے مگر فتنہ فساد اس سے بھی بڑا جرم ہے اس لیے اسکی سزا صرف قتل ہو سکتی ہے لہذا اس بات کو جوازِ قتل بنا دوں گا۔ اس وقت ابن زیاد ملعون نے کہا شاباش اے یزید کے نمک حلالو۔ پھر کوفہ میں سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کو قتل کرنے کا فتوٰی قاضی شریح ملعون نے دیا۔ پھر اس کے بعد باقی علماءِ سوء نے اس پر مہریں لگائیں۔ 📚 مجالس المنتظرین علی روضة المظلومین، جلد1، صفحہ258۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔶 3 اور 4 محرم الحرام 61 ہجری 🔶 اکثر کتب تواریخ میں مندرج ہے کہ تین محرم کو (یا چار محرم کو) عمر ابن سعد بن ابی وقاص نو ہزار یا چھ ہزار کا لشکر لے کر کربلا پہنچا. ابن زیاد ملعون نے چند دن پہلے ہی رے کی حکومت کا تحریری حکم نامہ اسے عطا کیا تھا (یعنی عمر ابن سعد کو رے کا حاکم مقرر کیا تھا). ابن سعد رے کی طرف سفر کرنے کی غرض سے مقام حمام اعین میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ امام حسین علیہ السلام کربلا پہنچے. ابن زیاد نے ابن سعد کو بلایا اور حکم دیا کہ تم رے سے پہلے کربلا جاؤ اور حسین کا معاملہ حل کرو. ابن سعد نے اس سے معذرت کی تو ابن زیاد ملعون نے اسے کہا کہ پھر تو حکومت رے کا حکم نامہ واپس کر دے. ابن سعد نے اس سے سوچ و بچار کے لیے ایک شب کی مہلت طلب کی اور پھر اگلے دن اس فعل کے لئے رضا مند ہو گیا. ابو مخنف بیان کرتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لئے جو پرچم سب سے پہلے بلند ہوا وہ اسی عمر ابن سعد کا تھا. یہ اپنا چھ ہزار فوجیوں کا لشکر لے کر کربلا پہنچا اور امام کے خیام کے سامنے اس نے اور اس کے لشکر نے پڑاؤ ڈال دیا. حر کا ایک ہزار اور ابن نمیر کا ایک ہزار کا لشکر پہلے ہی کربلا میں موجود تھا. ابن سعد نے کربلا پہنچ کر کثیر بن عبداللہ شعبی جو کہ ایک بد زبان اور بدتہذیب آدمی تھا، کو کہا کہ جاؤ اور حسین سے پوچھو کہ انہوں نے یہ سفر کیوں اختیار کیا ہے. کثیر جب امام کے خیمے کے پاس پہنچا تو اصحاب حسین نے اسے پہچان کر روک لیا اور کہا کہ امام تک جانے سے پہلے وہ اپنی تلوار یہیں چھوڑ دے. اس نے انکار کیا تو اصحاب نے کہا کہ پھر وہ اپنا پیغام ان کو سنا دے تاکہ اس پیغام کو امام تک پہنچایا جا سکے. کثیر اس پر بھی راضی نہ ہوا تو حضرت ابوثمامہ صایدی اور اس میں سخت تلخ کلامی ہو گئی اور کثیر بغیر پیغام دیئے واپس لوٹ گیا. پھر ابن سعد نے قرہ بن قیس حنظلی کو پیغام دے کر روانہ کیا. جب وہ امام کے خیام کے قریب پہنچا تو امام نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا کوئی اس کو جانتا ہے؟ تو امام کو بتایا گیا کہ یہ ایک اچھی رائے رکھنے والا آدمی ہے. لہٰذا اسے اجازت دی گئی. جب وہ امام کے قریب ہوا تو ابن سعد کا پیغام دیا تو تو امام نے فرمایا: ''تمہارے شہر کوفہ کے لوگوں نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی ہے لیکن اگر تم میرا آنا پسند نہیں کرتے تو میں واپس پلٹ جاؤں گا.'' قرہ بن قیس نے واپس آ کر امام کے جواب سے ابن سعد کو مطلع کیا. ابن سعد نے یہ سن کر ابن زیاد کو خط لکھا کہ حسین کے پاس میں نے قاصد بھیجے ہیں جن سے حسین نے کہا ہے کہ مجھے یہاں کے لوگوں نے خطوط لکھ کر بلایا ہے اور اب اگر وہ میرا یہاں آنا پسند نہیں کرتے تو میں واپس لوٹ جاؤں گا. فائد بن بکر عبسی کہتا ہے کہ جس وقت ابن زیاد نے ابن سعد کا یہ خط پڑھا تو میں ابن زیاد کے پاس موجود تھا. خط پڑھ کر ابن زیاد نے ایک شعر پڑھا ''اب جب کہ وہ ہمارے چنگل میں پھنس چکے ہیں تو ہم سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں. اب ہرگز ہم سے چھٹکارا نہ پا سکیں گے.'' ابن زیاد نے ابن سعد کے خط کے جواب میں اسے لکھا: ''تمہارا خط میں نے پڑھا اور وہ سب سمجھ لیا جس کا تم نے تذکرہ کیا ہے. حسین سے یہ کہو کہ وہ اور ان کے ساتھی، یزید کی بیعت کر لیں. جب وہ بیعت کر لیں گے تو پھر جو ہم مناسب سمجھیں گے ان کے ساتھ سلوک کریں گے." ابن سعد نے جب ابن زیاد کا جواب پڑھا تو کہا کہ میں سمجھ گیا، ابن زیاد امن و عافیت نہیں چاہتا. ↔⏪ چار محرم کو یزید ابن معاویہ کی چاپلوسی کی خاطر حکومت وقت کی نام نہاد اسلامی عدلیہ کے سربراہ قاضی شریح نے فتوی دیا کہ امام حسینؑ کا قتل عین اسلامی ہے. (نعوذ بااللہ) شہر کوفہ میں سرکاری سطح پر تلواروں کی تقسیم کی گئی اور نام نہاد مسلمان اپنے ہی رسول ؐ کے نواسے ؑ کو قتل کرنے روانہ ہوئے. یزید کا غرور ٹوٹ گیا کوئی مرتبہ نہ ملا، ستم کے بعد بھی کچھ حاصل جفا نہ ملا، سر حسین ملا ہے یزید کو ............. لیکن شکست یہ ہے کہ پھر بھی جھکا ہوا نہ ملا. خدا کی لعنت ہو امام حسینؑ کے قاتلوں پر، امام حسین ؑ کی اولاد کے قاتلوں پر، اور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کے قاتلوں پر. https://t.me/islamwitheman/7069 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

میں ایک غبار آلود ہوا چلی جس نے علیا مخدرہ بیبی زینب کبری سلام اللہ علیها کے چہرہ عصمت کو گرد آلود کردیا. اللہ اکبر! بیبی گھبرا کر بهائی کے پاس پہنچیں اور فرمانے لگیں بهیا حسین! جب سے اس میدان پر میں نے قدم رکھا ہے دل کا سکون باقی نہیں رہا ہے. بهیا یہاں سے جلدی نکل چلئے." یہ سن کر مظلوم کربلا بولے: "بہن! اللہ کیلئے تحمل کیجیے یہی ہمارا مستتقل ٹهکانہ ہے. اب یہیں بنو ہاشم کے جوان اپنے خاک و خون میں لوٹیں گے." پهر حسین علیہ السلام نے وہاں موجود قبیلہ بنی اسد کے لوگوں کو بلایا اور ان سے زمین کربلاء ساٹھ ہزار درہم میں خریدی. جسکی تفصیل یہاں لکھنے سے طوالت موضوع کا اندیشہ ہے. . بحوالہ (1) نفس المہموم- 192-193-194. (2) الارشاد 211- 212. (3) اللہوف 75. (4) تاریخ طبری 7/ 312. (5) بحار الانوار 44/ 385. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 2 محرم لشکر حسینی کی کربلا آمد 🔴 مکہ مکرمہ سے عراق میں داخلے کے بعد جب امام حسین علیہ صلواۃ و السلام قافلے سمیت بطن عقبہ سے آگے شراف کی منزل پر پہنچے تو نوجوانوں کو پانی لینے کا حکم دیا اور آدھے دن تک چلتے رہے آپ کے اصحاب کو دور کوئی چیز نظر آئی تو انہوں نے تکبیر کہی انہیں لگا کھجور کے درخت ہیں وہ بہت خوش ہوئے امام نے غور کرنے کا کہا تو انہوں نے کہا خدا کی قسم گھوڑوں کی گردنیں ہیں. لشکر کے آنے کا شبہ ہوا تو آپ نے قافلے کا رخ "ذوحسم" نامی پہاڑ کی طرف کرنے کا حکم دیا تاکہ جنگ کی صورت آسانی ہو. کچھ دیر میں حر بن یزید تمیمی ایک ھزار کے لشکر کے ساتھ آ پنہچا. سخت گرمی کی وجہ سے اس کی اور لشکر اور جانوروں کی پیاس سے حالت بہت خراب تھی. امام نے جانوروں سمیت لشکر سیراب کرنے کا حکم دیا پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں کوفیوں کو ان کے عہد و پیمان اور بھیجے گئے خطوط کے بارے میں پوچھا. امام کے سوالوں پر سب خاموش رہے اور آپ کو کوفہ ابن زیاد کے پاس لیجانے کو بضد رہے اسی بیچ ظہر و عصر کی نمازوں کے اوقات آئے. امام نے حر کو اپنے لشکر کو نماز پڑھانے کا کہا پر اس نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کا اسرار کیا امام آگے بڑھے اور دونوں لشکروں کو نماز پڑھائی. پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور خطبے کے ذریعے ان کے دلوں کو جنجھوڑا ان کو انہی کے بھیجے خطوط دکھائے حر نے ان خطوط سے لاتعلقی دکھائی اور اپنی پچھلی بات یعنی ابن زیاد کے حکم کو دوھرایا. امام کو غصہ آیا تو آپ نے قافلے کو سوار ہو کر روانہ ہونے کا حکم دیا جس پر حر نے ان کا رستہ روکنے کی کوشش کی آپ نے اسے کہا تیری ماں تیرے ماتم میں روئے جس پر حر نے شرمندہ ہو کر کہا میں آپ کو ایسا کچھ نہیں بول سکتا. آپ نے پھر اس کا ارادہ پوچھا اور اس نے دیئے گئے حکم کو دوھرایا. یہ سلسلہ پورا دن جاری رہا حر امام سے جنگ نہیں چاہتا تھا اس لیے آپ کو مدینہ اور کوفہ کے علاوہ کسی تیسری جگہ جانے کو کہا. امام قادسیہ اور عذیب سے بائیں طرف چلے حر کا لشکر ساتھ ساتھ چلتا رہا کہ انہوں نے کوفہ کی طرف سے چار سواروں کو اوٹوں پر آتے دیکھا وہ امام سے آکر ملے اور انہیں کوفہ اور وہاں جمع ہونے والے لشکر کے حالات اور حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے انصار کے حالات سے آگاہ کیا. قافلہ عذیب ھجانات سے ہو کر قصر بنی مقاتل پہنچا امام وہاں کچھ دیر رکے رات کے پچھلے پہر امام نے پانی لینے کا حکم دیا اور وہاں سے روانہ ہوئے صبح کے وقت اترے نماز ادا کی اور پھر سوار ہوئے آپ بائیں طرف جانا چاہتے تھے حر نے رستہ روکا وہ امام کو کوفہ لیجانا چاہتا تھا اسی اثنا و حالات کے چلتے دونوں لشکر نینوا کی حد پار کر کے کربلا پہنچے دور سے ایک سوار آتا دکھا قافلے رک گئے اور اس کا انتظار کرنے لگے. حر نے کہا خدا کی قسم میں ابن زیاد کی مخالفت نہیں کر سکتا اس قاصد کی وجہ سے جو مجھ پر نگھبان بنا کر بھیجا گیا ہے. زھیر بن قین نے کہا اے فرزند رسول اس وقت جب کہ ان کی تعداد کم ہے ہمارے لیے ان سے جنگ کرنا اور ھرانا آسان ہے اس سے قبل کہ وہ بڑا لشکر آئے آپ نے فرمایا مجھے جنگ میں پہل پسند نہیں آپ اترے اور اھلبیت نے اپنے خیمے وہاں نصب کیے. وہ سوار ابن زیاد کا قاصد تھا اور حر کے نام خط لایا جس میں حکم تھا کہ امام پر معاملات تنگ کرے اور آپ کو ایسی جگہ اتارے جہاں کوئی آبادی و پانی نہ ہو حکم کی بجاآوری تک یہ قاصد حر کے ساتھ رہ کر ابن زیاد کو خبر کرے گا. حر نے خط امام اور ان کے اصحاب کے سامنے پڑھا اور انہیں اسی ویران جگہ اترنے کا کہا امام نے کہا اجازت دو تو ہم نینوا، غاضر یا کسی دوسری بستی جہاں آبادی و پانی ہو وہاں جاکر اتر جاتے ہیں.. یہ واقعہ 2 محرم الحرام 61 ھجری بروز جمعرات کا ہے آپ نے پوچھا اس زمیں کو کیا کہتے ہیں کہا گیا "کربلا" امام نے جب یہ نام سنا تو کہا الھم اني اعوذ بك من الكرب و البلاء "اے اللہ میں رنج و مصیبت سے تیری پناہ چاہتا ہوں" پھر فرمایا یہ کرب و بلا مشقت اور رنج کا مقام ہے اترو یہاں ہماری مقتل گاہ و قبر گاہ ہے جیسا کہ میرے نانا نے مجھے باخبر کیا تھا.. لعنة الله على قوم الظالمين. (منتہی الآمال) 🔲 نفس المہموم میں شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ لکہتے ہیں دو محرم کو ابا عبد اللہ علیہ السلام کا قافلہ حدود کربلا میں وارد ہوا. یہاں پہنچنے کے بعد حسین علیہ السلام کا گھوڑا آگے نہ بڑھا اور جب آپ نے اس زمین کے متعلق دریافت کیا تو اپ کو بتایا گیا کہ یہ"کرب و بلاء" ہے. یہ سنکر آپ نے باآواز بلند کلمہ استرجاع بلند کیا اور فرمایا "کرب و بلاء" "ہم اللہ سے "کرب" اور "بلاء" کی سختی سے پناہ چاہتے ہیں." روایت کہتی ہے کہ حسین علیہ السلام نے سواری سے اتر کر خاک کربلاء سونگھی پهر روئے اور فرمایا: "اللہ کی قسم! اس مٹی سے ہمارے خون کی خوشبو آ رہی ہے. پس یہی ہمارا وعدہ گاہ ہے. یہیں ہم قتل ہونگے اور یہاں سے ہی کل ہم اللہ کے روبرو محشور ہونگے." پهر اہل بیت و اصحاب کو یہاں خیمے نصب کرنیکا حکم دیا. اتنے

photo content

photo content

مقامات پر عالمی یوم علی اصغرعلیہ السلام کی مجالس منعقد کی جائیں گی جن میں ایک کڑور خواتین کی اپنے شیر خوار بچوں کے ساتھ شرکت متوقع ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عالمی یوم علی اصغر علیہ السلام ہرسال محرم الحرام کے پہلے جمعہ کو منایا جاتا ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مرد و خواتین اپنے شیر خوار بچوں کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت کر کے، شیر خوار کربلا کی یاد مناتے ہیں. یا اللہ شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کا صدقہ ہماری حاجات کو پورا فرما اور بے اولاد مؤمنين کو نیک اولاد نرینہ عطا فرما. https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔴 یوم علی اصغر علیہ السلام 🔴 وہ زور سے چلائی: فار گاڈ سیک! اب یہ نہ کہہ دینا کہ اس نے تیر چلا دیا... یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اسکا چھ ماہ کا بچہ اسکے ہاتھوں سے گرنے لگا تو گائیڈ نے تیزی سے لپک کر بچے کو تھام لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسٹر گائیڈ، یہ جلوس کیسا ہے؟ بہت عجیب سا لگ رہا ہے، لوگ اپنے سینے پیٹ رہے ہیں، بڑے بڑے بلیک فلیگز (علم) اٹھائے ہوئے ہیں اور بہت ہی غمگین انداز میں سیڈ سونگز (نوحہ) پڑھ رہے ہیں؟ ایامِ عزا میں ہندوستان کے ٹؤر پر آئی ہوئی انگریز عورت نے بڑی حیرت سے اپنے گائیڈ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور ساتھ ہی گود میں اٹھائے ہوئے اپنے چھ ماہ کے بچے کو پیار کرنے لگی. ہندو گائیڈ نے بتایا کہ یہ ہمارے ملک ہندوستان کے شیعہ مسلمز ہیں اور تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال پہلے ان کے بادشاہ اور سولجرز کو ایک ظالم بادشاہ کی فوج نے عراق کے ایک صحرا میں تین دن کے بھوکے پیاسوں کو قتل کر دیا تھا اور اس شاہی خاندان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا تھا. انگریز ٹؤرسٹ لیڈی نے حیرت اور افسوس کے ملے جلے تاثرات سے پوچھا کہ انکو اس سانحے کی اب اطلاع ہوئی جو اسقدر غم منا رہے ہیں؟ نہیں میڈم، یہ تو ہر سال 10 محرم کو ایسے ہی کرتے ہیں، گائیڈ نے اسکی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور حیرت دیکھ کر بتایا. پھر وہ جلوس عزا میں مختلف شبیہات، ذوالجناح، علم، تعزیہ کے بارے تفصیل پوچھتی رہی اور گائیڈ اسے بتاتا رہا یہ گھوڑا اور تعزیہ اس بادشاہ کے گھوڑے اور روضہ کی شبیہ ہے، علم اس فوج کے جرنیل کے علم کی شبیہ ہے، پانی کی سبیل انکی پیاس کی یاد میں ہے وغیرہ وغیرہ، اور یہ لوگ اسی طرح ہر سال انکی یاد مناتے ہیں. اس انگریز عورت کی دلچسپی اب مزید بڑھتی جا رہی تھی. اچانک اسکی نظر جلوس میں ایک چھوٹے سے جھولے پر پڑی اور وہیں رک گئی، جھولے کے گرد بہت سی خواتین و مرد جمع تھے اور رو رو کر ماتم کر رہے تھے. اس نے اپنے بچے کو گود میں سمیٹتے ہوئے عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے گائیڈ سے پوچھا: "گائیڈ، وھاٹ از دِس؟" اسکے اس سوال پر گائیڈ نے مضطرب ہوتے ہوئے بتایا کہ یہ اس بادشاہ کے چھ ماہ کے پرنس کے جھولے کی شبیہ ہے. چونکہ اتفاق سے اس لیڈی کی گود میں بھی چھ ماہ کا بچہ تھا تو اسکی گہری دلچسپی اور انہماک اس جھولے میں بیقراری کی حد تک بڑھ گیا اور کہنے لگی پلیز مجھے اسکے بارے تفصیل بتاؤ. گائیڈ نے بتایا کہ جب اس بادشاہ کی فوج کے تمام سولجرز مار دیئے گئے تو بادشاہ اپنے چھ ماہ کے پرنس کو جو کہ بہت ہی خوبصورت تھا، دشمن کی فوج کے سامنے لے آیا اور کہنے لگا یہ بچہ تین دن سے بھوکا اور پیاسا ہے، اسکی مدر کا بھوک اور پیاس کیوجہ سے دودھ خشک ہو گیا ہے، دیکھو تمہاری دشمنی تو مجھ سے ہے، اس بچے کا تو کوئی قصور نہیں، بس اسے چند گھونٹ پانی کے پلا دو. تو کیا پھر دشمن فوج نے اس پرنس کو پانی پلا دیا ہوگا نا؟؟؟ گلوگیر آواز میں اس لیڈی نے گھبرا کر گائیڈ سے پوچھا اور اپنے بچے کو مضبوطی کیساتھ اپنے سینے سے لگا لیا... نو میڈم، پانی نہیں دیا گیا اس پرنس کو، گائیڈ نے نہایت افسردگی سے جواب دیا تو اس نے انتہائی بیقراری سے پوچھا کہ اچھا پھر کیا ہوا؟ یہ پوچھتے ہوئے افسردگی سے اسکی کیفیت عجیب ہو گئی تھی. گائیڈ نے بتایا کہ دشمن فوج کے کمانڈنگ ان چیف نے اپنی فوج کے ایک ماہر نشانے باز کو حکم دیا کہ اس بادشاہ کے پرنس کو جلدی سے تیر مار کر مار دو کیونکہ ظالم فوج میں اضطراب بڑھ رہا ہے اس واقعہ کیوجہ سے، یہ سن کر اس تیر انداز نے ایک بڑا وزنی تیر کمان میں چڑھایا، یہ جان کر وہ لیڈی رونے لگی اور جب گائیڈ نے بتایا کہ نشانے باز نے چلانے کیلیئے تیر کھینچا تو اس چھ ماہ کے پرنس کی مدر خیمے سے یہ سب منظر دیکھ رہی تھی... یہ سننا تھا کہ وہ لیڈی زور سے چلائی، فار گاڈ سیک! اب کہیں یہ مت کہہ دینا کہ اس نے تیر چلا دیا اور وہ تیر اس پرنس کو لگ گیا... یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بے اختیاری میں اسکا بچہ اسکی گود سے گرنے لگا تو گائیڈ نے تیزی سے لپک کر تهام لیا.... 🔴 عالمی دن 🔴 شیر خوار کربلا کی یاد میں عالمی یوم علی اصغر علیہ السلام جمعہ کو دنیا کے اکتالیس ملکوں میں بیک وقت منایا جائے گا عالمی علی اصغر علیہ السلام کونسل کے سیکریٹری داود منافی پور نے بتایا ہے کہ اس سال دنیا کے جن اکتالیس ملکوں میں عالمی یوم علی اصغر علیہ السلام منایا جائے ان میں برطانیہ، روس، جرمنی اور سوئیڈن بھی شامل ہیں۔ انہوں کہا کہ سعودی عرب، یمن، عراق، ترکی، پاکستان، ہندوستان، سنگاپور اورتھائی لینڈ سمیت دنیا کے اکتالیس ملکوں میں عالمی یوم علی اصغر کی مجالس بیک وقت شروع ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی اصغر علی علیہ السلام کی شہادت واقعہ کربلا کی جانب دنیا بھر کے انسانوں کی توجہ مبذول کرا سکتی ہے اور اس میں تسخیر قلوب کی بے پناہ طاقت موجود ہے۔ داؤد منافی پور نے مزید کہا کہ اس سال ایران میں ساڑھے تین ہزار