fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 286
مشترکین
+124 ساعت
-27 روز
-630 روز
آرشیو پست ها
🔷 پاکستانی معاشرہ 🔷 اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا‘ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے۔ پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ اس کا کہنا تھا ’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’ اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں‘ یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں‘ ان کے کپڑے دھوتی ہیں‘ استری کرتی ہیں‘ بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں‘ لنچ باکس تیار کر کے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں اور واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔ بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چنانچہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگا دیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو۔ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔ ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں۔ چنانچہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی۔ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا.؟‘ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

#احوال_امت_مسلمہ جب کفار سے پوچھا گیا: تم نے مسلمانوں سے خلافت، اتحاد اور جہاد کیسے چھین لیا؟" انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا: "ہم نے ان کے دلوں میں قوم، نسل، زبان اور وطن کے بت بٹھا دیے۔ ہم نے انہیں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے نکال کر مصری، شامی، ایرانی، پاکستانی، بنگالی، ترکی اور عرب بنا دیا۔ ہم نے انہیں لا الہ الا اللہ کے پرچم سے ہٹا کر رنگ برنگے جھنڈوں کے پیچھے لگا دیا۔ ہم نے ان کے بچوں کو اسلام کے غازی بنانے کے بجائے ڈاکٹر، انجینئر، اور سی ایس ایس افسر بننے کا خواب دکھایا۔ ہم نے ان کے مدرسوں کو "دہشت" کا نام دیا اور ان کے مجاہدوں کو "انتہاپسند" کہلایا۔ ہم نے ان کے جہاد کو جرم بنا دیا اور ان کی غیرت کو مردہ کر دیا۔ یوں وہ امتِ واحدہ سے بکھر کر قوموں میں تقسیم ہو گئے، اور خلافت، اتحاد اور جہاد... ان کی تاریخ کے اوراق میں دفن ہو گئے۔"** اٹھو مسلمانو! یہ وقت صرف رونے یا فخر کے قصے سنانے کا نہیں، یہ وقت امت کی شیرازہ بندی، خلافت کے احیاء اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے کو بیدار کرنے کا ہے۔ کب تک غلامی پر صبر کرو گے؟ کب تک کفار کے نظام کو اپنا مقدر سمجھو گے؟ واپس آؤ! تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہو، تمہارا پرچم صرف "لا الہ الا اللہ" ہے، اور تمہاری شناخت صرف "مسلمان" ہے۔ #احوال_امت_مسلمہ 🔷🔷🔷🔷🔷

خدا مردوں کی نسبت عورتوں پر زیادہ مہربان ہے۔
خدا مردوں کی نسبت عورتوں پر زیادہ مہربان ہے۔

اہل و عیال کے لیے محنت و مشقت کرنے والا مجاہد کی طرح ہے۔
اہل و عیال کے لیے محنت و مشقت کرنے والا مجاہد کی طرح ہے۔

اپنا اہم ترین نظریہ خواہشات کا حصول مت بناؤ۔
اپنا اہم ترین نظریہ خواہشات کا حصول مت بناؤ۔

غم کو دور کرنے والی چیز تقدیر پر بھروسہ کرنا ہے۔
غم کو دور کرنے والی چیز تقدیر پر بھروسہ کرنا ہے۔

تکلیف سے چشم پوشی کرو۔
تکلیف سے چشم پوشی کرو۔

دین کے معاملے میں ہمیشہ جھگڑے سے بچتے رہو۔
دین کے معاملے میں ہمیشہ جھگڑے سے بچتے رہو۔

*محبت میں افراط* *بچپن میں بچے کے ساتھ حد سے زیادہ محبت، خود غرضی، کم ہمتی، دوسروں پر انحصاری، بے ادبی اور حسد جیسے مسائل کو
*محبت میں افراط* *بچپن میں بچے کے ساتھ حد سے زیادہ محبت، خود غرضی، کم ہمتی، دوسروں پر انحصاری، بے ادبی اور حسد جیسے مسائل کو جنم دیتی ہے۔* *اور سب سے بڑھ کر، یہ رویہ بچے کی باطنی کمزوری اور اُس کی صلاحیتوں کے نکھر کر سامنے آنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔*

سلسلہ وار میسج ظاہرا مذہبی' لیکن اسرائیلی میسجز 😧😳😳😱 پہلی مثال: 6 ملین صلوات حضرت علی اصغر علیہ السلام کو ہدیہ کرنا ہے... آپ بهی 6 صلوات پڑهکر امام حسین علیہ السلام کے 6 عاشقوں کے بهیجیں- یہ میسج روکنا نہیں ... دوسری مثال: جیسے ہی یہ میسج دیکهو 8بار یا ابوالفضل کہو اور 8 لوگوں کو بهیجو- ابهی خوشخبری ملے گی وغیرہ ... تیسری مثال: ...ہم نے امام کے لئے صلوات کی منت مانی تهی ... آپ کو اتنی صلوات بهیجنی ہیں اگر نہیں پڑهنی تو مجهے بتادینا تاکہ تمہارے اوپر قرض نہ رہے ... (اسی طرح کی دوسری مثالیں) چوتهی مثال: پانچ سال کی ایک بچی کوما میں ہے جس کا نام... ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے ماں کا برا حال ہے.. اس کے والد نے دعا کی التماس کی ہے . ہم نے اس بچی کی شفا کے لئے چودہ ہزار صلوات پڑهنا شروع کی ہیں- آپ بهی اس نیک کام میں شریک ہوں اور چودہ صلوات پڑهکر چودہ لوگوں کو یہ میسج فارورڈ کرو- تمہیں قرآن کی قسم اگر شئر نہیں کرنا تو مجهے اطلاع ضرور دیدینا پانچویں مثال: خدا کی قسم مجهے ایک منٹ میں میری حاجت مل گئ! قرآن کی قسم ایک دعا دل میں سوچو. بسم اللہ الرحمن الرحیم قل هواللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفوا احد. یہ پڑهو اور آگے بهیجو' اگر تم نے یہ میسج نہیں بهیجا تو گناہ کیا' اور قرآن سے منہ پهیرلیا تنزیل العزیز الرحیم لتنذر قوما ماانذر آباءوهم فهم غافلون یہ میرے علاوہ 9 لوگوں کو بهیجو پهر دیکهو ایک گهنٹے کے اندر اندر خدا تمہارے لئے کیا کرتا ہے 🌸 نظر مراجع عظام آیت اللہ صافی گلپائیگانی: ایسے میسجز لازمی طور سے شرعی معتبر حوالہ رکهتے ہوں' اور دوسری صورت میں ان کا دوسرے لوگوں کو بهیجنا " جائز نہیں ہے اور ایسے پیغامات کو پهیلنے سے روکنا چاہئیے"- 🌸 مقام معظم رهبری: ایسے پیغامات کی کوئی حقیقت و اعتبار نہیں ہے اور حرام ہے- 🌸 آیت اللہ مکارم شیرازی: ایسے امور کا کوئی اعتبار نہیں' اور لوگوں کو چاہئیے کہ ایسے کاموں کو انجام نہ دیں... 🌸 آیت اللہ موسوی اردبیلی: ایسے پیغامات کا اعتبار نہیں ہے- 🌸 آیت اللہ سید عزالدین حسینی زنجانی: ...اس طرح کے بعض پیغامات کو نشر کرنا دین و شریعت کی توہین ہے لہذا جائز نہیں ہے- اور موصول کرنے والے پر' شئر نہ کرنے کی صورت میں کوئی گناہ نہیں ہے- توجہ! جو لوگ کہتے ہیں کہ چند افراد کو بهیجو تو حاجت مل جائیگی- ان کو معلوم ہونا چاہئیے اور وہ کان لگاکر غور سے سنیں📢 ہنری لیونر(اسرائیل کا مذہبی پیشوا) ہم فارسی میسجز تیار کرتے ہیں اور پیغمبر و آئمہ کے نام ان میسجز میں لکهتے ہیں کہ دس لوگوں کو بهیجو اور پهر معجزہ دیکهو! وقت گذرنے کے ساته ساته مسلمان دیکهیں گے کہ کوئی معجزہ وجزہ نہیں ہے اور پهر اس کو خرافات سمجهنے لگیں گے اور اس طرح رفتہ رفتہ ان کا ایمان ختم ہوجائیگا- (لوگو ایسے پیغامات فارورڈ کرنے سے پرہیز کرو' تاکہ دشمن' اہل بیت علیهم السلام کے نام پر تمہارے مضبوط عقیدہ اور ایمان کو سست اور ختم کرنے کے لیے' اس خرافات سے باز رہے) حوالہ:سائٹ تبیان 📩 برائےمہربانی ہر گروپ میں شئر کریں تاکہ یہ فتنہ جڑ سے ختم ہوجائے- 🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸

🔷 ہنر، ہنر ہے 🔷 آپ نے شاید وہ پرانا قصہ سنا ہو گا جس میں ایک انجینئر نے ایک مشین ٹھیک کرنے کے 10,000 ڈالر لیے تھے — 1 ڈالر پیچ گھمانے کے اور 9,999 ڈالر یہ جاننے کے لیے کہ کون سا پیچ گھمانا ہے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں تھی۔ وہ انجینئر حقیقت میں موجود تھا۔ اس کا نام چارلس پروٹیئس اسٹائن میٹس (1865–1923) تھا، اور وہ برقی انجینئرنگ کا ایک نابغہ روزگار تھا۔ ایک دن، ہینری فورڈ کو اپنے ریور روج پلانٹ میں ایک سنگین مسئلہ درپیش ہوا۔ ایک بہت بڑا جنریٹر خراب ہو گیا تھا، اور فورڈ کے بہترین انجینئرز بھی مسئلہ نہ سمجھ سکے۔ تب فورڈ نے اسٹائن میٹس کو بلایا۔ جب وہ پہنچے تو انہوں نے صرف تین چیزوں کا مطالبہ کیا: ایک نوٹ بک، ایک قلم، اور ایک پلنگ۔ پھر وہ دو دن اور دو راتیں جنریٹر کی آواز سننے اور پراسرار حسابات لکھنے میں مصروف رہے۔ آخرکار، انہوں نے سیڑھی، فیتہ اور چاک مانگا۔ وہ آہستہ آہستہ جنریٹر کے اوپر چڑھے، ایک مقام کی پیمائش کی، اور وہاں چاک سے ایک "X" کا نشان لگایا۔ پھر انہوں نے انجینئرز سے کہا: "یہ پینل ہٹا دو، اس جگہ سے کوائل کو کھولو، اور 16 چکر تار کے نکال دو۔" انہوں نے بالکل ویسا ہی کیا — اور جنریٹر پھر سے بلکل ٹھیک چلنے لگا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ چند دن بعد، فورڈ کو اسٹائن میٹس کی طرف سے ایک بل موصول ہوا 10,000 ڈالر کا اتنی بڑی رقم دیکھ کر فورڈ نے تفصیل سے بل کا حساب مانگا۔ اسٹائن میٹس نے جواب دیا: • چاک سے نشان لگانا: 1 ڈالر • یہ جاننا کہ کہاں لگانا ہے: 9,999 ڈالر، فورڈ نے بل ادا کر دیا — نہ کوئی شکایت کی، نہ کوئی سوال۔ یہ مشہور کہانی 1965 کے Life میگزین میں جیک بی. اسکاٹ کے ایک خط میں شائع ہوئی تھی، جن کے والد فورڈ کے لیے کام کرتے تھے۔ اسٹائن میٹس کا قد صرف چار فٹ تھا، کمر میں خم اور عجیب چال تھی، اور ان کے جسم کا تناسب کچھ ایسا تھا کہ سر، ہاتھ اور پاؤں بہت بڑے لگتے تھے۔ مگر ذہانت میں وہ ایک دیو تھے، اور ان کا شمار آئن سٹائن، نکولا ٹیسلا اور تھامس ایڈیسن جیسے عظیم دماغوں کے دوستوں میں ہوتا تھا۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

مشہور روایت ہے کہ وائیٹ ہاوس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو سے جب امریکی صدر نے کہا کہ "کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت آپ دنیا کے عظی
مشہور روایت ہے کہ وائیٹ ہاوس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو سے جب امریکی صدر نے کہا کہ "کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت آپ دنیا کے عظیم ترین عمارت میں موجود ہیں ؟" تو بھٹو شہید نے ایسا جواب دیا جو سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہ ، "ہاں ! لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ دنیا کی عظیم ترین عمارت اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے"۔

دعا نہ کر سکنے والا سب سے زیادہ بے بس ہے۔
دعا نہ کر سکنے والا سب سے زیادہ بے بس ہے۔

انسان کی گفتگو اور کردار اس کی حیثیت مقرر کرتے ہیں۔
انسان کی گفتگو اور کردار اس کی حیثیت مقرر کرتے ہیں۔

دینی بھائی کی ضرورت کو پورا کرنا غیر واجب ایک ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔
دینی بھائی کی ضرورت کو پورا کرنا غیر واجب ایک ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔

خیانت، چوری؛ شراب خوری اور زنا کا نقصان
خیانت، چوری؛ شراب خوری اور زنا کا نقصان

برے لوگوں کو اچھا کہنا گناہ ہے۔
برے لوگوں کو اچھا کہنا گناہ ہے۔

🔷 مخلوق خدا کیلئے آسانیاں پیدا کریں 🔷 یہ واقعہ مکتب تشیع کے عظیم فقیہ جناب علامہ حلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ،، منھاج الیقین فی فضائل امیر المؤمنین ع ،، میں درج فرمایا ہے اور جناب سید نعمت اللہ جزائری رح نے جناب علامہ رح سے نقل کرتے ہوئے اپنی مشھور کتاب ،، زھر الربیع ،، میں تحریر فرمایا ہے واقعہ کچھ یوں ہے ،، عراق کے رہنے والے ایک عبداللہ ابن مبارک نامی شخص روایت کرتے ہیں کہ وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر سال حج پہ جائیں ایک سال حج کی تیاری میں تھے پانچ سو دینار گھر سے لیکر نکلے تاکہ جانوروں کی منڈی سے ایک اونٹ خرید جائے راستے میں دیکھتے ہیں کہ چادر میں ملبوس مستور مزبلہ یعنی کوڑے کے ڈھیر پہ موجود ہے اور ایک مردہ مرغی اٹھا کر اس کی کھال اتارنے کی کوشش کر رہی ہے جناب عبداللہ ابنِ مبارک کہتے ہیں کہ وہ یہ منظر دیکھ کر پریشان ہوئے کہ یہ عورت ایسا کیوں کر رہی ہے وہ اس مستور کے قریب گئے اور اسے کہا ،، اے کنیز خدا ! آپ یہ کیا کر رہی ہیں یہ مرغی مردہ ہے اس کا کھانا حرام ہے ؟ وہ عورت کہنے لگی ،، آپ جائیں اپنا کام کریں مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں ٹھیک ہے یہ مرغی مردہ ہے مگر جن حالات سے میں گزر رہی ہوں میرے لئے اس کا کھانا جائز ہے ،، عبداللہ ابن مبارک کہتے ہیں میں پریشان ہو گیا اور اس مستور سے کہا ،، آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں مجھے حقیقت بتائیں میں کسی کے سامنے بیان نہیں کروں گا ، اس مستور نے کہا ،، اے عبد خدا۔۔ انی علویۃ۔۔۔ میں اولاد علی ع میں سے ہوں میرا شوہر فوت ہو گیا ہے میری تین بیٹیاں ہیں وہ تین دن سے بھوکی ہیں بھوک کی وجہ سے ان کے چہروں کے رنگ تبدیل ہو گئے ہیں میرے پاس اور کچھ نہیں ہے کھانے کو اس لئے میں اس حالت میں ہوں کہ یہ مردہ مرغی کھانے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے  ،، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں میں اس بی بی کی بات سن کر تڑپ گیا میں نے اپنے آپ سے کہا ،، عبد اللہ کیا اس سے بڑا حج بھی کوئی ہو سکتا ہے ؟ پھر میں نے اس بی بی سے کہا بی بی چادر کا دامن پھیلائیے اور میں نے وہ پانچ سو دینار اس بی بی کے حوالے کر دیئے وہ سید زادی مجھے دعائیں دیتی ہوئے اپنے گھر روانہ ہو گئی اور میں اپنے گھر آ گیا۔۔۔ اور پھر میں نے حج پہ جانے کا پروگرام ملتوی کر دیا لوگ حج پہ روانہ ہو گئے مگر میں ان کے ساتھ نہیں گیا قصہ مختصر حج کا موسم آ گیا لوگ حج کر کے واپس آنا شروع ہو گئے جب مجھے پتہ چلا کہ میرے شہر کے حاجی فلاں دن واپس آ رہے ہیں تو میں شہر سے باہر ان کے استقبال کیلئے چلا گیا جب میرے شہر کے حاجیوں نے مجھے دیکھا تو کہنے لگے ،، اے عبداللہ آپ ہم سے پہلے کیسے پہنچ گئے کوئی کہنے لگا میں نے آپ کو طواف کرتے ہوئے دیکھا ہے کوئی کہتا میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا ہے وغیرہ۔۔۔۔۔ جناب عبداللہ ابنِ مبارک کہتے ہیں میں خاموش رہا اور سوچنے لگا کہ ماجرا کیا ہے ؟ جب رات ہوئی بستر پہ جاکر سو گیا حالت خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی آپ ص نے فرمایا ،، اے عبد اللہ! تو نے میری بیٹی کی پریشانی کو دور کیا اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے تیری شکل میں  ایک فرشتہ بھیجا جس نے تیری طرف سے حج کیا اور ثواب تیرے نامہ اعمال میں درج ہو گیا اور ہاں وہ فقط اس سال نہیں گیا ۔۔ اے عبداللہ اب چاہے تو حج پہ جائے یا نہ جائے ہر سال یہ فرشتہ تیری طرف سے حج کرے گا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ،، اللہ اکبر 🔘 قارئینِ محترم کتنے خوش نصیب تھے جناب عبد اللہ ابنِ مبارک جن کی نیابت میں قیامت تک حج ہوتی رہے گی۔۔۔ قارئین کرام! میں کوئی مفتی یا مجتھد نہیں ہوں کہ فتویٰ جاری کروں مگر وہ لوگ کہ جو واجب حج اور زیارت کے بعد بار بار حج اور زیارات کو تشریف لے جاتے ہیں جبکہ ان کے علاقے میں یتیم بھوک سے تڑپ رہے ہوں  ، غریبوں کے پاس علاج کے پیسے نہ ہوں اور ان کے پیارے بستر پہ تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہوں اس واقعہ میں ایسے حاجیوں اور زائرین کیلئے لمحہ فکریہ ضرور ہے ،، یقینا مخلوق خدا کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا بہت بڑی عبادت ہے۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/1156 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

غربت دور کرنے کیلئے وظیفہ
غربت دور کرنے کیلئے وظیفہ

توکل
توکل