fa
Feedback
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹

🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹

رفتن به کانال در Telegram

یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں طالب دعا 🤲 محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ 🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan

نمایش بیشتر
2 867
مشترکین
+124 ساعت
-97 روز
-3330 روز
آرشیو پست ها
sticker.webp0.30 KB

اکھنڈ بھارت  🇮🇳  Undivided India بھارت کے تمام مسلم بادشاہ بھارتی تھے ✍ مولانا طارق انور مصباحی (کیرلا) ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ بھارت کے تمام مسلم سلاطین بھارتی (1) اکھنڈ بھارت میں وہ تمام علاقے شامل ہیں، جو کبھی بھارتی حکومت کے زیر اقتدار تھے ۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، نیپال، شری لنکا، انڈونیشیا، ملیشیا، تبت، بھوٹان، کمپوڈیا، تھائی لینڈ اور ویتنام وغیرہ بھارت میں تھے ۔ بعض علاقے انگریزوں کے عہد میں انڈین گورنمنٹ کے زیر حکومت تھے ۔اشوک سمراٹ، سلطنت مغلیہ اور انگریزوں کے عہد میں بھارت کا رقبہ بہت وسیع تھا ۔ (2) اشوک سمراٹ (304-BCE 232) کے زمانے میں افغانستان بھارت میں شامل تھا ۔ (3) جب آرین قوم وسط ایشیا (یوریشیا) سے بھارت آئی تو افغانستان اور سندھ کے علاقوں میں ایک طویل مدت تک رہی ۔ برہمنوں نے وید کے چار حصوں میں سے پہلا حصہ ”رگ وید“ افغانستان کے قندھار شہر میں لکھا تھا ۔ (4) تمام مسلم سلاطین بھی افغانستان سے آئے تھے ۔ محمود غزنوی (971-1030) غزنہ سے، شہاب الدین غوری (1106-1206) غور سے، ظہیر الدین بابر (1483-1530) کابل سے ۔ غزنہ اور کابل افغانستان کے مشہور شہر ہیں اور ”غور“ افغانستان کا مشہور و قدیم صوبہ ہے ۔ عہد ماضی میں افغانستان بھی بھارت کا حصہ تھا، اس لیے یہ تمام مسلم سلاطین بھارتی تھے ـ مذکورہ تین بادشاہوں نے بھارت پر حملہ کرکے یہاں اپنی سلطنت قائم کی ۔ بھارت کی دیگر مسلم سلطنتوں کے قیام کا سبب یہ ہوا کہ سلطانی خاندان کے لوگ نا اہل یا کمزور ہو گئے تو کسی امیر و حاکم یا سالار و سپہ سالار کو بادشاہت مل گئی اور اب دوسرے خاندان کی بادشاہت قائم ہو گئی ۔ غوری کے غلاموں کی حکومت کے بعد خلجی سلطنت، اس کے بعد تغلق سلطنت، اس کے بعد سیدوں کی حکومت، اس کے بعد لودھی سلطنت کے قیام کا سبب یہی ہے ۔ خلجی خاندان، افغانستان میں آباد ایک خاندان تھا ۔ تغلق خاندان سندھ میں آباد ایک ترکی خاندان تھا ۔ لودھی خاندان افغانستان کے تاجروں کا خاندان تھا جو بھارت آکر بس گیا تھا ۔ (5) بابر کو بھارت کے راجپوتوں نے دعوت دے کر بلایا، تاکہ لودھی سلطنت کو ختم کیا جا سکے ۔ اس کی تفصیل میرے مضمون، بعنوان: ”برہمن راشٹر بنانے بابر کو دعوت“ میں مرقوم ہوئی ۔ محمود غزنوی کے بھارت پر حملہ کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے ہندو راجہ جے پال نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ 984 میں دار السلطنت غزنی پر حملہ کر دیا، جب کہ محمود غزنوی نیشاپور میں اور اس کے والد امیر ستبگین بخارا میں، غزنی سے بہت دور جنگی محاذوں میں مصروف تھے ۔ محمود غزنوی کی طرف سومنات مندر کو منہدم کرنے کی روایت تاریخی حقائق سے متصادم ہے ۔ اسلام میں کسی قوم کے عبادت خانوں کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں ۔ مستند تاریخوں میں سومنات مندر کے انہدام کا ذکر نہیں ۔ بھارت کے بہت سے علاقے پنجاب، سندھ، ملتان، لاہور اور پشاور وغیرہ محمود غزنوی کے عہد سے غزنی سلطنت میں شامل تھے ۔ سلطان شہاب الدین غوری جب غزنی کے بادشاہ ہوئے تو انہوں نے بھارت کے جو علاقے غزنی کے ماتحت تھے، ان میں بغاوتوں کو ختم کرکے مضبوطی پیدا کی ۔ اسی درمیان نیرو والہ (گجرات) کے راجہ بھیم دیو نے شہاب الدین غوری کے خلاف سازش کی اور ملتان، اچ وغیرہ علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے زبردست فوجی تیار ی کرلی ۔ جب غوری کو معلوم ہوا تو وہ 1178 میں غزنی سے ملتان اور پھر نیرووالہ گجرات گیا اور بھیم دیو کی فوج سے جنگ ہوئی ۔ اجمیر کے راجہ، پرتھوی راج نے غزنی سلطنت کے بہت سے حصے، مشرقی پنجاب اور دہلی وغیرہ کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔ غوری نے ان علاقوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو پرتھوی راج انکار کیا اور بھارتی راجاؤں کو جمع کرکے غوری سے جنگ کی ۔ (6) پہلی جنگ آزادی میں بھارت کے تمام ہندو مسلم نے بہادر شاہ ظفر کو اپنا قائد و بادشاہ مانا اور انگریزوں کو ملک سے نکالنے کی کوشش کی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کو غیر ملکی بادشاہت تسلیم نہیں کیا جاتا تھا ۔ (7) کسی مسلم سلطنت کو ختم کرنے کی ملک گیر تحریک نہیں چلی، جیسی تحریک انگریزی حکومت کو ختم کرنے کے لیے چلائی گئی، کیوں کہ موریہ سلطنت ہو، یا مغلیہ سلطنت، سب ملکی بادشاہتیں تھیں ۔ یہ سلاطین غیر ملکی نہیں تھے ۔ طارق انور مصباحی (کیرلا) رکن: روشن مستقبل دہلی جاری کردہ: 24 مئی 2020 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ येह तह़रीर हिन्दी Hindi ہِندی में ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/386 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یہ تحریر ٹیلی گرام پر ↶ https://t.me/TariqueAnwerMisbahi/2060 یہ تحریر فیس بُک پر ↶ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=687142048522983&id=388280455075812 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬

sticker.webp0.30 KB

اکھنڈ بھارت  🇮🇳  Undivided India بھارت کے تمام مسلم بادشاہ بھارتی تھے ✍ مولانا طارق انور مصباحی (کیرلا) ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ بھارت کے تمام مسلم سلاطین بھارتی (1) اکھنڈ بھارت میں وہ تمام علاقے شامل ہیں، جو کبھی بھارتی حکومت کے زیر اقتدار تھے ۔ افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، نیپال، شری لنکا، انڈونیشیا، ملیشیا، تبت، بھوٹان، کمپوڈیا، تھائی لینڈ اور ویتنام وغیرہ بھارت میں تھے ۔ بعض علاقے انگریزوں کے عہد میں انڈین گورنمنٹ کے زیر حکومت تھے ۔اشوک سمراٹ، سلطنت مغلیہ اور انگریزوں کے عہد میں بھارت کا رقبہ بہت وسیع تھا ۔ (2) اشوک سمراٹ (304-BCE 232) کے زمانے میں افغانستان بھارت میں شامل تھا ۔ (3) جب آرین قوم وسط ایشیا (یوریشیا) سے بھارت آئی تو افغانستان اور سندھ کے علاقوں میں ایک طویل مدت تک رہی ۔ برہمنوں نے وید کے چار حصوں میں سے پہلا حصہ ”رگ وید“ افغانستان کے قندھار شہر میں لکھا تھا ۔ (4) تمام مسلم سلاطین بھی افغانستان سے آئے تھے ۔ محمود غزنوی (971-1030) غزنہ سے، شہاب الدین غوری (1106-1206) غور سے، ظہیر الدین بابر (1483-1530) کابل سے ۔ غزنہ اور کابل افغانستان کے مشہور شہر ہیں اور ”غور“ افغانستان کا مشہور و قدیم صوبہ ہے ۔ عہد ماضی میں افغانستان بھی بھارت کا حصہ تھا، اس لیے یہ تمام مسلم سلاطین بھارتی تھے ـ مذکورہ تین بادشاہوں نے بھارت پر حملہ کرکے یہاں اپنی سلطنت قائم کی ۔ بھارت کی دیگر مسلم سلطنتوں کے قیام کا سبب یہ ہوا کہ سلطانی خاندان کے لوگ نا اہل یا کمزور ہو گئے تو کسی امیر و حاکم یا سالار و سپہ سالار کو بادشاہت مل گئی اور اب دوسرے خاندان کی بادشاہت قائم ہو گئی ۔ غوری کے غلاموں کی حکومت کے بعد خلجی سلطنت، اس کے بعد تغلق سلطنت، اس کے بعد سیدوں کی حکومت، اس کے بعد لودھی سلطنت کے قیام کا سبب یہی ہے ۔ خلجی خاندان، افغانستان میں آباد ایک خاندان تھا ۔ تغلق خاندان سندھ میں آباد ایک ترکی خاندان تھا ۔ لودھی خاندان افغانستان کے تاجروں کا خاندان تھا جو بھارت آکر بس گیا تھا ۔ (5) بابر کو بھارت کے راجپوتوں نے دعوت دے کر بلایا، تاکہ لودھی سلطنت کو ختم کیا جا سکے ۔ اس کی تفصیل میرے مضمون، بعنوان: ”برہمن راشٹر بنانے بابر کو دعوت“ میں مرقوم ہوئی ۔ محمود غزنوی کے بھارت پر حملہ کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے ہندو راجہ جے پال نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ 984 میں دار السلطنت غزنی پر حملہ کر دیا، جب کہ محمود غزنوی نیشاپور میں اور اس کے والد امیر ستبگین بخارا میں، غزنی سے بہت دور جنگی محاذوں میں مصروف تھے ۔ محمود غزنوی کی طرف سومنات مندر کو منہدم کرنے کی روایت تاریخی حقائق سے متصادم ہے ۔ اسلام میں کسی قوم کے عبادت خانوں کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں ۔ مستند تاریخوں میں سومنات مندر کے انہدام کا ذکر نہیں ۔ بھارت کے بہت سے علاقے پنجاب، سندھ، ملتان، لاہور اور پشاور وغیرہ محمود غزنوی کے عہد سے غزنی سلطنت میں شامل تھے ۔ سلطان شہاب الدین غوری جب غزنی کے بادشاہ ہوئے تو انہوں نے بھارت کے جو علاقے غزنی کے ماتحت تھے، ان میں بغاوتوں کو ختم کرکے مضبوطی پیدا کی ۔ اسی درمیان نیرو والہ (گجرات) کے راجہ بھیم دیو نے شہاب الدین غوری کے خلاف سازش کی اور ملتان، اچ وغیرہ علاقوں سے بے دخل کرنے کے لیے زبردست فوجی تیار ی کرلی ۔ جب غوری کو معلوم ہوا تو وہ 1178 میں غزنی سے ملتان اور پھر نیرووالہ گجرات گیا اور بھیم دیو کی فوج سے جنگ ہوئی ۔ اجمیر کے راجہ، پرتھوی راج نے غزنی سلطنت کے بہت سے حصے، مشرقی پنجاب اور دہلی وغیرہ کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔ غوری نے ان علاقوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو پرتھوی راج انکار کیا اور بھارتی راجاؤں کو جمع کرکے غوری سے جنگ کی ۔ (6) پہلی جنگ آزادی میں بھارت کے تمام ہندو مسلم نے بہادر شاہ ظفر کو اپنا قائد و بادشاہ مانا اور انگریزوں کو ملک سے نکالنے کی کوشش کی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کو غیر ملکی بادشاہت تسلیم نہیں کیا جاتا تھا ۔ (7) کسی مسلم سلطنت کو ختم کرنے کی ملک گیر تحریک نہیں چلی، جیسی تحریک انگریزی حکومت کو ختم کرنے کے لیے چلائی گئی، کیوں کہ موریہ سلطنت ہو، یا مغلیہ سلطنت، سب ملکی بادشاہتیں تھیں ۔ یہ سلاطین غیر ملکی نہیں تھے ۔ طارق انور مصباحی (کیرلا) رکن: روشن مستقبل دہلی جاری کردہ: 24 مئی 2020 ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ येह तह़रीर हिन्दी Hindi ہِندی में ↷ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/386

अखण्ड भारत 🇮🇳 Undivided India भारत के तमाम मुस्लिम बादशाह भारती मौलाना त़ारिक़ अनवर मिस़्बाह़ी (केरला) हिन्दी: मुह़म्मद जमालुद्दीन ख़ान क़ादिरी ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ (1) अखण्ड भारत में वोह तमाम इ़लाक़े शामिल हैं, जो कभी भारती ह़ुकूमत के ज़ेरे इक़तिदार थे। अफ़ग़ानिस्तान, पाकिस्तान, बंग्लादेश, बर्मा, नेपाल, श्रीलंका, इंडोनेशिया, मलेशिया, तिब्बत, भूटान, कंबोडिया, थाईलैंड और वियतनाम वग़ैरह भारत में थे। बअ़्ज़ (कुछ) इ़लाक़े अंग्रेज़ों के अ़हद में इंडियन गवर्नमेंट के ज़ेरे ह़ुकूमत थे। अशोक सम्राट, सलत़नते मुग़्लियह और अंग्रेज़ों के अ़हद में भारत का रक़बह बहुत वसीअ़् था। (2) अशोक सम्राट (BCE 232-304) के ज़माने में अफ़्ग़ानिस्तान भारत में था। (3) जब आर्यन क़ौम वस्त़े एशिया (यूरेशिया) से भारत आई तो अफ़ग़ानिस्तान और सिंध के इ़लाक़ों मे एक त़वील मुद्दत तक रही। ब्राह्मणों ने वेद के चार ह़िस़्स़ों में से पहला ह़िस़्स़ह ऋग्वेद अफ़्ग़ानिस्तान के क़न्धार शहर में लिखा था। (4) तमाम मुस्लिम सलात़ीन (बादशाह) भी अफ़ग़ानिस्तान से आए थे। मह़मूद ग़ज़नवी  (971-1030) ग़ज़नह से, शहाबुद्दीन ग़ौरी (1106-1206) ग़ौर से, ज़हीरुद्दीन बाबर (1483-1530) काबुल से। ग़ज़नह और काबुल अफ़ग़ानिस्तान के मशहूर शहर हैं और ग़ौर अफ़ग़ानिस्तान का मशहूर व क़दीम (पुराना) स़ूबह (राज्य State) है। अ़हदे माज़ी में अफ़ग़ानिस्तान भी भारत का ह़िस़्स़ह था, इस लिए येह तमाम मुस्लिम सलात़ीन (तमाम मुस्लिम बादशाह) भारती थे। मज़कूरह तीन बादशाहों ने भारत पर ह़मला करके यहाँ अपनी सलत़नत क़ाइम की। भारत के दीगर मुस्लिम सलत़नतों के क़याम का सबब येह हुवा कि सुल्त़ानी ख़ानदान के लोग ना अहल या कमज़ोर हो गए तो किसी अमीर व ह़ाकिम या सालार व सिपह सालार को बादशाहत मिल गई और अब दूसरे ख़ानदान की बादशाहत क़ाइम हो गई। ग़ौरी के ग़ुलामों की ह़ुकूमत के बअ़्द ख़िल्जी सलत़नत, उसके बअ़्द तुग़लक़ सलत़नत, उसके बअ़्द सय्यिदों की ह़ुकूमत, उसके बअ़्द लोधी सलत़नत के क़याम का सबब यही है। ख़िलजी ख़ानदान, अफ़ग़ानिस्तान में आबाद एक ख़ानदान था। तुग़लक़ ख़ानदान सिंध में आबाद एक तुर्की ख़ानदान था। लोधी ख़ानदान अफ़ग़ानिस्तान के ताजिरों का ख़ानदान था जो भारत आकर बस गया था। (5) बाबर को भारत के राजपूतों ने दअ़्वत देकर बुलाया, ताकि लोधी सलत़नत को ख़त्म किया जा सके। इस की तफ़स़ील मेरे मज़मून, ब-उ़न्वान “ब्राह्मण राष्ट्र बनाने बाबर को दअ़्वत” में मरक़ूम हुई। मह़मूद ग़ज़नवी के भारत पर ह़मला का सबब येह है कि पंजाब के हिन्दू राजा जयपाल ने एक अ़ज़ीम लशकर के साथ 984 में दारुस्-सलत़नत ग़ज़नी पर ह़मलह कर दिया, जबकि मह़मूद ग़ज़नवी नीशापुर में और उसके वालिद अमीर सुबुकतगीन बुख़ारा में, ग़ज़नी से बहुत दूर जंगी मह़ाज़ों में मस़रूफ़ थे। मह़मूद ग़ज़नवी की त़रफ़ सोमनाथ मन्दिर को मुन्हदिम करने की रिवायत तारीख़ी ह़क़ाइक़ से मु-तस़ादुम है। इस्लाम में किसी क़ौम के इ़बादत ख़ानों को मुन्हदिम करने की इजाज़त नहीं। मुस्तनद तारीख़ों में सोमनाथ मन्दिर के इन्हिदाम (ढाने) का ज़िक्र नहीं। भारत के बहुत से इ़लाक़े पंजाब, सिंध, मुल्तान, लाहौर और पिशावर वग़ैरह मह़मूद ग़ज़नवी के अ़हद से ग़ज़नी सलत़नत में शामिल थे। सुलत़ान शहाबुद्दीन ग़ौरी जब ग़ज़नी के बादशाह हुए तो उन्होंने भारत के जो इ़लाक़े ग़ज़नी के मा-तह़त थे, उनमें बग़ावतों को ख़त्म करके मज़बूत़ी पैदा की। उसी दरमियान नीरूवाला (गुजरात) के राजा भीम देव ने शहाबुद्दीन ग़ौरी के ख़िलाफ़ साज़िश की और मुलतान, उच वग़ैरह इ़लाक़ों से बे-दख़ल करने के लिए ज़बर-दस्त फ़ौजी तय्यारी करली। जब ग़ौरी को मअ़्लूम हुवा तो वोह 1178 में ग़ज़नी से मुलतान और फिर नीरूवाला गुजरात गया और भीम देव की फ़ौज से जंग हुई। अजमेर के राजा पृथ्वीराज चौहान ने ग़ज़नी सलत़नत के बहुत से ह़िस़्स़े, मशरिक़ी (पूर्व) पंजाब और दिल्ली वग़ैरह को अपने क़ब्ज़े में कर लिया था। ग़ौरी ने उन इ़लाक़ों की वापसी का मुत़ालबा किया तो पृथ्वी राज इनकार किया और भारती राजाओं को जमअ़् करके ग़ौरी से जंग की। (6) पहली जंगे आज़ादी में भारत के तमाम हिन्दू मुस्लिम ने बहादुर शाह ज़फ़र को अपना क़ाइद व बादशाह माना और अंग्रेज़ों को मुल्क से निकालने की कोशिश की। इससे साबित होता है कि मुग़लियह सलत़नत को ग़ैर मुल्की बादशाहत तस्लीम नहीं किया जाता था। (7) किसी मुस्लिम सलत़नत को ख़त्म करने की मुल्क गीर तह़रीक नहीं चली, जैसी तह़रीक अंग्रेज़ी ह़ुकूमत को ख़त्म करने के लिए चलाई गई, क्योंकि मौर्य सलत़नत हो, या मुग़्लियह सलत़नत, सब मुल्की बादशाहतें थीं। येह सलात़ीन (बादशाह) ग़ैर मुल्की नहीं थे। त़ारिक़ अनवर मिस़्बाह़ी (केरला) रुक्न: रौशन मुस्तक़बिल दिल्ली जारी कर्दह: 24 मई 2020 ई़स्वी ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ یہ تحریر اردو Urdu उर्दू مِیں ↶ https://whatsapp.com/channel/0029Va4xNTcBlHpj2ZXcdA3J/387

Repost from Urdu Tahrir
sticker.webp0.64 KB