Sobain|سوبین بلوچ
رفتن به کانال در Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
نمایش بیشترکشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
254
مشترکین
+224 ساعت
+47 روز
+2630 روز
آرشیو پست ها
مستونگ، قلات، کوئٹہ اور گومازی میں قابض فوج پر حملوں میں 12 اہلکار ہلاک: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 15 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مدینہ ہوٹل کے قریب ناکہ بندی کی، ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے آمد و رفت کرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی اور اس دوران پاکستانی فوج کے ایک میجر کے ڈرائیور کو بلٹ پروف گاڑی سمیت گرفتار کر لیا، جو اس وقت تنظیم کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے 8 گڈز ٹرالرز کو روک کر تفتیش بھی کی، تاہم بعد میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں بحفاظت رہا کر دیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 14 جولائی 2026 کو قلات کے علاقے رودین جو کے ہسپتال پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر تعینات ایک فوجی اہلکار کو اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا، جو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
13 جولائی 2026 کو ہمارے سرمچاروں نے گومازی کے علاقے ماروار میں سویلین کپڑوں میں ملبوس، فوجی آپریشن کی غرض سے داخل ہونے والے قابض فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے انتہائی قریب سے مورچہ زن ہو کر قابض فوج پر جدید اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ قابض فوج کے دیگر اہلکار اپنے ہلاک اور زخمی ساتھیوں کو چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔
ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 13 جولائی 2026 کو جھاؤ کے علاقے زیلگ میں قابض پاکستانی فوج چوکی پر راکٹ لانچروں و ایل ایم جی و اسنائپر سے حملہ کیے ،جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایک اور کارروائی کے دوران، سرمچاروں نے 10 جولائی 2026 کو قلات کے علاقے توک میں گدان ہوٹل کے قریب قابض پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے قریبی فاصلے سے خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار قابض فوج کے پانچ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ان کی گاڑی ناکارہ ہو گئی۔
10 جولائی 2026 کو کوئٹہ کے علاقے دشت کمبیلہ میں سرمچار معمول کے گشت پر تھے کہ ان کا سامنا پاکستانی فوج کے 15 گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے سے ہوا، جس میں تین بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ فوج نے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی، تاہم مستعد سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں اور فوج پر حملہ آور ہو گئے۔ اس شدید جھڑپ کے دوران متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سرمچاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن سرمچاروں نے ایک کواڈ کاپٹر کو مار گرایا۔ جھڑپ کے دوران ایک فوجی افسر نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، مگر سرمچاروں کی بروقت جوابی کارروائی میں وہ افسر مزید دو اہلکاروں سمیت ہلاک ہو گیا، جس کے بعد قابض فوج پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔
ہمارے سرمچاروں نے 17 جون 2026 کو مستونگ کے علاقے دشت تیرامیل کے مقام پر ریل کی پٹری پر قابض فوج کی جانب سے جاسوسی کے لیے نصب کیا گیا کیمرہ فائرنگ کر کے ناکارہ کر دیا۔ اس سے قبل، 16 جون 2026 کو سرمچاروں نے مستونگ ہی کے علاقے اسپلنجی میں قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر اسنائپر سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ مستونگ، قلات، کوئٹہ اور گومازی میں قابض فوج پر ہونے والے ان تمام حملوں میں 12 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
17 جولائی 2026
Ref. No. BLF/July2026/00086
Name: Shah Nazar
Alias: Badil
Son of: Khuda Nazar
Resident of: Paroom, Panjgur
Joining and Urban Front: 2023
Front: Shorparod, Panjgur
Martyrdom: 13 July 2026, Chedagi, Panjgur
Martyr Shah Nazar, alias Badal, had been a member of the Baloch Liberation Army for the past three years. During the early days of his association with the organization, he served as an urban guerrilla and played an important role in providing the organization with access to valuable intelligence. In 2023, in accordance with the organization's directives, he moved to the mountain front, where he began fulfilling his national responsibilities on the Shorparod front. During his deployment there, he dealt devastating blows to the enemy on several important occasions and was known among his fellow Sarmachars for his perseverance and tireless dedication. He was counted among those hardworking Sarmachars who were unfamiliar with fatigue, physical weakness, or negligence. It was this resilience and unwavering resolve that distinguished him from others.
Alongside his hard work and enduring spirit, he was a highly active Sarmachar on the battlefront. During the historic Operation Dara-e-Bolan I, he took part in several important engagements against the enemy, while in Operation Herof I he also carried out his assigned responsibilities with distinction. Beyond these historic operations, he participated in numerous major and minor military operations, targeting the enemy and inflicting losses upon them. Following Shorparod, he took up his position on the Panjgur front, where he played a significant role in military operations in Panjgur city and its surrounding areas. Whatever responsibilities were entrusted to him by the organization, he was counted among those Sarmchars who possessed the ability to carry them out in the best possible manner. This revolutionary spirit remained a defining feature of his service and activities until the very end.
Martyr Shah Nazar struggled continuously for three years for the restoration of the national state, and ultimately, by shedding his blood, immortalized himself forever in Baloch national history. By sacrificing himself for the freedom of the homeland, he conveyed a message through his blood to hundreds of other young people that they should join this great struggle for national liberation and fulfill their national responsibilities. His sacrifices will remain an everlasting part of Baloch national history.
نام: شاہ نذر
عرف: بادل
ولد: خدا نذر
سکنہ: پروم، پنجگور
شمولیت و شہری گوریلا: 2023
محاذ: شور پارود، پنجگور
شہادت: 13 جولائی 2026، چیدگی، پنجگور
شہید شاہ نذر عرف بادل گزشتہ تین سالوں سے بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ تھے۔ انہوں نے ابتدائی دنوں میں بطور شہری گوریلا کام کیا اور تنظیم کو اہم معلومات تک رسائی دلانے میں اپنا کردار ادا کیا، جبکہ 2023 میں تنظیمی احکامات پر وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے اور شورپارود کے محاذ پر اپنی قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا آغاز کیا۔ شورپارود کے محاذ پر انہوں نے کئی اہم مواقع پر دشمن کو کاری ضربیں لگائیں اور ساتھیوں کے درمیان اپنی جفاکشی اور محنت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ وہ ان محنتی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جو تھکن، جسمانی کمزوری یا کوتاہی جیسے رویوں سے ناآشنا تھے۔ یہی مضبوط اعصاب کا رویہ انہیں منفرد بناتا تھا۔
اپنی محنت اور جفاکش طبیعت کے علاوہ وہ جنگی محاذ پر ایک متحرک سرمچار تھے۔ آپریشن درہ بولان اول کے تاریخی آپریشن میں انہوں نے دشمن کے خلاف اہم معرکوں میں حصہ لیا، جبکہ آپریشن ہیروف اول میں بھی انہوں نے اپنی انفرادی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ ان تاریخی آپریشنز کے علاوہ بھی انہوں نے کئی چھوٹی بڑی فوجی کارروائیوں میں دشمن کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔ شورپارود کے بعد انہوں نے پنجگور کے محاذ پر مورچہ سنبھالا اور پنجگور شہر و گرد و نواح میں فوجی کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تنظیم کی طرف سے جو بھی ذمہ داریاں انہیں سونپی جاتیں، وہ انہیں احسن طریقے سے نبھانے کی صلاحیت رکھنے والے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، اور ان کا یہ انقلابی رویہ آخر تک ان کی سرگرمیوں میں نمایاں رہا۔
شہید شاہ نذر نے قومی ریاست کی بحالی کے لیے گزشتہ تین سال تک مسلسل جدوجہد کی، اور بالآخر اپنا لہو بہا کر خود کو بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ انہوں نے سرزمین کی آزادی کے لیے خود کو قربان کر کے اپنے لہو سے دیگر سینکڑوں نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ قومی آزادی کی اس عظیم جدوجہد میں شامل ہو کر اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ان کی قربانیاں بلوچ قومی تاریخ کا ہمیشہ حصہ رہیں گی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق 15 جولائی 2026 کو صبح سات بجے مسلح افراد نے مستونگ کے علاقه کھڈ کوچه، مدینه ہوٹل کے قریب ناکہ بندی کی، ناکہ بندی کے دوران آمد و رفت کرنے والے گاڑیوں کی تلاشی لی، ناکہ بندی کے دوران پاکستانی فوجی میجر کی بُلیٹ پروف گاڑی کو ڈرائیور سمیت گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے-
اسی طرح 15 جولائی کو ایک بجے قریب مستونگ کھڈ کوچه الحسن ہوٹل کے مقام پر پاکستانی فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔علاقائی ذرائع اس حملے میں کئی پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔
سوراب کے علاقے دمب میں کل تین بجے کے قریب بلوچ سرمچاروں کا بڑی تعداد میں پاکستانی فورسز کے چوکی پر شدید حملہ۔
حملے میں فورسز کا ایک آفیسر سمیت چھ اہلکاروں کے ہلاکت کی اطلاع
BLF fighters seized the control of Chagai on 9 July, 2026. Police stations and other govt installment were set to fire in the operation.
Entire City Besieged, Police Stations and Government Buildings Seized, Police and Levies Stations Attacked, Weapons Confiscated in Operation Chagai- Major Gwahram Baloch
On 9 July 2026, sarmachars of the Balochistan Liberation Front carried out an organized, coordinated operation in which they placed the entire city of Chagai under siege.
Vanguard and security units of the sarmachars commenced the operation with great precision, by taking positions along all entry and exit routes into Chagai city, as well as the surrounding mountain ranges and key passes. Once full control of the city's internal and external routes had been secured, the units assigned to the blockade set up temporary checkpoints on Chagai's main roads and began searching all suspicious vehicles, in order to completely cut off any possible movement of state reinforcements, security forces, or informants.
Following the successful hold, separate guerrilla units of the sarmachars entered Chagai city and simultaneously struck the Police and Levies stations, a bank, and other government buildings. During the operation, all police personnel present were detained and briefly investigated. Following questioning, they were sternly warned to stop serving as instruments of the occupying army against the national movement and to distance themselves from anti-national activities. As none of the police personnel were found to be involved in anti-Baloch activity, all were released unharmed, in keeping with the principles and ethics of war and of humanity. During the operation, the sarmachars also seized and confiscated government weapons from the police station.
When personnel of the occupying Pakistani army attempted to advance during the operation, the positioned sarmachars responded immediately, launching repeated assaults on them with heavy and automatic weapons. As a result, the enemy forces were pushed back and forced to flee.
The operation's main objective was to bring a strategically vital city like Chagai under our control, thereby exposing to the world the occupying state's false claims of authority, and demonstrating that real control over Balochistan lies not with the occupying Pakistani state but with the sarmachars. Through this operation, we intend to send a clear message to state partners and multinational companies, they should refrain from investing their capital here on the false assurances of the occupying army.
BLF decisive attacks will continue with even greater intensity and persistence in the future until independence and the full withdrawal of occupying forces from Balochistan.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation Front
17 July 2026
Ref. No. BLF/July2026/00085
چاغی آپریشن میں پورے شہر کا محاصرہ، تھانوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ، پولیس و لیویز تھانوں پر حملہ، اسلحہ ضبط: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے مورخہ 9 جولائی 2026 کو ایک منظم و مربوط کارروائی کرتے ہوئے پورے چاغی شہر کو اپنے محاصرے میں لے لیا۔
سرمچاروں کے ہراول اور حفاظتی دستوں نے انتہائی مہارت کے ساتھ چاغی شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں سمیت اردگرد کے پہاڑی سلسلوں اور اہم گزرگاہوں پر پوزیشنیں سنبھالتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔ شہر کے اندرونی و بیرونی راستوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، ناکہ بندی پر مامور سرمچاروں کے دستوں نے چاغی کی اہم شاہراہوں پر عارضی چوکیاں قائم کر دیں اور سڑکوں پر ہر قسم کی مشکوک گاڑیوں کی تلاشی کا عمل شروع کیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ ریاستی کمک، فورسز یا مخبروں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر بلاک کیا جا سکے۔
محاصرے کی کامیابی کے بعد، سرمچاروں کے مخلتف گوریلا دستے چاغی شہر کے اندر داخل ہوئے اور انہوں نے وہاں قائم پولیس اور لیویز کے تھانوں، بینک اور دیگر سرکاری عمارتوں پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ کارروائی کے دوران وہاں موجود تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر تفتیش کے عمل سے گزارا گیا۔ تفتیش کے بعد تمام اہلکاروں کو قومی تحریکِ آزادی کے خلاف قابض فوج کا آلہ کار بننے سے باز رہنے اور قوم دشمن سرگرمیوں سے دور رہنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔ چونکہ پولیس اہلکاروں کو بلوچ دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہ پایا گیا اسلئے جنگی اصولوں و اخلاقیات، اور انسانیت کے تحت تمام اہلکاروں کو بحفاظت رہا کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس تھانے میں موجود سرکاری اسلحہ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔
اس آپریشن کے دوران جب قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تو وہاں پہلے سے مستعد سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے پے در پے حملے کیے۔ سرمچاروں کے حملے کے نتیجے میں دشمن فوج پسپا ہو کر وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئی۔
اس کارروائی کا اصل ہدف چاغی جیسے اہم ترین تزویراتی شہر کو اپنے کنٹرول میں لے کر دنیا کے سامنے قابض ریاست کی عمل داری کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنا، اور یہ دکھانا تھا کہ بلوچستان پر اصل عمل داری قابض پاکستانی ریاست کی نہیں بلکہ سرمچاروں کی ہے ۔ اس کارروائی کے ذریعے ہم ریاستی شراکت داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے سرمائے کو قابض فوج کے جھوٹے بھروسے پر یہاں جھونکنے سے گریز کریں۔
بلوچستان کی سرزمین سے قابض افواج کے مکمل خاتمے اور آزادیِ کے حصول تک سرمچاروں کے فیصلہ کن حملے مستقبل میں بھی مزید شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
17 جولائی 2026
Ref. No. BLF/July2026/00085
Martyr Sangat Mujahid Siyapad Alias Washeen Baloch —17 july 2025
Mujahid Baloch was martyred by state-sponsored death squad in Kharan city on July 17, 2025.
BLF pays tribute to Mujahid Baloch alias Washeen for his invaluable contributions to the national cause.Martyr Mujahid Baloch joined the Balochistan Liberation Front in 2018 as an urban guerrilla. He played a pivotal role in reorganizing the BLF in Kharan.
#1stMartyrdomAnniversary - #Mujahidjan
Repost from N/a
ایک خاموش انسان کی جدائی کی داستان
دیوان ءِ خاران
تحریر: ذیشان بلوچ
17جولائی ایک ایسی تاریخ ہے جو ہر سال آتے ہی دل کے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیتی ہے یہ صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک ایسا دردناک لمحہ ہے جس نے زندگی بھر کے لیے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ دیا 17 جولائی 2025 کی وہ شام آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بالکل اسی طرح موجود ہے جیسے یہ واقعہ ابھی ابھی پیش آیا ہو عصر کے قریب کا وقت تھا میں اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھا موبائل پر فیس بک دیکھ رہا تھا معمول کے مطابق مختلف خبریں سامنے آرہی تھی کہ اچانک رخشان نیوز کی ایک خبر پر نظر پڑی خبر میں لکھا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مجاہد سیاہ پاد شہید ہوگئے پہلے پہل دل نے اس خبر کو ماننے سے انکار کردیا میں نے سوچا شاید کسی اور مجاہد کی خبر ہوگی مگر جب تصویر کو غور سے دیکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے پوری دنیا ایک لمحے میں اندھیرے میں ڈوب گئی ہو میرے ہاتھ کانپنے لگے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور ایسا لگا جیسے میرے قدموں تلے زمین ہی نکل گئی ہو آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے اور زبان پر صرف یہی الفاظ تھے کہ یا اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے وہ شخص جو ہمیشہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک رہتا تھا جو ہر ایک سے محبت اور خلوص سے پیش آتا تھا جو خاموشی سے اپنی زندگی گزار رہا تھا آج وہ ہم سب کے درمیان نہیں رہا
دل کو تسلی نہ ہوئی تو میں نے فوراً پھلیں خاران نیوز کو دیکھا تو وہاں اس پر ایک بیان شیئر ہوا تھا جس میں واضع لکھا تھا کہ خاران کے ایک نوجوان مجاہد سیاہ پاد کو سرکاری حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ نے فائرنگ کرکے شہید کردیا ہے اس خبر نے دل کا سکون مکمل طور پر چھین لیا ایک ایسا انسان جس کی پہچان خاموش مزاجی اچھے اخلاق انسان دوستی اور ہمدردی تھی وہ آخر کس کا دشمن تھا اس نے کسی کا حق نہیں مارا کسی سے نفرت نہیں کی کسی کے لیے برے الفاظ استعمال نہیں کیے اس کی پوری زندگی محبت احترام اور خیر خواہی کا پیغام تھی اس کے جانے سے صرف ایک گھر کا چراغ نہیں بجھا بلکہ بے شمار دلوں کی امیدیں بھی ٹوٹ گئی اس کے والدین بھائی بہن رشتہ دار دوست اور چاہنے والے آج بھی اس درد کو اپنے سینوں میں لیے ہوئے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی یاد مزید گہری ہوتی جاتی ہے
وقت گزرتا رہتا ہے کیلنڈر کے اوراق بدلتے رہتے ہیں مگر کچھ تاریخیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں 17 جولائی بھی انہی تاریخوں میں سے ایک ہے جو ہر سال آکر دل کو پھر سے غمگین کر دیتی ہے شہید مجاہد سیاہ پاد عرف وشین بلوچ اب ہمارے درمیان موجود نہیں مگر اس کی سادگی اس کا اخلاق اس کی خاموش طبیعت اس کی محبت اور اس کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی ہر وہ شخص جس نے اسے قریب سے دیکھا وہ جانتا ہے کہ وہ نفرت نہیں بلکہ محبت بانٹنے والا انسان تھا ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی شہید مجاہد سیاہ پاد عرف وشین بلوچ کی کامل مغفرت فرمائے انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے
Repost from N/a
شہید کی مسکراہٹ، جو آج بھی یاد ہے
دیوان ءِ خاران
تحریر: نازش بلوچ
راجی مچی کی تیاریوں کے دن تھے ہماری تحریک سے وابستہ ساتھیوں نے ہمیں ایک اہم ذمہ داری سونپی کہ ہم اپنی سہیلیوں کے ہمراہ شاپنگ بازار جائیں، لوگوں میں پمفلٹ تقسیم کریں اور انہیں راجی مچی میں شرکت کی دعوت دیں یہ عظیم ذمہ داری ملنے پر ہمارے دل خوشی اور جذبے سے بھر گئے۔ ہم پورے عزم کے ساتھ بازار کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک ایک دکان پر گئے لوگوں کو پمفلٹ دیے اور انہیں شرکت کی دعوت دی کچھ دکانداروں نے خاموشی سے پمفلٹ قبول کر لیے جبکہ کچھ نے مایوسی یا بےاعتنائی کے باعث مختلف باتیں بھی کہیں مگر ہمارا حوصلہ کم نہ ہوا، کیونکہ ہمیں یقین تھا کہ ہر چھوٹی کوشش بھی ایک بڑے مقصد کی بنیاد بنتی ہے اسی دوران ہم ایک نوجوان مجاہد سیاپاد کی دکان پر پہنچے ہم نے انہیں بھی راجی مچی کے مقصد سے آگاہ کیا اور شرکت کی دعوت دی،،
ہماری بات سن کر وہ مسکرائے اور ایسی بات کہی جو آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے انہوں نے کہا بہن جی! میری جان آپ لوگوں پر قربان وقت دینا تو کوئی بڑی بات ہی نہیں ان کے یہ الفاظ سن کر میرے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی ایسا محسوس ہوا جیسے ہمارے درمیان کوئی ان دیکھا مگر مضبوط رشتہ قائم ہو گیا ہو ان کے لہجے میں خلوص تھا آنکھوں میں سچائی تھی اور دل میں اپنے لوگوں کے لیے بے لوث محبت تھی چند ماہ بعد جب یہ خبر ملی کہ اسی نوجوان کو ظالموں نے شہید کر دیا ہے تو بے اختیار ان کی وہی بات میرے ذہن میں گونجنے لگی تب احساس ہوا کہ وہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ اپنے وعدے پر قائم رہنے والے ایک سچے انسان کے دل کی آواز تھے،،
وہ واقعی وطن سے محبت کرنے والے انسان دوست اور اعلیٰ کردار کے مالک تھے کچھ عرصے بعد دوبارہ شاپنگ بازار جانا ہوا جب ہم ان کی دکان کے قریب پہنچے تو ایک خاتون نے پوچھا یہ دکان کیوں بند ہے؟ میں نے آہستہ سے جواب دیا اس جوان کو ظالموں نے شہید کر دیا ہے یہ سنتے ہی وہ خاتون اس طرح رو پڑیں جیسے انہوں نے اپنا ہی بیٹا کھو دیا ہو ان کے آنسوؤں نے مجھے یہ احساس دلایا کہ مجاہد سیاپاد صرف اپنے خاندان کے نہیں تھے بلکہ اپنے اخلاق، محبت عاجزی اور انسان دوستی کی وجہ سے ہر دل میں گھر کر چکے تھے وہ ایسا کردار تھے جو ہر ملنے والے کو اپنا بنا لیتے تھے، اور شاید اسی لیے ان کی جدائی کا دکھ صرف ان کے گھر والوں تک محدود نہ رہا بلکہ ہر اس شخص کے دل میں اتر گیا جو انہیں جانتا تھا آج بھی جب وہ لمحے یاد آتے ہیں تو ان کی مسکراہٹ ان کی باتیں اور ان کا خلوص دل میں تازہ ہو جاتا ہے کچھ لوگ اپنی زندگی کی مدت سے نہیں بلکہ اپنے کردار محبت اور قربانی سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں مجاہد سیاپاد بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے
مستونگ: کھڈکوچہ میں سکیورٹی فورسز کے کانوائے پر درجنوں مسلح افراد کا حملہ
چھٹی پر جانے والے اہلکاروں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا
حملہ آوروں اور قافلے کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپ جاری
کوئٹہ کراچی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند
