fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 278
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-37 روز
-1330 روز
آرشیو پست ها
🔷 ہائے یہ جوڑوں کا درد..! 🔷 سب کچھ ٹھیک تھا، مگر پھر یہ جوڑوں کا درد شروع ہو گیا! یہ ایک جملہ نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی کہانی ہے جو کسی نہ کسی دن خود کو کہتے ہوئے پاتے ہیں۔ جوڑوں کا درد، وہ خاموش تکلیف ہے جو انسان کے جسم کو جکڑ لیتی ہے اور زندگی کی خوشیوں کو مدھم کر دیتی ہے۔ مگر یہ درد کب اور کیوں بڑھتا ہے؟ اسکے پیچھے کیا چھپی حقیقتیں ہیں؟ سب سے پہلے یہ سمجھیے کہ جوڑوں کا درد اکثر ہمارے جسم کی ایک پکار ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا جسم تھک چکا ہے، زہریلے مواد سے بھر چکا ہے اور ہم اسکا خیال رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ موسمی تبدیلیاں، وائرل بخار، یا عمر کا بڑھنا، یہ سب اس تکلیف کو بڑھانے والے عوامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا صرف یہی اس کا سبب ہیں؟ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی فطرت سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ہم نےقدرت کے آسان اور سادہ اصولوں کو نظرانداز کر دیا ہے۔ فوری آرام اور دوائیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے، ہم اپنی زندگی کا وہ توازن کھو بیٹھے ہیں جو ہمارے جسم کو صحت مند رکھ سکتا تھا۔ اب سوال یہ ہےکہ کیا ہم ہمیشہ درد کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟ کیا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں کہ اس تکلیف کو ختم کیا جا سکے؟ بالکل ہے! لیکن اس کیلئے ہمیں اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ 👈🏻 پہلا قدم، جسم کو اندر سےصاف کرنا ہے۔ ہمارے جسم میں وقت کےساتھ زہریلے مادے جمع ہوتے رہتےہیں، جو بیماریوں اور درد کا باعث بنتے ہیں۔ زیادہ پانی پینا، تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال، اور مصنوعی غذاؤں سے پرہیز، یہ سب آپکے جسم کو ڈی ٹاکسیفائی کر سکتے ہیں۔ تیل سےمساج ایک قدیم علاج ہے جو جوڑوں کے درد میں سکون فراہم کرتا ہے۔ یہ محض درد کم کرنےکا ذریعہ نہیں، بلکہ جسم میں خون کی روانی کو بہتر بنا کر آپ کی صحت کو مجموعی طور پر بہتر کرتا ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو صرف ریڑھ کی ہڈی پر ہلکا مساج بھی آپکے جسم کو سکون دے سکتا ہے۔ قدرتی مصالحے جیسے ہلدی، ادرک، اور کلونجی، کسی نعمت سے کم نہیں۔ انکے اندر موجود سوزش کم کرنے والے اجزاء، جوڑوں کے درد کو جڑ سے ختم کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہلدی والا دودھ یا ادرک کی چائے ایک بہترین اور آسان علاج ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ سورج کی روشنی اور کچی مٹی کے ساتھ وقت گزارنا، آپ کے درد کو کم کر سکتا ہے؟ کچی مٹی میں بیٹھنا نہ صرف جسم کو آرام دیتا ہے بلکہ دماغی سکون بھی فراہم کرتا ہے۔ سب سے اہم بات، اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں۔ نیند کی کمی آپکے جسمانی اور دماغی نظام کو متاثر کرتی ہے اور جوڑوں کے درد کو بڑھا سکتی ہے۔ جلد سونا اور اچھے گہرے نیند کے معمولات اپنانا، آپ کے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ آخری مگر اہم پہلو یہ ہےکہ اپنے دل کو صاف رکھیں۔ دل کا بوجھ، دماغ کی ٹینشن، اور غصہ، یہ سب جسم کی تکلیف کو بڑھاتے ہیں۔ معاف کرنا، سکون حاصل کرنا، اور مثبت سوچ اپنانا، نہ صرف آپکے جوڑوں کےدرد کو کم کرتا ہے بلکہ زندگی کو خوشگوار بھی بناتا ہے۔ یاد رکھیں! زندگی درد کےساتھ گزارنے کیلئے نہیں بنی۔ اگر ہم قدرت کےاصولوں کےساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو نہ صرف ہمارا درد کم ہوگا بلکہ ہماری زندگی بھی صحت مند اور خوشحال ہوگی۔ تو آئیں، آج ہی اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌴 مائیں ہی نسل سنوارتی ہیں 🌴 ایک قابل رشک واقعہ۔۔۔ ایک معلم قرآن انتہائی نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک بچہ میرے پاس آیا جو مدرسے میں داخلہ لینے کا شدید خواہشمند تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: بچے! آپ کو قرآن کا کچھ حصہ زبانی یاد ہے؟ بچے نے کہا: جی۔ میں نے اس کا امتحان لیتے ہوئے کہا: پھر آپ مجھے تیسواں پارہ سنائیں۔ اس نے مجھے تیسواں پارہ زبانی سنا دیا۔ میں نے پوچھا: آپ کو سورۃ الملک بھی یاد ہے؟ اس نے مجھے سورۃ الملک بھی سنادی۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ اس چھوٹے سے بچے نے کم سنی کے باوجود قرآن کریم کا کچھ حصہ حفظ کیا ہوا ہے۔ میں نے اس سے سورۃ النحل سنانے کو کہا تو اسے وہ بھی یاد تھی۔۔ جوں جوں وہ میرے سوالات کا جواب دے رہا تھا، میری حیرانی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب اس سے بڑی سورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ کو سورۃ البقرہ بھی یاد ہے؟ اس نے ”ہاں“ میں جواب دیا اور ساتھ ہی کسی غلطی کے بغیر سورۃ البقرہ بھی زبانی سنا ڈالی۔ میں نے متعجب ہو کر پوچھا: بچے! لگتا ہے آپ نے پورا قرآن حفظ کر رکھا ہے؟ اس نے کہا: جی۔ یہ سنتے ہی فرط مسرت سے میری زبان سے بے ساختہ سبحان اللّٰہ، ماشاءاللہ، تبارک اللہ کے الفاظ ادا ہونا شروع ہو گئے۔ میں نے اس سے کہا: آپ کل میرے دفتر آجائیے گا اور ساتھ اپنے سرپرست کو بھی لیتے آئیے گا۔ میں بچے کے جانے کے بعد حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوبا رہا اور دل ہی دل میں تانے بانے بنتا رہا کہ یقینا اس کے والد صاحب دین کے پابند، نیک سیرت اور قرآن سے شدید محبت رکھنے والے ہوں گے جس کے نتیجے میں اس نے اپنے بچے کو اتنی چھوٹی عمر میں قرآن یاد کرا دیا ہے۔ مجھے اس وقت حیرانی کا شدید جھٹکا لگا جب وہ کل صبح اپنے والد صاحب کو لے کر آیا تو اس کے والد صاحب ظاہری شکل و صورت سے بالکل بھی متبع سنت اور پابند شریعت نہیں لگ رہے تھے۔ اس بچے کے باپ نے میری پریشانی اور استعجاب کو بھانپ لیا اور فورا بولا: میں جانتا ہوں کہ آپ میرے اس بچے کا والد ہونے کی وجہ سے حیران و ششدر ہو رہے ہیں۔۔ میں ابھی آپ کی حیرت ختم کیے دیتا ہوں۔۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بچے کے حفظ قرآن کے پیچھے اس کی والدہ کا ہاتھ ہے جو بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔۔ آپ یہ بات سن کر مزید حیران ہوں گے کہ میرے تین بیٹے ہیں اور سب قرآن کے حافظ ہیں۔ میری سب سے چھوٹی بیٹی چار سال کی ہے اور وہ بھی تیسواں پارہ حفظ کر چکی ہے۔ میری حیرانی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔۔ میں نے پوچھا: یہ کیسے ممکن ہے!! چار سال کی بچی نے تیسواں پارہ کیسے یاد کر لیا ہے؟! اس نے جواب دیا: بچوں کی والدہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو وہ اسے قرآن یاد کروانا اور حفظ قرآن کا شوق دلانا شروع کردیتی ہے۔۔ وہ بچوں کا مقابلہ کرواتی ہے اور کہتی ہے کہ جو سب سے پہلے یہ سورۃ یاد کرے گا، رات کا کھانا اس کی پسند کا بنے گا۔۔ جو سب سے پہلے پارہ حفظ کرے گا، ہم ویک اینڈ پر اس کی پسند کی جگہ جائیں گے۔۔ جو سب سے پہلے قرآن ختم کرے گا، ہم سالانہ چھٹیاں اس کے منتخب کردہ علاقے میں گزارنے جائیں گے۔۔ یوں بچے اپنے اپنے شوق کی تکمیل کے کیے حفظ قرآن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جی ہاں، ایسی نیک مائیں ہی گھر سنوارتی ہیں۔ 🔘 یاد رکھیے! نیک اور صالح عورت نصف معاشرہ نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کی بنیاد اور ستون ہوتی ہے۔ میری امت کی ماؤں کو معاشرے کو کار آمد اور دین کے نور سے آراستہ افراد فراہم کرنے کے لیے امت بننے کی ضرورت ہے۔۔ اگر مائیں امت بننے کا تہیہ کر لیں تو قوم کو بام عروج پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

کون کون سی اداکارہ نہیں بتانے آئی گورے رنگ کے فوائد- کریمیں بنانے والے، بیچنے والے، اشتہار بنانے والے، دکھانے والے، ان میں کام کرنے والے، سب اپنی اپنی کمائی کر لیں، انہیں کیا غرض کہ کیسے کیسے گھاؤ ڈالتے ہیں روح تلک ان کے اشتہار! اور یا تو یہ کریمیں کچھ کام بھی کرتی ہوں۔ میں تو چھپ چھپ کے، وہ کیا کہتے ہیں ناں گوگل، وہ بھی کرتی رہی کہ کس طور کالا رنگ گورا ہو سکتا ہے۔ یہی پتا چلتا رہا کہ طب کا شعبہ کم از کم ابھی تک اس معراج پر نہیں پہنچا۔ میں کبھی کبھی سوچتی تھی اتنے بڑے بڑے دانشور لکھتے ہیں، ٹی وی پر بولتے ہیں، جا بجا لیکچر دیتے ہیں، اور پھر یہ بڑے بڑے قانون دان، سیاستدان، این جی اوز کی بیگمات، کیا کسی کو نہیں سوجھتا کہ ایسے اشتہارات پر پابندی ہونی چاہیے کہ جن کے نتیجہ میں محض ایک خاص رنگ ہی قابلِ قبول قرار پائے، اور ہزاروں لاکھوں لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو جائیں! اور ایسا بھی تو کوئی ادارہ ہوتا ہو گا ناں جو میڈیا کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہو گا۔ وہ کیوں نہیں روکتا ان جھوٹے دعٰووں پر مبنی، دل دُکھانے والے اشتہارات کو؟ انہی دنوں کچھ دیسی کریموں کا بڑا چرچہ ہو گیا۔ ماں میرے لئے بھی کہیں سے لے آتی اور بڑی یاد سے مجھے لگواتی۔ یہ سلسلہ کئی مہینے چلتا رہا۔ کوئی کون سا پوچھنے والا تھا، ان کریموں میں نہ جانے کیا کیا کیمیکل شامل تھے، رنگ گورا کیا کرنا تھا، وہ کریمیں تو گویا رنگ کو کاٹتی تھیں، اسے اڑا دیتی تھیں، پھیکا کر ڈالتی تھیں۔ مجھے بھی خارش کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ یہ بڑھ جاتا، میں نے ماں کو بتائے بغیر ہی ان کا استعمال ترک کر دیا۔ ساری زندگی تنہائی میری سب سے اچھی ساتھی رہی۔ اس کے ساتھ مل کر کتنے ہی آنسو ہیں جو زندگی میں نہیں بہائے میں نے! کسی سیانے سے یا کسی ماہرِ نفسیات سے پوچھ کر دیکھیں، آپ کو بتائے گا، منفی سوچ ترک کر دیں، کہیں مصروف ہو جائیں، کوئی ملازمت کر لیں، زمانے کو اپنا آپ ثابت کر کے دکھائیں۔ ان صاحبان کو کوئی بتائے، یہ بھی کر کے دیکھ چکی، ہم جیسیوں کو ملازمت دیتا کون ہے۔ میں عمدہ تعلیمی کیرئیر کی حامل تھی، بہت جگہ انٹرویو دینے گئی، میرٹ پر بھرتی ہو سکتی تھی لیکن مجھے تو جیسے دیکھتے ہی انٹر ویو والے بیزار ہو جاتے تھے، دو چار سوالوں میں ہی فارغ کرنے کا چارہ شروع کر دیتے تھے۔ اک سیدھا سادھا سا اصول گویا کارفرما تھا، جو جس قدر خوش شکل تھی، نوکری ملنے کے امکانات اسی قدر زیادہ تھے۔ نوکری کا دروازہ یوں میرے پر بند ہی رہا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رشتہ ڈھونڈنے کے دن آ گئے اور یہ ڈھونڈ کچھ لمبی، کچھ مشکل ہی ہو گئی۔ اول تو کوئی آتا ہی نہیں تھا، اگر کوئی بھول کے آ بھی جاتا تھا تو لوٹ کے نہ آتا تھا۔ دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں کا روپ دھارنے لگے۔ میری شخصیت پر چھائی پرمژدگی مزید گہری ہونے لگی۔ سارے گھر نے گویا سنجیدگی کی چادر ہی اوڑھ لی۔ میری وجہ سے چھوٹی بہن کے لئے بھی رشتے نہ دیکھے جاتے تھے کہ اگر اس کی شادی ہو گئی تو میرے حوالے سے رہی سہی امید بھی جاتی رہے گی۔ اک مجھے اپنی پریشانی کم تھی کہ اس چھوٹی بہن کی فکر نے بھی آ گھیرا۔ اور پھر ایک دن میری بھی ہاں ہو گئی۔ شاید صحیح کہتے ہیں جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ نوید سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ والد صاحب کا کہیں بچپن میں انتقال ہو گیا تو چھوٹی عمر میں ہی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا۔ ایک ایک کر کے سب کو پڑھاتے اور پھر ان کے بیاہ کرتے اپنی تو تقریباً عمر ہی نکل گئی۔ کسی بینک میں کیشئیر تھے۔ چالیس کے پیٹے میں ہوں گے، کم بالوں اور چشمے کے ساتھ تو پروفیسر ہی لگتے تھے۔ بہرحال میرا خیال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ اور یوں زندگی ایک نئی ڈگر پر چل نکلی۔ شادی کو اب تقریباً ایک سال ہونے کو ہے۔ اپنی تو روتے دھوتے، جیسے تیسے گزر ہی گئی ہے، یہ جو آج میں آپ سے مخا طب ہوں، اور جو ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے ہیں، آنکھوں سے آنسو رواں ہیں ہونٹوں سے لفظ، میں ہسپتال کے ایک بستر پر موجود ہوں۔ کل اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی سے نوازا ہے۔ میرے پہلو میں لیٹی ہوئی ہے، ماں پر گئی ہے! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5546 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 اک کالی کلوٹی لڑکی کا دکھ 🔷 ✍ ڈاکٹر احتشام انور میں اک کالی کلوٹی سی لڑکی ہوں! اور آپ کیا جانیں اک ایسی لڑکی کا دکھ! گود سے گور تک تو سنا ہے ناں آپ نے؟ تو بس یوں سمجھ لیجیے، اس معاشرے میں اسےگود سے گور تک ہی اک کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں بہن بھائیوں میں منجھلی تھی۔ اک بڑا بھائی تھا، اک چھوٹی بہن۔ ان کا رنگ گورا نہیں تو بہت صاف ضرور تھا۔ دوسری طرف میں تھی، واجبی سی شکل و صورت کے ساتھ، سانولی کہنا تو شاید غلط ہو گا، کالی تھی کالی! ابھی ہوش سنبھالا ہی تھا تو میں نے لوگوں کو اپنے والدین سے مذاق کرتے دیکھا ”یہ آپ کی بیٹی لگتی نہیں، کیا ہسپتال میں بدل گئی تھی؟ “ وہ ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ بہن بھائیوں سے لڑائی ہوتی تو انہوں نے بھی چھوٹتے ہی کہہ دینا تم تو ہماری بہن ہی نہیں، ہسپتال میں بدل گئی تھی۔ کچھ والدین نے انہیں روک دیا، کچھ وہ عمر کے ساتھ سمجھدار ہو گئے۔ انہوں نے ایسا کہنا بند کر دیا۔ محلے میں یا اسکول میں جب بچوں کے ساتھ کھیلتی تھی، اور اگر کبھی کسی بات پر ان سے لڑائی ہو جاتی تو وہ بھی کالی ہونے کا طعنہ دیتے۔ لڑائی تو ایک طرف، بچے بچیاں تو مذاق بھی مجھے رنگ کا ہی کرتے تھے۔ بات مذاق تک ہی رہتی تب بھی ٹھیک تھا، لوگ تو سنجیدگی میں بھی یہی سوچتے اور کہتے تھے۔ مجھے وہ دن نہیں بھولتا جب اسکول کی سالانہ تقریب میں بچے ڈرامہ کر رہے تھے تو کیسے میری کلاس کی دو لڑکیوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں ڈرامے میں چڑیل کا کردار ادا کر لوں گی۔ ان کو جواب کیا دینا تھا ان کی سنجیدگی دیکھ کر میرے دل پر تو گویا چھریاں سی ہی چل گئیں۔ آنکھوں میں آنسو لئے میڈم کو شکایت کی تو وہ بھی سمجھانے لگیں کہ مجھے دل بڑا کرنا ہے اور یہ کہ اس کردار کو ادا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ماں دوسری تمام ماؤں کی طرح بہت پیار کرتی تھی لیکن میرے لئے محض چند خاص رنگوں کے ہی کپڑے لاتی تھی کہ بقول اس کے، شوخ اور تیز رنگوں میں ان کی بیٹی اور زیادہ سانولی لگتی تھی۔ میں نے ایسے رنگوں کو ساری زندگی اپنے پر بند ہی پایا۔ چھوٹی بہن البتہ ہر رنگ کے کپڑے پہنتی تھی اور ہر رنگ میں جچتی تھی۔ ماں کبھی کبھی کہتی تھی یہ میری تتلی ہے تتلی۔ میرے دل میں یہ خواہش ہی رہی، میں بھی اپنے لئے یہ لفظ سنوں، تتلی! اس سب کچھ نے میرے مزاج پر بڑا منفی اثر ڈالا۔ دب سی گئی میری شخصیت، خود اعتمادی کا کیا ذکر۔ میں دوسرے لوگوں کا، خاص طور پر مہمانوں کا، سامنا کرنے سے ہچکچانے لگی تھی۔ لوگ میرے سامنے مذاق کرتے ہوئے سمجھتے تھے یہ بچی ہے، اس کو کیا سمجھ آتی ہو گی۔ ان سب کو پتا ہی نہیں چلا، میں کب کی بڑی ہو چکی تھی، شاید اسی دن سے جب مجھے لفظ ”کالی“ کے معنی سمجھ آنا شروع ہوئے تھے۔ میں بے دلی سے تیار ہوتی تھی، نئے کپڑے پہنتے بھی سوچتی تھی کہ میں نے کیا کسی روپ میں اچھا لگنا ہے۔ چھٹی کا روز ہو، ہم نے کہیں جانا ہو، کسی نے ہمارے گھر آنا ہو، ماں کو میری ہی فکر ہوتی تھی کہ منہ دھو لو، نہا لو۔ مجھے جلد ہی سمجھ آ گئی وہ ایسا یہ سوچ کر کہتی ہو گی کہ ایک تو رنگ کالا، اوپر سے نہائی دھوئی نہ ہوئی تو اور بدشکل لگوں گی۔ چھوٹی بہن کو البتہ کوئی نہانے دھونے کا نہیں کہتا تھا، اپنی مرضی کرتی تھی وہ۔ والد صاحب بھی بہت شفیق تھے، البتہ وہ میری پڑھائی پر بہت زور دیتے تھے، ”بچے پڑھا کرو، پڑھا کرو“۔ چھوٹی بہن کو اس میں بھی چھوٹ حاصل تھی، جس پر میں بہت حیران بھی ہوا کرتی تھی۔ بڑی ہوئی تو سمجھ آ ئی، وہ سوچتے ہوں گے اگر اس کی تعلیم بھی اچھی نہ ہوئی تو کون قبول کرے گا اسے؟ اپنے پیروں پر کیسے کھڑی ہو گی؟ اور پھر جوانی نے آ دستک دی۔ لڑکیوں کے تو طور طریقے ہی بدلنے لگے، سجنا سنورنا شروع کر دیا انہوں نے۔ کسی لڑکے کو دیکھتیں تو کھسر پھسر بھی شروع ہو جاتی۔ آنکھوں میں کاجل اور سپنے سج گئے، سب منتظر ہوگئیں کہ کب کوئی شہزادہ آئے گا اور انہیں بیاہ کر لے جائے گا۔ اور ادھر میں تھی، آرزو ہی رہی کوئی لڑکا میری طرف بھی آنکھ بھر کر دیکھتا۔ عالم یہ تھا کہ اگر کبھی کسی کی غلطی سے نظر پڑ بھی گئی تو فوراً ہٹ گئی، پھر لوٹ کر نہیں آئی۔ اور آپ کو سچ بتاؤں، میں جلد ہی اس قدر حقیقت پسند ہو گئی کہ اس طرف سوچنا ہی چھوڑ دیا۔ پھر نہ کسی لڑکے کو دیکھ کر کسی خواہش نے انگڑائی لی نہ کبھی سپنے آنکھوں میں سجے۔ میں جان گئی تھی یہ سب کچھ میرے لیے ہے ہی نہیں۔ اور ہاں ایک بات کا تو میں ذکر ہی بھول گئی۔ مجھے شاید اپنی کالی رنگت کا اس قدر احساس نہ ہوتا اگر ہر وقت اخباروں، رسالوں، اور ٹی وی میں رنگت گوری کرنے والی کریموں کے اشتہار نہ آتے ہوتے۔ یہ احساس مجھ میں اور میرے جیسی دوسریوں میں راسخ کر دیا جاتا ہے کہ کالا رنگ ایک ایسی بری بلا ہے جس سے جس قدر جلد ممکن ہو، اور چاہے کتنے ہی جتن کیوں ناں کرنا پڑیں، چھٹکارہ پا لینا چاہیے۔

🔷 "دنیا کا واحد گناہ جہالت ھے" 🔷 ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام کے ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کر کے اُس کی جان بچا دیں.." شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.. شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..؟ عورت نے جواب دیا: "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تاکہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.." شیوانا نے مسکرا کر کہا.. "مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟ اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو.. یہ بُت احمق نہیں ھے.. وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.." عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا۔ کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا.. 🔘 دنیا میں صرف "آگاھی" کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ "جہالت" ھے.. جس دن ہم اپنے "کاھنوں" کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ھو جائیں گے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5463 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 دوستی 🌷 دوست بنانا سوشل سیلف کئیر کا نام ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ٹاکسک لوگوں کو زندگی سے نکالیں (مگر ایک یا دو چانسز دے کر اورہمیشہ میچور گفتگو کر کے) ویسے ہی ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ مثبت لوگوں کو زندگی میں داخل کریں۔ دوست قسمت سے ملتے ہیں۔ یہ بنائے نہیں جاتے۔ آپ کی فریکوئنسی کسی سے مل جاتی ہے اور آپ ایک دوسرے کے ساتھ کمفرٹیبل ہو جاتے ہیں۔ یہ آپ کی سماجی سیلف کئیر ہے۔ اپنے آپ کو بہتر محسوس کروانے کے لیے آپ اپنے اردگرد دوستوں کا ایک سپورٹ سسٹم بناتے ہیں تاکہ مشکل یا اسٹریس میں ان سے شئیر کر کے اپنے آپ کو سہارا دے سکیں۔ دوستوں میں بھی حدود کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر دوست آپ کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے نہیں ہوتا۔ ایک دوست ہے جو جاب پہ بنتا ہے۔ اس کو اپنی ذاتی زندگی کے دائرے میں نہ گھسائیں۔ ایک دوست ہے جو دین کا دوست ہے۔ اس کے ساتھ اپنے پروفیشنل خواب شیئر کرنا اور توقع کرنا کہ وہ آپ کا جوش شیئر کرے گا‘ بے وقوفی ہے۔ کام کے دوستوں کے ساتھ کام ڈسکس کیا جاتا ہے۔ ذاتی دوستوں کے ساتھ ذات۔ غرض دوست وہ چابیاں ہوتے ہیں جو آپ کی ذات کے مختلف تالے کھولتے ہیں۔ کسی ایک چابی کو آپ اپنے ہر تالے میں گھسائیں گے تو وہ کہیں نہ کہیں پھنس کے ٹوٹ جائے گی۔ ایک دوست کو اپنے ہر پہلو سے بوجھل نہ کریں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بےبی ڈک سینڈروم 🔷 آپ میں سے بہت سے لوگ نئی چیزوں کو اپنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہوں گے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کے ذہن میں بچپن سے یہ بات بیٹھ جائے کہ لکڑیوں پر پکا ہوا کھانا زیادہ صحت بخش ہوتا ہے، تو وہ گیس یا الیکٹرک چولہے پر پکے کھانے کو نقصان دہ سمجھے گا، چاہے وہ ذائقے اور غذائیت میں بہتر کیوں نہ ہو۔ یہ رویہ انسانی نفسیات کا ایک خاص پہلو ہے، جسے Baby Duck Syndrome کہا جاتا ہے۔۔۔ انسان کا دماغ پہلی بار سیکھنے یا تجربہ کرنے والی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جب ہم کسی چیز کو پہلی بار سیکھتے یا اپناتے ہیں، تو ہمارا دماغ اسے اپنا معیار بنا لیتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے، تو ہمارا ذہن اسے پرانی چیز کے مقابلے میں کم تر سمجھتا ہے۔ اس رویے کی ایک وجہ ہمارا دماغ ہے، جو عادتوں کو تبدیل کرنے میں سستی کرتا ہے۔۔۔ سائنس کی نظر سے دیکھیں تو دماغ کے لیے ہر نیا تجربہ ایک چیلنج ہوتا ہے۔ جب ہم کوئی نئی چیز اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو دماغ میں نیورل کنکشنز دوبارہ ترتیب پاتے ہیں۔ یہ عمل توانائی طلب اور بعض اوقات ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس، پرانے اور مانوس طریقے دماغ کے لیے آسان اور کم محنت طلب محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دماغ تبدیلی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور پرانی عادات کو ترجیح دیتا ہے۔۔۔ نفسیاتی طور پر، انسان کو تبدیلی کا خوف لاحق رہتا ہے۔ یہ خوف اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ نئی چیز یا طریقہ کار ناکام ہو سکتا ہے، یا اسے اپنانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ دماغ اپنے Comfort Zone میں رہنا چاہتا ہے، جہاں سب کچھ پہلے سے معلوم اور قابلِ یقین ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، پرانی چیزوں سے جذباتی وابستگی بھی اس رویے کو تقویت دیتی ہے۔ ماضی کے تجربات اور یادیں انسان کے دل و دماغ میں گہرے نقوش چھوڑتی ہیں، اور نئی چیزوں کو اپنانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان یادوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔۔۔ مثلاً کچھ لوگ آج بھی گھریلو دیسی علاج کو جدید میڈیسن پر ترجیح دیتے ہیں، اور اپ جدید طریقہ علاج کے حق میں کتنے بھی دلائل پیش کر لیں وہ گھریلو طریقہ علاج کو چھوڑنے پر رضامند نہیں ہونگے حالانکہ جدید علاج زیادہ مؤثر اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی طرح، لوگ پرانے طریقوں پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ وہ ان سے مانوس ہوتے ہیں، چاہے نئے طریقے زیادہ بہتر اور آسان ہوں۔.. اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو تبدیلی کے لیے تیار کرے اور نئے تجربات کے بارے میں مثبت سوچ رکھے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پرانی چیزیں ہمیشہ بہتر نہیں ہوتیں اور نئی چیزیں آپ کو بہتر مواقع اور تجربات فراہم کر سکتی ہیں۔ دماغ کو تربیت دی جا سکتی ہے کہ وہ Comfort Zone سے باہر نکل کر جدت کو قبول کرے۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

میری بیٹی اب ماشاءاللہ چار سال کی ہوگئی ہے۔ میں اس مرتبہ آزاد کشمیر میں اپنے گاؤں گیا مگر وہاں تو سب کچھ ہی بدل چکا تھا۔ میری بیوی میری نہیں رہی تھی، میری بیٹی مجھے پاپا نہیں سمجھتی، مصطفی بھائی میں تو برباد ہوگیا۔ میں نے حوصلہ دیا کہ پوری بات کرو ، پھر کیا ہوا؟ اس نے کہا میں گھر گیا تو مجھے پہلے ہی دن محسوس ہوگیا کہ میری بیوی میرے آنے سے خوش نہیں۔ میر ی بیٹی تو مجھے جانتی ہی نہیں تھی۔ اس سے صرف فون پر یا اسکائپ پر ہی بات ہوئی تھی۔ اگلے دن ارشد آیا تو میری بیٹی پاپا، پاپا کہتے ہوئے اس سے جا لپٹی۔ اسے دیکھ کر میری بیوی کے چہر ے پر بھی خوشی نمایاں ہو گئی۔ میں پریشان تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ ایک ہفتہ ایسے ہی گزر گیا۔ میں سب کچھ محسوس کرتا رہا پھر میں نے اپنی بیوی سے پوچھاکہ آخر یہ گڑیا میرے پاس کیوں نہیں آتی۔ وہ ارشد کی گود میں چلی جاتی ہے، مجھ سے کتراتی ہے؟ بیوی نے کہا: آپ کو میں کہتی رہی کہ آپ آجائیں مگر آپ نے پیسے کمانے کے لئے میری ایک نہ سنی۔ آج گڑیا ارشد کو ہی اپنا پاپا سمجھتی ہے کیونکہ ہر موقع پر وہی تو موجود رہا۔ اس نے گڑیا کی ہر فرمائش پوری کی۔ نجانے آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پائے کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ آج آپ کا دوست ارشد مکمل طور پر ہمارے گھر میں آچکا ہے اور اسی گھر کا ایک فرد ہوگیا ہے۔ تو کیا مطلب میری کوئی اوقات نہیں؟ میں نے سوال کیا تو بیوی نے کہا کہ ”اس میں میرا قصور نہیں، آپ شادی کے ایک ماہ بعد ہی چلے گئے تھے۔ آج پانچ سال بعد آئے ہیں۔ اس عرصے میں ارشد ہی وہ شخص تھا جس نے ہم ماں بیٹی کا ہر طرح خیال رکھا۔ آج ہم دونوں میں ذہنی ہم آہنگی ہے اور ہم ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ میں یہ سن کر سکتے میں آگیا۔ تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو؟ میں نے چیختے ہوئے پوچھا۔ بیوی نے کہا! ہاں میں جانتی ہوں مگر میں مجبور ہوں، میں اب آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ میرے دل میں اب آپ کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ ارشد بھی یہی چاہتے ہیں آپ مجھےچھوڑ دیں تاکہ ہم نئی زندگی شروع کر سکیں۔ میں سیدھا ارشد کے پاس گیا اور پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا، میرے ہی گھر میں ڈاکہ ڈال دیا؟ ارشد نے جواب دیا کہ میں نے کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا۔ تم اپنے گھر کی رکھوالی کہاں کر رہے تھے، تم تو اپنا گھر میرے حوالے کر گئے تھے اور جو رکھوالی کرتا ہے وہی گھر کا مالک ہوتا ہے۔ میں مجرم ہوں مگر مجھ سے بڑے مجرم تم ہو۔ تمہاری بیوی ہر عید پر مہندی لگائے اور گجرا سجائے تمہارا انتظار کرتی تھی، میں آتا تو تمہاری بیٹی سے کہتا تھا کہ آپ کی مما اچھی لگ رہی ہیں۔ یہ سن کر گڑیا کی ماں بھی خوش ہوجاتی تھی۔ یونہی وقت گزرتا گیا اور ہماری سوچوں اور خیالات میں یکسانیت پروان چڑھتی رہی۔ نوفل اب تم اپنی بیو ی کوچھوڑ دو۔ اس معاملے کو اک خوبصورت موڑ دے کر خیر باد کہہ دو۔ میں تمہاری بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تمہاری بچی بھی مجھے اپنا باپ سمجھتی ہے۔ تمہاری بیوی تمہاری رہی اور نہ تمہاری بیٹی تمہیں پہچانتی ہے۔ تم کرکٹ کے اُس 12ویں کھلاڑی کی مانند ہو جو ٹیم میں ہوتا ہے مگر کھیل کا حصہ نہیں ہوتا۔ ارشد کی باتیں ہتھوڑا بن کر میرے اوپر برس رہی تھیں۔ اس نے کہا مصطفی بھائی! میرا یہ سفر نہایت تلخ رہا۔ میری زندگی کی ساتھی کسی اور کی ہمقدم ہوگئی۔ زیادہ افسوس یہ ہے کہ میری ماں اور بہنیں جن کے لئے میں نے اتنے برس تنہا گزار دیئے، جن کی وجہ سے میرا گھر برباد ہورہا تھا، انہیں کوئی افسوس نہیں تھا۔ انہوں نے میری بیوی پر ان گنت الزامات لگا دیئے مگر میں جانتا تھا کہ یہ قصور اس کا نہیں، میرا ہے۔ میرے پاس آج بہت دولت ہے مگر میں حقیقی دولت کھو بیٹھا ہوں۔ میں نے ایئرپورٹ سے ہی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کر دیا تھا تاکہ وہ ”دلہن“ جو پانچ سال تک ا پنے پہلے شوہر کی راہ تکتی رہی تھی، اب اسے مزید انتظار نہ کرنا پڑے اور وہ دوسرے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار سکے۔ یہ کہہ کر نوفل پھر خاموش ہوگیا۔ حارہ کی سڑک پر رات کے دو بجے سنسناتی گاڑیاں مجھے خوف زدہ کر رہی تھیں۔ نوفل کے اندر سے اٹھنے والا شور تنہائی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ میرے پاس نوفل کے لئے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ میں اسے گھر جانے کی تلقین کرتے ہوئے واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ اس دن کے بعد نوفل نظر نہیں آیا، پھر کئی ماہ بعد ہوٹل سے ہی معلوم ہوا کہ نوفل اب دنیا میں نہیں رہا۔ نجانے اس کہانی میں نوفل قصور وارتھا ، اس کی بیوی گنہگار تھی یا امی اور بہنوں نے اپنی خواہشات کے لئے ایک گھر برباد کر دیا تھا۔... منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5541 https://t.me/islamwitheman/5528 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 نوفل پردیسی 🔷 بیوی بچوں کے بغیر بیرون ملک رہنے والے ہر شادی شدہ مرد کے لئے ایک عبرتناک تحریر.۔۔۔۔ میں تمہاری بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اس ایک دوست کا قصہ جسے اپنے ہی دوست کی بیوی سے عشق ہو گیا تھا..۔۔ ریاض میں رہتے ہوئے کافی عرصہ ایسا گزرا جب ہوٹل میں کھانا کھایا کرتا تھا۔ ظاہر ہے پکانا آتا نہیں، اس لئے ہوٹل پر ہی اکتفا کرنا پڑتا تھا مگر کھانے کی میز پر تنہا بیٹھتے ہوئے ایک نوالہ بھی حلق سے اتارنا گویا زہر کھانے کے برابر لگتا چنانچہ اپنی میز سے اٹھ کر کسی اور میز پر تنہا بیٹھے شخص کے پاس پہنچ جاتا۔ اپنے کھانے کا آرڈر دینے کیساتھ کہتا ”یار ،ہم دونوں مل کر کھانا کھاتے ہیں، باتیں بھی ہو جائیں گی، وقت کٹ جائے گا اور پیٹ بھی بھر جائے گا“ میرے اس جملے کا جواب عموماً اچھا ہی ملتا تھا۔ ایسی ہی ایک رات کھانا کھانے نکلا تو میز پر بیٹھے ایک نوجوان سے انہی جملوں کے ساتھ تعارف ہو گیا۔ وہ بہت خوش مزاج اور دل کا بڑا نوجوان تھا۔ میں یہاں اس کو نوفل کے نام سے متعارف کراؤنگا۔ نوفل کی عمر یہی کوئی چھبیس، ستائیس سال ہوگی۔ ایک دوسرے کے بارے میں باتیں شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ نوفل کی شادی چار سال پہلے ہوئی تھی مگر وہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی ریاض آگیا تھا۔ یہاں کے مسائل اور گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے پھر جا نہ سکا۔ ہم ہر روز ہی رات کو ملاقات کرنے لگے۔ ایک رات کافی دیر سے وہ مجھے سڑک پر ملا۔ ”ارے نوفل اس وقت تم کیسے، کیا صبح کام پر نہیں جانا؟“ میں نے اس کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔ نہیں مصطفی بھائی ،بڑی مشکل سے چھٹی لگی ہے۔ ایک دو دن میں ہی گاؤں جا رہا ہوں۔پانچ سال بعد جاؤں گا اور اب جا کر اپنی بیٹی کو دیکھوں گا۔ نوفل مجھے بتا چکا تھا کہ وہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی سعودی عرب آگیا تھا پھر اس کے گھر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ خیر نوفل ایک دو دن میں گاؤں چلا گیا۔ بڑا خوش تھا، اس کا چمکتا چہرا آج بھی یاد آتا ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔ نوفل کو گئے ہوئے ایک ماہ ہوگیا تھا، ایک دن حسب روایت میں ہوٹل میں کھانا کھانے گیا تو نوفل ایک کونے میں میز پر خاموش اور اداس بیٹھا تھا، شیو بڑھی ہوئی، بال بکھرے ہوئے اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ ”ارے نوفل یہ کیا، تم کب آئے“ میں نے میز کے قریب پہنچ کر سوال کیا۔ نوفل میری جانب ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ اور میں بالکل اجنبی ہوں ،آج ہی ملاقات ہوئی ہو، پھر چند ہی لمحوں کے بعد نوفل نے میرا ہاتھ ایسے تھاما جیسے ہمارا صدیوں کا تعلق ہو. وہ میرا سگا ہو یا میں اس کا سب کچھ ہوں۔ میں نے نوفل کے ہاتھ پکڑتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہوا یار، تم تو گاؤں گئے تھے، کب آئے، کیا ہوگیا؟ مگر وہ خاموش تھا۔ میں نے کھانا منگوایا، بڑی مشکل سے اس نے چند لقمے لئے مگر کچھ نہ بولا، ہوٹل بھرا ہوا تھا،۔ اس لئے بات کرنا مشکل تھا۔ میں نوفل کو لے کر ریاض میں حارہ کی سڑک پر نکل آیا۔ ہم ایک سڑک کے کونے پر موجود چبوترے پر بیٹھ گئے۔ میں نے پھر پوچھا، اصرار کیا، دھمکی دی کہ اگر مجھے نہیں بتایا تو میں بھی ملنا چھوڑ دوں گا۔ نوفل ایسا لگ رہا تھاجسے گونگا ہو گیا ہو، آنکھیں سوال کر رہی تھیں مگر زبان گنگ تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ فضاؤں اور آسمانوں میں ہے۔ زمین پر تو اسے کچھ نہیں مل رہا۔ کافی دیر ایسے ہی گزر گئی اور پھر میں غصے میں اٹھ کر جانے لگا۔ ٹھیک ہے جب مجھے کچھ نہیں سمجھتے تو چھوڑو، میں چلا جاتا ہوں۔ اب نوفل اٹھا اور مجھ سے لپٹ گیا، ایسے رونے لگا جسے بچہ بلک بلک کر روتا ہے، نوفل کی ہچکیاں ہی بند نہیں ہو رہی تھیں۔ مصطفی بھائی یہ میں نے کیا کر دیا، میرے ساتھ کیا ہو گیا، مصطفی بھائی میں نے تو سوچا بھی نہ تھا۔ نوفل ہوا کیا ہے یار، بتاؤ تو سہی، خیر ہے ناں؟ مصطفی بھائی میری بیوی نے مجھ سے طلاق لے لی، یہ کہہ کر نوفل پھر رونے لگا۔ مصطفی بھائی میرا قصور ہے۔ میں نے اس کے ساتھ غلط کیا۔ وہ پڑھی لکھی تھی، کوئی دیہاتن نہیں تھی، میں نے غلط کیا۔ آپ جانتے ہیں، میں شادی کے ایک ماہ بعد ہی سعودی عرب آگیا تھا۔ میری بیوی روز کہتی کہ تم واپس آجاؤ، روکھی سوکھی کھا لیں گے مگر ساتھ رہیں گے مگر میں اپنا گھر بنانے کی دھن میں تھا، بس یار اتنا کما لوں کہ گھر بنا لوں، ماں کہتی تھیں کہ بہنوں کی شادی کے لئے جمع کر لو۔ وقت گزرتا گیا،۔ میری بیٹی بھی پیدا ہوگئی۔ نوفل نے کہا کہ میرے بچپن کا دوست تھا ارشد۔ ہم دونوں ایک ہی محلے میں پلے بڑھے تھے۔ میرے گھر میں کوئی بھی کام ہوتا، میں اپنے دوست ارشد کو فون کر دیتا کہ تیری بھابھی یہ کہہ رہی تھی، ذرا تو یہ کام کر دے۔یوں اسے میں کسی نہ کسی کام کے لئے اکثر اپنے گھر جانے کا کہتا تھا۔ ارشد روز ہی گھر چلا جاتا تھا، امی اور بہنیں بھی اسے جانتی تھیں۔ میں اگر یہاں سے جانے کا کبھی ارادہ کرتا تو امی مجھے بہنوں کی شادی اور گھر کے مسائل گنوا دیتیں اور میں پھر رک جاتا۔

🔷 مالی بحران کی وجہ 🔷 پچھلے 10 سالوں میں کئی خاندانوں کے مالی بحران کی دس بڑی وجہ۔۔۔ 1. خاندان میں ہر ایک کے پاس اسمارٹ فون ہونا۔ 2. سماجی دباؤ کے تحت بار بار چھٹیاں منانے شہر سے باہر جانا۔ 3. سٹیٹس سمبل کے طور پر گاڑی کا مڈل بدلنا۔ 4. گھر کے بنائے ہوئے کھانے سے پرہیز کرنا اور ویک اینڈ پر غیر ضروری طور پر باہر کھانا۔ 5. سیلون،پارلر پارلر جانے اور مہنگے برانڈڈ کپڑوں کا شوق۔ 6.فیملی میں ایک ساتھ وقت گزارنے کی بجائے زیادہ پیسہ خرچ کر کے سالگرہ اور سالگرہ کو خاص بنانے کی کوشش کرنا۔ 7. عظیم الشان شادیاں اور خاندانی تقریبات کا انعقاد۔ 8. تربیت کی بجائے مہنگے سکولوں اور ٹیوشنز کی تعلیم۔ 9. وہ خرچ کرنا جو آپ نے ابھی تک کمایا نہیں... قرضوں اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے... 10. گھر اور دفتر کے بیرونی اور اندرونی ایسے حصوں پر لاکھوں خرچ کرنا جس سے فقط امارت اور دکھلاوا مقصود ھو نہ کہ ضرورت اور اس طرح دیکھ بھال کی لاگت میں اضافہ.... ہم اپنی ضروریات اور آمدنی کو سمجھے بغیر، فلموں ، ڈراموں اور دوسروں کے طرز زندگی کی نقل کر رہے ہیں۔ اگر یہ کم نہیں ہوتا ہے، تو یہ گزرتے سالوں کے ساتھ بہت زیادہ تناؤ اور پریشانی کا باعث بنے گا جو ناصرف انفرادی بلکہ اجتماعی اور ملکی سطح پر مالی بحران کا سبب بھی ھوگا۔ 🔘 میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اپنائیے اپنے لئے قوم کے لئے ہمارا دین بھی ہمیں کنجوسی اور فضول خرچی دونوں سے منع کرتا ھے۔ کیونکہ کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ اسکا حساب آخرت میں بھی دینا ھے.. Copied ۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌷 خوداری بلند انسانی وصف! 🌷 خودداری ایک بلند انسانی وصف ہے جو انسان کو عزت اور وقار کے ساتھ جینا سکھاتا ہے۔ یہ کسی کی مادی حیثیت، جسمانی طاقت، یا معاشرتی مرتبے سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور رویے سے ظاہر ہوتی ہے۔ خودداری کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی محنت اور جدوجہد پر یقین رکھے۔ ہم نے اکثر ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو غربت یا جسمانی مشکلات کے باوجود دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کے لیے محنت اور خود انحصاری زندگی کا اصول ہے، چاہے حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں۔ یہ لوگ اپنے کردار کی مضبوطی سے نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کرتے ہیں اور معاشرے میں عزت کماتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خود ترسی کا شکار ہو کر مانگنے کو ایک معمولی اور عام رویہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ دوسروں کی ہمدردی یا امداد پر انحصار کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی خودداری مجروح ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی ان کا مقام کم ہو جاتا ہے۔ ایسے رویے انسان کو خود غرض اور سست بنا دیتے ہیں۔ خودداری انسان کی اخلاقی خوبصورتی کو نمایاں کرتی ہے اور اس کی حقیقی شخصیت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ اس وصف کو اپنانے سے نہ صرف انسان اپنی زندگی میں استحکام حاصل کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 سٹریس 🔷 سٹریس کیسے ہماری صحت کو متاثر کرتا ہے۔۔ ہم سب زندگی کے مختلف مراحل میں دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ کبھی کام کی پریشانی، کبھی مالی مسائل، اور کبھی رشتوں کے مسائل — دباؤ ہر جگہ گھس آتا ہے۔ تھوڑا سا دباؤ ہمیں مقصد حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، مگر جب یہ مستقل ہو جائے، تو ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ دباؤ ہماری صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے اور اس سے بچنے کے طریقے کیا ہیں۔ 🔹 دباؤ کا جسم پر اثر جب ہم دباؤ میں ہوتے ہیں، تو ہمارا جسم ایڈرینالین اور کورٹیزول جیسے ہارمونز خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمونز ہمیں فوری خطرے سے بچنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ لیکن اگر دباؤ لمبے عرصے تک رہے تو کیا ہوتا ہے؟ 1. مدافعتی نظام کی کمزوری کیا آپ نے محسوس کیا ہے کہ دباؤ کے دوران آپ زیادہ بیمار ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلسل دباؤ آپ کے جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ 2. دل کی بیماریاں مسلسل دباؤ بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ جیسے آپ کا دل مسلسل تیز رفتار پر کام کر رہا ہو، آخر کار وہ تھک جاتا ہے۔ 3. ہاضمے کے مسائل دباؤ معدے کو متاثر کرتا ہے، جس سے تیزابیت، پیٹ کا درد اور آنتوں کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ 4. دماغی صحت کے مسائل مسلسل دباؤ دماغ کو تھکا دیتا ہے، جس سے بے چینی، ڈپریشن اور توجہ میں کمی ہوتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے آپ ایک بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں۔ 🔹 دباؤ کم کرنے کے آسان طریقے 1۔ گہری سانسیں لیں: چند گہری سانسیں ذہن کو سکون دیتی ہیں۔ 2۔ ورزش کریں: جسمانی حرکت سے خوشی کے ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ 3۔ اپنوں سے بات کریں: دل کی بات شیئر کرنے سے بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ 4۔ اچھی نیند لیں: مناسب نیند صحت کو بحال کرتی ہے۔ 5۔ پیشہ ورانہ مدد لیں: ماہر نفسیات آپ کو دباؤ سے نمٹنے کے طریقے سکھا سکتے ہیں۔ 🔘 نتیجہ دباؤ زندگی کا حصہ ہے، مگر اسے اپنی صحت پر حاوی نہ ہونے دیں۔ دباؤ کے اثرات کو سمجھ کر اور اس کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر کے آپ ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ٹینشن مت لیں 🔷 ایک جملہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ ٹینشن مت لیں ، ٹینشن بھی کوئی لینے کی چیز ہے ؟ ڈپریشن مت لیں ۔۔۔۔۔ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ جس طرح محبت اور نفرت کرنے میں انسان کا اپنا اختیار نہیں ہوتا۔ انسان کا دل جس طرف مائل ہو جائے تو اسے اپنے دل پر اختیار نہیں رہتا اور وہ عشق و محبت کے ریشم میں الجھ جاتا ہے اسی طرح جب ہمیں کسی شخص کے رویوں سے دکھ پہنچتا ہے یا اس کا کوئی رویہ ہمیں برا لگتا ہے تو ہمارے دل میں خود بخود نفرت اور ناپسندیدگی اگنا شروع ہو جاتی ہے ہم اس ناپسندیدگی کو ختم نہیں کر سکتے ، ہاں کم ضرور کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ٹینشن لینے میں بھی کسی کا اپنا دوش نہیں حالات کچھ ایسے چل رہے ہوں جن کی وجہ سے انسان اعصابی تناؤ کا شکار ہوجائے تو اس سے باہر نکلنے میں، اس صورتحال کو بہتر کرنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے۔ ہم نے عمومی رویے بنایا ہوا ہے اور خیال کرتے کہ فلاں شخص تو ٹینشن بہت لیتا ہے۔ اس دنیا میں نوع انسانی کی تعداد کو دیکھا جائے تو اربوں میں ہے ، ہر انسان مختلف طبیعت لے کر پیدا ہوتا ہے ، جتنا ہمارے چہروں میں فرق ہے اتنا ہی ہماری سوچوں، ہمارے جذبات میں بھی فرق ہے۔ مختلف حالات میں رویوں کا مقابلہ کرنے میں ہمارا رسپانس اور رویے بھی مختلف ہوتے ہیں کوئی انسان بہت زیادہ حساس ہوتا ہے ، اسے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی پریشان کر دیتی ہے اور وہ دل پہ لے لیتا ہے ، بعض کو خدا نے ایموشنل نہیں بلکہ پریکٹیکل بنایا ہوتا ہے وہ ہر مشکل اور تلخ حالات کو بڑی دلیری سے جھیل جاتے ہیں کچھ کو اپنے جذبات چھپانے میں ملکہ حاصل ہوتا ہے وہ دل کی کیفیت چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ یہ سب انسانی فطرت کے رنگ ہیں ہمیں ان رنگوں کو قبول کرنا ہے ۔ اگر کوئی پریشان ہے تو اس کی مدد کو پہنچنا ہمارا پہلا فرض ہے۔ باقی کتھارسس بہت ضروری ہے انسان بعض اوقات ویسا نہیں نظر آ سکتا جیسا دنیا چاہتی ہے۔ اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے ✍ تحریر: مجیب الرحمٰن 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 اچھے دن کی شروعات 🌹 کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا دن اچھا شروع ہو؟ اگر ہاں، تو یہ چند آسان عادتیں آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔ ان عادتوں سے نہ صرف آپ کا ذہن صاف ہوگا بلکہ آپ کو پورے دن کی توانائی بھی ملے گی۔ 🔹 سب سے پہلے اپنے گولز لکھنا صبح کے وقت، پانچ منٹ اپنے گولز لکھیں۔ آپ اپنے دن کے مقاصد اور طے شدہ اہداف پر توجہ مرکوز کریں۔ جب آپ اپنے گولز کو لکھتے ہیں، تو آپ کو اپنی سمت کا پتہ چلتا ہے اور آپ کا دماغ واضح ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف آپ کو اپنی روزانہ کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملتی ہے، بلکہ آپ زیادہ متحرک اور مرکوز رہتے ہیں۔اگر رات کو سونے سے پہلے آگلے دن کے گولز لکھ لیں تو یہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے۔ 🔹 دوسرا گہری سانسیں لینا اب چند منٹ گہری سانسیں لیں۔ گہری سانسیں آپ کے دماغ کو سکون دیتی ہیں اور آپ کے جسم کو آرام پہنچاتی ہیں۔ پانچ منٹ کی یہ مشق آپ کو پرسکون بناتی ہے اور ذہن کو نئے خیالات کے لیے تیار کرتی ہے۔ اس سے آپ کا دماغ تیز اور پُر سکون رہتا ہے۔ 🔹 تیسرا خود سے مثبت باتیں کہنا "میں اچھا ہوں" یا "میں کامیاب ہوں" جیسے جملے خود سے کہنا آپ کے ذہن کو مثبت بناتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جملے آپ کے دن کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں اور آپ کو کامیاب ہونے کا احساس دیتے ہیں۔ جب آپ خود سے یہ باتیں کہتے ہیں، تو آپ کی خود اعتمادی بڑھتی ہے اور آپ کا دماغ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ تین آسان عادتیں آپ کے دن کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ جب آپ ان عادتوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرتے ہیں، تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کا ذہن زیادہ مثبت اور پُر سکون ہو جاتا ہے۔ ✍ سائیکالوجسٹ محمد وقاص 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایک بڑھتی عمر لڑکی کی فریاد 🔷 حلال رشتے کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی ایک عورت کی فریاد۔۔۔ میری عمر اس وقت 35 سال ہے میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے خاندان کی رسم ہے کہ خاندان سے باہر رشتہ کرنا نیچ حرکت ہے۔ عمر کے 35 ویں سال میں پہنچی ہوں اب تک میرے لئے خاندان سے کوئی رشتہ نہیں آیا جبکہ غیر خاندانوں سے کئی ایک رشتے آئے لیکن مجال ہے کہ میرے والدین یا بھائیوں نے کسی سے ہاں بھی کیا ہو۔ میرے دلی جذبات کبھی اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ میں راتوں میں چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھاؤں اور دھاڑیں مار مار کر والدین سے کہوں کہ میرا گزارہ نہیں ہو رہا خدارا میری شادی کرا دیں اگرچہ کسی کالے کلوٹے چور سے ہی سہی لیکن حیاء اور شرم کی وجہ چپ ہو جاتی ہوں۔ میں گھٹ گھٹ کر اندر سے زندہ لاش بن گئی ہوں۔ شادی بیاہ و تقریبات میں جب اپنی ہمچولیوں کو اُن کے شوہروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھتی ہوں تو دل سے دردوں کی ٹیسیں اٹھتی ہیں ۔۔۔ یا خدا ایسے پڑھے لکھے جاہل ماں باپ کسی کو نہ دینا جو اپنے خاندان کے ریت و رسم کو نبھا کر اپنے بچوں کی زندگیاں برباد کر دیں۔ کبھی خیال آتا ہے کہ گھر سے بھاگ کر کسی کے ساتھ منہ کالا کر کے واپس آکر والدین کے سامنے کھڑی ہو جاؤں کہ لو اب اچھی طرح نبھاؤ اپنی سات پشتوں کی رسم۔ کبھی خیال آتا ہے ہے کہ گھر سے بھاگ جاؤں اور کسی سے کہوں مجھے بیوی بنالو لیکن پھر خیال آتا ہے اگر کسی برے انسان کے ہتھے چڑھ گئی تو میرا کیا بنے گا۔ میرے درد کو مسجد کے مولوی صاحبان بھی جمعہ کے خطبے میں بیان نہیں کرتے ۔۔۔۔ اے مولوی صاحب ذرا آپ بھی سنو! رات کو جب ابا حضور اور اماں ایک کمرے میں سو رہے ہوتے ہیں، بھائی اپنے اپنے کمروں میں اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ آرام کر رہے ہوتے ہیں تب مجھ پر کیا گزرتی ہے وہ صرف میں اکیلی ہی جانتی ہوں۔ اے حاکمِ وقت! تو بھی سن! خلیفہ دوم کے زمانے میں رات کے وقت جب ایک عورت نے درد کے ساتھ یہ اشعار پڑھے جن کا مفہوم یہ تھا۔۔۔ اگر خدا کا ڈر اور قیامت میں حساب دینے کا ڈر نہ ہوتا تو آج رات اِس چارپائی کے کونوں میں ہل چل ہوتی۔ (مطلب میں کسی کے ساتھ کچھ کر رہی ہوتی) خلیفہ دوم نے جب اشعار سنے تو ہر شوہر کے نام حکم نامہ جاری کیا کہ کوئی بھی شوہر اپنی بیوی سے تین مہینے سے زیادہ دور نہ رہے۔ اے حاکمِ وقت، اے میرے ابا حضور، اے میرے ملک کے مفتی اعظم، اے میرے محلے کی مسجد کے امام صاحب، اے میرے شہر کے پیر صاحب میں کس کے ہاتھوں اپنا لہو تلاش کروں؟ کون میرے درد کو سمجھے گا؟ میری 35 سال کی عمر گزر گئی لیکن میرے ابا کی اب بھی وہی رٹ ہے کہ میں اپنی بچی کی شادی خاندان سے باہر ہرگز نہیں کروں گا۔ اے خدا تو گواہ رہنا بیشک تو نے میرے لئے بہت سے اچھے رشتے بھیجے لیکن میرے گھر والوں نے وہ رشتے خود ہی ٹھکرا دیئے۔ اب کچھ سال بعد میرا ابا تسبیح پکڑ کر یہی کہے گا کہ بچی کا نصیب ہی ایسا تھا۔ اے لوگو مجھے بتاؤ کوئی شخص تیار کھانا نہ کھائے اور بولے تقدیر میں ایسا تھا تو وہ پاگل ہے یا عقلمند ۔۔ اللہ پاک نوالے منہ میں ڈلوائے کیا ؟؟؟ یونہی اس مثال کو سامنے رکھ کر سوچیں کہ میرے اور میرے جیسی کئی اوروں کے لئے اللہ نے اچھے رشتے بھیجے لیکن والدین نے یا بعض نے خود ہی ٹھکرا دیئے اب کہتے پھرتے ہیں کہ جی نصیب ہی میں کچھ ایسا تھا۔۔ خدارا اپنی بچیوں پر رحم کھائیں۔ باز آجائیں ایسی رسومات سے جس کا ہمارے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ Copy ۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

■ وفات حضرت اُمُّ البَنین سلام اللہ علیہا حضرت اُمُّ البنینؑ کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ 13جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں. آپ شیعوں کے یہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں. 😢 ہدیہ تعزیت و تسلیت عرض ہے۔۔۔ پوسٹ دیکھنے کیلئے کلک کریں۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/390 https://t.me/islamwitheman/391 🔘 تفصیل کے ساتھ حضرت ام البنین علیہ السلام کی سوانح حیات دیکھنے کے لئے فیسبک کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ https://www.facebook.com/1304327322922888/posts/3792714790750783/ ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🎅 قرض دینے واے ایپس کا دھوکہ 🎅 وشاکھا پٹنم (آندھرا پردیش) کا نریندر ایک ماہی گیر تھا جس نے اکھلا سے انٹر کاسٹ پسند کی شادی کی تھی۔۔۔موسمی تبدیلی کی وجہ سے مچھلیاں پکڑنے کا کام متاثر ہوا تو روزمرہ اخراجات کے لیے نریندر نے ایک ایپ سے دو ہزار روپے کا قرض لے لیا۔۔۔ کچھ دنوں بعد ہی لون ایپ ایجنٹس نے قرض واپسی کے لیے نریندر کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔۔ لون ایجنٹس نے نریندر کی بیوی کی ایڈٹ شدہ تصاویر اس کے دوستوں اور خاندان کے افراد کو "پرائس ٹیگ" کے ساتھ بھیج دیں۔۔ معاملہ جب نریندرا کی بیوی کو پتہ چلا جو خود بھی ایک ورکر ہے تو اس نے قرض کی مکمل رقم ادا کر دی لیکن اس کے باوجود ایجنٹ کی طرف سے بلیک میلنگ جاری رہی۔۔ نریندر یہ برداشت نہ کر سکا اور زندگی کا خاتمہ کر لیا۔۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا قرض کی رقم صرف دو ہزار تھی یا قرض کی آڑ میں بلیک میلنگ سے پیسے کمانے کا دھندہ جاری تھا۔۔۔ نیز ایجنٹ کی گرفتاری کے لیے بھی پولیس کوشاں ہے۔۔۔ کئی (خاص طور پر ایشیا ،افریقہ کے ترقی پذیر) ممالک میں فوری لون ایپس کے ذریعے سود، بلیک میلنگ اور فراڈ جاری ہے۔۔ معاشی طور پر پریشان ضرورت مند افراد آسان ٹارگٹ ثابت ہوتے ہیں۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں پچاس سے زائد افراد لون ایپس کی بلیک میلنگ کی وجہ سے زندگی کا خاتمہ کر چکے ہیں۔۔۔ پاکستان میں بھی ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔۔ پچھلے سال پاکستان میں چلنے والی 120 غیر قانونی لون ایپس کو بند کیا تھا۔۔گوگل پلے اسٹور کی طرف سے بھی لون ایپس بنانے والے ڈویلپرز کا پرسنل لون ایپ ڈیکلیئریشن فارم بھرنا لازم کیا تھا لیکن راستہ پھر بھی نکال لیا جاتا ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے خود احتیاط کریں اور انکے ٹریپ میں نہ آئیں۔۔ 😮🤫🤔🤡🤔🤫😮 https://t.me/muskuraahten 🎅 MUSKURAAAHTEN 🎅

🌹 پل (Bridge) 🌹 دو سگے بھائیوں کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا ججھک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے۔ ایک دن ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہو گئی۔ چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں اپنا بلڈوزر نکالا اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھاڑی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ دیا۔ اگلے ہی دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے اس نے کل بلڈوزر سے میر ے اور اپنے گھروں کے درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھاڑی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے. میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا دو کیونکہ میں اس کا گھر تو دور کی بات ہے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کر کے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دوں گا۔ ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش اور ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں۔ موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علا وہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گئے۔ ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور اپنا کام ہم پر چھوڑ دیں․․․ترکھان اپنے مزدوروں کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا۔ صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہاں ایک بہترین پل بنا ہوا تھا جہاں اسکے چھوٹے بھائی نے گہری کھاڑی کھود دی تھی. جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اسکی طرف دیکھ رہا تھا چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا کبھی کھاڑی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی نپے تلے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر دونوں بھائیوں نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری شدت سے بھینچتے ہوئے گلے لگا لیا۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ بڑے بھائی کی نظر جونہی ترکھان کی طرف اٹھی جو اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا تو وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ وہ کچھ دن ہمارے پاس ٹھہر جائے لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ ۔۔۔ اسے ابھی اور بہت سے”پُل“ بنانے ہیں۔ 🔘 کوشش کریں کہ لوگوں کے درمیان پل بنائیں، کھائیاں اور دیواریں نہ بنائیں... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 خرگوش اور ریچھ کی کہانی 🔷 کسی جنگل میں ایک "خرگوش" کی آسامی نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کیلئے درخواست جمع کرا دی۔ اتفاق سے کسی خرگوش نے درخواست نہیں دی تو اسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دے دی گئی۔ ملازمت کرتے ہوئے ایک دن ریچھ نے محسوس کیا کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بمشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش اس کی جگہ ریچھ ہونے کا دعویدار بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقفکاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم و زیادتی کے خلاف باتیں کیں، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فوراً اس ظلم کے خلاف جا کر قانونی کارروائی کرے۔ ریچھ نے اسی وقت جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس جا کر شکایت کی، ڈائریکٹر صاحب کو کچھ نہ سوجھی، کوئی جواب نہ بن پڑنے پر اس نے شکایت والی فائل جنگل انتظامیہ کو بھجوا دی۔ انتظامیہ نے اپنی جان چھڑوانے کیلئے چند سینیئر چیتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے خرگوش کو نوٹس بھجوا دیا کہ وہ اصالتاً حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرے اور ثابت کرے کہ وہ ایک ریچھ ہے۔ دوسرے دن خرگوش نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے سارے کاغذات اور ڈگریاں پیش کر کے ثابت کر دیا کہ وہ دراصل ایک ریچھ ہے۔ کمیٹی نے ریچھ سے غلط دعوی دائر کرنے پر پوچھا کہ کیا وہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ خرگوش ہے؟ مجبوراً ریچھ کو اپنے تیار کردہ کاغذات پیش کر کے ثابت کرنا پڑا کہ وہ ایک خرگوش ہے۔ کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سچ یہ ہے کہ خرگوش ہی ریچھ ہے اور ریچھ ہی دراصل خرگوش ہے۔ اس لئے کسی بھی رد و بدل کے بغیر دونوں فریقین اپنی اپنی نوکریوں پر بحال اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔ ریچھ نے کسی قسم کے اعتراض کے بغیر فوراً ہی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم کر لیا اور واپسی کی راہ لی۔ ریچھ کے دوستوں نے کسی چوں و چراں کے بغیر اتنی بزدلی سے فیصلہ تسلیم کرنے کا سبب پوچھا تو ریچھ نے کہا: میں بھلا چیتوں پر مشتمل اس کمیٹی کے خلاف کیسے کوئی بات کر سکتا تھا اور میں کیونکر ان کا فیصلہ قبول نہ کرتا کیونکہ کمیٹی کے سارے ارکان چیتے در اصل گدھے تھے، جبکہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ چیتے ہیں باقاعدہ ڈگریاں اور کاغذات بھی تھے۔ (چیک ادب سے ایک کہانی) 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 عقلمند شوہر 🔷 بیوی کے لئے کوئی چیز لاتا تو کہتا جاؤ امی کو بھی دو امی کے لئے کچھ لاتا تو کہتا امی اُس کو بھی دینا۔ بیوی کو لگتا کہ امی نے اپنی خوشی سے دی ہے امی کو لگتا کہ بہو نے اپنی خوشی سے دی ہے۔ محسوس کرتا کہ بھائیوں کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو خود اپنے پیسوں سے لاتا بیوی کو کہتا جاؤ دے آؤ اور یہ محسوس نہ ہونے دینا کہ تمہارا شوہر لایا ہے بلکہ اُن کو ایسا لگے آپ لائی ہو۔ ماشاء اللّه کئی سال ہو گئے اب تو میری ماں اور میری بیوی کی آپس میں ایسی بنتی ہے جیسے ماں بیٹی ہوں کہ ایک دوسرے کے بغیر ایک دن بھی رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بیوی جب ایک دن کے لئے میکے جائے تو امی سے گلے مل کر جاتی ہے۔ بھائی اگر کچھ لائیں تو مجھے دینے سے پہلے بھابھی کو دیتے ہیں کہ وہ بھی تو ہمارے لئے چیزیں لاتی ہے۔ میرے بھائی اور میری بہن کی میری بیوی سے ایسی دوستی جُڑ گئی ہے کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں گھر میں کوئی مہمان ہوں، باقی لوگ آپس میں بہن بھائی ہیں۔ بیوی کپڑے دھوتی ہے تو امی کو کہتا امی ذرا ہاتھ لگوا دینا، امی اگر سلائی کر رہی ہوں تو بیوی کو کہتا ہوں امی کے ساتھ ذرا ہاتھ لگوا دینا تاکہ ان کا کام جلدی ہو جائے۔۔ بہن کھانا پکا رہی ہو تو بیوی کو کہتا ہوں ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہو کھانا بھی پک جائے گا اور میری بہن بور بھی نہ ہوگی۔ اگر بیوی کھانا پکا رہی ہو تو بہن کو کہتا ہوں جاؤ ذرا اُس کے ساتھ کچھ باتیں کرو وہ اکیلی ہو تو بہت جلد بور ہو جاتی ہے۔۔۔ اب ماشاء اللّه.. اللہ نظر بد سے بچائے دونوں کی ایسی دوستی ہو گئی ہے کہ شاید ہی ایسا کوئی کام ہو جو وہ اکیلی کرتی ہوں ورنہ سب کام مل کر کرتی ہیں۔۔ اگر مجھے بھوک لگی ہے اور بھائیوں کو بھی تو بیوی کو کہتا ہوں پہلے میرے بھائیوں کو کھانا دو مجھے بعد میں دینا۔ عید پر بھائیوں کے کپڑے میں اپنے پیسوں سے لاتا ہوں، بیوی کو کہتا ہوں کہ تم کہنا امی نے پیسے دیئے تھے اُس سے آپ کے لئے کپڑے لائی ہوں۔ بیوی جب مائیکے جاتی ہے تو میری امی اُس کی پیٹھ پیچھے اُس کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں۔ اکثر کہتی ہیں میں نے نجانے کون سے اچھے کام کئے تھے جو اتنی اچھی بہو ملی۔ بیوی میرے ساتھ اکیلی بیٹھی ہو تو اکثر کہا کرتی ہے نجانے کون سے اچھے کام کئے تھے جو اتنی اچھی ساس ملی ہے۔۔ میرا آپ لوگوں کو یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اگر بنیاد اچھی رکھی گئی ہو تو گھر کئی سال تک مضبوط رہتا ہے۔ بیوی کے گھر میں آتے ہی الگ سلوک ہو، برابر کا سلوک نہ ہو تو وہ گھر جلدی گِر جاتے ہیں جلد ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ کوئی بھی ساس یہ نہیں چاہتی کہ میری بہو مجھ سے لڑے اور کوئی بھی بہو یہ نہیں چاہتی کہ میری ساس مجھ سے لڑے مگر شوہر کی غلطیوں کی وجہ سے ساس بہو کی آپسی لڑائی ہوتی ہے۔ دوسرا شوہر کی بے وقوفی کی وجہ سے کسی ایک کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ قصور سب سے زیادہ شوہر کا ہی ہوتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ شادی کر لی تو بس سب ہی خواہشات پوری ہو گئیں۔ سب کچھ اب خود ہی چلے گا بیوی اور امی خود ہی آپسی دوستی بنائیں گی۔ کبھی نہیں۔ شادی کے بعد شوہر کی زمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ تم کسی کے گھر سے کسی کے جگر کا ٹُکڑا لائے ہو تمہیں کیا علم اُس کو ماں باپ نے کتنے لاڈ پیار سے پالا ہے۔ تمہیں کیا پتا عورت کتنی حساس اور نازک ہے، تمہیں بس اتنا پتا ہے کہ رات گزار لی ہے صبح کام پر جانا ہے بس، باقی گھر خود ہی چلتا رہے گا۔ نہیں میرے بھائی جس پودے کو پانی نہ دیا جائے وہ سوکھ جاتا ہے۔ جس گھر کو ٹائم نہ دیا جائے، ہر اچھے بُرے کا خیال نہ رکھا جائے وہ گھر بھی مرجھائے ہوئے پھولوں کی طرح ہو جاتا ہے۔۔ کوشش کریں ہر لمحہ خوشیاں بانٹیں..... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕