ru
Feedback

Не попадитесь на канал ботавода! Telemetrio находит и помечает такие каналы 👉 Хотите видеть метку — оформите подписку

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Открыть в Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Больше
1 279
Подписчики
Нет данных24 часа
-47 дней
-1330 дней
Архив постов
🌺 السلام عليكم ورحمةاللہ وبرکاتہ 🌹 خوش آمدید ۔۔۔ 🌹 خوش رہیئے ۔۔۔ امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے.... تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے... اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کر کے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا.اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئیں..... تو قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت واقع ہو گئی.. پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے... اب یہ زہر کہاں سے آیا.؟ جس نے اس قیدی کی جان لے لی... وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا... ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے... بہت سی بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے.... آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کر رہا ہے.. اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں.. 25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے.. 50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے.. 50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا... زندگی خوبصورت ہے... اس لیے ہمیشہ خوش رہیں... یاد رکھیں! صبر، شکر اور قناعت ایک عینک ہے. اگر آپ یہ عینک لگا لیں تو دنیا بڑی خوبصورت نظر آئے گی اور آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے. 🌷کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ.... زندگی میں ہمیشہ ریاضی کی طرح رہو. دوستوں کو جمع کرو، دشمنوں کو تفریق کرو، خوشی کو ضرب دو، پیار کو تقسیم کرو. اور ہمیشہ مسکراتے رہو.‏❤️❤️❤ 🔹 لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے___ میں تمہیں بتاؤں، زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت… بس آپ ہونے چاہئیں اورآپ کا الله سے ہر ایک پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے. باقی یہ مسئلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں... جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا‘ اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی...غم بھی ایسے ہوتے ہیں- جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے‘  لیکن اگر آپ اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو جانو کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا… اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا! تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو…!! 🌹مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اپنے دل کو ماضی کے غموں میں مشغول نہ کرو کہ آئندہ کی تیاری سے محروم رہ جاؤ گے. (غررالحکم، ص:289) ہم نے ٹیلی گرام کے بعد اب وٹس ایپ پر بھی آپ کی حس مزاح کی تسکین کے لئے فنی چینل کا آغاز کیا ہے. جس کا نام مسکراہٹیں رکھا ہے. اس چینل میں اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے چٹکلے، لطیفے، مزاحیہ کلپس، ہارر کلپس اور بہت خوبصورت میسجز بھیجے جائیں گے. حس مزاح کی تسکین کے لئے اس چینل کو ضرور فالو کیجئے اور اپنے دوست احباب سے بھی ضرور لنک شیئر کیجئے. آخر میں ایک دعا.... 🔷 دل دے، تو اس مزاج کا پروردگار دے. جو رنج کی گهڑی بھی خوشی سےگزار دے. وٹس ایپ چینل لنک https://whatsapp.com/channel/0029Vaw4bTk2UPBEwLGzV62m ٹیلی گرام گروپ لنک۔۔۔ https://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAHTEN 🎅

💐 السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ 🌹 خوش آمدید 🌺 جب بھی دین اور دنیا کا جھگڑا ہو تو دین کو ترجیح دیجئے۔۔۔ وٹس ایپ پر بھی اسلام ود ایمان کے نام سے اسلامی چینل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یقینا آپ کو پسند آئے گا۔ خود بھی فالو کیجئے اور اپنے دوست احباب سے بھی ضرور لنک شیئر کیجئے۔ جزاکم اللہ خیرا *اسلام اور ایمان* 🕯 *"ایمان کا مطلب جان کر اقرار کرنا اور عمل کرنا ہے جبکہ عمل کے بغیر اقرار اسلام کہلاتا ہے۔"* 🕌 *امام جعفر صادق (علیہ السلام)* 📕 *(الکافی، ج ۲، ص ۲۴)* ✅ *اس چینل میں ۔۔* 🔻 *اصلاحی کہانیاں و واقعات* 🔻 *اسلامی تعلیمات* 🔻 *عقائد و فقہ* 🔻 *احادیث و فرامین* 🔻 *اعمال و دعائیں* 🔻 *اور آپ کے لئے مفید ترین معلومات* https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

photo content

🍛 کونڈے 🍛 کونڈے کس دور میں اور کسطرح شروع ہوئے؟ كونڈے برصغير كى ايک روايت ہے جس كى معين تاريخ كا تذكرہ موجود نہيں نيز يہ برصغير كى معاشرتى ايجاد ہے جسے كسى امام معصوم عليہ السلام كى طرف نسبت نہيں دى جا سكتى۔ 🔻 مجتہدين كى نظر ميں كونڈے كى رسم انجام دينے ميں كوئى حرج نہيں ہے البتہ اسے كسى معصوم عليہ السلام يا دين ميں اس كے حكم دينے كى نسبت دينا صحيح نہيں ہے۔ كونڈے اگر اس نيت سے انجام ديئے جائيں تو كوئى حرج نہيں ہے كہ مومنين كى دعوت تواضع اور زيارت كى جائے اور دشمنانِ اہلبيت عليہم السلام كے مرنے كى خوشى برپا كى جائے۔ 🔹 كونڈے كے نام سے كسى بھى ايسے عمل كى شديد مذمت كى گئى ہے جو فتنہ و فساد يا مسلمانوں ميں تفرقہ ايجاد كرے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 👈 مزید پوسٹس ۔۔۔۔ 🍛 کونڈوں کی نیاز https://t.me/islamwitheman/3058 🌸 نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ https://t.me/islamwitheman/3059 🔵 کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ https://t.me/islamwitheman/3060 🌸 نذر و منت https://t.me/islamwitheman/3061 🍛 کونڈے https://t.me/islamwitheman/3062 🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں https://t.me/islamwitheman/4110 🔷 کونڈے اہلسنت کی نظر میں https://t.me/islamwitheman/4671 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

■ ماہ رجب کے حوالے سے پوسٹس لنکس۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/2943 🔷️ ماہ رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/2945 🔷️ لیلةالرغائب کی فضیلت اور اعمال https://t.me/islamwitheman/2961 🌹 ولادت باسعادت امام محمد باقرؑ https://t.me/islamwitheman/2964 🌹 تعارف امام محمد باقرؑ https://t.me/islamwitheman/2965 🌹 شہادت حضرت امام علی النقیؑ https://t.me/islamwitheman/2968 🌹 امام ہادیؑ کی ہدایات https://t.me/islamwitheman/2969 🌹 ولادت باسعادت امام علی نقیؑ https://t.me/islamwitheman/2971 🌹 ولادت مبارک امام علی النقیؑ https://t.me/islamwitheman/2972 🌹 ولادت باسعادت شہزادہ علی اصغرؑ https://t.me/islamwitheman/2980 🌹 ولادت باسعادت امام محمد تقیؑ https://t.me/islamwitheman/2987 🌹 حضرت امام محمد تقیؑ https://t.me/islamwitheman/2989 🌹 امام جوادؑ کی تبلیغی روش https://t.me/islamwitheman/2990 🔷️ ایام البیض https://t.me/islamwitheman/2996 🔷️ 13 رجب رات و دن کے اعمال https://t.me/islamwitheman/2997 🌹 ولادت باسعادت حضرت علیؑ https://t.me/islamwitheman/3009 🌹 فضائل مولود کعبہ حضرت علیؑ https://t.me/islamwitheman/3010 🌹 بمناسبت یوم ولادت امام علیؑ https://t.me/islamwitheman/3011 🌹 حضرت علیؑ کا مقام و مرتبہ https://t.me/islamwitheman/3012 🌹 امت کا بہترین فرد https://t.me/islamwitheman/3013 🌹 یعسوب الدین مولا علیؑ https://t.me/islamwitheman/3014 🌹 حضرت علیؑ کی جسمانی قوت https://t.me/islamwitheman/3015 🌹 حضرت علیؑ سے سات سوال https://t.me/islamwitheman/3016 🔷️ وصیت مولا علیؑ موت کے متعلق https://t.me/islamwitheman/3017 🌹 مولا علیؑ کے متعلق ویڈیوز https://t.me/islamwitheman/3018 https://t.me/islamwitheman/3019 https://t.me/islamwitheman/3020 https://t.me/islamwitheman/3021 🌹 حضرت امام علی علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3027 🌹 لفظ مولا پر زبردست تحقیق https://t.me/islamwitheman/3029 🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ https://t.me/islamwitheman/3034 🌹 عقیلہ بنی ہاشمؑ https://t.me/islamwitheman/3035 🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب https://t.me/islamwitheman/3036 🌹 حضرت ام البنینؑ https://t.me/islamwitheman/3041 🌹 زیارت ام البنین سلام اللہ علیھا https://t.me/islamwitheman/3042 🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ بنت الحسینؑ https://t.me/islamwitheman/3046 🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ https://t.me/islamwitheman/3047 🔷️ کونڈوں کی نیاز https://t.me/islamwitheman/3058 🔷️ نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ https://t.me/islamwitheman/3059 🔷️ کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ https://t.me/islamwitheman/3060 🌸 نذر و منت https://t.me/islamwitheman/3061 🔷️ کونڈے https://t.me/islamwitheman/3062 🔷️ غزوہ خیبر https://t.me/islamwitheman/3082 🌹 حضرت امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3093 🌹 شھادت امام کاظم علیہ السلام https://t.me/islamwitheman/3094 🌹 باب الحوائج امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3095 🌹 امام موسٰی کاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3096 🌹 امام موسٰیؑ ابن جعفر الکاظمؑ https://t.me/islamwitheman/3097 🌹 امام موسٰی کاظمؑ کی اولادیں https://t.me/islamwitheman/3098 🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالبؑ https://t.me/islamwitheman/3104 🌹 تاریخ حضرت ابوطالبؑ https://t.me/islamwitheman/3105 🌹 27 رجب معراج یا بعثت رسولؐ؟ https://t.me/islamwitheman/3120 🌹 بعثت پیغمبر اسلامؐ https://t.me/islamwitheman/3121 🌹 27 رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/3122 🌹 اعمال شب و روز 27 رجب https://t.me/islamwitheman/3123 🌹 معراج https://t.me/islamwitheman/3124 🌹 ماہ رجب میں روزے کی اہمیت https://t.me/islamwitheman/3126 🌹 28 رجب المرجب https://t.me/islamwitheman/3129 🌹 امام حسینؑ کی مدینہ سے روانگی https://t.me/islamwitheman/3130 🌹 قبل از روانگی وصیت امام حسینؑ https://t.me/islamwitheman/3131 🌹 واقعہ معراج النبیؐ https://t.me/islamwitheman/3132 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

جب حضرت موسی علیہ السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی علیہ السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔ اور جب حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔ فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے۔ کاپیڈ۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5738 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار (Bar Man) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء ) کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نےاس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا-حضرت یوسف علیہ السلام نے وزارت کا عہدہ ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور یوں حضرت یعقوب علیہ السلام ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی مدد ، راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا۔ موسی علیہ السلام کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ، فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون علیہ السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔

🔷 فرعون 🔷 یہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔اب اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔ یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ، مثلا ، چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں ) روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا ) والوں نے ” نجاشی ” کہا ایران میں ” کسری ” ( کسرا ) اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے سلطنت عمان میں ” سلطان " سعودی عرب میں ” ملک " متحدہ عرب امارات میں ” امیر " ھندوستان میں ” شہنشاہ " برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔ پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ، آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام مصر پڑا ۔ الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔حضرت ابراھیم علیہ السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔ آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔ وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں۔

photo content

🍛 کونڈے 🍛 کونڈے کس دور میں اور کسطرح شروع ہوئے؟ كونڈے برصغير كى ايک روايت ہے جس كى معين تاريخ كا تذكرہ موجود نہيں نيز يہ برصغير كى معاشرتى ايجاد ہے جسے كسى امام معصوم عليہ السلام كى طرف نسبت نہيں دى جا سكتى۔ 🔻 مجتہدين كى نظر ميں كونڈے كى رسم انجام دينے ميں كوئى حرج نہيں ہے البتہ اسے كسى معصوم عليہ السلام يا دين ميں اس كے حكم دينے كى نسبت دينا صحيح نہيں ہے۔ كونڈے اگر اس نيت سے انجام ديئے جائيں تو كوئى حرج نہيں ہے كہ مومنين كى دعوت تواضع اور زيارت كى جائے اور دشمنانِ اہلبيت عليہم السلام كے مرنے كى خوشى برپا كى جائے۔ 🔹 كونڈے كے نام سے كسى بھى ايسے عمل كى شديد مذمت كى گئى ہے جو فتنہ و فساد يا مسلمانوں ميں تفرقہ ايجاد كرے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 👈 مزید پوسٹس ۔۔۔۔ 🍛 کونڈوں کی نیاز https://t.me/islamwitheman/3058 🌸 نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ https://t.me/islamwitheman/3059 🔵 کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ https://t.me/islamwitheman/3060 🌸 نذر و منت https://t.me/islamwitheman/3061 🍛 کونڈے https://t.me/islamwitheman/3062 🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں https://t.me/islamwitheman/4110 🔷 کونڈے اہلسنت کی نظر میں https://t.me/islamwitheman/4671 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 چھوٹی مچھلیاں 🔷 ٹونی کے پاپا کبھی کبھار مچھلی کا شکار کرتے تو گھر میں سب مچھلی بہت شوق سے کھاتے. ٹونی جب تھوڑا بڑاہوا تو ٹونی نے اپنے پاپا سے کہا کہ مچھلی کا شکار میں کروں گا۔ سب کے لیے مچھلی لے کر آؤں گا. ٹونی کے گھر سے تھوڑا دور ایک چھوٹی ندی تھی جو کبھی خشک نہیں ہوتی تھی، اس میں بہت ساری مچھلیاں تھیں۔ ٹونی کے پاپا نے اسے مچھلی پکڑنے کی اجازت دے دی۔ ٹونی کا ایک کتا بھی تھا جس کا نام میگی تھا۔ ٹونی اور میگی دونوں شکار کے لیے گئے۔ جب ندی پر پہنچے تو ٹونی نے مچھلی پکڑنے والا کانٹا پانی میں پھینکا۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک بہت چھوٹی مچھلی کانٹے میں پھنس گئی۔ ٹونی اور میگی بہت خوش ہوئے۔ ٹونی نے ڈول میں پانی ڈال لیا تاکہ زندہ مچھلیاں پکڑ کر گھر لے جائے۔ سب گھر والے بہت خوش ہونگے۔ تھوڑی دیر بعد ٹونی نے بہت سی زندہ چھوٹی مچھلیاں پکڑیں اور گھر آ گئے۔ جب ٹونی کے پاپا نے وہ مچھلیاں دیکھیں تو بہت ناراض ہوئے تو ٹونی نے ناراضگی کی وجہ پوچھی۔ ٹونی کے پاپا نے بتایا کہ اگر ایسی چھوٹی مچھلیاں ندی میں سے پکڑتے رہے تو بہت جلد ندی میں سے مچھلیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ چھوٹی مچھلیاں بڑی ہو کر انڈے دیتی ہیں، جن میں سے اور بھی بہت سی مچھلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ہمیں صرف بڑھی مچھلیاں کھانے کے لئے پکڑنی چاہیے. اور اب دوبارہ کبھی چھوٹی مچھلیاں مت پکڑنا. ٹونی کو پاپا کی بات سمجھ آ گئی تھی۔ ٹونی نے جو مچھلیاں ندی میں سے پکڑی تھی وہ سب زندہ تھیں۔ ٹونی ان کو لے کر اسی ندی کی طرف گیا اور وہ ساری مچھلیاں پانی میں چھوڑ دیں۔ 🔘 پیارے بچوں اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو چیزیں ضرورت کی ہمارے مستقبل میں ضروری ہیں ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ مزید اچھی اچھی پوسٹوں کیلئے وٹس ایپ پر اس چینل کو فالو کریں۔۔۔ Follow us: https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 سب سے پہلے آپ کو اپنی ضرورت ہے 🔷 کہتی ہیں ,میری ایک دوست پچاس سال کی عمر پار کر چکی تھیں، اور صرف آٹھ دن کے اندر ہی ایک بیماری میں مبتلا ہوئیں اور اچانک وفات پا گئیں۔ دو مہینے بعد، میں نے ان کے شوہر کو فون کیا، کیونکہ میرے ذہن میں آیا کہ وہ شاید بہت پریشان ہوں گے، کیونکہ ان کی اہلیہ وفات تک ہر چیز کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ گھر، بچوں کی پرورش، اپنے ساس سسر کی بیماری اور ان کی دیکھ بھال، رشتہ داروں کا خیال، سب کچھ! وہ اکثر کہتی تھیں: 'میرا گھر میرے وقت کا محتاج ہے... میرا شوہر تو چائے اور کافی تک نہیں بنا سکتا... میرا خاندان مجھ پر ہر چیز میں انحصار کرتا ہے۔ لیکن کوئی میری محنت اور قربانیوں کو نہیں سمجھتا یا سراہتا۔ ایسا لگتا ہے کہ سب مجھے ایک لازمی حقیقت کے طور پر لیتے ہیں۔' میں نے ان کے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کے گھر کو کسی مدد کی ضرورت ہے یا نہیں۔ میرے دل میں تھا کہ وہ شاید اپنی زندگی میں اچانک آئی ان تمام ذمہ داریوں کے بوجھ سے نڈھال ہوں گے۔ جب فون کیا تو دیر تک گھنٹی بجتی رہی، لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ ایک گھنٹے بعد انہوں نے کال واپس کی اور معذرت کی۔ کہنے لگے: 'میں معذرت خواہ ہوں، میں جواب نہیں دے سکا کیونکہ میں کلب میں اپنے دوستوں کے ساتھ ٹینس کھیل رہا تھا۔' انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی نوکری شہر کے اندر منتقل کروا لی ہے تاکہ اب انہیں سفر نہ کرنا پڑے۔ جب میں نے پوچھا، 'کیا سب ٹھیک ہے؟' تو کہنے لگے کہ انہوں نے ایک باورچی رکھ لیا ہے جو کھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے سامان کی خریداری بھی دیکھتی ہے۔ اپنے والدین کی دیکھ بھال کے لیے بھی فل ٹائم افراد رکھ لیے ہیں۔ بچے بھی ٹھیک ہیں۔ ان کی زندگی نارمل ہو چکی تھی۔ میں نے چند جملے ہی کہے ہوں گے کہ انہوں نے کال ختم کر دی۔ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میری دوست کا خیال دل میں آیا، وہ ہماری اسکول کی ری یونین میں صرف اس لیے شریک نہیں ہو سکی تھیں کیونکہ ان کی ساس کو ہلکی سی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ وہ اپنی بھانجیوں کی شادیوں میں شریک نہ ہو سکیں کیونکہ انہیں اپنے گھر کی مرمت کے کام کی نگرانی کرنی تھی۔ وہ بے شمار تقریبات اور تفریحات چھوڑ چکی تھیں کیونکہ ان کے بچوں کے امتحانات تھے یا انہیں اپنے شوہر کی ضروریات کا خیال رکھنا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتی تھیں کہ کوئی ان کی محنت کو سراہائے، لیکن وہ کبھی نہیں ملی۔ آج میں انہیں کہنا چاہتی ہوں: کوئی بھی ناگزیر نہیں ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو ہمیشہ خود سے مقدم رکھتے ہیں اور انہیں یہ سکھا دیتے ہیں کہ ہم دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد، مزید دو ملازم رکھ لیے گئے۔ انہیں یہ مدد اپنی زندگی میں بھی مل سکتی تھی، لیکن انہوں نے خود پر سب کچھ لے لیا۔ گھر اب بھی ٹھیک چل رہا ہے، لیکن میری دوست اب اس میں موجود نہیں۔ 🔘 زندگی کا لطف اٹھائیں۔ اس ذہنیت کو ختم کریں کہ 'میرے بغیر یہ گھر نہیں چل سکتا' سب کو آپ کی ضرورت ہے، لیکن سب سے پہلے آپ کو اپنی ضرورت ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 ظاہر پر مت جاؤ 🌹 ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ چڑیا گھر گیا۔ بیوی نے دیکھا کہ بندر اپنی بیوی کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کہا: "کیا شاندار محبت کی داستان ہے، ہر طرف خوشی ہی خوشی!" جب وہ شیروں کے پنجرے کے پاس گئے، تو بیوی نے دیکھا کہ شیر اپنی بیوی سے دور، خاموشی سے بیٹھا ہے اور کہا: "یہ کتنی افسردہ محبت کی کہانی ہے، سب کچھ دکھ بھرا ہے!" شوہر نے کہا: "یہ خالی بوتل اٹھا کر شیرنی کی طرف پھینکو اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔" جب بیوی نے بوتل پھینکی، تو شیر غصے میں دھاڑتے ہوئے اپنی بیوی کی حفاظت کے لئے اٹھا اور اس کے دفاع کے لیئے آگے بڑھا! پھر شوہر نے کہا: "اب یہ بوتل بندر کی بیوی کی طرف پھینکو۔" جب بیوی نے ایسا کیا، تو بندر اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگ گیا تاکہ بوتل اس کو نہ لگے! شوہر نے کہا: "ظاہر پر مت جاؤ، لوگوں کے سامنے جو نظر آتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی جعلی محبت سے دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی محبت کو دل کے اندر چھپا کر رکھتے ہیں۔ 🔘 یاد رکھو: - جو تنہا رہتا ہے، وہ خواہشات سے خالی نہیں ہوتا! - جو عورت پردہ کرتی ہے، وہ فیشن سے بے خبر نہیں ہوتی! - جو سخی ہے، وہ مال سے نفرت نہیں کرتا! بلکہ یہ لوگ اپنی خواہشات پر قابو پا کر مضبوط ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: "اور جو اپنے رب کے مقام سے ڈرتا رہا اور نفس کو خواہشات سے روکتا رہا، تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔" (سورۃ النازعات: 40-41) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ 🌹 بیبی سکینہ سلام الله عليها کی ولادت باسعادت کے موقع پر تمام عالم اسلام کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ ■ اسم مبارک تاريخ میں آپ کے تین نام امینہ، امنیہ اور آمنہ اور لقب سکینہ یعنی وقار و سکون درج ہے. آپ ایمان کے اعلی مرتبے پر فائز تھیں. امام حسین علیہ السلام آپ کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ سکینہ اپنے پورے وجود کے ساتھ جمال ازلی میں محو رہتی ہیں اور دن بھر عبادت پروردگار میں غرق ہو کر خدا سے راز و نیاز کرتی ہیں." حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا اپنے کمال اخلاق اور حمیدہ صفات کی وجہ سے اپنے بابا کی نظر میں بہت زیادہ عزيز تھیں اور جب یہ درخشاں ستارہ آسمان خاندان پیغمبر پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا تو امام نے، جو انسان کے ضمیروں اور اعمال سے آگاہ ہیں سکینہ کو عظیم و خوبصورت لقب "خیرۃ النساء" سے ملقب کیا اور ان کے مقام و منزلت کو لوگوں پر واضح و آشکار کر دیا. ■ تاریخ ولادت تاریخ ولادت باسعادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت باسعادت 20 رجب یا پھر 24 ذوالحجہ کو ہوئی۔ ■ والدین کا تعارف ● والد کا اسم گرامی امام حسینؑ بن علیؑ بن ابوطالبؑ بن عبدالمطلبؑ. ● والدہ کا اسم گرامی جناب رباب بنت امراءالقیس بن عدی بن اوس بن جابر بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھا۔ آپ کی والدہ گرامی ہندالھنود دختر ربیع بن مسعود بن مضاد بن حصن بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھیں۔ امراءالقیس جناب ربابؑ کے والد گرامی دوستداران اہلبیتؑ میں سے تھے اور جانتے تھے کہ بقاء انسان اس میں مضمر ہے کہ وقت کےامام کی معرفت اور پہچان حاصل کی جائے اور بخاطر امام ہر قسم کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ امام حسینؑ کی جناب ربابؑ سے دو اولادیں تھیں شہزادی سکینہؑ اور شہزادہ علی اصغرؑ۔ امامؑ جناب ربابؑ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ امامؑ کا یہ شعر اس پر دلالت کرتا ہے۔۔۔ لعمرک اننی لاحب داراً تکون بھا سکینۃ والرباب ’’مجھے تیری عمر کی قسم! میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب ہوں‘‘ ■ بیبی سکینہؑ اور کربلا: حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا نے کربلا کے دلخراش مناظر کو نہایت ہی صبروحوصلے سے برداشت کیا آپ واقعہ کربلا کی چشم دید گواہ تھیں آپ نے اپنے بابا کی آواز استغاثہ کو سنا اور پورے وجود کے ساتھ ماں، بہن، پھوپھیوں اور دیگر اسیر خواتین کے درد و الم کو بخوبی درک کیا یہی نہیں بلکہ اپنے سے چھوٹے بچوں کی سرپرستی اور دلجوئی کی. حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ ان کے بابا امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے نفاذ، بدعت اور دینی انحرافات کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ کربلا کے خونین مناظر اور نیزہ پر اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کا سر بریدہ دیکھنے کے باوجود آپ کے ثبات و عزم میں ذرہ برابر بھی تزلزل پیدا نہ ہوا. لیکن جب گیارہ محرم کو اہل بیت حرم کو قیدی بنا کر لے جایا جانے لگا اور نامحرموں کی نظریں خاندان عصمت و طہارت پر پڑیں تو آپ نےبہت سعی و کوشش کی کہ ان کی ناپاک نظروں سے اپنے کو بچا لیں لہذا فرمایا: میرے بابا کے سر کو قافلے کے آگے لے جاؤ تاکہ لوگ اس کو دیکھیں اور خواتین عصمت و طہارت پر ان کی نظریں نہ پڑیں. امام حسین علیہ السلام کی چہیتی بیٹی سکینہ نہایت ہی شجاع و بہادر تھیں انہوں نے ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی حقانیت کو ثابت کیا حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت اور کلام کی فصاحت و بلاغت نے کسی میں اتنی جرات پیدا نہ کی جو گستاخی و توہین کرتا بلکہ ہر ایک اپنی اپنی جگہ مبہوت بیٹھا رہا بالکل اسی طرح جس طرح سے آپ کی پھوپھی حضرت زينب سلام اللہ علیہا نے جب دربار یزيد میں خطبہ دیا تو تمام اہل شام مبہوت وحیران رہ گئے تھے. چنانچہ حضرت سکینہ نے یزيد بن معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے یزید، میرے بابا کو قتل کرکے خوش نہ ہو کیونکہ وہ خدا و رسول کے مطیع و فرماں بردار تھے، دعوت الہی کو قبول کرتے ہوئے اور شہادت کے درجے پر فائز ہو کر "سیدالشہداء" بن گئے لیکن اے یزيد جان لے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ تجھے عدالت الہی کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اس لئے اس دن کے جواب کی تیاری کر، لیکن تو کس طرح جواب دے سکے گا؟ حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جب تک زندہ رہیں امام حسین علیہ السلام کے مشن کو عام کرتی رہیں اور ایک دن قیدخانہ شام میں اپنے بابا کو یاد کرتے کرتے خالق حقیقی سے جا ملیں اور غربت کے عالم میں بے کس و مظلوم بھائی امام سجاد علیہ السلام نے اسی زندان میں آپ کو دفن کر دیا اور آج آپ کا روضہ مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ 🌹 مزید اچھی اچھی پوسٹوں کیلئے اس چینل کو فالو کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ بنت حسینؑ 🌹 ■ اسم گرامی سکینہ سلام اللہ علیہا بنت حضرت امام حسین علیہ السلام (پیدائش 7 نومبر 676ء - وفات 12 نومبر 680ء) یا رقیہ بنت حسینؑ، امام حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔[1][2][3] ■ والدین جناب سکینہؑ کے والد گرامی سردار کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں۔ جناب سکینہؑ کی والدہ گرامی امراءالقیس کی بیٹی ربابؑ تھیں۔ 56ھ میں جناب سکینہ متولد ہوئیں جو امام حسین علیہ السلام کی بڑی عزیز اور چہیتی بیٹی تھیں۔[4] ■ تاریخ پیدائش ابن اسحاق ہمدانی اپنی کتاب مقتل الاسلام میں رقم طراز ہیں کہ: جناب سکینہ بنت الحسین علیہ السلام بروز عید مباہلہ بتاریخ 24 ذوالحجہ 56ھ (بروز جمعہ بمطابق 7 نومبر 676ء) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور جس وقت آپؑ اپنی مادرگرامی رباب سلام اللہ علیہا کے ہمراہ کربلا کے سفر پر روانہ ہوئیں اس وقت آپؑ کی عمر 3 سال 7 ماہ 4 یوم تھی اور آپؑ کے بھائی شہزادہ علی اصغر علیہ السلام 18 دن کے تھے۔[5] بعض کی روایت کے مطابق جناب سکینہ سلام اللہ علیہا 20 رجب 57ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ لیکن معتبر روایت یہی ہے کہ آپؑ 24 ذوالحجہ کو متولد ہوئیں۔[6] ■ مناجات امام حسینؑ در نماز شب اے پروردگار! مجھے ایک ایسی بیٹی عطا کر جس سے میں بہت زیادہ محبت کروں اور وہ بھی مجھ سے بہت زہادہ محبت کرے، وہ میرے سینے پر سوئے اور اس کی قرابت سے مجھے سکون ملے۔[7] ■ تاریخ شہادت جناب سکینہؑ کی تاریخ شہادت 13 صفر 61ھ بروز پیر بمطابق 12 نومبر 680ء ہے۔[8] اور آپؑ باپ صغیر میں مدفون ہیں۔[9] 📚 حوالہ جات 1۔ الاصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا، ج4۔ 3۔ الاصفہانی، ابوالفرج، الاغانی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، چاپ اول، 1415۔ 3۔ ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، 1965، ج4۔ 4۔ تاریخ نسواں، ص236۔ 5۔ تاریخ نسواں، ص239۔ 6۔ ستارۂ دمشق سیدہ سکینہؑ بنت الحسینؑ۔ 7۔ ستارۂ دمشق سیدہ سکینہؑ بنت الحسینؑ، ص2۔ 8۔ ستارۂ دمشق سیدہ سکینہؑ بنت الحسینؑ، ص189۔ 9۔ سکینہؑ بنت الحسینؑ - ویکی شیعہ 🌹 مزید اچھی اچھی پوسٹوں کیلئے اس چینل کو فالو کریں۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایک نابینے بھکاری کی داستان 🔷 میں ایک پارسل کے انتظار میں بس اسٹینڈ پر کھڑا فون کال سن رہا تھا۔ مجھے عقب سے کسی کی بلند آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پلٹ کر دیکھا ایک نابینا شخص ہاتھ میں چھڑی، کندھے پر پرانا سا تھیلا، ننگے سر، ادھ ڈھانپے کپڑوں میں، مونچھیں داڑھی بڑھی ہوٸ، چلا آرہاتھا۔ ایک رکشہ والے نے اسے سڑک پار کروائی، وہ میرے پاس سے گزرا، مجھے ایسے لگا جیسے مرغیوں والی گاڑی ساتھ سے گزر گٸی ہو، ابکاٸیاں آنے لگیں۔ پھر اس نے کسی کوپکارا، سامنے ایک دوکان میں بیٹھے شخص نے جواب دیا، اور اسکی رہنماٸ کرنے لگا”سوٹی آلے پاسے، موٹرسائیکل بچا کے، سیدھا سیدھا، کھبے پاسے۔۔۔۔۔۔۔“ یوں وہ شخص اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے کندھے سے تھیلا اتار کر اس شخص کو دیا۔ اس نے سامنے پڑے ٹیبل پر پلٹ دیا۔ پھر وہ دونوں نوٹ سیدھے کرنے لگے۔ میں یہ دیکھ بڑا حیران ہوا کہ وہ نابینا شخص سو اور پچاس کے نوٹ اکھٹے کر رہا تھا، دس بیس والے ہاتھ لگا کر چھوڑ دیتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں انہوں نے وہ نوٹ سیدھے کر لیے۔ دوکاندار نے نوٹ گنے، ایک نوٹ بک نکالی اور اس پر لکھ دیے۔ اٹھارہ سو ستر روپے بنے تھے۔ پھر وہ نابینا پوچھنے لگا وقت کیا ہوا ہے۔ دوکاندار نے بتایا کہ ساڑھے پانچ ہوۓ ہیں۔ پھر دوکاندار نے ایک تھیلا اسکے قریب رکھا، اسمیں سے نابینا نے ایک جرسی اور ٹراٶزر نکالا، پہنا اور کہنے لگا ابھی کافی وقت ہے میں ایک چکر اور لگا کر آتا ہوں۔ وہ وہاں سے نکلا مشرق سے آیا تھا مغربی بازار کی طرف نکل گیا جس طرف ہوٹل وغیرہ اور فوڈ اسٹریٹ نما مارکیٹیں تھیں۔ میں بڑا متجسس ہوا۔ میں دوکاندار کے پاس گیا۔ اس سے سلام دعا کے بعد نابینا کا قصہ پوچھا تو وہ بولا ”یہ فلاں چک کا ہے، ماں باپ مر چکے ہیں، بھاٸیوں نے گھر سے نکال دیا ہے، تین اندھی بہنیں ہیں، یہ روزانہ بازاروں میں مانگتا ہے، میرے پاس حساب جمع کرواتا ہے۔ رات کو آٹھ بجے پیسے لیتا ہے، کھانا لیتا ہے، رکشہ کروا کر گھر چلا جاتا ہے، دن میں ایک رکشے والا اسکی بہنوں کو کھانا دے آتا ہے، رات کو خود لیجاتا ہے۔“ میں نے کہا: آپ اس کے ساتھ تعاون کررہے ہو بڑی اچھی بات ہے۔ وہ ہنستے ہوۓ بولا ”یہ اس دوکان میں پہلے میں ٹیپ ریڈیو ٹھیک کیا کرتا تھا، یہ نابینا میرے پاس آیا کرتا تھا، زمانہ بدلا، میں پیچھے رہ گیا، ٹیپ ریڈیو کا کام ٹھپ ہو گیا، پھر پنکچر وغیرہ لگانے لگا، اس دوران یہ نابینا گھر سے نکالا جا چکا تھا، یہ مانگنے لگا، اور شام کو میرے پاس آنے لگا، پیسے میرے پاس جمع کروانے لگا، ہر جمعہ کو چھٹی کرتا تھا، سارے ہفتے کی جمع پونجی اپنی بہنوں کو دے کر آتا، پھر بھابھی نے بہنوں کو بھی ایک دن اس کے ساتھ نکال دیا۔ وہ یہاں انہیں میرے پاس لایا، میں نے ایک کمرہ کرایہ پر لے دیا۔ وہ مانگتا رہا، میرے پاس جمع کرواتا رہا۔ یہ دوکان اسکی کے پیسوں کی ہے، مجھے منافع میں آدھ دیتا ہے اور جو باقی بچتا ہے وہ اپنے یتیم بھتیجوں کو بھیج دیتا ہے۔ میں نے کہا: جب اچھی خاصی دوکان بن گئی ہے، مانگنا چھوڑ کیوں نہیں دیتا؟ وہ بولا ”مولوی صاحب اسے مانگنے کی لت لگ چکی ہے، مانگنا اسکا نشہ بن گیا ہے، اب یہ نشہ نہیں چھوٹتا اس سے۔“ میں نے کہا: یہ اپنی صفائی کیوں نہیں رکھتا۔ وہ بولا "میں نے بہت بار کہا ہے، منتیں کی ہیں لیکن یہ بس ایسا ہی ہے، امام صاحب کہتے ہیں یہ بھیک مانگنے کی نحوست ہے۔“ 🔹 مجھے ایک طرف تو اس کے گندے وجود کو دیکھ کر گھن آ رہی تھی لیکن وجود کے اندر موجود خوبصورت دل کو دیکھ کر، نرم دلی کو دیکھ کر فیاضی کو دیکھ کر، نابینا محتاج بہنوں اور یتیم بھتیجوں سے حسن سلوک دیکھ کر عجب تسکین مل رہی تھی۔ ایک شخص نے نابینا ہوتے ہوئے، محتاج ہوتے ہوۓ، نابینا بہنوں کا سہارہ بھی بنا ہوا ہے، یتیم بھتیجوں کی مدد بھی کر رہا ہے۔ جبکہ تین تندرست و صحت مند بھائی ان سے منہ موڑ چکے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی اس کی نیک دلی پر داد دوں یا بھیک مانگنے پر مذمت کروں۔ لیکن دل کہتا ہے کہ جب اپنوں نے دھتکار دیا، لوگوں نے دس بیس دے کر مدد کی تو مذمت تو اپنوں کے منہ موڑنے پر کرنی چاہیے۔ 🔘 احباب گرامی! اپنے محلے میں، تعلقداری میں یتیم، محتاج اور معذوروں کا خیال رکھیں، ہرممکن مدد کریں تاکہ وہ یوں دربدر نہ ہوں اور نہ ہی بھیک مانگنے پر مجبور ہوں۔ ✍ عثمان غنی رانا 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ مزید اچھی اچھی پوسٹوں کیلئے وٹس ایپ پر اس چینل کو فالو کریں۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایک نابینے بھکاری کی داستان 🔷 میں ایک پارسل کے انتظار میں بس اسٹینڈ پر کھڑا فون کال سن رہا تھا۔ مجھے عقب سے کسی کی بلند آوازیں سنائی دیں۔ میں نے پلٹ کر دیکھا ایک نابینا شخص ہاتھ میں چھڑی، کندھے پر پرانا سا تھیلا، ننگے سر، ادھ ڈھانپے کپڑوں میں، مونچھیں داڑھی بڑھی ہوٸ، چلا آرہاتھا۔ ایک رکشہ والے نے اسے سڑک پار کروائی، وہ میرے پاس سے گزرا، مجھے ایسے لگا جیسے مرغیوں والی گاڑی ساتھ سے گزر گٸی ہو، ابکاٸیاں آنے لگیں۔ پھر اس نے کسی کوپکارا، سامنے ایک دوکان میں بیٹھے شخص نے جواب دیا، اور اسکی رہنماٸ کرنے لگا”سوٹی آلے پاسے، موٹرسائیکل بچا کے، سیدھا سیدھا، کھبے پاسے۔۔۔۔۔۔۔“ یوں وہ شخص اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے کندھے سے تھیلا اتار کر اس شخص کو دیا۔ اس نے سامنے پڑے ٹیبل پر پلٹ دیا۔ پھر وہ دونوں نوٹ سیدھے کرنے لگے۔ میں یہ دیکھ بڑا حیران ہوا کہ وہ نابینا شخص سو اور پچاس کے نوٹ اکھٹے کر رہا تھا، دس بیس والے ہاتھ لگا کر چھوڑ دیتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں انہوں نے وہ نوٹ سیدھے کر لیے۔ دوکاندار نے نوٹ گنے، ایک نوٹ بک نکالی اور اس پر لکھ دیے۔ اٹھارہ سو ستر روپے بنے تھے۔ پھر وہ نابینا پوچھنے لگا وقت کیا ہوا ہے۔ دوکاندار نے بتایا کہ ساڑھے پانچ ہوۓ ہیں۔ پھر دوکاندار نے ایک تھیلا اسکے قریب رکھا، اسمیں سے نابینا نے ایک جرسی اور ٹراٶزر نکالا، پہنا اور کہنے لگا ابھی کافی وقت ہے میں ایک چکر اور لگا کر آتا ہوں۔ وہ وہاں سے نکلا مشرق سے آیا تھا مغربی بازار کی طرف نکل گیا جس طرف ہوٹل وغیرہ اور فوڈ اسٹریٹ نما مارکیٹیں تھیں۔ میں بڑا متجسس ہوا۔ میں دوکاندار کے پاس گیا۔ اس سے سلام دعا کے بعد نابینا کا قصہ پوچھا تو وہ بولا ”یہ فلاں چک کا ہے، ماں باپ مر چکے ہیں، بھاٸیوں نے گھر سے نکال دیا ہے، تین اندھی بہنیں ہیں، یہ روزانہ بازاروں میں مانگتا ہے، میرے پاس حساب جمع کرواتا ہے۔ رات کو آٹھ بجے پیسے لیتا ہے، کھانا لیتا ہے، رکشہ کروا کر گھر چلا جاتا ہے، دن میں ایک رکشے والا اسکی بہنوں کو کھانا دے آتا ہے، رات کو خود لیجاتا ہے۔“ میں نے کہا: آپ اس کے ساتھ تعاون کررہے ہو بڑی اچھی بات ہے۔ وہ ہنستے ہوۓ بولا ”یہ اس دوکان میں پہلے میں ٹیپ ریڈیو ٹھیک کیا کرتا تھا، یہ نابینا میرے پاس آیا کرتا تھا، زمانہ بدلا، میں پیچھے رہ گیا، ٹیپ ریڈیو کا کام ٹھپ ہو گیا، پھر پنکچر وغیرہ لگانے لگا، اس دوران یہ نابینا گھر سے نکالا جا چکا تھا، یہ مانگنے لگا، اور شام کو میرے پاس آنے لگا، پیسے میرے پاس جمع کروانے لگا، ہر جمعہ کو چھٹی کرتا تھا، سارے ہفتے کی جمع پونجی اپنی بہنوں کو دے کر آتا، پھر بھابھی نے بہنوں کو بھی ایک دن اس کے ساتھ نکال دیا۔ وہ یہاں انہیں میرے پاس لایا، میں نے ایک کمرہ کرایہ پر لے دیا۔ وہ مانگتا رہا، میرے پاس جمع کرواتا رہا۔ یہ دوکان اسکی کے پیسوں کی ہے، مجھے منافع میں آدھ دیتا ہے اور جو باقی بچتا ہے وہ اپنے یتیم بھتیجوں کو بھیج دیتا ہے۔ میں نے کہا: جب اچھی خاصی دوکان بن گئی ہے، مانگنا چھوڑ کیوں نہیں دیتا؟ وہ بولا ”مولوی صاحب اسے مانگنے کی لت لگ چکی ہے، مانگنا اسکا نشہ بن گیا ہے، اب یہ نشہ نہیں چھوٹتا اس سے۔“ میں نے کہا: یہ اپنی صفائی کیوں نہیں رکھتا۔ وہ بولا "میں نے بہت بار کہا ہے، منتیں کی ہیں لیکن یہ بس ایسا ہی ہے، امام صاحب کہتے ہیں یہ بھیک مانگنے کی نحوست ہے۔“ 🔹 مجھے ایک طرف تو اس کے گندے وجود کو دیکھ کر گھن آ رہی تھی لیکن وجود کے اندر موجود خوبصورت دل کو دیکھ کر، نرم دلی کو دیکھ کر فیاضی کو دیکھ کر، نابینا محتاج بہنوں اور یتیم بھتیجوں سے حسن سلوک دیکھ کر عجب تسکین مل رہی تھی۔ ایک شخص نے نابینا ہوتے ہوئے، محتاج ہوتے ہوۓ، نابینا بہنوں کا سہارہ بھی بنا ہوا ہے، یتیم بھتیجوں کی مدد بھی کر رہا ہے۔ جبکہ تین تندرست و صحت مند بھائی ان سے منہ موڑ چکے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی اس کی نیک دلی پر داد دوں یا بھیک مانگنے پر مذمت کروں۔ لیکن دل کہتا ہے کہ جب اپنوں نے دھتکار دیا، لوگوں نے دس بیس دے کر مدد کی تو مذمت تو اپنوں کے منہ موڑنے پر کرنی چاہیے۔ 🔘 احباب گرامی! اپنے محلے میں، تعلقداری میں یتیم، محتاج اور معذوروں کا خیال رکھیں، ہرممکن مدد کریں تاکہ وہ یوں دربدر نہ ہوں اور نہ ہی بھیک مانگنے پر مجبور ہوں۔ ✍ عثمان غنی رانا 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

وہاں اس نے ساری رقم دکان والے کو دے دی اور فقط ایک گڑیا اٹھا کر چلا آیا۔ اس بیچارے کو پیسوں کا حساب کتاب کہاں آتا تھا۔ جب وہ گھر پہنچا تو ماں کو تحفہ دینے کی خواہش میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ senses سست ہونے کی وجہ سے وہ گر پڑا۔ اسے چوٹ لگ گئی۔ ماں گڑیا کو چومتی رہی اور ہمارے بھائی کو بھی۔ وہ روتی رہی۔ اتنا روئی کہ ہمارے باپ کے مرنے پر بھی کیا روئی ہو گی۔ ہم تینوں بھائی سکتے کے عالم میں چھوٹے کو دیکھتے رہے۔ یہ بات صاف ظاہر تھی کہ اس نے ہم تینوں کو شکستِ فاش سے دوچار کیا تھا۔ ہمارے تحفوں پر ماں نہ تو روئی تھی اور نہ ہی جذبات سے بے قابو ہوئی تھی۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میرے دس ارب روپے کے جہاز کی اس سو روپے کی گڑیا کے سامنے کوئی حیثیت نہ تھی۔ میں نے صرف مینیجر کو فون کیا تھا۔ اس نے اپنا آپ داؤ پر لگا دیا تھا۔ ماں نے ہم تینوں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا لیکن ہم ہار چکے تھے۔ یہ وہ وقت تھا، جب میں سوچنے لگا کہ اگر ایک انسان دس ارب روپے کے جہاز پر سو روپے کی گڑیا کو ترجیح دے رہا تھا تو خدا کے ہاں حساب کتاب کے پیمانے کیا ہوں گے۔ انسان تو بنیادی طور پر مادہ پرست ہے ۔ وہ تو سونے، لوہے ، کوئلے اور تیل کے ذخائر سے محبت کرتا ہے۔ خدا نے تو یہ چیزیں خود بنائی ہیں۔ وہ تو ان چیزوں سے محبت نہیں کرتا۔ اگر ایک انسان یعنی میری ماں خلوص کو اس قدر اہمیت دے رہی تھی تو خدا کے ہاں اس خلوص کی قیمت کیا ہو گی؟ اس نے فیصلہ کیا کہ ایک سو روپے کی گڑیا لوں اور خدا کو پیش کروں۔ ایسی گڑیا جو دس ارب روپے کے جہاز پہ بھاری ہو جائے۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5727 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

💝 خلوص کا تحفہ سب پر بھاری 💝 یہ واقعہ مسز طارق کے بڑے بیٹے کی زبانی سنا۔ اس نے کہا: ہم چار بھائی ہیں۔ والد کا وسیع و عریض کاروبار تھا۔ ابھی ہم لڑکپن میں تھے کہ ایک حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ماں غیر معمولی خاتون تھی۔ شکل و صورت کے لحاظ سے اور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے بھی۔ وہ غیر معمولی رکھ رکھاؤ کی عورت تھی۔ اولاد کی خاطر اپنی زندگی تج دینے کا اس نے فیصلہ کیا۔ کاروبار کی دنیا سے مکمل انجان ہونے کے باوجود اس نے فیصلے صادر کرنے شروع کیے۔ جائیداد کافی تھی۔ کئی جگہ نقصان بھی ہوا لیکن بہرحال ہم چار بھائیوں میں سے تین کسی نہ کسی طرح پڑھ لکھ گئے۔ عملی زندگی کا آغاز کیا تو تینوں غیر معمولی ثابت ہوئے۔ میں نے کاروبار سنبھالا تو دیکھتے ہی دیکھتے اسے چار چاند لگ گئے۔ کئی ممالک تک میں نے اسے پھیلا دیا۔ مجھ سے چھوٹا بھائی ایک بے مثال شاعر بنا۔ اس سے چھوٹا بہت بڑا سائنسدان۔ سب سے چھوٹا بھائی ذہنی طور پر معذور تھا۔ بات تو وہ سمجھ لیتا تھا لیکن اسے چلنے میں دقت ہوتی۔ اسے صرف بہت قریب کی چیزیں ہی نظر آتی تھیں۔ اسی طرح وہ اپنے قریب کی آواز ہی سن سکتا تھا۔ قصہ مختصر یہ کہ اس کی حسیات (senses) سست تھیں۔ ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے۔ وہ گھر کے سامنے یا چھت پر بیٹھا دھوپ سینکتا رہتا۔ کبھی کبھار وہ چہل قدمی کرنے چلا جاتا۔ کئی کئی گھنٹوں بعد واپس لوٹتا۔ وہ سب ذمہ داریوں سے آزاد تھا۔ یہاں تک پہنچ کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا ''اس روز ‘‘ اس نے کہا '' زندگی میں پہلی بار ماں نے ہم سے کوئی فرمائش کی۔ اس نے کہا کہ وہ یہ چاہتی ہے کہ اس کی سالگرہ پر ہم سب اسے کوئی تحفہ دیں۔ پہلی بار ماں نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ہم تینوں حیرا ن تھے۔ ہماری خاطر اس نے اپنی زندگی تج دی تھی۔ یہ صلہ دینے کا وقت تھا۔ ہم سب سالگرہ کی تیاریوں میں لگ گئے۔ آخر سالگرہ کا دن آیا۔ میں نے 10 ارب روپے کا ایک نہایت خوبصورت جہاز ماں کو پیش کیا۔ اس میں وہ جب جہاں جس علاقے کی سیر کرنا چاہتی، کر سکتی تھی۔ شاعر بھائی نے ایک طویل نظم ماں کے نام لکھی تھی اور کیا خوب۔ کبھی کسی نے اپنی ماں کی ایسی تعریف نہ لکھی ہو گی۔ سائنسدان نے ایک ایسی چادر اسے پیش کی، جس کا رنگ پہننے والے کے جذبات کے اعتبار سے بدل جاتا تھا۔ سرخ، نیلے، سفید سمیت وہ کئی رنگ بدل سکتی تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں اس قدر خوبصورت لباس نہ دیکھا تھا۔ ماں نے کہا کہ اب سب تفصیل بتاؤ کہ کس طرح تم نے یہ تحفہ میرے لیے حاصل کیا۔؟ میں نے بتایا کہ میں نے اپنے مینیجر کو فون کیا۔ اسے کہا کہ وہ اچھے جہازوں کی تفصیلات مجھے پیش کرے۔ پھر دس بہترین جہازوں میں سے میں نے یہ منتخب کیا۔ مینیجر کو چیک پر دستخط کر کے دئیے۔ شاعر نے کہا کہ وہ ساری رات سوچتا رہا۔ ایک ایک مصرعہ لکھتا رہا، مٹاتا رہا۔ سائنسدان نے کہا کہ ایسی چادر پر وہ کئی سال سے کام کر رہا تھا۔ جب ماں نے فرمائش کی تو اس نے وہ چادر سب سے پہلے ماں کو پیش کرنے کا ارادہ کر لیا۔ ماں مسکراتی رہی، اس نے ہمارا شکریہ ادا کیا۔ جب یہ محفل تمام ہونے لگی تو دروازہ کھلا اور ذہنی معذور بھائی لنگڑاتا ہوا اندر آیا۔ اس کے کپڑے خاک آلود تھے۔ اس کے رخسار پر ایک زخم تھا۔ اس سے خون رس رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک گڑیا تھی۔ اس گڑیا نے جو لباس پہن رکھا تھا، اس پر شیشے جڑے ہوئے تھے۔ کئی شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ ہمارا چھوٹا بھائی کہیں گرا ہے یا اسے کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔ ماں دیوانہ وار اس کی طرف لپکی۔ اسے پانی پلایا گیا۔ اسے نہلایا گیا اور اس کے کپڑے تبدیل کرائے گئے۔ زخم معمولی تھا، اسے پٹی کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر ذہنی معذور بھائی نے رک رک کر ماں کو اپنی کہانی سنائی: جب اس نے سنا کہ ماں تحفہ مانگ رہی ہے تو وہ گھر سے نکل پڑا۔ آخر اسے ایک زیرِ تعمیر عمارت نظر آئی۔ اس نے ٹھیکیدار سے کہا کہ وہ مزدوری کرنا چاہتا ہے۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ ٹھیکدار نے اسے پہچان لیا۔ اس نے کہا کہ تم تو مسز طارق کے بیٹے ہو۔ لڑکے نے کہا کہ وہ اپنی ماں کو کوئی تحفہ دینا چاہتا ہے۔ وہ مزدوری کرنا چاہتا ہے۔ ٹھیکیدار نے اسے ویسے ہی کچھ رقم دینے کی پیشکش کی، جو اس نے مسترد کر دی۔ آخر ٹھیکیدار نے اسے ایک برتن دیا اور اسے مٹی کے ایک ڈھیر پر کھڑا کر دیا۔ اسے کہا کہ اس میں مٹی ڈالے اور کچھ دور خالی زمین پر پھینکتا رہے۔ سناٹے کے عالم میں ہم سب اس کی کہانی سنتے رہے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ کیسی مزدوری اس نے کی ہو گی۔ ساری مٹی وہ راستے میں ہی گرا دیتا ہوگا۔ اس نے بتایا کہ ٹھیکیدار رو رہا تھا۔ اس کی اپنی ماں چند روز قبل ہی فوت ہوئی تھی۔ ٹھیکیدار نے اسے بہت سے پیسے دیئے۔ ایک جگہ اسے چمکدار روشنیوں والے کھلونے نظر آئے۔