ISLAM WITH EMAN
Открыть в Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Больше1 285
Подписчики
Нет данных24 часа
-67 дней
-730 дней
Архив постов
1 285
■ ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔ پوسٹ دیکھنے کیلئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 ماہ ربیع الاول
https://t.me/islamwitheman/4984
🌸 اعمال پہلی ربیع الاول
https://t.me/islamwitheman/2769
🔥 شہادت محسن ابن علی (یکم ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/1992
🔥 محسن ابن علی کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/2793
🌷 رحلت بیبی ام رباب (6 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2784
🌷 ام رباب زوجہ امام حسین
https://t.me/islamwitheman/2783
🌹 تعارف امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2000
🔶 شھادت امام حسن عسکری (8 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2002
🔶 زیارت امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2003
🌹 فرامین امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2004
🌹 حیاتنامہ امام حسن عسکری
https://t.me/islamwitheman/2786
🌹 عید شجاع، عید زھراء (9 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2790
🌹 عید شجاع، عید زھراء
https://t.me/islamwitheman/2013
🌹 شادی مبارک کے اخلاقی نکات (10 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2015
🌺 ہفتہ وحدت 12 تا 17 ربیع الاول
https://t.me/islamwitheman/2030
🤝 12 سے 17 ربیع الاول ہفتۂ وحدت
https://t.me/islamwitheman/2796
⏮ یزید ابن معاویہ کا واصل جہنم ہونا (14 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2029
🌹 شجرہ نسب حضرت محمد
https://t.me/islamwitheman/2019
🌹 مختصر سوانح حیات (17 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2020
🔷 بوقت ولادت آثار نبوت
https://t.me/islamwitheman/2021
🔷 تجارت اور بحیرا سے ملاقات
https://t.me/islamwitheman/2022
🔷 کردار کی بلندی اور شادی
https://t.me/islamwitheman/2023
🌹 رسولخدا قرآن کی روشنی
https://t.me/islamwitheman/2762
🌹 پیغمبر اکرم کی منفرد خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5024
🔷 رسول اکرم کی جائیداد
https://t.me/islamwitheman/4948
🌹 معجزات جسمِ اقدس رسولؐ
https://t.me/islamwitheman/5358
🔷 اولوالعزم انبیاء
https://t.me/islamwitheman/119
🔷 انسان وجود انبیاء کا محتاج ہے
https://t.me/islamwitheman/1081
🔷 انبیاء کرام صرف مشرق وسطی میں آئے؟
http://t.me/islamwitheman/1091
🍀 انسان کی تدریجا فکری تربیت
http://t.me/islamwitheman/1148
🍃 کیا دنیا و آخرت میں تضاد ہے؟
http://t.me/islamwitheman/1152
🌿 دیگر مناطق میں انبیاء
http://t.me/islamwitheman/1151
🔷 امام صادق کا مختصر تعارف (17 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2031
🔵 امام صادق اور ہندی طبیب 1
https://t.me/islamwitheman/2032
🌹 امام جعفر صادق کا جاہ و جلال
http://t.me/islamwitheman/2381
🔷 زیارتنامہ امام جعفر صادق
http://t.me/islamwitheman/2382
🔷 امام صادق کی ضمانت
http://t.me/islamwitheman/2386
🌹 ام کلثوم بنت امام علی (18 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2801
🌹 فدک، شہزادیؑ کیلئے تحفہ (22 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/2804
🌹 مختصر واقعہ فدک
https://t.me/islamwitheman/2805
🌹 جاگیر فدک کا مختصر احوال
https://t.me/islamwitheman/2806
🌹 فدک پر حضرت فاطمہؑ کا دعوائے ملکیت
https://t.me/islamwitheman/2810
🌹 مقدمہ فدک
https://t.me/islamwitheman/2811
🌹 خطبہ فدکیہ اور ناراضگی
https://t.me/islamwitheman/2814
🌹 فدک سے متعلق موقفات
https://t.me/islamwitheman/2815
🌹 خطبہ فدک
https://t.me/islamwitheman/2816
🌹 حضرت زہراءؑ کے بارے گریۂ پیغمبرؐ
https://t.me/islamwitheman/2820
🌹 تاریخ حضرت ابوطالب (26 ربیع الاول)
https://t.me/islamwitheman/3105
🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالب
https://t.me/islamwitheman/3626
🌹 تاریخ حضرت ابوطالب
https://t.me/islamwitheman/3629
🌹 جناب ابوطالب علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3630
🌹 زیارتنامہ حضرت ابوطالب
http://t.me/islamwitheman/2402
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
تحریر پڑھنے کے لیے۔۔۔
🌹 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/2059
🌹 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/2103
1 285
*انعام*
بادشاہ کا قیمتی موتی گم ھو گیا ، اس نے اعلان کیا کہ جو اسے ڈھونڈ لائے گا اسے اس اس انعام سے نوازا جائے گا !
سارے درباری سردار اور معززین تلاش میں لگ پڑے ،، دو دن کی جان مار تلاش کے بعد ایک درباری کو وہ موتی مل گیا، جبکہ باقی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود ناکام رھے !
بادشاہ نے ڈھوندنے والے کو حسب وعدہ تمام انعامات سے نوازا اور اس کی محنت کی تعریف کی !
اس کے بعد بادشاہ دوسرے درباریوں کی طرف متوجہ ھوا اور ان کی محنت پر ان کے لیئے خیر کے کلمات کہے اور پھر ان کو بھی انعامات دیئے ! یہ منظر دیکھ کر اس درباری کو کہ جسے وہ موتی ملا تھا، کچھ اچھا نہیں لگا اور اس کے چہرے پر کبیدگی کے آثار نظر آنے لگے ! بادشاہ جو یہ سب محسوس کر رھا تھا وہ اس درباری کی طرف متوجہ ھوا اور اس سے کہا کہ
"میں نے موتی ڈھونڈنے والے سے جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق تمہیں نواز دیا اور اس میں کمی کوئی نہیں کی ! پھر میں سعی والوں کی طرف متوجہ ھوا اور ان کو نوازا اور تیرے حق میں سے کم کر کے نہیں دیا بلکہ اپنے خزانے سے دیا،، میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ کوشش کر کے بھی جن کو نہ ملا ان کو محروم کر دونگا ! موتی ایک تھا اور ایک کو ھی ملنا تھا،،
مگر سعی کرنے والے بہت تھے،، پانے والے کو پانے کا صلہ مل گیا اور سعی والوں کو ان کے خلوص کا صلہ ملا !!
مگر اے شخص میں تیرے چہرے پہ ناگواری کے آثار دیکھتا ھوں گویا کہ تو میرے فیصلے میں بے انصافی دیکھتا ھے ؟ تو میری عطا کو اپنے احسان سے کم سمجھتا ھے اور مجھے اپنے احسان کے تابع رکھ کر مجھ سے اپنی مرضی کے فیصلے کرانا چاھتا ھے،تو چاھتا ھے کہ میں سب کو محروم رکھوں کیونکہ اس میں تیری رضا ھے !!
جہاں تک تیرے احسان کا تعلق ھے تو اس کی اھمیت میرے نزدیک بس اتنی ساری ھے"
،،یہ کہہ کر بادشاہ نے موتی کو فرش پر پٹخ کر ٹکڑے کر دیا،، اور اپنا خطاب جاری رکھا !
میرے خزانے ایسے موتیوں سے بھرے پڑے ھیں ِ پا کر احسان جتلانے والوں کی نسبت نہ پا کر پچھتاوے کا احساس رکھنے والے مجھے زیادہ عزیز ھیں ،، کیونکہ پچھتاوہ انکساری پیدا کرتا ھے اور احسان تکبر پیدا کرتا ھے ! اور کسی بادشاہ کے دربار میں کسی متکبر کی کوئی جگہ نہیں !
یہ کہہ کر بادشاہ نے اس درباری کو اپنی مجلس سے نکال دیا !!
ھمیں اپنی بخشش پر نظر رکھنی چاھئے نہ کہ اپنے چند ناقص سجدوں کے عوض اللہ کی عطا پر قدغن لگانی چاھئے کہ وہ جس پر بھی فضل کرے ھماری مرضی پوچھ کر کرے !! ھمیں کبھی بھی اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان نہیں آنا چاھئے ،، " چاھے وہ گنہگار بندے ھی کیوں نہ ھوں ۔"
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*میٹرک کے بعد کیا کریں؟ (2)*
سب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ یہ مشورہ زیادہ تر *پاکستان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں* کے لیے ہے۔
جن کے گھروں کے حالات اور وسائل اچھے ہیں، ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ *اعلیٰ تعلیم* حاصل کریں تاکہ مستقبل میں بہتر مقام حاصل کر سکیں۔
لیکن پاکستان کی اکثریت متوسط طبقے پر مشتمل ہے، اس لیے میٹرک کے بعد ان کے لیے سب سے موزوں راستہ یہ ہے کہ وہ کوئی *ڈپلومہ یا ٹیکنیکل کورس* کریں، جس کے ذریعے جلد روزگار یا کاروبار شروع کیا جا سکے۔
🔹 *01 سالہ ڈپلومے اور ٹیکنیکل کورسز*
* کمپیوٹر آفس مینجمنٹ (MS Office, IT Skills)
* گرافک ڈیزائننگ اور فری لانسنگ
* ویب / ایپ ڈویلپمنٹ (بنیادی سطح)
* الیکٹریشن (گھریلو و صنعتی)
* موبائل فون ریپیرنگ
* ایئرکنڈیشن و ریفریجریشن (AC & Fridge Technician)
* پلمبنگ کورس
* آٹو مکینک (کار و ڈیزل مکینک)
* بیوٹیشن کورسز (خواتین کے لیے)
* درزی و فیشن ڈیزائننگ
* سوشل میڈیا مارکیٹنگ / ڈیجیٹل مارکیٹنگ
🔹 *02 سالہ ڈپلومے*
(ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر – DAE سطح کے برابر یا اس سے چھوٹے)
* کمپیوٹر ہارڈویئر اور نیٹ ورکنگ
* آٹو مکینکس / ڈیزل ٹیکنالوجی
* سول ڈرافٹنگ اینڈ سروئنگ
* الیکٹریکل ٹیکنالوجی
* الیکٹرانکس ٹیکنالوجی
* ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی
* فوڈ اینڈ ڈیری ٹیکنالوجی
* میکینکل ٹیکنالوجی
* ہیلتھ ٹیکنیشن (ڈسپنسر، فارمیسی وغیرہ)
* ایگریکلچر / لائیو اسٹاک ٹیکنالوجی
🔹 *03 سالہ ڈپلومے (DAE - Diploma of Associate Engineer)*
یہ سب سے زیادہ جاب اور کاروباری مواقع دینے والے کورسز ہیں، جو ٹیکنیکل بورڈ کے تحت ہوتے ہیں:
* DAE in Civil Technology
* DAE in Electrical Technology
* DAE in Mechanical Technology
* DAE in Electronics Technology
* DAE in Computer Information Technology (CIT)
* DAE in Architecture
* DAE in Auto & Diesel Technology
* DAE in Refrigeration & Air Conditioning
* DAE in Chemical Technology
* DAE in Textile Technology
🔹 *اہم ادارے جہاں یہ کورسز ہوتے ہیں*
* TEVTA (Technical Education & Vocational Training Authority)
* NAVTTC (National Vocational & Technical Training Commission)
* GTTI (Government Technical Training Institutes)
* PVTC (Punjab Vocational Training Council)
* پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ (APTECH, Arena, PNY, Corvit وغیرہ)
✅ *اہم باتیں*
* 1 سال یا اس سے کم والے کورسز فوری روزگار کے لیے زیادہ موزوں ہیں (جیسے موبائل ریپیرنگ، کمپیوٹر، الیکٹریشن)۔
* 2 سال اور 3 سال والے ڈپلومے زیادہ *پیشہ ورانہ اور لمبے عرصے کے روزگار* کے لیے بہترین ہیں۔
* حکومت اکثر ان کورسز کے لیے *مفت اسکالرشپ یا وظیفے* بھی دیتی ہے۔
💡 *آخر میں میرا مشورہ*
اگر آپ کے پاس اور کوئی اچھا مشورہ دینے والا ہو یا مزید بہتر رہنمائی کرنے والا ہو تو آپ اس سے بھی ضرور مشورہ لیں۔
یہ کوئی حتمی رائے نہیں ہے، ہمارا جو ایکسپیرینس اور مشاہدہ تھا، وہ ہم نے آپ کے ساتھ شیئر کیا۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*میٹرک کے بعد کیا کریں؟ (1)*
مجھ سے ایک قریبی دوست نے یہ سوال پوچھا کہ:
*"میں نے میٹرک کر لی ہے، اب آگے پڑھائی جاری رکھوں یا چھوڑ دوں؟"*
میں نے سوچا شاید یہ سوال صرف اس کا نہیں بلکہ ہم سب کے ذہنوں میں ہوتا ہے، اس لیے میں نے اپنی رائے آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
*میرا مشورہ 👇*
✅ پاکستان میں زیادہ تر گھرانے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ میٹرک کے بعد آپ *2 سے 3 سال کا ڈپلومہ یا ٹیکنیکل کورس* کریں۔
✅ ایک اور بہترین آپشن *پاکستان ایئر فورس (PAF)* میں شمولیت ہے، جہاں عزت بھی ہے اور مستقبل بھی روشن ہے۔
✅ اگر آپ کے گھر کے وسائل اچھے ہیں تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا یقیناً بہترین انتخاب ہے، لیکن یہ ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔
تحصیل ساہیوال، سرگودھا میں *شعیب اکیڈمی* موجود ہے، جو صرف *3 ماہ کا کورس* کرواتی ہے۔ اس کے نمایاں پہلو یہ ہیں:
✦ کورس مکمل کرنے کے بعد PAF ٹیسٹ میں *100% نمبر لینے کے امکانات* بڑھ جاتے ہیں۔
✦ کورس کی فیس تقریباً *25,000 روپے* ہے۔
✦ رہائش اکیڈمی فراہم کرتی ہے، البتہ کھانے پینے کا خرچ اپنا ہوتا ہے۔
✦ اس اکیڈمی سے تیاری کرنے کے بعد جاب ملنے کے *90% سے زیادہ امکانات* ہیں۔
*آپ کے لیے پیغام* 🌟
ممکن ہے آپ کے علاقے میں بھی کوئی ایسی اکیڈمی ہو جس کا رزلٹ اتنا ہی اچھا ہو، تو آپ وہاں سے بھی کورس کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمارا جو ذاتی تجربہ ہے وہ یہ ہے کہ سرگودھا کی تحصیل ساہیوال میں واقع شعیب اکیڈمی کا رزلٹ بہت اچھا ہے۔
💡 نوجوانو! وقت ضائع نہ کریں، اپنی زندگی کے اس سنہری موقع کو پہچانیں۔
یا تو کوئی ہنر سیکھیں، یا پھر ایئر فورس جیسے اداروں میں کیریئر بنائیں۔ یہی آپ کے اور آپ کے گھرانے کے مستقبل کی کامیابی کا راستہ ہے۔ 🌟
*ٹیکنیکل کورسز کے بارے میں معلومات ان شاءاللہ اگلی پوسٹ میں شیئر کی جائیں گی، اس کا انتظار کریں۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں – ان کی متوازن شخصیت بنائیں
کینیڈا کے معروف ماہر نفسیات پروفیسر جارڈن پیٹرسن کا کہنا ہے:
“اپنی اولاد کی پرستش نہ کریں، بلکہ ان کی پرورش ایک ذمہ دار اور متوازن شخصیت کے طور پر کریں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا حد سے زیادہ لاڈ پیار انہیں نرگسیت (Narcissism) کا شکار بنا دے۔”
بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں
بچہ جب غلطی کرے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ غلط رویے پر ٹوکنا اور اصلاح کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
صرف محبت اور تعریفیں ہی دینا کافی نہیں، بلکہ حدود اور اصول بھی سکھانا لازمی ہے۔
ایک کامیاب پرورش وہی ہے جہاں بچہ نہ تو خوف کا شکار ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ بگڑ جائے۔
کیوں ضروری ہے متوازن تربیت؟
پروفیسر پیٹرسن کے مطابق:
اگر والدین بچے کو صرف مرکزِ کائنات بنا دیں، تو بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر چیز اس کی خواہش کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہ رویہ آگے چل کر خود غرضی، بدتمیزی اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کی عادت پیدا کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، ایک متوازن تربیت بچے کو نہ صرف ذمہ دار انسان بناتی ہے بلکہ وہ معاشرے کا مثبت فرد بھی بنتا ہے۔
عملی نکات والدین کے لیے:
1. بچے کو محبت دیں مگر اصولوں کے ساتھ۔
2. غلطی پر پیار سے سمجھائیں اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کریں۔
3. بچے کو دوسروں کی عزت کرنا سکھائیں۔
4. محنت اور صبر کی اہمیت بتائیں، تاکہ وہ حقیقی دنیا میں کامیاب ہو سکے۔
💡 یاد رکھیں:
بچے کو نکھارنا صرف اس کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار اور متوازن بچہ کل کو ایک اچھا شہری، والدین، اور لیڈر بن سکتا ہے۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
ایک گاؤں میں چیتا آتا کمزوروں کی جھونپڑیوں سے ان کے کسی نہ کسی معصوم بچے کو اٹھا کر لے جاتا۔
اس گاؤں کے سارے طاقتور ملکر کمزوروں کی مالی مدد بھی کرتے، اور دوسروں میں بھی مدد کا جذبہ پیدا کرنے کا بہانہ بنا بنا کر اپنی مدد کی تشہیر دور دور تک کرتے بھی رہتے۔
عبادت گاہوں میں اجتماعی توبہ کا انتظام بھی کروایا جاتا۔
جب بھی کسی طاقتور سے پوچھا جاتا کہ چیتے کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی تو وہ کہتا جناب کوشش تو بہت کرتے ہیں، رات میں گاؤں کے چاروں طرف پہرہ بھی بٹھاتے ہیں مگر شاید یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ گناہ بہت بڑھ گئیے ہیں، دعا کریں کہ مالک کائنات ہم پر رحم فرمائے۔
کمزوروں کو سکھایا جاتا کہ سب مل کر اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور دعا کرو کہ چیتا مر جائے۔ یا وہ ہماری بستی سے ہی کہیں دور چلا جائے۔
سب دعائیں کرتے رہے مگر کوئی دعا قبول نہ ہوئی، چیتے کے منہ کو بچوں کے خون کی صورت ایک آسان شکار کرنے کا چسکا لگ چکا تھا۔
پھر ایک دن مالک کائنات کے حکم سے اس کمزور انسان کا بچہ چیتا اٹھا کر لے گیا، جسے مالک کائنات نے دعا کرنے کا سلیقہ سکھا دیا تھا۔
اس انسان نے ہاتھ اٹھائے، آسمان کی طرف روتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور کہا، اے وہ ذات کہ جس نے سب کچھ تخلیق کیا اور تن تنہا تخلیق کیا، اور جسکا کوئی شریک نہیں، تو نے چیتے کو پیدا کیا ہے، اسے درندہ بنایا ہے، اسکا کوئی قصور نہیں وہ تو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئیے شکار کرے گا، اور جہاں اسے شکار آسانی سے مل جائے وہ اسے شکار کرنے کہیں اور کیوں جائے گا۔
اے مالک کائنات اگر تو چاہے تو وہ چیتا دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئے گا، مگر میں جانتا ہوں کہ تو نے یہ دنیا امتحان کی جگہ بنائی ہے اور تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تیرے طاقتور بندے تیرے کمزور بندوں کی تکلیف میں کتنا درد محسوس کرتے ہیں۔
اے مالک کائنات میں تجھ سے چیتے کے مرنے کی دعا نہیں کرتا، کیونکہ اگر تو چاہتا تو ایسے کسی چیتے کو پیدا ہی نہ کرتا۔
میں تجھ سے صرف اتنا مانگتا ہوں کہ تو نے جس جس کو یہ طاقت اور دولت دے رکھی ہے کہ وہ اس چیتے کو پکڑ کر مار دیں، تو اسی چیتے کے ہاتھوں ویسے ہی ان میں سے کسی کا بچہ بھی شکار کروا دے جیسے تو نے میرا بچہ شکار کروایا ہے۔
اگلی صبح گاؤں میں ہنگامہ بپا تھا کہ گاؤں کے سب سے طاقتور کے گھر کے صحن سے چیتا اسکا بچہ اٹھا کر لے گیا ہے۔
آس پاس کے سات گاؤں کے طاقتور، اپنی گاڑیوں، شکاری کتوں اور اسلحہ سے لیس لوگوں کے ساتھ چیتے کی تلاش میں نکل پڑے، سب کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ اب اس چیتے کی ہمت بہت بڑھ گئی ہے، یہ کمزور جھونپڑیوں کو چھوڑ کر اونچی حویلیوں کی دیواریں پھلانگنے لگا ہے۔
درجنوں شکاری کتوں نے کچھ ہی دیر میں چیتا ڈھونڈھ نکالا۔
اسے مار دیا گیا۔ اسکی لاش کو گاؤں کے بیچوں بیچ لٹکا کر گولیاں برسائی گئیں۔
کہتے ہیں کہ اس گاؤں سے دوبارہ پھر کبھی کسی کمزور کا بچہ کسی چیتے کا شکار نہیں بنا۔
آج کتنے سال گزر چکے ہیں، اس گاؤں کے داخلی راستے پر اس طاقتور گاؤں والے کے چیتے کا شکار ہونے والے بچے کے نام کی ایک بہت بڑی پتھر کی یادگار بنائی گئی ہے، جس پر لکھا گیا ہے کہ جانباز شہید جس کے خون کی برکت سے رب العالمین نے گاؤں والوں کو ایک خونی درندے سے نجات دی۔
دور دور کے گاؤں سے لوگ اس طاقتور کے بچے کی ماں سے اپنی مشکلوں کے لئیے دعائیں کروانے آتے ہیں کیونکہ سب کا ماننا یہ ہے کہ گاؤں سے بچے تو بڑے گناہگاروں کے بھی اٹھائے گئیے مگر آخر کار دعا ایک نیک دل ممتا کی مورت کی ہی قبول ہوئی اور سب کو اس عذاب سے نجات مل گئی۔۔۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
جو شخص خود کو بدنامی کی جگہوں پر لے جائے تو پھر جو بھی اس سے بدظن ہو اسے برا نہ کہے۔
1 285
جو تمھاری عزت کرے تم بھی اس کی عزت کرو اور جو تمھیں حقیر سمجھے تو پھر تم اس سے اپنی عزت کو خود بچاؤ۔
1 285
جو شخص کھانے پر خدا کا نام لیتا ہے اس کھانے کی نعمت کے بارے میں اس سے سوال نہیں ہو گا۔
1 285
جب مہمان آٹا ہے تو رزق و روزی کو اپنے ہمراہ لے کر آتا ہے اور جب کھانا کھا لیتا ہے تو اللہ میزبان و مہمان سب کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
1 285
*ساگو دانہ کھائیں*
جسمانی تھکاوٹ کا علاج
اگر آپ بھی تھکاوٹ، جسم درد کمر درد جوڑوں کے درد کمزوری اور خون کی کمی سےپریشان ہیں،۔ ہر وقت لیٹے رہنے کو دل کرتا ہے، اور ادویات کھا کھا کر پریشان ہوچکے ہیں تو ایسے افراد صبح ناشتے میں ساگو دانہ کی کھیر ضرور کھائیں اور ساری پریشانیوں کو بھول جائیں ساگودانہ کھانے سے نہ صرف جسم کے درد اور نہ صرف کمزوری میں افاقہ ہو گا۔ بلکہ خون کی کمی بھی دور ہو گی۔
ساگودانہ کی کھیر بنانے کا طریقہ:-
ایک پین میں تین کپ دودھ ڈال کر پکائیں جب دودھ ابل جائے تو اس میں تین چمچ ساگو دانہ ایک سے دو گھنٹے بھیگا ہوا دودھ میں شامل کرلیں اور اس آمیزے کو پندرہ سے بیس منٹ تک پکنے دیں اور چمچ ہلاتے رہیں تا کہ اس کی کھیر گاڑھی ہوجائے اور برتن کے پیندے میں بھی نہ لگے پھر اس میں آدھا کپ چینی شامل کر کے اس میں تین سے چار سبز الائچیوں کا پاؤڈر بھی شامل کرلیں۔
اور اچھی طرح سے مکس کرلیں آخر میں بادام کشمش اور خشک میوہ جات بھی شامل کرلیں ، اچھی طرح مکس ہونے پر اور گاڑھا ہونے پر اسے اتار لیں ۔ ساگودانہ کی مزیدار کھیر تیار ہے خود بھی کھائیں اور بچوں کو بھی کھلائیں ۔۔قوت مدافعت میں اضافہ کرے گی ۔ ۔
🌹🌹🌹🌹🌹
1 285
*احمق اور بیوقوف کی تشہیر*
"احمق اور بیوقوف لوگوں کو مشہور کرنا بند کرو !"
کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکہ، کینیڈا، یورپی ممالک
سمیت دنیا بھر میں حال ہی میں ایلن ڈنو کی شائع کردہ کتاب کی تشہیر کی گئی کہ؛
بیوقوف احمق لوگوں کو مشہور کرنا بند کرو!
جس کا مطلب ہے کہ معمولی ذہن کے حامل اور نکمے لوگوں کو مشہور کرنا چھوڑ دو!
ان معمولی ذہن کے حامل افراد کو سوشل میڈیا پر دھکیلنا ابھرتی ہوئی نوجوان نسلوں اور نوعمروں کو خراب کرنا ہے اور یہ ایک جرم ہے۔۔۔
جب سوشل میڈیا سائٹس پر موجود ان نئی نئی مشہور شخصیات کے اکاونٹس کا طویل مطالعہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان تمام لوگوں میں ایک خوبی مشترک ہے، جس پر سوشل میڈیا کی معمولی صنعت کا انحصار ہے، اور وہ ہے؛
" اچھلنا کودنا، ناچنا، چیخنا اور بہت زیادہ عجیب حرکتیں کرنا اور شور کرنا"
یہ معروف احمق لوگ ایسے الفاظ میں بات کرتے ہیں جو کوئی معنیٰ نہیں رکھتے ایسی حرکتیں کرکے آپ مشہور ہوجائیں گے اور لوگ آپ کو داد دینے والے لوگ بھی مل جائیں گے - اور جب آپ کے فالوورز کی تعداد دس لاکھ 10،00،000 سے تجاوز کرجائے گی، تو آپ کو میڈیا اور فنکشنز میں میزبانی کی پیشکشیں بھی ملیں گی، اور ایسے ایونٹس کے بعد کیا... ؟
انسانی اخلاقیات نہایت تیزی سے زوال پذیری کی طرف جا رہی ہے یہ ثقافت تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے
اور نسلوں کو گمشدہ سمتوں میں دھکیل رہی ہے
اور اس سب کا ذمہ دار کون ہے... ؟
ہم سب افراد ، اداروں اور معاشروں کے منتظمین ذمہ دار ہیں۔
ان احمقوں کی پوسٹس شئیر نہ کر کے ان بیوقوف لوگوں کو مشہور کرنا چھوڑ دینا چاہیے
اور کینیڈا کے مصنف ایلن ڈونو کی یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرہ کتنا غیر اہم کاموں میں مشغول ہے اور اصل زندگی کی ضروریات تعلیم صحت روزگار جسے معاملات کے حل سے کتنا زیادہ دور ہے۔
بکواسیات کا نظام
ایلن ڈینو
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*بلڈ پریشر اور یورک ایسڈ کیلئے بہترین*
ھوالشافی۔
ایک گلاس پانی لےکر اس میں پانچ خشک آلو بخارے کے دانےاور اس میں چھوٹا سا ادرک کا پیس شامل کر دیں اور اس آمیزے کو بلینڈر سے میش کرلیں تاکہ وہ اس میں اچھی طرح سے گھل مل جائے گا۔
پھر اس میں ایک گلاب کے پھول کی پتیاں شامل کر لیں۔
پھر اس آمیزے کو مٹی کے ایک پیالے میں اچھی طرح ڈھانپ کر رکھ دیں۔ صبح اٹھ کر اسکو چھلنی کی مدد سے چھان لیں-
اس شربت کو نہار منہ صبح پینا ہے۔
یہ بلڈپیریشر اور یورک ایسڈ میں مبتلاء لوگوں کیلئے بہت ہی زیادہ عمدہ چیز ہے۔
یہ بلڈ پریشر کو اور یورک ایسڈ کو بہت جلدی کنٹرول کرتا ہے۔
آپ ایک کام اور بھی کر سکتے ہیں کہ کھانا کھانے کے بعد یا کھانے کے درمیان میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا دیسی لہسن لےکر کھا لیا کریں.
ان شاءاللّٰه تعالیٰ بلڈ پریشر کیلئے بہت فائدہ مند ہے اور یورک ایسڈ کو تو یہ بالکل ہی ختم کر دے گا-
ادرک ویسے تو بہت ہی گرم ہوتا ہے لیکن اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔ پانی میں جا کر اسکی تاثیر بھی ٹھنڈی ہو جائے گی-
1 285
🔷 کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھاؤ 🔷
ایک شخص اپنے بکرے کو فروخت کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا۔ اسے فوری طور پر پیسوں کی ضرورت تھی، اس نے سوچا کہ اصل قیمت چھوڑو، میں کم داموں میں ہی بیچ دیتا ہوں تاکہ میرا مقصد پورا ہو جائے۔
اس کا بکرا صحت مند اور خوبصورت تھا۔ اگر وہ اس کی قیمت پچاس ہزار بھی لگاتا تو آسانی سے فروخت ہو جاتا، مگر تنگ دستی کے باعث اس نے بیس ہزار مانگے۔ وہ سخت فکرمند نظر آ رہا تھا۔ مویشی منڈی میں کئی لوگ اس کے پاس آتے لیکن اتنی کم قیمت سن کر کوئی خریدنے کو تیار نہ ہوتا۔ سب کو یہی گمان ہوا کہ اس بکرے میں کوئی کمی ہوگی۔
اسی دوران ایک مالدار آدمی وہاں آیا اور قیمت پوچھی۔ سن کر حیران رہ گیا کہ اتنا اچھا بکرا اتنی قلیل رقم میں کیسے بیچ رہا ہے؟ اس نے دل میں سوچا ضرور کوئی بات ہے، مگر تسلی کرنے پر بکرا بالکل درست نکلا۔ اس نے کہا:
“بھائی! میں یہ بکرا تم سے خریدوں گا لیکن بیس ہزار میں نہیں بلکہ تیس ہزار میں لوں گا۔”
یہ سن کر بیچنے والے کی آنکھوں میں خوشی جھلکنے لگی۔ لیکن خریدار کا ضمیر جاگا، اس نے سوچا اگر اصل قیمت پچاس ہزار ہے تو تیس ہزار دینا بھی زیادتی ہوگی۔ اس نے کہا:
“نہیں بھائی، میں تمہیں چالیس ہزار دیتا ہوں۔”
بیچنے والا اور زیادہ خوش ہوا۔ مگر خریدار پھر سے سوچ میں پڑ گیا کہ یہ بھی انصاف نہیں۔ آخر اس نے کہا:
“میں یہ بکرا تم سے خریدوں گا لیکن پورے پچاس ہزار روپے دوں گا۔”
بیچنے والا حیرت زدہ ہو گیا اور بولا:
“بھائی! مجھ سے مذاق کیوں کرتے ہو؟ میں پہلے ہی مشکل میں ہوں، اگر خریدنا ہے تو لے لو ورنہ رہنے دو۔”
خریدار نے فوراً جیب سے رقم نکالی، پچاس ہزار ادا کیے اور بکرا خرید لیا۔
پھر اس نے پوچھا:
“بھائی! تم جانتے تھے کہ اس کی قیمت پچاس ہزار ہے تو اتنا سستا کیوں بیچ رہے تھے؟”
وہ شخص بولا:
“جی ہاں، مجھے علم تھا، مگر والدہ بیمار ہیں اور علاج کے لیے فوری رقم چاہیے تھی، اسی لیے مجبور ہو کر بیچ رہا تھا۔ لیکن آپ نے اصل قیمت کیوں دی؟ آپ چاہتے تو بیس ہزار میں بھی خرید سکتے تھے۔”
خریدار نے جواب دیا:
“یقیناً میں ایسا کر سکتا تھا، مگر قیامت کے دن اپنے رب اور اس کے رسول کو کیا جواب دیتا؟ ہمارا دین کہتا ہے کہ خرید و فروخت میں سامان خریدا کرو، کسی کی مجبوری نہیں۔”
یہ بات سن کر بیچنے والے کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور اس نے دل کی گہرائیوں سے دعا دی کہ اس مشکل گھڑی میں اس نے اس کی مدد کی اور اس کی تنگی کا فائدہ نہیں اٹھایا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*ایک دل کو چھونے والا انٹرویو*
دورانِ انٹرویو، جب کمرے میں خاموشی چھائی تھی، باس نے ایک گہرا سوال کیا:
’’آپ اس نوکری کے لیے کتنی تنخواہ کی توقع رکھتی ہیں؟‘‘
خاتون نے اپنی آنکھوں میں اعتماد اور عزم کی چمک لیے جواب دیا:
’’کم از کم ساٹھ ہزار۔‘‘ ان کا لہجہ پختہ اور پراعتماد تھا، جیسے وہ اپنی قدر خوب جانتی ہوں۔
باس نے مسکراتے ہوئے اگلا سوال کیا:
’’آپ کو کوئی کھیل پسند ہے؟‘‘
’’جی ہاں، شطرنج،‘‘ خاتون نے فوراً جواب دیا،
’’واہ! تو پھر شطرنج کی بات کرتے ہیں۔ اس کھیل کا کون سا مہرہ آپ کا پسندیدہ ہے؟ یا یوں کہیں، کون سا مہرہ آپ کے دل کو چھوتا ہے؟‘‘ باس نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا۔
خاتون کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری، اور انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’وزیر۔‘‘
’’دلچسپ انتخاب! لیکن کیوں؟ میرا تو خیال ہے کہ گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہوتی ہے،‘‘ باس نے دلچسپی سے پوچھا۔
خاتون نے اپنی بات کو گہرائی سے بیان کیا:
’’بیشک، گھوڑے کی چال منفرد ہے، لیکن وزیر وہ مہرہ ہے جو ہر خوبی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کی حفاظت کرتا ہے، کبھی فیل کی طرح ترچھا چلتا ہے، اور کبھی توپ کی طرح دور تک حملہ کرتا ہے۔ وزیر کی طاقت اس کی لچک اور ہر مشکل حالات میں ڈھل جانے کی صلاحیت میں ہے۔‘‘
باس متاثر ہوا۔ اس نے اگلا سوال داغا:
’’بادشاہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘
خاتون نے ایک لمحے کے لیے رُک کر، گہری سوچ میں ڈوب کر جواب دیا:
’’بادشاہ، سر، میری نظر میں سب سے کمزور مہرہ ہے۔ وہ صرف ایک قدم چل سکتا ہے اور اپنی حفاظت کے لیے ہر وقت دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ وزیر اسے ہر طرف سے بچاتا ہے، اس کی حفاظت کی مضبوط دیوار بنتا ہے۔‘‘
باس نے اب تک کے انٹرویو سے لطف اندوز ہوتے ہوئے پوچھا:
’’بہت خوب! اب یہ بتائیں، ان تمام مہروں میں آپ خود کو کون سا مہرہ سمجھتی ہیں؟‘‘
خاتون کی آواز میں اچانک ایک گہری لرزش آئی۔ ان کی آنکھیں ڈبڈبائیں، لیکن انہوں نے ہمت سے جواب دیا:
’’میں خود کو بادشاہ سمجھتی ہوں۔‘‘
باس حیران ہوا۔ ’’لیکن آپ نے تو ابھی کہا کہ بادشاہ کمزور ہوتا ہے، خود کو بچانے کے لیے وزیر کا محتاج ہوتا ہے۔ پھر آپ خود کو بادشاہ کیوں سمجھتی ہیں؟‘‘
خاتون کی آواز میں ایک درد اور عزم کا عجیب امتزاج تھا۔ انہوں نے کہا:
’’جی ہاں، میں بادشاہ ہوں۔ اور میرا وزیر۔۔۔ میرا شوہر تھا۔ وہ میری طاقت، میری حفاظت، اور میری ہر مشکل میں ڈھال بنتا تھا۔ اس کی سوچ اور محبت نے مجھے ہر مشکل حالات میں سنبھالا۔ وہ میرا سب کچھ تھا۔‘‘
کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ باس کی آنکھوں میں بھی ایک عجیب سی چمک تھی۔ اس نے ہلکے ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے کہا:
’’بہت خوب! یہ واقعی ایک متاثر کن جواب تھا۔‘‘
پھر، انٹرویو کو سمیٹتے ہوئے، باس نے آخری سوال کیا:
’’آپ یہ نوکری کیوں حاصل کرنا چاہتی ہیں؟‘‘
خاتون کی آواز اب بھرائی ہوئی تھی،
’’کیونکہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
کمرے میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ یہ انٹرویو محض ایک سوال و جواب کا سلسلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی عورت کی کہانی تھی جس نے اپنے درد کو طاقت بنایا، اپنی کمزوری کو عزم میں بدلا، اور اپنے وزیر کی یادوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ یہ کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک پیغام ہے جو زندگی کے شطرنج کے کھیل میں ہمت اور محبت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
*آج 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب کا چاند گرہن جسکی وجہ سے پاکستان کے مومنین پر نماز آیات پڑھنا واجب ہوگی*
چاند گرہن کے دوران ہی نماز آیات کا پڑھنا واجب ہے تاخیر کی صورت میں گنہگار ہوں گے
1 285
ایک بار ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے سب سے ماہر مصور (پینٹر) کو حکم دیا کہ وہ ایک ایسی تصویر بنائے جس میں ایک فرشتے اور ایک شیطان کا چہرہ ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ یہ تصویر اس کے دور کی سب سے خوبصورت اور یادگار فنکاری بن جائے۔
مصور نے سب سے پہلے فرشتے کی تصویر بنانے کا سوچا۔ کیونکہ وہ اصلی فرشتہ تو دیکھ نہیں سکتا تھا، اس لیے ایک خوبصورت اور معصوم بچے کو ڈھونڈا اور اس کی تصویر بنائی۔ جب یہ تصویر بادشاہ کو دکھائی گئی تو سب نے اس کی خوبصورتی اور فن کی تعریف کی۔
اب مصور کو ایک ایسا چہرہ چاہیے تھا جو شیطان کی تصویر کے لیے موزوں ہو۔ وہ ملک بھر کے کئی شہروں میں گیا، قید خانوں میں مجرموں کو دیکھا، مگر اسے کوئی ایسا چہرہ نہ ملا جو اس کے معیار پر پورا اترے۔ اس کی نظر میں تو سب انسان تھے، جن سے کچھ غلطیاں ہو گئی تھیں۔
وقت گزرتا گیا… یہاں تک کہ تیس سال گزر گئے۔
اب بادشاہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس نے مصور کو بلایا اور کہا، "اب میری زندگی کے دن کم رہ گئے ہیں، تمہیں جلدی سے تصویر مکمل کرنی ہوگی۔"
مصور نے پھر سے تلاش شروع کی… اور آخرکار ایک اجڑی ہوئی، ویران جگہ میں اسے ایک ایسا آدمی مل گیا جس کا چہرہ بالکل ویسا تھا جیسا وہ شیطان کی تصویر کے لیے چاہتا تھا۔ وہ آدمی بدحال، بکھرے بالوں والا، جرائم پیشہ اور شکل سے بہت خوفناک لگ رہا تھا۔
مصور نے اس سے کہا، "اگر تم اجازت دو تو کیا میں تمہاری تصویر بنا سکتا ہوں، اور اس کے بدلے تمہیں اچھے پیسے دوں گا۔"
اس آدمی نے خاموشی سے ہاں کر دی… لیکن جیسے ہی مصور نے تصویر بنانی شروع کی، وہ آدمی رونے لگا۔
مصور نے حیرانی سے پوچھا، "تم کیوں رو رہے ہو؟"
وہ بولا:
"تیس سال پہلے جس بچے کی تم نے 'فرشتے' والی تصویر بنائی تھی…میں وہی ہوں! میرے غلط فیصلوں، اخلاقی گراوٹ اور برے اعمال نے مجھے آج شیطان جیسا بنا دیا…"
دوستو بات صرف اتنی سی کہ اپنی معصومیت اور اچھائی کی حفاظت کریں۔ برے اعمال انسان کو بگاڑ دیتے ہیں، شیطان بنا دیتے ہیں۔
اگر ہم اپنے نفس پر قابو رکھیں، اللہ تعالی کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں اور نبی کریمﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہماری دنیا اور آخرت سنور جائیں۔
اللہ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین، یا ربّ العالمین
1 285
پوشیدہ طور پر مانگی جانے والی دعا کا اثر اعلانیہ مانگی جانے والی دعا سے ستر گنا زیادہ دعاؤں کے برابر ہے۔
