fa
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

رفتن به کانال در Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

نمایش بیشتر
کشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
258
مشترکین
+224 ساعت
+87 روز
+2430 روز
آرشیو پست ها
خاران، واشک، آواران کیچ اور مستونک میں 10 مختلف کارروائیاں: 10 فوجی و 4 ریاستی آلہ کار ہلاک، متعدد زخمی, اسلحہ ضبط اور نگرانی کیمرہ تباہ: میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 مئی 2026 کو خاران شہر میں گزی روڈ پر قائم ایف سی چوکی کو راکٹ لانچر اور گرنیڈ لانچروں سے نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران داغے گئے گولے چوکی کے اندر گرے، جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حملے کے بعد حواس باختہ فورسز نے گردونواح میں عام آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کی اور کواڈ کاپٹروں کے ذریعے سرمچاروں کا پیچھا کرنے کی کوشش کی، تاہم شہری گوریلا حکمت عملی سے لیس سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ سرمچاروں نے 2 مئی 2026 کو واشک کے علاقے ناگ، گراڑی کے مقام پر ایک انٹیلیجنس بیسڈ کامیاب آپریشن کے دوران قابض ریاست کے آلہ کارمسلح جتھے (ڈیتھ اسکواڈ) کے دو کارندوں امان اللّہ ولد جمعہ سکنہ واشک، گریشہ، اور سجاد ولد غلام قادر سکنہ پتک، شیراز کو حملے میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا۔ تنظیم کے انٹیلیجنس ونگ کو مستند اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ قابض پاکستانی فوج کی سرپرستی میں سرگرمِ عمل مذکورہ کارندے شاہراہ پر عارضی ناکہ لگا کر گاڑیوں سے زبردستی بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ اس اطلاع پر سرمچاروں کا ایک خصوصی دستہ فوری حرکت میں آیا، اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر ان آلہ کاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کے دونوں کرایہ کے کارندے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ سرمچاروں نے مذکورہ ہلاک کارندوں کے قبضے سے 2 عدد کلاشنکوف اور ایک موٹر سائیکل برآمد کر کے اپنے قبضے میں لے کر ضبط کرلی۔ یاد رہے حالیہ دنوں میں ناگ، گراڑی کے مقام پر اس نوعیت کی یہ بی ایل ایف کی دوسری کارروائی ہے۔ اس سے قبل 17 مارچ 2026 کو بھی بی ایل ایف کے سرمچاروں نے انٹیلیجنس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے اسی مقام پر سردارزادہ علی حیدر محمد حسنی کی سرپرستی میں سرگرم سرور نامی کارندے کے گروہ کو اس وقت گھیرے میں لے کر نشانہ بنایا تھا جس وقت وہ شاہراہ پر بھتہ خوری میں مصروف تھے۔ مذکوہ کاروائی میں سرمچاروں نے کہور عرف منان سمیت تین کارندوں کو ہلاک کر دیا تھا، جبکہ ایک کارندہ چاکر ولد شیر محمد کو گرفتار کیا گیا تھا جو اب تک تنظیم کی تحویل میں ہے۔ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے ایک اور کاروائی میں 29 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے تیرتیج میں قائم پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر مربوط حملہ کیا۔ حملے کا آغاز اسنائپر رائفل سے کیا گیا، جس کی زد میں آ کر کیمپ کی حفاظت پر مامور ایک فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ اسنائیپر حملے کے فوراً بعد، سرمچاروں نے ایل ایم جی اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے کیمپ کو نشانہ بنایا۔ اس مربوط حملے کے نتیجے میں قابض فوج کو مزید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا اور کیمپ کے اندر موجود تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اسی تسلسل میں سرمچاروں نے تیرتیج کوٹوری کے مقام پر پاکستانی فوج کے ایک قافلے، اور سڑک کی تعمیر میں مصروف کمپنی کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ اس کاروائی میں بھی پہلے اسنائپر رائفل سے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، جس کے بعد وہاں موجود دیگر اہلکاروں پر ایل ایم جی اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے انھیں نشانہ بنایا۔ اس حملے میں مزید ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ سرمچاروں نے 28 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے کولواہ میں، گیشکور، زیک کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی کو حملے میں نشانہ بنایا۔ حملے کے آغاز میں سرمچاروں نے اسنائپر رائفل سے چوکی پر تعینات ایک اہلکار کو درست نشانہ بنا کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اسنائیپر حملے کے فوراً بعد، پہلے سے پوزیشنز سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض پاکستانی فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کا دفاعی مورچہ بری طرح متاثر ہوا۔ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 27 اپریل 2026 کو مستونگ کیڈٹ کالج چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوئے، جس کے بعد سرمچاروں نے شاہراہ پر تزویراتی ناکہ بندی کر کے دشمن کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر روک دیا۔ ایک اور کاروائی میں 27 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مکہ ہوٹل کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس دوران شاہراہ کی حفاظت پر مامور عزیز چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پوسٹ پر موجود چار فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد ہوئے۔

بارکھان: گذشتہ رات سے شدید نوعیت جھڑپیں تاحال جاری، جھڑپوں میں سرفراز بگٹی کا ایک انتہائی قریبی ساتھی ہلاک ڈیتھ اسکواڈ کا اپنے ہلاکتوں کی تصدیق

Repost from N/a
خاران شہر گزّی روڈ پر قائم فورسز کے چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ دیوان ءِ خاران نیوز اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ بجے کے قریب نامع
خاران شہر گزّی روڈ پر قائم فورسز کے چیک پوسٹ پر مسلح افراد کا حملہ دیوان ءِ خاران نیوز اطلاعات کے مطابق ڈیڑھ بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے خاران شہر میں گزّی روڈ پر قائم فورسز کے چیک پوسٹ کو نامعلوم افراد نے راکٹ لانچروں اور دوسرے خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ علاقائی زرائع کے مطابق یکے بعد دیگر 10 دھماکوں کی آواز سے پورا علاقہ گھونج اُٹھا جسکے بعد شدید فائرنگ کی آوازی بھی آتی رہی۔

بریکنگ نیوز خاران شہر میں یکے بعد دیگر کئی بم دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔

رکھنی میں بلوچ سرمچاروں اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے درمیان کل سے شدید جھڑپیں جاری ۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔۔

Repost from N/a
خاران: گواش سی پیک روڈ سے ایک لاش برآمد دیوان ءِ خاران نیوز اطلاعات کے مطابق خاران کے علاقے گواش سی پیک روڈ سے گولیوں سے چھلن
خاران: گواش سی پیک روڈ سے ایک لاش برآمد دیوان ءِ خاران نیوز اطلاعات کے مطابق خاران کے علاقے گواش سی پیک روڈ سے گولیوں سے چھلنی ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔ مزید تفصیلات کے مطابق لاش کی شناخت رحیم ولد عبدالواحد کے نام سے ہوئی ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق رحیم عبدالواحد کو چند روز قبل خاران گواش ایریا سے مسلح افراد نے گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کا تعلق ڈیتھ اسکواڈ سے بتایا جا رہا ہے۔

خاران گواش روڈ سی پیک کے مقام پر ایک لاش برآمد

+3
Martyr Shaibaz Showhaz alias Kiyya Baloch.jpg3.20 MB

+9
شہید_اِکرام_بلوچ_عرف_حمید_ولد_رحیم_بخش.jpg3.05 MB

‏بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اپنے مرکزی رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ (⁦ @RahimBalochh⁩) کا ایک تفصیلی انٹرویو جاری کیا ہے، جس میں ان کی فکری سمت، سیاسی بصیرت اور مسلح جدوجہد کے دوران پیش آنے والے تجربات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ انٹرویو خاص طور پر اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ اسے جنگی محاذ پر ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں سے تحریک کی عملی صورتِ حال کی ایک براہِ راست جھلک ملتی ہے۔ ‏اہم بات یہ ہے کہ اس سے قبل بی ایل ایف کی جانب سے کبھی باقاعدہ طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ رحیم بلوچ ایڈووکیٹ تنظیم کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ وہ اب تک ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد ان کی تنظیمی حیثیت ایک نئے زاویے سے سامنے آئی ہے، جو کئی حلقوں کے لیے حیرت کا باعث بن سکتی ہے۔ ‏مزید برآں، پہلی مرتبہ ایک ایسی تصویر بھی منظرِ عام پر آئی ہے جس میں بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ، رحیم بلوچ ایڈووکیٹ کے ہمراہ جنگی محاذ پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تصویر نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ تنظیم کے اندر قیادت کے ڈھانچے اور حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی نئی بحث کو جنم دیتی ہے۔ ‏یہ پیش رفت اس حقیقت کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ بلوچ مسلح تنظیموں میں متعدد ایسے رہنما موجود ہیں جو اب تک گمنامی میں کام کر رہے ہیں، اور جن کی شناخت یا کردار عوامی سطح پر واضح نہیں ہو سکا۔ اس تناظر میں یہ انٹرویو نہ صرف معلوماتی بلکہ تجزیاتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ‏تفصیلی انٹرویو: https://x.com/hammaljiand_/status/2050261197153268212?s=46

photo content
+2

Ispar May 2026.jpg5.88 MB

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا بیسواں شمارہ مئی 2026 شائع ہوچکا ہے-
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا بیسواں شمارہ مئی 2026 شائع ہوچکا ہے-

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا بیسواں شمارہ مئی 2026 شائع ہوچکا ہے-

Ispar Magazine May 2026.jpg4.34 MB

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا بیسواں شمارہ مئی 2026 کا اجرا کیا جا رہا
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلیکیشنز کی طرف سے ماہنامہ اسپر میگزین کا بیسواں شمارہ مئی 2026 کا اجرا کیا جا رہا ہے۔  حسبِ روایت میگزین کا آغاز اداریہ سے ہوتا ہے جسے بلوچستان میں سرمچاروں کی مرکزی شاہراہوں پر بڑھتی ہوئی ناکہ بندیوں کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اسپر میگزین کی جانب سے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما ایڈوکیٹ رحیم بلوچ کا طویل جمہوری و جنگی سفر اور ملکی و عالمی حالات کے متعلق تفصیلی انٹرویو بھی کیا گیا ہے جو اس شمارے کی زینت ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ، بلوچستان اور قومی جنگِ آزادی کے پس منظر میں لکھے گئے مختلف لکھاریوں کی تحریریں بلوچی، براہوئی اور اردو میں اس شمارے کا حصہ ہیں۔ ادارتی پالیسی کے تحت میگزین کے آخر میں بی ایل ایف کی ماہانہ کاروائیوں کی تفصیلی رپورٹ اور شہید ہونے والے سرمچاروں کی تصاویر شامل ہیں۔

Ashoob April 2026 Reports English.jpg6.15 MB

Ashoob April 2026 Reports Urdu.jpg5.54 MB

April Report 2026
April Report 2026