Sobain|سوبین بلوچ
Открыть в Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
БольшеСтрана не указанаКатегория не указана
258
Подписчики
+124 часа
+77 дней
+2330 дней
Архив постов
ماہِ مئی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے 3 جانباز سرمچاروں نے مادرِ وطن کی آزادی اور قومی بقا کی اس عظیم جنگ میں دشمن کے خلاف دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان شہداء نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جدوجہدِ آزادی کی چراغ کو اپنے لہو سے روشن رکھا۔ شہید سرمچاروں نے اپنی قربانی سے دشمن پر یہ واضح کر دیا ہے کہ بلوچ قوم کو فوجی طاقت و جبر سے زیر دست و محکوم رکھنا ممکن نہں۔ قومی آزادی کی عظیم مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان تمام قومی شہداء کو بی ایل ایف خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ شہداء کا مشن بلوچستان کی آزادی کے حصول تک جاری رہے گا، اور دشمن سے ان کی لہو کے ایک ایک قطرے کا حساب میدانِ جنگ میں لیا جائے گا۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
یکم جون 2026
Ref. No. BLF/June2026/00070
ماہِ مئی کی آپریشنل رپورٹ: 49 کارروائیوں میں دشمن کے فوجی قافلوں اور چوکیوں پر مہلک حملے، 65 فوجی اہلکار ہلاک، پولیس تھانوں پر قبضہ اور سرکاری اسلحہ ضبط: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے مئی 2026 کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستانی فوج، اس کے دیگر کلیدی سکیورٹی اداروں، استعماری دفاعی تنصیبات، مواصلاتی نظام اور استحصالی منصوبوں پر حملوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا۔ ان منظم کارروائیوں کا دائرہ کار خاران، واشک، آواران، مستونگ، تربت، تمپ، رکھنی، جیونی، کولواہ، سوراب، مند، جھاؤ، شاپک، حب، بلیدہ، وڈھ، مشکے، چاغی، بارکھان، دشت، نوشکی، جوسک، وندر،کلانچ اور گورکوپ سمیت 25 مختلف علاقوں تک پھیلا رہا۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد قابض ریاست کے استعماری ڈھانچے و استحصالی نظام کو کمزور کرنا، اور مقبوضہ بلوچستان میں اس کی عسکری گرفت و استعماری عمل داری کو جڑوں سے ختم کرنا ہے۔
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مئی کے مہینے میں مجموعی طور پر 49 مسلح کارروائیاں سرانجام دیں، جن میں تزویراتی حکمت عملی کے تحت دشمن کو ہر محاذ پر زک پہنچائی گئی ہے۔ بی ایل ایف کی ان منظم حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 65 اہلکار ہلاک اور 19 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان معرکوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سرمچاروں کی کامیاب عسکری منصوبہ بندی کے باعث دشمن کے لیے بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ، خواہ وہ شہری مراکز ہوں یا دور افتادہ پہاڑی سلسلے، محفوظ نہیں رہی۔
تزویراتی لحاظ سے مئی کی سب سے اہم نوعیت کی کارروائیاں دشمن کے متحرک فوجی قافلوں پر حملوں کی صورت سرانجام دی گئیں۔ سرمچاروں نے سوراب، بلیدہ، مشکے، کولواہ، دشت، نوشکی اور تربت کے مختلف علاقوں میں 8 مرتبہ گھات لگا کر دشمن کے فوجی قافلوں پر مربوط و مہلک حملے کیے۔ سرمچاروں نے ان حملوں میں جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ قابض فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، علاقے پر اپنا کنٹرول اور اثر رسوخ برقرار رکھنے کے لیے سرمچاروں نے بڑی شاہراہوں پر 4 مختلف مقامات پر ناکہ لگا کر اپنا کنٹرول قائم کیا اور گاڑیوں کی تلاشی لی۔
اپنی عسکری پیش قدمی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے بی ایل ایف کے سرمچاروں نے دشمن کے 3 بڑے فوجی کیمپوں اور 13 اہم فوجی چیک پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کرکے ان کے پوزیشنوں کو نشانہ بنائے۔ ان حملوں کے دوران دشمن کے دفاعی حصار کو توڑ کر اسے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ انٹیلیجنس کے محاذ پر بھی دشمن کو زک پہنچاتے ہوئے سرمچاروں نے مئی میں 3 انٹیلیجنس بیسڈ منظم آپریشنز کیے، جن کے دوران تحریک کے خلاف مخبری کے نیٹ ورک منظم کرنے والے دشمن کے 16 کلیدی ایجنٹس اور آلہ کاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، جبکہ خضدار اور وندر کے علاقے میں معدنیات کی استحصال میں ملوث ایک کمپنی اور گاڑیوں پر بھی حملہ کرکے اسے نقصان پہنچایا کیا گیا۔
دشمن کے تکنیکی اور مواصلاتی نظام کو ناکام اور غیر موثر کرنے کے لیے سرمچاروں نے دشمن کی طرف سے نصب جاسوسی اور نگرانی کے جدید آلات اور نظام کو نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں مختلف کارروائیوں کے دوران سرمچاروں نے دشمن کے 3 ڈرون مار گرائے، جبکہ بصری نگرانی کے لیے نصب کردہ 11 جدید کیمروں کو ہدف بنا کر ناکارہ بنا دیا۔ دشمن کے مواصلاتی روابط منقطع کرنے کے لیے سرمچاروں نے 4 موبائل ٹاورز کو بھی تباہ کر دیا۔
دشمن کو مالی و مادی نقصانات پہنچانے، اور اس کی ذرائع نقل و حرکت کو تباہ کرنے کی غرض سے مجموعی طور پر 7 فوجی گاڑیوں کو بارودی مواد اور راکٹوں کی مدد سے تباہ کی گئیں۔ سرمچاروں نے مختلف جھڑپوں اور کامیاب چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران دشمن کے اہلکاروں سے 13 رائفل، گولیاں، میگزین اور دیگر عسکری ساز و سامان قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے عسکری کارروائیوں میں تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے اس ماہ بھی دشمن کے خلاف مختلف جنگی حربے استعمال کیے۔ مجموعی طور پر 21 مرتبہ دشمن پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے، جن میں 5 مرتبہ گھات لگا کر حملے کیے گئے، 3 بار سنائپر رائفل سے دشمن کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، 4 مرتبہ گرنیڈ لانچر سے کارروائیاں کی گئیں، اور 1 آئی ای ڈی (IED) دھماکہ کیا گیا۔ یہ متنوع حملے تنظیم کی عسکری مہارت، کامیاب منصوبہ بندی، اور ہر قسم کے حالات میں جنگ لڑنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔
Two Military Personnel and One Death Squad Operative Killed, Several Wounded in Separate Operations in Gwarkop, Tump, and Kolwah- Major Gwahram Baloch
On May 30, 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front were on a routine patrol in the Solani area of Gwarkop, when they encountered the occupying Pakistani military. The alert fighters quickly took up positions and attacked the occupying forces. In the clash, two military personnel were killed on the spot and several others were wounded. After a prolonged exchange of fire, the occupying forces were compelled to retreat, while our fighters successfully withdrew safely.
In another operation, on May 29, 2026, our fighters targeted an occupying Pakistani military camp in the Malant area of Tump. During the attack, fighters fired multiple rounds from grenade launchers at the camp, which struck their intended targets, inflicting both casualties and material losses on the enemy forces.
On May 23, 2026, BLF fighters were on a routine patrol in the Bazdad Kwash area of Kolwah when operatives of a death squad, operating under the patronage of the occupying Pakistani military, blocked their path and attacked them. However, the alert fighters responded swiftly and repelled the enemy assault. As a result of this engagement, one death squad personnel was killed and several others were wounded, while the remaining operatives fled the scene.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for the killing of two military personnel and one death squad operative, as well as the attack on the military camp in different operations in Gwarkop, Tump, and Kolwah.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson: Balochistan Liberation Front
31 May 2026
Ref. No. BLF/May2026/00069
گورکاپ، تمپ اور کولواہ میں سرمچاروں کی کارروائیاں, 2 فوجی اہلکار اور ڈیتھ اسکواڈ کا 1 کارندہ ہلاک، متعدد زخمی: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچار 30 مئی 2026 کو گوْرکوپ کے علاقے سولانی میں معمول کے گشت پر تھے کہ ان کا سامنا قابض پاکستانی فوج سے ہوا۔ مستعد سرمچاروں نے بروقت پوزیشن لے کر قابض فوج پر حملہ کر دیا۔ اس جھڑپ میں 2 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ کافی دیر تک جاری رہنے والی اس جھڑپ کے بعد قابض فوج کو پسپا ہونا پڑا اور سرمچار بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 29 مئی 2026 کو تمپ کے علاقے ملانٹ میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ اس حملے کے دوران سرمچاروں نے کیمپ پر گرنیڈ لانچرز سے متعدد گولے داغے جو اپنے اہداف پر جا لگے جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 23 مئی 2026 کو کولواہ کے علاقے بزداد کواش کے مقام پر معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران قابض پاکستانی فوج کی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے سرمچاروں کا راستہ روک کر ان پر حملہ کردیا، تاہم مستعد سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کا حملہ ناکام بنا دیا۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کا ایک کارندہ ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ باقی کارندے موقع سے فرار ہو گئے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ گورکوپ، تمپ اور کولواہ میں 2 فوجی اہلکاروں،اور ڈیتھ اسکواڈ کے ایک کارندے کی ہلاکت سمیت فوجی کیمپ پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
31 مئی 2026
Ref. No. BLF/May2026/00069
گزشتہ روز گورکوپ سولانی میں مسلح افراد کے شدید حملے میں پاکستانی فورسز کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
گزشتہ روز گورکوپ سولانی میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی، جو کافی دیر تک جاری رہی۔ علاقائی ذرائع
مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔
BLF killed 11 personnel of the occupying force in a timely response to state terrorism in Barkhan, a drone also shot down: Major Gwahram Baloch
On April 12, 2026, at around eleven o'clock in the morning, Balach Loharani Marri was travelling with his family on the Naharkot Road in the Lahumah Zareen area of Barkhan, when the occupying Pakistani army opened indiscriminate fire on their vehicle, as a result of which most members of the family, including women and children, were martyred on the spot. In continuation of its longstanding hatred against the Baloch nation, its terrorist tradition, and its war crimes, the FC personnel set fire to and burned the bodies of the innocent martyred family.
At the time of this barbaric massacre of the unarmed innocent family, including women and children, at the hands of the occupying army, BLF fighters were on a routine patrol in a nearby area. Upon receiving news of this bloody act of state aggression, BLF fighters responded immediately by reaching the scene of the terrorism and surrounded the occupying Pakistani military personnel from all directions. An intense nine-hour clash ensued between the occupying forces and our fighters. As a result of the fighters' successive attacks, 11 military personnel were killed and several were injured. During the clash, the enemy force used a drone for aerial support and surveillance, which was immediately shot down by our sarmachars.
The Barkhan tragedy is not a coincidental accident, but rather a continuation of the systematic Baloch genocide being carried out to prolong Pakistan's occupation of Balochistan. History bears witness that every colonial power has resorted to such brutal repression, collective punishment, and extrajudicial massacres to maintain its rule in occupied territories. Pakistan, by following the same colonial path, is collectively targeting the Baloch nation in order to crush the national struggle for survival and sovereignty.
The Balochistan Liberation Front accepts responsibility for killing 11 military personnel in this timely operation in response to the massacre of Balach Loharani Marri's family in Barkhan, and assures the Baloch nation that every drop of blood of innocent women, children, and elders will be accounted for. The ongoing national liberation struggle against the occupying state of Pakistan and its army will continue with greater intensity until the complete liberation of occupied Balochistan.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation Front
30 May 2026
Ref. No. BLF/May2026/00067
بارکھان میں ریاستی دہشت گردی پر سرمچاروں کا بروقت ردعمل، کارروائی میں قابض فوج کے 11 اہلکار ہلاک، اور ڈرون تباہ: میجر گہرام بلوچ
12 اپریل 2026 کو دن گیارہ بجے کے قریب، بالاچ لوہارانی، مری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بارکھان کے علاقے لہومہ زرین، نہارکوٹ روڈ پر سفر کر رہے تھے کہ قابض پاکستانی فوج نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت گاڑی میں سوار خاندان کے بیشتر افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ ایف سی نے بلوچ قوم کے خلاف اپنی دیرینہ نفرت، دہشت گردانہ روایت اور جنگی جرائم کا عمل جاری رکھتے ہوئے شہید ہونے والے معصوم خاندان کی لاشوں کو آگ لگا کر جلا دیا۔
قابض فوج کے ہاتھوں نہتے معصوم خواتین و بچوں سمیت اس خاندان کی وحشیانہ قتل عام کے وقت بی ایل ایف کے سرمچار قریبی علاقے میں اپنے معمول کے گشت پر مامور تھے۔ اس خونین ریاستی جارحیت میں ایک معصوم بلوچ خاندان کا خون بہائے جانے کی اطلاع ملتے ہی بی ایل ایف کے سرمچاروں نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، اور قابض پاکستانی فوج کے دستوں کو چاروں اطراف سے گھیر کر ان پر حملہ کردیا۔ قابض فوج اور سرمچاروں کے درمیان 9 گھنٹوں تک اعصاب شکن جھڑپ جاری رہی۔ سرمچاروں کے پے درپے حملوں کے نتیجے میں 11 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ جھڑپ کے دوران دشمن فوج نے اپنے دستوں کی فضائی مدد اور نگرانی کے لیے ڈرون استعمال کیا جسے بروقت فائرنگ کرکے سرمچاروں نے مار گرا دیا۔
بارکھان کا یہ واقعہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ بلوچستان پر قائم پاکستانی قبضے کو طول دینے کے لیے کی جانے والی منظم بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نوآبادیاتی طاقت مقبوضہ خطوں میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے اسی طرح کے بہیمانہ جبر، اجتماعی سزا اور ماورائے عدالت قتل عام کا سہارا لیتی رہی ہے۔ پاکستان انہی استعماری خطوط پر کاربند ہو کر بلوچ قوم کو اجتماعی طور پر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ان کی قومی بقا اور آزادی کی جدوجہد کو کچلا جا سکے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ بارکھان میں بالاچ لوہارانی، مری کی اہل خانہ کے قتل عام کے ردعمل میں اس بر وقت کارروائی میں 11 فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، اور بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ معصوم خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ قابض ریاست پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف جاری یہ قومی دفاعی جنگ مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی تک مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
30 مئی 2026
Ref. No. BLF/May2026/00067
Attacking Baloch National Consciousness Exposes the State's Fear- Dr. Allah Nazar Baloch
Sarfaraz Bugti and those of his ilk should draw lessons from the fate of Bangladesh's puppets. Collaborators like Sarfaraz Bugti have been tried by occupiers throughout the world. While they may prove temporarily effective for the occupier, such figures earn nothing but disgrace within their own nation and society. Their claim to public representation rests on the crutches of the occupying military, and the day is not far when these crutches will be shattered by the force of Baloch national strength.
The recent statements made by Sarfaraz Bugti regarding Baloch researchers, teachers, professors, and poets represent the true intentions of the Pakistani military and the state. The very same intentions that Pakistan acted upon during Bangladesh's war of independence in 1971. The Pakistani military massacred hundreds of Bangladeshi intellectuals, researchers, and teachers, yet Bangladesh still achieved its independence. Through the blood of the Bangladeshi people and educators, Bangladesh today stands as a dignified nation among free peoples, and that blood remains a debt upon the Punjabi ruling class to this day.
Declaring Baloch intellectuals, PhD scholars, professors, and poets as threats to the state is testimony to the fact that national consciousness and political awareness are growing within Baloch society. As a result, the Baloch nation's commitment to the liberation movement is growing stronger, and an unbridgeable distance is forming between the Baloch people and the state's narrative. The Baloch nation is consciously participating in the struggle for freedom and this is what the state deeply fears.
A conscious nation is always capable of making better decisions about its own future. It is this very consciousness that has alarmed the occupying state and its puppet representatives, who are attempting to target Balochistan's educated and aware classes in order to pave the way for the state. However, when resistance permeates every stratum of a society, puppets become nothing more than a laughingstock and this is exactly what is happening in Balochistan today.
The series of recent incidents including the targeted killing of renowned writer and poet Professor Ghamwar Hayat Baloch, and the enforced disappearance of Baloch poetess Habiba Peer Jan indicate that the occupying state has intensified its efforts to systematically suppress intellectual and literary voices in Balochistan. This pattern of targeting patriotic Baloch minds will continue in the future as well.
The statements of Sarfaraz Bugti and other government representatives are part of a systematic state fascist policy under which voices of resistance, dissent, and political consciousness, along with intellectuals and scholars, are being suppressed in Balochistan. However, rather than weakening the resolve and consciousness of the Baloch people, these policies will further strengthen them and serve as fuel for the national cause. The intellectual guidance of patriotic Baloch minds will continue to energize our national struggle.
Dr. Allah Nazar Baloch
Supreme Commander, Balochistan Liberation Front
29 May 2026
Ref. No. BLF/May2026/00066
