ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 284
مشترکین
-124 ساعت
-17 روز
-830 روز
آرشیو پست ها
1 284
🔷 شیطانی خیال 🔷
کچھ سال قبل کراچی کے ایک بندے کے ذہن میں بیٹھے بیٹھے ایک شیطانی خیال آیا
اس نے اخبار میں ایک بہت بہترین قسم کی نوکری کا اشتہار دیا جس میں تعلیم اور تجربے کی کوئی خاص قید نہیں تھی اچھی خاصی تنخواہ میڈیکل سہولیات وغیرہ وغیرہ
کمپنی کی طرف سے اشتہار میں تفصیل کے ساتھ ایک پوسٹ ایڈریس تھا اشتہار میں لکھا گیا تھا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کو اپنے نئے پراجیکٹ کے لئے پاکستان بھر سے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کی فوری ضرورت ہے خواہش مند افراد اس پوسٹ ایڈریس پر اپنے کاغذات سی وی دخواست سمیت مبلغ 100 روپے ڈاک خرچ ارسال کریں۔
پاکستان بھر سے اس کمپنی کو 5 لاکھ سے زائد بندوں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔
ایک ہفتے کے قلیل وقت میں ایک بندے نے 5 کروڑ سے زائد رقم وصول کر لی جبکہ اس جاب کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ پولیس نے اس بندے کا تعاقب کیا اور رقم برامد کی اور یوں یہ کیس سامنے آیا کہ پاکستانی عوام کو بیوقوف بنانا کتنا آسان ہے۔
آپ نے پاکستانی اخبارات کے سنڈے کلاسفائیڈ اور اس طرح کی مختلف ویب سائٹوں میں مختلف قسم کی نوکریوں سے متعلق اشتہارات دیکھے ہوں گے جن میں کمپنی کو مختلف بندوں کی تلاش ہوتی ہے۔
یہ اشتہار اس قدر پرکشش ہوتے ہیں کہ بندہ خوش ہو جاتا ہے۔ غریب بے روزگار بندہ اس جاب کے حصول کے لئے مکمل طور پر تیار ہو جاتا ہے، بہترین تنخواہ، رہائش، میڈیکل، کی سہولت وغیرہ وغیرہ کال کیجئے میڈم روزی کو۔
بے روزگار افراد ایسے اشتہار کو دیکھ کر وجد میں آجاتے ہیں اور فورا دیئے گئے نمبر پر کال کرتے ہیں، آگے سے کوئی لڑکی فون ریسیو کرتی ہے انتہائی پرکشش لہجہ اور ناز و انداز سے بات کی جاتی ہے اور بندے کو یقین دلایا جاتا ہے آپ کی نوکری پکی ہو گئی ہے پھر ایک اور آفیسر کال پر ہی انٹرویو کرتی ہے اور مزید حوصلہ دیا جاتا ہے اور پھر آخر میں باس سے بات ہوتی ہے جو چند منٹ میں اپنی بات کو اختتام پر پہنچا کر بندے کو میڈم سے دوبارہ رابطے کا کہا جاتا ہے میڈم صاحبہ کا کہنا ہوتا ہے کہ آپ اپنی سی وی اور رجسٹریشن کے لئے اتنی رقم ادا کریں آپ کو جلد بہت بہترین اور پرکشش نوکری مل جائے گی۔ یہ رقم کمپنی پروفائل اور رجسٹریشن کے لئے ہے، آپ کو بہت جلد جاب لیٹر مل جائے گا۔
بندہ خوشی خوشی رقم ادا کرتا ہے اور اس پُرکشش نوکری کی تیاریاں شروع کر دیتا ہے مگر یہ نوکری کبھی ملتی نہیں۔
ایک اور بڑا خطرناک قسم کا گینگ ایکٹیو ہے جو مختلف اخبارات اور مختلف ویب سائٹ پر نوکری کا اشتہار دیتا ہے اور ساتھ یہ بات مینشن ہوتی ہے کہ یہ نوکری صرف خواتین کے لئے ہے۔
لڑکیاں اس کمپنی میں کال کرتی ہیں آگے سے کوئی خاتون ہوتی ہے جو نوکری کا جھانسا دیتی ہے اورسبز باغ دکھاتی ہے۔
لڑکیاں مطمئن ہوکر اس کمپنی پر اعتماد کر لیتی ہیں۔
کمپنی کی طرف سے پروفائل کی مد میں 4 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر اور مختلف پوز میں کچھ تصاویر مانگی جاتی ہیں۔
معصوم اور بھولی بھالی لڑکیاں اپنی تمام معلومات فون نمبر ایڈریس کے ساتھ ساتھ اپنی تصاویر بھی بھیج دیتی ہیں۔
پھر ان لڑکیوں سے رجسٹریشن کے نام پر 5،10 ہزار روپے مانگے جاتے ہیں۔
زیادہ تر لڑکیاں یہ بھی ادا کر دیتی ہیں۔
ایسی کمپنیز کا سب سے آسان ہدف لڑکیاں ہوتی ہیں جو گھر کے معاشی حالات اور روزگار کے چکر میں ان کے ہاتھ چڑھ جاتی ہیں۔
اس طرح اور اس جیسے ملتے جلتے کئی واقعات کے اصل محرکات کیا ہیں؟
در اصل یہ پاکستان کا بہت مضوبط اور ماہر فراڈی گروپ ہے یہ چند شیطان صفت بندوں کا پورے پاکستان میں جال بچھا ہوا ہے۔ کراچی لاہور اسلام آباد اور بڑے شہروں میں اس گینگ کے بندے موجود ہیں۔
یہ مافیا لوگوں کی نفسیات سے کھلواڑ کرتا ہے نوکری کا جھانسا دے کر 5،10 ہزار کی رقم اینٹھ لیتے ہیں حقیقت میں یہ سراسر فراڈ اور دھوکہ ہوتا ہے۔
ایسی کمپنیز کا کوئی دفتر یا مقام نہیں ہوتا یہ سب کچھ موبائل فون، ای میل، سوشل میڈیا کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔
یاد رکھیں!
دنیا بھر کی کسی رجسٹر کمپنی کا یہ اصول اور قانون نہیں ہے کہ ملازمین سے رجسٹریشن اور فائل کی صورت میں رقم لی جائے۔
کمپنیز کی طاقت اور چلنے میں اصل کردار ملازم کا ہوتا ہے اور ملازم کو ایڈوانس دیا جاتا ہے یا کئی طرح کی سہولیات دی جاتی ہیں نہ کہ الٹا رقم لی جاتی ہے۔
جو کمپنی یا اس کا نمائندہ رجسٹریشن یا کسی مد میں رقم کا مطالبہ کرے تو سمجھ جائیں کہ یہ سراسر فراڈ اور دھوکہ ہے۔
ایسے لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں ایسی کئی نام نہاد اور جھوٹی کمپنیاں موجود ہیں اور ان کے کئی ایجنٹ سوشل میڈیا اور ویب سائٹوں پر موجود ہیں خود کو اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو ان سے بچائیں۔
پاکستانی عوام بس ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی دوڑ لگانا شروع کر دیتی ہے کوئی بندہ تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کرتا اور نہ ہی کسی سے مشورہ کرتا ہے۔ ایسا کوئی قدم اٹھانے سے قبل مشورہ ضرور کر لیا کریں۔
Copy۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
کبھی مولا علی علیہ السّلام کی شہادت پر غور کیا جائے تو انسان ششدر رہ جاتا ہے
مولا علی علیہ السّلام ابنِ ابی طالب علیہ السّلام کی شہادت بقولِ مشہور بروزِ جُمعہ ہوئی جو ایّام کا سردار ہے۔
ماہِ رمَضان میں ہوئی جو مہینوں کا سردار ہے۔
ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں ہوئی جو رمضان کے عشروں کا سردار ہے۔
اکیسویں شب ہوئی جو نہ صرف طاق رات بلکہ ممکنہ طور پر لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔
ضربتِ باعثِ شہادت حالتِ نماز میں ہوئی جو تمام اعمالِ عبادت میں سب سے افضل ہے۔
نمازِ فجر میں ہوئی جس کا قُرآن میں خصوصی ذکر ہے کہ یہ نماز نفس پر بھاری ہے۔
حالتِ سجدہ میں لگی جو نماز کے تمام ارکان میں سب سے افضل ہے۔
بعدِ ضربت پہلا جُملہ جو آپ ع نے ادا فرمایا “ ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا”۔
اللّہ اللّہ نجانے یہ اُس کا کیسا عبد تھا کہ جس کی ایک شہادت کو اللّہ نے اس قدر اعزازات سے نواز دیا کہ اسکی مثال ملنا مُشکل ہے۔
کسے را میسر نہ شُد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت، بہ مسجد شہادت
1 284
🌺 السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
🌺 صبحكم اللہ بالخير والتّمسّک
💚 آج کا دن ➖ جمعة المبارک
☀ 21 مارچ 2025 عیسوی
🌙 20 رمضان المبارک 1446ھجری
⭐ 08 چیت 2082 بکرمی
■ جمعہ کے اذکار
1۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ 100 مرتبہ۔
2۔ یانور 256 مرتبہ۔
3۔ یاذاالجلال والاکرام 1000
📜 رسول اللہ صلى اللہ عليه وآله وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے دین سے چمٹے رہنا اور کشتئ نجات پر بیٹھنا چاہتا ہے تو وہ علی بن ابیطالب کی اقتداء کرے اور اس کے دشمن سے دشمنی کرے اور اس کے دوست سے دوستی کرے کیونکہ وہ میری زندگی میں اور میری موت کے بعد میری امت میں میرا وصیّ اور میرا جانشین ہے اور وہ میرے بعد ہر مسلمان کا امام اور پیشوا اور ہر مؤمن کا امیر ہے۔ اس کا قول میرا قول ہے اور اس کا حکم میرا حکم ہے اور اس کی ممانعت، میری ممانعت اور اس کا پیروکار، میرا پیروکار اور اس کا مددگار، میرا مددگار ہے اور جس نے اس کی مدد کرنا چھوڑ دی اس نے میری مدد کرنا چھوڑ دی۔ (📚 كمال الدين، ص ٢٦٠ ح ٦)
🤲 اے خداوند متعال ہمیں دین سے چمٹے رہنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں کشتئ نجات کے سواروں میں شمار فرما اور ہمیں مولا علی علیہ السلام کی اقتداء و پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے پروردگار ہمیں مولا علی علیہ السلام کے دشمنوں سے دشمنی اور دوستوں سے دوستی نبھانے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ ہمیں مولا علی علیہ السلام کے مددگاروں میں شمار فرما اور مولا علی علیہ السلام کے فرزند امام العصر علیہ السلام کا جلد ظہور فرما۔ اے قاضی الحاجات ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔
آمین یارب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام
🌺 التماس دعا:
🌺 سید سجاد حسین ھمدانی 🌺
1 284
🌼 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
😢 صباح الغم
😢 یوم ضربت مولا علی علیہ السلام
💚 آج کا دن ➖ جمعرات
☀ 20 مارچ 2025ء عیسوی
🌙 19 رمضان المبارک 1446 ھجری
⭐ 07 چیت 2082 بکرمی
■ جمعرات کے اذکار
💥 لااِلهَ اِلَّا اللّٰه المَلک الحقُّ المُبین 100 مرتبہ
💥 یاغَفُورٌ یا رَحيمٌ 1000 مرتبہ
💥 یا رزاق 308 مرتبہ
🔹 ہر انسان میں خیر و شر کی دو قوتیں موجود ہوتی ہیں۔ اپنی خیر کی قوت کو مضبوط کرکے اپنے شر سے لڑنا ہی زندگی کا اصل امتحان ہے۔ انسان نہیـں بدلتا رویے بدلتے ھیــــں لہجہ بدلتا ھے اور سب سے بڑھ کر غرض بدلتی ھے...!!!
"عبدالرحمن بن ملجم مرادی" نے امام علیؑ کے مقام خلافت پر فائز ہونے کے بعد آپؑ کی بیعت کی اور جنگ جمل میں آپ کے لشکر میں رہ کر آپ کے دشمنوں کے خلاف جنگ لڑی۔ لیکن اس کی غرض بدل گئی تو وہ امام علی علیہ السلام کا قاتل بن گیا۔ الله تعالی رحمت فرمائے امام خمینی فرمایا کرتے تھے: معیار انسان کا حال هے چاهے ماضی میں وه امام زاده هی کیوں نه هو. اللهم العن قتلة امیرالمومنین۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ "عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی" کو امیرالمومنین علی علیہ السلام کا شیعه کہا جاتا تھا۔ اس نے خود امیر المومنین علیہ السلام سے کہا تھا آپ کی محبت میرے رگ و خون میں رواں هے!!! لیکن اس کی غرض اور لالچ اس کو جنت الفردوس سے جہنم کی عمیق گہرائیوں میں لے گئی۔ میرا صبح کا پیغام غرض پر تھا تو اس لئے آج کے دن کی مناسبت سے اس کی مثال دی۔ ورنہ مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں۔
جب غرض بدلتی ھے تو رویے اور کردار بدل جاتے ہیں پھر چاہے مدمقابل معشوق ہی کیوں نہ ہو۔
🤲 اے پروردگار ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔ خوشیاں ہی خوشیاں ہمارا مقدر فرما۔ رزق حلال کی ہم پر برسات فرما۔ ایمان کامل، دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرما۔ سکھ، صحت، تندرستی نصیب فرما۔ ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔
آمین یا رب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام
🌼 التماس دعا:
🌼 سید سجاد حسین ھمدانی 🌼
1 284
فطرتِ انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ جب انسان کے سر پر کاری ضرب لگے تو انسان بے ساختہ درد کا اظہار ہائے وائے کی صدا سے کرتا ہے اور اگر ہوش قابو میں ہے تو اپنے حملہ آور کی طرف جواب کے لئے لپکتا ہے
لیکن تاریخ شاہد ہے کہ امام علی ابنِ ابی طالب (ع) نے زہر میں بجھی تلوار کا وار کھا کر نہ کوئی چیخ و پکار کی اور نہ اپنے دشمن پر غضب کا اظہار کیا بلکہ ایک طرف فزتُ برب الکعبہ کہہ کر اپنے پیمان کی تکمیل پر کامیابی کا اعلان کیا تو دوسری طرف اپنے ورثاء اور چاہنے والوں کو دشمن کے ساتھ مروت و کمال مہربانی کی تلقین کی
شبِ ضربت امام علی ابنِ ابی طالب (علیه السّلام)
http://t.me/islamwitheman/3474
1 284
🌴ماہ رمضان کے متعلق پوسٹس🌴
https://t.me/islamwitheman/3320
🌛استقبال ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3330
🌛وجہ تسمیہ ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3331
🌺ماہ رمضان یا رمضان
t.me/islamwitheman/3341
🌺فضیلت ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3343
🌷استقبال ماہ رمضان کی دعا
t.me/islamwitheman/3344
💐ماہ رمضان میں نماز کیبعد کی دعا
t.me/islamwitheman/3346
🌛ماہ رمضان کے اسماء و صفات
t.me/islamwitheman/3347
🌴فضیلت ماہ رمضان و روزہ
t.me/islamwitheman/3348
👹شیطان کی قید
t.me/islamwitheman/3350
🌛اعمال ماہ رمضان شب و روز اول
t.me/islamwitheman/3351
🍀یوم الشک کا روزہ
t.me/islamwitheman/3352
🌹امام حسینؑ کابچپن میں پہلاروزہ
t.me/islamwitheman/3353
🍃 اعمال ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3374
🌷روزے کا فلسفہ
t.me/islamwitheman/3375
🌷فلسفة الصوم
t.me/islamwitheman/3376
🔷روزے کے مراتب
t.me/islamwitheman/3377
🍁روزے کے آثار و جزاء
t.me/islamwitheman/3378
🍁گالی دینے کا روزے پر اثر
t.me/islamwitheman/3379
🍃احاديث بسلسلہ ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3380
🌷کثیرالسفر کیلئے احکام روزہ
t.me/islamwitheman/3381
🌸جن پر روزہ رکھنا واجب نہیں
t.me/islamwitheman/3382
🕌ماہ رمضان کی نافلہ نمازیں
t.me/islamwitheman/3383
🌼مبطلات و مکروہات روزہ
t.me/islamwitheman/3385
🔶تقديم الصلاة علی الافطار
t.me/islamwitheman/3386
🔷افطار میں تأخير
t.me/islamwitheman/3387
🌴وقت افطار اور وقت غروب
t.me/islamwitheman/3388
♻افطاری کیلئے بہترین چیز
t.me/islamwitheman/3389
🌴افطاری کرانے کا ثواب
t.me/islamwitheman/3390
🔷افطاری
t.me/islamwitheman/3391
🌹گولڈن روزہ
t.me/islamwitheman/3392
🌷روزہ دار اور دانتوں کا علاج
t.me/islamwitheman/3393
🔶بحالت روزہ انجکشن و ڈرپ لگوانا
t.me/islamwitheman/3394
❄روزہ کی حالت میں بلغم نگلنا
t.me/islamwitheman/3395
🌹 خوشبودار چیز سے استفادہ کرنا
t.me/islamwitheman/3396
🔷روزے کی قضا، کفارہ
t.me/islamwitheman/3397
🌴کھجور احادیث میں
t.me/islamwitheman/3398
🌴نبیذ شربت
t.me/islamwitheman/3399
🌻ایک مریض کا روزہ
t.me/islamwitheman/3401
🌹وفات جناب فاطمہ بنت اسد
t.me/islamwitheman/3405
🌹ام المؤمنين جناب خدیجہؑ
t.me/islamwitheman/3416
🌹حضرت خدیجہؑ کبرٰی کی وصیتیں
t.me/islamwitheman/3417
🌹حضورؑ کے نزدیک مقام خدیجہؑ
t.me/islamwitheman/3418
🌹جناب خدیجہؑ کی عظمت و اہمیت
t.me/islamwitheman/3419
🌹زیارت خدیجةالکبرٰیؑ
t.me/islamwitheman/3420
📄دعائے مجیر
t.me/islamwitheman/3423
t.me/islamwitheman/3426
🔷شہادت جناب قنبرؑ
t.me/islamwitheman/3432
🔷شہادت امیر مختار ثقفی
t.me/islamwitheman/3434
🌸مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی
t.me/islamwitheman/3435
🔷مختار ثقفی علماء کی نظر میں
t.me/islamwitheman/3436
🌹حضرت امام حسن علیہ السّلام
t.me/islamwitheman/3452
t.me/islamwitheman/3452
🌷محمد بن ابی بکر
t.me/islamwitheman/3455
❤️فتح جنگ بدر مبارک
t.me/islamwitheman/3459
t.me/islamwitheman/3460
🌺شب قدر کی فضیلت
t.me/islamwitheman/3464
🌺شب قدر کی شان
t.me/islamwitheman/3465
🌺شب قدر اور حضرت موسٰیؑ
t.me/islamwitheman/3466
🌺کونسی رات شب قدر؟
t.me/islamwitheman/3467
🌺شبھائ قدر کے مشترکہ اعمال
t.me/islamwitheman/3468
🌺اعمال 19 ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3469
🔷️دعائے جوشن کبیر
t.me/islamwitheman/3471
🌺شب قدر میں عمل قرآن
t.me/islamwitheman/3472
🌹ضربت حضرت علی علیہ السلام
t.me/islamwitheman/3474
t.me/islamwitheman/3475
🌹حضرت علیؑ کی وصیت
t.me/islamwitheman/3482
🌹حدیث سفینہ
t.me/islamwitheman/3488
🌹حدیث باب مدینةالعلم
t.me/islamwitheman/3489
🔷️یوم فتح مکّہ
t.me/islamwitheman/3494
🌷اعتکاف کی فضیلت
t.me/islamwitheman/3496
🔷 اِعْتِکاف کی فضیلت و احکام
t.me/islamwitheman/4295
🌹شھادت حضرت علیؑ
t.me/islamwitheman/3500
🔷️ابن ملجم کا انجام
t.me/islamwitheman/3502
🌺شب قدر و نزول قرآن
t.me/islamwitheman/3507
🔷️الوداع ماہ رمضان
t.me/islamwitheman/3528
🔷نماز قضائے عمری کی حقیقت
t.me/islamwitheman/3529
🔷️یوم القدس کی مختصر تاریخ
t.me/islamwitheman/3530
🔷️اسرائیل ایک ناجائز ریاست
t.me/islamwitheman/3532
🌷فطرہ و احکام
t.me/islamwitheman/3537
t.me/islamwitheman/2324
🌹عید یا سوگ؟
t.me/islamwitheman/3539
🌹استحباب نماز عیدین
t.me/islamwitheman/3540
🌹نماز عید کے حوالے سے چند شبہات
t.me/islamwitheman/3541
🌹دعائے رویت ہلال
t.me/islamwitheman/3566
🔷️اعمال شب عیدالفطر
t.me/islamwitheman/3567
🕌عید کی نماز
t.me/islamwitheman/3569
🌹عید کا پیغام
t.me/islamwitheman/3570
1 284
🔷 گھاس نیلی ہے 🔷
گدھے نے شیر کی موجودگی میں جنگل کے جانوروں سے کہا کہ گھاس نیلی ہے ،
تمام جانور خاموش رہے لیکن شیر نے برجستہ جواب دیا گھاس ہری ہے
یہاں تک کہ ان دونوں کےدرمیان لمبی بحث چھڑ گئی ، وہ اپنی بات درست تسلیم کروانے کیلئے قاضی کے پاس گئے ۔
قاضی بھی شیر تھا ، جب اس نے دونوں کی بات سنی ، تو شیر کو سزا سنادی کہ تین دن تک اس سے کوئی بات نہ کرے ۔
گدھا فیصلہ سن کر خوشی سے جنگل میں اچھلتا رہا اور تمام جانوروں کو چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ میری بات ٹھیک ہے ، گھاس نیلی ہے ۔
دوسری طرف شیر اپنی سزا کاٹ کر قاضی صاحب کے پاس گیا اور پوچھا گھاس ہری ہے نا؟
قاضی نے جواب دیا ، ہاں گھاس ہری ہے ، شیر نے بلا توقف سوال کیا پھر مجھے کیوں سزا دی ۔
قاضی صاحب نے جواب دیا، گھاس ہری ہے یا نیلی اس سے تیری سزا کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ کھوتے سے بحث کرکے اپنا وقت ضائع کرنا تیری ذہانت و بہادری کی توہین ہے ، اور پھر اس بے کار معاملے میں اپنے سے بڑے درجے کو پریشان کرنا قابل سزا ہے ، جبکہ جنگل کا ہر جانور جانتا ہے کہ گھاس ہری ہے، اس میں بحث کی کوئی بات ہی نہیں۔
وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع اس بے وقوف شخص سے بحث کرنا ہے، جسے حق یا منطق نہیں بلکہ صرف اپنے وہم اور عقائد کی جیت سے مطلب ہو، چاہے وہ حقیقت سے کتنا ہی دور ہوں۔
🔘 بے معنی ابحاث میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں ، دنیا میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں ، ان کے سامنے تمام ثبوت اور دلائل پیش کیے جانے کے باوجود وہ حقیقت سمجھنے اور جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔
جہالت ، انا اور نفرت میں ڈوبے ہوئے یہی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ٹھیک ہوں ، چاہے حقیقت کچھ بھی ہو ۔ جب جہالت کی آواز بلند ہونے لگے تو عقل اور منطق کی آواز روک لینا ہی دانشمندی ہے ...
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 برائی کا جواب بھلائی سے دو 🔷
برائی کا جواب بھلائی سے دو تو وہ بھلائی میں بدل جائے گی۔۔۔
وہ کہتی ہیں...
میرا اکلوتا بیٹا ایک ایسی لڑکی سے شادی کر بیٹھا جسے اس نے میری مرضی کے خلاف صرف اس لیے چُنا کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا یہ بات مجھے اس میں اپنی اولاد کی محبت کی حریف نظر آنے لگی میں نے بیٹے کی آنکھوں میں اس کے لیے ایسا شوق دیکھا جس نے میرے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دی میں نے برسوں اسے پالا اور وہ میری سب سے بڑی ترجیح رہا لیکن اب یہ لڑکی ان تمام سالوں کے بعد میرے ساتھ اس کا حق بانٹنے لگی تھی یہی خیال میرے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا
شادی کے بعد وہ دونوں اس فلیٹ میں رہنے لگے جو اس کے والد نے وفات سے قبل اس کے لیے چھوڑا تھا میں نے اپنے بیٹے کو میٹھی میٹھی باتوں سے مجبور کیا کہ وہ کام کے بعد سارا دن میرے ساتھ گزارے اور رات کو ہی اپنے گھر لوٹے میں سمجھتی تھی کہ اس طرح میں اس لڑکی کو دکھی کر دوں گی اور ان کا رشتہ زیادہ دیر نہ چل سکے گا کیونکہ وہ ایک دوسرے سے دور رہیں گے مگر مجھے حیرت تب ہوئی جب وہ ہر صبح میرے بیٹے کے ساتھ میرے گھر آنے لگی ناشتہ اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی اور جب بھی میں اس کے کھانے کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کرتی تو وہ مسکرا کر نرمی سے کہتی کہ مجھے میرے طریقے سکھا دیں تاکہ میں سیکھ سکوں
جب بھی میں اسے کوئی تلخ یا کَسِیلِی بات کہتی وہ خاموشی اور مسکراہٹ سے جواب دیتی جو شروع میں میرے غصے کو اور بھڑکا دیتی یہاں تک کہ ایک دن ہم میں جھگڑا ہوگیا جس کی شروعات میں نے خود کی تاکہ اس کے اندر کی بُری باتیں باہر نکال سکوں اس سے پہلے کہ میرا بیٹا کام سے واپس آ جائے لیکن میں نے اس کی
آنکھوں میں اس وقت بھی خاموشی اور اداسی دیکھی جب میں نے اسے ایسی باتیں کہیں جو اس کی نسوانیت کو زخمی کر رہی تھیں پھر وہ میرے گھر سے نکل گئی اور اپنے اپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہو گئی آنکھوں میں آنسو جنہیں وہ مزید روک نہ سکی
مجھے اس بات پر حیرت تھی کہ اس نے غصے میں بھی اپنے جذبات قابو میں رکھے مجھے معلوم نہیں کیوں اس بار میں نے اپنے بیٹے کے سامنے اس کی شکایت نہیں کی اس رات جب وہ میرے گھر نہیں آئی تو مجھے ایک طرف اس پر ندامت ہوئی اور دوسری طرف یہ خوف بھی کہ کہیں وہ میرے بیٹے کو سب کچھ بتا نہ دے مگر میرے خدشات اس وقت دور ہوئے جب میرا بیٹا آیا اور اپنے ہاتھ میں ایک ریستوران سے منگوایا ہوا کھانا لایا اور کہا
میری بیوی تھک گئی ہے اور جلدی سو گئی اس نے مجھے کہا کہ تمہارے لیے کھانا باہر سے منگوا لوں تاکہ تم پر بوجھ نہ بنے
کیا اس نے تمہیں کچھ نہیں بتایا؟
نہیں کچھ نہیں لیکن اس کی آنکھوں میں میں نے غم دیکھا جس نے میرا دل توڑ دیا
پھر وہ بولا اماں شادی کے ایک ہفتے بعد میں نے تمہارا اس کے ساتھ رویہ محسوس کیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ وہ تمہیں جواب کیوں نہیں دیتی جبکہ وہ عام طور پر کسی کی بات برداشت نہیں کرتی تمہیں پتہ ہے اس نے مجھے کیا جواب دیا؟ اس نے کہا ایک بات جو میں کبھی نہیں بھولا "اگر برائی کا جواب بھلائی سے دیا جائے تو وہ کبھی نہ کبھی بھلائی میں بدل جاتی ہے
وہ تم میں اپنی اس ماں کو دیکھتی ہے جس کی نہ اس نے خوشبو جانی نہ لمس
اس نے کبھی تمہاری سختیوں کی شکایت کی نہ تمہاری تلخ باتوں کا جواب تلخی سے دیا حالانکہ وہ ایسا کر سکتی تھی
اسی وجہ سے میں نے اسے اپنی زندگی کا ساتھی بنایا
وہ تمہاری محبت کی حریف بننے نہیں
آئی اماں
خدا کی قسم اگر دنیا کی ساری عورتیں بھی جمع ہو جائیں تو وہ تیرے دل میں میرے لیے جو محبت ہے اس کا چوتھائی بھی حاصل نہیں کر سکتیں
تم میری ماں ہو جس نے مجھے جنم دیا اور میرے لیے راتیں جاگ کر گزاری ہیں
اور وہ میری محبوبہ ہے جو میرے کٹھن دنوں میں میرے ساتھ کھڑی ہے
تمہارے قدموں تلے جنت ہے
اور وہ ہے جس نے میری زندگی کو جنت بنا دیا
اماں میں نے نیک عورت پائی ہے اسے اپنی وہ بیٹی سمجھو جسے تمہاری کوکھ نے جنم نہیں دیا
اس رات کے بعد میرا رویہ اس کے ساتھ مکمل بدل گیا کیونکہ میرے بیٹے کے الفاظ نے میری آنکھوں پر چڑھا غفلت کا پردہ ہٹا دیا میں نے واقعی اس کے اندر حسن اخلاق اور دل کی نرمی کو پہچانا وہ میری خدمت میں کبھی نہیں کترائی یہاں تک کہ جب میرے بیٹے کے حالات خراب ہوگئے تو اس نے اپنے زیورات بیچ دیے اور ہر چیز میں کفایت شعاری اختیار کی تاکہ میرے بیٹے پر بوجھ نہ پڑے
میں نے ہر نماز میں اسے یہ دعا کرتے سنا کہ یا اللہ میرے دل اور میری ساس کے دل میں میری محبت پیدا کر دے
تب میں نے جانا کہ اس نے جو کہا تھا کہ برائی کا جواب بھلائی سے دو تو وہ بھلائی میں بدل جائے گی تو وہ سچ تھا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 اللہ کی تسبیح سے غافل 🔷
کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے ایک چرواہے کی نگرانی میں کچھ بھیڑیں تھیں۔ ایک دن اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا:
“مجھے ایک بھیڑ دے دو!”
چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا:
“یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں، میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں!”
بھیڑیا بولا:
“تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟”
چرواہے نے کہا:
“مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔”
بھیڑیا ہنسا اور بولا:
“جب تک تم واپس نہ آ جاؤ، میں خود بھیڑوں کی نگرانی کروں گا، الله نہ کرے کہ میں خیانت کروں لیکن اگر میں نے خیانت کی تو میں آخری امت کا قربِ قیامت والا ایک آدمی بن جاؤں” (یعنی اپنے آپ کو بد دعاء دی کہ ہم یعنی موجودہ مسلمانوں کی طرح ہو جاؤں، جو کہ افسوسناک ہے)
یہ سن کر چرواہا روانہ ہو گیا۔
راستے کی حیرت انگیز نشانیاں
چلتے ہوئے چرواہے نے تین عجیب و غریب مناظر دیکھے:
1️⃣ پہلی نشانی: اس نے ایک گائے کو اپنی ہی بچی کا دودھ پیتے دیکھا! حیران ہو کر اس نے سوچا: “سبحان الله! میں نے اس جیسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟”
2️⃣ دوسری نشانی: آگے بڑھا تو ایسے لوگ دیکھے جو بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، مگر ان کے ہاتھوں میں سونے کی تھیلیاں بھری پڑی تھیں! چرواہے نے سوچا: “یہ بھی بڑی عجیب بات ہے، ان کے پاس سونا ہے مگر یہ پھر بھی فقیر نظر آ رہے ہیں!”
3️⃣ تیسری نشانی: کچھ اور آگے بڑھا تو ایک بہتا ہوا چشمہ نظر آیا، پیاس کی شدت میں جیسے ہی قریب پہنچا، تو بدبو نے اسے روک دیا۔ پانی کی بدبو اتنی شدید تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا اور حیران ہو کر بولا: “یہ کیسی بات ہے؟ بہتا ہوا پانی اور اتنا گندا؟”
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمت بھری وضاحت
بالآخر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا اور بھیڑیے کی درخواست بیان کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
“ٹھیک ہے ، میں نے اسے اجازت دی کہ وہ ایک بھیڑ چن کر کھا لے۔”
چرواہے نے عرض کیا:
“حکم بجا لاتا ہوں، مگر راستے میں تین عجیب چیزیں دیکھی ہیں، ان کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔”
✦ پہلی نشانی کا جواب:
“یہ آخری زمانے کی نشانی ہے۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو فتنہ میں مبتلا کریں گی تاکہ خود فائدہ حاصل کر سکیں۔”
✦ دوسری نشانی کا جواب:
“یہ لوگ ڈاکو اور چور ہیں۔ جو مال حرام سے آتا ہے، اس میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔ آخری زمانے میں حرام کمائی عام ہو جائے گی، قناعت ختم ہو جائے گی اور برکت اٹھا لی جائے گی۔”
✦ تیسری نشانی کا جواب:
“یہ بھی آخری زمانے کے نام نہاد دیندار ہیں۔ دور سے دیکھو تو ان کا لباس دین داری کا ہوگا، مگر جب قریب جاؤ گے تاکہ کچھ سیکھ سکو، تو پاؤ گے کہ وہ دنیا اور خواہشات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔”
یہ سن کر چرواہے نے تڑپ کر کہا:
“میں اس زمانے کے فتنے سے الـلــَّـه کی پناہ مانگتا ہوں!”
بھیڑیے کی حیران کن دیانتداری
چرواہا واپس آیا تو دیکھا کہ بھیڑیا واقعی بھیڑوں کی نگرانی کر رہا تھا۔
اس نے کہا:
“حضرت سلیمان نے تمہیں اجازت دے دی ہے کہ تم کسی بھی بھیڑ کو چن کر کھا سکتے ہو۔”
بھیڑیے نے بھیڑوں پر نظر دوڑائی اور ایک کمزور، بیمار بھیڑ کو چن لیا۔
چرواہے نے حیرت سے پوچھا:
“تم نے یہی بھیڑ کیوں چنی؟”
بھیڑیا بولا:
“کیونکہ یہ اپنے رب کی تسبیح سے غافل تھی! جو اپنے رب کے ذکر سے غافل ہو، وہ بہت بڑی آزمائش میں ہوتا ہے۔”
📜 عربی سے ترجمہ کیا گیا۔
Copy...
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 پرانے دور کے جیب کترے 🔷
پرانے دور کے جیب کترے بھی ایماندار تھے!
بس سے اتر کر جیب میں ہاتھ ڈالا۔ میں چونک پڑا۔ جیب کٹ چکی تھی. جیب میں تھا بھی کیا؟ ٹوٹل 9 روپے اور ایک خط جو میں نے ماں کو لکھا تھا کہ "ماں! میری نوکری چھوٹ گئی ہے ابھی پیسے نہیں بھیج پاؤں گا"۔
تین دنوں سے وہ پوسٹ کارڈ جیب میں پڑا تھا، پوسٹ کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ نو روپئے جا چکے تھے۔ یوں نو روپئے کوئی بڑی رقم نہیں تھی۔ لیکن جس کی نوکری چھوٹ گئی ہو اُس کے لیے نو سو سے کم بھی تو نہیں ہوتی ہے۔۔۔
کچھ دن گزرے۔ ماں کا خط ملا۔ پڑھنے سے پہلے میں سہم گیا۔ ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہوگا۔ لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا!
ماں نے لکھا تھا: "بیٹا! تیرا بھیجا پچاس روپئے کا منی آرڈر ملا۔ تو کتنا اچھا ہے رے ۔۔۔ پیسے بھیجنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا" ۔ میں کافی دنوں تک اس اُدھیڑ بُن میں رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے۔۔۔۔؟
کچھ دن بعد ایک اور خط ملا۔ "بھائی نو روپئے تمھارے اور اکتالیس روپئے اپنے ملا کر میں نے تمھاری ماں کو منی آرڈر بھیج دیا ہے ۔ فکر نہ کرنا، ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے نا ! وہ کیوں بھوکی رہے؟
- تمھارا جیب کترا۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 صحابہ کی نام تبدیلی 🔷
1. کیا کسی صحابی کا نام اسلام قبول کرنے کے بعد تبدیل کیا گیا؟
جی ہاں، چند ایسے صحابہ موجود ہیں جن کے نام نبی کریمﷺ نے تبدیل فرمائے، بالخصوص وہ نام جو نامناسب معنی رکھتے تھے یا شرکیہ مفہوم پر دلالت کرتے تھے۔ کچھ مثالیں یہ ہیں:
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ: ان کا اصل نام عبد عمرو یا عبد الکعبہ تھا، جو کہ نبی اکرمﷺ نے بدل کر عبد الرحمن رکھا۔
حضرت ابوہریرہؓ: ان کا اصل نام عبد شمس تھا، جسے نبی کریمﷺ نے عبد الرحمن میں تبدیل کیا، لیکن وہ اپنی کنیت "ابوہریرہ" سے مشہور ہوئے۔
حضرت برہؓ: ان کا نام برہ (نیکی) تھا، نبی اکرمﷺ نے اسے زینب میں تبدیل کیا۔
حضرت سعد بن معاویہؓ: ان کا اصل نام حزن (غم) تھا، نبی اکرمﷺ نے اسے سعد (خوشی) میں بدل دیا۔
حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ: ان کا نام غلام شمس تھا، جو کہ تبدیل کر کے سالم رکھا گیا۔
یہ تبدیل شدہ نام اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر کسی کا نام غلط یا ناپسندیدہ معنی رکھتا تھا، تو نبی اکرمﷺ نے اسے بہتر مفہوم والا نام دیا۔
---
2. رسول اللہ ﷺ نے کس کو ہندوستان کا سفیر مقرر کیا؟
رسول اللہ ﷺ نے براہِ راست کسی کو ہندوستان میں سفیر مقرر کرنے کا ذکر تاریخی روایات میں نہیں ملتا۔ تاہم، کچھ روایات کے مطابق نبی کریمﷺ کے خطوط مختلف بادشاہوں کو بھیجے گئے، جن میں ہندوستان کے حکمرانوں تک بھی دعوت پہنچنے کا ذکر ملتا ہے۔
البتہ، حضرت مالک بن دینارؒ اور حضرت چراغ الدین شاہ تبریزؒ جیسی شخصیات کو اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں ہندوستان آنے کا شرف حاصل ہوا۔ بعض روایات میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے خلفاء کو بھی ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ کے لیے بھیجے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
---
3. کیا کوئی صحابی ہندوستان سے تھا؟
روایات میں ایک صحابی کا ذکر ملتا ہے جو ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے:
حضرت کرم بن جبر الہندیؓ: بعض مؤرخین کے مطابق، ان کا تعلق ہندوستان سے تھا اور وہ نبی کریمﷺ کے دور میں مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا۔ تاہم، ان کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
اسی طرح، حضرت تاج الدین ہاشمیؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان آئے اور اسلام کی تبلیغ کی، لیکن وہ خود صحابی نہیں تھے بلکہ بعد کی صدیوں میں اسلام کے مبلغ بنے۔
Copy...
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 عقلمند فقیر 🔷
ضلع پشاور کے دو شراکت دار اس غرض سے کابل گئے تاکہ وہاں گوشت کی تجارت کریں۔ قلیل عرصے میں انہوں نے دو تین ہزار روپیہ کما لیا اور اپنے وطن آنے کا ارادہ کیا۔ دونوں شراکت دار اپنے منافع کی رقم ساتھ لے کر وطن کی طرف چل پڑے۔ جلال آباد کے قریب پہنچ کر انہوں نے ایک نابینا گداگر کو دیکھا، جو راستے کے کنارے ایک بڑے درخت کے نیچے یہ صدا لگا رہا تھا:
*"افسوس! گردشِ دوراں نے سب کچھ چھین لیا، حتیٰ کہ آنکھوں کی بینائی بھی چھین لی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر پھر ایک مرتبہ تھیلی پر روپیہ رکھنے کا موقع میسر آ جائے!"*
بار بار وہ گداگر یہی جملے دہراتا تھا۔ دونوں شراکت دار اس کے قریب پہنچ گئے اور گداگر سے دریافت کیا:
"بھائی! تم زمانے کی گردش سے نالاں کیوں ہو؟"
نابینا گداگر نے کہا:
"میں اس علاقے میں ممتاز شخصیت کا مالک تھا۔ میری بہت سی جائیداد تھی، لیکن قسمت نے پلٹا کھایا اور میری آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ مجھے اس بات کا بہت شوق ہے کہ اس مفلسی میں، اگر اپنا نہیں تو دوسرے کا کمایا ہوا نقد روپیہ ان ہاتھوں میں ایک لمحے کے لیے رکھ کر اپنے دل کو تسکین دوں۔"
یہ تھا وہ ماجرا جو گداگر نے انہیں سنایا۔
انہوں نے مناسب سمجھا کہ یہ ایک نابینا گداگر ہے، جائے گا کہاں؟ اپنے روپوں کی تھیلی اسے ایک لمحے کے لیے دینے میں کیا حرج ہے! اگر اس کے دل میں یہی خواہش ہے تو وہ بھی پوری ہو جائے۔ ایک نے روپوں کی تھیلی اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
"لو بھائی فقیر! اپنی تمنا پوری کر لو۔"
گداگر نے تھیلی لیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک نے کہا:
"بھائی گداگر! اب ہمیں ہماری روپوں کی تھیلی واپس کر دو۔"
لیکن گداگر نے کمال سنجیدگی سے جواب دیا:
"تھیلی؟ کیسی تھیلی؟ واپس کیسے؟ یہ کیا بات ہے؟"
دوسرے ساتھی نے گداگر سے کہا:
"مذاق مت کرو، تھیلی جلدی واپس کر دو، ہمیں دیر ہو رہی ہے۔"
مگر گداگر نے تھیلی واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ شراکت دار حیران رہ گئے اور مصیبت میں پھنس گئے۔
گداگر نے کہا:
"میں نے تمام عمر یہاں بیٹھے بیٹھے گزاری ہے، پیسہ پیسہ جوڑا ہے۔ تم کہاں سے بدبخت ڈاکو یہاں پہنچ گئے، جو میری ساری عمر کی کمائی اتنی آسانی سے چھین لینا چاہتے ہو؟"
شراکت داروں نے جب گداگر کے یہ الفاظ سنے تو حواس باختہ ہو گئے۔ گداگر اٹھ کر چلنے لگا تو دونوں نے زبردستی اپنی تھیلی اس سے چھیننے کی کوشش کی، لیکن گداگر نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا:
"ڈاکو! ڈاکو! کوئی مدد کو پہنچے!"
پاس ہی ایک نہر بہہ رہی تھی۔ وہاں کے لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور دونوں شراکت داروں کو ڈاکو سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ دونوں نے بہت کوشش کی کہ دیہاتی ان کی بات کا یقین کر لیں، لیکن بے سود! بستی کے لوگوں نے یہ تجویز منظور کی کہ ان "ڈاکوؤں" کو بادشاہ کے دربار میں حاضر کریں اور ان کی گرفتاری کے صلے میں انعام حاصل کریں۔
چنانچہ دونوں کو بمعہ گداگر بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا۔
امیر عبدالرحمان عدالت کی کرسی پر متمکن تھے۔ درباری حاضر تھے۔ بادشاہ نے پہلے گداگر کا بیان سنا، پھر ملزموں کی داستانِ مظلومی سنی اور پھر حکم دیا:
"ایک کڑاہی لے آؤ اور اس میں پانی ڈال کر خوب گرم کرو!"
یہ سنتے ہی دونوں شراکت دار سہم گئے اور اپنی دردناک موت کا تصور کرنے لگے۔ ان کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ کڑاہی لائی گئی، اس میں پانی ڈال کر خوب گرم کیا گیا اور بادشاہ کے حکم کا انتظار ہونے لگا۔ بادشاہ غضبناک ہو کر بولے:
"لاؤ وہ روپوں کی تھیلی، اور اسے کڑاہی کے پانی میں ڈال دو!"
فوراً تعمیل ہوئی۔ بادشاہ نے پھر کہا:
"کڑاہی سے سب دور ہٹ جاؤ!"
چنانچہ سب پیچھے ہٹ گئے۔ بادشاہ خود آگے بڑھے، گرم پانی کی سطح پر غور سے دیکھا اور پھر واپس آ گئے۔ حکم ہوا:
"کڑاہی کا پانی گرا کر روپے شراکت داروں کے حوالے کر دیے جائیں!"
جو تھوڑی دیر قبل اپنی موت کا انتظار کر رہے تھے، اب خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔
بادشاہ نے فرمایا:
"نابینا گداگر کو مناسب سزا دی جائے!"
لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ قاضی نے جرات کرتے ہوئے فیصلہ کی تفصیل سننے کی خواہش ظاہر کی۔
بادشاہ نے فرمایا:
"جن دو شخصیتوں کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا، درحقیقت وہ بالکل بے گناہ تھے۔ انہوں نے گوشت فروخت کر کے روپیہ جمع کیا تھا، کیونکہ گرم پانی کی سطح پر چربی کے تیرتے ہوئے ذرات ظاہر ہوئے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ گوشت فروشوں کے ہاتھ کا میل تھا، جو گوشت کی چربی کی وجہ سے ان کے ہاتھوں پر لگا تھا اور وہی روپوں کو بھی لگ گیا تھا۔ تجربہ کیا گیا، جو صحیح نکلا!"
بادشاہ کے اس فیصلے سے حاضرینِ دربار بے حد خوش ہوئے۔
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 قیمت صرف سکوں کی آواز 🔷
ایک عرب فقیر بغداد میں پہنچا جب وہ نانبائی کی دوکان کے سامنے سے گزرا تو اسے طرح طرح کے کھانوں کی بو بھلی محسوس ہوئی لیکن اس کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے اس نے اپنے تھیلے سے خشک روٹی نکالی اور کھانے کی دیگ کی بھاپ سے نرم کر کے کھانے لگا
نانبائی چند لمحوں تک یہ منظر حیرت سے دیکھتا رہا فقیر کی روٹی ختم ہو گئی تو اس نے جانا چاہا لیکن نانبائی نے اسے روک کر اس سے پیسوں کا مطالبہ کیا ان میں توں توں میں میں ہونے لگی
اتفاق سے بہلول کا ادھر سے گزر ہوا عرب نے بہلول سے فیصلہ چاہا
بہلول نے نانبائی سے کہا “اس آدمی نے تیرا کھانا کھایا ہے یا نہیں؟”
نانبائی نے کہا “کھانا تو نہیں کھایا لیکن اس کی بھاپ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہے”
بہلول نے نانبائی سے کہا یہ درست ہے سن! اس کے بعد اپنی جیب سے سکہ نکالا ایک ایک کر کے ان سکوں کو نانبائی کو دکھاتا تھا زمین پر گراتا جاتا تھا اور پھر اٹھا لیتا تھا اور نانبائی سے کہتا تھا کہ پیسوں کی آواز پکڑے
نانبائی نے تعجب سے کہا “یہ پیسے دینے کا کونسا طریقہ ہے”؟
بہلول نے کہا “میرے فیصلے اور انصاف کے مطابق جو شخص کھانے کی خوشبو اور بھاپ بیچے اسے چائیے کہ وہ اس کے بدلے میں پیسے کی آواز وصول کرے” ۔
Copy...
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
