fa
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

رفتن به کانال در Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

نمایش بیشتر
کشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
255
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+87 روز
+2530 روز
آرشیو پست ها
زمینی محاذ پر سرمچاروں کے ہاتھوں مکمل شکست، اور خضدار بریگیڈ کی ناکامی کے بعد، دشمن فوج نے اپنی فضائی قوت کا سہارا لیا۔ بکتر بند گاڑیوں اور 5 گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پاکستان فوج کے ایلیٹ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز نے نال شہر میں داخل ہونے کی آخری کوشش کی۔ ان ہیلی کاپٹروں نے نال بازار کے اندر 5 مختلف مقامات پر اندھا دھند شیلنگ اور بمباری کی، جس کے جواب میں نغاڑ اور پرچ ہوٹل کے محاذ پر سرمچاروں نے ہیلی کاپٹروں پر راکٹوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے جوابی حملہ کردیا۔ دشمن فوج کی اس فضائی حملے کے خلاف سب سے بڑا معرکہ ہتیچک کے مقام پر لڑا گیا، جہاں سرمچاروں نے ایس ایس جی کمانڈوز کے ہیلی کاپٹروں پر راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس جوابی کارروائی میں سرمچاروں نے نغاڑ، پرچ ہوٹل اور ہتیچک کے مقامات پر دشمن کے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔ نغاڑ اور پرچ ہوٹل کے مقامات پر سرمچاروں نے 2 گن شپ ہیلی کاپٹروں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مار گرایا، جو زمین پر گر کر تباہ ہو گئے اور ان میں سوار 12 ایلیٹ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ مسلسل 5 گھنٹے جاری رہنے والے اس معرکے میں قابض پاکستانی فوج کو ہر محاذ پر سرمچاروں کے ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیشہ کی طرح، قابض فوج اپنی اس تاریخی عسکری شکست اور ہزیمت کو چھپانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی تباہی کو تکنیکی وجوہات کا نام دے کر جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے، لیکن نال شہر کے غیور باشندے اس حقیقت کے چشم دید گواہ ہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر سرمچاروں کے حملوں کے نتیجے میں گر کر تباہ ہوئے ہیں۔ سرمچاروں کی جانب سے ریکارڈ کی گئی اس تاریخی معرکہ کے ویڈیوز اور تصاویر جلد بی ایل ایف کے میڈیا چینل “آشوب” پر پوسٹ کی جائے گی، جن میں ہیلی کاپٹروں کو شدید دھوئیں اور آگ کے شعلوں میں گھرا دیکھا جا سکتا ہے، جو دشمن کے اس بدترین شکست کی ناقابلِ تردید گواہی ہیں۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کو محض زمین یا وسائل کا معاملہ نہیں سمجھتی، بلکہ یہ بلوچستان کی سر زمین پر بلوچ قومی آزادی کی حصول، قومی شناخت اور انسانی وقار کے تحفظ جیسے اعلیٰ قومی مقاصد کا مسئلہ ہے۔ نال میں ہونے والے اس آپریشن کا مقصد صرف عسکری برتری ثابت کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی کارفرما ہے۔ یہ معرکہ اس زمینی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جو عناصر قابض پاکستانی ریاست کا حصہ دار بن کر بلوچ قوم کے وسائل بے دریغ لوٹ رہے ہیں، اور ریاستی مشینری کو سہارا دینے کے لیے ڈیتھ اسکواڈز اور نام نہاد امن فورس جیسے قاتل گروہوں کو بلوچ نسل کشی کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں، اب ان کا قلع قمع ناگزیر ہو چکا ہے۔ امن کے نام پر نال میں بلوچ قوم کی نسل کشی میں دشمن کے ساتھ شریک جرم جاگیرداروں و سرکاری سرداروں نے نو آبادیاتی سوچ کے تابع ہمیشہ بلوچ قومی تحریک کی مخالفت کیا ہے، لیکن اب وقت کا تقاضا ہے کہ ایسی نو آبادیاتی سوچ اور عناصر کا صفایا کیا جائے۔ معرکہِ نال بلوچ قومی جذبہ مزاحمت اور طاقت کی وہ علامت ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ قومی شناخت کو ختم کرنے والی قابض ریاست اور اس کے کاسہ لیسوں پر بلوچ سر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ بلوچستان کے اہم شہروں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کی پے در پے کارروائیاں دراصل بلوچستان میں پاکستان کی نوآبادیاتی ریاستی عمل داری کی زوال اور تیزی سے مکمل خاتمے کی واضح نشانیاں ہیں۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ تاریخی نال آپریشن میں 33 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، دو ہیلی کاپٹرز، اور دو کواڈ کاپٹر سمیت متعدد فوجی بکتر بند گاڑیوں، موبائل ٹاور، معدنیات کی فیکٹریز اور گاڑیوں کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اور یہ عزم دہراتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قومی شناخت کے تحفظ جیسے مقاصد کی حصول تک قابض ریاست اور اس کے آلہ کاروں پر اسی طرح زمین تنگ رکھی جائے گی۔ اس تاریخی آپریشن کی کامیابی کے بعد ہمارے تمام سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ 12 جون 2026 Ref. No. BLF/June2026/00073

خضدار کے تاریخی شہر نال میں بی ایل ایف کا منظم و مربوط آپریشن، شہر میں سرمچاروں کے مختلف دستوں کی مرحلہ وار پیش قدمی و کنٹرول، لیویز اور پولیس تھانے تباہ، خضدار بریگیڈ اور ایس ایس جی کمانڈوز کی کُمک ناکام، 2 گن شپ ہیلی کاپٹر مار گرائے گئے، مجموعی طور پر 33 فوجی ہلاک: میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 8 جون 2026 کو خضدار کے تاریخی علاقے نال شہر میں ایک، منظم، مربوط اور کثیر المراحلی گوریلا آپریشن کا آغاز کیا۔ تاریخی معرکہِ نال صبح ٹھیک 12 بجے شروع ہوا۔ شہر پر مرحلہ وار کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرمچاروں کو مختلف تزویراتی دستوں میں تقسیم کیا گیا، جنہوں نے بیک وقت اپنے اپنے اہداف پر پوزیشن سنبھال کر پورے نال شہر کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ دشمن کے مواصلاتی و رابطہ نظام کو مفلوج کرنے کے لیے آپریشن کے آغاز سے ایک دن قبل ہی سرمچاروں کے دستوں نے نال شہر اور اس کے گردونواح میں نصب دشمن کے 5 موبائل ٹاورز اور ان کی مشینری کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا، جن میں 2 گُرک، 1 ہزار گنجی، 1 ٹوبڑو اور 1 ہوچڑو کے مقام پر نصب ہیں۔ مواصلاتی نظام معطل ہوتے ہی سرمچاروں کے دستوں نے سی پیک روڈ پر خضدار اور گریشگ کے مقامات پر، اور کراچی جانے والی مرکزی شاہراہ پر بیک وقت ناکہ بندی قائم کر دی۔ مقامی بلوچ آبادی کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کی خاطر سرمچاروں نے کراچی روڈ پر مقامی بلوچ آبادی کو ایک جگہ اکٹھا کر کے انہیں اپنے اس عسکری آپریشن اور اس کے نتیجے میں ممکنہ صورتحال سے آگاہ کردیا تاکہ وہ اپنے گھروں سے نہ نکلیں، جبکہ گریشگ کے مقام پر تعینات دستے نے فائرنگ کر کے دشمن کا ایک جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا۔ اسی دوران سرمچاروں نے دشمن کی معاشی تنصیبات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے قیمتی پتھروں کے ایک فیکٹری اور ویئنگ اسکیل کو نذرِ آتش کر دیا، جس کی زد میں آکر وہاں کھڑی پتھر لوڈ کرنے والی متعدد گاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئیں، جس سے وسائل کی لوٹ مار کا یہ پروجیکٹ بری طرح متاثر ہوا۔ مواصلاتی نظام کی تباہی اور شہر کی بیرونی ناکہ بندی مکمل ہوتے ہی، سرمچاروں کے مستعد دستوں نے باقاعدہ پیش قدمی کا آغاز کیا اور مختلف اطراف سے نال شہر کے اندر داخل ہوئے۔ پیش قدمی کے دوران سب سے پہلا معرکہ کرش پلانٹ کے مقام پر ہوا، جہاں گھات لگائے سرمچاروں نے دشمن کی ایک بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنا کر 5 فوجی اہلکار ہلاک کر دیے اور بکتر گاڑی پر راکٹوں سے حملہ کرکے گاڑی کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں سے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے سرمچاروں نے جنگ کا دائرہ کار نغاڑ اور پرچ ہوٹل کے علاقوں تک پھیلا دیا اور نال کے مرکزی بازار اور عسکری کیمپ کے گرد گھیراؤ تنگ کر دیا۔ سرمچاروں نے شہر کے مرکز میں واقع لیویز اور پولیس تھانے پر بیک وقت حملہ کردیا جہاں قابض پاکستانی فوج مورچہ بند تھی۔ لیویز تھانے پر حملے میں سرمچاروں نے راکٹ لانچروں اور دیگر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس تباہی کے نتیجے میں وہاں موجود قابض فوج کے 10 اہلکاروں میں سے 9 فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ 1 اہلکار جان بچا کر فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران ایک لیویز اہلکار کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا، اور پولیس تھانے کے اوپر اڑتے ہوئے دشمن کے ایک اور کواڈ کاپٹر کو مار گرایا گیا۔ جب دشمن فوج نے اپنے مرکزی کیمپ سے پیدل نکل کر پولیس تھانے کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تو کیمپ کے باہر گھات لگائے سرمچاروں نے ان پر حملہ کر کے مزید 7 فوجیوں کو ہلاک کر دیا اور بقیہ فورس کو کیمپ کے اندر محصور ہونے پر مجبور کر دیا۔ نال شہر میں قابض فوج کی اس بدترین پسپائی، تھانوں میں موجود فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور فوجی کیمپ میں محصور نفری کو بچانے کے لیے خضدار بریگیڈ سے پاکستان فوج اور ایلیٹ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز پر مشتمل درجنوں گاڑیوں کا ایک قافلہ نال شہر کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، لیکن شاہراہوں پر پہلے سے قائم سرمچاروں کی مضبوط دفاعی ناکہ بندیوں کے سامنے دشمن بے بس ہو گیا۔ سرمچاروں کے گھات لگائے دستوں نے خضدار بریگیڈ کی اس کمک پر خودکار ہتھیاروں سے مہلک حملے کیے، جس کے نتیجے میں دشمن کے اس قافلے میں شامل متعدد فوجی اہلکار، جن میں ایس ایس جی کمانڈوز بھی شامل تھے، شدید جانی و مالی نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

اوچ پاور پلانٹ بجلی کی مرکزی دو ٹاورز کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی 12 جون 2026 گزشتہ شب ہمارے سرمچاروں نے
اوچ پاور پلانٹ بجلی کی مرکزی دو ٹاورز کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی 12 جون 2026 گزشتہ شب ہمارے سرمچاروں نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے رابی میں اوچ پاور پلانٹ سے نکلنے والی دو مرکزی ٹاوروں کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کردیا جس کے نتیجے میں دو ٹاورز زمین بوس ہوگئے اسی دوران پاور پلانٹ میں بھی آتشزگی ہوئی جبکہ ٹاورز تباہ ہونے کے باعث بلوچستان کے متعدد اضلاع سے بجلی کی مطلع ہوگئی اس حملے کی ذمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور اس طرح کے حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے دوستین بلوچ ترجمان بلوچ ریپبلکن گارڈز

‏بریکنگ نیوز: ‏نوشکی کے علاقے مل میں پاکستانی فوج کی گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، علاقائی ذرائع کے مطابق گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی، جبکہ اس میں سوار متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ https://x.com/sbn_bluch/status/2065296096541208953?s=52

گزشتہ روز پنجگور میں پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے دو انتہائی اہم کارندے مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ #Pan
+1
گزشتہ روز پنجگور میں پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے دو انتہائی اہم کارندے مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ #Panjgur

Kardigap.jpg1.23 MB

Dukki.jpg1.17 MB

Gulistan.jpg1.12 MB

Kalat.jpg1.14 MB

دکی، نرہن پولیس تھانے کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک منظم حملے میں نشانہ بنانے کے بعد کنٹرول حاصل کیا۔ اس دوران ایک اہلکار نے مورچہ زن ہوکر سرمچاروں پر حملہ کیا جس کو سرمچاروں نے جوابی حملے میں ہلاک کردیا۔ سرمچاروں نے تھانے کو مکمل کنٹرول میں لینے کے بعد وہاں موجود اسلحہ و دیگر فوجی ساز و سامان اپنی تحویل میں لیا جبکہ پولیس اہلکاروں کو رہا کردیا گیا۔ 10 جون: بی ایل اے کے سرمچاروں نے پشین کے علاقے دینار میں پولیس تھانہ سلطان اور قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان، دولنگی میں گیلو پولیس چوکی کر کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود اہلکاروں کو حراست میں لیکر پندرہ مختلف ہتھیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان سمیت گاڑیوں کو اپنی تحویل میں لیا۔ سرمچاروں نے پولیس تھانہ نذر آتش کرنے سمیت بڑے حصے کو بلڈوزر کردیا جبکہ چوکی کو بارودی مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ مجموعی طور پر، جون کے اس پہلے عشرے میں کی جانے والی یہ منظم اور کثیر الجہتی کارروائیاں بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی آپریشنل رسائی، انٹیلیجنس ونگ 'زراب' کی غیر معمولی کارکردگی اور زمینی کنٹرول قائم کرنے کی صلاحیت کا بین ثبوت ہیں۔ ان حملوں کے دوران قابض قوتوں کو پہنچنے والا بھاری جانی و مالی نقصان، اعلیٰ فوجی حکام کی ہلاکت اور ریاستی تنصیبات پر حاصل کیا جانے والا کنٹرول یہ واضح کرتا ہے کہ بلوچ مزاحمتی قوت اب حریف کے عسکری پھیلاؤ کو روکنے اور اس پر اپنی تزویراتی برتری ثابت کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ بی ایل اے اپنے ان تمام جانباز سرمچاروں کو بلوچ قومی دفاع کی راہ میں دی جانے والی لازوال قربانیوں پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اپنے اس اصولی موقف کا اعادہ کرتی ہے کہ جب تک بلوچ دھرتی سے غیر ملکی تسلط اور غاصبانہ قبضے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا، دشمن کے عسکری، انٹیلیجنس اور معاشی اثاثوں پر اس نوعیت کی کاری ضربیں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی بتاریخ: 10 جون 2026

پندرہ کاروائیوں میں قابض فوج کے 26 اہلکار ہلاک، تھانوں پر کنٹرول، اسلحہ و گاڑی ضبط – بی ایل اے بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے یکم جون سے دس جون کے دوران مختلف علاقوں میں پندرہ کاروائیاں سرانجام دی جن میں قابض پاکستانی فوج پر آئی ای ڈی حملوں سمیت براہ راست مسلح حملے شامل ہیں جبکہ سرمچاروں نے تین پولیس تھانوں اور چوکیوں پر کنٹرول حاصل کرنے سمیت جھڑپوں میں قابض فوج کی گاڑیاں اور اسلحہ اپنی تحویل میں لیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کے چھبیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ 1 جون: مستونگ، کردگاپ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پوسٹ کو مارٹر گولے فائر کرکے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور مزید چار زخمی ہوگئے۔ اسی روز کردگاپ میں قابض فوج کیساتھ جھڑپوں میں تین سرمچار سنگت مقبول، سنگت صلاح الدین اور سنگت وحید شہید ہوگئے۔ 3 جون: نوشکی، احمد وال میں پھاٹک کے مقام پر قابض فوج کے قافلے کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جس میں دشمن کے کم از دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی روز قلات کے علاقے منگچر میں ایک آئی ای ڈی حملے میں قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک اہلکار کو ہلاک اور دو کو زخمی کردیا گیا۔ قابض پاکستانی فوج نے پنجگور چیدگی کے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جہاں طویل جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ جھڑپوں میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ہیلی کاپٹر کو سرمچاروں نے بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بناکر نقصان پہنچایا۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے تین جانباز سرمچار سنگت تلار، سنگت بابر اور سنگت خلیل شہید ہوگئے۔ زامران، وکائی میں کرپاسی کے مقام پر قابض فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں تباہ کردیا گیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی روز تگران میں کلگ کے مقام پر قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو سرمچاروں نے آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔ 6 جون: قلات، اسکلکو میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیدل پیش قدمی کررہے تھے، حملے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر اہلکار اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ گئے۔ بعدازاں قابض فوج نے بکتر بند گاڑیوں میں علاقے میں پیش قدمی کی کوشش جس پر سرمچاروں نے ایک دفعہ پھر مختلف سمت سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے مزید چار اہلکار ہلاک و متعدد زخمی ہوگئے جبکہ سرمچار قابض فوج کی ایک بکتر بند گاڑی و فوجی سامان اپنی تحویل میں لینے میں کامیاب ہوئے۔ شکست خوردہ قابض فوج نے عام آبادیوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی اور مارٹر گولے فائر کیئے۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے سرمچار سنگت کاکا ظہیر شہید ہوگئے۔ اسی روز زامران کے علاقے جابشان میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو ایک آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ مزید برآں خضدار کے علاقے زہری، بلبل میں قابض فوج کو اس وقت حملوں میں نشانہ بنایا جب دشمن فوج نے ٹینک، بکتر بند اور دیگر گاڑیوں میں علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی، دس گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں قابض فوج کے چار سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔ تربت، کلاتک میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ایک اعلیٰ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) ارسلان حلیم کو اس کے تین دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اس وقت حملے میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا جب وہ ناصر آباد میں قابض فوج کے کیمپ سے تین گاڑیوں میں نکلے تھے۔ مذکورہ ایم آئی آفیسر بھیس بدل کر 'ڈیتھ اسکواڈ' کی سیکورٹی میں نقل و حرکت کررہا تھا جس پر بی ایل اے کی انٹیلی جنس زراب نظر رکھے ہوئے تھی۔ سرمچاروں نے زراب کی مستند و خفیہ معلومات کی بناء پر کاروائی کرتے ہوئے مذکورہ گاڑی میں سوار اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ دیتے ہوئے موقع پر ہلاک کردیا۔ 7 جون: کیچ کے علاقے گورکوپ، کلگ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو مسلح حملے میں نقصانات سے دوچار کیا۔ 8 جون: نوشکی، احمد وال میں پھاٹک کے مقام پر سرمچاروں قابض فوج کے اہلکاروں کو لیجانے والے بسوں کے قافلے کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، ایک بس کی براہ راست حملے کی زد میں آنے سے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔ 9 جون: تربت شہر میں بلوچ لبریشن آرمی کی اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) کے سرمچاروں نے ایک پیچیدہ و منظم حملے میں قابض فوج کے چوکی کے دروازے پر اس وقت ایک مقناطیسی بم نصب کرکے تباہ کردیا جب چوکی میں چار اہلکار موجود تھے۔

بارکھان کے علاقے تکھڑا رکنی میں مسلح افراد اور ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے درمیان جھڑپیں جاری ہے۔ فورسز کی بڑی تعداد ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ موجود ہے۔ مزید تفصیلات آنا باقی ہے۔۔

بریکنگ نیوز بارکھان کے علاقے تکھڑا رکنی میں مسلح افراد اور ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے درمیان جھڑپیں مزید تفصیلات کا انتظار ہے ۔۔ #بلوچستان https://x.com/sobainbaluchh/status/2064575750997479452?s=52

IMG_7341.JPG5.13 KB

Kashmiri and Other Oppressed Nations under Pakistan's Occupation Cannot be Subjugated by Force- Dr. Allah Nazar Baloch The resistance of the Kashmiri people against Punjabi occupation in the struggle for their fundamental rights and freedom is a clear expression of the truth that oppressed nations cannot be kept subjugated by force. It is no longer possible for Islamabad to impose decisions on Kashmiris and other oppressed nations through coercion. "Azad Kashmir" under Pakistan's occupation is free in name only, in reality, Punjab's dominance and supremacy prevails in Kashmir. Punjab's hegemony has been imposed on oppressed nations in the name of federation, and decisions about Kashmir are being made not by Kashmiris but by secretary-level officials sitting in Islamabad. The oppression, brutality, and massacre of the Kashmiri people is an expression of fear by an unnatural state, because it is no longer possible to maintain forced domination over oppressed nations for long. The struggle against Punjab's supremacy is the right of oppressed nations, and we support their struggle for sovereignty and freedom. The longer the oppressed nations delay in rising against Pakistani occupation, the greater the losses they will have to endure. Struggle for national liberation is obligatory for every oppressed nation, and we morally and politically support the liberation struggles of Kashmiri, Pashtun, and Sindhi. Oppressed nations should know that the Baloch stand with them in their struggle for freedom, and the Baloch nation also expects that other oppressed nations will not hesitate or hold back from supporting Balochistan's liberation struggle. Dr. Allah Nazar Baloch Supreme Commander, Balochistan Liberation Front 9 June 2026 Ref. No. BLF/June2026/00073

IMG_7340.JPG4.45 KB

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور محکوم اقوام کو طاقت کے زور پر مغلوب نہیں رکھا جا سکتا۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کیلئے پنجابی قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت اس حقیقت کا کھلا اظہار ہے کہ محکوم اقوام کو طاقت کے زور پر مغلوب نہیں رکھا جا سکتا۔ کشمیریوں اور دیگر محکوم اقوام پر جبر کے ذریعے فیصلے مسلط کرنا اب اسلام آباد کیلئے ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کے زیرِ تسلط “آزاد کشمیر “ صرف نام کی حد تک آزاد ہے، لیکن درحقیقت کشمیر میں پنجاب کی عمل داری اور بالادستی قائم ہے۔ فیڈریشن کے نام پر پنجاب کی بالادستی محکوم اقوام پر مسلط کی گئی ہے اور کشمیر کے فیصلے کشمیریوں کے بجائے اسلام آباد میں بیٹھے سیکرٹری لیول کے افسران کر رہے ہیں۔ کشمیریوں پر ظلم و جبر اور ان کا قتل عام کرنا غیر فطری ریاست کے خوف کا اظہار ہے کیونکہ محکوم اقوام پر تادیر جبری تسلط قائم رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔ پنجاب کی بالادستی کے خلاف جدوجہد محکوم اقوام کا حق ہے اور ہم ان کی حقِ حاکمیت اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستانی قبضے کے خلاف محکوم اقوام اٹھنے میں جتنی دیر کریں گی، انہیں اتنے ہی زیادہ نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ حقِ آزادی کے لیے جدوجہد محکوم اقوام کا فرض ہے اور ہم کشمیریوں، پشتونوں اور سندھیوں کی جدوجہدِ آزادی کی اخلاقی اور سیاسی طور پر حمایت کرتے ہیں۔ محکوم اقوام آزادی کی جدوجہد میں بلوچوں کو اپنا ساتھی سمجھیں، اور بلوچ قوم بھی امید رکھتی ہے کہ دیگر محکوم اقوام بلوچستان کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت سے پس و پیش یا پشت پناہی سے گریز نہیں کریں گی۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سپریم کمانڈر بلوچستان لبریشن فرنٹ 9 جون 2026 Ref. No. BLF/June2026/00073