ru
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

Открыть в Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

Больше
Страна не указанаКатегория не указана
261
Подписчики
Нет данных24 часа
+37 дней
+2230 дней
Архив постов
بارکھان: مسلح افراد اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری، پاکستانی فوج کے اندھا دھند فائرنگ سے ایک خواتین اور دو بچے زخمی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

بارکھان: لہمہ زرین ناہڑ کوٹ روڈ پر شدید فائرنگ جاری ہے، شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ جاری ہے،۔ تاہم مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔

جیونی کے سمندر میں قابض پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں: بی ایل اے بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ایک اہم اور نئی تزویراتی پیش قدمی کرتے ہوئے گوادر کے علاقے جیونی کے سمندر میں قابض پاکستانی فوج کی ایک گشتی کشتی کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کامیاب بحری کارروائی کے نتیجے میں کشتی پر سوار تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ زمین کے بعد اب سمندری حدود میں دشمن کے خلاف کارروائیوں کا یہ آغاز بی ایل اے کی عسکری حکمتِ عملی میں ایک نئی اور اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد بلوچ وسائل کی سمندری راستوں سے لوٹ مار کو روکنا اور دشمن کو ہر محاذ پر زک پہنچانا ہے۔ اس حملے کے حوالے سے تفصیلی بیان جلد ہی میڈیا میں جاری کیا جائے گا۔ جیئند بلوچ ترجمان بلوچ لبریشن آرمی مورخہ: 12 اپریل 2026

بریکنگ نیوز چاغی کے علاقے امین آباد اور کرودُک میں بلوچ آزادی پسندوں کا پولیس تھانوں پر کنٹرول ذرائع کے مطابق بلوچ آزادی پسندوں نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر ان سے سرکاری اسلحہ اور گاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

گزشتہ شب مسلح افراد نے بارکھان کے علاقے ٹکرا بھدانی کے مقام پر یوفون ٹاور کو پر حملہ کر کے مشینری سمیت نزر آتش کیے۔

Road Blockades in Turbat.jpg3.15 MB

Road blockade and snap-checking on M-8 highway in Turbat on April 9, 2026. Surveillance cameras and tower installed by milita
Road blockade and snap-checking on M-8 highway in Turbat on April 9, 2026. Surveillance cameras and tower installed by military were also targeted.

Seized Police Checkpoint in Nushki.jpg3.49 MB

The police checkpost and weapon seized in Ahmad Wal area of Nushki on April,11 2026.
The police checkpost and weapon seized in Ahmad Wal area of Nushki on April,11 2026.

Road Blockades in Nushki.jpg2.97 MB

Photographs of road blockade on the highway in Nushki Daak on April 10, 2026, and a confiscated 9mm pistol and wireless set.
Photographs of road blockade on the highway in Nushki Daak on April 10, 2026, and a confiscated 9mm pistol and wireless set.

Ashoob Statement Pad English 02.jpg4.31 MB

Ashoob Statement Pad English 01.jpg5.30 MB

BLF carried out coordinated roadblockades on major highways in Turbat and Nushki, deadly attack on military convoy, destroyed military surveillance system, and seized police checkpoints and weapons - Major Gwahram Baloch   On 9 April 2026 at 6:00 PM, fighters of the Balochistan Liberation Front launched a strategically coordinated operation near Turbat by blocking M-8, the main CPEC route and held full military control over the highway for several hours.   In the opening phase, a unit of fighters advancing from the side of Shah Dad Hotel, stormed the police checkpoint at Lodhi Jangjah, and seized it and its weapons without encountering any resistance. Our fighters conducted rigorous snap-checks on the highway for two hours to monitor anticipated enemy movement and to undermine the so-called writ of the occupying state.   In the second phase, our fighters carried out technical strikes to paralyse the enemy's surveillance network by completely destroying the Pakistani army's surveillance cameras, solar panels, and other sensitive equipment installed on the hilltop behind the Shah Dad Hotel Dasht.   BLF's Fighters also targeted a mobile tower between Lodhi Jangjah and Masha-Allah Hotel, which the enemy had equipped with hidden cameras and listening devices to monitor fighters movements.   After achieving all strategic objectives, our sarmachars lifted the blockade and withdrew toward their secure positions. During withdrawal, a six-vehicle convoy of the occupying army advanced to intercept them, but our fighters already positioned in ambush attacked the convoy and halted its advance.   In the clash that lasted for over 30 minutes, our fighters forced the enemy to retreat. During the clash, the occupying army deployed quadcopters for aerial surveillance, which were shot down by the fighters. Two enemy vehicles were directly struck and a third was severely damaged by gunfire. Overwhelmed by the fighters' military superiority, the enemy forces were compelled to withdraw, sustaining multiple killed and wounded.   In another operation, on the evening of April 10, 2026 at 6 o'clock, our fighters blocked the highway in Nushki Daak, and held the entire area under complete military control for two consecutive hours. During the operation, various units of our fighters conducted organized patrols along the highway and surrounding areas in order to monitor any possible movement by the enemy.   While on patrol, our fighters encountered a police motorcycle patrol team, which was detained by timely action. Our fighters confiscated a 9mm pistol and a wireless set from the possession of the police personnel. However, on Baloch national ethics and humanitarian compassion, the detained personnel were released after stern warning to refrain from opposing the Baloch freedom movement and acting against the people.   In another operation, on April 11, 2026, our fighters stormed and seized control of a police checkpoint established in the Ahmad Wal Mahssaski area of Nushki. On our fighters' tactical superiority and sudden assault, the personnel present at the checkpoint were unable to mount any resistance, after which the fighters gained complete control of the checkpoint without any opposition.   After taking control of the checkpoint, our fighters disarmed the personnel present there and seized the official weapons. All detained police personnel were released on humanitarian grounds after being given clear warning.   The Balochistan Liberation Front states clearly that no military or economic installation of the enemy in Balochistan will be left secure. Our fighters are equipped with modern combat capabilities and can breach every defensive perimeter the enemy erects. These operations will continue with full force and evolving tactical dimensions until the complete liberation of Balochistan.   Major Gwahram Baloch Spokesperson, Balochistan Liberation Front   11 April 2026 Ref. No. BLF/Apr2026/00049

Ashoob Statement Pad Urdu 02.jpg4.15 MB

Ashoob Statement Pad Urdu 01.jpg5.21 MB

تربت اور نوشکی میں شاہراہوں پر مربوط و منظم ناکہ بندی، پولیس چوکیوں پر قبضہ، اسلحہ ضبط، فوجی نگرانی کا نظام تباہ اور فوجی قافلے پر مہلک حملہ: میجر گہرام بلوچ   بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے گزشتہ روز 9 اپریل 2026 کو شام 6 بجے حکمت عملی کے تحت ایک وسیع اور مربوط و منظم آپریشن شروع کرتے ہوئے تربت شہر کے قریب سی پیک کے مرکزی روٹ M-8 پر ناکہ بندی کی اور کئی گھنٹوں تک شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کر لیا۔   آپریشن کے آغاز میں سرمچاروں کے ایک مستعد دستے نے شاہ داد ہوٹل کے مقام سے پیش قدمی کرتے ہوئے لوڑی جنگجاہ میں قائم پولیس چوکی پر دھاوا بولا اور بغیر کسی مزاحمت کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہاں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور دیگر عسکری ساز و سامان ضبط کر کے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سرمچاروں نے چوکی پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے بعد شاہراہ پر دو گھنٹے تک سخت اسنیپ چیکنگ کی، جس کا مقصد دشمن کے متوقع ردعمل اور نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور قابض ریاست کی نام نہاد عمل داری کو تہہ و بالا کرنا تھا۔   آپریشن کے دوسرے مرحلے میں سرمچاروں نے دشمن کے جاسوسی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے تکنیکی حملے کرتے ہوئے دشت شاہ داد ہوٹل کے عقب میں پہاڑی پوزیشنوں پر نصب پاکستانی فوج کے جدید سرویلنس کیمرے، پاور سپلائی کے لیے نصب سولر پینلز اور دیگر حساس آلات کو مکمل طور پر تباہ کر کے ناکارہ بنا دیا۔   علاوہ ازیں، سرمچاروں نے لوڑی جنگجاہ اور ماشاءاللہ ہوٹل کے درمیان واقع موبائل ٹاور کو بھی نشانہ بنایا، جسے دشمن فوج نے سرمچاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے خفیہ کیمروں اور لسننگ ڈیوائسز سے لیس کر رکھا تھا۔   سرمچاروں نے اپنے تمام تزویراتی مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کرنے کے بعد ناکہ بندی ختم کی اور اپنے محفوظ ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی دوران قابض فوج کے 6 گاڑیوں پر مشتمل قافلے نے پیش قدمی کرتے ہوئے سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن پہلے ہی سے مختلف اطراف میں پوزیشنوں پر گھات لگائے سرمچاروں کے دستے نے فوجی قافلے پر حملہ کر کے ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس شدید جھڑپ میں سرمچاروں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جھڑپ کے دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سرمچاروں کی نگرانی کرنے کی کوشش کی، جسے فائرنگ کر کے سرمچاروں نے تباہ کر دیا۔   اس حملے میں دشمن کی دو گاڑیاں براہِ راست زد میں آئیں جبکہ تیسری گاڑی کو گولیوں سے شدید نقصان پہنچا۔ سرمچاروں کی عسکری برتری کے باعث حواس باختہ دشمن فوج کو پسپا ہونا پڑا۔ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔   ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 10 اپریل 2026 کی شام 6 بجے، نوشکی ڈاک میں مربوط حکمت عملی کے تحت شاہراہ کی ناکہ بندی کی اور مسلسل دو گھنٹے تک پورے علاقے کو اپنے مکمل عسکری کنٹرول میں رکھا۔ اس دوران سرمچاروں کے مختلف دستوں نے شاہراہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں منظم گشت کیا تاکہ دشمن کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔   علاقائی گشت کے دوران سرمچاروں کا سامنا پولیس کی ایک موٹر سائیکل گشتی ٹیم سے ہوا، جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کے قبضے سے ایک عدد نائن ایم ایم پستول اور وائرلیس سیٹ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔ تاہم اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مذکورہ اہلکاروں کو رہا کر دیا۔ تاہم انھیں سخت تنبیہ کی کہ بلوچ تحریک آزادی اور عوام دشمنی سے گریز کریں۔   ایک اور کارروائی میں، 11 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے احمد وال مھسسکی میں قائم پولیس چوکی پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ سرمچاروں کی تزویراتی برتری اور برق رفتار حملے سے چوکی پر موجود اہلکار مزاحمت کی سکت نہ لا سکے، جس کے بعد سرمچاروں نے بغیر کسی مزاحمت کے چوکی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔   چوکی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سرمچاروں نے وہاں موجود اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا اور ان کے قبضے میں موجود سرکاری اسلحہ اپنی تحویل میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے تمام پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا۔   بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں دشمن کی کسی بھی فوجی یا معاشی تنصیب کو محفوظ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ہمارے سرمچار جدید جنگی مہارتوں سے لیس ہیں اور وہ دشمن کے ہر دفاعی حصار کو توڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ حملے بلوچستان کی مکمل آزادی تک پوری شدت اور نئی جنگی جہتوں کے ساتھ جاری رہیں گے۔   میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ 11 اپریل 2026 Ref. No. BLF/Apr2026/00049  

بریکنگ نیوز کوئٹہ کے علاقے پنجپائی شادینی کی مقام پر نامعلوم مسلح افراد کا گشت کے دوران پولیس اہلکاروں کو گھیرے میں لیکر ان سے اسلحہ اور گاڑی ضبط کیا۔ زرائع کے مطابق پولیس اہلکار ناکہ بندی کررہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انہیں گرفتار کرکے اسلحہ اور گاڑی ضبط کیا۔

بریکنگ نیوز آج صبح ضلع آواران کے علاقے آھوری میں بلوچ آزادی پسندوں نے پاکستانی آرمی کے آٹھ گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر گھات لگا کر شدید حملہ کیا۔ قریبی علاقائی ذرائع کے مطابق، آزادی پسندوں نے اس حملے میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اطلاعات ہیں کہ اس حملے کے نتیجے میں فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان بھی پہنچا ہے۔

بریکنگ نیوز مسلح افراد نے نوشکی کے علاقے احمد وال میں لیویز ناکے کو قبضے میں لے کر اہلکاروں سے اسلحہ ضبط کر لیا۔زرائع