fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

رفتن به کانال در Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

نمایش بیشتر
1 282
مشترکین
-124 ساعت
-27 روز
-930 روز
آرشیو پست ها
🔷 آوارہ 🔷 حاجی نعیم صاحب کا جواب سن کر میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ یوں لگا جیسے میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہے۔ میں نے دوبارہ پوچھا: حاجی صاحب کیا کہا آپ نے؟ حاجی صاحب نے مکمل اطمینان سے وہی جواب دیا۔ "میں راشد کو بدمعاش بنانا چاہتا ہوں۔“ میں نے بے اختیار اپنی کنپٹی کھجائی۔ حاجی صاحب کو میں 20 سال سے جانتا ہوں۔ انتہائی ڈیسنٹ انسان ہیں۔ ریٹائرڈ بینک آفیسر ہیں۔ نہایت خوش لباس ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت شریف بھی ہیں۔ ہمیشہ سے تعلیم کے حق میں رہے ہیں۔ ماشاء اللہ چار بیٹوں کے باپ ہیں۔ بڑا بیٹا لندن میں انجینئر ہے، دوسرا امریکہ میں ڈاکٹر ہے اور تیسرا کینیڈا میں پائلٹ ہے جبکہ چوتھا بیٹا راشد پاکستان میں ہی حاجی صاحب کے ساتھ رہتا ہے اور سیکنڈ ایئر کا سٹوڈنٹ ہے۔ راشد پڑھائی میں کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ زیادہ تر موٹر سائیکل پر آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومتا رہتا ہے۔ دو تین دفعہ حوالات کی بھی سیر کر چکا ہے۔ پتا نہیں کیوں حاجی صاحب اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں۔ آج اتفاقاً حاجی صاحب سے ملاقات ہوگئی تو میں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ راشد کو کیا بنانا چاہتے ہیں۔ حاجی صاحب کا جواب میرے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا۔ ایک ایسا باپ جو خود بھی تعلیم یافتہ ہو اور تین بیٹے بھی بیرون ملک نہایت پرکشش عہدوں پر کام کر رہے ہوں وہ ایسا جواب دے تو چونکنا تو بنتا ہے۔ وجہ پوچھی تو بے اختیار ہنس پڑے ”یار اُس کی بدمعاشی کی وجہ سے میرے بہت سارے مسئلے خودبخود حل ہوگئے ہیں، ویسے بھی کم بخت ہے تو آوارہ لیکن سستے جذبات اُس میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں“۔ میں نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا ”کیا مطلب؟“۔ حاجی صاحب دوبارہ ہنسے ”دیکھو! میں تو ٹھہرا بزدلی کی حد تک شریف انسان، بجلی کا پورا پورا بل بھرنے کے باوجود جب لائن مین مجھ سے آکر مشکوک انداز میں کہتا تھا کہ آپ کا میٹر کیوں آہستہ چلتا ہے؟ تو میں خوفزدہ ہو جاتا تھا اور قسمیں کھانے لگتا تھا کہ مجھے کچھ نہیں پتا۔ اِس پر لائن مین اور زیادہ شیر ہوجاتا تھا اوردھمکی دیتا تھا کہ اگر اسے کچھ پیسے نہ دیے گئے تو وہ اوپر شکایت لگا دے گا جس کے نتیجے میں نہ صرف میٹر کٹ جائے گا بلکہ لاکھوں روپے کا جرمانہ بھی بھرنا ہوگا۔ میں ہر دفعہ اسے بلاوجہ خوش کرنے کے لیے دو ہزار دے دیا کرتا تھا۔ اس بات کی خبر میرے چھوٹے بیٹے راشد کو ہوئی تو اُس نے اپنے انداز سے لائن مین سے بات کی۔ فائدہ یہ ہوا کہ لائن مین خوفزدہ ہوگیا اور اب جب بھی آمنا سامنا ہو تو سلام لے کر چپکے سے نکل جاتا ہے۔ بازار میں ایک دفعہ ایک موٹر سائیکل والا غلط رخ پر آ رہا تھا، سیدھا مجھ سے ٹکرا گیا اور الٹا مجھے ہی گالیاں دینے لگا۔ راشد میرے ساتھ تھا۔ اس نے موٹر سائیکل والے کو دو تھپڑ لگائے اور موٹر سائیکل والا بے اختیار میرے قدموں میں گر گیا۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے ہمسائے اکثر اپنی گاڑی ہمارے گیٹ کے عین سامنے لگا جاتے تھے، میں نے ایک دو دفعہ اُن سے گذارش کی کہ ایسا نہ کیا کریں کیونکہ پھر ہمیں گیٹ کھولنے میں پریشانی ہوتی ہے لیکن انہوں نے الٹا مجھے برا بھلا کہا اور باز نہیں آئے۔ راشد نے ایک ہی دفعہ اُن کے دروازے پر جا کر کوئی بات کی۔ اُس کے بعد اُن کی گاڑی کبھی ہمارے گیٹ کے سامنے کھڑی نہیں ہوئی۔“ اب ہنسنے کی میری باری تھی۔ میں نے قہقہہ لگایا ”تو گویا آپ تین بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے بعد چوتھے بیٹے کی بدمعاشی انجوائے کر رہے ہیں؟“۔ حاجی صاحب خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتے رہے، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر قریبی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے اور بولے ”سچ پوچھو تو مجھے راشد کبھی اچھا نہیں لگا لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ کاش میں نے اپنے سارے بیٹوں کو ایسا ہی بنایا ہوتا۔ میں نے جس بیٹے کو بھی اعلیٰ تعلیم دلوائی وہ مستقبل بنانے ملک سے باہر چلا گیا۔ میرے تینوں بیٹے شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے گھر بہت خوش ہیں۔ لیکن میں اور میری بیوی بالکل اکیلے ہو گئے ہیں۔ پڑھی لکھی اولاد ماں باپ کا فخر تو ہوتی ہے لیکن بعض اوقات ماں باپ کے کسی کام کی نہیں رہتی۔“ حاجی صاحب نے گہری سانس لی، جیب سے مڑا تڑا ٹشو پیپر نکال کرآنکھوں کے گوشے صاف کیے اور ٹشو پیپر دوبارہ مٹھی میں جکڑ لیا ”مجھے احساس ہے کہ میرے یہ جملے سراسر خود غرضی کے زمرے میں آتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں راشد ان پڑھ رہے۔ وہ لفنگا اور آوارہ تو ہے لیکن رات کو میرے پیر بھی دباتا ہے۔ کوئی بھی چیز چاہیے ہو تو جھٹ سے لا دیتا ہے۔ یہ بچپن سے ہی ایسا تھا۔اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا لیکن گھر کے سارے کام یہی کرتا تھا۔ جب اس کے تینوں بڑے بھائی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور کتابیں کھولے پڑھ رہے ہوتے تھے تو یہی سبزی لاتا تھا۔ بڑے بھائی اکیڈمیوں میں چلے جاتے تھے اور یہ تنور سے روٹیاں لانے کا فریضہ سرانجام دیتا تھا۔ میری گاڑی بھی یہی صاف کرتا تھا۔ گھر کے چھت والے پنکھے بھی اسی نے صاف کیے۔

photo content

🥀 محبت اور ڈپریشن 🥀 حافظ صاحب وہ کہتی تھی کہ تم تو دودھ دہی کا کام کرتے ہو میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں تم میرے قابل تم میرے سٹینڈرڈ کے نہیں ہو خدا نہ کرے میں تم سے شادی کر لوں تو تمہارے کپڑوں سے آنے والی بدبو سے ہی میرا دم گھٹ جائے گا وہ یہ سب کچھ بتاتے ہوئے شدت سے رو رہا تھا میری عادت ہے کہ میں رونے والے کو درمیان میں تنگ نہیں کرتا بل کہ چاہتا ہوں کہ سامنے والا اچھی طرح رو لے جو آنسو ضبط کر لیے جائیں وہ زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں جب کہ وہ آنسو جو آنکھوں سے بہہ جائیں وہ انسان کو ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں ان آنسوؤں کے ساتھ محبت اور ہجر یا دھوکہ پر مشتمل گرد بھی بہہ جاتی ہے اور انسان اندر سے صاف ہو جاتا ہے جب یہ لڑکا جی بھر کر رو لیا تو میں نے کہا اب خاموش ہو جائیں میں اس لڑکے کو ذاتی طور پر جانتا تھا صاف ستھرا با اخلاق اور با کردار لڑکا انتہائی محنتی اور بڑے خواب دیکھنے والا لڑکا مجھے اس کم ظرف لڑکی پر افسوس ہو رہا تھا جس نے اس ہیرے کو دھتکار دیا مگر بہت اچھا ہوا کیونکہ ہیرے کیچڑ میں نہیں اچھے لگتے میں نے کہا میرے بھائی جو لڑکی آپ کو محنت کر کے حلال کمانے پر طعنے دے گئی جس لڑکی کو آپ کے اندر کا ہیرو اور ہیرا نظر نہیں آیا آپ ایک ایسی لڑکی کیلئے رو رہے ہیں؟ فرض کریں آپ کی اس سے شادی ہو گئی اور وہ آپ کی قدر نہیں کرتی بات بات پر آپ کو طعنے دے کر آپ کی ذات کو کچلنے کی کوشش کرتی ہے آپ اسے دیکھ دیکھ کر جیتے ہیں اور وہ آپ کو دیکھ کر نظریں پھیر رہی ہے پتا ہے ہمارے اندر کیڑے نکالنے والا پارٹنر ہماری قابلیت صلاحیت اور شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ کھاتا ہے وہ ہماری خوشیاں اور سکون کو جونک کی طرح چوس لیتا ہے میرے بھائی نا قدری کا دکھ ہجر کے غم سے زیادہ بڑا ہے آج اگر آپ اس شخص کے پیچھے خود کو تباہ کر لیں گے تو آپ اپنے ہی منہ پر تھپڑ رسید کریں گے خود کو کبھی بھی اس مقام پر لے کر نہ جائیں جہاں آپ کو چھوڑ کر جانے والا جب آپ کو دیکھے تو کہے اے اللہ تیرا شکر ہے کہ میں آج اس شخص کے ساتھ نہیں ہوں ورنہ میری تو زندگی تباہ ہو جاتی بل کہ خود کو اس مقام پر لے کر جائیں جہاں آپ کو چھوڑ کر جانے والا آپ کو دیکھ کر آہ کرے خواہش کرے کہ کاش آج میں اس شخص کے ساتھ ہوتا یا ہوتی تو میری زندگی سنور جاتی میں نے عیش کرنی تھی خود کو ترس ہمدردی یا رحم کے قابل مت بنائیں مضبوط بنو یار کئی راستے آپ کے منتظر ہیں اور کئی منزلیں آپ کے قدم چوم کر خود کو بڑی منزل سمجھنے کا احساس چاہتی ہیں بہترین بدلہ ہمارے چہرے کی مسکراہٹ ہے خود کو چھوڑ کر جانے والوں سے ہمیشہ مسکرا کر ملیں پھر چاہے تنہائی میں دیواروں کو پکڑ کر رو لیں مگر کسی کم ظرف شخص کے سامنے آنسو بہا کر ان کی قیمت مت لگائیں ورنہ احساسات بے مول ہو جائیں گے آپ اپنے جیسی کوئی ڈیزرو کرتے ہیں جو محنت کر کے حلال کمانے اور کھلانے والے کی قدر کرتی ہو جو اپنی آنے والی نسلوں کو حلال کا لقمہ کھلا کر ان کی بہترین تربیت کرنے کی خواہش مند ہو جو جانتی ہو کہ محنت کرنے والا مرد کبھی بیوی بچوں کو بھوکا پیاسا نہیں رہنے دیتا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں آپ کے جیسی ہی کوئی یقیناً آپ کی منتظر ہوگی بس اللہ تعالیٰ پر اپنا فیصلہ چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں نئے راستے تلاش کرو نئے خواب دیکھو ان کی جستجو اور جدوجہد میں خود کو مصروف کر لیں جوان کی جوانی اگر ایک لڑکی کی خاطر روتے گزر جائے تو اس کا بڑھاپا اور اس کی نسلوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے خود پر اور اپنی جوانی پر رحم کریں مسکراہٹ آپ کا مقدر سکون آپ کا اثاثہ اور کامیابیاں آپ کی دوست ہوں دو ماہ بعد پھر اس لڑکے سے رابطہ ہوا ڈیجیٹل مارکیٹنگ سیکھ رہا ہے خوش ہے مطمئن ہے دودھ دہی کا کام بھی کر رہا ہے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی سیکھ رہا ہے اور اپنا فوٹو اسٹیٹ کا بزنس بھی شروع کر دیا ماشاءاللہ ماشاءاللہ اپنے جیسی ہی اپنی ایک کزن سے شادی کرنے والا ہے۔ 🔘 چھوڑیں یار یہ عشق محبت کی باتیں یہ رونا دھونا یہ ملال کچھ ایسا کریں کہ آپ کو چھوڑ کر جانے والے ماتم کریں آپ نہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 شادی کی حقیقت 🌹 شادی کا سب سے خوفناک پہلو یہ نہیں کہ ایک عورت کو کسی مرد کو اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ساری زندگی برداشت کرنا پڑے گا، یا کہ ایک مرد کو اپنی بیوی کو قبول کرنا ہوگا۔ بلکہ اصل خوفناک حقیقت وہ بچے ہیں جو اس فیصلے کا نتیجہ ہوں گے کیا وہ معاشرے میں ایک نمایاں اور مثبت مقام حاصل کر سکیں گے؟ یا وہ صرف روایتی زندگی گزاریں گے، جہاں ان کی دنیا اسکول، گلی اور ٹی وی تک محدود رہے گی؟ یہاں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کہیں ہم مزید ذہنی مریض اور الجھے ہوئے افراد تو پیدا نہیں کر رہے؟ یہی وجہ ہے کہ غیر شادی شدہ وقت کو ایک قیمتی موقع سمجھا جانا چاہئیے یہ وہ وقت نہیں جب صرف بالوں اور جلد کی خوبصورتی پر توجہ دی جائے، بلکہ یہ وہ سب سے قیمتی عرصہ ہے جس میں ایک فرد اپنی سوچ کو سنوار سکتا ہے، اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکتا ہے، تاکہ وہ کل ایک ایسا خاندان تشکیل دے جو روشن دماغ اور کامیاب نسل پیدا کر سکے۔ یہ ایک بہترین وقت ہے انسان سازی کا ہنر سیکھنے کے لئیے، اپنی کمزوریوں کو سمجھنے اور دور کرنے کے لئیے تاکہ آنے والی نسل میں وہی پرانی غلطیاں نہ دہرائی جائیں، بلکہ وہ بہتر اور کامیاب انسان بنیں۔ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ خاندان کی محبت سب سے بڑھ کر ہے اور ان کے دلوں میں نفرت، بغض اور رشتوں کی دوری پیدا نہ کریں۔ بچوں کو یہ سکھائیں کہ ماموں سہارا ہوتا ہے، چچا باپ جیسا ہوتا ہے، پھوپھی شفقت بھرا دل رکھتی ہے، اور خالہ دوسری ماں کی مانند ہوتی ہے۔ انہیں سمجھائیں کہ دادا اور دادی دل کا ایک ٹکڑا ہیں، اور خاندان کے رشتے اصل دولت ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ دانشمند کی نصیحت: "اگر تم اپنی سوچ کو معمولی باتوں سے بھر لو گے، تو بڑی باتوں کے لیے اس میں جگہ نہیں بچے گی۔ دماغ کھیت کی مانند ہے، اگر اس میں اچھی اور کارآمد چیزیں نہ لگائی جائیں تو نقصان دہ جھاڑیاں خود بخود اُگنے لگتی ہیں۔" انسان فطرتاً نیک، محبت کرنے والا اور صاف دل ہوتا ہے، مگر نفرت، خود غرضی اور دشمنی اسے سکھائی جاتی ہے۔ اس لیے بچوں کے خالص سونے جیسے دل کو زنگ آلود نہ کریں۔ انہیں حسد، رنجش اور جھوٹے رویوں سے دور رکھیں، اور خلوص، محبت، عزت اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کا درس دیں۔ یاد رکھیں! بچوں کی تربیت ایک امانت ہے، اور اس کا حساب روزِ قیامت دیا جائے گا۔ بچوں کو خاندان کی محبت سکھائیں تاکہ وہ ہمیشہ مضبوط اور جڑے رہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

تم نے جب سب کے سامنے مجھے فری کھانا آفر کیا تو مجھے ایسا ریسپانس دینا پڑا کیونکہ ہم اچھے دوست ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ تم سے فری کھانا کھا کر میں سب کو یہ پیغام دوں کہ ہمارے درمیان دوستی کے علاوہ بھی کچھ چل رہا ہے بس اتنی سی بات تھی۔ وہ لمبی چوڑی وضاحت کر کے معذرت بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، کسی کولیگ سے تحفہ، سہولت یا رعائت نہ لینا، بات چیت میں اس کو مبہم اشارے نہ دینا، اپنی مشکلات یا زاتی و خاندانی حالات کا شئر نہ کرنا ایسی ہی احتیاطی تدبیریں ہیں جن کو اپنا کر کوئی بھی لڑکی اپنے کولیگز پر یہ واضح کر سکتی ہے کہ وہ جنسی ہراسانی کے لیے “دستیاب” نہیں ہے، اس ایک لمحے میں میں ہزاروں میل کا سفر کر کے اپنے پاکستانی ماحول میں پہنچ گیا جہاں کالج میں نوٹس بنوانے سے لے کر آفس میں کام کی ٹریننگ تک لڑکیاں اپنے مرد کولیگز سے ہر قسم کی “فیور” مانگنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی مجبوری ہو تو پک این ڈراپ کے لیے بھی کسی کولیگ کو زرا زیادہ قریبی بنا لیا جاتا ہے، دفتر کا اضافی کام، کینٹین پر برگر شامی فرائز کے چھوٹے موٹے بلز کو ادا کرواتے ہوئے لڑکیاں کبھی نہیں سوچتیں کہ ایسا سب کچھ وہ کس معاشرتی رشتے کے تحت کر رہی ہیں اور ان کے لیے یہ سب کرنے والے اپنے دل میں انکے لیے کس طرح کی امیدیں پال رہا ہے۔ 🔘 ہمارے معاشرے میں جاری حالیہ ہراسانی کی بحث میں ایسی بہت سی کہانیاں ملیں گی جن کی بنیادی وجہ یہی اخلاقی تربیت کی کمی ہے، جنسی ہراسانی میں عموماً لڑکیوں کو مظلوم طبقہ مانا جاتا ہے مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ جنسی ہراسانی سے روک تھام کے لیے عورت کی معاشرتی تربیت ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے، مرد و عورت کے لیے برابری کے مواقع، ایک جگہ پڑھنے، کام کرنے اور ایک جیسے تفریحی ماحول کی فراہمی اگرچہ ایک صحتمند معاشرے کی تخلیق کے لیے ازحد ضروری ہیں مگر مرد و عورت کے اختلاط میں دونوں اصناف کی جو تربیت ہونا چاہیے اس کی شدید کمی ہے، ہماری موجود نوجوان نسل اس بدلے ماحول میں خود سے سیکھ رہی ہے مگر کسی طرح کی رہنمائی نہ موجود ہے اور نہ ہی اس رہنمائی کی کمی کا کوئی ادراک ہے۔ معاشی حالات کی مجبوریوں میں لاکھوں خاندانوں کی لڑکیوں کو انکی مرضی کے خلاف تلاش رزق کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کے لیے مجبور کرتے ہیں، ایسے خاندانوں کی لڑکیاں جہاں مرد سے تعلق اور رابطہ صرف بھائیوں اور کزنز تک محدود ہو جب باہر نکل کر اجنبی مردوں کے درمیان کام کرتی ہیں اور انکے رویوں کا سامنا کرتی ہیں تو انکے پاس ایسی کوئی رہنمائی نہیں ہوتی جس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو ایسی ہراسانی یا دیگر منفی رویوں سے بچا سکیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کی اس حوالے سے تربیت کی اشد ضرورت ہے، کسی کولیگ سے تحفہ، سہولت یا رعائت نہ لینا، بات چیت میں اس کو مبہم اشارے نہ دینا، اپنی مشکلات یا زاتی و خاندانی حالات کا شئر نہ کرنا ایسی ہی احتیاطی تدبیریں ہیں جن کو اپنا کر کوئی بھی لڑکی اپنے کولیگز پر یہ واضح کر سکتی ہے کہ وہ جنسی ہراسانی کے لیے “دستیاب” نہیں ہے اور ایسا کرنے پر اس کے نتائج بھگتنا ہونگے..... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5860 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار 🔷 مانچسٹر یونیورسٹی میں جاب فیئر تھا، ہم پانچ کلاس فیلوز لیسٹر سے وہاں پہنچے ہوئے تھے، انسٹیزیاؔ ہمارے گروپ کو لیڈ کر رہی تھی، پال، صوفیا، رودوپی اور میں “چرواہے کی بھیڑیں” بنے ادھر کو چل دیتے جدھر کو لیڈر کا رخ ہوتا۔ دوپہر کو تھکے ماندے ایک سستے ریسٹورنٹ کے سامنے رکے اور فیصلہ کیا کہ دو پاؤنڈ والی بریانی کی “عیاشی” کی جائے، گروپ کے باقی لوگ خالص یورپین تھے اور مصالحے والی بریانی کے لیے زرا مشکل سے راضی ہوئے مگر میں نے انکو قائل کرنے کے لیے بریانی کو مسلم ورلڈ کی کلچرل ڈش بنا کر کچھ ایسے پیش کیا کہ ماس کمیونیکیشنز کے وہ اسٹوڈنٹس اپنے سی وی میں یہ صلاحیت (بریانی کھانے والی) شامل کرنے کے لیے بے چین ہو گئے۔ پانچ پاؤنڈ کے سستے برگر والے شہر میں دو پاؤنڈ کی بریانی کیسی ہوگی، لاہور اور کراچی کے روڈ سائیڈ بریانی کھانے والے دوست جانتے ہی ہونگے خیر کھانے کے بعد میں نے سب کی طرف سے اکٹھی ادائیگی کر دی، بیرے کے جانے کے بعد پال نے خاموشی سے دو پاؤنڈ میری طرف بڑھا دیے، اس کی دیکھا دیکھی صوفیا اور رودوپی نے بھی وہیں کے وہیں حساب چکتا کر دیا، انیسٹیزیا البتہ اپنے چھوٹے سے پرس سے سکے نکال کر کئی بار گن چکی تھی مگر دو پاؤنڈ پورے نہیں ہو پارہے تھے، میں نے دریا دلی سے اسکو آفر کی کہ رہنے دو، یہ بریانی میری طرف سے سمجھ لو۔ اپنے پرس میں جھانکتی آنکھیں اس نے یکدم اوپر اٹھائیں اور میرے چہرے پر جما دیں، کیوں؟ کس لیے تمہاری طرف سے؟ وہ گھورنے لگی کیونکہ ہم دوست ہیں اور دوستوں میں ایسا چلتا ہے، ہمارے کلچر میں تو لڑکی.... ابھی میرا جملہ ادھورا ہی تھا کہ وہ چمک کر بولی، تم اپنا کلچر اپنے پاس رکھو، تم کیوں میرے کھانے کے پیسے دو گے؟ کیا تم میرے بوائے فرینڈ ہو؟ نہیں، میرا گڑبڑا گیا، (تب تک تو) میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا، اس نے ساتھ بیٹھی رودوپی سے یونانی زبان میں کچھ کہا اور رودوپی نے فوراً اپنی جیب سے کچھ سکے اس کے حوالے کیے جن کو ملا کر دو پاؤنڈ اس نے میز پر میری طرف اس طرح سرکا دیے جیسے جواری اپنی فاتحانہ چال چلنے سے پہلے اپنی ساری پونجی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ یہ لو اور آئندہ مجھے کھانے کی آفر تب کرنا جب تم میرے بوائے فرینڈ ہوئے یا میرے ساتھ ڈیٹ پر ہوئے، اس نے اسی تیز لہجے میں کہا میں فیصلہ نہ کر سکا کہ جملہ مذاق میں تھا یا سنجیدہ، باقی گروپ البتہ ایک پاکستانی کی ایسی حالت کا مزہ لے رہا تھا، میں نے خاموشی سے سکے جیب میں ڈال لیے، غیر ارادی طور پر میرے جبڑے سخت ہو گئے اور میں اندرونی طور پر اپنی خجالت چھپانے میں مشغول ہوگیا۔ واپسی پر میں کچھ خاموش خاموش رہا، ٹرین مانچسٹر سے لیسٹر سٹی کو بھاگتی جا رہی تھی، سب گپ شپ کر رہے تھے، میں باقیوں سے زرا فاصلے پر کھڑکی کے ساتھ اکیلی سیٹ پر بیٹھا تھا، میرے سامنے بیٹھا ہوا گورا اٹھ کر کہیں گیا تو انیسٹیزیاؔ ادھر آ کر بیٹھ گئی اور شرارتی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔ کالج میں نوٹس بنوانے سے لے کر آفس میں کام کی ٹریننگ تک لڑکیاں اپنے مرد کولیگز سے ہر قسم کی “فیور” مانگنا اپنا حق سمجھتی ہیں، میں خالی نظروں سے اسے تک رہا تھا۔ ارے پاکستانی بوائے، تم اتنے سیریس کب سے ہونے لگے، آؤ ہمارے ساتھ ادھر گپ کرو، وہ مجھے ہنسانے کے موڈ میں تھی، نہیں میں ادھر ٹھیک ہوں، انگلینڈ کے ہریالے میدان میری کمزوری ہیں، مجھے اچھا لگتا ہے انکو کھڑکی سے پیچھے کو بھاگتے دیکھنا، میں نے وضاحت کی مگر وہ مطمئن نہ ہوئی۔ تم ریسٹورنٹ والی بات پر اپ سیٹ ہو، ہو نا؟ اس نے زرا آگے جھک کر زور سے کہا کہ ٹرین پل کے نیچے سے شور کرتی گزر رہی تھی میں خاموش رہا، وہ سمجھ گئی، مجھے اندازہ تھا تم شائد اس بات کو مائنڈ کر جاؤ، دیکھو تمہارے کلچر میں کیا ہوتا ہے تم کئی بار بتا چکے ہو، میں جانتی ہوں کہ یہ مہمان نوازی وغیرہ تمہارے کلچر میں بہت زیادہ ہے پھر وہ مجھے ستانے کے انداز میں بڑبڑائی اور ہمارے کلچر میں تو جیسے مہمان کو بھوکا ماردیتے ہیں، ہی... ہی... ہی... ہنستے ہوئے اس نے میرے کاندھے پر ہاتھ مارا۔ ارے یار، اتنا سیریس مت لو، دیکھو ہمارے کلچر میں بھی کچھ باتیں ہیں جو تمہیں نہیں پتہ مثلاً کوئی لڑکی جب کسی لڑکے سے پھول قبول کر لیتی ہے اس کا بھیجا تحفہ رکھ لیتی ہے یا اس کے ساتھ کھانے پر چلی جاتی ہے تو اسکا ایک ہی مطلب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ لڑکی اس لڑکے سے ایک تعلق بنانے کے لیے رضامند ہے، اس پر وہ لڑکا مزید پیش قدمی کو اپنا حق سمجھتا ہے اس لیے ہم لڑکیوں کو یہ تربیت شروع سے ملتی ہے کہ کبھی کسی سے مفت کے تحائف یا کوئی اور سہولت قبول کر کے اس کا حوصلہ مت بڑھاؤ جس کے ساتھ تم تعلق قائم نہیں کرنا چاہتی، ہمارے کلچر میں ایسی لڑکی جو ہر ایک سے کوئی نہ کوئی تحفہ یا دعوت قبول کر لیتی ہے بہت بری سمجھی جاتی ہے،

🌹 اللہ کی راہ میں خرچ کرنا 🌹 ایک خوبصورت اور سبق آموز حقیقی واقعہ۔۔۔ مجھے اچانک کہیں سے ایک لاکھ روپے ملے یہ ایک لاکھ معجزانہ طور پر ایک دوست دے گیا کہ تم یہ پیسے رکھ لو..... میں نے کہا لیکن کیوں.. کہتا ویسے ہی میرے پاس پڑے تھے تو سوچا تمہیں دے آوں شاید تمہارے کام آجائیں. کہنے لگا میں کافی دنوں سے تمہیں یہ پیسے دینا چاہتا تھا لیکن وقت نہیں مل رہا تھا. مجھے وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی یہ کیوں پیسے دے رہا ہے...... خیر اس کے بے حد اصرار پر میں نے پیسے لے لیے اور گھر بھیج دیے کیونکہ پچھلے 6 ماہ سے میں پاکستان اپنی والدہ اور بیوی بچوں کو پیسے نہ بھیج سکا تھا. پیسے بھیجنے کے بعد امی کو فون کیا یہ بتانے کےلئے کہ آپکو ایک لاکھ روپے بھیجیں ہیں 2 دن تک بینک سے لیں آئیں........ یہ سن کر والدہ نے زاروقطار رونا شروع کر دیا........ میں نے پوچھا امی جی کیا ہوا..... فون پر سسکیوں کی آواز سن کر پریشان ہوگیا پھر پوچھا امی جی کیا ہوا. ماں کے حلق سے آواز نہ نکلتی تھی بڑی مشکل سے روتے ہوئے بس یہی کہہ پائیں کہ بے شک وہی رازق ہے وہی وہ دینے والا ھے. وہی انتظام کرتا ہے. اور روتی جاتیں... جب کچھ صبر آیا تب امی جان کہنے لگی کہ بتاو تمہارے پاس یہ پیسے کہاں سے آئے تم تو فارغ ہو....... میں نے بتایا کہ ایک دوست گھر آکر دے گیا ہے. یہ الفاظ سننے تھے کہ ماں نے پھر رونا شروع کر دیا. مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر ماجرا کیا ھے. ماں کے رونے کا سبب پوچھا کہ امی آپ رو کیوں رہی ہیں.... کچھ تو بتائیں........ تو کہنے لگی کہ 15 دن پہلے مسجد سے چند لوگ آئے تھے کہ مسجد کی تعمیر میں کچھ حصہ ڈالیں....... میں نے ایک ہزار روپے دینے کا وعدہ کرلیا تھا. لیکن پیسوں کا انتظام نہیں ہورہا تھا گھر میں تقریبا فاقے چل رہے تھے..... لیکن میں نے نیت کی تھی کہ جو بھی ہوجائے ایک ہزار مسجد کی تعمیر میں لازمی دینا ہے ابھی 10 منٹ پہلے وہ لوگ آئےتھے تو میں نے اپنی ساری جمع پونجی جو بڑی مشکل سے 1000 بنے ان کو دے دیے اور ابھی دروازے سے واپس لوٹتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اب خدا سے تجارت کرلی اب رزق کا سامان وہ کرے گا. اور 10 منٹ بھی نہیں گزرے تمہارا فون آگیا کہ ایک لاکھ روپے بھیجیں ہیں. امی روتی جارہی تھی اور کہتی جاتی بے شک خدا کی راہ میں دینے والوں کو وہ اور بڑھا کر دیتا ھے........... اس واقعہ نے میرا توکل اور بڑھا دیا کہ خدا کیسے رزق کا سامان کرتا ہے......... کسی کے آگے ہاتھ بھی پھیلانے نہیں دیتا. وہ ستار ہے پردہ پوشی بھی کرتا ہے.... اور آزما بھی لیتا ہے کہ کون ہے جو تنگی کی حالت میں راہ خدا میں خرچ کرتا ہے....... بے شک وہ بڑا غفور الرحیم ہے. اس کے کرم کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 یوریکا ایفیکٹ 🔷 اکثر آپ لوگوں نے تجربہ کیا ہوگا کہ آپ کسی مسئلے کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں، اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے۔ پھر اچانک، جب آپ اس بارے میں سوچنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں، کسی اور کام میں مصروف ہوتے ہیں تو غیر متوقع طور پر حل ذہن میں آ جاتا ہے۔ یہ لمحہ حیران کن ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو یوریکا ایفیکٹ Eureka effect کہا جاتا ہے، جو انسانی ذہن کی ایک منفرد اور دلچسپ صلاحیت ہے۔.. یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سائنسی اور نفسیاتی اصولوں پر مبنی ایک حقیقت ہے۔ جب ہم کسی پیچیدہ سوال پر سوچتے ہیں، تو ہمارا شعوری دماغ اس مسئلے کو منطقی طور پر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر وہ ناکام ہو جائے، تو ہمارا لاشعور خاموشی سے اس کا حل تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوریکا مومنٹ اکثر ایسے وقت میں آتا ہے جب ہم بظاہر کسی اور کام میں مصروف ہوتے ہیں، جیسے نہاتے ہوئے، چہل قدمی کے دوران یا نیند سے جاگتے وقت۔.. سائنسدانوں کے مطابق، یوریکا ایفیکٹ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دماغ کے مختلف حصے، خاص طور پر دائیں نصف کرے کا ٹیمپورل لوب اور انسولا، غیر معمولی روابط بناتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جب ہم کسی مسئلے کو شعوری طور پر چھوڑ دیتے ہیں، تو لاشعور اس پر پس منظر میں کام کرتا رہتا ہے، اور جیسے ہی کوئی غیر متوقع کنکشن بنتا ہے، ہمیں ایک جھٹکے کے ساتھ اس کا حل سمجھ آ جاتا ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق، اس لمحے میں دماغ میں ڈوپامائن خارج ہوتی ہے، جو خوشی اور اطمینان کا احساس پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچانک کسی مسئلے کا حل ملنے پر لوگ خوشی سے چونک اٹھتے ہیں اور اکثر حیرت سے کہتے ہیں، "یہ کیسے میرے ذہن میں آیا... نفسیاتی طور پر، اس اثر کا تعلق "انکیوبیشن پیریڈ" سے بھی ہے، یعنی وہ وقت جب ہم کسی مسئلے پر شعوری طور پر کام نہیں کر رہے ہوتے، لیکن دماغ اسے مختلف زاویوں سے پرکھ رہا ہوتا ہے۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ کام کے دوران مختصر وقفے لیتے ہیں، وہ مسلسل دباؤ میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ تخلیقی اور مؤثر حل سوچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بڑے سائنسدان اور تخلیقی افراد کام کے دوران وقفے لینے کو ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ان کا دماغ نئے خیالات اور حل تلاش کر سکے۔.. یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی ذہن محض منطقی سوچنے کی مشین نہیں بلکہ ایک حیرت انگیز تخلیقی قوت بھی ہے۔ بعض مسائل کا حل مسلسل سوچنے سے نہیں بلکہ ذہنی آزادی، صبر اور لاشعوری بصیرت کو تسلیم کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یوریکا ایفیکٹ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بعض اوقات بہترین خیالات وہاں سے آتے ہیں جہاں ہم ان کی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔.. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ضرب المثل مصرعے 🔷 وہ اشعار جن کا ایک مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا اور دوسرا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا۔۔۔ ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام *بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا* خط ان کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی *اللہ کر ے زورِ قلم اور زیادہ* نزاکت بن نہیں سکتی حسینوں کے بنانے سے *خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے* یہ راز تو کوئی راز نہیں، سب اہلِ گلستان جانتے ہیں *ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہو گا* داورِ محشر میرا نامہ اعمال نہ کھول *اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں* *میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں* تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن *دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے* قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو *خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو* غم و غصہ، رنج و اندوہ و حرماں *ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے* مریضِ عشق پہ رحمت خدا کی *مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی* آخر گِل اپنی صرفِ میکدہ ہوئی *پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا* بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر *ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں* نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی *بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے* نہ گورِ سکندر نہ ہی قبرِ دارا، *مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے* غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے *کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا* جذبِ شوق سلامت ہے تو ان شاءاللہ *کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے* قریب ہے یارو روزِ محشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر *جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا* پھول تو دو دن بہارِ جاں فزاں دکھلا گئے *حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے* کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ *ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا* خوب پردہ ہے چلمن سے لگے بیٹھ ہیں *صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں* *اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا* لڑتے بھی ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے *عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے* بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے *ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے* 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 خطرناک رات 🔷 اوپر کے کمرے میں زینب گہری نیند سو رہی تھی۔ کھڑکی سے آتی ہوا اور نالے کا شور ایک عجیب سکون دے رہا تھا، لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ دو خطرناک لوگ نیچے موجود ہیں۔ عارف اور بلال نے پہلے گھر کے نچلے حصے کا جائزہ لیا۔ وہ زینب کی ساس کے کمرے کے قریب پہنچے اور دروازے سے کان لگا کر سننے لگے۔ اندر سے کسی کی سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔ عارف نے اشارہ کیا کہ وہ اوپر جائیں۔ دونوں چور آہستہ آہستہ سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔ عارف اور بلال دونوں علاقے کے مشہور بدمعاش تھے۔ وہ چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث رہتے تھے، لیکن آج ان کا ارادہ کچھ بڑا کرنے کا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ زینب کا شوہر، عمر، گھر پر نہیں ہے اور یہ گھر لوٹنے کے لیے بہترین موقع ہے۔ زینب کی زندگی کچھ عرصہ پہلے تک بہت پر سکون تھی۔ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور عمر سے شادی کے بعد اس کی زندگی میں خوشیاں بکھر گئی تھیں۔ عمر ایک محنتی نوجوان تھا جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔ زینب نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا اور اپنی ساس، جو بوڑھی اور بیمار تھیں، کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔ لیکن آج کی رات کچھ اور ہی تھی۔ عارف اور بلال نے اوپر کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔ زینب گہری نیند میں تھی۔ عارف نے اس کے کمرے میں موجود سامان کو دیکھا اور اس کے زیورات پر نظر ڈالی۔ بلال نے کمرے کے کونے میں رکھے بیگ کو چیک کیا، جس میں زینب کے شوہر کی کمائی کا کچھ حصہ تھا۔ عارف نے زینب کے پاس جاکر اس کے سونے کے کنگن کو دیکھا۔ وہ انہیں اتارنے کے لیے آگے بڑھا، لیکن اچانک زینب کی آنکھ کھل گئی۔ وہ چیخنے لگی، لیکن عارف نے فوراً اس کا منہ بند کر دیا۔ بلال نے کمرے کی لائٹ آن کر دی اور دونوں نے زینب کو دھمکی دی کہ اگر وہ چلائی تو اس کی جان لے لیں گے۔ زینب کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ دونوں کون ہیں اور ان کا کیا ارادہ ہے۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور چپکے سے اپنے موبائل فون کو اپنی چادر کے نیچے چھپا لیا۔ عارف اور بلال نے کمرے کو لوٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان کو ایک بیگ میں بھرنا شروع کیا۔ زینب نے موقع دیکھا اور چپکے سے موبائل فون پر اپنے شوہر کو میسج بھیجا: "گھر میں چور ہیں، جلدی آؤ۔" عمر اس وقت اپنے دوست کے گھر پر تھا۔ اس نے میسج پڑھتے ہی فوراً گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ دریں اثنا، عارف اور بلال نے کمرے کو تقریباً خالی کر دیا تھا۔ وہ زینب کو دھمکی دیتے ہوئے باہر نکلنے لگے، لیکن زینب نے ہمت جمع کی اور چلائی: "مدد! کوئی ہے؟" عارف نے غصے سے زینب کے منہ پر طمانچہ مارا اور اسے دھکا دے کر گرایا۔ بلال نے کہا: "چلو، جلدی کرو، کسی نے آواز سن لی تو مصیبت ہو جائے گی۔" لیکن اب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ عمر اپنے دوستوں کے ساتھ گھر پہنچ چکا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوتے ہی عارف اور بلال کو دیکھا۔ دونوں کے ہاتھوں میں بیگ تھے اور وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ عمر نے غصے سے چلایا: "رکو! تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا۔" عارف نے چاقو نکالا اور عمر کی طرف لپکا، لیکن عمر کے دوستوں نے اسے روک لیا۔ ایک ہلچل مچی اور آخرکار عارف اور بلال کو قابو کر لیا گیا۔ پولیس کو فون کیا گیا اور دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ زینب نے اپنے شوہر کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ عمر نے اسے سینے سے لگا لیا اور کہا: "تم بہت بہادر ہو، تمہاری وجہ سے ہی یہ دونوں پکڑے گئے۔" زینب نے مسکراتے ہوئے کہا: "میں نے صرف وہی کیا جو کوئی بھی کرتا۔ ہمارا گھر ہمارا قلعہ ہے، اور میں کسی کو اسے لوٹنے نہیں دے سکتی۔" پولیس نے عارف اور بلال سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے اپنے کئی اور جرائم کا اعتراف کر لیا۔ وہ دونوں جیل بھیج دیے گئے اور علاقے میں امن قائم ہو گیا۔ زینب اور عمر نے اپنی زندگی کو دوبارہ سے شروع کیا۔ انہوں نے اپنے گھر کو محفوظ بنانے کے لیے نئے اقدامات کیے اور اپنی بوڑھی ماں کی خدمت میں اور بھی زیادہ محنت کی۔ زینب کی بہادری کی کہانی پورے علاقے میں مشہور ہو گئی اور لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ستارا پری اور جن کی کہانی 🔷 نخلیستان میں ایک شہر اباد تھا جہاں کے لوگ بہت خوشالی کی زندگی گزار رہے تھے وہاں کی ملکہ ایک ستارہ پری تھی جو اپنے جادو سے لوگوں کےلیے بہت قیمتی اشیاہ دیتی اور کھانے کھلاتی پری کے اس کام سے سب لوگ بہت خوش تھے پری کے اس چھوٹے سے شہر کے پاس بہت خوبصورت باغ تھا جہاں ہر قسم کے پھل لگتے اور لوگ طرح طرح کے پھل کھاتے۔ بہت اچھا وقت گزر رہا تھا نخلستان کے پاس ہی ایک سر دیوی نامی پہاڑی سلسلہ تھا کہ اچانک جن سر دیوی پہاڑوں کے پاس پہنچا جہاں کوی انسان اور نا ہی کوی جانور رہتا سنسان پہاڑوں پر جن ایا پری سر دیوی پہاڑیوں سیر کرنے جاتی اور دیکھتی کہ اگر ان سنسان پہاڑوں پر کوی ہوتا تو پری اس کی مدد کرتی جن نے پری کو اتے دیکھ اپناروپ بدل لیا اور ایک عام انسان کی طرح بن گیا پری نے دیکھا تو وہاں کوی قیمتی لباس پہنے ادھر اودھر بھٹکتا پھر رہا ہے پری نے سوچا کوی مسافر ہے چلو اس کی مدد کرتی ہوں جب پری اس کے پاس پہنچی اور اس سے پوچھا تم کون ہو تو جن نے پری کو بتایا کہ وہ بہت امیر شہزادہ ہے اور اس کا قافلہ ایک طوفان میں کھو گیا اور اب وہ اپنے قافلے کو ڈھونڈ رہا پری کے دل میں اس لیے رحم ایا پری اس کو اپنے خوبصورت محل میں لے گی اور اسے کہا تم ارام سے اس محل رہ سکتے جب تک تمھارا قافلہ مل ناجاے جن بہت خوش ہوا جن نے رات کو جب سب سو جایں گے تو اپنی اصلی روپ ان سب کو کھا جاوں اور پری کو قید کر دونگا اور اپنی غلام بنا لوں گا پری کے پاس ایک بہت ہی قیمتی انگھوٹھی تھی جو اسے پرسیتان کے بادشاہ نے دی تھی کہ جب وہ دنیا میں کہیں جاے تو وہ ہر قسم جنات بھوت اور دیو سے محفوظ رہے جن وہ انگھوٹھی چرانا چاہتا تھا اس نے پری کو دھوکا دیا اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگا روزانہ سونے سے اپنی انگھوٹھی کو چاند کی طرف کرتی اور اس کی روشنی سے پریستان کی سب سےجادو طاقتیں اس انگھوٹھی میں اجاتی اور اگر کوی خطرہ ہوتا تو انگھوٹھی ایک اور پری حاضر ہوتی اور وہ خطرہ سے اگاہ کرتی روزانہ کی طرح پری نے اس رات اپنے کمرے کی کھڑکی انگھوٹھی چاند کی طرف کی تو فورا ایک پری ای ستارہ پری سے کہنے لگی محل میں بہت زیادہ خطرہ ہے ستارہ پری نے پوچھا کون تو دوسری نے ستارہ بتایا جیسے تم نے مہمان بنا کر اپنے محل میں رکھا وہ شہزادہ نہیں ایک جن ہے پری چھپکے اسے اس کمرے میں دیکھا جہاں جن تھا تو جن جاگ رہا تھا پری نے جن کے کمرے کے باہر سے کنڈی لگا دی اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگی اور اپنے کمرے سو گیی جن نے جب دیکھا کہ دروازاہ نہیں کھل رہا تو جن سانپ بن کر ایک روشندان باہر نکلا اور پری کے کمرے سے انگھوٹھی چرا لی پری کا ایک طوطا تھا وہ بہت چالاک تھا جن نے جب انگھوٹھی چرای جن نے محل سے باہر اڑانا شروع کیا اور زور زور سے ہنسنے لگا اور پھر اپنے کمرے میں واپس اگیا طوطا بھی جن کے پیچھے اس کے کمرے میں ایا اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ گیا جن کو نیند اگیی اور سو گیا طوطے نے جن سے چھپکے سے انگھوٹھی چرا کر پری کو دے دی جن محل پر اپنا جادو کرنے لگا لیکن ستارہ پری کی انگھوٹھی کی وجہ محل پر جادو نا ہو سکا جن ادھر اودھر انگھوٹھی دوھونڈنے لگا جن محل سے نکل کر بسی میں جہاں لوگ موجود تھے جن کو دیکھ سب لوگ ڈر گیے طوطے پری بتایا کہ جن بستی میں ہے اور سب لوگ اس سے ڈر رہے ہیں پری اور طوطا وہاں پہنچے تو جن نے پری کو قید کرنے کے لیے اس پر آگ برسائی پری اس سے بچ گیی اور پاس ہی درختوں کو آگ لگ گیی سب لوگ ڈر کر اپنے گھروں میں چھپ پری نے جن سے کہا تم شہزادے نہیں شیطان جن ہو جن نے پری سے کہا ہاں میں جن ہوں تم سب کو کھا جاوں گا پری نے فورا اپنی انگھوٹھی سے جن کو پتھر بنا دیا سب لوگ حیران تھے یہ اتنا بدصورت جن کہاں سے ایا ہے پری نے سب واقع بتایا تو سب لوگوں اس مجسمے کو پتھر مارو جب لوگ پتھر مارتے تو اندر سے جن کے چلانے کی اوازیں اتی پری نے جن کو پتھر بنا کر خوب سزا دی جن بہت چلایا ۔ لوگوں نے مجمسہ اٹھا کر سر دیوی کے پہاڑوں میں موجود ایک دریا میں پھینک دیا اور سب بہت خوش ہوے . اور پری کا شکریہ ادا کیا اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ 🌹 پیارے بچو! اگر اپ کو کہانی پسند ائی ہو تو کمنٹ میں بتائیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ شکریہ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ساجد کی آنکھوں میں جذبات کا ایک طوفان تھا۔ وہ کبھی اپنی بیوی کی طرف دیکھتا، کبھی اس چوڑی کی طرف جو اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے سوچا، یہ وہی چوڑی ہے جو شادی کے بعد پہلی بار اس نے اپنی بیوی کے ہاتھ میں دیکھی تھی، جو ہمیشہ اس کے زیور کا حصہ رہی، جسے وہ کبھی کھونے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اور آج؟ آج وہی چوڑی اس کے ہاتھ میں تھی، مگر ایک مختلف مقصد کے لیے۔ بیوی کی باتیں اس کے ذہن میں گونجنے لگیں، "جب آپ نے اپنی بائیک بیچی، تو مجھے دکھ ہوا تھا۔ یہ میری قربانی کا حصہ سمجھیں۔۔۔" قربانی؟ کیا واقعی؟ اس نے اپنی بائیک بیچی تھی، مگر وہ ایک مجبوری تھی، کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی اس بائیک سے۔ مگر یہ چوڑی؟ یہ تو اس کی بیوی کی یادوں، اس کی ماں کی محبت، اور شاید اس کی آخری قیمتی چیزوں میں سے ایک تھی۔ اس کے دل میں عجیب سی کشمکش ہونے لگی۔ کیا وہ یہ چوڑی رکھ لے؟ کیا وہ اپنی بیوی کی اس قربانی کو قبول کر لے؟ یا پھر وہی کرے جو ایک شوہر کو کرنا چاہیے؟ اس کی انگلیاں چوڑی کو سختی سے تھامے ہوئے تھیں، جیسے وہ اسے کبھی ہاتھ سے گرنے نہیں دینا چاہتا۔ آنکھیں دھندلا گئیں، مگر وہ انہیں جھپک کر صاف کر گیا۔ مڈل کلاس مرد کی زندگی میں آنسو بہانے کی اجازت کہاں ہوتی ہے؟ وہ تو بس ہر چیز کو "ٹھیک ہے" کہہ کر ہضم کر لیتا ہے۔ مگر آج؟ آج دل چاہ رہا تھا کہ وہ کہے، "نہیں، مجھے یہ نہیں چاہیے۔ مجھے تمہارا ساتھ چاہیے، تمہاری ہمت چاہیے، تمہارا یقین چاہیے۔" مگر وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ بس گہری سانس لی، چوڑی کو مٹھی میں دبایا، اور نظریں چرا کر بولا، "دیکھتا ہوں، کیا ہو سکتا ہے۔" پھر وہ پلٹ کر کمرے سے باہر آ گیا، لیکن اس کے قدم بوجھل ہو چکے تھے۔ کیا وہ سونے کی چوڑی بیچ پائے گا؟ یہ سوال ساجد کے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا۔ چوڑی اس کی مٹھی میں تھی، مگر وہ مٹھی کھول نہیں پا رہا تھا۔ یہ صرف ایک زیور نہیں تھا، یہ ایک عورت کی قربانی تھی، اس کی محبت تھی، اس کا یقین تھا۔ کیا وہ اس قربانی کو قبول کر سکتا ہے؟ کیا وہ اپنی بیوی کے خوابوں کا سودا کر سکتا ہے؟ یا پھر کوئی اور راستہ نکالے گا؟ یہی کشمکش تھی… یہی جنگ تھی… جس کا فیصلہ ابھی باقی تھا! 🔘 یہ کہانی صرف ساجد کی نہیں، یہ کہانی اس ملک کے ہر اُس مڈل کلاس شخص کی ہے جو روز جیتا ہے، روز مرتا ہے، مگر کسی کو اس کی ہار یا جیت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس کی جیب میں خواب زیادہ اور نوٹ کم ہوتے ہیں، جس کے پاس خواہشیں تو ہوتی ہیں، مگر ان کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ کسی نہ کسی قربانی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5853 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 مڈل کلاسیا 🔷 رات کے دس بج رہے تھے۔ ساجد ابھی تک دکان پر ہی تھا۔ تھکاوٹ اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی، مگر واپسی کا راستہ ابھی باقی تھا۔ رکشہ لینے کا مطلب تھا روز کے بجٹ میں کٹوتی، اس لیے وہ ہمیشہ کی طرح پیدل ہی چل پڑا۔ ساجد ایک عام مڈل کلاس انسان تھا۔ وہ جو اپنی خواہشات کو مار کر دوسروں کی ضروریات پوری کرتا ہے، جو ہمیشہ "آج نہیں، کل دیکھیں گے" کہہ کر اپنی خوشیوں کو ملتوی کرتا رہتا ہے۔ گھر پہنچا تو بچوں کو سویا پایا۔ بیوی نے دروازہ کھولا، مگر اس کے چہرے پر وہ خوشی نہ تھی جو کسی شوہر کی واپسی پر ہونی چاہیے۔ "بہت دیر کر دی، کھانا رکھ رہی ہوں، ٹھنڈا ہو گیا ہوگا۔" وہ یہ کہہ کر کچن میں چلی گئی۔ ساجد نے ہاتھ دھوئے اور کھانے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ بیوی کی آواز آئی: "پڑوسن کہہ رہی تھی کہ کل سکول فیس کی آخری تاریخ ہے۔ بچوں کی فیس دی؟" ساجد کے ہاتھ میں روٹی کا نوالہ رک گیا۔ وہ چپ رہا، جواب میں کیا کہتا؟ پورے مہینے کی جمع پونجی تو کرائے، بجلی کے بل اور راشن میں ختم ہو چکی تھی۔ بیوی اس کی خاموشی سمجھ گئی اور آہستہ سے بولی: "کوئی انتظام کر لو، ورنہ بچے شرمندہ ہوں گے۔" ساجد نے اثبات میں سر ہلایا، مگر اس کے دل میں ہزاروں سوال اٹھنے لگے۔ وہ یہ انتظام کہاں سے کرے؟ ہر مہینے یہی کشمکش، یہی جنگ، یہی سمجھوتے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی تھی، مگر آمدنی وہی تھی۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات بھی بوجھ لگنے لگی تھیں۔ "بابا، میری سائیکل کا ٹائر پنکچر ہے۔" اگلے دن بیٹا معصومیت سے بولا۔ "بابا، میری جوتی پھٹ گئی ہے، سب مذاق اڑاتے ہیں۔" بیٹی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ یہ جملے ساجد کے دل میں تیر کی طرح لگے۔ وہ کچھ نہ بولا، بس خاموشی سے باہر نکل گیا۔ گلی میں آ کر گہری سانس لی، خود کو تسلی دی کہ زندگی یونہی چلتی ہے۔ مڈل کلاس کا یہی مقدر ہے، خواہشوں اور حقیقتوں کے بیچ پس جانا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب عارضی ہے، مگر یہ عارضی وقت کبھی ختم بھی ہوگا؟ بیوی دروازے کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ ساجد کے خالی ہاتھ اور جھکی نظریں دیکھ چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر جتنا کر سکتا ہے، کر رہا ہے۔ مگر کیا کرے؟ "سنیں۔۔۔" وہ دھیرے سے بولی۔ ساجد نے مڑ کر دیکھا، آنکھوں میں بے بسی تھی۔ "میں نے سوچا ہے، کچھ ٹیلرنگ کا کام شروع کر لوں۔ دو چار سلائیاں ہی آتی ہیں، اگر تھوڑا سیکھ لوں تو شاید گزارا آسان ہو جائے۔" ساجد خاموش رہا۔ اس کی مردانہ انا اسے روک رہی تھی کہ بیوی گھر سے باہر کام کرے، مگر حقیقت نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ "اگر تمہیں اچھا لگے تو کر لو، بس خود کو زیادہ تھکانا مت۔" وہ آہستہ سے بولا۔ بیوی کے چہرے پر ہلکی سی روشنی آ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ اجازت دینا ساجد کے لیے آسان نہیں تھا، مگر اس نے یہ قدم اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے اٹھایا تھا۔ چند لمحے خاموشی رہی، پھر وہ آہستہ سے بولی: "سنیے، میں ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں۔۔۔" ساجد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ "آپ نے قرض اتارنے کے لیے جو بائیک بیچی تھی، وہ تو ہمارے لیے بہت بڑی قربانی تھی، مگر اگر کسی طرح دوبارہ کوئی اچھی چلتی ہوئی بائیک خرید لی جائے تو آپ کے لیے بھی آسانی ہو جائے گی۔ دکان آنے جانے میں وقت بچے گا اور آج کل لوگ آن لائن بائیک بھی چلا رہے ہیں۔ آپ دکان جاتے ہوئے کوئی سواری لے لیا کریں، کم از کم آنے جانے کے پیسوں سے گھر کا خرچ نکل آئے گا۔ باقی میں سلائی سیکھ کر تھوڑی بچت کر لوں گی۔ آخر ہم ایک دوسرے کا سہارا ہیں اور ہمارے بچے بھی۔۔۔ مل جل کر سب سنبھال لیں گے۔" ساجد غور سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کی بیوی اسے کبھی اتنی سمجھدار اور حوصلہ مند نہیں لگی تھی جتنی آج لگ رہی تھی۔ شاید زندگی کی مشکلات نے ہی اسے یہ ہنر سکھایا تھا کہ جب ایک ہاتھ خالی ہو، تو دوسرا ہاتھ تھامنے کے لیے آگے بڑھایا جائے۔ ساجد نے گہرا سانس لیا، جیسے کسی بوجھ سے نجات پا رہا ہو۔ "ٹھیک ہے، میں کل دیکھوں گا کہ کہیں سے اچھی بائیک مل سکتی ہے۔" بیوی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، جیسے اسے یقین ہو کہ راستہ بن جائے گا۔ ساجد نے پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ بیوی بولی، "رکیں، ایک منٹ۔۔۔" وہ جلدی سے اندر گئی اور الماری سے کچھ نکال کر واپس آئی۔ ساجد نے دیکھا، یہ اس کی گولڈ کی چوڑی تھی۔ "یہ امی نے مجھے دی تھی، لیکن اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے رکھ لیں۔ ضرورت پڑے تو بیچ کر بائیک خرید لیجیے۔" ساجد چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ حیران تھا، فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا کرے۔ بیوی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا، "جب آپ نے اپنی بائیک بیچی تھی، تو مجھے بہت دکھ ہوا تھا۔ وہ ایک قربانی تھی جو آپ نے ہمارے لیے دی۔ اب یہ میری قربانی ہوگی۔ جب امی نے مجھے یہ دی تھی، تو بس یہ میری زندگی کا حصہ بن گئی، اور اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال کریں۔"

■ ماہ شعبان المعظم کے متعلق پوسٹیں۔۔۔ دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔ https://t.me/islamwitheman/3133 🌹 ماہ شعبان میں فضیلت روزہ و صدقہ https://t.me/islamwitheman/3137 🌷 ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال https://t.me/islamwitheman/3138 🌹 میلاد جناب زینب عالیہؑ https://t.me/islamwitheman/3155 🌹 ولادت باسعادت حضرت امام حسینؑ https://t.me/islamwitheman/3166 🌹 امام حسینؑ کی رسولؐ سے شباہت https://t.me/islamwitheman/3167 🌹 امام حسینؑ سے رسولؐ کی محبت https://t.me/islamwitheman/3168 🌹 امام حسینؑ جوانان جنت کے سردار https://t.me/islamwitheman/3169 🌹 امام حسینؑ اور آیہ تطہیر و مباہلہ t.me/islamwitheman/3170 🌹 امام حسینؑ وارث علم پیغمبرؐ t.me/islamwitheman/3171 🌹 فطرس کا واقعہ t.me/islamwitheman/3172 🌹 ولادت باسعادت حضرت عباس علمدارؑ t.me/islamwitheman/3187 🌹 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت t.me/islamwitheman/3188 🌹 حضرت عباسؑ باب الحوائج t.me/islamwitheman/3189 🌹 پانی اور قبر وفائے کربلا t.me/islamwitheman/3190 🌹 عورت اور عباس علیہ السلام t.me/islamwitheman/3191 🌹 فطرس، دردائیل اور صلصائیل t.me/islamwitheman/3194 🌹 ولادت باسعادت امام زین العابدینؑ t.me/islamwitheman/3203 🌹 شان عبادت امام سجادؑ t.me/islamwitheman/3204 🌹 امام سجادؑ کی غرباء پروری t.me/islamwitheman/3207 🌹 فضہ نوبیہ کنیز زھراءؑ t.me/islamwitheman/3211 🌹 جناب فضہ سلام اللہ علیھا t.me/islamwitheman/3212 🌹 شہزادہ قاسم بن حسن علیہ السلام t.me/islamwitheman/3234 🌹 ولادت باسعادت شہزادہ قاسمؑ t.me/islamwitheman/3235 🌹 ولادت باسعادت شہزادہ علی اکبرؑ t.me/islamwitheman/3262 🌹 حضرت علی اکبرؑ کی عمر مبارک t.me/islamwitheman/3263 🌹 شہزادہ علی اکبرؑ کی شادی t.me/islamwitheman/3264 🌹 اعمال نیمہ شعبان t.me/islamwitheman/3279 🌹 امام العصرؑ کی زیارت کے مثل دعا t.me/islamwitheman/3280 🌷 امام صادقؑ کی تعلیم کردہ دعا t.me/islamwitheman/3281 🌷 ولادت باسعادت امام زمانہؑ عج t.me/islamwitheman/3282 🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ t.me/islamwitheman/3292 🌹 غَیبتِ صُغریٰ اور غَیبتِ کُبریٰ t.me/islamwitheman/3293 🌹 انتظار امام ایک ذمہ داری t.me/islamwitheman/3294 🌹 امامؑ کے ظھور میں وجۂ تاخیر t.me/islamwitheman/3295 🌹 امام مھدیؑ کے لشکر کی تفصیلات t.me/islamwitheman/3296 🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا t.me/islamwitheman/3297 🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری t.me/islamwitheman/3298 🌹 اطاعتِ امامؑ t.me/islamwitheman/3299 🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ t.me/islamwitheman/3300 🌹 امام مھدیؑ اور دیگر ادیان t.me/islamwitheman/3301 🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ t.me/islamwitheman/3302 🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب t.me/islamwitheman/3303 🌹 امامؑ کی اطاعت t.me/islamwitheman/3304 🌹 منتظرینِ إمامؑ t.me/islamwitheman/3305 🌹 امام العصر عج سے رجوع t.me/islamwitheman/3306 🕌 نماز حاجت و استغاثہ امام زمانہ عج t.me/islamwitheman/3307 🕌 نماز امام زمان عج t.me/islamwitheman/3308 🌹 جناب نرجس خاتونؑ t.me/islamwitheman/3309 🌐 نوّاب اربعہ کون ہیں؟ پہلے نائب t.me/islamwitheman/3312 🌐 نوّاب اربعہ میں سے دوسرے نائب t.me/islamwitheman/3313 🌐 نوّاب اربعہ میں سے تیسرے نائب t.me/islamwitheman/3314 🌐 نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب t.me/islamwitheman/3315 🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض t.me/islamwitheman/3316 👈 شلمغانی کون ہے؟ t.me/islamwitheman/3319 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

کالی بلی رستہ کاٹے۔۔۔۔۔ کا پس منظر۔۔۔۔۔ پرانے وقتوں میں پاک و ہند میں باورچی خانے صحن کے کونے میں ہوتے تھے تاکہ لکڑی یا کویلے
کالی بلی رستہ کاٹے۔۔۔۔۔ کا پس منظر۔۔۔۔۔ پرانے وقتوں میں پاک و ہند میں باورچی خانے صحن کے کونے میں ہوتے تھے تاکہ لکڑی یا کویلے کا دھواں گھر کے اندر نہ جاے۔ کھانا وہیں پکایا جاتا، وہیں بچے ہوے کھانے اور روٹیوں کو رکھ دیا جاتا۔ اب کوئی عورت کچھ دیر کے لیے گاؤں میں کسی کے گھر ملنے جاتی یا جاتی، اگر راستے میں اس کے سامنے سے کوئی بلی گزر جاتی، اسے یاد آ جاتا کہ کھانا، روٹیاں یا دودھ باہر پڑا ہے۔ بلی نظر آتے ہی وہ الٹے پاؤں واپس آ جاتی، روٹی یا دودھ سنبھالتی۔ گھر کا کوئی فرد اس سے جلد آنے کی وجہ پوچھتا، وہ کہتی؛ " دودھ کھلا پڑا تھا, ایک کالی منحوس بلی ہمارے گھر کی جانب آ رہی تھی، مجھے واپس آنا پڑا" وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے کالی بلی کا راستہ کاٹنے پر نخوست سمجھنا شروع کر دیا۔ ( وہم کی ایک بہترین مثال۔ یعنی، ایسا عمل، جو وقوع پذیر ہی نہیں ہوا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں، آج تک اسے سچ سمجھا جاتا ہے)

🔷 شادیوں کا ورلڈ ریکارڈ 🔷 38 سالہ خاتون کی 55 شادیاں، گنیز بک میں درج۔ عالمی ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ مگر یہ ریکارڈ شاید ہی کوئی توڑ سکے۔ شمال مغربی افریقہ کے مسلم ملک موریطانیہ کی ایک خاتون نے شادیوں کی نصف سنچری مکمل کر کے عالمی ریکارڈ قائم فرما لیا ہے۔ ”سلم“ نامی خاتون نے صرف 35 برس میں شادیوں کی نصف سنچریاں مکمل کیں، 50 شادیوں کے بعد بھی سلم کا کیریئر ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد وہ مزید 5 بار دلہن بنیں۔ اب 38 سال میں ان کے شادیوں کا "اسکور" 55 تک پہنچ چکا ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این عربی کے مطابق موریطانیہ میں ایک ایسی خاتون منظر عام پر آئی ہے، جسے دنیا میں سب سے زیادہ شادیاں کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ مقامی ٹی وی چینل ”الساحل“ کو انٹرویو دیتے ہوئے ”سلم“ نامی 38 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی شادی شدہ زندگی کا آغاز 12 برس کی عمر میں ہی ہو گیا تھا اور ان کے اس ازدواجی سفر میں مختلف قسم کے مرد شریک ہوتے رہے۔ خاتون کے مطابق ان کی طویل ترین شادی 15 سال تک چلی، جب کہ بعض شادیاں 3 ماہ، بعض 2 ہفتے اور بعض تو 2 دن میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔ سلم خاتون کے مطابق، ان تمام شادیوں کی ناکامی کا بنیادی سبب ان کی حد سے زیادہ غیرت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ میں معمولی بات کو بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس لئے میری غصیلی طبیعت کو زیادہ تر شوہر برداشت نہ کر سکے، جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میری شادیوں کی ناکامی میں شوہروں کے کردار کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم 55 میں سے صرف 3 شوہر ایسے تھے، جن کے ساتھ رہ کر سلم خاتون نے خود کو محفوظ تصور کیا۔ سلم کا کہنا ہے کہ ازدواجی سفر میں شریک ہونے والے تمام شوہروں کے نام انہیں اچھی طرح یاد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سلم نے شادیوں کی نصف سنچری مکمل کر کے امریکی خاتون لِنڈا وولف (Linda Wolfe) کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے، لنڈا وولف نے اپنے ازدواجی کیریئر میں 23 شوہروں سے عقد نکاح کیا تھا۔ اب اس کی جگہ موریطانیہ کی سلم کا نام درج کر لیا گیا۔ سلم نے زیادہ شادیاں ریکارڈ قائم کرنے کے لئے نہیں کی تھیں، بلکہ ان کے وہم و گمان بھی نہ تھا۔ ان کی جانب سے یہ انکشاف ابھی ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا گیا۔ دوران انٹرویو سلم نے اپنی ہم وطن خواتین کے نام پیغام میں کہا کہ وہ میری پیروی ہرگز نہ کریں۔ پہلا شوہر جیسا بھی ہو اس کے ساتھ گزر بسر کریں۔ اچھے سے اچھے شوہر کی تلاش میں خاتون کہیں کی نہیں رہتی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک انتہائی دلچسپ بات ہے کہ موریطانیہ میں ایک طرف خواتین کی بہت بڑی تعداد غیر شادی شدہ ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں مناسب رشتے نہیں مل رہے تو دوسری طرف ”سلم“ نے 38 برسوں کے دوران 55 مردوں سے شادیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق موریطانیہ کے مرد اسی خاتون سے شادی کو ترجیح دیتے ہیں، جو خوب فربہ ہو، اس لئے کمزور جسم والی عورتیں کنواری رہ جاتی ہیں، جبکہ اس صحرائی ملک میں خواتین کا مہر بھی اتنا زیادہ رکھا جاتا ہے، جسے ہر کوئی افورڈ نہیں کر سکتا، اس لئے بہت سے مرد بھی غیر شادی شدہ رہ جاتے ہیں۔ موریطانیہ خطے کی واحد ریاست ہے، جہاں طلاق کو ایک سماجی روایت کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں طلاق جیسے منفی عمل کے روزمرہ کی بنیاد پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات نے خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ طلاق کے بڑھتے رجحان نے 44 فیصد عائلی اور سماجی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، لیکن صنف نازک اس منفی طرز عمل کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ہیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق موریطانوی سماج ”چٹ میں شادی، پٹ میں طلاق“ کے اصول پر چل رہا ہے۔ عورتوں کو وقت نکاح نہ صرف نان نفقے اور رہائش جیسی کسی بنیادی سہولت کا حق نہیں دیا جاتا، بلکہ خواتین کے ”حق مہر“ جیسے شرعی فریضے کی ادائیگی بھی نہیں کی جاتی۔ خواتین کو طلاق کے بعد دوہرا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ طلاق کے بعد ”عرصہ عدت“ گزارنے تک نان نفقہ سابقہ شوہر ہی کے ذمہ ہونا چاہیے، لیکن موریطانیہ میں تو مطلقہ کو سابقہ شوہر کے بچوں کو بھی خود ہی پالنا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موریطانیا میں عقد نکاح کے دوران شوہر کہتا ہے کہ ”وہ اپنی بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں۔ عورت اپنے معاملات کی خود ہی یا اس کا ولی ذمہ دار ہو گا۔“ اس کے بعد یہ شرط نکاح نامے میں درج کر لی جاتی ہے۔ اس شرط کے ساتھ عورت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ ”وہ نباہ نہ ہونے کی صورت میں خود ہی اپنی طلاق کا فیصلہ کرے گی۔“ اس شرط کی رو سے طلاق کا اختیار شوہر کے بجائے بیوی کو حاصل ہوتا ہے اور بیوی ذرا سی بات پر خود کو طلاق دے کر چلی جاتی ہے۔ اس لئے موریطانیہ میں طلاق کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ https://t.me/islamwitheman/5849 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔷 دوسری عورت 🔷 گروپ کے قاری ہونے کی بدولت اکثر "دوسری خواتین" کا شادی شدہ مردوں کو اپنے دام میں پھنسا کہ لے اڑانے کی حقیقت کا احاطہ کرنے کے لیے جنبش قلم کی جسارت کر رہا ہوں۔ کون ہے یہ دوسری عورت ؟ کہاں سے آتی ہے. کہاں پیدا ہوتی ہے. .آخر کسی ماں کی جنی تو ہوتی ہے نا. یا کسی درخت پر اگتی ہے. .؟ پھر آخر یہ کیسے کسی کی زندگی میں دخل'' در نا معقولات ''کر سکتی ہے. کیا یہ اپنے والدین کے درمیان کسی عورت کا وجود برداشت کر سکتی ہے. اگر نہیں تو یہ کسی اور کے گھر میں نقب کیسے لگاتی ہے؟ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ یہ دوسری عورت بہت طاقتور ہوتی ہے. . یہ مرد کی زندگی میں موجود پہلی عورت کے وجود کو عدم میں تبدیل کر دیتی ہے اور پہلی عورت کا پہلا مرد اپنی زندگی میں آنے والی دوسری عورت کی خوشنودی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ بس ایک کام وہ اکثر نہیں کرتا.. پہلی عورت کا پہلا مرد اپنے پہلے گھر کا سکون اس دوسری عورت کے لیے برباد کرنے سے ہر ممکن کوشش کر کے بچتا ہے. اس پہلے مرد کو دوسری عورت سکون طلب ہوس خوشی یا ٹرافی کی طرح تو چاہیے لیکن اسے مستقل گلے کا ہار بنانے کا ارادہ وہ نہیں رکھتا. اور پھر جب یہ عورت ''available as per required ''ہے تو مستقل درد سر پالنے کی کیا ضرورت ہے. جو عورت بھی دوسری عورت بنتی ہے اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس نے میدان مار لیا تو میری اس بہن سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ اس خیال کو اپنے دل و دماغ سے کھرچ دے. اور اپنے حالات سے سمجھوتہ کر کے کسی نیک مرد کی پہلی عورت بن کر اپنا گھر بسائے اور اپنی گرہستی سنبھالے۔ بڑے کہتے ہیں ''مرد میلے ٹھیلے کا انسان ہے''سو اسے ہر میلے میں کوئی کھلونا پسند آ ہی جائے گا.. لیکن شام ڈھلے گھر واپس بھی اس نے جانا ہی ہے۔ ہر عورت اپنے گھر کا خواب لے کر ہی بچی سے بڑی ہوتی ہے ..کچھ خواتین ایک غیر حقیقی آیڈیل کے انتظار میں اپنا وقت تباہ کر بیٹھتی ہیں. . ذہنی ہم آہنگی. آسائش، دولت، کار کوٹھی بنگلے عہدے والے established مرد کا سوچتے سوچتے وقت نکل جاتا ہے. .اور جب ہوش آتا ہے تو پہلے مرد کی پہلی عورت بننے کا خواب ٹوٹ جاتا ہے. .۔۔۔ اب خواہشات اور خوب سے خوب تر کی تلاش نے وقت تو ہاتھ سے ریت کی مانند اڑا دیا ہوتا ہے اس لیے اب پہلی عورت بننے کی خواہش پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایسی خواتین شکاری کی طرح تاک میں لگ جاتی ہیں کہ کب موقع ملے اور کسی کی بسی بسائی گرہستی میں سے ''اپنا'' حصہ بٹائیں. . ظاہر ہے کار کوٹھی والا اسٹیبلشڈ مرد عموما بیوی بچوں والا ہوتا ہے. .لہذا یہ خواتین دوسری عورت بن کر آدھے کے لیے کوشش کرتی ہیں اور عموما منہ کی کھاتی ہیں. . ہمارا معاشرہ پہلی بیوی اور بچوں کو تحفظ دیتا ہے اور معاشرے کے خوف سے عموما مرد دوسری عورت کو ''پال''تو لیتے ہیں لیکن اپنا نام نہیں دیتے. خواتین، جذباتی لڑکیو! اپنے آپ کو ''جنس'' مت سمجھو اپنی قدر پہچانو. کسی کی بسی بسائی گرہستی کو تباہ مت کرو. .. تم تو شاید اپنی کوشش کی ناکامی کے بعد اپنی راہ لے لو گی لیکن جس کا گھر تم جلتے تندور میں پھینک آو گی اس کا وبال تمہیں تمہارے گھر میں بھی بےسکون ہی رکھے گا. . یاد رکھو! تمہارے رب نے تمہیں جس آدم کی پسلی سے پیدا کیا یے. وہ آدم تمہیں ضرور ملے گا .اپنے رب پر بھروسہ رکھو اور اپنے نصیب کے رزق کا انتظار کرو. .صبر شکر اور حوصلے کے ساتھ۔ اپنا وقت اپنی تعلیمی استعداد اور ہنر کو بڑھانے کے لئے استعمال کرو تاکہ وقت کی باگ دوڑ تمہارے ہاتھ میں رہے اور تمہاری قسمت کی نکیل تمہارے مقسوم مرد کے ساتھ جڑی نہ ہو. بلکہ تم اپنی زندگی کی مہار خود تھامو. تم آپ اپنا تعارف بن جاو. منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ہدہد 🔷 ‏ہُدہُد وہ واحد پرندہ ہے جو زندگی میں صرف ایک بار شادی کرتا ہے اور اپنے جیون ساتھی کی وفات کے بعد اکیلے ہی زندگی گزارتا ہے۔ یہ اپنی مادہ مہر کو کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا ہے۔ اگر وہ اسے کھا لےتو اس کا مطلب یے کہ وہ شادی کے لیے راضی ہے۔ پھر نر اس مادہ کو اپنے گھونسلے کی طرف لے کر جاتا ہے جو اس نے اکثر اوقات کسی درخت میں سوراخ کرکے کھو میں بنایا ہوتا ہے۔ اگر اس کو پسند آ جائے تو دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتے ہیں۔ مادہ ہمیشہ ہر موسم میں عموماً چھ سے آٹھ انڈے دیتی ہے اور بچے پیدا ہونے کے بعد دونوں باری باری خوراک کا بندوست کرتے ہیں۔۔ عجیب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی کو خوراک کی چیز مل جائے تو وہ اسے اکیلے نہیں کھاتے بلکہ دونوں اکھٹے ہونے کے بعد ہی اسے کھا تے ہیں۔ ہُڈہُد کی چھٹی حِس یا نگاہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے اوپر سے ہی زیرِ زمین پانی کو محسوس کر لیتا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے زیر زمین پانی ڈھونڈنے کا کام لیتے تھے۔ ہُدہُد ہزاروں میل کا سفر بغیر رکے طے کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے ذریعے دوسرے ملک ملکہ بلقیس کو خط لکھ کر بھیجا تھا۔ ہُدہُد کی ازدواجی زندگی آج کے دور کی انسانوں کے لیے ایک مثال ہے۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5846 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content