ISLAM WITH EMAN
رفتن به کانال در Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
نمایش بیشتر1 288
مشترکین
-224 ساعت
-47 روز
-430 روز
آرشیو پست ها
1 288
✈درست سمت اور مستقل مزاجی✈
ایک بہت بڑے جہاز کا انجن فیل ہوگیا۔ جہاز کے مالک نے ایک کے بعد ایک ماہر کو آزمایا مگر ان میں سے کوئی بھی طے نہ کر پایا کہ اس جہاز کو کیسے ٹھیک کیا جائے۔ پھر اسے ایک آدمی ملا جو اپنی جوانی سے جہاز ٹھیک کرتا چلا آیا تھا۔ جب وہ آیا تو اس کے پاس اوزاروں کا بہت بڑا بیگ اٹھایا ہوا تھا اور وہ جیسے ہی آیا اپنے کام میں لگ گیا۔
اس نے اوپر سے لے کر نیچے تک انجن کا معائنہ کیا۔ جہاز کے دو مالک وہیں موجود تھے جو اس آدمی کو دیکھتے ہوئے کچھ پرامید نظر آرہے تھے۔ جی بھر کے معائنہ کرنے کے بعد بوڑھے آدمی نے اپنے بیگ سے ایک ہتھوڑا نکال لیا اور آہستگی سے کسی چیز پر مارنی شروع کردی۔جلد ہی انجن کو زندگی آن ملی۔ہتھوڑی کو پھر اس نے واپس رکھ دیا۔ جہاز کا انجن اب ٹھیک ہو چکا تھا۔ ایک ہفتے بعد جہاز کے مالکوں کو بوڑھے آدمی کی طرف سے دس ہزار کا بل موصول ہوا۔حیران زدہ مالکوں نے کہا: اس نے تو اتنا بڑا کوئی کام کیا ہی نہیں پھر اتنا بل کیوں؟ لہذا انہوں نے بوڑھے آدمی کو ایک نوٹ لکھ کر بھیجا: برائے مہربانی! ہمیں اشیاء کے حساب سے بل بنا کر بھیجیں۔ بوڑھے آدمی نے جواباً عرض بھیجی: ہتھوڑی سے ٹھوکنے کی فیس: 2 ڈالر، صیح جگہ پر ٹھوکنے کی فیس: 9 ہزار 9 سو اٹھانوے ڈالر۔ محنت کرنا ایک اہم چیز ہے۔ لیکن کس جگہ محنت کرنی ہے، فرق اسی سے بنتا ہے۔لہذا محنت کرتے رہو، صحیح سمت کا تعین کرکے۔ مشکلیں آئیں گی لیکن بالاخرتم ایک مکمل تجربہ کار انسان بن جاؤگے۔ لوہا گرم بھٹی سے ہو کر ہی مظبوط بنتا ہے۔ تجربہ ہی ایک انسان کو ایک اناڑی سے مختلف بناتا ہے۔ پختگی وقت سے آتی ہے اور وقت صرف اس کا ساتھ دیتا ہے جو مستقل مزاج ہوتا ہے۔
(منقول)
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🍂مردہ مرغی چھیلنے والا🍂
کچھ دن پہلے ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ میانوالی ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ ﭼﻨﺎﭼﮧ بندیال ﮐﯽ ﻭﯼ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﻣﯿﭩﺮﻭ ﮐﯿﺮﯼ ﺳﺮﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ گیا.
ﺟﻮﻧﮩﯽ سرگودھا ﮐﮯ پہاڑوں کی ﻣﻮﮌﻭﺍﻟﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺭﻭﮈ ﺑﻼﮎ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ .
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ لوﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ادھیڑ عمر کے ایک ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ۔
ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﻓﺎﺭﻣﺰ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺭﻧﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ .
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ تھیلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ .
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﺖ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ .
ﺑﻶﺧﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﻣﺸﺘﻌﻞ ﮨﺠﻮﻡ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ .
ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔
ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﻋﻤﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﻢ کافی ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ۔
ﻟﻮ ﺟﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮈﺳﮑﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﻌﻦ ﻃﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ سرگودھا ہوٹل ﻣﯿﮟ ﺑﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺯﺑﺢ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻮ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ . خوشاب ﻣﯿﮟ .
ﮐﭽﮫ ﻧﮯ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﯾﮧ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﭘﯿﺴﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ؟
ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ سرائیکی ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﺳﻨﺎﺅ ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺩﻭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ .
ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺷﺸﺪﺭ ﮨﻮﺍ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﻨﺎ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺳﻨﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻭﺍﻭﯾﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔
ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻭﺭ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮐﮧ " ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﮍﺍ ﺁﯾﺎ ﺳﯿﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﭘُﺘّﺮ "
ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﻠﺰﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻨﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮕﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﺎ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﮨﻮﮔﺎ .. میں حضور اکرم (ص) کو شکوہ کروں گا ۔۔ آپکے ﺍﻣﺘﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻨﺎ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺑﻨﺎ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭼﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﺍ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯼ .
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮ ! ﻣﯿﮟ جوہر آباد ﮐﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﮉ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﻋﻼﺝ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻣﮩﻨﮯ ﺩﻭ ﺑﻮﺗﻞ ﺧﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺩﻭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﭼﺎﺭ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﻗﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ .
ﭼﺎﺭ مہینے ﺳﮯ سرگودھا ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ .
ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ .
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺴﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﺎﮞ ﺟﺐ ﺳﮯ سرگودھا ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
" ککڑ گھن آؤ ابا سائیں ککڑ پکاسوں "
ﺍﺑﻮ ﺁﺝ ﮔﻮﺷﺖ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺁﺝ ﻣﺮﻏﯽ ﭘﮑﺎﺋﯿﮟ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﻓﺎﺭﻡ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭘﮭﻨﮑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﻮﭼﺎ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﺑﺲ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ .
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ .
ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ .
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺟﮭﻮﻟﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﺍﻭﺭﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯿﺎﮞ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ .
ﻻﺭﯼ ﺍﮈﺍ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺩﮮ ﻣﺎﺭﺍ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ
" ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ عون محمد ہے ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ .
.
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﯾﺌﮯ ﺟﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭧ ﮔﮭﭧ ﮐﺮ ﺟﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﻞ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ؐ پا ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﮮ.
(منقول)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
😂😝 #جلسہ 😜😂
ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک سیاستدان کی تقریر تھی. 300 کلو میٹر ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد جب وہ تقریر کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ صرف ایک کسان انکی تقریر سُننے کے لئے بیٹھا ہُوا تھا۔
اس اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاستدان کو سخت مایوسی ہُوئی، اور نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگے،
بھائی، آپ تو صرف اکیلے آدمی آئے ہو، سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں تقریر کروں یا نہیں-"،؟
کسان بولا، صاحب میرے گھر پر بیس(۲۰) گدھے ہیں۔
اگر میں ان کو چارہ ڈالنے جاؤں، اور دیکھوں کہ وہاں صرف ایک گدھا ہے، اور باقی دوڑ گئے ہیں، تو کیا میں اس ایک گدھے کو بھی چارہ نہ ڈالوں،؟ اور اسے بھی بُھوکا مار دوں؟؟
کسان کا بہترین جواب سُن کر سیاستدان بہت خُوش ہُوا، اور ڈائس پر جا کر اس اکیلے کسان کے لئے دو(۲) گھنٹے تک پُرجوش انداز میں تقریر کرتا رہا۔
تقریر ختم کرنے کے بعد، وہ ڈائس سے اُتر کر سیدھا کسان کے پاس آیا اور بولا،
تُمہاری گدھے والی مثال مجھے بہت پسند آئی،، اب تُم بتاؤ، تُمہیں میری تقریر کیسی لگی؟
کسان بولا،، صاحب، اُنیس(۱۹) گدھوں کی غیر موجودگی کا یہ مطلب تو نہیں کہ بِیس(۲۰) گدھوں کا چارہ، ایک گدھے کے آگے ڈال دِیا جائے۔۔۔! 😃
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🍃کیا دنیا اور آخرت میں تضاد ہے؟(2)🍃
حضرت امام محمد باقرؑ سے ایک حدیث میں بیان ہوا ہے:
”نِعمَ العَون الدُّنْیَا عَلَی طَلَبِ الآخرة“
آخرت تک پہنچنے کے لئے دنیا بہترین مددگار ہے۔
سورہ قصص کی آیات میں مالدار اور مغرور ”قارون“ کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے، جو اس موضوع کے لئے بہترین شاہد ہے، لیکن اسلام اس مال و دولت کو پسند کرتا ہے جو ”آخرت کے لئے کام آئے“، جس کے ذریعہ آخرت حاصل کی جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے علماء قارون سے کہتے تھے:
”وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ الله الدَّار الآخرة“
خدا کی عطا کردہ نعمتوں کے ذریعہ آخرت حاصل کرنے کی فکر کر۔
اسلام اس مال کو پسند کرتا ہے جس کے ذریعہ سب کے ساتھ نیکی کی جائے: ”اٴحْسَنَ کَمَا اٴحسنَ الله إلیک“
اسلام اس مال و دولت کی مدح و ثنا کرتا ہے جس میں انسان دنیا سے صرف اپنے حق کو نہ بھولے:
”لَاتَنْسِ نَصِیبکَ مِنَ الدُّنْیَا“
خلاصہ اسلام ایسے مال و دولت کو پسند کرتا ہے جس کے ذریعہ ظلم و فساد برپا نہ کیا جائے، انسانی اقدار کی پائمالی نہ ہو، اور مال زیادہ کرنے کے جنون میں مبتلا نہ ہو، نیز مال ”خود پسندی“ اور دوسرے کو ذلیل سمجھنے کا باعث نہ ہو یہاں تک کہ انسان مال و دولت کے نشہ میں خدا و رسول کے مقابلہ میں نہ آجائے۔
اس مال کے ذریعہ سب کی مشکلات دور کرناچاہئے، یہ مال اگر غریبوں کے زخم کا مرہم بن جائے، محتاج لوگوں کے درد کی دوا بن جائے تو واقعاً اسلام اس مال کوپسند کرتا ہے۔
ان مقاصد کے تحت مال و دولت حاصل کرنا دنیا کی محبت نہیں ہے، بلکہ یہ آخرت کی لگن ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے:
حضرت امام صادق علیہ السلام کے دوستوں میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور اس نے شکایت کی کہ ہم دنیا سے محبت کرتے ہیں اور اس کی آرزو کرتے ہیں (لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا پرست نہ ہوجاؤں!!)
امام علیہ السلام (اس شخص کے تقویٰ اور پاکیزگی سے باخبر تھے) نے فرمایا:
تم مال و دولت سے کیا کیا کام انجام دیتے ہو؟
اس نے عرض کی:
اپنے او ر اپنے اہل و عیال کا خرچ پورا کرتا ہوں، اپنے رشتہ داروں کی مدد کرتا ہوں، راہ خدا میں خرچ کرتا ہوں اور حج و عمرہ بجالاتا ہوں۔
اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لَیسَ ھَذا طَلَبُ الدُّنیَا ھَذَا طَلَبُ الآخِرة"
ِیہ دنیا طلبی اور دنیا پرستی نہیں ہے بلکہ یہ آخرت کا سودا ہے۔
اور یہیں سے ان دو گروہوں کے نظریہ کا باطل ہونا بھی واضح ہوجاتا ہے:
پہلا گروہ ایسے مسلمانوں کا ہے جن کو تعلیمات اسلامی کی کوئی خبر نہیں ہے اور اسلام کو مستکبرین کا حامی قرار دیتے ہیں، اور دوسرا گروہ ان دشمنوں کا ہے جو اسلام کی صورت بگاڑ کر پیش کرتے ہیں، اور اسلام کو مال و دولت کا مخالف اور فقر و غربت کا طرفدار قرار دیتے ہیں۔
اصولی طور پر کوئی غریب قوم آزادی اور سربلند ی کی زندگی نہیں گزار سکتی۔
فقر و غربت وابستگی کا وسیلہ ہے۔
فقر و غربت دنیا و آخرت کی ذلت کا نام ہے۔
فقر و غربت انسان کو گناہ اور آلودگی کی دعوت دیتے ہیں۔
جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول حدیث میں وارد ہوا ہے:
”غَنیٌّ یحجزُکَ عَن الظُّلْمِ خَیرٌ مِن فَقْرٍ یَحمَلُکَ عَلَی الاٴثمِ“
ایسی بے نیازی جو دوسروں پر ظلم کرنے سے روک لے، اس فقر و غربت سے بہتر ہے جو تجھے گناہوں کی دعوت دے۔
تمام ملت اسلام کو اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ غنی بنیں اور دوسروں سے بے نیاز ہو جائیں، خود کفائی کی منزل تک پہنچیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، اور اپنی عزت و شرافت اور استقلال کو فقر و غربت اور دوسرے سے وابستگی پر قربان نہ کریں، یہی اسلام کا اصلی راستہ ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🍃کیا دنیا اور آخرت میں تضاد ہے؟(1)🍃
قرآن مجید کی متعدد آیات میں دنیا کی اپنے مادی امکانات کے ساتھ تعریف و تمجید کی گئی ہے۔ بعض آیات میں مال کو ”خیر“ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے:
"کُتِبَ عَلَیْکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاٴَقْرَبِینَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِینَ۔"
ترجمہ:
تمہارے اوپر بھی لکھ دیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی (خیر) مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کردے یہ صاحبان تقویٰ پر ایک طرح کا حق ہے۔
بہت سی آیات میں مادی نعمتوں کو فضل خدا کا عنوان دیا گیا ہے،
"وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللهِ"
اور فضل خدا کو تلاش کرو۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
"خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا"
(سورہ بقرہ، آیت۲۹)
روئے زمین کی تمام نعمتیں تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں۔
بہت سی آیات میں ان تمام چیزوں کے لئے کہا گیا ہے: <سَخَّرَ لَکُم> (یہ سب تمہارے لئے مسخر کردی گئی ہیں)، اور اگر تمام ان آیات کو ایک جگہ جمع کیا جائے کہ جن میں مادی امکانات کو محترم شمار کیا گیا ہے توان کی کثیر تعداد ہو جائے گی۔
لیکن مادی نعمتوں کی اس قدر اہمیت ہونے کے بعد بھی قرآن مجید میں ایسے الفاظ ملتے ہیں جن میں ان مادی چیزوں کو تحقیر اور ذلت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔
ایک جگہ متاع فانی اور عرض شمار کیا گیا ہے:
"تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا"
(سورہ نساء، آیت۹۴)
ایک دوسری جگہ اس کو غرور اور غفلت کا سبب شمار کیا گیاہے:
"وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُور"
(سورہ حدید، آیت۲۰)
ایک دوسرے مقام پر دنیا کو لہو و لعب اور کھیل کود سے تعبیر کیا گیا ہے:
"وَمَا ہَذِہِ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَہْوٌ وَلَعِبٌ"
(سورہ عنکبوت، آیت۶۴)
ایک دوسری جگہ یاد خدا سے غفلت کا سبب قرار دیا گیا ہے:
"رِجَالٌ لاَتُلْہِیہِمْ تِجَارَةٌ وَلاَبَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ الله"
(سورہ نور، آیت۳۷)
اسی طرح یہ مختلف نظریہ روایات میں بھی بیان ہوا ہے:
ایک طرف تو دنیا کو آخرت کی کھیتی، نیک اور صالح افراد کے لئے تجارت گاہ، دوستان حق کے لئے مسجد، وحی الٰہی کے نزول کی جگہ، اور وعظ و نصیحت کا مقام شمار کیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے:
”مَسجدُ اٴحباء الله و مُصَلّٰی ملائکة الله و مھّبط وحیّ الله و متّجر اٴولیاء الله"
دوسری طرف اسی دنیاکی مذمت کی گئی ہے اور اس کو غفلت و بے خبری اور یاد خدا سے غافل ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
کیا اس طرح کی تمام آیات و روایات میں تضاد ہے؟
اس سوال کا جواب بھی خود قرآن مجید سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
دنیا اور اس کی نعمتوں کی مذمت اس جگہ کی گئی ہے جہاں ان لوگوں کو مخاطب قرار دیا گیا ہے کہ جن کا ہدف اور مقصد صرف یہی دنیاوی زندگی ہے، جیسا کہ سورہ نجم میں ارشاد ہوتا ہے:
"وَلَمْ یَرِدْ إلاَّ الحیٰوة الدُّنْیَا"
(سورہ نجم، آیت ۲۹)
اور زندگی دنیا کے علاوہ کچھ نہ چاہے۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں اور دنیاوی مادیات تک پہنچنے کے لئے کسی بھی ظلم و ستم اور خلاف ورزی کی پرواہ نہیں کرتے۔
سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:
"اٴ رَضِیتُمْ بِالحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الاٴَخِرَةِ"
(سورہ توبہ، آیت۳۸)
کیا تم آخرت کے بدلے زندگانی دنیا سے راضی ہوگئے ہو؟۔
محل بحث آیات خود اس بات پر شاہد ہیں جیسا کہ ارشاد ہے:
"من کان یرید العاجلة"
(یعنی صرف ان کا ہدف اور مقصد یہی جلد ہی ختم ہوجانے والی مادی زندگی ہے۔)
اصولاً ”کھیتی“ یا ”تجارت گاہ“ وغیرہ جیسے الفاظ اس سلسلہ میں زندہ گواہ ہیں۔
مختصر یہ کہ مادی نعمتیں سب خداوندعالم کی طرف سے ہیں اور نظام خلقت میں ان کا موجود ہونا ضروری تھا اور اگر انسان ان کے ذریعہ معنوی کمال اور سعادت تک پہنچنے میں مدد حاصل کرے تو ہر لحاظ سے قابل تحسین ہیں۔
لیکن اگر صرف دنیا ہی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کو آخرت کا وسیلہ نہ قرار دیا جائے تو اس صورت میں یہی مادی نعمتیں، غفلت و غرور، طغیان و سرکشی اور ظلم و ستم کا عنوان حاصل کرلیں گی، جس کی ہر لحاظ سے مذمت کی جائے گی۔
واقعاً حضرت علیؑ نے اپنے مختصر اور پُرمعنی کلام میں کیا بہترین ارشادفرمایا:
”مَنْ اٴبصَرَ بھَا بصّرتہ وَمَنْ اٴبصَرَ إلَیھَا اٴعمتہ"
(جس نے اس دنیا کو چشم بصیرت کے ساتھ دیکھا (اور اس کو بینائی کا وسیلہ قرار دیا) تو دنیا اس کو بصیرت اور آگاہی عطا کرتی ہے، اور اگر کسی نے خود دنیا کو دیکھا تو دنیا اس کو نابینا کر دیتی ہے)
در اصل مذموم اور ممدوح دنیا میں یہی فرق ہے کہ اگر اس کو ہدف قرار دیا جائے تو مذموم ہے اور اگر اس کو ذریعہ اور وسیلہ قرار دیا جائے تو ممدوح ہے۔
حضرت امام محمد باقرؑ سے ایک حدیث میں۔۔۔ (جاری ہے، بقیہ حصہ دوم میں)
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌿دیگر مناطق میں انبیاء🌿
سوال) کیا تمام انبیاء عرب اور فلسطین میں آئے ہیں؟ ہمیں چین، ہندوستان اور امریکہ کے ریڈ انڈینز میں انبیاء کیوں نہیں ملتے؟
جواب) قرآن واضح کہتا ہے کہ ہم نے ہر شہر یا قریہ میں نبی بھیجے، برّاعظم اور ممالک تو پھر بھی کافی بڑے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی آیت ہے؛
وَ لَقَدْ بَعَثْنا فی کلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوت
اور ہم نے ہر امت میں سے رسول مبعوث کئے تاکہ اللہ تعالی کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو (سورہ نحل: 36)
ایک جگہ اور ارشاد ہے؛
وَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فیها نَذیر
کوئی امت ایسی نہیں گزری جہاں ہم نے کوئی ڈرانے والا (نبی) نہیں بھیجا۔ (فاطر: 24)
یہ عدل خداوندی کے خلاف ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے اسباب مہیا نہ کرے۔ لہذا ایسا ناممکن ہے کہ اللہ تعالی نے سارے انبیاء فلسطین و عرب میں بھیجے ہوں اور چین و ھندوستان و امریکہ جیسے وسیع علاقوں کو نظر انداز کیا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام علاقوں میں انبیاء آئے، یہاں تک کہ ہم قائل ہیں کہ جنات میں بھی انبیاء مبعوث ہوئے اور بعید نہیں دیگر جانداروں میں بھی انبیاء مبعوث ہوئے ہوں کیونکہ قرآن کی دیگر آیات کے مطابق تمام جاندار اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گے، اور جس طرح انسانوں کی امتیں ہیں ان جانداروں کی بھی امتیں ہیں۔ انشاء اللہ اس موضوع پر پھر کبھی روشنی ڈالیں گے۔
سردست مندرجہ بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مناطق میں انبیاء بھیجے ہیں۔ چین جیسے وسیع و عریض ملک میں بھی انبیاء آئے ہوں گے، اور ہندوستان میں بھی مبعوث ہوئے ہوں گے، یقینا آسٹریلیا و امریکہ کی قدیم آبادیوں میں بھی انبیاء آئے ہوں گے۔ بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء مبعوث ہوئے ہیں جن میں سے فقط 25 کا ذکر قرآن میں ہے۔ کچھ کا ذکر روایات میں بھی ہے تو کل ملا کر 40 سے زائد انبیاء کے نام ہمیں معلوم نہیں۔ یقینا یہ وہ انبیاء ہیں جو دیگر مناطق میں مبعوث ہوئے ہوں گے، ان سب کا ذکر قرآن میں نہیں کیونکہ قرآن انبیاء کے قصّے کہانیوں کی کتاب نہیں مگر موعظہ و نصیحت کے لئے کچھ انبیاء کے احوال ضرور آئے ہیں۔
البتہ یہ بھی بعید نہیں کہ زیادہ تر انبیاء مشرق وسطی میں آئے ہوں، کیونکہ انسانی نسلوں کے علوم (اینتھراپالوجی) کے مطابق مشرق وسطی انسانی تہذیبوں کا سنگم ہے۔ دنیا کے مشہور اور قدیم تمدن کا مرکز یہی علاقے تھے، قدیم اور جدید نسلوں کا امتزاج بھی انہی علاقوں میں ہوا، جبکہ دیگر علاقوں میں آبادیاں مشرق وسطی کی تہذیبوں کے بعد پھلی پھولی۔ تو یہ احتمال ممکن ہے کہ ان علاقوں کے انبیاء کی تعداد زیادہ ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دیگر علاقوں میں بھی انبیاء مبعوث ہوئے ہوں گے۔
بعض اسکالرز کے مطابق چین میں کنفیوشس، ہندوستان میں مہاتما بدھ اور ایران کا زرتشت انبیاء میں سے تھے۔ یہ احتمال بھی بعید نہیں لیکن زرتشت کے سوا باقی افراد کے بارے میں ہم قطع و یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے، البتہ زرتشت کے بارے میں معتبر روایات ہیں جن کے مطابق وہ نبی تھی، یہی وجہ ہے کہ معاصر علماء کی ایک جماعت جیسے آيت اللہ سیستانی و رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای وغیرہ زرتشتیوں کو اہل کتاب سمجھتے ہیں۔
اگر بالفرض کسی شہر یا قریہ یا منطقہ میں نبی نہیں بھیجا گیا تو اللہ تعالی ان لوگوں کو بھی عذاب نہ دے گا، کیونکہ حجت تمام نہیں ہوئی، یہ افراد مستضعفین میں سے ہیں چنانچہ ان کو عذاب نہ دیا جائے گا۔
جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے؛
وما کُنّا مُعَذِّبینَ حَتّی نَبْعَثَ رَسُولاً
یعنی ہم عذاب نہیں کریں گے جب تک اس (قوم میں) رسول مبعوث نہ کریں (بنی اسرائیل 15)
لہذا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر منطقے میں نبی یا رسول بھیجے، اور جہاں نہیں بھیجے تو یقینا ان کے لئے عذاب و عقاب بھی نہیں ہوگا۔
الاحقر: سید جواد حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 قصر نماز کے احکام 🔷
مسافر پر ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعتی نمازوں کا قصر (دو رکعت) پڑھنا واجب ہے، بشرطیکہ وہ شرعی سفر کی شرائط پر پورا اترتا ہو۔
*نمازِ قصر کی بنیادی شرائط*
نماز قصر ہونے کی اہم شرائط یہ ہیں:
• مسافتِ شرعی: سفر کی کل (آنے جانے کی) مسافت کم از کم 8 شرعی فرسخ (جو کہ تقریباً 44 کلومیٹر بنتی ہے) ہو۔ یعنی جانے یا آنے میں یا آنے جانے کو ملا کر (تفصیلات کے مطابق، آ جانا 22 کلومیٹر اور واپس آنا 22 کلومیٹر یا یک طرفہ 44 کلومیٹر)۔
• ابتداءِ سفر کا ارادہ: سفر شروع کرنے سے ہی 8 فرسخ یا اس سے زیادہ کا ارادہ ہو۔
• راستے میں ارادہ تبدیل نہ ہونا: منزل پر پہنچنے یا 8 فرسخ طے کرنے سے پہلے ارادہ ختم نہ ہو۔
• 10 دن یا وطن کا ارادہ نہ ہونا: راستے میں یا منزل پر 10 دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو، اور نہ ہی وہاں اپنا وطن قرار دینے کا ارادہ ہو۔
• سفر کا جائز ہونا: سفر گناہ یا حرام مقصد کے لیے نہ ہو۔
• حدِ ترخص عبور کرنا: مسافر اپنے شہر کی دیواروں یا آخری گھروں کی اس حد (حدِ ترخص) سے گزر جائے جہاں سے شہر کی اذان کی آواز سنائی دینا بند ہو جائے یا شہر والوں کی نظر سے مسافر اوجھل ہو جائے۔
• کثیرالسفر نہ ہونا: مسافر ایسا شخص نہ ہو جس کا پیشہ ہی سفر ہو (جیسے ڈرائیور، پائلٹ وغیرہ) یا جو بار بار سفر کرتا ہو (کثیرالسفر کے لیے مخصوص شرائط ہیں)۔
*اہم اور ضروری احکام*
• کون سی نمازیں قصر ہوتی ہیں؟ صرف چار رکعتی نمازیں (ظہر، عصر اور عشاء) قصر ہو کر دو رکعت پڑھی جاتی ہیں۔ فجر (صبح) اور مغرب کی نمازیں حالتِ سفر میں بھی پوری (اصلی رکعت کے مطابق) ہی پڑھی جاتی ہیں۔
• اماکنِ اربعہ (خاص مقامات): چار مقدس مقامات—مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، مسجدِ کوفہ اور حرمِ امام حسین علیہ السلام (کربلا) میں مسافر کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ نماز پوری (تمام) پڑھے یا قصر (دو رکعت) پڑھے، البتہ پوری نماز پڑھنے میں زیادہ فضیلت ہے۔
• دس دن کا قیام: اگر کوئی مسافر کسی ایک جگہ پر لگاتار 10 دن یا اس سے زیادہ رہنے کا ارادہ کر لے، تو اس کی نمازیں پوری (تمام) ہوں گی۔
• نمازِ قضا کا حکم: اگر سفر میں کوئی نماز قضا ہو جائے، تو اس کی قضا بعد میں گھر (حضر) لوٹ کر بھی قصر ہی (دو رکعت) ادا کی جائے گی۔ اسی طرح اگر وطن (حضر) میں کوئی چار رکعتی نماز قضا ہوئی ہو اور وہ سفر میں ادا کی جائے، تو اسے پورا ہی پڑھا جائے گا۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 288
🌹 میری بیٹی میرا غرور ہے 🌹
کچھ دن پہلے اسکے موبائل پر انجانے نمبر سے کال آنے لگی. اس نے یہ سوچ کر کہ کسی دوست یا جاننے والی کی کال ہوگی, کال ریسیو کرلی. مگر دوسری طرف سے مردانہ آواز سنتے ہی رانگ نمبر کہہ کر کال منقطع کردی. بس وہ دن ہے اور آج کا دن میسجز اور کالز کا ایسا تانتا بندھا جو رکنے کا نام ہی نہ لیتا.
کال تو اس نے کوئی رسیو نہ کی مگر میسجز پڑھتی رہی. نام پوچھا جاتا، فون اٹھانے پر اصرار کیا جاتا اور اسکی آواز کی خوب تعریف کی جاتی، اپنے بارے میں بتایا جاتا،
جواب نہ دینے کے باوجود میسجز اور کالز کا سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری تھا.
#عِفّت کے لیے یہ سب نیا تھا، چھوٹی سی عمر کا ایک انجانا سا احساس تھا جسے وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی.
کیا ہوا اگر میں بھی ایک میسج کردوں یہی پوچھ لیتی ہوں کہ کون ہو اور کیوں مجھے تنگ کررہے ہو، اس لمحے اسکے دماغ میں خیال آیا. رات کے تین بج رہے تھے. کتنی ہی بار اس نے میسج لکھ کر مٹایا, عجیب شش و پنج کا شکار تھی. کوئی اس سے بات کرنے کے لیۓ بےچین تھا، یہ خیال اسے نہ جانے کیوں ایک انجانی سی خوشی دے رہا تھا.
بالآخر سوچ بچار کے بعد اس نے ایک میسج ٹائپ کرلیا. جس میں اس نے لکھا کہ وہ کون ہے اور رات کے اس پہر اسے کیوں تنگ کررہا ہے. ہاں کوئی بات نہیں ایک میسج ہی تو ہے اور پوچھ لینے میں قباحت ہی کیا ہے, اس نے خود کو تسلی دی.
بٹن دبانے ہی لگی تھی کہ اچانک اک چہرہ اسکی دماغ کی اسکرین پر ابھرا.
"میری بیٹی تو میرا مان ہے"
یہ جملہ جو اسکے بابا اس کا ماتھا چومتے ہوۓ اکثر دہرایا کرتے تھے. اس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے.
"بیٹیاں جب معاشرے میں سر جھکا کر چلتی ہیں تب ہی اس کےبھائی اور باپ سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوتے ہیں"
شفقت و محبت سے کہا گیا بابا کا ایک اور جملہ دل کی تار چھیڑ گیا.
جب کبھی امی جی بابا کو اسے سر چڑھانے کا طعنہ دیتیں تو بابا کی طرف سے ایک مخصوص جواب آتا کہ
"عِفّت تو اپنے بابا کا غرور ہے"
اور ہمیشہ ہی اسے یہ جملہ سرشار کر دیتا.
اسے اپنا سارا وجود سن ہوتا ہوا محسوس ہوا، بڑی مشکل سے بستر سے اٹھی. پسینے سے شرابور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بالکونی میں جا کھڑی ہوئی.
"میری بیٹی تو میرا غرور ہے"
"میری بیٹی تو میرا مان ہے"
"میری بیٹی بہت بہادر ہے"
کانوں میں گونجتی بابا کی آواز اب تک سنائی دے رہی تھیں.
جی بابا جانی میں کمزور نہیں ہوں, آپکی عِفّت آپکا غرور نہیں توڑے گی ان شاءاللہ.
آپکا سر کبھی جھکنے نہیں دے گی، آپکا یہ مان ہمیشہ قائم رکھے گی. آپ کی دی گئی محبت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاۓ گی.
وہ سرگوشی میں بولتی گئی، آنسو اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے.
اس نے جلدی سے اس نمبر کو بلاک کیا. سکون کے احساس کے ساتھ اس نے گہرا سانس لیا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگی رات کی آخری پہر تھی کچھ دیر میں سحر ہونے کو تھی.
نیچے صحن کی طرف دیکھا تو بابا تہجد پڑھنے کے بعد اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ پھیلاۓ دعا مانگنے میں مصروف نظر آۓ.
باپ اللہ سے اسکی عزت و آبرو کی دعا مانگیں اور اللہ پاک اسے گناہوں کی دلدل سے نہ بچائیں ایسا کیسے ہوسکتا تھا.
اسے اس لمحے اپنے بابا پر بےحد پیار آیا. انکی صحت و سلامتی کی دعا کرتی وہ وضو کے لیۓ اٹھ کھڑی ہوئی.
انجان نمبروں کے ذریعے پھینکا ہوا یہ شیطان کا جال ہوتا ہے جو وہ صنف نازک پر پھینکتا ہے, ایک جگہ سے نشانہ چھوٹ جاۓ تو دوسری جگہ آزماتا ہے اور جہاں نشانہ لگ گیا رسوائی و پچھتاوا لڑکی کے حصے میں ہی آتی ہے.
قابل تعریف ہیں وہ لڑکیاں جو ان جالوں سے اپنی اور اپنے سے وابستہ رشتوں کی ناموس کو بچالیتی ہیں اور اپنے والدین کا مان ٹوٹنے نہیں دیتیں.
اللّٰہ پاک تمام بہن بیٹیوں کی حفاظت فرمائے آمین۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🍀انسان کی تدریجاً فکری تربیت🍀
ارتقا و تکامل کے مراحل؛ (مفسرِ قرآن شَیخ محسن علی نجفی دامت برکاتہ کی خوبصورت تحریر)
الٰہیاتی تصور کائنات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبث خلق نہیں فرمایا بلکہ ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے پیدا کیا اور اس مقصد تک پہنچانے کے لیے انسان کو ارتقا و تکامل کے طویل مراحل سے گزارنا بھی سنت الٰہیہ رہی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کوچھ یوم میں خلق فرمایا اور چار یوم میں اس نے زمین کو انسان کے لیے قابل سکونت بنایا اور وسائل حیات پیدا کیے۔
وَقَدَّرَ فِيْہَآ اَقْوَاتَہَا فِيْٓ اَرْبَعَۃِ اَيَّامٍ۰ۭ سَوَاۗءً لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ ڃ (۴۱ فصلت ۱۰)
اور اسی نے چار دنوں میں حاجتمندوں کی ضروریات کے مطابق زمین میں سامان خوراک مقرر کیا۔
یہ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے یوم ہمارے دنوں سے مختلف ہیں:
وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَـنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (۲۲ حج: ۴۷)
اور آپ کے پروردگار کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے مطابق یقینا ہزار برس کی طرح ہے۔
ہر چند اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کو دفعتاً درجہ کمال تک پہنچا سکتا ہے لیکن حکمت الٰہیہ کا تقاضا یہ ہے کہ ارتقا و تکامل کا یہ عمل تدریجاً ہو۔ چنانچہ زمین کو چار مرحلوں میں قابل سکونت بنایا گیا۔
جب تکامل و ارتقا کے مختلف مراحل سے گزر کر انسان کی مادی ترقی احسن تقویم کی منزل تک پہنچ گئی تو اگلے مرحلے میں وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّہَا ڃ (۲ بقرہ: ۳۱) سے انسان کا فکری ارتقا شروع ہوا۔
چنانچہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت کے ساتھ ہی اولاد آدم (ع) کی تعلیم و تربیت کے لیے ابتدائی درسگاہ کھول دی گئی اور نظام حیات کی ابجد سے درس شروع ہو گیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں پہلی بار شریعت کی تدوین ہوئی۔
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِہٖ نُوْحًا
(۴۲ شوریٰ ۱۳)
اس نے تمہارے لیے دین کا وہی دستور معین کیا جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا۔
پھر عصر خلیل علیہ السلام میں ملت اسلامیہ کی داغ بیل ڈالی گئی:
مِلَّـۃَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰہِيْمَ۰ۭ ہُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ۔ (۲۲ حج: ۷۸)
یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا۔
عصر کلیم علیہ السلام میں انسانیت نے ایک اور اہم ارتقائی مرحلہ طے کیا اور امت کلیمی پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پوری ہو گئیں۔
ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّہُدًى وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّہُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّہِمْ يُؤْمِنُوْنَ (۶ انعام: ۱۵۴)
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تاکہ نیکی کرنے والے پر اپنی نعمت پوری کر دیں اور اس میں ہر چیز کی تفصیل بیان ہو اور ہدایت اور رحمت (کا باعث) ہو۔
لیکن عصر کلیم (ع) کے انسان میں شعور و ادراک کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک بچھڑے کو خدا ماننے پر آمادہ تھا۔
عصر مسیح علیہ السلام میں انسانیت کی اس تربیت گاہ کو خداوند عالم نے شریعت عیسوی کے ذریعے مزید وسعت دی اور انسانی ترقی کے نصاب میں انجیل کا اضافہ کر کے رحمت و شفقت اور انسان دوستی کی تربیت دی گئی۔
وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاٰتَيْنٰہُ الْاِنْجِيْلَ۰ۥۙ وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً۔ (۵۷ حدید: ۲۷)
اور ان سب کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور انہیں ہم نے انجیل دی اور جنہوں نے ان کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحم ڈال دی۔
ان ادوار میں انسان ابھی عہد طفولیت میں تھا، لہٰذا اس کی تربیت و تعلیم کے لیے سمعی و بصری ذرائع سے کام لیا گیا اور انہیں ایسے معجزات دکھائے گئے جو محسوسات و مشاہدات سے متعلق تھے۔
جب انسان عقل و شعور کے لحاظ سے بلوغت کی منزل کو پہنچ گیا تو اسے محسوس معجزات کی جگہ معقول معجزہ (قرآن) دیا گیا کیونکہ انسان اس قابل ہو گیا تھا کہ اسے ایک جامع ’’ضابطۂ حیات‘‘ اور ایک ابدی ’’دستور زندگی‘‘ کا امین بنایا جائے۔ چنانچہ قرآن جیسا معجزہ عنایت فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس امّت مرحومہ کو اس قابل بنایا کہ وہ اس سرمدی امانت کی حامل بن جائے۔ اس نعمت الٰہی کی معرفت اور اس کی قدردانی کی واحد صورت یہ ہے کہ کلام اللہ کو حتی الامکان سمجھا اور سمجھایا جائے۔
(مقدمہ قرآن)
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌸 کُلچے والا 🌸
ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﺰﺩﯾﮑﯽ ہوٹل ﺳﮯ ﮐﻠﭽﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﭘﺮ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﮐﮭﮍ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﯽ ﺍﮐﮭﮍ ﭘﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﻧﺎﻥ ﺟﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﺎ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﺘﺎ۔
ﮔﺎﮨﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺵ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮔﺎﮨﮏ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﻧﺎﻥ ﻟﮕﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﺘﮯ ﺭﮬﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻧﺎﻥ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﻟﮍﻧﮯ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﻠﭽﮯ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺌﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﻠﭽﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻻﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻠﭽﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺎﺷﺎﺍﻟﻠﮧ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻻﻝ ﮐﻠﭽﮯ ﺟﻮ ﺟﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ، ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﻮﺭﮮ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﮐﺎﺵ ﺗﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﮯ۔
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﯾﮑﺪﻡ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﮈ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ، ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
" ﺻﺎﺣﺐ ﺟﯽ، ﺍﮔﺮ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔ ۔ ۔ "
ﻭﮦ ﺩﻥ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺩﻥ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅﮞ، ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺳﭙﯿﺸﻞ ﻧﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻞ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻠﭽﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺴﭩﻨﭧ ﺗﻨﺪﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻥ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺭﺵ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺴﭩﻨﭧ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﻗﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻥ ﻟﮕﺎ ﺩﮮ، ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﺧﺘﻢ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ، ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻠﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻠﭽﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﺑﺎﻗﯽ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﯼ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻝ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺮﻭﺱ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ۔
(منقول)
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
✂ گرو درزی ✂
مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ ایک شیریں زبان آدمی رات کو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر درزیوں کے بارے میں مزیدار قصے سنا رہا تها،
داستان گو اتنی معلومات رکهتا تها کہ باقاعدہ اچها خاصا درزی نامہ مرتب ہوسکتا تها۔
جب اس آدمی نے
درزیوں کی چوری اور مکاری سے گاہکوں کا کپڑا غائب کر دینے کے ان گنت قصے بیان کر ڈالے،
سننے والوں میں ملک خطا کا ایک ترک جسے اپنی دانش و ذہانت پر بڑا ناز تها کہنے لگا؛
”اس علاقے میں سب سے گرو درزی کونسا ہے؟
داستان گو نے کہا:
”یوں تو ایک سے ایک ماہر فن اس شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہیں،
لیکن پورش نامی درزی بڑا فنکار ہے،
اس کے کاٹے کا منتر ہی نہیں،
ہاتھ کی صفائی میں ایسا استاد کہ کپڑا تو کپڑا آنکهوں کا کاجل تک چرالے اور چوری کا پتہ نہ لگنے دے".
ترک کہنے لگا:
"لگا لو مجھ سے شرط میں اس کے پاس کپڑا لے کر جاؤں گا،
اور دیکھوں گا کہ وہ کیونکر میری آنکهوں میں دهول جھونک کے کپڑا چراتا ہے، میاں کپڑا تو درکنار ایک تار بهی غائب نہ کر سکے گا۔“
دوستوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگے؛
“ارے بهائی زیادہ جوش میں نہ آ، تجھ سے پہلے بھی بہت سے یہی دعوی کرتے آئے اور اس درزی سے چوٹ کھا گئے، تو اپنی عقل و خرد پر نہ جا، دهوکا کهائے گا۔”
محفل برخاست ہونے کے بعد ترک اپنے گهر چلا گیا
اسی پیچ و تاب اور فکر و اضطراب میں ساری رات گزاری،
صبح ہوتے ہی قیمتی اطلس کا کپڑا لیا اور پورش درزی کا نام پوچھتا پوچھتا اس کی دکان پر پہنچ گیا۔
درزی اس ترک گاہک کو دیکھتے ہی نہایت ادب سے کھڑا ہوکر تسلیمات بجا لایا،
درزی نے خوش اخلاقی و تعظیم و تکریم کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ترک بیحد متاثر ہوا، دل میں کہنے لگا:
یہ شخص تو بظاہر ایسا عیار اور دغاباز نظر نہیں آتا،
لوگ بهی خواہ مخواہ
رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں،
یہ سوچ کر قیمتی اطلس درزی کے آگے دهر دی اور کہنے لگا:
“اس اطلس کی قبا مجھے سی دیں۔”
درزی نے دونوں ہاتھ ادب سے اپنے سینے پر باندهے اور کہنے لگا:
“حضور قبا ایسی سیوں گا جو نہ صرف آپ کے جسم پر زیب دے گی بلکہ دنیا دیکھے گی "
اس نے کپڑا گز سے ناپا
پهر کاٹنے کے لئے جابجا
اس پر نشان لگانے لگا،
ساتھ ہی ساتھ
ادهر ادهر
کے پرلطف قصے چهیڑ دیئے، ہنسنے ہنسانے کی باتیں ہونے لگیں جن میں ترک کو بیحد دلچسپی ہو گئی،
جب درزی نے اسکی دلچسپی دیکھی تو ایک مزاحیہ لطیفہ سنایا جسے سن کر ترک ہنسنے لگا، اس کی چندهی چندهی آنکھیں اور بهی مچ گئیں۔ درزی نے جھٹ پٹ کپڑا کاٹا اور ران تلے ایسا دبایا کہ سوائے خدا کی ذات کے اور کوئی نہ دیکھ سکا،
غرض کہ اس پرلطف داستان سرائی میں ترک
اپنا اصل مقصد اور دعوی فراموش کر بیٹها،
کدهر کی اطلس،
کہاں کی شرط،
ہنسی مذاق میں سب سے غافل ہو گیا،
ترک درزی سے کہنے لگا:
"ایسی ہی مزیدار کوئی
اور بات سناو۔
درزی نے پھر چرب زبانی کا مظاہرہ کیا،
ترک اتنا ہنسا کہ اس کی آنکھیں بالکل بند ہوگئیں،
ہوش و حواس رخصت،
عقل و خرد الوداع،
اس مرتبہ درزی نے پھر کپڑا کاٹ کر ران تلے دبا لیا۔
ترک نے چوتھی بار مذاق کا تقاضا کیا تو درزی کو کچھ حیا آگئی
اور کہنے لگا:
"مزید تقاضا نہ کر
اگر ہنسی کی
اور بات کہوں گا
تو تیری قبا تنگ ہو جائے گی۔
🔘 مولانا رومیؒ نصیحت فرماتے ہیں کہ
جانتے ہو
وہ ترکی کون تها؟
دغاباز درزی کون تها؟؟
اطلس کیا ہے؟
اور ہسنی مذاق کیا ہے؟؟
قینچی کیا ہے؟
اور قبا کیا چیز ہے؟؟
سنو!
وہ غافل ترک "تیری ذات ہے" جسے اپنی عقل و خرد پر بڑا بهروسہ ہے،
وہ عیار دهوکہ باز درزی
" یہ دنیائے فانی ہے۔ "
ہنسی مذاق
"نفسانی جذبات ہیں"
" تیری عمر" اطلس پر دن رات درزی کی "قینچی"
کی مانند چل رہے ہیں۔
دل لگی کا شوق
" تیری غفلت ہے،"
اطلس کی قبا تجھے "بهلائی اور نیکی" کے لئے سلوانی تهی، وہ فضول مذاق اور قہقہوں میں تباہ و برباد ہو گئی،
اے عزیز!
اپنے ہوش و حواس
درست کر
ظاہر کو چهوڑ،
باطن کی طرف توجہ کر،
تیری قیمتی عمر کی اطلس لیل و نہار کی قینچی سے دنیا کا مکار درزی ٹکڑے ٹکڑے کر کے چرائے جا رہا ہے اور تو ہنسی مذاق میں مشغول ہے۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌺 السلام عليكم 🌺
🌹 خوش رہیں اور مسکراتے رہیں 🌹
امریکہ میں ایک 26 سالہ نوجوان نے کلینیکل ٹرائل کے دوران 29 سادہ کیپسول کھا لیے جن میں کوئی دوا نہیں تھی۔ اسے لگا کہ اس نے زہریلی دوا کی اوور ڈوز کر لی ہے۔ اس خوف سے اس کا بلڈ پریشر اتنا گر گیا کہ اسے ہسپتال میں IV ڈرپ لگانی پڑی۔ جب ڈاکٹر نے بتایا کہ گولیاں تو نقلی تھیں، تو وہ چند منٹ میں ہی بالکل ٹھیک ہو گیا۔
(Reeves et al., General Hospital Psychiatry, 2007, PMID: 17484949)
ڈاکٹر والٹر کینن نے تحقیق میں لکھا ہے کہ بعض لوگ صرف اس شدید یقین سے بیمار ہو کر مر جاتے تھے کہ ان پر کسی نے جادو کر دیا ہے، حالانکہ جسمانی طور پر وہ بالکل صحت مند ہوتے تھے۔ خوف ہی ان کی موت بن جاتا تھا۔
(Cannon WB, Voodoo Death, American Anthropologist, 1942)
ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے...
بہت سی بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہو سکتی ہے.... آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کر رہا ہے..
اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..
25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا...
زندگی خوبصورت ہے... اس لیے ہمیشہ خوش رہیں...
یاد رکھیں!
صبر، شکر اور قناعت ایک عینک ہے. اگر آپ یہ عینک لگا لیں تو دنیا بڑی خوبصورت نظر آئے گی اور آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے.
🌷کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ....
زندگی میں ہمیشہ ریاضی کی طرح رہو.
دوستوں کو جمع کرو،
دشمنوں کو تفریق کرو،
خوشی کو ضرب دو،
پیار کو تقسیم کرو.
اور ہمیشہ مسکراتے رہو.
لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے_ میں تمہیں بتاؤں، زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت… بس آپ ہونے چاہئیں اورآپ کا الله سے ہر ایک پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے. باقی یہ مسئلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں... جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا‘ اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہو گئی، اور دنیا تاریک ہو گئی... غم بھی ایسے ہوتے ہیں- جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے لیکن اگر آپ اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمان سے پورا منظر دیکھو تو جانو کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا… اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا__! تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو…!!
🌹 مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اپنے دل کو ماضی کے غموں میں مشغول نہ کرو کہ آئندہ کی تیاری سے محروم رہ جاؤ گے. (غررالحکم، ص:289)
ہم نے وٹس ایپ پر ریلیکس ہونے کے لئے فنی چینل بنا رکھا ہے. جس کا نام "مسکراہٹیں" ہے.
https://whatsapp.com/channel/0029Vaw4bTk2UPBEwLGzV62m
اس چینل میں مزاحیہ کلپس، اور لطیفے بھیجے جاتے ہیں. حس مزاح کی تسکین کے لئے اس چینل کو ضرور فالو کیجئے۔ اپنے دوست احباب سے بھی لنک شیئر کیجئے.
آخر میں ایک دعا....
🔷 دل دے، تو اس مزاج کا پروردگار دے.
جو رنج کی گهڑی بھی خوشی سےگزار دے.
🌹 خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vaw4bTk2UPBEwLGzV62m
🎅MUSKURAAHTEN🎅
1 288
👈اگر اللہ تعالیٰ میرا حساب لے گا تو میں اس کا حساب لونگا۔
یہ واقعہ اہلسنت کی کتاب مسند احمد بن حنبل میں درج ہے۔ اللہ تعالٰی کی رحمت کے بارے میں۔
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻃﻮﺍﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ. ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﮔﮯ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ "ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ" ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﺗﮭﯽ۔ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ (ص) ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﺭُﮐﻦ ﯾﻤﺎﻧﯽﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ، ﺳﺮﮐﺎﺭﺩﻭﻋﺎﻟﻢ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ۔ ﻭﮦ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﺟﺲ ﺳﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ،، ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﻼﺗﮯﮨﻮﺋﮯ ﯾﺎﮐﺮﯾﻢ ﭘﮍﮬﺘﮯ........
ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ
ﺭﻭﺷﻦ ﭼﮩﺮﮮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮮ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﺪ ﻭﺍﻟﮯ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺷﻦ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺪﮦ ﻗﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ..........
ﺳﯿﺪ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯿﺴﮯ ﻻﺋﮯ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺑِﻦ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﺒﻮﺕ ﻭ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ، ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﯽﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ۔
ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﺳﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺟﻮ
ﻋﺠﻤﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺘﮑﺒﺮ ﻭﺟﺎﺑﺮ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺸﯿﺮ ﻭ ﻧﺬﯾﺮ
ﺑﻨﺎﮐﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔!
ﺭﺍﻭﯼ کہتا ہے ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﺮائیل
ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺁﺋﮯﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﺟﻞ ﺟﻼﻟﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺩﯾﮟ ﮐﮧ
ﮨﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ:
ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ! ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﮔﺎ؟
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﺎﮞ، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ
ﮔﺎ۔
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ۔
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ
ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﮔﺎ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ
ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ
ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ؟
ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻧﮯﻣﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﺎ
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﻮﻧﮕﺎ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺨﻞ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ
ﻟﻮﻧﮕﺎ۔
ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﺳﯿﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ
ﻭﺳﻠﻢ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺗﻨﺎ
ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﯾﺶ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮨﻮ
ﮔﺌﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺒﺮﯾﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺁﺋﮯ۔ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ : ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ! ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻼﻡ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﮐﻢ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻧﮯ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﻭ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﺑﮭﻼ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮯ ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﺩﯾﮟ ﯾﮧ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮨﻮﮔﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﯿﺎ ﻋﻘﻞ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻥ ﺧﺎﮎ ﻧﺸﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ
ﮨﮯ۔
۔
ﮐﺘﺎﺏ۔ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
👈 عجیب مرد 👉
اس نے سگریٹ کا ایک کش لگایا اور اپنی محبوبہ کی تصویر بٹوے سے نکال کر دوستوں کو دکھانے لگا اور بولا ۔۔۔!!چیک کر یار کیا کمال کا پیس ہے۔۔! ہونٹ چیک کر یار کیسے ہیں۔ بس ترے بھائی پر مرتی ہے۔۔! ایک دوست بولا شادی کا ارادہ ہے؟ تو وہ قہقہہ لگا کر بولا ابے نہیں یار ، یہ صرف ٹائم پاس ہے۔ بس تھوڑا انجوائے کروں گا۔ مستی کروں گا اور پھر چھوڑ دوں گا۔ میں گرائونڈ میں پاس ہی بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا ۔ فوراً اٹھا اور ان کے پاس چلا گیا اور اس لڑکے سے بولا۔
، کیا تم یہاں سب کے سامنے اپنے کپڑے اتار سکتے ہو ؟ تو ایک دم غصے میں بولا کہ جناب آپ کا دماغ خراب ہے کیا؟ میں پاگل ہوں جو سب کے سامنے بے لباس ہو جائوں۔ تو میں بولا کہ تم ایک لڑکی کو سب کے سامنے بے لباس کر رہے ہو ۔ اس کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ تم سے محبت کر بیٹھی ہے یہ ٹھیک ہے کہ اس کی بھی غلطی ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اس کی عزت یوں سرعام دوستوں میں بیٹھ کر لوٹتے رہو۔ میں یہ کہہ کر وہاں سے پلٹ آیا اور گھر آتے ہوئے سوچتا رہا کہ ہم مرد کتنے عجیب ہوتے ہیں۔
عورت کی عزت اپنی نظر سے ہی لوٹ لیتے ہیں اور پھر بھی عورت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں ، جس مرد کیلئے محبت صرف لباس اتارنے کا نام ہو تو اس کی نظر میں اس کی محبوبہ اور طوائف میں کوئی فرق نہیں اور ایسے مرد کبھی اچھے شوہر نہیں بن سکتے کیونکہ۔۔۔!
آپ بھی ذرا غور کریئے گا۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
👹 شیطان کے پھندے (اخلاق) 👹
💥ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .. ﮐﭽﮫ ﻣﻮﭨﯽ ﻣﻮﭨﯽ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﮭﮯ' ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﮭﮯ.. ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﮔﺬﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " ..ﺍﺭﮮ ﺍﻭ ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻧﺴﺎﮞ ! ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮮ ﮨﻮ.. ؟"
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ.. "ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎﮨﻮﮞ "..
ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.. "ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻣﻮﭨﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﻠﮑﮯ .. ؟"
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. "ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ.. ﻟﮩﺬﺍﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ .. ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎ' ﮐﭽﮫ ﻣﻮﭨﮯ' ﮐﭽﮫﺑﺎﺭﯾﮏ "..
ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﺴﺲ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ.. ﭘﻮﭼﮭﺎ .. "ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﮭﻨﺪﺍ ﮨﮯ.. ؟ "
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ.. " ﺁﭖ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ .. ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﭩﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ.. ﻋﻠﻢ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﻧﺴنےﮐﮯ ﻟﯿﮯ "..
ﺍﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ.. " ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻣﻮﭨﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ .. ؟"
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.. "ﻣﻮﭨﮯ ﭘﮭﻨﺪﮮ ﺍﺧﻼﻕ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ.. ﺍﻥ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﺯﻧﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺧﻼﻕ ﮨﻮﮔﺎ.
ﺍﻟﻠﻪ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ،الہی آمین
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🌹 جان بوجھ کر دھوکہ کھانا 🌹
میرے قرآن پاک پڑھانے والی استاد جی بچوں میں پھل بانٹ رہے تھے ایک بچا بار بار لائن میں چلا آتا میں یہ منظر کافی دیر سے دیکھ رہا تھا
( واضح رہے میرے استاد جی نابینا ہیں )
اب میں جو کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا نہ جانے کونسی غیبی طاقت نے میرے قدم جکڑ رکھے تھے ورنہ میں اس بچے کو ضرور ایسا کرنے سے منع کرتا کیوں کہ باقی بچوں کے ہاتھوں میں ایک ایک فروٹ تھا پر وہ کمزور سا چڑیا جیسا بچہ اچھے خاصے آم اور تربوز اپنے تھیلے میں ڈال چکا تھا اور حیرانگی مجھے اس بات پر بھی ہوئی کہ استاد جی کے پاس اگر دوبارہ کوئی بچا آتا جو پہلے لے جا چکا ہو تو استاد جی اسکے گال کھینچتے اور بھگا دیتے پر اسے نہ جانے کیسے نہیں پہچان پا رہے تھا یا وہ کیسے چکمہ دے جاتا تھا جب کہ آج تک مجھ جیسا بھگوڑا انہیں چکمہ نہیں دے پایا خیر دل میں ایک عجیب سی خوشی بھی تھی کوئی تو ہے جس سے استاد جی چکمہ کھا گۓ..
خیر جب فروٹ ختم تماشا ہضم ہوگیا تو میں استاد جی کے پاس چلا گیا جو اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے خیر میں نے راستے میں ہی انکو آ لیا اور کہنے لگا ..
" بادشاہ لوگو میرا حصّہ کہاں ہے ابھی اتنا بڑا تو نہ ہوا میں ..."
استاد جی مسکراۓ اور کہنے لگے ..
" میرے نالائق پتر پھل تو محنت کرنے والوں کو ملتا ہے تماشے دیکھنے والے خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں تیری طرح ..."
( میرے استاد چاہے میرے سوہنے باوا جی ہوں یا میرے پیرے استاد جی پتا نہیں کہاں کہاں سے لفظوں کے جوڑ ڈھونڈ لاتے ہیں کہ میں لاجواب ہی ہوجاتا ہوں ..)
خیر میں انکے ساتھ چلتا رہا آج شاید انہیں تنگ کرنے کا ارادہ بن رہا تھا میرا ..
" ارے استاد جی بہت افسوس کی بات ہے ایک چھوٹا سا بچہ آج ہاتھ کر گیا آپکے ساتھ ."
کونسا بچہ ؟؟ اچھا کہیں تو اس چڑیا کی تو بات نہیں کر رہا جو ہاتھ میں بورا لئے بار بار گھوم کر آرہا تھا اپنا حصّہ وصول کرنے ؟؟
میں نے ایک نظر استاد جی کی طرف دیکھا اور سوچا یار یہ واقعی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے کیا ؟
جی استاد جی اسی کی بات کر رہا ہوں
" نہیں پتر وہ چکمہ نہیں دے رہا تھا میں چکمہ کھا رہا تھا .. یہ جو باقی بچے تھے نا روزے خور یہ تو خود ہی آم چوپتے اور پھر گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاتے پر اس بچے کو اپنے گھر والوں کا خیال تھا یہ جو پیچھے جھگیاں ہیں نا وہاں سے آتا ہے یہ اور میں روز اس سے دھوکہ کھاتا ہوں اب تو کچھ نشہ سا لگ گیا ہے ..
جہانگیر پتر کبھی ایسے بچوں سے دھوکہ کھا کر دیکھ تیری پریشانیاں کیسے دھوکہ کھا کر تجھ سے راستہ بدل لیں گی تو سوچ بھی نہیں سکتا ..
📚ملک جہانگیر اقبال کی کتاب "پیچیدہ تخلیق" سے اقتباس)۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🔷 یہ مجتہد کہاں سے آ گئے؟ 🔷
سوال= غدیر میں رسول اللہ (ص) نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے اہلبیتؑ، پھر یہ تیسرا مجتہد کہاں سے آ گئے؟
جب دین مکمل ہوگیا تو دین کے مسائل قرآن و حدیث سے کیوں نہیں بتائے جاتے؟ اس تقلید نے ہمیں قرآن و حدیث اور اھلبیتؑ سے دور کر دیا ہے۔
جواب= سیدھا اور مختصر جواب یہی ہے کہ مجتھد آپ کیلئے قرآن و اہلبیتؑ کے فرامین پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔
● تاکہ آپ کو خود سے عربی نہ سیکھنا پڑے۔
● تاکہ آپ کو خود اہلبیتؑ کی بیان کردہ تفاسیر نہ پڑھنا پڑیں۔
● تاکہ آپ کو خود سے اہلبیتؑ کے فرامین پر مشتمل کتابوں کے بارے میں تحقیق نہ کرنا پڑے کہ کونسی کتاب درست ہے اور کونسی درست نہیں۔
● تاکہ آپ کو خود سے اہلبیتؑ کے فرامین پہنچانے والے راویوں کے بارے میں تحقیق نہ کرنا پڑے کہ کونسا جھوٹا ہے اور کونسا سچا، کس کا حافظہ کمزور ہے اور کس کا ٹھیک۔
جی ہاں! اس مجتھد کی تحقیق پر اعتماد کرنا اور اس کی تقلید کرنا ہی حرام ہے جو قرآن و محمد و آل محمدؑ کے فرامین سے ہٹ کر اپنی ذاتی رائے اور وھم و گمان کی بنیاد پر فتویٰ دے۔
🔘 مجتھد کی تقلید کا مطلب ہی محمد وآل محمدؑ کے حکم کو تلاش کرنے کیلئے ایک وسیلے پر بھروسہ کرنا ہے اور مجتھد کی تقلید غیر معصوم کی اطاعت نہیں بلکہ معصوم کے حکم کو مجتھد کے واسطے سے سمجھ کر اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔
■ کس نے کہا کہ تقلید نے لوگوں کو قرآن و حدیث سے دور کر دیا۔ ہم سیدھا قرآن و حدیث سے سمجھنا چاہتے ہیں اور یہ درمیان میں مجتھد کو لا کر تم ہمیں قرآن وحدیث کے سمجھنے سے روک رہے ہو؟
تو میرے بھائی کسی نے بھی آپ کو قرآن و حدیث سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو سمجھنے سے نہیں روکا بس شرط یہ ہے کہ آپ ڈائریکٹ قرآن و حدیث کو خود سے سمجھیں، درمیان میں کسی مجتھد کی تحقیق یا کسی محقق کی بات یا کسی مترجم کی بات پر اعتماد نہ کریں۔ (یعنی خود سے مجتھد بن جائیں)
● اگر آپ قرآن کا ترجمہ پڑھ کر سمجھ رہے ہیں تو مطلب آپ مترجم صاحب پر اعتماد کر رہے ہیں نہ کہ خود قرآن کو ڈائریکٹ سمجھ رہے ہیں۔
تو یہاں پر بھی کہیئے کہ یہ درمیان میں مترجم کہاں سے آ پڑا۔ اس مترجم صاحب نے بھی مجتھد کی طرح ہمیں ڈائریکٹ قرآن کو سمجھنے سے محروم کر دیا۔
● اچھا آپ کہیں گے کہ ہم چھ ماہ عربی کا کورس کر لیں گے اور پھر خود قرآن کا ترجمہ کر کے اسے سمجھیں گے
تو میرے بھائی پھر بھی آپ عربی ڈکشنری کھول کر دیکھیں گے تو مطلب آپ عربی ڈکشنری والے کی بات مان رہے ہیں جبکہ عربی ڈکشنری لکھنے والا بندہ بھی ہم جیسا ہے، وہ بھی معصوم نہیں تو یہاں پر بھی کہیے کہ ہم تو قرآن سے ڈائریکٹ سمجھنا چاہ رہے تھے اور یہ عربی ڈکشنری والے کی بات درمیان میں ماننی پڑ رہی ہے۔
یاد رکھیے! ہمارے تمام مجتھدین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ڈکشنری والے کا بتایا گیا معنیٰ آپ کے لئے قابلِ اعتماد نہیں بلکہ خود آپ کو پرانے عربی ادب کی کتابیں، پرانے عربی اشعار اٹھا کر دیکھنے ہوں گے اور یہ اطمئنان حاصل کرنا ہوگا کہ جو معنی اس ڈکشنری والے بتایا، معصوم کے زمانے میں کیا واقعا اس لفظ کو اس معنیٰ میں بولا جاتا تھا یا نہیں؟
اگر بولا جاتا تھا تو کن حالات میں اور کس پرائے میں؟
اور اگر کسی اور معنیٰ میں بھی بولا جاتا تھا تو کن حالات میں اور کس سیاق و سباق میں؟
اور ابھی قرآن نے جس معنیٰ میں استعمال کیا تو کن حالات میں اور کونسے قرآئن کے ساتھ؟
(کیونکہ بعض اوقات عربی لفظ کے بہت سارے معنیٰ ہوتے ہیں اوریہ سمجھنے کے لئے کہ بولنے والے کا کونسا معنیٰ مراد ہے ہمیں سیاق و سابق اور دیگر حالات کو دیکھنا پڑتا ہے)
پس ان سب باتوں کو سمجھنے کے بعد مطلب عربی ادب میں مہارت اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں قرآن سے ڈائریکٹ سمجھ رہا ہوں اور درمیان میں کسی غیر معصوم کی کوئی بات نہیں ہے۔ تو میرے بھائی یہی تو اجتھاد ہے۔
اور جب قرآن صامت کو سمجھنے کے لئے یہی عربی ادب ضروری ہے تو قرآن ناطق (محمد وآل محمدؑ کے فرامین) کو سمجھنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ چونکہ قرآن ناطق بھی عربی میں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر۔ چونکہ محمد وآل محمدؑ کے فرامین میں دیگر فرامین کو بھی داخل کر دیا گیا ہے لہذا آپ کو یہ مہارت بھی حاصل کرنی ہوگی کہ محمد و آل محمدؑ کے فرامین کو بیان کرنے والا کون ہے؟
کیا وہ سچا ہے یا جھوٹا؟
کیا اس کا حافظہ درست تھا یا نہیں؟
کیا وہ دیندار تھا یا دنیا کا لالچی؟
اور یوں آپ کو کم ازکم ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار راویوں کے حالات زندگی پر بھی تحقیق کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی جاننا ہوگا کہ امام معصوم نے جب یہ ارشاد فرمایا تو حالات کیا تھے؟ امام کی مراد کیا تھی؟ ان سب کو جاننے کے لئے آپ کو تاریخی حالات بھی پڑھنا ہوں گے۔
🔘 پس یا تو خود قرآن و حدیث سے سیکھو۔ (یعنی مجتھد بنو)
یا پھر جو سیکھ لے اس کی تحقیق پر اعتماد کر لو۔ (یعنی تقلید کر لو)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 288
🔷 نماز میں قرائت بالجہر اور بالاخفات 🔷
فقہ جعفریہ میں نماز کی قرائت کے اعتبار سے دو اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں:
1. بالجہر (Jahri): بلند آواز سے پڑھنا، یعنی قرائت کو قریب والے شخص کو سنائی دے۔
2. بالاخفات (Ikhfati):
آہستہ اور سرگوشی کے انداز میں پڑھنا، یعنی آواز کو اتنا پست رکھنا کہ خود سن سکے۔
شریعت میں بعض نمازوں میں جہر واجب ہے اور بعض میں اخفات واجب ہے۔ جان بوجھ کر اس کے خلاف عمل کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
1. نمازِ فجر
نماز فجر کی دونوں رکعتیں *جہری* ہیں۔
یعنی پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور اس کے بعد والی سورت *بلند آواز سے* پڑھنا واجب ہے، بسم اللہ سمیت کیونکہ بسم اللہ سورہ کا جز ہے۔
2. نمازِ ظہر و عصر
ظہر اور عصر کی چاروں رکعتیں *اخفاتی* ہیں۔
چاروں رکعتوں میں سورہ الحمد اور دوسری سورت *آہستہ* پڑھنا واجب ہے۔ اگر جان بوجھ کر بلند آواز سے پڑھے گا تو نماز باطل ہے۔
3. نمازِ مغرب
مغرب کی 3 رکعت ہیں:
- پہلی دو رکعتیں *جہری* - الحمد اور سورت بلند آواز سے
- تیسری رکعت *اخفاتی* - اس میں یا تو صرف سورہ الحمد آہستہ پڑھیں یا تسبیحات اربعہ (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر) تین مرتبہ آہستہ پڑھیں۔
4. نمازِ عشاء
عشاء کی 4 رکعت ہیں:
- پہلی دو رکعتیں *جہری* - الحمد اور سورت بلند آواز سے
- آخری دو رکعتیں *اخفاتی* - الحمد یا تسبیحات اربعہ آہستہ
🔷 اہم تنبیہات:
1. *رکوع و سجود کے اذکار:* رکوع (سبحان ربی العظیم وبحمدہ) اور سجود (سبحان ربی الاعلیٰ وبحمدہ) کا ذکر جہری اور اخفاتی دونوں نمازوں میں جہر و اخفات دونوں طرح پڑھا جا سکتا ہے، البتہ احتیاط مستحب ہے کہ جہری نماز میں بھی ان اذکار کو آہستہ نہ پڑھا جائے تو بہتر ہے، مگر واجب نہیں۔
2. *آواز کا اعتدال:* جہری نماز میں اتنا بلند نہ پڑھے کہ ساتھ والے نمازی کو تکلیف ہو یا وہ اپنی نماز بھول جائے۔ اتنی آواز کافی ہے کہ اپنے قریب والے کو سنائی دے جائے۔
3. *بھول جانے کا حکم:* اگر بھول کر جہری نماز کو اخفاتی یا اخفاتی کو جہری پڑھ دے تو نماز صحیح ہے، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ باطل اس صورت میں ہے جب جان بوجھ کر اور عمداً خلاف ورزی کرے۔
اللہ کریم ہمیں احکامِ شریعت کے مطابق درست نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
حوالہ جات:
توضیح المسائل - آیت اللہ سید علی سیستانی (دام ظلہ)، مسئلہ نمبر 979، 980، 981:
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
💐آپ نماز کیوں پڑھتے ہیں۔؟💐
آپ نماز کیوں پڑھتے ہیں۔؟
یہ سوال میری لائف کا بہت مشکل سوال ثابت ہوا۔
فرض ہے۔۔،؟
شکر ادا کرنے کے لئے۔۔،؟
خدا ہے ہی اس قابل۔۔،؟
جہنم کے خوف سے۔۔،؟
یہ وہ جواب ہیں جو مجھے اس کے جواب میں ملتے۔
ایک ٹائم تھا جب میں نماز جہنم کے خوف سے پڑھتا تھا،
جہنم کا خوف مجھے اٹھا کے نماز کے لئے جا کھڑا کرتا تھا،
پر مجھے وہ نماز فرض کی ادائیگی کبھی بھی نہ لگ سکی۔
پھر مجھ سے نماز نہ تو آرام سے پڑھی جاتی تھی، اور نہ یکسوئی سے،
پھر خوف بھی کم ہوتا گیا۔
پھر جنّت کا بیان پڑھا تو اس کو پا لینے کی چاہ جاگی۔
میں پھر سے نماز پڑھنے لگا۔
مگر یہ بھی چند دن ہی رہی کیفیت۔
اپنے ابّا جی سے کہا تو بولے۔۔
بیٹا اس نے دنیا کی ھر نعمت سے نوازا ہے تم ان کا شکر ادا کرنے کے لئے پڑھا کرو۔
ذہن میں یہ رکھ کر بھی نماز پڑھ لی۔
دل کی حالت اب بھی وہی تھی۔
پھر ایک دن بہت عجیب بات ہوئی۔۔
میں جائے نماز پہ کھڑا ہوا اور مجھے نماز بھول گئی۔
بہت یاد کرنے کی کوشش کی۔
بھلا نماز ہم کیسےبھول سکتےہیں؟
مجھے خود پہ بہت رونا آیا۔
اور میں وہیں بیٹھ کے رونے لگا۔
تو مجھے لگا کوئی تسلی دینے والا ہاتھ ہے میرے سر پہ،، جیسے بچہ رو رہا ہو تو ہم سر پہ ہاتھ رکھ کے دلاسا دیتے ہیں،
مجھے لگا کوئی پوچھ رہا ہے، کہ کیا ہوا۔؟ میں نے کہا نماز یاد نہیں۔
تو جیسے پوچھا گیا ،،، تَو ؟
میں حیران پریشان ،، اس تَو کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں تھا شائد ،،
پھر لگا کوئی مسکرا یا ہو ،، اور کہا ہو ،
نماز کیوں پڑھتے ہو ، ؟
خوف سے ؟
پر وہ تو غفور ہے ، رحیم ہے ، پھر خوف کیسا ؟
جنّت کے واسطے ؟ پر وہ تو درگزر فرماتا ہے ،،
شکر ادا کرنا ہے ؟ اسےضرورت نہیں ،،،،
فرض ہے؟ تو زمین پہ سر ٹکرانے کو نماز نہیں کہا جاتا ،
وہ اس قابل ہے ؟ تم کیا جانو وہ کس قابل ہے ،،،،
میرے پاس الفاظ ختم، میں بس اس آواز میں گم ،،،،،
وہ جو ہے نہ ،،،
وہ تم سے کلام چاہتا ہے ،
تم اسی کو دوست مانو ، اسی سے مشورہ کرو ،
اسی کو داستان سناؤ ،،،
جیسے اپنے دوست کو سناتے ہو ، دل کی بیقراری کم ہوگی ،
پھر نماز میں سکون ملے گا ،،،،،
میری آنکھ کھلی ، وہ یقیناً خواب تھا ،
میں نے دوبارہ سے وضو کر کے نماز شروع کی،
نماز خود بخود ادا ہوتی چلی گئی ،،،،،
دل میں سکون آتا چلا گیا ،
مگر میرا دل سجدے سے سر اٹھانے کو نہ کرے ، مجھے لگا میرے پاس ہے وہ ، مجھ سے بات کر رہا ہے ،
پھر اپنے دل کی ساری باتیں ہوتی چلی گیئں ،،
گرہیں کھلتی گیئں ،
سکون ملتا گیا ،،،
آسانیاں ہوتی گیئں ،،،
پھر آنکھ اذان سے پہلے کھلتی ،
محبوب سے ملاقات کا انتظار رہنے لگا ،
فرض کے ساتھ نفلی نمازیں بھی ادا ہوتی گیئں ،
اللہ کا کرم ہو گیا ،
براہ مہربانی تحریر کو شیئر کریں اس سے حوصلے بڑھتے ہیں اور جوش آتا ہے ــــــــــــ آپکا شیئر پہ زیادہ وقت نہیں لگے گا بس دو تین سیکنڈ ہی لگیں گے۔
منقول۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1 288
🌼 ایک ریڑھی والا 🌼
ایک خاتون نے اس سے آلو خریدے، ساتھ دھنیا مرچ بھی لی اور اسے پچاس کا نوٹ دیا اس نے آلو کے ساتھ از خود دھنیا مرچ مفت دی۔
وہ آلو اٹھا کر پہلے یوں دیکھتا جیسے اس کا ایکسرے کر رہا ہو۔ گاہک کی نظر سے سبزی کو دیکھنا دوکاندار کے معاشی مفادات کے خلاف جاتا ہے لیکن وہ ہر ہر آلو کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اسے شاپنگ بیگ میں ڈالتا جا رہا تھا۔ جس آلو پر کوئی معمولی سا داغ بھی ہوتا اسے ایک طرف کر دیتا۔ جو آلو ٹھیک ہوتا صرف اسے ڈالتا۔ اسی طرح ایک اور شخص نے ٹماٹر لئے اس نے ٹماٹر بھی ویسے ہی دیکھ بھال کر اچھے اچھے دیئے، اور معمولی نوعیت کی خرابی بھی اگر کسی ٹماٹر میں اسے محسوس ہوئی تو اسے ایک طرف کر دیا۔ حالانکہ اس خرابی کو گاہک بھی تلاش نہ کر پاتا۔
جب گاہک رخصت ہو چکے تو میں نے اس سے کہا کہ آپ ریڑھی مین روڈ پر کیوں نہیں لگاتے یہاں سائیڈ پر اور وہ بھی نسبتاً ایک ویران جگہ کا انتخاب آپ نے کیوں کیا ہے۔؟
اس نے کہا کہ۔۔
مین روڈ پر ریڑھی کھڑی نہیں کرنے دی جاتی اور مختلف ٹیکسوں کی صورت میں اچھے خاصے اخراجات ہو جاتے ہیں یہاں ویران جگہ ہے یہاں کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا اگر کسی دوکان کے سامنے لگاؤں تو پھر کرایہ الگ سے دینا پڑے گا۔ یہاں کھڑا ہوں بس اللہ سے حلال رزق مانگتا ہوں تاکہ بچوں کے پیٹ کو حرام لقمے سے بچا سکوں۔
میں نے اگلا سوال کیا کہ۔۔
آپ کا اس ریڑھی کے علاوہ بھی کوئی ذریعہ آمدن ہے۔؟
اس نے کہا صبح منڈی میں کام کرتا ہوں، گاڑیوں سے سبزی وغیرہ اتارتا ہوں۔ صبح سویرے اس کام سے فارغ ہو کر اپنے لئے سبزی لیتا ہوں اور دن کو اس ریڑھی پر فروخت کر دیتا ہوں۔ پچھلے سیزن میں مونگ پھلی لگا رکھی تھی اس سے پہلے ایک مرتبہ چھلی لگائی تھی۔ رات کو ریڑھی گھر لیجا کر کھڑی کر دیتا ہوں۔
میں نے پوچھا کہ۔۔
اس قلیل آمدنی میں گزارا ہو جاتا ہے۔؟
اس نے کہا کہ۔۔
قسم لے لیں اگر میں دس بیس روپے بھی شام کو گھر لے کر جاتا ہوں تو مزید پیسے آنے تک وہ مجھ سے ختم نہیں ہوتے۔ خواہ مزید پیسے کتنے ہی دن بعد کیوں نہ آئیں۔ اور کسی چیز کی قلت بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہے وہ مجھ ناچیز کو بھی رزق دے رہا ہے۔
میں نے پوچھا کہ۔۔
یہ خراب آلو اور ٹماٹروں کا آپ کیا کرتے ہیں اس نے کہا کہ یہ میں خود اور اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہوں۔ کسی گاہک کونہیں دیتا۔ اس سے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری بھی نہیں ہوتی اور میں بھی حرام کھانے سے بچ جاتا ہوں۔
میں اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگی تو میری نظر اس کے کپڑوں پر لگے پیوند پر جا کر رک گئی، اس نے کپڑوں پر پیوند لگا رکھے تھے جنہیں خود سوئی دھاگہ لے کر سیا گیا تھا لگتا یوں تھا کہ کپڑے صاف مگر انتہائی بوسیدہ ہیں۔
اس نے میری نظروں کے تعاقب میں اس پیوند کو دیکھ لیا اور مسکرا کر کہنے لگا۔ بہن سچ کہوں اگر ہم جیسے اس دنیا میں نہ ہوں تو رب کے حبیبؐ کی اس سنت کو کون زندہ رکھے گا اس نے یہ بات پیوند لگی جگہ کو ہاتھ میں پکڑ کر کہی۔
میرے لئے ضبط مشکل ہو رہا تھا میں بوجھل قدموں سے گھر کی جانب چل پڑی۔ میرا دماغ الجھ کر رہ گیا۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ اللہ نے دولت کی تقسیم درست نہیں کی؟ میرا دل گواہی دینے لگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبؐ کی ہر ہر سنت کو زندہ رکھنے پر قادر ہے۔
مجھے وہ سارے فلسفے اس ریڑھی والے کے پیوند لگے کپڑوں سے بھی بودے لگنے لگے جن میں کہا جاتا ہیکہ اگر تم پیدا ہوتے وقت دولت مند نہیں تھے تو اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں اگر تم مرتے وقت دولتمند نہیں ہو تو اس میں ضرور تمہاری غلطی ہے۔
اس ریڑھی والے نے اپنے کردار سے اس ساری فلاسفی کو ایک لایعنی مفروضہ بنا ڈالا۔ میں سوچتی رہ گئی۔ اس دور میں بھی پیوند لگے کپڑے پہننے والا مجھ سے بہت بلند اور عظیم تھا، اس کے کپڑوں کے پیوند اس کے لئے نہیں مجھے اپنے لئے آزمائش لگنے لگے۔
ان بوسیدہ کپڑوں سے اس ریڑھی والے کو نہیں بلکہ ہم سب کو آزمایا جا رہا ہے جن کے کپڑوں پر کوئی پیوند نہیں لگا ہوا۔ یہ پیوند لگانے والے کے نہیں بلکہ ان معاشی فلاسفروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذمہ دار بھی ہیں اور کمزور طبقات کا دھڑلے سے استحصال بھی کرتے ہیں۔
اس ریڑھی والے کی طرح اگر کامل یقین سے کوئی غربت کا عذاب خاموشی سے سہہ رہا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نبی کریمؐ کے معلمانہ اور کریمانہ اخلاق کے وسیلے سے اتنی قوت برداشت دی ہوئی ہے۔ ورنہ وہ کبھی کا اخلاقی قدروں پر سمجھوتہ کر چکا ہوتا۔
🔘 اختتام پر ایک مغربی مفکر کا قول پیش کرتے ہیں غالباً گوئٹے نے کہا تھا کہ اگر تم کسی کے پاس دو کوٹ دیکھو تو جان لو کہ دوسرا کوٹ اس شخص کا ہے جس کے پاس کوئی کوٹ نہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
منقول۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
