fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 285
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
-57 روز
-730 روز
آرشیو پست ها
مولانا مودودیؒ سے کسی نے پوچھا آپ نےکبھی ولی اللہ دیکھا ہے؟ مولاناؒ نے فرمایا: میں تو ابھی ایک ولی اللہ سے مل کر آرہا ہوں، تف
مولانا مودودیؒ سے کسی نے پوچھا آپ نےکبھی ولی اللہ دیکھا ہے؟ مولاناؒ نے فرمایا: میں تو ابھی ایک ولی اللہ سے مل کر آرہا ہوں، تفصیل پوچھی گئی تو بتایا ، ریلوےاسٹیشن پر اترے تو سامان اٹھانے کے لئے قلی کی ضرورت پڑی، بہت سے قلی حضرات دوڑے آئے میری نظر ایک ایسے قلی پر پڑی جو نہایت آرام سےنماز میں مشغول تھا، ہم نے فیصلہ کیا اس کا ہی انتظار کریں گے، وہ فارغ ہوا تو میں نے اس سے پوچھا کیسے بندے ہو، ٹرین کی آمد ہی تو تمہارے رزق کا سامان ہے تم نے رزق کمانےکے وقت میں نماز کیوں شروع کر دی، اس قلی نے جواب دیا، جو رازق ہے وہ میرے حصے کا رزق مجھ تک ضرورت پہنچا دیتا ہے، اب جس رازق نےآپ کو میرے لئے روکے رکھا کیا مجھے جچتا ہے اسکی عبادت لیٹ کر دوں؟ بھلا اس سے بڑا ولی اللہ کون ہو سکتا ہے؟

دیسی مرغیاں مختلف رنگوں کی ہوتی ہیں لیکن برائلر مرغیاں صرف سفید رنگ کی ہوتی ہیں۔ یہ مرغیاں سفید اس لئے ہوتی ہیں کیونکہ یہ سفی
دیسی مرغیاں مختلف رنگوں کی ہوتی ہیں لیکن برائلر مرغیاں صرف سفید رنگ کی ہوتی ہیں۔ یہ مرغیاں سفید اس لئے ہوتی ہیں کیونکہ یہ سفید رنگ کی مرغیوں کی سیلیکٹو بریڈنگ کے ذریعے پچھلے ساٹھ ستر سالوں سے ایک خاص تسلسل سے پیدا کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت سفید کارنش اور سفید پلائمتھ اور ایک تیسری سفید نسل کی مرغیوں کی آپس میں تولید کرائی جن سے پیدا ہونے والی مرغیاں سفید پیدا ہوئی اور پھر ان مرغیوں کی آگے بڑھتی ہوئی نسل میں باہر کی ورائٹی آنے سے ہر ممکنہ دوری اختیار کی گئی۔ ان تین قسم کی مرغیوں کی بریڈنگ اسلئے چنی کیونکہ یہ زیادہ گوشت پیدا کرتی ہیں۔ سفید رنگ کی ہی مرغیوں کو کیوں چنا؟ اس بات کا مقصد آسانی تھا۔ سفید پروں کو گوشت پر سے آسانی کیساتھ پہچان سکتے ہیں جبکہ رنگیلے پروں کو پہچاننا کافی مشکل کام ہے اسلئے سفید رنگ کی مرغیوں کی نسل کو ہی چنا گیا۔ جبکہ دیسی یا پھر آوارہ مرغیاں مختلف رنگوں کی اسلئے ہوتی ہیں کیونکہ انکی بریڈنگ پہ کوئی خاص پابندی نہیں وہ آزادانہ طور پہ اپنا جنیٹک میٹیریل مکس اپ کرتی رہتی ہیں سو ایک رنگ کی نہیں ہو سکتیں۔ یاد رہے یہ مرغیاں سیلیکٹو بریڈنگ کا نتیجہ ہیں نہ کہ جنیٹک انجینرنگ کا۔

🔷 پانی سے پلاسٹک کے ذرات صاف کرین 🔷 پانی کو پلاسٹک کے ننھے ذرات سے پاک کرنے کا آسان ترین طریقہ ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خوراک اور پانی کے ذریعے ہمارے جسموں کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ مگر پانی میں موجود ان ذرات کو نکالنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔ چین میں ہونے والی تحقیق میں منرلز سے بھرپور پانی اور سافٹ واٹر پر مختلف تجربات کیے گئے۔ اس تحقیق میں پانی کی دونوں اقسام کو ابالنے سے قبل پلاسٹک کے ننھے ذرات کو شامل کیا گیا اور ابالنے کے بعد پھر انہیں فلٹر کیا گیا۔ گوانگزو میڈیکل یونیورسٹی اور جینان یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ابالنے اور فلٹر کرنے سے پلاسٹک کے 90 فیصد ذرات ختم ہو جاتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ پانی ابالنے کے سادہ طریقہ کار سے گھر کے پانی سے پلاسٹک کے ذرات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منرلز سے بھرپور پانی کو ابالنے سے پلاسٹک کے ننھے ذرات کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی آتی ہے۔ اس طرح کے پانی میں موجود کیلشیئم کاربونیٹ ابلنے کے بعد کامیابی سے پلاسٹک کے ذرات کو ٹریپ کرلیتا ہے۔ محققین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات سے نجات بہت آسان ہے بس پانی کو ابال لیں۔ یہاں تک کہ سافٹ واٹر جس میں کیلشیئم کاربونیٹ کم تحلیل ہوتا ہے، اس میں بھی پلاسٹک کے 25 فیصد ذرات کا خاتمہ اس طریقہ کار سے ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد چائے کی چھلنی سے اگر پانی کو فلٹر کیا جائے تو باقی ماندہ پلاسٹک کے ذرات سے بھی پانی کو پاک کیا جاسکتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق انسان پانی کے ذریعے روزانہ بہت بڑی تعداد میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو جزو بدن بناتے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ پلاسٹک کے یہ ذرات ہمارے جسم کو کیا نقصان پہنچاتے ہیں مگر یہ واضح ہے کہ یہ صحت کے لیے کوئی اچھی چیز نہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ پلاسٹک سے معدے میں موجود بیکٹیریا کے افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں جبکہ جسم میں اینٹی بائیوٹیک مزاحمت بڑھتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ پانی ابالنا طویل المعیاد بنیادوں پر پلاسٹک کے ننھے ذرات کو جسم میں جانے سے روکنے کے لیے آسان ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حیران کن طور پر بہت کم خطوں میں پانی کو ابال کر استعمال کیا جاتا ہے مگر توقع ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد اس طریقہ کار کو اپنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے انسانوں کو پلاسٹک کے ننھے ذرات سے بچانے کے ایک آسان طریقے کی افادیت ثابت ہوئی۔ 📚 اس تحقیق کے نتائج جرنل انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیٹرز میں شائع ہوئے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman/6858 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

واقعہ قرطاس
واقعہ قرطاس

*آج کل توحید پر حملہ ہو رہا ہے* دوستو ۔۔ اس وقت نام نہاد حسینی مطلب کہ فقط زبان سے خود کو حسنی کہنے والوں نے محمد ص و آل محمد ص کو توحید کے مقابلے میں لا کر کھڑا کر دیا۔ جو خدا کی صفات ہیں ۔ وہ یہ لوگ محمد ص و آل محمد ص میں زبردستی ڈالا رہے ہیں ۔ دوستو کربلا میں خدا اور خدا کی دین کی خاطر گھر بار چھوڑ دیا اپنا اپنے بھائیوں بہنوں بیٹیوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے پیارے ساتھیوں کے سر قربان کر دیے۔ آج نام نہاد حسینی خود کہنے والے سید الشہداء اور سید الشہداء کے نانا سرور کائنات جناب محمد مصطفیٰ ص کی قربانی اور محبت پر پانی پھیر رہے ہیں ۔ دوستو ایسے لوگوں کا حسین ع اور حسین کے نانا سرور کائنات جناب محمد مصطفیٰ ص سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ایسا شخص شیعہ اثنا عشری ہے۔ دوستو ۔۔ شیعہ اثنا عشری کا عقیدہ توحید جان لیجئے کہ توحید کے بارے ہمارا عقیدہ یہ ہے۔ کہ اللہ واحد و یکتا ہے ۔ کوئی چیز اس کے مثل و مانند نہیں۔ ہمشیہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ سنتا ہے۔ دیکھتا ہے۔ ہر چیز سے باخبر ہے ۔ وہ ایسی ذات ہے کہ کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے ۔ زندہ ہے اور زوال نہیں ہے غالب ہے منزہ ہے سب چیزوں کا علم رکھتا ہے۔ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ بے نیاز ہے ۔ اس کی ذات ایسی ہے کہ اسے جوہر ، عرض ، صورت ، خط ، سطح ،ثقل ، خفت ، حرکت ، سکون ، مکان اور زمان ۔ جیسی صفات سے متصف نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ سب مادی ( یعنی مادی مخلوق کی ) صفات ہیں اور وہ اپنی مخلوقات کی تمام صفات سے منزہ اور مبریٰ ہے ۔ نہ ہی وہ ایسی ذات ہے۔ جس سے فضل و کمال کی نفی کی جائے اور نہ ہی اس کے کمال کو مخلوق کے کسی کمال سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ وہ موجود ہے۔ لیکن دیگر موجودات کی طرح نہیں ہے وہ یکتا ہے بے نیاز ہے ۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا کہ جسے وارث بنایا جائے اور نہ وہ خود کسی سے پیدا ہوا کہ اس کی صفات یا ذات میں شریک قرار پائے۔ اس کا کوئی ہم سر نہیں ۔ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے ۔ کوئی ضد نہیں ہے ۔ کوئی شبیہ نہیں ہے۔ کوئی شریک حیات نہیں ہے ۔ کوئی مثل و نظیر نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مشیرکار ہے ۔ وہ ایسا لطیف و خبیر ہے کہ آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں ، وہ آنکھوں کے خیال کا احاطہ رکھتا ہے۔ اسے اونگھ آتی ہے نہ نہ نیند ۔ ہر چیز کا وہی خالق و مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ خلق اور حکمرانی کرنا اسی کاحق ہے۔ بابرکت ہے وہ ذات جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کو مخلوق جیسا سمجھے وہ مشرک ہے۔ اور جو شخص توحید کے باب میں کسی اور کو شریک ٹھہرے یا کسی مشرکانہ عقیدے کو شیعوں کی طرف منسوب کرے، وہ جھوٹا لعنتی ہے ۔ اور اس کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🍋 آموں کے نام کیسے شروع ہوئے۔۔۔؟ 🍋 1۔ چونسہ آم شیر شاہ سوری نے جب ہمایوں پر فتح حاصل کی تو چوسا، بہار، انڈیا کے مقام پر اسے یہ مزے دار آم کھانے کو ملے۔۔۔ اسی وقت سے اس کا نام چونسہ کا آم اور چونسہ مشہور ہوگیا۔ چوسا کی جنگ مغل بادشاہ، ہمایوں اور افغان شیر شاہ سوری کے درمیان ایک قابل ذکر معرکہ تھا۔ یہ 26 جون 1539 کو چوسا کے مقام پر لڑی گئی، جو بکسر کے جنوب مغرب میں 10 میل دور جدید بہار، ہندوستان میں ہے ۔ ہمایوں اپنی جان بچانے کے لیے میدان جنگ سے فرار ہو گئے تھے۔ شیر شاہ فتح یاب ہوئے اور فرید الدین شیر شاہ کے نام سے ان کی تاج پوشی ہوئی۔ چونسہ آم کی خصوصیات: 1۔ اس کا سائز درمیانہ اور کبھی کبھی موٹا ہوتا ہے۔ 2۔ بہت ہی میٹھا ہوتا ہے۔ 3 اس میں فائبر کم ہوتا ہے۔ 4۔ اس کا رنگ گولڈن ییلو ہوتا ہے۔ 5۔ پھولوں (محبوب) جیسی خوشبو ہوتی ہے۔ 2۔ انور رٹول رٹول، یوپی، انڈیا کے مقام پر ایک کسان نے یہ آم اگایا۔ تقسیم سے پہلے جنوبی پنجاب، پاکستان میں اس نے اپنے والد انوار الحق کے نام سے اسی قسم کا پودا لگایا تھا۔ اسی نسبت سے اس کا نام انور رٹول رکھ دیا گیا۔ انور رٹول کی خصوصیات: 1۔ اس کا ایک خاص اوول شیپ ہوتی ہے اور جسامت چوٹی۔ 2۔ شیریں اتنا کہ آفرین کہہ اٹھیں۔ 3۔ اس کی اپنی ایک خاص مہک ہوتی ہے۔ 4۔ چوس کے اور کاٹ کر کھایا جاتا ہے. 5۔ اس کا ملک شیک بہت مزے کا ہوتا ہے۔ 3۔ سندھڑی آم انیسویں صدی 1830ء کے شروع میں میرپور خاص، سندھ، پاکستان میں اس آم کی ورائٹی کو سب سے پہلے لگایا گیا۔ پہلے یہ سندھی اور پھر سندھڑی آم سے مشہور ہوگیا۔ یہ مارکیٹ میں سب سے پہلے تیار ہو کر اپنے نخرے دکھاتا ہے۔ خصوصیات: 1۔ اس کا سائز سب سے بڑا ہوتا ہے۔ 2۔ ذائقہ کھٹ مٹھا اور مکھن جیسا ٹیکسچر ہوتا ہے۔ 3۔ سب سے پہلے یہی مارکیٹ میں آتا ہے۔ 4۔ اس کا پلپ اورنج سا ہوتا ہے۔ 5۔ بہت جوسی ہوتا ہے۔ 4۔ لنگڑا آم کہتے ہیں کہ بنارس، انڈیا میں ایک لنگڑے آدمی نے اپنے گھر میں یہ آم لگایا تھا۔ لوگ جب اس کو کھاتے تو کہتے لنگڑے کا آم تو بڑا سوادی ہے یار۔۔۔ اس کے بعد پھر یہ آم لنگڑا ہی رہا۔۔۔ حالانکہ کسی نے اس کو لنگڑا کر چلتے نہیں دیکھا۔🥰 خصوصیات: 1۔ پکنے کے بعد بھی رنگ سبز ہوتا ہے۔ 2۔ پلپ سے بھرپور ہوتا ہے۔ 3۔ سائز چھوٹا اور چھلکا باریک ہوتا ہے۔ 4۔ تھوڑی سی کھٹاس مارتا ہے۔ 5۔ لنگڑا کہنے سے غصہ نہیں کرتا۔ 5۔ دوسہری آم عبد الحمید خان نے دوسہری کے مقام پر کاکوری کے قریب اپنے باغ میں یہ آم سب سے پہلے لگایا اور اپنے بہت ہی میٹھے ذائقے کی وجہ سے چاروں اطراف میں اس کی مشہوری ہوگئی۔ خصوصیات: 1۔ لمبوترا سا چھوٹا اور سائز درمیانہ 2۔ انگلیوں سے پولا (نرم) کرکے چوسا جاتا ہے۔ 3۔ اس کا چھلکا آسانی سے اتر جاتا ہے۔ 4۔ ملک شیک کے لیے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ 5۔ اس کی خوشبو من کو بہت بھاتی ہے۔ مزید تفصیلات آپ بھی بتا سکتے ہیں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman/6854 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

*کلاوڈ برسٹ کی سائنسی وجوہات* میں نے AI Gemini سے سوال کیا کہ کلاوڈ برسٹ کی سائنسی وجوہات کیا ہیں؟ اور آج کل دنیا میں یہ زیادہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ کلاؤڈ برسٹ، جسے اردو میں "بادلوں کا پھٹنا" بھی کہا جاتا ہے، ایک انتہائی شدید موسمی واقعہ ہے جس میں ایک محدود اور چھوٹے علاقے میں بہت کم وقت کے اندر غیر معمولی طور پر زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس کی سائنسی وجوہات اور اس کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجوہات درج ذیل ہیں: ​کلاؤڈ برسٹ کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس میں بادل واقعی پھٹ جاتے ہیں، بلکہ یہ ایک خاص موسمی صورت حال ہے جو مندرجہ ذیل عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے: ​شدید گرمی اور زیادہ نمی: گرمی کی شدت کی وجہ سے زمین پر موجود ہوا گرم ہو کر اوپر کی طرف اٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ گرم ہوا اپنے ساتھ بہت زیادہ نمی (پانی کے بخارات) لے کر اوپر جاتی ہے۔ ​پہاڑی علاقوں کی رکاوٹ: یہ گرم اور نم ہوا جب پہاڑی علاقوں میں پہنچتی ہے، تو پہاڑ اس کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے ہوا مزید اوپر کی طرف اٹھتی ہے اور ایک ہی جگہ پر جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ​بادلوں میں نمی کا جمع ہونا: ہوا میں موجود نمی اوپر ٹھنڈی فضا میں جا کر پانی کے قطروں میں بدل جاتی ہے اور بادلوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ایک ہی جگہ پر رکاوٹ کی وجہ سے یہ بادل مزید نمی جذب کرتے رہتے ہیں اور ان کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے۔ ​اچانک بارش: جب بادل میں پانی کی مقدار اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ وہ اس وزن کو سنبھال نہیں پاتے، تو وہ اچانک اور تیزی سے پھٹ پڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک مختصر وقت میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے اور اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔ ​کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ ​حال ہی میں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، اس کی کچھ اہم وجوہات یہ ہیں: ​بڑھتا ہوا درجہ حرارت: زمین کا اوسط درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سائنس کے مطابق، ہر 1 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بڑھنے سے ہوا میں نمی کو جذب کرنے کی صلاحیت تقریباً 7 فیصد بڑھ جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فضا میں زیادہ نمی جمع ہوتی ہے جو شدید بارشوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ​مون سون کے بدلتے رویے: موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مون سون کا پیٹرن غیر متوقع اور غیر مستحکم ہو گیا ہے۔ اب بارشیں زیادہ دنوں تک ہلکی ہلکی ہونے کے بجائے کم وقت میں زیادہ شدت کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ​انسانی سرگرمیاں: پہاڑی علاقوں میں درختوں کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے قدرتی ماحول کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ جب کلاؤڈ برسٹ ہوتا ہے تو یہ علاقے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ وہاں سے پانی کے بہاؤ کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہوتا۔ ​شہری علاقوں کا گرم ہونا: شہروں میں بڑی بڑی عمارتیں اور سیمنٹ کی سڑکیں گرمی کو زیادہ جذب کرتی ہیں، جو مقامی طور پر درجہ حرارت کو بڑھا کر کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات کو جنم دے سکتی ہیں۔ ​یہ تمام عوامل مل کر کلاؤڈ برسٹ کو نہ صرف زیادہ عام بنا رہے ہیں بلکہ ان کی شدت میں بھی اضافہ کر رہے ہیں، جس سے تباہی اور نقصان کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اب میں سمجھ رہا ہوں کہ فارسی کی مثال ہے کہ "خود کردہ را علاج نیست" یعنی اپنے ہاتھوں کی بوئی فضل ہم کاٹ رہے ہیں یہ عذاب نہیں شامت اعمال ہے۔۔ جس میں وہ جانور بھی پس رہے ہیں جن کا قصور نہیں۔ اگست 2025ء https://t.me/islamwitheman/6852 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

تحریر پڑھنے کے لیے۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1888
تحریر پڑھنے کے لیے۔۔۔۔ https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F/1888

ہائی بلڈ پریشر کو فورا نارمل کرنے کے گھریلو ٹوٹکے

رات کو مچھلی کھانے کے بعد شہد یا کجھور ضرور کھائیں اور مچھلی کھانے کے بعد نہانے کی غلطی کبھی نہ کریں۔

آیت الکرسی ویڈیو

🌹 علم کی متلاشی شہزادی 🌹 ایران کے ایک بادشاہ کی پریشانی کی وجہ اس کی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا تھی ہر باپ کی طرح بادشاہ بھی اپنی بیٹی کی شادی کر کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن شہزادی ثنا نے عجیب اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس کے سوالوں کے درست جواب دے گا وہ اس سے شادی کرے گی۔ آس پاس کی ریاستوں کے کئی شہزادے آئے مگر ناکام لوٹ گئے۔ اس ملک میں اعظم نامی ایک نوجوان طالبعلم بھی رہتا تھا. اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہے۔ اعظم کے والد اُستاد تھے اور کئی برسوں سے لوگوں میں علم کی روشنی بانٹ رہے تھے. ملک فارس کا وزیراعظم بڑے بڑے درباری اور شہر کا قاضی بھی ان کا شاگرد تھا. باپ نے بیٹے کی خواہش دیکھی تو بولےبیٹا...! اگر تو ناکام لوٹا تو تیرا کچھ نہیں جائے گا۔ لوگ کیا کہیں گے کہ ایک استاد کا بیٹا ناکام ہوگیا. اعظم اپنے باپ سے کہنے لگا...بابا.! بڑے بڑے شہزادے لوٹ گئے. اگر میں بھی ناکام ہو گیا تو کیا ہوا. یہ تو مقابلہ ہے جو بھی جیت لے اور شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں. آخر باپ کو بیٹے کی ضد ماننی پڑی. اعظم خوشی خوشی محل کی طرف چل پڑا. شہر بھر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک عالم کا بیٹا قسمت آزمانے محل میں چلا آیا ہے. مقررہ وقت پر محل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا. بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا. ملکہ عالیہ بھی محل میں موجود تھیں. شہزادی نے اپنا پہلا سوال کیا۔۔ اس نے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کی. اعظم نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ والی اگلی بھی فضا میں بلند کی. یہ دیکھ کر شہزادی مسکرا اٹھی اور ملکہ عالیہ بولی.. شاباش،اے نوجوان.تم پہلا مرحلہ کامیابی سے طے کر گئے ہو۔ دوسرے سوال کے لیے شہزادی کرسی سے اٹھی اور ہاتھ میں تلوار لے کر ہوا میں چلانے لگی، کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئی. اعظم کھڑا ہوا اور اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کر دیا۔ شاباش اے نوجوان ہم خوش ہوئے۔ یہ جواب بھی درست ہے. ملکہ کی آواز دربار میں ابھری. آخر شہزادی نے تیسرا سوال کر کیا۔۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتری اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئی. یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا. ہر طرف خاموشی تھی. لوگوں کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں. اب تو اعظم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے. آخر اعظم کھڑا ہوا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھنے لگا. مرحبا، مرحبا اے نوجوان مبارک ہو...! شہزادی نے تمھیں پسند کر لیا ہے. ملکہ عالیہ کی آواز کے ساتھ ہی شہزادی ثنا شرما کر محل کے اندرونی حصے میں چلی گئی اور محل مبارک باد کی آواز سے گونج اٹھا. لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے. اعظم دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کر رہا تھا۔ جس نے اُسے یہ اعزاز بخشا تھا... بادشاہ نے اعظم سے پوچھا اے نوجوان...! ملکہ عالیہ کو تو تم نے مطمئن کر دیا۔ اب یہ بتاؤ کہ تم سے کیا پوچھا گیا تھا اور تم نے کیا جواب دیا. اگر تم نے ایک بھی غلط جواب دیا تو تمھاری گردن مار دی جائے گی. اعظم پُر اعتماد انداز میں کھڑا ہوا اور بولا... بادشاہ سلامت! شہزادی نے ایک انگلی کھڑی کر کے پوچھا تھا کہ تم کیا اللّٰه کو ایک مانتے ہو..؟ میں نے دو اُنگلیاں کھڑی کر کے جواب دیا کہ اللّٰه اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر میرا ایمان اٹل ہے. بہت خوب، ہم خوش ہوئے. بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔ اعظم بولا...! اس کے بعد شہزادی نے تلوار چلا کر پوچھا تھا کہ اس سے بڑا کوئی ہتھیار ہے..؟ میں نے جواب دیا ہاں، قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ کارگر ہوتا ہے. ماشاءاللّٰه...! نوجوان...! تم نے ہمارا دل جیت لیا. تم نے ثابت کر دیا کہ جاہ و جلال، دولت و حشمت کی علم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن تیسرا جواب...! بادشاہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوچھا. اعظم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا. بادشاہ...! شہزادی دربار کی سیڑھیاں اُتری اور چڑھی کرسی پر تھک کر بیٹھ گئی۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ میں تھک چکی ہوں لیکن میرے جسم کی ایک چیز نہیں تھکی. میں نے جواب دیا. دل، یہ پیدایش سے لیکر موت تک بغیر تھکے دھڑکتا رہتا ہے...! بادشاہ نے اعظم کو کو پاس بلا کر گلے سے لگا لیا اور کہا اے لوگو...! گواہ رہنا میں نے حقدار کا حق ادا کر دیا ہے. میری بیٹی ایسے شخص کی بیوی بن رہی ہے جس کے پاس علم کی دولت ہے. جسے کوئی نہیں چرا سکتا ہے اور نہ کم کر سکتا ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت خوشی خوشی اعظم اور شہزادی ثنا کی شادی طے کر دی...!!! منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 علم کی متلاشی شہزادی 🌹 ایران کے ایک بادشاہ کی پریشانی کی وجہ اس کی اکلوتی بیٹی شہزادی ثنا تھی ہر باپ کی طرح بادشاہ بھی اپنی بیٹی کی شادی کر کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا لیکن شہزادی ثنا نے عجیب اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص اس کے سوالوں کے درست جواب دے گا وہ اس سے شادی کرے گی۔ آس پاس کی ریاستوں کے کئی شہزادے آئے مگر ناکام لوٹ گئے۔ اس ملک میں اعظم نامی ایک نوجوان طالبعلم بھی رہتا تھا. اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ بھی اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہے۔ اعظم کے والد اُستاد تھے اور کئی برسوں سے لوگوں میں علم کی روشنی بانٹ رہے تھے. ملک فارس کا وزیراعظم بڑے بڑے درباری اور شہر کا قاضی بھی ان کا شاگرد تھا. باپ نے بیٹے کی خواہش دیکھی تو بولےبیٹا...! اگر تو ناکام لوٹا تو تیرا کچھ نہیں جائے گا۔ لوگ کیا کہیں گے کہ ایک استاد کا بیٹا ناکام ہوگیا. اعظم اپنے باپ سے کہنے لگا...بابا.! بڑے بڑے شہزادے لوٹ گئے. اگر میں بھی ناکام ہو گیا تو کیا ہوا. یہ تو مقابلہ ہے جو بھی جیت لے اور شاید وہ خوش نصیب میں ہی ہوں. آخر باپ کو بیٹے کی ضد ماننی پڑی. اعظم خوشی خوشی محل کی طرف چل پڑا. شہر بھر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ایک عالم کا بیٹا قسمت آزمانے محل میں چلا آیا ہے. مقررہ وقت پر محل لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا. بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا. ملکہ عالیہ بھی محل میں موجود تھیں. شہزادی نے اپنا پہلا سوال کیا۔۔ اس نے شہادت کی انگلی فضا میں بلند کی. اعظم نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر شہادت والی انگلی کے ساتھ والی اگلی بھی فضا میں بلند کی. یہ دیکھ کر شہزادی مسکرا اٹھی اور ملکہ عالیہ بولی.. شاباش،اے نوجوان.تم پہلا مرحلہ کامیابی سے طے کر گئے ہو۔ دوسرے سوال کے لیے شہزادی کرسی سے اٹھی اور ہاتھ میں تلوار لے کر ہوا میں چلانے لگی، کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی نشست پر آکر بیٹھ گئی. اعظم کھڑا ہوا اور اپنی جیب سے قلم نکال کر فضا میں بلند کر دیا۔ شاباش اے نوجوان ہم خوش ہوئے۔ یہ جواب بھی درست ہے. ملکہ کی آواز دربار میں ابھری. آخر شہزادی نے تیسرا سوال کر کیا۔۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اُتری اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئی. یہ بڑا عجیب و غریب سوال تھا. ہر طرف خاموشی تھی. لوگوں کی سانسیں رُکی ہوئی تھیں. اب تو اعظم کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوئے جا رہے تھے. آخر اعظم کھڑا ہوا اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر شہزادی کی طرف دیکھنے لگا. مرحبا، مرحبا اے نوجوان مبارک ہو...! شہزادی نے تمھیں پسند کر لیا ہے. ملکہ عالیہ کی آواز کے ساتھ ہی شہزادی ثنا شرما کر محل کے اندرونی حصے میں چلی گئی اور محل مبارک باد کی آواز سے گونج اٹھا. لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے. اعظم دل ہی دل میں اللّٰه کا شکر ادا کر رہا تھا۔ جس نے اُسے یہ اعزاز بخشا تھا... بادشاہ نے اعظم سے پوچھا اے نوجوان...! ملکہ عالیہ کو تو تم نے مطمئن کر دیا۔ اب یہ بتاؤ کہ تم سے کیا پوچھا گیا تھا اور تم نے کیا جواب دیا. اگر تم نے ایک بھی غلط جواب دیا تو تمھاری گردن مار دی جائے گی. اعظم پُر اعتماد انداز میں کھڑا ہوا اور بولا... بادشاہ سلامت! شہزادی نے ایک انگلی کھڑی کر کے پوچھا تھا کہ تم کیا اللّٰه کو ایک مانتے ہو..؟ میں نے دو اُنگلیاں کھڑی کر کے جواب دیا کہ اللّٰه اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر میرا ایمان اٹل ہے. بہت خوب، ہم خوش ہوئے. بادشاہ نے مسکرا کر کہا۔ اعظم بولا...! اس کے بعد شہزادی نے تلوار چلا کر پوچھا تھا کہ اس سے بڑا کوئی ہتھیار ہے..؟ میں نے جواب دیا ہاں، قلم کا وار تلوار کے وار سے زیادہ کارگر ہوتا ہے. ماشاءاللّٰه...! نوجوان...! تم نے ہمارا دل جیت لیا. تم نے ثابت کر دیا کہ جاہ و جلال، دولت و حشمت کی علم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن تیسرا جواب...! بادشاہ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوچھا. اعظم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا. بادشاہ...! شہزادی دربار کی سیڑھیاں اُتری اور چڑھی کرسی پر تھک کر بیٹھ گئی۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ میں تھک چکی ہوں لیکن میرے جسم کی ایک چیز نہیں تھکی. میں نے جواب دیا. دل، یہ پیدایش سے لیکر موت تک بغیر تھکے دھڑکتا رہتا ہے...! بادشاہ نے اعظم کو کو پاس بلا کر گلے سے لگا لیا اور کہا اے لوگو...! گواہ رہنا میں نے حقدار کا حق ادا کر دیا ہے. میری بیٹی ایسے شخص کی بیوی بن رہی ہے جس کے پاس علم کی دولت ہے. جسے کوئی نہیں چرا سکتا ہے اور نہ کم کر سکتا ہے۔ بادشاہ نے اسی وقت خوشی خوشی اعظم اور شہزادی ثنا کی شادی طے کر دی...!!! منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

بشیرا مراثی اور معاشرتی المیہ کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آ گیا ۔ کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا۔ تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑ توڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا۔ جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی۔ وقت گزرتا گیا۔ استاد بشیر کی دُھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہوا ۔ آسکر کے لئے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔ گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرافٹنگ اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ۔ دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔ کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔ کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔ پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گٹھنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر بُرد کرنے والی بُڈھی جیسی ہو گئی۔ اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا، برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی، پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے، انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی، رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ گاؤں میں حویلی تعمیر کی، کنواں کھدوایا، اسکول بنوایا، اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللّٰہ بچائی خاتون مرحومہ” کا کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔ تو صاحبو! گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے، لوگ 'سلام چوہدری صاحب' کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کا علاج ہو کہ بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیمِ اسناد ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔ پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا، اچھا لگا، چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی، ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔ چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے، حسب نسب پوچھا، جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔ شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکی کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکی کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا، کچھ آنکھیں چار ہوئیں، کچھ یادداشت کھنگالی گئی، آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔ “اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔ “اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا؟” کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی “اوئے لعنتی دی اولاد”اوئے میراثیاں دا ٹولہ” ، “اوئے بلی، کتے کھان والیو” ۔ “اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو” ، ”اوئے سورا” ۔۔۔ شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔ اونچے شملے تھے، کلف لگے سوٹ تھے، دولت تھی، عزت تھی، سوشل ورک تھا، اعزازی ڈگری تھی ۔۔۔ پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔ بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں، واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے، انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔ ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*عدل اور اس دنیا میں رائج انصاف* ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔ حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔ اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔ "انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے — یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے، جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔ 1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔ آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔ لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں — تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔ 2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔ اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔ لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔ عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔ 3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔ آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔ اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔ عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے — جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔ 4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی — تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔ رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر — یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔ 5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے — جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔ ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔ یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔ ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ — اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔ یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔ اور یہی عدل ہے۔ 📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: > "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ" "بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورہ النحل، آیت 90) ڈاکٹر وردہ وڑايچ

حق کی کڑواہٹ کو برداشت کرو تاکہ باطل کی مٹھاس تمھیں دھوکہ نہ دے۔
حق کی کڑواہٹ کو برداشت کرو تاکہ باطل کی مٹھاس تمھیں دھوکہ نہ دے۔

■ اربعین حسینی کے متعلق پوسٹیں۔ پوسٹ دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔ http://t.me/islamwitheman/1738 🌏 أربعين اور عراقی قوم http://t.me/islamwitheman/1700 ⚫ أربعين حسینی اور اعمال http://t.me/islamwitheman/1741 🌸 زیارت اربعین http://t.me/islamwitheman/1742 🔵 زیارت امام حسینؑ کی اہمیت http://t.me/islamwitheman/1745 🔵 زیارت امام حسینؑ کے آداب http://t.me/islamwitheman/1746 💖 سلیمان اعمش کا واقعہ http://t.me/islamwitheman/1747 ⚫ چہلم اوّل امام حسینؑ http://t.me/islamwitheman/1749 ⚫ چہلم امام حسین علیہ السلام http://t.me/islamwitheman/1750 🌹 زیارت امام حسینؑ کا ثواب http://t.me/islamwitheman/1751 🌹 زیارت عاشورا کے فوائد http://t.me/islamwitheman/1972 🌹 زیارت عاشورا اور یوم الورود http://t.me/islamwitheman/1973 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕