Sobain|سوبین بلوچ
رفتن به کانال در Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
نمایش بیشترکشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
258
مشترکین
اطلاعاتی وجود ندارد24 ساعت
+97 روز
+2130 روز
آرشیو پست ها
کردگاپ آپریشن میں کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر بی ایل ایف کا وسیع عسکری ناکہ بندی اور کنٹرول، متعدد فوجی اہلکار ہلاک، کواڈ کاپٹرز تباہ اور ریاستی دفاعی نظام مفلوج، ایک سرمچار شہید: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 6 اپریل کی صبح 7 بجے، ایک غیر معمولی اور منظم عسکری حکمت عملی کے تحت مقبوضہ بلوچستان کی اہم ترین شاہراہ، کوئٹہ-تفتان ہائی وے کو چار مختلف تزویراتی مقامات پر بیک وقت گھیرے میں لے کر مکمل طور پر بلاک کر دیا۔ یہ آپریشن بی ایل ایف کی اس حکمت عملی کی ایک کڑی تھا جس کا مقصد بلوچستان کے شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کرکے دشمن کی نقل و حرکت کو روکنا اور بلوچستان کے چپے چپے کو اس کیلئے نو گو ایریا بنانا ہے علاوہ ازیں ایسی کاروائیوں کے ذریعے تنظیم دشمن کو یہ باور کرانا بھی چاہتی ہے کہ بلوچستان کا کوئی بھی علاقہ سرمچاروں کی دسترس سے باہر نہیں۔ آپریشن کی کامیابی کے لیے سرمچاروں کو چار الگ الگ خصوصی دستوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جنہوں نے اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے عسکری صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
سرمچاروں کے پہلے دستے نے کردگاپ میں پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ تھانے میں موجود تمام اہلکاروں کو غیر مسلح کر کے حراست میں لیا گیا، تاہم بی ایل ایف نے اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور تحریک کے اعلیٰ مقاصد کے پیشِ نظر، تمام اہلکاروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا۔ اس دستے نے کردگاپ کراس پر مضبوط ناکہ بندی قائم کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
سرمچاروں کے دوسرے دستے نے کلی شاہنواز کے مقام پر شاہراہ کو بلاک کیا، جہاں ان کا سامنا دشمن کے ایک بھاری قافلے سے ہوا جو 15 سے زائد بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ دشمن نے پیش قدمی کے لیے اندھا دھند مارٹر باری کی لیکن سرمچاروں نے مضبوط پوزیشنوں سے قافلے پر شدید جوابی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کا پورا قافلہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا اور بزدلانہ طور پر دور سے گولہ باری کرتے ہوئے فرار ہو گیا۔
سرمچاروں کے تیسرے اور چوتھے دستے نے کوئٹہ کی حدود میں واقع پنجپائی کے دو حساس مقامات پر گھات لگائی۔ ان دستوں نے کوئٹہ کی طرف سے آنے والی کسی بھی ممکنہ فوجی کمک کو روکنے کے لیے ایک ناقابلِ عبور دفاعی حصار قائم کر دیا، جس نے کئی گھنٹوں تک دشمن کی زمینی کمک کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
دورانِ ناکہ بندی، کردگاپ کے مقام پر سادہ وردی میں ملبوس پاکستانی فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز اور فوجی اہلکاروں نے تین سول گاڑیوں میں سوار ہو کر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، جنہیں سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نشانہ بنایا۔ ایک گاڑی مکمل طور پر حملے کی زد میں آئی، جس میں سوار 5 اہلکار، ایس ایس جی کمانڈو بنیامین، نائیک فرزند علی، سپاہی بابر علی اور سپاہی ابو بکر موقع پر ہلاک جبکہ گاڑی مکمل ناکارہ ہو گئی۔ دیگر دو گاڑیاں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔
صبح 10 بجے کے قریب، نوشکی کی سمت سے آنے والے 20 سے زائد گاڑیوں کے ایک اور فوجی قافلے نے کردگاپ کراس پر سرمچاروں کا گھیرا توڑنے کی کوشش کی، جہاں شدید جھڑپ کا آغاز ہوا۔ سرمچاروں نے راکٹ لانچرز، گرنیڈ لانچرز اور خودکار ہتھیاروں سے دشمن کی تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کر دیں، جس میں متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔ جن میں سے ایک کی شناخت محمد مزمل کے نام سے ہوئی ہے۔ دشمن کا قافلہ خوف اور بوکھلاہٹ میں اپنے زخمیوں اور لاشوں کو جائے حملہ پر چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
اس دوران فضا میں ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور کواڈ کاپٹرز کی پروازیں جاری رہیں، لیکن سرمچاروں کی شدید مزاحمت کے باعث دشمن فوج پسپا ہو گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے فضا میں موجود دشمن کے تین کواڈ کاپٹرز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ سرمچاروں نے اپنی تزویراتی حکمت عملی کے تحت دوپہر کو شاہراہ سے ناکہ بندی ختم کر دی، تاہم دشمن کے انتظار میں شام تک شاہراہ کے اطراف میں مختلف مقامات پر پوزیشنز سنبھالے رکھیں۔
اس معرکے کے دوران بی ایل ایف کا ایک نڈر اور باصلاحیت سرمچار، اخلاق احمد مینگل عرف نذیر، سکنہ وڈھ، ضلع خضدار، دشمن سے دو بدو لڑائی میں بہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔ شہید اخلاق احمد نہ صرف ایک بہترین گوریلا کمانڈر تھے بلکہ ایک حساس دل انقلابی شاعر بھی تھے۔ انہوں نے وڈھ، بولان، مستونگ اور قلات کے کٹھن محاذوں پر تحریک کی آبیاری کی اور قلات کے علاقے مہلبی میں بطور کیمپ کمانڈر خدمات انجام دیں۔ شہادت کے وقت وہ کردگاپ و گرگینہ میں ایک گشتی دستے کی سربراہی کر رہے تھے۔ بی ایل ایف اس عظیم قومی فرزند کی قربانی کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔
ایف سی اہلکار محمد مزمل ولد محمد خان سکنہ مستونگ کردگاپ میں آج جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوا ہے۔
واضح رہے کہ حکام کے جانب صرف چار آرمی کے اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔
بریکنگ ابڈیٹ
مستونگ: کردگاپ میں بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان شدید نوعیت جھڑپوں میں پاکستانی فوج نے چار اہلکار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم ذرائع نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے۔
ہلاک اہلکاروں میں شامل ہیں:
نائیک فرزند علی (سابقہ 40 ایف ایف)،
سپاہی بابر علی (سابقہ 40 ایف ایف)،
سپاہی بنیامین (سابقہ 40 ایف ایف)،
اور سپاہی ابو بکر (سابقہ 40 ایف ایف)
خضدار: بی ایل ایف کے زیر حراست سندھ بھرام کے رہائشی ڈی ایس پی انور محمد حسنی بازیاب، وہ گزشتہ ماہ خضدار کے علاقے کرخ میں بی ایل ایف کی جانب سے حراست میں لے لیے گئے تھے۔
اہل خانہ نے تصدیق کی کہ ڈی ایس پی بیٹھے سمیت بازیاب ہوا ہے۔
https://x.com/subainbaluch/status/2041136005474857381?s=20
مستونگ اور کوئٹہ کے مختلف شائراوں پر آج صبح سے لیکر تاحال بلوچ سرمچاروں کا کنٹرول
دو تین مختلف جگہوں میں پیشقدمی کرنے والےفوجی قافلوں کو مسلح افراد نے بھاری ہتھیاروں سے حملوں کا نشانہ بنایا۔
بڑی تعداد میں فورسز کو جانی و مالی نقصانات پہنچنے کی اطلاعات ہیں
مستونگ: کردگاپ میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے، حکام کی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت
واضح رہے کہ آج بلوچ آزادی پسندوں نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی اور پیش قدمی کرنے والے فورسز کے اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین گاڑیاں شدید حملے کی زد میں آئی۔
جھڑپوں میں بڑی تعداد میں جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
https://x.com/subainbaluch/status/2041106832488591525?s=20
آزادی پسندوں نے پیسش قدمی کرنے والے پینتیس گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو مکمل طور پر پسپہ کردیا، جبکہ فورسز نے سرمچاروں پر ڈرون (کواڈ کاپٹر) سے حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن سرمچاروں کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں وہ پسپہ ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے ہیں اور سرکاری سطح پر اس حملے کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔
https://x.com/subainbaluch/status/2041070966965469449?s=20
اپڈیٹ
زرائع کے مطابق گردگاپ کے مقام پر پیش قدمی کرنے والے پینتیس گاڑیوں پرمشتمل قافلے پر آزادی پسندوں کا راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے شدید حملہ
https://x.com/subainbaluch/status/2041048471310872802?s=20
گزشتہ سات گھنٹوں سے بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے مستونگ اور کوئٹہ کی مختلف شاہراہوں پر ناکہ بندی جاری ہے،جبکہ جھڑپوں کا سلسلہ تاحال برقرار ہے۔
اپڈیٹ
آج صبح سے مستونگ و کوئِٹہ کے مختلف شائراؤں پر چار مختلف جگہوں پر آزادی پسندوں کا ناکہ بندی جاری
پنجپائی کے مقام پر پیشقدمی کرنے والے فوجی قافلہ پر سرمچاروں کا بھاری ہتھیاروں سے شدید حملہ
علاقائی زرائع کے مطابق فوج کی کُمک کے لیے کوئِٹہ سے ہیلی کاپٹریں بھی جاہ وقوع پر پہنچ گئی ہیں
لیکن تاحال سرمچار اپنے مضبوط پوزیشنوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
https://x.com/subainbaluch/status/2041032521723363357?s=20
نیوز اپڈیٹ
بلوچ آزادی پسندوں اور پاکستانی فورسز کے درمیان پنجپائی کے مقام پر شدید جھڑپ جاری
مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔
بریکنگ نیوز
مستونگ کے علاقے کردگاپ میں بلوچ آزادی پسندوں نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، بلوچ آزادی پسندوں کا کوئٹہ تفتان شاہراہ پر بھی متعدد جگہوں پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔
https://x.com/subainbaluch/status/2041012031805927608?s=20
Repost from N/a
دیوان ءِ خاران کے نئے فیس بُک پیج کو فالو کریں ۔
https://www.facebook.com/share/1EKPmLweWM/?mibextid=wwXIfr
Footage of multiple attacks targeting Pakistani forces and enemy collaborators in different parts of Balochistan
بلوچستان بھر میں مربوط حملے، 86 سے زائد قابض اہلکار ہلاک، درجنوں تنصیبات تباہ – بی ایل اے
مقبوضہ بلوچستان کے طول وعرض میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 29 مارچ کو مربوط حملوں کا آغاز کیا جو یکم اپریل تک جاری رہے۔ سرمچاروں نے پنجگور، شاپک، بسیمہ، سبی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، مستونگ، کوئٹہ، نوشکی، زامران، دشت، سوراب، جھل مگسی، دالبندین، خاران، واشک اور قلات میں 65 کارروائیاں کیں جن میں قابض فوج، ڈیتھ اسکواڈز اور خفیہ اداروں کے 86 سے زائد اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ان حملوں میں قابض فوج کے کیمپوں سمیت ایئربیس، ریڈار سسٹم، مواصلاتی ٹاور، ریلوے ٹریکس و پُلوں اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مرکزی شاہراہوں کو گھنٹوں تک کنٹرول میں لیا گیا۔
قابض فوج سے جھڑپوں کے دوران پنجگور میں ہمارے پانچ ساتھی سنگت زاہد، سنگت سعید اللہ، سنگت جہانزیب، سنگت عامر اور سنگت صدام جبکہ زامران میں سنگت عبدوست (عبد الرحمان) شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
تفصیلات:
29 مارچ: اتوار کی شب بارہ بجے پنجگور میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی تشکیل کردہ "ڈیتھ اسکواڈز" ٹھکانوں پر حملے کیئے جبکہ قابض فوج کے ساتھ پانچ مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ سرمچار گرمکان کے علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ کارندے شاہد کے ٹھکانے پر حملہ کرکے جھڑپوں کے بعد کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ حملے میں دو ڈیتھ اسکواڈ کارندے ہلاک ہوگئے جبکہ شاہد اپنے دیگر کارندوں کے ساتھ بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ سرمچاروں نے فوجی کارندے شاہد کی دو گاڑیوں کو نذرآتش کرنے سمیت ٹھکانے کو آئی ای ڈی نصب کرکے دھماکے میں تباہ کردیا۔
سرمچاروں کے ایک اور دستے نے گرمکان ہی کے علاقے میں "ڈیتھ اسکواڈ" سرغنہ کلیم اللہ کے ٹھکانے پر حملہ کیا۔ پندرہ منٹ کے دوران سرمچار کلیم اللہ کے ٹھکانے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں تاہم قابض فوج کا کارندہ اپنے دیگر ساتھیوں سمیت بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ سرمچاروں نے ٹھکانے میں موجود سرویلنس کیمروں سمیت تین گاڑیوں کو نذرآتش کردیا جبکہ ٹھکانے کو آئی ای ڈی نصب کرکے تباہ کردیا۔ گرمکان میں قابض فوج نے پیدل و گاڑیوں میں پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا اور جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ بی ایل اے کا ایک سرمچار سنگت زاہد عرف نواز شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
قابض فوج کے ساتھ ایک اور طویل جھڑپ گرمکان اور وشبود کے درمیان ہوئی جہاں قابض فوج نے علاقے کو محاصرے میں لینے کی غرض سے پیش قدمی کی۔ اس طویل جھڑپ میں قابض فوج کے کم از کم چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ بی ایل اے کے دو سرمچار سنگت سعید اللہ عرف معراج اور سنگت جہانزیب عرف قمبر جان شہید ہوگئے۔ خدابادان کے مقام پر سرمچاروں نے "ڈیتھ اسکواڈ" سرغنہ فرحان کے ٹھکانے پر حملہ کرکے کنٹرول حاصل کیا، حملے میں چار ڈیتھ اسکواڈ کارندے ہلاک ہوئے جبکہ ٹھکانے سے مختلف قسم کے آٹھ ہتھیار تحویل میں لیے گئے اور ٹھکانے کو آئی ای ڈی نصب کرکے دھماکے میں تباہ کردیا۔ اس جھڑپ میں سنگت عامر عرف خالد شہید ہوگئے۔ اسی مقام پر قابض فوج کے ساتھ طویل جھڑپیں ہوئیں جس میں دشمن کے چار اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ سنگت شاویز زخمی ہوگئے، انہیں زخمی حالت میں سرمچار منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاہم دوسرے روز سنگت صدام عرف شاویز شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
سرمچاروں نے فٹ بال چوک کے مقام پر کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ کا آغاز کیا۔ اس دوران "ڈیتھ اسکواڈ" کی ایک ویگو گاڑی حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں چار کارندے موقع پر ہلاک ہوگئے، بعدازاں قابض فوج نے مذکورہ مقام پر پیش قدمی کی کوشش کی جس کو تھرمل ودیگر جدید ہتھیاروں سے لیس سرمچاروں نے حملہ کرکے پسپا کردیا۔ حملے میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوگئے۔ ان کارروائیوں میں سرمچاروں نے قابض فوج کے چار کواڈ کاپٹر مار گرائے جبکہ دو عدد ایم فور، پانچ عدد کلاشنکوف، ایک عدد ایل ایم جی، ایک عدد آر پی جی اور ایک عدد تھرمل اسکوپ تحویل میں لیئے گئے۔
29 مارچ: کیچ کے علاقے شاپک میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے میں نشانہ بنایا، آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے اور دشمن کو مزید جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ واشک کے علاقے بسیمہ میں روتینکو کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا، پینتالیس منٹ سے زائد جاری اس حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے اور مزید جانی ومالی نقصانات اٹھانا پڑا۔
