ru
Feedback

Не попадитесь на канал ботавода! Telemetrio находит и помечает такие каналы 👉 Хотите видеть метку — оформите подписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Открыть в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Больше
1 284
Подписчики
-124 часа
-37 дней
-730 дней
Архив постов
"بنیان المرصوص" کیا ہے ؟ "بُنیانٌ مَرصوصٌ" قرآنِ مجید میں سورۃ الصف، آیت 4 سے لیا گیا ہے : اللَّهُ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ ترجمہ: "اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔" لغوی معنی: بنیان: عمارت، بنیاد، دیوار مرصوص: سیسہ پلائی ہوئی، مضبوطی سے جُڑی ہوئی، سختی سے جمی ہوئی یعنی ایک ایسی دیوار جو پختہ ہو، جس میں کوئی دراڑ یا خلا نہ ہو۔ مفہوم اور مقصد: یہ آیت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے اتحاد، نظم و ضبط اور یکجہتی کو بیان کرتی ہے۔ ان مجاہدین کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ صف باندھ کر، مکمل اتحاد کے ساتھ لڑتے ہیں جیسے ایک مضبوط دیوار ہو۔ تفسیر : علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں کو اتحاد، نظم، اور باہم یکجہتی کی تلقین کرتی ہے۔ امام رازی کے مطابق "بنیان مرصوص" سے مراد ہے وہ جماعت جو دل و جان سے اللہ کے راستے میں کھڑی ہو اور ان کے درمیان فکری و عملی اتحاد ہو۔ مولانا مودودی نے کہا کہ یہ آیت اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ مسلمان اللہ کی راہ میں منظم، متحد اور ایک مقصد کے تحت کام کریں، چاہے میدانِ جنگ ہو یا کوئی دوسرا کام۔ 🔘 عملی پیغام: یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ امت مسلمہ میں اتحاد ہو، ہر فرد اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہے۔ اللہ کی راہ میں جدوجہد منظم طریقے سے کی جائے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

photo content

photo content

photo content

پاکستان نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، عالمی ماہرین بھی حیران پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد عالمی دباؤ پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا سیکیورٹی اور دفاعی تجزیہ کار مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ پاکستان کی جدید تکنیکی صلاحیتوں نے بھارت کو حیرت میں ڈال دیا ہے، خاص طور پر اگر پاکستانی جے 10 سی طیارے نے بھارتی رافیل کو مار گرایا ہو تو یہ واقعی ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں چینی ساختہ اینٹی ایئر کرافٹ ڈیفنس سسٹم مؤثر انداز میں استعمال کیا، جس سے بھارت کو شدید دھچکا لگا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے سینئر صحافی نک رابرٹسن نے انکشاف کیا کہ بھارت نے پہلے پاکستان کی ایئر بیسز پر حملہ کیا، جس کے بعد پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل حملوں سے بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا۔ بی بی سی جنوبی ایشیا کے ریجنل ایڈیٹر اینبرسن اتھرجان نے کہا کہ بھارت کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان کی فضائی طاقت اس وقت بھارت سے برتر ہے۔ بھارت کا منصوبہ پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا تھا، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ آپریشن "بُنْيَان مَّرْصُوْص" (آہنی دیوار) کے دوران پاکستان نے بھارت کے اندر 10 سے زائد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جن میں آدم پور، ادھم پور، بٹھنڈا، سورت گڑھ، مامون، جموں، سرسہ اور برنالہ کی ایئر بیسز شامل ہیں۔ پاکستان نے جدید "فتح 1" میزائل سسٹم استعمال کرتے ہوئے بھارتی ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کیا، جو ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کا تھا۔ اس کامیاب حملے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ پاکستان کی اس مؤثر جوابی کارروائی کے بعد عالمی دباؤ پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

🇺🇸 ایسوسی ایٹڈ پریس (AP News) ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے چینی ساختہ JF-17 طیاروں اور Fatah-II میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل، ایک MiG-29 اور ایک Su-30 شامل ہیں۔ 🇬🇧 دی گارڈین (The Guardian) دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے بھارت کے "آپریشن سندور" کے جواب میں "آپریشن بنیان المرسوس" کے تحت جوابی کارروائیاں کیں، جس میں بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ 🇺🇸 این پی آر (NPR) این پی آر نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی ثالثی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں جوابی کارروائیاں کیں، جس کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ 🌹🌹🌹🌹🌹

*بین الاقوامی میڈیا* آج، 10 مئی 2025 کو، بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان ایئر فورس (PAF) کی حالیہ پاک-بھارت تنازع میں کارکردگی کو سراہا ہے۔ ذیل میں چند اہم رپورٹس اور حوالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں جو PAF کی کارکردگی اور جوابی کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کی عکاسی کرتے ہیں: 🇺🇸 ریوٹرز (Reuters) ریوٹرز کی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے چینی ساختہ J-10C لڑاکا طیاروں نے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔ یہ لڑاکا طیارے PL-15E میزائلوں سے لیس تھے، جو کہ جدید ترین بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل ہیں۔ 🇫🇷 فرانسیسی اخبار "Le Monde" فرانسیسی اخبار "Le Monde" نے اپنی رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں نے بھارتی رافیل طیاروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 🇬🇧 دی سن (The Sun) برطانوی اخبار "The Sun" نے رپورٹ کیا کہ 7 مئی 2025 کو 100 سے زائد بھارتی اور پاکستانی جنگی طیاروں کے درمیان ایک بڑی فضائی جھڑپ ہوئی، جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی "ڈاگ فائٹ" قرار دیا گیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ 🇺🇸 بزنس انسائیڈر (Business Insider) بزنس انسائیڈر نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے چینی ساختہ J-10C طیاروں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ یہ J-10C طیارے پہلی بار کسی حقیقی جنگی صورتحال میں استعمال ہوئے۔ 🇺🇸 ایسوسی ایٹڈ پریس (AP News) ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے چینی ساختہ JF-17 طیاروں اور Fatah-II میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل، ایک MiG-29 اور ایک Su-30 شامل ہیں۔ 🇬🇧 دی گارڈین (The Guardian) دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے بھارت کے "آپریشن سندور" کے جواب میں "آپریشن بنیان المرسوس" کے تحت جوابی کارروائیاں کیں، جس میں بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ 🇺🇸 این پی آر (NPR) این پی آر نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی ثالثی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں جوابی کارروائیاں کیں، جس کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ 🇺🇸 دی وار زون (The War Zone) دی وار زون نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں تین رافیل طیارے شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے بھارتی طیاروں کو "ٹکڑے ٹکڑے" کر دیا۔ 🇺🇸 فنانشل ٹائمز (Financial Times) فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے بھارتی فضائی حملوں کے جواب میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائیاں کیں۔ پاکستان نے بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ 🇺🇸 ایسوسی ایٹڈ پریس (AP News) ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ بھارت نے پاکستانی علاقے میں میزائل حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کا الزام لگایا۔ 🇬🇧 دی گارڈین (The Guardian) دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں جوابی کارروائیاں کیں، جن میں بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی طیارے مار گرائے۔ 🇺🇸 بزنس انسائیڈر (Business Insider) بزنس انسائیڈر نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے چینی ساختہ J-10C طیاروں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ یہ J-10C طیارے پہلی بار کسی حقیقی جنگی صورتحال میں استعمال ہوئے۔ 🇺🇸 ریوٹرز (Reuters) ریوٹرز نے رپورٹ کیا کہ دنیا بھر کی افواج اس فضائی جھڑپ کا مطالعہ کر رہی ہیں تاکہ پائلٹس، لڑاکا طیاروں اور فضائی میزائلوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ جھڑپ جدید جنگی حکمت عملیوں کے لیے اہم سبق فراہم کرتی ہے۔ 🇺🇸 ریوٹرز (Reuters) ریوٹرز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے چینی ساختہ J-10C طیاروں نے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔ یہ طیارے PL-15E میزائلوں سے لیس تھے۔ 🇬🇧 دی سن (The Sun) دی سن نے رپورٹ کیا کہ 7 مئی 2025 کو 100 سے زائد بھارتی اور پاکستانی جنگی طیاروں کے درمیان ایک بڑی فضائی جھڑپ ہوئی، جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی "ڈاگ فائٹ" قرار دیا گیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ 🇺🇸 بزنس انسائیڈر (Business Insider) بزنس انسائیڈر نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے چینی ساختہ J-10C طیاروں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا۔ یہ J-10C طیارے پہلی بار کسی حقیقی جنگی صورتحال میں استعمال ہوئے۔

جب چوھدری کا مرغا مار کھا رہا ہوتا ہے تو چوہدری لڑائی رکوا دیتا ہے۔

پاکستان کے ڈرونز نے مت ماری ہوئی تھی ۔ روسی ساختہ دفاعی نظام تباہ ہو چکا تھا ۔ ملٹری ڈیفینس کے سیٹیلائٹ پر سائبر اٹیک ہوا تھا اور وہ ہیک ہو چکا تھا ۔ بھارت کے ستر فیصد علاقوں کی بجلی پاکستان نے کنٹرول کر کے معطل کر دی تھی ۔ اس قدر برا حال تھا کہ بھارت کے معمولی کسان سے لے کر بھارت کے وزیر اعظم تک ۔ کسی کو صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں پتہ نہیں تھا ۔ بھارت کی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اگر پاکستان رک جائے تو ہم بھی مزید تناؤ نہیں چاہتے ۔ یہ بھارت کا اعتراف شکست تھا کہ ہماری بس ہو چکی ہے ۔ وہ بھارت جسے پوری دنیا سمجھا رہی تھی کہ اس جنگی جنون سے باز آجاؤ لیکن وہ باز نہیں آرہا تھا ۔ پھر پاکستان نے اسے تین گھنٹے سمجھایا اور وہ سمجھ گیا ۔ نہ صرف وہ سمجھ گیا بلکہ اس کے پیچھے بیٹھے سب دشمن سمجھ گئے ۔ وہ منصوبہ جس کو کئی ہفتوں تک طول دے کر دشمن پاکستان کو زچ کرنا چاہتا تھا اسے پاکستان نے محض چند گھنٹے میں لپیٹ کر دنیا کے منہ پر مار دیا ۔ تماشا پاکستان کا دیکھنا تھا ۔ تماشا بھارت کا لگ گیا۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

پاکستان آزما لیا گیا اور جو نتائج نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے تو قابل فخر ہیں لیکن دنیا کے لیئے انتہائی خوفناک ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم پہلے اپنی کچھ قائدانہ کمزوریوں کی وجہ سے ایک خودساختہ احساس کمتری میں مبتلا تھے ۔ لیکن پاک افواج نے صرف تین گھنٹے میں ہماری سوچ, دنیا کی سوچ اور خطے کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ۔ ایک سوچ تھی کہ "پاکستان دس دن جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔" وہ اس سوچ میں بدل گئی کہ "پاکستان دس دن میں بھارت جیسے دس ممالک کو دس مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔" اگر میں آپ کو کل ملا کر بتاؤں تو پاکستان نے محض تین گھنٹے 45 منٹ کی جنگ میں بھارت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور جب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی کہ صرف ایک پھونک مارنی تھی اور پورا بھارت اس گڑھے میں غرق ہو جاتا تو دنیا کے وہ چوہدری جو پیپسی اور لیز چپس کے پیکٹ لے کر صرف تماشا دیکھنے بیٹھے تھے وہ سب کچھ پھینک کر اس تماشے میں کودنے پر مجبور ہو گئے ۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ مودی نے ٹرمپ کو فون کیا ۔ مودی نے ؟ ؟ ؟ کیا مودی کا فون کام کر رہا تھا ؟ ؟ کیا مودی کا دماغ کام کر رہا تھا ؟ ؟ کیا مودی کے حواس کام کر رہے تھے ؟ ؟ مودی کو تو جب ہوش آیا ہو گا تو کچھ اس قسم کے کلمات منہ سے نکل رہے ہوں گے ۔ ۔ میں کِتھے آں؟ توُں کون اِیں؟ اے کی اے؟ میں پاگل آں ؟ توں پاگل ایں ۔ ہیں ... اوۓ۔۔ اے کون اے؟ وہ تو پوچھ رہا ہو گا کہ کیا بھارت تباہ ہو گیا اور ہم سب سورگ میں ہیں ؟ پھر اسے بتایا گیا ہو گا کہ نہیں آپ سب کو بچا لیا گیا ہے ۔ ٹرمپ صاحب موقع پر پہنچ گئے تھے ۔ ٹرمپ نے بھگوان بن کر ان کی مدد کی ہے ۔ اب یہ اسی کو پوجیں گے ۔ ورنہ ان کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کہاں کہاں سے میزائل آرہے ہیں اور کہاں کہاں گر رہے ہیں ۔ کیا کیا تباہ ہو گیا اور بچا کیا ہے ۔ اور اور وہ جو ہمارا روسی ساختہ دنیا کا نمبر ون دفاعی نظام تھا وہ کہاں چلا گیا ؟ وہ کیا کر رہا ہے ؟ مودی کے اس جنگی جنون کی پوری عمارت تین ستونوں پر کھڑی تھی ۔ 1 ۔ رافیل طیارے ناقابل شکست ہیں ۔ 2 ۔ بھارت کے دفاعی نظام کے ہوتے ہوئے یہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا ۔ 3 ۔ پاکستان بھارت کے آگے دس دن نہیں ٹک سکتا ۔ ان تینوں ستونوں کو زمین بوس ہونے میں 3 گھنٹے اور 45 منٹ لگے ۔ پہلا ستون رافیل تو اسی دن گر گیا جس دن بھارت نے حملہ کیا ۔ دوسرے ستون روسی ساختہ دفاعی نظام کو گرانے کے لیئے پاکستان نے اپنے صرف دو پرندے بھیجے تھے اور ان دو پرندوں نے اس جدید ترین دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا ۔ کیسے کیا ؟ کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی ؟ ایمانداری سے کہوں تو خود میں بھی ابھی تک سمجھ نہیں پایا کہ پاکستان نے یہ کیا کیسے ۔ وہ روسی ساختہ دفاعی نظام بلامبالغہ پچاس طیاروں اور اتنے ہی میزائلز کو ایک ہی وقت میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔ کچھ کہتے ہیں وہ کمپرومائزڈ ہو چکا تھا ۔ ۔ ہیک ہو چکا تھا ۔ ۔ لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں ان شاہینوں کو جنہیں بتا کر بھیجا گیا تھا کہ اس مشن سے واپسی ناممکن ہے لیکن آپ نے ٹارگٹ ہٹ کرنے سے پہلے ہٹ نہیں ہونا ۔ انہوں نے ٹارگٹ بھی ہٹ کیا اور الحمدللہ واپس بھی آگئے ۔ بھارت کا سب سے بڑا بت ٹوٹنے کے بعد پورا بھارت پاکستانی میزائیلوں کے رحم و کرم پر تھا ۔ کوئی روکنے والا نہیں تھا ۔ پاکستان دس دن جنگ نہیں لڑ سکتا ؟ ؟ یہ جملہ پاکستان کے لیئے ایسا ہی ہے جیسے کوئی مائک ٹائسن کو کہے کہ تم تیسرا راؤنڈ نہیں لڑ سکتے ۔ تھک جاؤ گے ۔ مائک ٹائسن کے آگے تیسرا راؤنڈ کبھی کسی باکسر نے دیکھا بھی ہے ۔ مائک ٹائسن کی فائٹ میں صرف پہلے راؤنڈ کے تین گھنٹے ریفری بجاتا تھا ۔ اس کے بعد کے سارے گھنٹے مائک ٹائسن خود بجاتا تھا ۔ مخالف کی آنکھ پھر ہسپتال میں کھلتی تھی اور وہ نرس سے پوچھتا تھا کہ کیا دوسرا راؤنڈ نہیں ہو گا ؟ نرس اسے دلاسا دیتی تھی کہ ہو گا بابا ۔ ضرور ہو گا ۔ لیکن فی الحال تمہاری ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ۔ بازو کی ہڈی چار جگہ سے فریکچر ہے ۔ سر پر گہری چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا دماغ ابھی اگلے کئی سال تک کے لیئے ماؤف ہو چکا ۔ چار پسلیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اب تم مائیک ٹائسن تو کیا کسی کے بھی سامنے سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ کچھ علاج کروا لو ۔ ٹھیک ہو جاؤ ۔ پھر لڑ لینا ۔ بھارت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔ مکمل ناک آؤٹ ۔ ان تین گھنٹوں کی گولہ باری میں مودی کے اختیار سے سب کچھ نکل چکا تھا ۔ رافیل کی پہلے ہی مٹی پلید ہو چکی تھی لہٰذا انتہائی ضرورت کے باوجود پاکستانی جے ایف تھنڈر کے مقابلے میں بھارت کے کسی طیارے نے اڑان نہیں بھری ۔ ہمارے طیارے بھارت کی فضاؤں میں اکیلے دندناتے پھر رہے تھے ۔

پاکستان کے ڈرونز نے مت ماری ہوئی تھی ۔ روسی ساختہ دفاعی نظام تباہ ہو چکا تھا ۔ ملٹری ڈیفینس کے سیٹیلائٹ پر سائبر اٹیک ہوا تھا اور وہ ہیک ہو چکا تھا ۔ بھارت کے ستر فیصد علاقوں کی بجلی پاکستان نے کنٹرول کر کے معطل کر دی تھی ۔ اس قدر برا حال تھا کہ بھارت کے معمولی کسان سے لے کر بھارت کے وزیر اعظم تک ۔ کسی کو صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں پتہ نہیں تھا ۔ بھارت کی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اگر پاکستان رک جائے تو ہم بھی مزید تناؤ نہیں چاہتے ۔ یہ بھارت کا اعتراف شکست تھا کہ ہماری بس ہو چکی ہے ۔ وہ بھارت جسے پوری دنیا سمجھا رہی تھی کہ اس جنگی جنون سے باز آجاؤ لیکن وہ باز نہیں آرہا تھا ۔ پھر پاکستان نے اسے تین گھنٹے سمجھایا اور وہ سمجھ گیا ۔ نہ صرف وہ سمجھ گیا بلکہ اس کے پیچھے بیٹھے سب دشمن سمجھ گئے ۔ وہ منصوبہ جس کو کئی ہفتوں تک طول دے کر دشمن پاکستان کو زچ کرنا چاہتا تھا اسے پاکستان نے محض چند گھنٹے میں لپیٹ کر دنیا کے منہ پر مار دیا ۔ تماشا پاکستان کا دیکھنا تھا ۔ تماشا بھارت کا لگ گیا۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

Syed Sajjad Hussain Hamdani: پاکستان آزما لیا گیا اور جو نتائج نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے تو قابل فخر ہیں لیکن دنیا کے لیئے انتہائی خوفناک ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم پہلے اپنی کچھ قائدانہ کمزوریوں کی وجہ سے ایک خودساختہ احساس کمتری میں مبتلا تھے ۔ لیکن پاک افواج نے صرف تین گھنٹے میں ہماری سوچ, دنیا کی سوچ اور خطے کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ۔ ایک سوچ تھی کہ "پاکستان دس دن جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔" وہ اس سوچ میں بدل گئی کہ "پاکستان دس دن میں بھارت جیسے دس ممالک کو دس مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔" اگر میں آپ کو کل ملا کر بتاؤں تو پاکستان نے محض تین گھنٹے 45 منٹ کی جنگ میں بھارت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور جب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی کہ صرف ایک پھونک مارنی تھی اور پورا بھارت اس گڑھے میں غرق ہو جاتا تو دنیا کے وہ چوہدری جو پیپسی اور لیز چپس کے پیکٹ لے کر صرف تماشا دیکھنے بیٹھے تھے وہ سب کچھ پھینک کر اس تماشے میں کودنے پر مجبور ہو گئے ۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ مودی نے ٹرمپ کو فون کیا ۔ مودی نے ؟ ؟ ؟ کیا مودی کا فون کام کر رہا تھا ؟ ؟ کیا مودی کا دماغ کام کر رہا تھا ؟ ؟ کیا مودی کے حواس کام کر رہے تھے ؟ ؟ مودی کو تو جب ہوش آیا ہو گا تو کچھ اس قسم کے کلمات منہ سے نکل رہے ہوں گے ۔ ۔ میں کِتھے آں؟ توُں کون اِیں؟ اے کی اے؟ میں پاگل آں ؟ توں پاگل ایں ۔ ہیں ... اوۓ۔۔ اے کون اے؟ وہ تو پوچھ رہا ہو گا کہ کیا بھارت تباہ ہو گیا اور ہم سب سورگ میں ہیں ؟ پھر اسے بتایا گیا ہو گا کہ نہیں آپ سب کو بچا لیا گیا ہے ۔ ٹرمپ صاحب موقع پر پہنچ گئے تھے ۔ ٹرمپ نے بھگوان بن کر ان کی مدد کی ہے ۔ اب یہ اسی کو پوجیں گے ۔ ورنہ ان کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کہاں کہاں سے میزائل آرہے ہیں اور کہاں کہاں گر رہے ہیں ۔ کیا کیا تباہ ہو گیا اور بچا کیا ہے ۔ اور اور وہ جو ہمارا روسی ساختہ دنیا کا نمبر ون دفاعی نظام تھا وہ کہاں چلا گیا ؟ وہ کیا کر رہا ہے ؟ مودی کے اس جنگی جنون کی پوری عمارت  تین ستونوں پر کھڑی تھی ۔ 1 ۔ رافیل طیارے ناقابل شکست ہیں ۔ 2 ۔ بھارت کے دفاعی نظام کے ہوتے ہوئے یہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا ۔ 3 ۔ پاکستان بھارت کے آگے دس دن نہیں ٹک سکتا ۔ ان تینوں ستونوں کو زمین بوس ہونے میں 3 گھنٹے اور 45 منٹ لگے ۔ پہلا ستون رافیل تو اسی دن گر گیا جس دن بھارت نے حملہ کیا ۔ دوسرے ستون روسی ساختہ دفاعی نظام کو گرانے کے لیئے پاکستان نے اپنے صرف دو پرندے بھیجے تھے اور ان دو پرندوں نے اس جدید ترین دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا ۔ کیسے کیا ؟ کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی ؟ ایمانداری سے کہوں تو خود میں بھی ابھی تک سمجھ نہیں پایا کہ پاکستان نے یہ کیا کیسے ۔ وہ روسی ساختہ دفاعی نظام بلامبالغہ پچاس طیاروں اور اتنے ہی میزائلز کو ایک ہی وقت میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔ کچھ کہتے ہیں وہ کمپرومائزڈ ہو چکا تھا ۔ ۔ ہیک ہو چکا تھا ۔ ۔ لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں ان شاہینوں کو جنہیں بتا کر بھیجا گیا تھا کہ اس مشن سے واپسی ناممکن ہے لیکن آپ نے ٹارگٹ ہٹ کرنے سے پہلے ہٹ نہیں ہونا ۔ انہوں نے ٹارگٹ بھی ہٹ کیا اور الحمدللہ واپس بھی آگئے ۔ بھارت کا سب سے بڑا بت ٹوٹنے کے بعد پورا بھارت پاکستانی میزائیلوں کے رحم و کرم پر تھا ۔ کوئی روکنے والا نہیں تھا ۔ پاکستان دس دن جنگ نہیں لڑ سکتا ؟ ؟ یہ جملہ پاکستان کے لیئے ایسا ہی ہے جیسے کوئی مائک ٹائسن کو کہے کہ تم تیسرا راؤنڈ نہیں لڑ سکتے ۔ تھک جاؤ گے ۔ مائک ٹائسن کے آگے تیسرا راؤنڈ کبھی کسی باکسر نے دیکھا بھی ہے ۔ مائک ٹائسن کی فائٹ میں صرف پہلے راؤنڈ کے تین گھنٹے ریفری بجاتا تھا ۔ اس کے بعد کے سارے گھنٹے مائک ٹائسن خود بجاتا تھا ۔ مخالف کی آنکھ پھر ہسپتال میں کھلتی تھی اور وہ نرس سے پوچھتا تھا کہ کیا دوسرا راؤنڈ نہیں ہو گا ؟ نرس اسے دلاسا دیتی تھی کہ ہو گا بابا ۔ ضرور ہو گا ۔ لیکن فی الحال تمہاری ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ۔ بازو کی ہڈی چار جگہ سے فریکچر ہے ۔ سر پر گہری چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا دماغ ابھی اگلے کئی سال تک کے لیئے ماؤف ہو چکا ۔ چار پسلیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اب تم مائیک ٹائسن تو کیا کسی کے بھی سامنے سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔ کچھ علاج کروا لو ۔ ٹھیک ہو جاؤ ۔ پھر لڑ لینا ۔ بھارت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔ مکمل ناک آؤٹ ۔ ان تین گھنٹوں کی گولہ باری میں مودی کے اختیار سے سب کچھ نکل چکا تھا ۔ رافیل کی پہلے ہی مٹی پلید ہو چکی تھی لہٰذا انتہائی ضرورت کے باوجود پاکستانی جے ایف تھنڈر کے مقابلے میں بھارت کے کسی طیارے نے اڑان نہیں بھری ۔ ہمارے طیارے بھارت کی فضاؤں میں اکیلے دندناتے پھر رہے تھے ۔

‏ایسی جنگ نا کبھی دیکھی تھی نا سنی تھی۔ پہلے رافیل گرائے۔ پھر منٹوں میں بھارت کی پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی تمام فوجی
‏ایسی جنگ نا کبھی دیکھی تھی نا سنی تھی۔ پہلے رافیل گرائے۔ پھر منٹوں میں بھارت کی پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی تمام فوجی تنصیبات،اسلحہ،میزائل سٹوریج،جہاز اڑا دئیے۔ پھر سائبر حملے کر کے 70%انڈیا کی بجلی بند کر کے نظام Take Over کر لیا۔ پھر دہلی کے اوپر پاکستانی ڈرونز بھیج کر"پیغام"دیا کہ ہم ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ اور ساتھ میں کہا۔۔کہ یہ الفتح کا سب کم رینج والا میزائل استعمال ہوا اگلے اس بھی زیادہ خطرناک بڑی رینج والے تمہارے معاشی مفادات پر ہزاروں کلو کا بارود لیکر پہنچیں گے۔ پاکستان نے 10 گنا بڑے دفاعی بجٹ والے بھارت کو نیوکلئیر استعمال کیے بغیر۔۔دنیا کا کمزور ترین ملک ثابت کر دیا۔ (اسد آر چوہدری)

💚 جنگ بندی معاہدہ ہوا ہے جنگ بندی کا فی الحال شرطیں 12 مئی کو رکھی جائیں گی۔ پھر فیصلہ ہوگا جنگ جاری رہے گی یا رُکے گی۔ دوسرا Ceasefire انٹرنشینل بارڈرز پر ہوتی ہے اِسی لئے LOC پر ہماری جھڑپیں چل رہی ہیں۔ ہم نے دو دن پہلے اور کل اٹیک کے بعد کشمیر کا کُچھ حصہ لے لیا تھا اب وُہ معاہدہ ہونے کے بعد واپس مانگ رہے تھے۔ چونکہ وہ متنازعہ علاقہ ہے اور معاہدہ ہو بھی جائے وہاں کسی کا زور نہیں ہے اِسی لئے پاکستان آرمی نے وہ علاقہ دینے سے انکار کر دیا جس وجہ سے وہاں لڑائی شروع ہوئی ہے۔ باقی سب محفوظ ہیں۔ معاہدے سے پہلے ڈرونز آئے ہوں گے پاکستان میں اُس وجہ سے کچھ معاملات بگڑے تھے۔ باقی سب ٹھیک ہے اور بہتر ہو گا اِن ﺷَﺎﺀاللّٰه♥️ جنگ بندی !!! اس حالت میں قرآن کی رہنمائی: وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ ترجمہ: اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، یقین جانو وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔ (سورت انفال: 62) یا اللہ! اگر ہمارا دشمن صلح کے نام پر دھوکہ دے رہا ہو تو: وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُؕ-هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ(62) ترجمہ: اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ کریں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔ (سورت انفال: 62) 🤲 یا رب! جنگ میں تیری مدد و نصرت اور فتح کے بعد جنگ بندی کی صورت میں نعمتِ عُظمٰی پر ہم تیرا شکر بجا لاتے ہیں۔ اے سب سے بہترین حفاظت کرنے والے ہمیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھ۔ آمین یارب العالمین 💚💚💚💚💚

معاہدہ ہوا ہے جنگ بندی کا فی الحال شرطیں 12 مئی کو رکھی جائیں گی۔ پھر فیصلہ ہوگا جنگ جاری رہے گی یا رُکے گی۔ دوسرا Ceasefire انٹرنشینل بارڈرز پر ہوتی ہے اِسی لئے LOC پر ہماری جھڑپیں چل رہی ہیں۔ ہم نے دو دن پہلے اور کل اٹیک کے بعد کشمیر کا کُچھ حصہ لے لیا تھا اب وُہ معاہدہ ہونے کے بعد واپس مانگ رہے تھے۔ چونکہ وہ متنازعہ علاقہ ہے اور معاہدہ ہو بھی جائے وہاں کسی کا زور نہیں ہے اِسی لئے پاکستان آرمی نے وہ علاقہ دینے سے انکار کر دیا جس وجہ سے وہاں لڑائی شروع ہوئی ہے بس۔ باقی سب محفوظ ہیں۔ معاہدے سے پہلے ڈرونز آئے ہوں گے پاکستان میں اُس وجہ سے کچھ معاملات بگڑے تھے۔ باقی سب ٹھیک ہے اور بہتر ہو گا اِن ﺷَﺎﺀاللّٰه♥️ جنگ بندی !!! اس حالت میں قرآن کی رہنمائی: وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ ترجمہ: اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کی طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، یقین جانو وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے۔ (سورت انفال: 62) یا اللہ! اگر ہمارا دشمن صلح کے نام پر دھوکہ دے رہا ہو تو: وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُؕ-هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ(62) ترجمہ: اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ کریں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔ (سورت انفال: 62) 🤲 یا رب! جنگ میں تیری مدد و نصرت اور فتح کے بعد جنگ بندی کی صورت میں نعمتِ عُظمٰی پر ہم تیرا شکر بجا لاتے ہیں۔ اے سب سے بہترین حفاظت کرنے والے ہمیں ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھ۔ آمین یارب العالمین 💚💚💚💚💚

عرب سوشل میڈیا پر ایک عربی کا شاندار کمنٹ ملاحظہ کیجیئے! "بہت وقت گزر گیا۔ ان محروم آنکھوں نے ایک ہی منظر بار بار دیکھا۔ کافروں کو مسلمانوں پر آسمان سے آگ اور لوہا برساتے ہوئے۔ کبھی عراق کے آسمان شعلوں سے بھر گئے، کبھی فلسطین کی گلیاں خون سے رنگین ہو گئیں، کبھی افغانستان کے پہاڑ لرز اٹھے، اور کبھی شام و لبنان کی زمین پر آسمان سے قیامت نازل ہوئی۔ لیکن آج۔۔۔۔۔! آج ان آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جس نے برسوں کی پیاس بجھا دی۔ ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے شاہینوں نے گائے پوجنے والوں پر آسمان سے آگ برسائی۔ دل کی دھڑکنیں سجدہ ریز ہوگئیں۔ ایسا سکون دل میں اترا جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔ اے اللہ! تیرے ہی لیے ہے تمام تعریف۔ ہزار بار شکر کہ تو نے ہمیں یہ دن دکھایا۔ یہ تیرا ہی فضل ہے کہ مظلوموں کی دعائیں سنی گئیں، اور ظالموں پر شاہینوں کی طرف سے آگ برسی! الحمدللہ رب العالمین! 💚💚🤍💚💚

🚨 *امن 🕊️🤍* *پاکستانیوں !!!! گھبرانے کی ضرورت نہیں، سب سکون کریں، ہمارے ڈرون بھارت میں ہیں اور ان کے یہاں، دونوں طرف کے صحافی کہہ رہے ہیں کہ سیز فائر کی خلاف ورزی ہورہی ہے، یہ معاملہ ایک دو دن تک ختم ہو جائے گا۔ ایل او سی پر ہلکی پھلکی "ٹھک،ٹھک" لگی رہے گی، امید ہے کچھ بڑا نہیں ہوگا۔۔۔!!!* *پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی ڈرونز نے سیزفائر سے قبل پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ان کو پاکستان کی طرف چھوڑا گیا تھا، یہ تب تک فضا میں موجود رہیں گے جب تک ان کی بیٹری ڈی فیوز نہ ہو ۔ ان ڈرونز کو مکمل طور پر ہٹانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔* *اگرچہ سیزفائر نافذ ہے، مگر لائن آف کنٹرول پر صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے۔ ڈرونز کل شام تک فضا میں رہیں گے۔ سیز فائر کے معاہدے کے مطابق بڑے ہتھیار ، میزائل اور فضائی حملے نہیں کیے جاسکتے ، فضا سے مانیٹرنگ اور معمول کی جھڑپیں روکنے میں ابھی وقت درکار ہے ۔* *یہ آوازیں اور پٹاخے بھی ڈرونز کے ہیں ، یہ کامی کازے ڈرونز خودکش ڈرونز ہوتے ہیں اور ایک بار لانچ ہو جانے کے بعد واپس نہیں بلائے جا سکتے۔ اس لیے یہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور ان کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے ۔* *اگر آپ کو دھماکے وغیرہ کی آواز سنائی دے تو پریشان نہ ہوں، یہ ڈرونز کو تلاش کرکے تباہ کرنے کی کارروائیاں ہیں۔ کل تک یہ سب کچھ جاری رہے گا ۔ اس لیے تھوڑا تحمل اور صبر سے کام لیجیے ۔ سیکورٹی فورسزز اور قومی ادارے اب بھی چوکنا ہیں اور پہلے سے بہتر جواب دینے کی پوزیشن میں ہیں ۔* 🇵🇰⚔️🇵🇰⚔️🇵🇰⚔️⚔️

آج کا ایک میرا آنکھوں دیکھا سبق آموز واقعہ۔ میں کوئی ایک گھنٹہ پہلے اپنے آفس کے صحن میں بیٹھا تھا ایک بلی بھی ادھر گھوم رھی تھی، میں نے سوچا کہ یہ بھوکی محسوس ھوتی ھے اس کو کوئی دودھ وغیرہ ڈالوں۔ اتنے میں اچانک بلی نے آہستہ آہستہ ایسے جھپٹنے کی پوزیشن لینا شروع کر دی جیسے کوئی شکار نظر ا گیا ھو۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا تو سامنے کچھ بھی نہ تھا پھر میں نے غور کیا تو لان میں درخت پر لالیوں (مینا) کے جھگڑنے کا شور آ رھا تھا۔ نظر ادھر بلی کو بھی کچھ نہیں آ رھا تھا۔ وہ بھی وھی لالیوں کے لڑنے کا شور سن رھی تھی۔ پھر وہ دبے پاؤں لان کی طرف چل پڑی اور اسی درخت کے نیچے ایک چھوٹے پودے کے ساتھ چھپ کے بیٹھ گئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رھی تھی کہ ان لالیوں کے شور سے اسے کیا ملنے والا ھے۔ اسی اثنا میں دو لالیاں لڑتے ھوئے نیچے گریں اور بلی فورآ ان پر جھپٹی اور دونوں کو دبوچ لیا۔ میں فوراً لالیوں کو بچانے کیلئے بھا گا لیکن میرے پہنچنے سے پہلے بلی دونوں لالیوں کو منہ میں ڈال کے وھاں سے رفو چکر ھو گئی۔ پھر مجھے سمجھ آ ئی کہ اچھا بلی انتظار میں بیٹھی تھی کہ جب یہ لالیاں لڑ تے لڑتے آخر نیچے گریں گی تو پھر میں ان پر حملہ کروں گی۔ ان لالیوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ھمارا جانی دشمن ھماری آپسی لڑائی کا شور سن کر تاک لگاۓ بیٹھا ھے حملہ کرنے کیلئے موقع کی تلاش میں ھے۔ اس سے مجھ یہ بہترین سبق ملا کہ آپس کی لڑائیاں دشمن سے بے خبر کر دیتی ھیں اور دشمن اس چیز کا فایدہ اٹھاتے ھوئے آپس میں لڑنے والوں کو تر نوالے کی طرح ھڑپ کر لیتا ھے۔ یقین جانیں اچانک مجھے انڈیا کا پاکستان پر حملہ یاد آیا کہ شاید یہ ھمارا دشمن ھندو ںنیا بھی ھماری تاک میں بیٹھا ھمارا شور سن رھا تھا کہ ھماری آپسی لڑائی کا فائدہ اٹھاۓ ۔اور اسی اثنا میں اس بنیا نے ھماری ماں دھرتی پر حملہ کر دیا۔ یہ سوچ کر میں سٹپٹا گیا۔ میرے پاکستانیو میری آپ سے دست بدستہ گزارش ھے کہ ھم سب ایک ھی ماں دھرتی کی اولاد ھیں اور ھماری جو فوج ھے یہ ھمارا اپنا ہی خون ھے ھمارے اپنے ھی بیٹے ھیں۔ ھمارے اپنے ھی بھائی ھیں جو نہ صرف ھمارے لئے بلکہ ھماری نسلوں کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رھے ھیں۔ ھمیشہ یاد رکھنا کہ یہ فوج ھے تو پاکستان ھے ۔ پاکستان ھے تو ھم سب ھیں۔ اس جنگی ماحول میں مذھبی ، قانونی اور اخلاقی طور پر پوری پاکستانی قوم پر واجب ھے کہ آپس کے سب سیاسی، مذھبی، لسانی اور علاقائی اختلاف پس پشت ڈال کر مثالی یک جہتی کا مظاھرہ کرتے ھوئے یک زبان ھو جائیں اور سوشل میڈیا پر اس انداز سے اپنی پاک فوج کی حوصلہ افزائی کیلئے آواز اٹھائیں کہ ھندو بنیا کی سب غلط فہمیاں دور ھو جائیں۔ ایک محب وطن پاکستانی 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

یہ ایک چھوٹا سا جملہ… مگر اُس کے لیے ایک مضبوط لنگر (anchor) بن گیا — ایسا سہارا جو اُسے ڈوبنے نہیں دیتا تھا۔ اسی وعدے نے اُسے ہر دن لڑنے کی ہمت دی، ہر اندھیری رات گزارنے کا حوصلہ دیا، اور ہر بار جب زندگی کا دروازہ بند لگتا، وہی وعدہ اُس کے لیے روشنی بن جاتا۔ اور پھر… دن نمبر 438 پر، وہ ناقابلِ یقین لمحہ آ پہنچا: الواریگاہ نے ایک چھوٹے سے جزیرے کو دیکھا — زمین! زندگی! امید کا جسمانی روپ! وہ جزیرہ مارشل آئی لینڈز (Marshall Islands) تھا — اور وہاں سے الواریگاہ کی نجات کی کہانی شروع ہوئی۔ 438 دنوں بعد، وہ شخص جو سب کچھ ہار چکا تھا… آخرکار واپس آیا — زندہ، سانس لیتا ہوا، اور ناقابلِ شکست۔ ‏الواریگاہ ایک ویران سے بحرالکاہل کے جزیرے پر آ کر کنارے سے لگا۔ وہ سمندر میں 6,700 میل بہتا چلا گیا تھا — یہ سمندر میں تنہا زندہ رہنے کی تاریخ کی سب سے طویل دستاویزی کہانی ہے۔ اُس کا جسم کمزور ہو چکا تھا، جلد جھلس چکی تھی، ہڈیاں نمایاں تھیں — مگر اُس کا ذہن… اب بھی مضبوط تھا۔ اور اُس کی کہانی ہمیں ایک ایسا سبق دیتی ہے جو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا: انسان کی اصل طاقت حالات نہیں، سوچ ہے۔ جب تک دماغ ہار نہیں مانتا، دل ہارنے نہیں دیتا — اور جسم… کسی نہ کسی طرح ساتھ دیتا رہتا ہے۔ الواریگاہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر مقصد واضح ہو، وعدہ سچا ہو، اور امید کا ایک ننھا سا چراغ بھی باقی ہو — تو انسان سمندر جیسے حالات کو بھی پار کر سکتا ہے۔ ‏انسانی روح وہ طاقت ہے جو ہماری سوچ سے کہیں زیادہ سہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ الواریگاہ نے صرف جسمانی قوت سے نہیں، بلکہ تخلیقی سوچ، حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت، اور اٹل امید سے خود کو زندہ رکھا۔ یہ صرف ایک سروائیول اسٹوری نہیں — یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ہمارا ذہن کتنا طاقتور ہو سکتا ہے۔ سوچو… اگر الواریگاہ جیسا انسان، تنہائی، بھوک، سمندر اور موت سے جیت سکتا ہے — تو تم کیا کچھ کر سکتے ہو، اگر تمہارے اندر بھی وہی عزم، وہی حوصلہ، اور وہی “ناممکن کو ممکن بنانے” والی طاقت ہو؟ سوال صرف یہ ہے: تم کب اپنی قوتِ ارادی کو جگاؤ گے؟ کیونکہ شاید تمہارا سمندر کچھ اور ہو — مگر کشتی تمہارے پاس بھی ہے۔ 🌊💪

#قوتِ ارادی ‏یہ آدمی سینکڑوں بار مرنے کے قریب تھا — مگر پھر بھی بچ گیا۔ وہ 438 دنوں تک بحرالکاہل (Pacific Ocean) میں گم رہا پیاس بجھانے کے لیے سمندر کا نمکین پانی پیا اپنے دوست کو مرتے ہوئے دیکھا، اور لاش کے ساتھ وقت گزارا لیکن جو چیز اسے زندہ رکھے ہوئے تھی، وہ ایک دیوانہ وعدہ تھا جو اُس نے اپنی ماں سے کیا تھا۔ یہ کہانی ہمیں انسان کی حیران کن قوتِ ارادی اور حوصلے کا سبق دیتی ہے — کہ جب آپ کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، تو آپ ناقابلِ یقین حالات سے بھی لڑ سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک سروائیول اسٹوری نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپی ہوئی طاقت کی گواہی ہے۔ ‏یہ سب کچھ ایک طوفان سے شروع ہوا۔ نومبر 2012 میں، "خوسے سالواڈور الوارینگا" اور اس کا ایک نوجوان ساتھی میکسیکو کے ساحل سے ایک عام سی مچھلی پکڑنے کی مہم پر نکلے۔ مگر ایک خوفناک طوفان نے ان کی کشتی کا انجن اور نیویگیشن سسٹم تباہ کر دیا۔ اب وہ سمندر کے بیچوں بیچ پھنس چکے تھے — اور ان کے سامنے ایک ایسا ڈراؤنا خواب تھا جو ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ ‏الواریگاہ کی زندگی کا انحصار اُس کی فوری سوچ اور حالات کے ساتھ ڈھلنے کی صلاحیت پر تھا۔ اُس نے اپنے کولر کو الٹا کر اُسے پناہ گاہ بنا لیا تاکہ سورج اور بارش سے کچھ بچاؤ ہو سکے۔ پیاس بجھانے کے لیے، وہ کچھوے کا خون پیتا تھا — اور کبھی کبھی اپنا پیشاب بھی۔ لیکن یہ تو صرف آغاز تھا… اصل کہانی اُس کے بنائے ہوئے ناقابلِ یقین، خود ساختہ سروائیول طریقوں کی ہے، جنہوں نے اُسے موت کے منہ سے واپس کھینچ لیا۔‏جب ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے، تو الواریگاہ نے ایسے ناقابلِ یقین ہنر سیکھ لیے جن کا عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا: وہ ننگے ہاتھوں سے مچھلیاں پکڑنے لگا۔ زہریلے سمندری پرندوں کا خون پینے لگا — صرف اس لیے کہ کچھ پانی اور توانائی مل جائے۔ یہاں تک کہ اُس نے جیلی فِش (jellyfish) کو بھی کھانے کے قابل بنا لیا۔ لیکن سب سے بڑی جنگ جسمانی نہیں تھی — اصل جنگ ذہنی تھی۔ تنہائی، خوف، امید کا ٹوٹنا… یہ وہ دشمن تھے جن سے روز لڑنا پڑتا تھا — اور صرف ایک مضبوط ذہن ہی اسے زندہ رکھ سکتا تھا۔ ‏تنہائی وہ چیز ہے جو بڑے سے بڑے مضبوط انسان کو بھی توڑ دیتی ہے۔ الواریگاہ کا نوجوان ساتھی اس اذیت کو زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا — اور چند مہینوں بعد دم توڑ گیا۔ اب الواریگاہ مکمل طور پر اکیلا رہ گیا تھا۔ مر جانے کی ہر وجہ موجود تھی — مگر جینے کی کوئی ایک وجہ ڈھونڈنا ضروری تھا۔ اسی لیے اُس نے اپنے ذہن میں ایک خیالی دنیا بنا لی۔ وہ اپنی بیٹی سے خیالی باتیں کرتا، اپنی ماں کے لیے کھانے پکانے کا تصور کرتا، ایسا دکھاوا کرتا جیسے وہ عام زندگی گزار رہا ہو۔ یہی خیالی دُنیا اُس کی اصل دنیا بن گئی — اور یہی پاگل پن اُس کا ہوش بن گیا۔ اسی طرح وہ ذہنی طور پر زندہ رہا… اسی طرح اُس نے ہوش، امید اور انسانیت کو نہیں مرنے دیا۔ ‏الواریگاہ اپنے ذہن میں روز نئی جگہوں کا "سفر" کرتا تھا۔ وہ خیالی لوگوں سے باتیں کرتا، اپنے آپ کو قہقہوں، قصوں اور دوستیوں میں گھرا ہوا محسوس کرتا۔ کبھی وہ خود کو شاندار کھانوں کی محفل میں دیکھتا، کبھی کسی خوبصورت لمحے میں — جیسے کوئی رومانوی ملاقات۔ یہ ذہنی فرار — یہ تخیلات — اُس کے لیے اتنے ہی ضروری ہو گئے جتنے پانی اور خوراک۔ کیونکہ جسم تو جیسے تیسے زندہ رہ سکتا ہے، مگر دماغ کو زندہ رکھنے کے لیے "امید" اور "تخیل" ضروری تھے۔ لیکن… سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا — وہ لمحہ جب زمین، انسان، اور حقیقت اُس کے سامنے دوبارہ آئیں گے… اور سوال یہ ہو گا: کیا وہ واپس معمول کی دنیا میں جینے کے قابل بھی رہا ہے؟ ‏ایک سال سے زیادہ سمندر میں بھٹکنے کے بعد، امید آہستہ آہستہ مرنے لگی تھی۔ بے شمار کشتیاں اُس کے قریب سے گزریں — مگر کسی نے اُسے دیکھا تک نہیں۔ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوا، کئی بار خودکشی کا خیال آیا — کہ بس، اب ختم کر دیا جائے سب کچھ۔ لیکن ایک چیز تھی جو ہر بار اُسے موت کے کنارے سے واپس کھینچ لاتی تھی۔ تو سوال یہ ہے: جب سب کچھ کھو چکا تھا، وہ کیوں زندہ رہا؟ کیا چیز تھی جو اُس کے اندر کی ہار مانتی ہوئی سانسوں کو پھر سے جگاتی تھی؟ ‏جواب چھپا ہے انسانی برداشت (endurance) کی اصل روح میں: اپنی ماں سے کیا گیا ایک وعدہ۔ الواریگاہ نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ واپس لوٹے گا — زندہ، سلامت۔ اور یہی وعدہ اُس کے لیے زندگی بن گیا۔ یہی وعدہ تھا جس نے اُسے ہر طوفان، بھوک، پیاس، تنہائی، اور مایوسی سے لڑنے کی طاقت دی۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے: انسان کی اصل طاقت نہ جسم ہے، نہ عقل — بلکہ ایک وعدہ، ایک مقصد، اور ایک امید… جو اسے ناقابلِ شکست بنا دیتی ہے۔ ‏یہ ایک سادہ سا وعدہ تھا جو اُس نے اپنی ماں سے کیا تھا: "میں کبھی اپنی جان نہیں لوں گا۔"