ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 286
مشترکین
-124 ساعت
-37 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
1 286
*ثناء یوسف کا قتل ایک سوال ایک صدمہ، ایک چیخ اسلام آباد کی روشن گلیوں میں آج پھر ایک اندھیرا چھا گیا*
*تحریر علیم رؤف آرائیں*
ٹک ٹاکر اور میڈیکل کی طالبہ ثناء یوسف، جو ابھی زندگی کے پہلے سال میں تھی، جو خواب دیکھ رہی تھی دوسروں کی خدمت کے، جو ایک عام لڑکی کی طرح جینا چاہتی تھی، آج دو گولیوں کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی پولیس ذرائع کے مطابق، یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب گھر میں مہمان آئے، اور انہی میں سے کزن نے فائرنگ کی۔ ثناء کو زخمی حالت میں پہلے کے آر ایل اسپتال اور پھر شفا اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لا سکی اور جان کی بازی ہار گئی۔
ابھی تک نہ ایف آئی آر درج ہوئی ہے، نہ ملزم گرفتار ہوا ہے، اور یہ خاموشی پورے نظام پر سوالیہ نشان ہےکیا واقعی یہ صرف ایک قتل ہےنہیں یہ ایک خواب کا قتل ہے یہ ایک بیٹی، بہن، طالبہ، اور مستقبل کی ڈاکٹر کا قتل ہے،
اور سب سے بڑھ کر، یہ ہمارے ضمیر، ہمارے نظام، اور ہمارے معاشرتی رویوں کا قتل ہے۔
ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے جہاں چند لوگوں کو شہرت دی، وہیں بے راہ روی، اخلاقی زوال، اور معاشرتی بے سکونی کو بھی جنم دیا۔ روز کوئی نہ کوئی "ٹک ٹاکر" قتل ہو رہا ہے، کہیں غیرت کے نام پر، کہیں حسد اور شہرت کی وجہ سے۔
🔘 ہم حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کی جائے، تاکہ نوجوان نسل کو مزید گمراہی سے بچایا جا سکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سخت نگرانی اور ضابطہ اخلاق لاگو کیا جائے ثناء یوسف کے قاتل کو فوری گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف انسدادِ دہشتگردی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
🔘 سوچ کی ضرورت ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ شہرت، فالوورز، یا لائکس زندگی کا مقصد نہیں ہیں عزت، کردار تعلیم، اور تحفظ یہی وہ اقدار ہیں جن سے ایک مہذب معاشرہ بنتا ہے۔ والدین اساتذہ، علماء، اور سوسائٹی کے تمام رہنما کردار ادا کریں کہ ہماری بچیاں سوشل میڈیا کی زینت نہ بنیں، بلکہ علم، کردار اور وقار کا نمونہ بنیں۔ نوجوان نسل کو ظاہری چمک دمک کے بجائے سچائی، عقل اور شعور کا راستہ دکھایا جائے ہم ثناء یوسف کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/6451
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
*موت سے کوئی نہیں بچ سکا۔۔۔*
*872,000 سے زائد فالوورز۔۔۔ لاکھوں کی محبت، شہرت اور پہچان۔۔۔*
*لیکن جب موت آتی ہے تو نہ حسن کام آتا ہے، نہ شہرت، نہ ہی دنیا کی واہ واہ۔*
*سوشل میڈیا پر معروف رہنے والی ثناء یوسف*
*اس کا اچانک دردناک اور المناک قتل دل کو ہلا دینے والا ہے۔*
*ہم سب کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ زندگی میں سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے، قبر میں صرف اعمال صالحہ ساتھ جاتے ہیں۔*
1 286
🔷 آزاد خیالی کا انجام 🔷
آزاد خیالی کا انجام یا غیرت کا جنون؟
لبرل ازم کا فریب، دوغلا پن اور سچائی کا گلا گھونٹتا بیانیہ!
ایک چترالی بیٹی، جسے کسی قبیلے یا غیرت کے علمبردار نے نہیں، بلکہ فیصل آباد کے ایک پنجابی نوجوان نے بے دردی سے قتل کیا۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ جب گھر میں صرف پھپھو موجود تھیں، موصوف "مہمان" بن کر تشریف لائے، اور پھپھو کے مطابق دونوں کے تعلقات "مہذب معاشروں" کے معیار پر بھی ناپسندیدہ تھے۔
تو اب سوال یہ ہے: کیا یہ واقعی غیرت کا قتل تھا؟ یا وہی پرانا "آزاد محبت" کا زہریلا پھل، جو بالآخر خون میں ڈوبا ہوا ملا؟
لیکن ادھر واقعہ ہوا، اُدھر خود ساختہ روشن خیالوں کا لشکر حسبِ عادت چیخنے لگا:
> "یہ غیرت کے نام پر قتل ہے!"
"اسلامی معاشرہ خواتین کے لیے جہنم ہے!"
"مولوی ذمہ دار ہے!"
مگر سچ ایک بار پھر ان کے منہ پر زوردار طمانچہ بن کر اترا: 🔺 نہ قاتل کوئی داڑھی والا تھا،
🔺 نہ مقتولہ کسی مدرسہ کی طالبہ،
🔺 اور نہ ہی اس تعلق کو مذہب نے پروان چڑھایا۔
اصل میں یہ اُس "آزادی" کا انجام ہے، جو بغیر حدود کے دی گئی۔
یہ وہی "محبت" ہے جسے سوشل میڈیا پر لائکس اور فالوورز کے نشے میں چڑھایا جاتا ہے۔
یہ وہی ذہنیت ہے جسے "میرا جسم، میری مرضی" جیسے کھوکھلے نعروں نے جنم دیا ہے۔
⚠️ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب کوئی عشقِ ممنوعہ، خون میں نہا کر ختم ہوتا ہے، تو کوئی لبرل یہ نہیں پوچھتا:
> محبت کی یہ شکل کیوں پنپی؟
نوجوان نسل کے رشتے اتنے غیر محفوظ کیوں ہیں؟
لڑکیوں کو بے دھڑک آزادی دے کر ہم نے کیا کھویا؟
لیکن ہدف ایک ہی ہوتا ہے: 🛑 اسلام
🛑 علما
🛑 غیرت
کبھی عاشق کے کردار پر سوال نہیں،
کبھی مقتولہ کے طرزِ زندگی پر غور نہیں،
بس ہر بار دین کو گالیاں،
اور پھر خود کو "ترقی پسند" کہلوانے کی خواہش۔
حقیقت یہ ہے: ❌ یہ مذہب کی ناکامی نہیں، لبرل اخلاقیات کی موت ہے۔
❌ یہ مولوی کا فتویٰ نہیں، فیس بکی عشق کا خونی انجام ہے۔
❌ یہ غیرت کا جنون نہیں، بے لگام آزادی کی قیمت ہے۔
ہر ماں باپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے:
اپنی بیٹیوں کو یہ سکھائیں کہ
> جب آزادی حدود پھلانگ جائے، تو قیمت صرف عزت نہیں، زندگی بھی ہو سکتی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/6449
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اِن دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل مقبول نہیں یہاں تک کہ قربانی، جہاد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ٹھہری، تاوقتیکہ مسلمان اپنی جان اور مال و اسباب بھی اللہ کی راہ میں نہ لُٹا آئے، کیونکہ قربانی کی اصل روح بھی مسلمان کی ٹریننگ ہے تاکہ وہ بوقتِ ضرورت اپنی جان تک قربان کرنے کےلیے تیار رہے۔
اسلامی شعائر نہ صرف عبادت بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہیں، جن میں قربانی جیسے اعمال انسان کو قربِ الٰہی کے ساتھ ساتھ معاشرتی، معاشی اور روحانی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان سازشوں کو پہچانیں اور اپنی آنے والی نسل کو دینی شعائر کی اصل روح سے آگاہ کریں، تاکہ وہ کسی بھی بیرونی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔
✍ محمد حسان
Express.pk
June 04, 2025
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6447
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 قربانی معاشی نظام کا حصہ 🔷
عیدالاضحیٰ، یہودی معاشی نظام پر کاری ضرب ہے اور عیدالاضحیٰ نہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ ایک مضبوط معاشی نظام کا حصہ بھی ہے۔
جیسے ہی عیدالاضحیٰ قریب آتی ہے، سوشل میڈیا پر ایسی مہمات کا آغاز ہوجاتا ہے جو مسلمانوں کو قربانی جیسے اہم فریضے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جانوروں کے حقوق، غربت، یا ماحولیات جیسے بہانے بنا کر قربانی کے عمل کو غیر ضروری اور ظالمانہ ثابت کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی لوگ دیگر مذاہب کی فرسودہ، غیر منطقی اور فضول خرچی پر مبنی رسومات پر خاموش نظر آتے ہیں۔
یہ مہم دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جو زیادہ تر یہودی لابی کی طرف سے پھیلائی جاتی ہے جبکہ کندھا، لبرل مافیا اور دین سے ناواقف افراد کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو ان کی دینی جڑوں سے کاٹا جاسکے۔
🔹 یہودی اعتراضات کا پسِ منظر
یہودیوں کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی روایت سے مسئلہ اس لیے ہے کیونکہ ان کی کتابوں کے مطابق وہ بیٹا حضرت اسحاق علیہ السلام تھے جنہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کےلیے پیش کیا۔ (Torah: Genesis 22)
جبکہ اسلامی عقیدے کے مطابق یہ بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، جنہیں خواب کے بعد اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا ارادہ کیا گیا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیجا۔ قرآن کریم کی ترتیب اور سیاق و سباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قربانی کا واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا، اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش بعد میں ہوئی۔
اس نظریاتی فرق اور بنی اسماعیل سے نفرت کی جڑیں یہودیوں کے اس عقیدے میں ہیں کہ نبوت کا سلسلہ صرف بنی اسرائیل میں رہنا چاہیے تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آخری نبی، خاتم النبیین، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنی اسماعیل میں مبعوث فرما کر ان کی سوچ کو چیلنج کر دیا۔
یہی وہ اصل وجہ ہے کہ عیدالاضحیٰ پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کا چرچا، یہودیوں کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہودیوں کی منافقت اس بات سے بھی عیاں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گو کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے لیکن چونکہ وہ سودی نظام اور بینکنگ کی یہودی طرز کے خلاف تھے اسی لیے یہودیوں نے انہیں بھی جھٹلا دیا اور ان کے قتل کے منصوبے بھی بنائے۔
🔹یہودی معاشی نظام پر ضرب
عیدالاضحیٰ نہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ ایک مضبوط معاشی نظام کا حصہ بھی ہے۔ ہر سال لاکھوں اوورسیز مسلمان اور پاکستانی قربانی کے لیے اپنے اپنے وطن رقم بھیجتے ہیں کیونکہ وہاں قربانی مہنگی ہوتی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہوتا ہے جو وہ دنیا کے ان یہودی مالیاتی اداروں اور بینکوں سے نکال کر اپنے اپنے ملک کی معیشت میں ڈالتے ہیں، جس سے یہودی لابی کو براہ راست مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس رقم سے ملک میں اربوں روپے کی معیشت گردش کرتی ہے، لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے، قصاب، ٹرانسپورٹر، چارہ فروش، چمڑے کی صنعت، سب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی معاشی فائدہ بعض طاقتوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ترقی پذیر اسلامی ممالک خود کفیل بنیں۔
🔹 اس کے علاوہ عیدالاضحیٰ پوری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور نظم و ضبط کی علامت ہے۔ ہر قوم، ہر زبان، ہر علاقے کے مسلمان ایک ہی جذبے اور وقت میں ایک جیسے عمل انجام دیتے ہیں۔ یہ عالمی اسلامی یکجہتی مغرب اور یہودیوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ انہیں ایک منظم اور بیدار امت سے ہمیشہ خوف رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے نفسیاتی حملے کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے مذہب سے دور اور منتشر رکھا جاسکے۔
🔹 ایّامِ نَحر (عیدالاضحیٰ کے تین دنوں کی فضیلت)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ان دنوں (یعنی عشرۂ ذوالحجہ) میں کیا گیا نیک عمل اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جہاد بھی ان دنوں کے عمل جیسا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، جہاد بھی نہیں، سوائے اُس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ آیا (یعنی سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کردیا)‘‘ (بخاری کتاب العیدین، حدیث نمبر: 969)
اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو‘‘۔ (جامع الترمذي، حدیث نمبر: 1493)
1 286
■ ماہ ذوالحجہ کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/6395
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
https://t.me/islamwitheman/3676
🌷 نور کی نور سے شادی
https://t.me/islamwitheman/3677
🌹خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/3678
🌹 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
https://t.me/islamwitheman/3679
🌸 حضرت ابوذر غفاریؓ
https://t.me/islamwitheman/3683
🌹 حضرت ابوذرؓ کا اسلام قبول کرنا
https://t.me/islamwitheman/3684
🌺 حضرت ابوذرؓ کے فضائل
https://t.me/islamwitheman/3685
🌼 حضرت ابوذرؓ کی جلاوطنی
https://t.me/islamwitheman/3686
🍁 حضرت ابوذرؓ کی وفات
https://t.me/islamwitheman/3687
🌹 رسول اکرمؐ سے عشقِ ابوذرؓ
https://t.me/islamwitheman/3688
🌹 شہادت امام محمد باقر
https://t.me/islamwitheman/3690
🔷️ امام حسین کی مکہ سے روانگی
https://t.me/islamwitheman/3693
🌺 یوم عرفہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/3698
🌺 یوم عرفہ کے اعمال
https://t.me/islamwitheman/3699
🔷️ شہادت حضرت مسلم و طفلان
https://t.me/islamwitheman/3701
🌹 سفیر امام حسین
https://t.me/islamwitheman/3702
🔷️ ذوالجناح اور گائے
https://t.me/islamwitheman/3704
🔷️ مولوی جی
https://t.me/islamwitheman/3705
🔷️ قربانی کا گوشت
https://t.me/islamwitheman/3706
🔷️ قربانی کے احکام
https://t.me/islamwitheman/3716
🔷️ حلال گوشت جانور کے حرام اعضاء
https://t.me/islamwitheman/3717
🔷️ قربانی کا صحیح وقت
https://t.me/islamwitheman/3718
🌹 عید قربان کے 5 افضل عمل
https://t.me/islamwitheman/3721
🔷️ شہادت طفلان حضرت مسلم
https://t.me/islamwitheman/3723
🌹 ولادت مبارک امام علی النقی
https://t.me/islamwitheman/3726
🌹 عید غدیر مبارک
https://t.me/islamwitheman/3744
🌹 مختصر واقعۂ غدیر
https://t.me/islamwitheman/3745
🌹 عید غدیر کیدن اطعام وانفاق کا ثواب
https://t.me/islamwitheman/3746
🌹 غدیر خم میں پیغمبرؐ کا خطبہ
https://t.me/islamwitheman/3747
🌹 اعمال عید غدیر بمعہ آثار و ثواب
https://t.me/islamwitheman/3748
🔷 روزِ عید غدیر اس زیارت کو پڑھیں
https://t.me/islamwitheman/3749
🌹 جشن عید غدیر
https://t.me/islamwitheman/3750
🌹 تکمیل دین
https://t.me/islamwitheman/3751
🌹عید غدیر کے اسماء و اوصاف
t.me/islamwitheman/3756
🌺احتجاج حضرت زهراءؑ، حدیث غدیر
t.me/islamwitheman/3757
🌺عید غدیر، عیدِ اکبر
t.me/islamwitheman/3758
🌹سیدہ زھراءؑ کی رخصتی
t.me/islamwitheman/3760
💝حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
t.me/islamwitheman/3762
🌴شہادت حضرت میثم تمارؓ اسدی
t.me/islamwitheman/3765
t.me/islamwitheman/3766
🌹مولا علیؑ اور میثم تمارؓ
t.me/islamwitheman/3767
🌷مباہلہ نبوت و امامت کی حقانیت
t.me/islamwitheman/3773
🔷آیت مباہلہ
t.me/islamwitheman/3775
🔷اعمال عید مباہلہ
t.me/islamwitheman/3776
🔷آیت ولایت
t.me/islamwitheman/3780
🌹مباہلہ کا مختصر واقعہ
t.me/islamwitheman/3781
🔷آیت مباھلہ، امام رضاؑ کا استدلال
t.me/islamwitheman/3782
🌹ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ
t.me/islamwitheman/3784
🌷26 ذوالحجه روزِ ایثارِ اهلبیتؑ
t.me/islamwitheman/3785
🔷️واقعہ حرہ
t.me/islamwitheman/3799
🔷ذوالحجہ کی آخری تاریخ کی نماز
t.me/islamwitheman/3801
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
"خدا کا واسطہ ھے اگر ایک سوٹ مجھے دے ھی دیا ھے تو اب مجھے جینے دو"
یہی حال اولاد کا ھو جاتا ھے کہ خدا کا واسطہ ھے اگر پڑھا ھی رھے ھو تو یہ رات دن کا راگ بھیرویں مت سنایا کریں ، سن سن کر ڈیپریشن ھو گیا ھے ،،
والدین بچے میں نفرت بہت پہلے سے بھر چکے ھوتے ھیں ،، جب اس کی شادی ھوتی ھے اور وہ کمانے لگتا ھے تو والدین سے اس کا رویہ سرد مہری کا ھوتا ھے ،جس سے سمجھا یوں جاتا ھے گویا کہ آنے والی نے کان بھرے ھیں ، ورنہ ھمارا چاند تو ایسا نہیں تھا ،، الغرض والدین سب کچھ داؤ پر لگا کر ، اپنی جوانی کی قربانی دے کر صرف اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے بازی ھار جاتے ھیں ،، پھر جو بیٹے تابعدار ھوتے ھیں والدین خواھشات کا ایسا بار ان پر ڈالتے ھیں کہ وہ اپنے بچوں کے حقوق پورے کرنے سے عاجز آ جاتا ھے ،، یوں گھر کے اندر ایک جنگ شروع ھو جاتی ھے جب بیوی اپنے بچوں کا حق بھی پیچھے جاتے دیکھتی ھے ،، والدین ابھی بھی یہی گردان کر رھے ھوتے ھیں کہ ھم نے اتنا لگایا ھے اور اتنا کھپایا ھے ،لہذا سب کچھ ھمارا ھے ،، اور حدیث کوٹ کی جاتی ھے کہ تو اور تیرا مال تیرے والد کے ھو ،، جبکہ شریعت میں اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ والد کا ھے اور چھٹا حصہ ماں کا ھے بیوی کو اٹھواں حصہ ملتا ھے اور باقی اولاد کا ھے ،مگر اس حدیث کو بیان کر کے اولاد کا حق بھی مار لیا جاتا ھے،،
والد صاحب بیٹیوں کی شادی کے لئے 10 لاکھ اور اٹھارہ لاکھ مانگتے ھیں ،، پلاٹ اور مکان کی قسطیں الگ ھیں ،، گویا پوری کوشش کی جاتی ھے کہ کمانے والے بیٹے کو ھینڈ ٹو ماؤتھ رکھا جائے اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کا کچھ بھی نہ بنا سکے ،، بیٹا اپنے بچے پاکستان بھیج کر والدین کے تقاضے پورے کرے تو وھاں اس کے بچے بیمار ھو جائیں تو کوئی اسپتال لے جانے کا روادار نہیں ھوتا ،، بیٹا پیارا ھے اور اس کی بیوی اور اولاد سے دشمنی ھے ،، بیٹا ذھنی مریض بن جاتا ھے والدین اس کا پاکستان ھیں اور اولاد اس کی ھندوستان بنا دی جاتی ھے جن کی خدمت کر کے وہ والدین کا غدار قرار پاتا ھے ،،
پاکستان جاتا ھے تو گھریلو سیاست سے ماحول کو آلودہ کر دیا جاتا ھے ،عین اس وقت جب کھانا لگ چکا ھے ، بچے بیٹھے ھوئے ھیں کہ بہن یا بھانجی کا فون آ جائے گا کہ کھانا ھمارے ساتھ کھانا ھے ، اور وہ بھی سب کچھ لگا لگایا بچوں کے سامنے پڑا رہ جاتا ھے اور وہ بھانجیوں کے ساتھ کھانے چلا جاتا ھے ،، بیوی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ھے اور بہن بھائی کو گھر بلا کر بغلیں بجا رھی ھوتی ھے اور اس ڈھگے کو اس سیاست کی کوئی سمجھ نہیں لگتی ،، اس اولاد میں بھی پھوپھو اور چاچو اور دادا دادی کے خلاف نفرت بھرتی چلی جاتی ھے جو عموماً یہ سمجھا جاتا ھے کہ ان کی ماں بھرتی ھے جبکہ اصل میں باپ اور ددھیال کا رویہ ان میں زھر بھرتا ھے ،،
اب جب باری آتی ھے رشتے ناتوں کی تو پھر ایک دوسرے کے یہاں رشتے کرنے کا امکان ختم ھو چکا ھوتا ھے ،، اور دونوں فریق رشتے باھر ڈھونڈتے پھرتے ھیں ،، دادا دادی اپنی ھی اولاد کو ایک دوسرے کا اس قدر دشمن بنا دیتے ھیں اپنی سیاست کی وجہ سے کہ مزید رشتے داری ممکن ھی نہیں رھتی ، ھر فریق دوسرے سے بدکتا ھے کہ یہ میری بیٹی سے بدلے لے گا ،، اور ایک فریق کہتا ھے کہ انہوں نے پہلے میرا شوھر ورغلائے رکھا تھا اب میں بیٹا ان کو کیسے سونپ دوں ،،
الغرض پاکستان میں برادری سسٹم صرف شناختی کارڈ مین باقی ھے ،، عملی طور پر اپنا وجود کھو چکا ھے ،، کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہی ھے۔۔۔۔۔۔۔،،
اس تحریر میں اگر کچھ کمی بیشی ہے اپنی رائے ضرور دیں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6444
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 پاکستان میں فیملی سسٹم کا زوال 🔷
خوشحال زمانے میں ہر فیملی کے 8 یا 10 بچے تو ضرور ہوتے تھے،،
بچوں میں سے کسی نے بھی اسکول کا منہ نہ دیکھا ،، اردو پڑھنا بھی سپارہ پڑھ کر سیکھا ،جس نے بھی سیکھا ،،
بچے سر اٹھاتے تو فصلوں اور کھیتوں میں دھکیل دئے جاتے ،، جو گائے دوسرے گاؤں سے جفتی کرا لاتا وہ پرائمری پاس کر لیتا ،جو ہل کی ہتھی پکڑ لیتا وہ میٹرک پاس کر لیتا ،جو کسی مل میں ملازم ھو جاتا وہ ایم اے کر لیتا ،، یوں والدین کا خرچہ کچھ نہیں تھا منافع ھی منافع تھا ،، لہذا والدین کبھی فرسٹریشن کا شکار ھو کر بچوں کی ماں بہن ایک نہیں کرتے تھے ،، راوی چین ھی چین لکھتا تھا ،بچے کی مونچھیں بھیگتی یا مسیں پھوٹتیں تو اسی حویلی میں سے ایک کڑی پکڑ کر اس کے ساتھ بیاہ دی جاتی اور چارپائی اور پانی کی بالٹی چھت پر چڑھا دی جاتی ،، شادیاں عموماً 16 سال کا لڑکا اور 14 سال کی لڑکی کے حساب سے ھوتی تھیں،، سارے دیہات کا تقریباً یہی رواج تھا ،، والدین میں سکھی تھے ،بچے ایک منہ اور دو ھاتھ لے کر آتے تھے ،، بچے دس بھی ھوں تو مونگ پھلی بھی چن کر لاتے تو بھی اپنی اپنی اس دن کی روٹی خود کما کر شام کو گھر آ جاتے تھے ،،
نہ زیور بکتا تھا ، نہ ایجنٹوں کا دھوکا تھا ، نہ نادرا کے دھکے تھے ، نہ والدین کے کوسنے تھے اور نہ اولاد کا ڈیپریشن تھا سالوں میں بھی کوئی معاشی خود کشی نہیں ھوتی تھی ،جو ایک آدھ کیس دو چار سال میں ھوتا وہ عشق کی ناکامی کے سبب ھی ھوتا تھا ،، فرسٹریشن دونوں نسلوں میں نہیں تھی ،،،،،،،،،،،،
پھر دور تبدیل ھوا ،، منگلا نے کشمیریوں کو لندن پہنچایا تو باقی علاقون نے بھی انگڑائی لی ،، لوگوں نے زمینیں بیچیں ، زیور بیچے اور بچوں کو ایران کے رستے یونان اور دبئ کی طرف روانہ کیا گیا ،، کچھ پہنچے کچھ رستے میں ھی خواھشات کے جنگل میں مر کھپ گئے ، جو پہنچے ان کا حال اے ٹی ایم یا گو کیش کارڈ کا سا تھا ،، وہ کما کر بھیجتے گئے اور کوشش کی کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ جائے اور کسی اچھے جاب پر لگ جائے ،، تعلیم میں مقابلہ بازی شروع ھوئی کیونکہ انڈیا کے لوگ پڑھے لکھے تھے وہ آفس جاب میں لگتے جبکہ پاکستانی نچلے درجے کے کام کرتے تھے ،،
دیہات میں بجلی آئی تو ڈاولینس کو بھی لائی ،اور دیگر بجلی کا سامان بھی امپورٹ ھوا ، والدین مشین کی طرح کما کر اولاد پر لگاتے چلے گئے اور اپنی جوانی اور اس سے متعلق جزبات کو قربان کر دیا ،، والد 4 ، 4 سال بعد ملک کا چکر لگاتے وہ بھی ایک ماہ کے لئے مہمان کے طور پر آتے ،، ایک ماہ میں بچوں کا کیا پتہ چلتا ھے ،فاتحہ خوانی پوری نہیں ھوتی تھی کہ چھٹی ختم ھو جاتی ،، سہولیات ملیں تو بچے بگڑتے چلے گئے اور والدہ چھپاتی چلی گئ اور مرد اندھا دھند 16 ، 16 گھنٹے کام کر کے کما کر گھر بھیجتے چلے گئے،،
اولاد پر لعن طعن شروع ھوا ، اخراجات کا حساب کتاب شروع ھوا ، تعلیم کو کوسا گیا اور والدین اور بچوں کے درمیان سرد جنگ شروع ھو گئ ،،تعلیم دن بدن ٹف ھوتی چلی گئ وہ آج سے چالیس سال پہلے والی تعلیم نہیں تھی جب انگلش چھٹی کلاس سے شروع ھوتی تھی اور میٹرک تک ھمیں انگلش کے حروفِ ابجد ھی درست کرنا سکھایا جاتا ،، مائی بیسٹ فرینڈ ، مائی فادر ،، ھنگری فاکس اور تھرسٹی کرو پر میٹرک ھو جاتی تھی ،، اب انگلش کچی یعنی کے جی ون سے ھی شروع ھو جاتی ھے ، بستے بڑے ھوتے گئے اور رشتے چھوٹے ھوتے چلے گئے ،، ساری ساری رات پڑھ کر بھی بچہ پاس نہ ھو تو بھی گھر میں اس قدر ذلیل کیا جاتا ،، اس کو لٹرلی ماں بہن سے گالیاں دی جاتیں ، مار اس قدر شدید کہ پڑوسی آ کر چھڑائیں تو چھڑائیں ماں بھی قریب جانے کی ھمت نہ کرے ،، یوں والدین اور اولاد کے درمیان نفرت کی نادیدہ مگر محسوس دیوار بننا شروع ھوئی ،،
ریزلٹ کے دنوں میں نہر کے پلوں پر پولیس پہرہ لگ جاتا ھے کیونکہ ناکام ھونے والے بچے ریزلٹ سن کر گھر جانے کی بجائے قبر میں جانے کو ترجیح دیتے ھیں ،، والدین اپنی جگہ اخراجات کے گوشوارے دکھاتے پھرتے ھیں اور بچہ اپبے جسم پر پڑے نیل کے نشان دکھاتا پھرتا ھے ،، یعنی کہ اس تعلیم کی بجائے ، ان اخراجات کی بجائے کچھ بھی نہ ھوتا تو والدین اور اولاد کا تعلق تو قائم رھتا ،، جب ھر لمحہ ان اخراجات کو کوسا جاتا رھے ،، تو وہ ناسور بن جاتے ھیں ،، ایک عورت بیرون ملک سے آئی تو گاؤں کی ایک غریب عورت کے لئے ایک سوٹ لے کر آئی اور اس کو کہا کہ آپ یہ سلا کرپہن لیں ،، مگر اس عورت نے شاید وہ سوٹ اپنی بیٹی کو دے دیا ھو گا ،، لیکن یہ خاتون جہاں اس غریب عورت کو دیکھتی فورا ً پوچھتی کہ " ماسی وہ سوٹ ابھی نہیں سلوایا ؟ " یہانتک کہ ماسی نے اس خاتون کو دیکھ کر ھی رستہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ،، پھر وہ ان اوقات مین اس گلی سے گزرتی جب اس خاتون کے رستے میں ملنے کے امکانات نہ ھوتے ،مگر ایک دن صبح صبح بیچاری پکڑی گئ اور اس خاتون نے ابھی ماسی ھی کہا تھا کہ ماسی دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑی ھو گئی
1 286
جب سپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہوجاتے ہیں.......
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں ،
"یہ توکھیل ہے! اور جب ڈینمارک میں ہر سال سیکڑوں افراد ہزاروں ڈالفن کو قتل کردیتے ہیں.
(یہاں تک کہ سمندر کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے)
وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک "تہوار ( مھرجان) ہے!
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پہ ماردیتے ہیں ....
وہ اپنے عقیدے کے مطابق اسی طرح انکے گناہ معاف ہوجاتے ہیں.
وہ کہتے ہیں "عقیدہ اور مذہب! اور جب عیسائی بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں
نئے سال کے دن اور اسکو وہ اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں. لیکن جب مسلمان خدا کے لئے کسی جانور کو قربان کرکے اتنا احتیاط برتے ہیں
کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ و پانی ڈال کر پھر کوئی اور جانور سامنے نہ ہو...
اور انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو
سرخوں اور کفار کی پلی ہوئی اولاد سوشل میڈیا پہ نمودار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قربانی سے بہتر ہے یہ رقم مساکین کو دی جائے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے.....
1 286
🎅 فرشتوں کا قہقہ 🎅
اس نے کرسچن ہیگن کی ایجاد کردہ گھڑی کو دیکھا۔
نماز کا وقت قریب تھا۔
وہ اٹھا اور ایڈی بوئر کی ایجاد کردہ جیکٹ پہنی،
ڈیملر اور میبچ کا ایجاد کردہ موٹر سائیکل نکالا اور مسجد کی جانب روانہ ہو گیا۔
وہاں پہنچ کر ہالسے ٹیلر کے ایجاد کردہ واٹر کولر سے فلٹر شدہ صاف پانی پیا۔۔۔
اور
کلارکس والوں کے جوتے اتار کر وضو کرنے لگا،
بینجامن موغن کے ایجاد کردہ گیزر کی وجہ سے گرم پانی آ رہا تھا اور اسے کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی تھی۔
اس کے بعد وہ مسجد کے اندرونی گیٹ کی طرف گیا اور رابرٹ ہاومن کا ایجاد کردہ شیشے کا دروازہ کھولا،
ایڈیسن کا ایجاد کردہ بلب آن کیا،
بینجامن فریکلن کی ایجاد کردہ بجلی کی مدد سے بلب روشن ہو گیا اور مسجد میں ایسے روشنی ہو گئی جیسے سورج کی وجہ سے باہر تھی۔
مسجد میں جا بجا فلپ ڈائل کے ایجاد کردہ پنکھے لگے تھے مگر سردی کی وجہ سے انھیں آن نہیں کیا گیا۔
سامنے ولس کیریر کا ایجاد کردہ اے سی بھی لگا ہوا تھا مگر اس نے چارلس بیکر کا ایجاد کردہ ہیٹر آن کیا۔
اور جیمز ویسٹ کے ایجاد کردہ مائیکروفون پہ اذان دینے لگا،
ایڈورڈ کیلگ اور چیسٹر رائس کے ایجاد کردہ لاوڈ سپیکر کی وجہ سے آواز دور دور تک سب مسلمانوں تک پہنچ رہی تھی۔
اس نے میڈ ان چائنہ جائے نماز پہ نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے:
"یا اللہ کافروں کو نیست و نابود کر اور مسلمانوں کو ان پہ غلبہ عطا فرما ..."
یہ سن کر اس کے کندھے پہ بیٹھے فرشتے کا ہاسا نکل گیا۔۔۔
😂🤡😂
http://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAAHTEN 🎅
1 286
ایک دن، ایک مینڈک نے ایک اونچے درخت پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔
جیسے ہی اس نے چڑھنا شروع کیا، نیچے موجود تمام مینڈک چلانے لگے:
"رک جاؤ!"
"یہ بہت اونچا ہے!"
"تم کبھی نہیں پہنچ پاؤ گے!"
لیکن وہ چھوٹا سا مینڈک چڑھتا رہا۔
اونچا اور اونچا، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ وہ چوٹی تک پہنچ گیا۔
سب حیران رہ گئے۔
اس نے یہ کیسے کیا؟
پتا چلا...
وہ بہرہ تھا۔
وہ ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا تھا۔
اسے لگا وہ سب اُس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
سبق:
جب آپ کسی اہم مقصد کے پیچھے ہوں تو منفی باتوں کو ان سنا کر دیں۔
لوگ شک کریں گے، حوصلہ شکنی کریں گے، یا اپنے خوف آپ پر ڈالیں گے۔
انہیں آپ کو روکنے نہ دیں۔
چڑھتے رہیں۔
آپ کا یقین آپ کی طاقت ہے، دوسروں کی آواز نہیں۔
1 286
🔷 ہاتھی اور بطخ 🔷
ایک سبق آموز حکایت۔۔۔
ایک دن، چالاک لومڑی ہاتھی کے پاس آئی اور سنجیدہ لہجے میں بولی:
"کیا تم جانتے ہو کہ بطخ تمہارے پیچھے ہمیشہ بُری باتیں کرتی ہے؟ وہ تمہارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ میرے خیال میں تمہیں اُسے کوئی سخت سبق سکھانا چاہیے۔"
ہاتھی نے بھنویں چڑھائیں اور گرجدار آواز میں کہا:
"ہاں! میں اُسے سبق سکھاؤں گا، تم بے فکر رہو۔"
اگلے دن، لومڑی دوبارہ آئی اور بولی:
"تم نے تو کچھ نہیں کیا۔ بطخ آج بھی تمہیں بدنام کر رہی ہے۔ اب تو یہ برداشت سے باہر ہے!"
ہاتھی نے تحمل سے کہا:
"اب وقت آ گیا ہے، میں اُس کو سبق ضرور سکھاؤں گا۔ تم فکر نہ کرو۔"
تیسرے دن، لومڑی پھر آ گئی۔ اس بار وہ خاصی پریشان تھی:
"اے ہاتھی! تم بہت زیادہ برداشت کر رہے ہو۔ وہ بطخ اب تمہاری عزت کا مذاق اُڑا رہی ہے۔ اِس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، اُسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دو۔"
ہاتھی نے لمحہ بھر سوچا، پھر آہستہ سے کہا:
"ٹھیک ہے، میرے لیے ایک کلہاڑا، ایک بیلچہ اور ایک درانتی لے آؤ۔ اب میں اُسے ایسا سبق سکھاؤں گا جو وہ کبھی نہ بھولے۔"
لومڑی خوش ہو کر دوڑی اور جلدی سے اوزار لے آئی۔ اُس نے اُمید سے ہاتھی کو دیکھا اور کہا:
"اب وقت ہے، جا کر اُسے سبق سکھاؤ!"
مگر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہاتھی وہ اوزار لے کر اپنے کھیت پر چلا گیا اور زمین پر کام کرنے لگا۔
لومڑی نے حیرت سے پوچھا:
"تم نے کہا تھا کہ ان اوزاروں سے بطخ کو سبق سکھاؤ گے، مگر یہ کیا کر رہے ہو؟"
ہاتھی مسکرایا اور نرمی سے بولا:
"یہی تو سبق ہے۔ میں اپنی محنت میں مصروف ہوں۔ میرے پاس اُس بطخ کے لیے وقت نہیں جس کی زندگی کا مقصد صرف شور مچانا ہے۔ میں ایک باعزت جانور ہوں، طاقتور اور سمجھدار۔ میں اپنی توانائی فضول جھگڑوں پر ضائع نہیں کرتا۔"
🔘 سبق:
دنیا میں بہت سے لوگ بطخ کی طرح ہوتے ہیں۔ باتیں بنانے والے، سازشیں پھیلانے والے، اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے۔ لیکن تمہیں اُن کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ ہاتھی بنو، باوقار، باہمت اور اپنے مقصد میں مصروف۔ جو شخص اپنی زندگی میں مصروف ہو، اُسے دوسروں کی منفی باتیں پریشان نہیں کر سکتیں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 انسانوں اور جانوروں کی آوازیں 🔷
باقی سپشیز دنیا کے کسی بھی کونے میں دور دور ہوں، مگر ان کی آوازیں ایک جیسی ہیں۔ جیسے امریکہ کے کتے ایک طرح سے بھونگتے ہیں تو چین کے کتے بھی ویسے ہی بھونکتے ہیں۔
پھر انسانوں کی زبان اور اواز ایک جیسی کیوں نہیں؟
آپ نے ایک بہت دلچسپ مشاہدہ کیا ہے! واقعی، دنیا بھر کے کتے، بلیاں، گائے، پرندے اور دوسرے جانور اپنی آوازیں تقریباً ایک جیسی نکالتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی ملک یا ثقافت میں ہوں۔ لیکن انسانوں کی زبانیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اس کی کچھ اہم وجوہات یہ ہیں:
1. جانوروں کی آوازیں فطری (Instinctive) ہوتی ہیں، جبکہ انسانوں کی زبانیں سیکھی ہوئی (Learned) ہوتی ہیں۔
- جانوروں کی آوازیں (جیسے بھونکنا، میاؤں کرنا، چہچہانا) ان کے جینز میں پروگرام ہوتا ہے۔ یہ فطری طریقے سے ایک جیسے ہوتے ہیں۔
- انسانوں کی زبانیں سماجی تعلقات، ثقافت اور ماحول سے بنتی ہیں۔ ہم اپنی زبان اپنے گھر، معاشرے اور تجربات سے سیکھتے ہیں۔
2. زبان صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ نظام ہے۔
- جانور محدود آوازیں نکال کر بنیادی پیغامات دیتے ہیں (جیسے خوف، بھوک، خطرہ)۔
- انسانوں کی زبان میں گرامر، الفاظ کا ذخیرہ، تلفظ اور معنی کی پیچیدہ پرتیں ہوتی ہیں، جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔
3. انسانوں نے زبان کو ارتقاء کے ذریعے ترقی دی ہے۔
- جب انسان مختلف خطوں میں پھیلے، تو انہوں نے اپنے ماحول، ضروریات اور ثقافت کے مطابق نئے الفاظ اور اصول ایجاد کیے۔
- جغرافیائی فاصلے، جنگوں، تجارت اور تہذیبوں کے ادغام نے زبانیں مزید تبدیل کیں۔
4. جانوروں کے مقابلے میں انسانوں کا دماغ زیادہ لچکدار (Flexible) ہے۔
- انسان کا دماغ نئی آوازوں، علامتوں اور قواعد کو سیکھنے اور ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- جانوروں کا دماغ اس طرح کی پیچیدہ تبدیلیوں کے لیے موزوں نہیں۔
🔘 نتیجہ:
- جانوروں کی آوازیں فطری اور جبلتی ہیں، اس لیے وہ دنیا بھر میں ایک جیسی ہیں۔
- انسانوں کی زبانیں ثقافتی ارتقاء کا نتیجہ ہیں، اس لیے وہ مختلف ہیں۔
اگر تمام انسان ایک ہی جگہ رہتے اور کبھی جدا نہ ہوتے، تو شاید ہماری زبانیں بھی ایک جیسی ہوتیں!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
