ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 286
مشترکین
+124 ساعت
-27 روز
-630 روز
آرشیو پست ها
1 286
🌹 اللہ پر یقین 🌹
یقین، صبر اور اللہ پر بھروسے کی یہ کہانی دل کو چھو لینے والی ہے۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ ایک شخص کی دکان مکمل طور پر جل گئی۔ صرف دیواریں بچی تھیں، باقی سب کچھ راکھ ہو چکا تھا۔ جب آگ بجھائی گئی تو لوگ اس کے پاس جمع ہو گئے تاکہ اسے تسلی دیں، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شخص مسکرا رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
لوگوں نے حیرت سے پوچھا، "ابو عبداللہ، تم مسکرا کیوں رہے ہو؟ تمہاری دکان جل چکی ہے، کیا تم اپنا ہوش کھو بیٹھے ہو؟"
اس نے سکون سے جواب دیا، "میں کیوں پریشان ہوں، جب مجھے یقین ہے کہ اگر میں اللہ کی تقدیر پر راضی رہوں گا، تو وہ مجھے اس سے بہتر عطا کرے گا۔ میں نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔"
دو ہفتے بعد، لوگ اس وقت حیرت میں ڈوب گئے جب انہوں نے ایک نئی، بڑی دکان دیکھی جو ہر قسم کے سامان سے بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے اندر جا کر دیکھا تو ابو عبداللہ نماز پڑھ رہے تھے۔
پوچھا گیا، "یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ ابھی دو ہفتے پہلے تو تم خالی ہاتھ تھے!"
ابو عبداللہ مسکرائے اور کہا، "میں نے کہا تھا نا کہ اللہ مجھے ضرور عطا کرے گا۔ جمعہ کی صبح میرے پاس بچوں کے کھانے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ بیوی نے کہا وہ اپنی بہن سے قرض لانے جا رہی ہے۔ وہ گئی اور ایک لمحے بعد کچھ پیسے لے کر واپس آ گئی۔ میں ان پیسوں سے مچھلی بازار گیا۔"
وہاں ایک مچھیرے نے ایک چھوٹی سی مچھلی ہاتھ میں لی ہوئی تھی اور لوگوں سے التجا کر رہا تھا کہ اسے 200 دینار میں خرید لیں تاکہ وہ اپنی بیٹی کے علاج کا بندوبست کر سکے۔ ابو عبداللہ کو رحم آیا اور انہوں نے 200 دینار میں وہ مچھلی خرید لی اور اللہ کی رضا کی نیت سے صدقہ سمجھ کر گھر لے آئے۔
بیوی نے مچھلی تیار کی، اور جب پیٹ چاک کیا گیا تو اس میں نو خوبصورت پتھر نکلے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عام پتھر نہیں بلکہ قیمتی موتی تھے۔ صرف تین موتی بیچ کر وہ اتنا کما چکے تھے کہ نئی دکان کھول سکیں۔
اگلے دن وہ مچھیرے کو تلاش کرنے بازار گئے تاکہ اس کا حصہ بھی دے سکیں، مگر وہ کہیں نہیں ملا۔ کسی نے اسے پہچانا بھی نہیں۔ تب ابو عبداللہ کو احساس ہوا کہ وہ شخص دراصل اللہ کی طرف سے ایک ذریعہ تھا۔
🔘 جب آپ کا بھروسہ اللہ پر سچا ہو تو وہ ایسے ذرائع سے عطا کرتا ہے جن کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ہمیشہ اللہ سے اچھی امید رکھیں، وہ آپ کو وہاں سے نوازے گا جہاں سے آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5400
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 بدصورت بیوی 🔷
ایک آدمی اپنے بوڑھے والد کے پاس گیا اور کہا:
"میری بیوی بالکل بدل گئی ہے۔ وہ اب جوان نہیں لگتی، اس کا جسم پہلے جیسا خوبصورت نہیں رہا۔ میں اب اسے طلاق دینا چاہتا ہوں اور کسی دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک جوان، خوبصورت اور دُبلی پتلی عورت کا حقدار ہوں، ترجیحاً لمبے بالوں والی۔"
بوڑھے باپ نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی، پھر کہا:
"ٹھہرو، میں کل تمہارے گھر آؤں گا تاکہ تمہاری بیوی کو دیکھ سکوں۔ اگر وہ واقعی بدصورت ہوئی تو تم اسے طلاق دے دینا اور کسی اور سے شادی کر لینا۔"
اگلے دن بوڑھا باپ بیٹے کے گھر آیا۔ بیوی کو دیکھ کر وہ خاموشی سے سر ہلاتا رہا، جیسے کسی گہری سوچ میں ہو۔ پھر کہا،
"میں تمہیں بعد میں جواب دوں گا۔"
تین دن بعد باپ نے بیٹے کو اپنے گھر بلایا اور کہا:
"تم ٹھیک کہتے ہو۔ تمہاری بیوی واقعی بدصورت اور خوفناک ہو گئی ہے۔ تمہیں اسے طلاق دے دینی چاہیے! سنو، میں نے تمہارے لیے ایک بہتر عورت ڈھونڈ لی ہے۔ وہ ایک جگہ رہتی ہے جسے 'ایموہ' کہتے ہیں۔ دنیا میں اُس سے زیادہ خوبصورت کوئی عورت نہیں۔"
بیٹے نے حیرت سے پوچھا:
"واہ، زبردست! ابو، بتائیے کہ یہ 'ایموہ' کہاں ہے؟ میں اُس عورت سے ملنا چاہتا ہوں۔"
باپ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر حیران کن بات کہی:
"کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ 'Emoh' کو الٹا پڑھو تو وہ 'Home' بنتا ہے؟ وہ عورت تمہارے اپنے گھر میں رہتی ہے۔ دنیا کی سب سے خوبصورت عورت وہی ہے جو تمہارے گھر میں تمہاری بیوی ہے۔"
بیٹا بالکل خاموش ہو گیا، وہ کچھ بول نہ سکا۔ تب اس کے باپ نے مزید کہا:
"میرا خیال ہے تمہیں اپنی نظر چیک کرانی چاہیے۔ لگتا ہے تم اپنی بیوی کو صحیح طرح دیکھ ہی نہیں رہے۔ اگر تم روز اپنی دلہن کو اُس کی اصل خوبصورتی کے ساتھ نہیں دیکھ پا رہے تو مسئلہ تمہارے اندر ہے۔ تمہاری بیوی نے اپنی جوانی تمہارے لیے قربان کی، اپنا جسم تمہارے بچوں کو جنم دینے کے لیے دیا۔ زندگی کی ہر اونچ نیچ میں تمہارے ساتھ کھڑی رہی۔ اگر تمہیں وہ خوبصورت نہیں لگتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے کبھی اس پر دھیان نہیں دیا۔ یاد رکھو، بغیر توجہ اور محبت کے ہر جیتی جاگتی چیز مرجھا جاتی ہے۔ اسے محبت، عزت اور توجہ دو، وہ بھی ویسی ہی کھل اٹھے گی جیسی تم باہر کی عورتوں کو دیکھتے ہو۔"
🔘 دنیا میں کوئی عورت اس سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوتی جو بیوی اور ماں ہو۔ اُس نے بہت کچھ جھیلا ہے اور خود کو قربان کیا ہے تاکہ وہ اپنے فرائض نبھا سکے۔ اُس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 اردو کو کمزور نہ ہونے دیں 🔷
"ڈ" سے ڈاکیا نہیں، ڈھول بھی ہوتا ہے!
پاکستان میں اردو کی ایک کتاب KG کے بچوں کو پڑھائی جاتی ہے، جس میں "ڈ" سے "ڈاکٹر" بتایا گیا ہے۔
حیرت ہوتی ہے کہ نصاب بنانے والوں کو اردو کا کوئی اور لفظ نہ ملا؟ "ڈ" جیسے منفرد حرف کے لیے وہ "ڈاکٹر" پر رُک گئے — جو کہ نہ صرف انگریزی لفظ ہے، بلکہ اردو تہذیب سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔
کیا "ڈھول"، "ڈبہ"، "ڈنڈا"، "ڈول"، "ڈالنا"، "ڈگڈگی"، "ڈسنا"، "ڈبیا"، "ڈانٹ"، "ڈبڈباہٹ"، "ڈر" جیسے بے شمار الفاظ ناکافی تھے؟
یہ مسئلہ صرف زبان کا نہیں، شناخت کا ہے۔
آج ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے، غیر محسوس طریقوں سے ہماری اصل سے کاٹا جا رہا ہے۔ یہ وہی چالاک سازشیں ہیں جو ہمیں اپنی جڑوں سے کمزور کرتی ہیں۔
جس طرح قطرہ قطرہ جمع ہو کر سمندر بنتا ہے، بالکل اسی طرح یہ چھوٹی چھوٹی لغزشیں قوم کی کمزوری کا باعث بنتی ہیں۔
ایک عام سی مثال دیکھیں:
ہمیں اپنی اردو زبان بھی "proper" نہیں آتی۔
اب غور کریں، "proper" خود اردو کا لفظ نہیں۔ لیکن یہی تو ہماری زبان بن چکی ہے۔ ہماری اردو، آدھی انگریزی، آدھی اردو — ایک کمزور شناخت، جسے ہم ترقی کا نام دے دیتے ہیں۔
کتنا مضحکہ خیز اور "گندا پروپگنڈا" ہے کہ کامیاب ہونے کے لیے انگریزی بولنا ضروری سمجھا جاتا ہے!
جبکہ دنیا کے کامیاب ترین ممالک — جیسے چین، جاپان، جرمنی، فرانس — سب اپنی زبان میں تعلیم، کاروبار اور حکمرانی کرتے ہیں۔ ہمیں تو اپنی زبان پر فخر کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔
یہ وقت ہے کہ ہم سوال اٹھائیں:
ہماری زبان کے الفاظ کیوں غائب کیے جا رہے ہیں؟
کیا ترقی کے لیے اپنی شناخت چھوڑنا ضروری ہے؟
کیا ہم اردو میں عظیم علم، ادب، سائنس اور ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتے؟
جو قوم اپنی زبان کو حقیر سمجھتی ہے، وہ اپنی تہذیب، تاریخ اور خودی کو کھو بیٹھتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی زبان کا "ڈنکا" بجائیں، "ڈھول" پیٹیں اور "ڈھنڈورا" ڈالیں کہ:
اردو کمزور نہیں، اسے کمزور بنایا جا رہا ہے!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 فضول ہجوم سے تنہائی بہتر ہے 🔷
ایک دن ایک طالب علم نے شرارتاً اپنے ہم جماعت کی پیٹھ پر چپکے سے ایک کاغذ چپکا دیا جس پر درج تھا: *"I’m Stupid"* (میں بیوقوف ہوں)۔ پھر اُس نے باقی لڑکوں کو چپ رہنے کا اشارہ دیا کہ وہ اُس لڑکے کو کچھ نہ بتائیں۔کلاس میں قہقہے بکھر گئے۔ سب چپکے چپکے اُس پر ہنسنے لگے، سوائے اُس کے، جو اپنی دنیا میں بے خبر بیٹھا رہا۔دوپہر کو جب ریاضی کا درس شروع ہوا تو استاد نے تختۂ سیاہ پر ایک پیچیدہ مسئلہ لکھا، جس نے تمام طلبہ کو خاموش کر دیا۔سب پریشان نظر آنے لگے، سوائے اُس لڑکے کے، جس کی پیٹھ پر مذاق کا نشان چسپاں تھا۔وہ اعتماد سے اٹھا، بورڈ تک پہنچا، اور لمحوں میں سوال کو حل کر کے واپس پلٹا۔
استاد نے خوش ہو کر پوری جماعت سے کہا:
"اس ہونہار طالب علم کے لیے بھرپور تالیاں بجاؤ!"
پھر وہ اُس کی پشت سے وہ کاغذ آہستگی سے اتار کر ہاتھ میں لیتے ہیں، اور نرمی سے مخاطب ہوتے ہیں:
"لگتا ہے تمہیں علم نہ تھا کہ تمھارے پیچھے یہ کاغذ لگا دیا گیا ہے۔"
پھر اُن کی نگاہیں پوری جماعت پر گھومتی ہیں، اور وہ گہری سنجیدگی سے گویا ہوتے ہیں:
"اس سے پہلے کہ میں کسی کو سزا دوں، میں تم سب کو دو اہم باتیں بتانا چاہتا ہوں:
اول، زندگی بھر لوگ تمھاری راہوں میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے تم پر مختلف برے القابات اور لیبل چسپاں کرتے رہیں گے۔ مگر اگر یہ لڑکا اس مذاق سے باخبر ہوتا تو شاید اعتماد کے ساتھ آگے نہ بڑھتا اور مسئلہ حل نہ کرتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس جماعت میں کوئی ایک بھی ایسا دوست نہ تھا جو اُس کے پیچھے لگی ہوئی تحقیر کو چھپا کر اُس کا ساتھ دیتا۔
یاد رکھو، یہ ضروری نہیں کہ تمہارے بہت سے دوست ہوں — اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تمہارے دوست کتنے وفادار اور مخلص ہیں۔
زندگی میں کبھی بھی دوسروں کے چسپاں کردہ لیبلز کو اپنی شناخت نہ بننے دینا۔
اگر تمھارے ارد گرد ایسے لوگ نہیں جو تمھاری غیر موجودگی میں بھی تمھاری عزت کریں، تمھارے لیے آواز اٹھائیں تو تنہا رہنا اُن سے بہتر ہے جو صرف ہجوم بڑھاتے ہیں، ساتھ نہیں دیتے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 طبّی معلومات کینیولا کے رنگ اور ان کے استعمالات 🔷
کیا آپ جانتے ہیں کہ کینیولا (Cannula) مختلف رنگوں میں آتی ہے اور ہر رنگ کا مخصوص استعمال ہوتا ہے؟
یہاں ہم سادہ انداز میں وضاحت کر رہے ہیں کہ ہر رنگ کا کیا مطلب ہے اور وہ کہاں استعمال ہوتی ہے
1. پیلا رنگ
بچوں اور نوزائیدہ بچوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کیونکہ یہ باریک اور چھوٹی رگوں میں لگایا جاتا ہے
2. نیلا رنگ
بزرگ افراد یا جن کی رگیں کمزور ہوں ان کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کے ذریعے محلول آہستہ آہستہ دیا جاتا ہے۔
3. گلابی رنگ
سب سے زیادہ عام استعمال ہونے والا رنگ ہے، عام مریضوں کے لیے مناسب ہوتا ہے، اور غیر ہنگامی خون کی منتقلی میں ترجیح دی جاتی ہے۔
4. سبز رنگ
آپریشن کے دوران استعمال ہوتا ہے، کیونکہ اس سے ادویات اور خون تیزی سے دیا جا سکتا ہے۔
5. سرمئی (راکھ جیسا) رنگ
ان مریضوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہو، جیسے زخمی یا حادثاتی مریض۔
6. سرخ رنگ
مرکزی وریدی کیتھیٹر (Central Venous Catheter) کے لیے مخصوص ہوتا ہے،
اسے موٹی اور گہری رگوں میں لگایا جاتا ہے، اور اکثر ہتھیلی کی پچھلی طرف لگایا جاتا ہے
ایک اہم بات
جتنا رنگ گہرا ہوگا اتنا ہی کینیولا کا قطر زیادہ ہوگا اور اسی حساب سے محلول یا خون تیزی سے دیا جا سکتا ہے۔
یاد رکھیں
صحیح رنگ کا انتخاب مریض کی حالت کے مطابق ہونا چاہیے
طبی_معلومات نرسنگ کینیولا
🔷🔷🔷🔷🔷
1 286
میں نے حناہا کا شکریہ ادا کیا، خدا حافظ کہا اور لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔ لفٹ میں اتفاقاً وہی ملازم مل گیا جو مجھے خاتون کے پاس لے گیا تھا۔ اسے پہلے میں مختصراً ساری داستان سنا چکا تھا۔ لہٰذا مجھے دیکھتے ہی اس نے سوال کیا ’’آپ کو مطلوبہ معلومات مل گئیں؟‘‘ ’’نہیں، لیکن مجھے کم از کم خط لکھنے والے کا اصل نام ضرور معلوم ہو گیا۔ لیکن اب مجھ میں اس کا پیچھا کرنے کی ہمت نہیں۔ میں شام سے بٹوے کے مالک کی تلاش میں ہوں اور اب خاصا تھک چکا۔‘‘
بات کرتے ہوئے میں نے جیب سے سرخ بٹوہ نکالا اور ملازم کو دکھایا۔ بٹوے کے گرد سنہرا حاشیہ موجود تھا۔ ملازم نے بٹوہ الٹا پلٹا اور پھر بولا ’’ارے، میں جانتا ہوں کہ یہ کس کا ہے۔ یہ مسٹر گولڈسٹین کا ہے۔ اس سے اکثر یہ کھو جاتا ہے۔‘‘ ’’میں نے یہ سنا تو خوشی سے چلا اٹھا‘‘ کیا؟ مسٹر گولڈسٹین؟ تم انھیں جانتے ہو؟‘‘ ’’بھئی وہ بھی اسی نرسنگ ہوم کی آٹھویں منزل پر مقیم ہے۔ یہ یقینا اسی کا بٹوہ ہے۔ وہ اکثر باہر جائے تو اسے گم کر بیٹھتا ہے۔‘‘ اب میں نے ملازم سے کہا کہ وہ مجھے اس کے پاس لے چلے۔ چنانچہ ہم آٹھویں منزل پہ پہنچے۔
میں دعا مانگنے لگا کہ وہ ابھی جاگ رہا ہو۔ وہاں موجود نرس نے بتایا کہ مسٹر گولڈسٹین ابھی ہال ہی میں ہیں۔ دراصل سونے سے قبل اسے مطالعہ کرنا پسند تھا۔ ہم ہال میں پہنچے، بوڑھا آدمی وہاں تنہا بیٹھا کسی کتاب میں کھویا ہوا تھا۔
ہم ہال میں پہنچے، بوڑھا آدمی وہاں تنہا بیٹھا کسی کتاب میں کھویا ہوا تھا۔ ملازم نے اس سے دریافت کیا ’’آپ کا بٹوہ کہاں ہے؟‘‘ مسٹر گولڈسٹین نے نظر اٹھائی، پتلون کی پشت ٹٹولی اور پھر کہا ’’افوہ، کم بخت پھر کہیں گر گیا۔‘‘
اسی وقت موصوف کی نظر میرے ہاتھ میں پکڑے بٹوے پر پڑی۔ وہ مسکرایا اور بولا ’’شکر کہ یہ مل گیا۔ یقینا سہ پہر کو یہ گر گیا ہو گا۔ اب میں تمھیں انعام دینا چاہتاہوں۔‘‘ یہ کہہ اس نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں فوراً بول اٹھا ’’نہیں نہیں، اس کی ضرورت نہیں بلکہ مجھے ایک ضروری بات بتانی ہے۔ میں نے بٹوے میں موجود خط پڑھ لیا ہے تا کہ مالک کی بابت کچھ جان سکوں۔‘‘ مائیکل گولڈسٹین کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کافور ہو گئی۔ وہ مردہ آواز میں بولا ’’اوہ! تو تم نے خط پڑھ لیا۔‘‘ ’’خط ہی نہیں پڑھا، بلکہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ حناہا کہاں ہے۔‘‘
یہ سن کر وہ بھونچکا رہ گیا پھر بے تابی سے بولا ’’حناہا؟ تم جانتے ہو کہ وہ کہاں ہے؟ وہ کیسی ہے؟ کہاں رہتی ہے؟‘‘ میں ہچکچایا۔ اس نے اصرارکیا ’’بتائو، وہ کہاں ہے؟
’’وہ اچھی ہے اور اب بھی اس کی کشش ماند نہیں پڑی۔‘‘ مسٹر گولڈسٹین نے میرا ہاتھ پکڑا اور التجا کرتے ہوئے بولا: ’’مجھے اس کا پتا دو، میں پہلی فرصت میں حناہا سے ملنا چاہتا ہوں۔ شاید تم ہمارے ماضی سے واقف ہو چکے۔ جب اس کا خط ملا، تو میری دنیا اندھیر ہو گئی۔ میں آج تک اس کا منتظر ہوں۔ حناہا کے علاوہ کوئی اور لڑکی میرے دل میں بس نہ سکی۔‘‘
میں نے یہ سنا تو حیران رہ گیا۔ جب حواس بحال ہوئے تو اسے کہا ’’مائیکل، میرے ساتھ آئو۔‘‘ ہم تینوں بذریعہ لفٹ تیسری منزل پر پہنچے۔ پھر اس کے ہال کی طرف ہو لیے۔ وہاں حناہا بیٹھی بدستور ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ ہم دونوں دروزاے پر کھڑے ہو گئے، ملازم پہلے اس کے پاس پہنچا۔ ’’حناہا‘‘ وہ نرم لہجے میں بولا: ’’تم اس آدمی کو جانتی ہو؟‘‘ ملازم نے دروازے کی سمت اشارہ کیا جہاںہم دونوں استادہ تھے۔ خاتون نے عینک درست کی، پھر غور سے ہمیں دیکھنے لگی۔ ’’حناہا! یہ میںہوں مائیکل گولڈسٹین! تمھیں کچھ یاد آیا؟‘‘
مائیکل! یہ تم ہو؟ تم مائیکل…!‘‘ وہ ہولے ہولے چلتا اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ چند لمحے وہ ایک دوسرے کو تکتے رہے پھر ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لیے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھوں میں ہاتھ دیے باتوں میں مصروف تھے۔ میں ملازم کے ساتھ خاموشی سے باہر نکل آیا۔ لفٹ کی طرف بڑھتے ہوئے میں گویا ہوا ’’دیکھا خدا کیونکر اپنی کرشمہ سازی دکھاتا ہے۔ سچ ہے وہ جو چاہے اسے کرنے پر قادر ہے۔‘‘ تین دن بعد جب نرسنگ ہوم کے ناظم کا فون آیا۔
کہنے لگا: ’’کیا آپ اس اتوار شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنے آ سکتے ہیں؟‘‘ وہ پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر بول اٹھا ’’جی ہاں، مائیکل گولڈسٹین اور حناہا کا بیاہ ہو رہا ہے۔‘‘ وہ بڑی سادہ مگر پر وقار تقریب تھی۔ پیارو محبت کی پھوار میں بسی اس محفل میں نرسنگ ہوم کے سبھی مکین شریک ہوئے۔ حناہا نے سفید جوڑا پہنا جس میں وہ پری لگتی تھی۔ مائیکل نیلا سوٹ زیب تن کر کے بڑا وجیہہ نظر آیا۔
شادی کے بعد وہ نرسنگ ہوم کے ایک کمرے میں بس گئے۔ اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایک 78 سالہ دولہا اور 72 سالہ دلہن کیونکر نوجوان جوڑے کی طرح چہلیں کرتے ہیں تو انھیں دیکھ لیجیے۔ یہ اس عشق کا بہترین اختتام تھا جو تقریباً 60 برس چلا اور محبت کی نئی داستان رقم کر گیا۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6360
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 286
🔷 محبت کی داستان 🔷
یہ جنوری ۱۹۸۵ء کی بات ہے، میں ایک ٹھٹھرتی شام نیویارک کی گلیوں سے گزرتا گھر کی طرف رواں دواں تھا۔ اچانک میرے قدموں تلے کوئی ابھری شے آ گئی۔ دیکھا تو ایک بٹوہ پایا۔ اس میں صرف تین ڈالر تھے اور ایک بوسیدہ سا خط بھی! لگتا تھا کہ بٹوے والے نے کئی برس سے اسے سنبھال کر رکھاہوا ہے۔ بٹوے میں کسی قسم کی شناختی نشانی موجود نہ تھی۔
میں نے خط دیکھا بھالا تو الفاظ تقریباً مٹ چکے تھے۔ بس خط میں واپسی کا پتا کچھ پڑھا جاتا تھا اور تاریخ بھی۔ اسی سے افشا ہوا کہ یہ خط ۱۹۲۴ء میں لکھا گیا تھا۔ گویا اسے وجود میں آئے ۶۰ برس بیت چکے تھے۔ میں نے پھر اسے آلہ مکبر کی مدد سے پڑھا تا کہ لکھنے والے کا کوئی سراغ ڈھونڈ سکوں۔یوں میں تقریباً سارا خط پڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔
آغاز میں ’’پیارے جان‘‘ درج تھا۔ پھر خط لکھنے والی خاتون نے بڑے نفیس و نازک انداز میں جان مائیکل کو مطلع کیا کہ ماں نے اسے منع کر دیا ہے کہ وہ اس سے نہ ملے۔ اس کے باوجود وہ اسے سدا چاہتی رہے گی۔ آخر میں حناہاکے دستخط پڑھے جاتے تھے۔ خط کی تحریر دلفریب اور دل چھو لینے والی تھی لیکن سوائے نام کے یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہ تھا کہ اس اچھوتے سندیسے کا مالک کون ہے؟ چنانچہ میں نے یہ سوچ کر سرکاری شعبہ معلومات فون کیا کہ شاید وہاں سے کوئی مدد مل سکے۔
میں نے آپریٹر کو بتایا ’’میری ایک غیر معمولی درخواست ہے۔ مجھے ایک بٹوہ ملا ہے۔ اس میں موجود خط میں ایک پتا درج ہے۔ کیا مجھے اس پتے سے وابستہ ٹیلی فون مل سکتا ہے؟‘‘
تھوڑی دیر بعد آپریٹر نے مجھے اپنی خاتون سپروائزر سے ملا دیا۔ موصوفہ نے بتایا : ’’ہمیں اس پتے کا ٹیلی فون مل گیا ہے لیکن ہم آپ کو نمبر نہیں دے سکتے۔ البتہ میں اس نمبر پر فون کر کے انھیں صورت حال بتاتی ہوں۔ اگر پتے کے کسی رہائشی نے آپ سے گفتگو کرنا چاہی، تو میں رابطہ کرا دوں گی۔‘‘ میں نے ہامی بھر لی۔ ایک منٹ بعد سپروائزر دوبارہ فون پر آئی اور بتایا کہ ایک خاتون آپ سے بات کرنا چاہتی ہے۔‘‘
میں نے پھر خاتون سے دریافت کیا کہ کیا وہ حناہا کو جانتی ہے؟ اس نے کہا ’’ہاں جانتی ہوں۔ ہم نے حناہا خاندان ہی سے یہ گھر خریدا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’آپ بتا سکتی ہیں کہ حناہا خاندان اب کہاں مقیم ہے؟‘‘ ’’جی نہیں، میں نہیں جانتی البتہ کئی سال قبل حناہا نے نرسنگ ہوم میں اپنی ماں کو داخل کرایا تھا۔ ممکن ہے کہ ہوم والے آپ کو کچھ بتا سکیں۔‘‘
خاتون نے پھر مجھے نرسنگ ہوم کا نام اور ٹیلی فون نمبر بتایا۔ وہاں رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ حنا ہا کی والدہ چل بسی ہیں۔ ہوم استقبالیہ کلرک نے پھر مجھے ایک ٹیلی فون نمبر دیا جہاں اس کے خیال میں حناہا مل سکتی تھی۔
اب میں نے وہاں فون کیا۔ فون اٹھانے والی نے بتایا کہ اب حناہا خود ایک نرسنگ ہوم میں مقیم ہے۔ اس نے مجھے نرسنگ ہوم کا نمبر دے دیا۔ یہ نیا نمبر ملایا تو جواب ملا ’’جی ہاں، حناہا اسی ہوم میں رہتی ہے۔‘‘ رات کے ۹ بج چکے تھے لیکن میں نے خواہش ظاہر کی کہ کیا میں حناہا سے مل سکتا ہوں؟ معلوم ہوا ’’وہ نو ساڑھے نو بجے سو جاتی ہے۔ تاہم ممکن ہے کہ وہ ہال میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہو۔ آپ دیکھ لیں۔‘‘ میں نے کار نکالی اور اپنے گھر کے قریب واقع نرسنگ ہوم پہنچ گیا۔ ہوم کا ایک ملازم مجھے لیے تیسری منزل پہنچا جہاں ایک کمرے میں حناہا رہتی تھی۔ معلوم ہوا کہ واقعی وہ تیسری منزل کے ہال میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی ہے۔
ہوم کا ایک ملازم مجھے لیے تیسری منزل پہنچا جہاں ایک کمرے میں حناہا رہتی تھی۔ معلوم ہوا کہ واقعی وہ تیسری منزل کے ہال میں بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی ہے۔
اب مجھے ہال کا راستہ دکھایا گیا۔ حناہا سفید بالوں، دلکش مسکراہٹ اور دوستانہ آنکھوں والی بوڑھی خاتون نکلی۔ میں نے اسے بٹوے کے متعلق بتایا اور پھر خط دکھایا۔ خط دیکھتے ہی حیرت کے مارے اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور ان میں نمی تیرنے لگی۔ حناہا نے پھر گہرا سانس لیا اور بھرائی آواز میں بولنے لگی ’’جان کے نام یہ میرا آخری خط تھا۔ میں اسے بہت چاہتی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ لیکن تب صرف16 برس کی تھی۔ چنانچہ میری ماں سمجھتی تھی کہ لڑکیاں نادانی کی اس عمر میں صحیح فیصلہ نہیں کرتیں۔ یوں میں نے مجبوراً جان سے ناتا توڑ دیا۔ اب تمھیں کیا بتائوں کہ وہ کتنا خوبصورت تھا! اداکار سین کو نری لگتا تھا۔‘‘
اس بات پر ہم دونوں ہنس پڑے۔ حناہا نے پھر مزید بتایا: ’’اس کا اصل نام مائیکل گولڈسٹین تھا۔ اگر وہ تمھیں مل جائے تو اسے بتانا کہ میں آج بھی اکثر اس کے متعلق سوچتی ہوں۔ میں نے اب تک شادی بھی نہیں کی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے خاتون کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔ وہ پھر بولی:’’شاید وجہ یہ ہے کہ جان کے علاوہ کوئی میرے من میں نہیں بس سکا۔‘‘
