Sobain|سوبین بلوچ
رفتن به کانال در Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
نمایش بیشترکشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
258
مشترکین
+224 ساعت
+87 روز
+2430 روز
آرشیو پست ها
ہرنائی: مسلح افراد اور پاکستانی فوج کے درمیان جھڑپیں
پاکستانی فوج کے اہلکار عبدالحکیم ولد شفیع محمد کو مسلح افراد نے ایک شخص سمیت گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
اس واقعے کے بعد گوادر اور گرد و نواح میں سخت چیکنگ اور ناکہ بندی جاری ہے، جس میں پولیس اور آرمی کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
اسی دوران اطلاعات ہیں کہ گوادر سے کثیر تعداد میں نوجوانوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لیا ہے، جو تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
گوادر میں ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 30 سے زائد حملہ آور شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔
ممکنہ طور پر گوادر پورٹ، ڈی آئی جی آفس سمیت سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی این ایس اکرم بیس بھی حملوں کی زد میں آ سکتا ہے۔
یہ خبر ہمارے اندرونی ذرائع کی جانب سے دی گئی ہے۔
مستونگ: کردگاپ میں گزشتہ روز سے کرفیو نافذ ہے۔ ٹرانسپورٹ اور آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق فورسز کی جانب سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی فوج پر گزشتہ دنوں بی ایل ایف کے حملے اور ایس ایس جی کمانڈوز کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج کے جانب مسلسل ناکہ بندی، کرفیو اور فوجی جارحیت جاری ہے۔
گزشتہ روز پاکستانی فوج کے فائرنگ سے دو نوجوان زخمی بھی ہوئے تھے۔
on April 14, 2026, our fighters established an organized blockade on the Nourozabad Road in the Sarawan area of Kharan, effectively surrounding the area and paralyzing all enemy movement.
Several Personnel Killed and Injured in Attack on Military Camp in Jhao, Highway Blocked in Kharan: Major Gwahram Baloch
Fighters of the Balochistan Liberation Front carried out a coordinated and organized operation on April 12, 2026, targeting a central camp of the Pakistani military in the Kohadu area of Jhao.
The attack began with a sniper unit, which targeted and killed a soldier positioned to guard the enemy camp. Immediately after the sniper attack, other positioned units swiftly launched a multi-directional assault on the camp using rocket launchers, light machine guns (LMGs), and other heavy automatic weapons. As a result of the operation, the camp sustained severe damage, and several military personnel were killed or injured.
In another operation, on April 14, 2026, our fighters established an organized and successful blockade on the Nourozabad Road in the Sarawan area of Kharan. Sarmachars maintained full control of this key highway for several hours, effectively surrounding the area and paralyzing all enemy movement.
During the blockade, our fighters thoroughly searched all passing vehicles and maintained strict surveillance over movement. The purpose of such actions is to reject and undermine the so-called authority of the occupying state on the highways of Balochistan, disrupt its movement, and establish military dominance over our territory.
The Balochistan Liberation Front clearly warns the bus owners and transporters to completely refrain from any form of cooperation with the Pakistani military. We are categorically stating that anyone assisting the enemy in logistics or personnel movement will be directly targeted and will be responsible for any kind of consequences.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for the attack on the military camp in Jhao and the blockade in Kharan. It further declares that all highways and routes in Balochistan are under its influence, and any attempt by the enemy to move will come at a heavy cost. The BLF reiterates its commitment to continue armed operations against the enemy and its facilitators until the complete independence of Balochistan.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson: Balochistan Liberation Front
16 April 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00051
جھاؤ میں فوجی کیمپ پر حملے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی، خاران میں شاہراہ کی ناکہ بندی: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 12 اپریل 2026 کو ایک منظم اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے جھاؤ کے علاقے کوئڑو میں قائم قابض پاکستانی فوج کے ایک مرکزی کیمپ کو نشانہ بنایا۔
حملے کا آغاز اسنائپر دستے نے کیا، جس نے دشمن کے کیمپ کی نگرانی پر مامور ایک فوجی اہلکار کو ہدف بنا کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اسنائپر حملے کے فوراً بعد پوزیشن سنبھالے دستوں نے چابک دستی سے کیمپ پر مختلف اطراف سے راکٹ لانچرز، ایل ایم جی اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے کیمپ کو شدید نقصان پہنچا اور کیمپ کے اندر موجود متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 14 اپریل 2026 کو خاران کے علاقے سراوان میں نوروز آباد روڈ پر ایک منظم اور کامیاب ناکہ بندی کی۔ سرمچاروں کے دستوں نے کئی گھنٹوں تک اس اہم شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کیا اور علاقے کو اپنے حصار میں لے کر دشمن کی ہر قسم کی نقل و حرکت کو مفلوج کیے رکھا۔
ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کی سخت تلاشی لی اور آمد و رفت کی کڑی نگرانی جاری رکھی۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ بلوچستان کی شاہراہوں پر دشمن ریاست کے نام نہاد عمل داری کو پامال کرتے ہوئے مسترد کرنا، ان کی نقل و حرکت کو مسدود کرنا، اور بلوچ سرزمین پر اپنی عسکری قوت کی برتری قائم کرنا ہے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ بس مالکان اور ٹرانسپورٹرز کو دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کرتی ہے کہ وہ قابض پاکستانی فوج کے ساتھ کسی بھی قسم کی سہولت کاری سے مکمل گریز کریں۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو کوئی بھی دشمن کی لاجسٹک مدد یا اہلکاروں کی نقل و حرکت میں معاونت کرے گا، وہ براہِ راست نشانے پر ہوگا اور اپنے جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار خود ہوگا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملے اور خاران میں ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان کی تمام شاہراہیں اور راستے ہمارے زیرِ اثر ہیں اور دشمن کی نقل و حرکت کی ہر کوشش اس پر بھاری پڑ جائے گا۔ بی ایل ایف مقبوضہ بلوچستان کی مکمل آزادی تک دشمن اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
16 اپریل 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00051
علاقائی زرائع کے مطابق کردگاپ میں آج صبح سویرے پاکستانی فورسز کی بڑی تعداد داخل ہوئی، جس کے بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق فوج کی جانب سے بھاری ہتھیاروں، توپ اور ٹینکوں کے ذریعے شدید گولہ باری کی جا رہی ہے۔
#بلوچستان
https://x.com/suhbain_bluch/status/2044623246356615508?s=52
14 اپریل: خاران کے علاقے شیروزی میں سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا اسلحہ اور دیگر فوجی ساز و سامان ضبط کرلیا، جبکہ اہلکاروں کو تادیبی تنبیہ کے بعد رہا کردیا گیا۔
بلوچ لبریشن آرمی ان حالیہ کارروائیوں کے ذریعے یہ واضح کرتی ہے کہ ہماری مادرِ وطن کے دفاع کی جنگ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں دشمن کیلئے زمین کے ساتھ ساتھ شاہراہیں اور سمندر بھی مقتل ثابت ہورہے ہیں۔ ان جھڑپوں میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ہمارے سرمچاروں کی عظیم قربانی، ان کی غیر متزلزل استقامت اور وطن سے وفاداری کی وہ لازوال داستان ہے جو بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کا لہو اس تحریک کی وہ توانائی ہے جو آزادی کی منزل تک ہمارا راستہ روشن رکھے گی۔ ہم قابض پاکستانی فوج کے سپاہیوں کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیر فطری اور جبری قبضے کا ایندھن بننے سے باز رہیں اور بلوچ دشمنی پر مبنی اس استعماری جنگ کا حصہ بن کر اپنی جانیں ضائع نہ کریں۔ تم محض کرائے کے سپاہی کا کردار ادا کررہے ہو جسے ایک قبضہ گیر ریاست اپنے توسیع پسندانہ عزائم کیلئے استعمال کرکے لاوارث چھوڑدیتی ہے۔ تمہارے لیئے بہتری اسی میں ہے کہ جبر نافذ کرنے کی اس ناکام کوشش کو ترک کرکے واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ اور پنجاب میں جا کر عزت کی روزی روٹی کماؤ، تاکہ تم اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک پرسکون اور محفوظ زندگی بسر کر سکو، ورنہ بلوچستان کی یہ تپتی زمین تمہارے لیئے مزید تنگ کردی جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ صرف تابوتوں میں ملے گا۔
جیئند بلوچ
ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی
مورخہ: 15 اپریل 2026
چودہ حملوں میں قابض فوج کے 29 اہلکار ہلاک، چوکیوں اور شاہراہوں پر کنٹرول، اسلحہ ضبط – بی ایل اے
بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 3 اپریل سے 14 اپریل کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سوراب، خاران، واشک، مستونگ، اوتھل، جھل مگسی اور پنجگور میں چودہ مختلف کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کے 29 اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فورسز کی چوکیوں سمیت مختلف شاہراہوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے ناکہ بندیاں کی گئیں، جبکہ 13 لیویز و پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔ ان حملوں میں قابض فوج کی رسد کو بھی دو مقامات پر نشانہ بناکر تباہ کیا گیا۔ قابض فوج کے ساتھ ہونے والی ان شدید جھڑپوں میں بی ایل اے کے تین جری سرمچاروں سلیم عرف قاضی نوید، علی دوست عرف ذاکر اور سمیع اللہ عرف ہکل نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
3 اپریل: سوراب کے مقام انجیرہ کراس پر بی ایل اے کے سرمچاروں نے کراچی سے کوئٹہ منتقل کی جانے والی سرکاری ہیوی مشینری کو نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا، جس میں دو ایکسیویٹر اور ایک ٹرالر شامل تھے۔
6 اپریل: سوراب میں 'فارم' کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کو ایک شدید حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کے 7 اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس دوران ہونے والی شدید جھڑپ میں سنگت سلیم جتک عرف قاضی، سنگت علی دوست عرف مُلا ذاکر اور سنگت سمیع اللہ شاہوانی عرف ہکل مادرِ وطن کے دفاع میں شہید ہوگئے۔
8 اپریل: بی ایل اے کے سرمچاروں نے خاران-بسیمہ روڈ اور خاران-نوشکی روڈ پر بیک وقت ناکہ بندیاں کر کے تلاشی کا عمل (اسنیپ چیکنگ) شروع کیا۔ اس دوران نوروز قلات کے مقام پر پولیس کی ایک گاڑی نے ناکہ بندی توڑ کر بھاگنے کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے نشانہ بنایا، حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ دریں اثناء، ساروان کے مقام پر سرمچاروں نے ناکہ بندی کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔
واشک میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے چار گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنانے کے بعد دیگر گاڑیوں پر حملہ کیا۔ اس کارروائی میں قابض فوج کے 8 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
مستونگ کے علاقے دشت میں سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کار اور کٹھ پتلی وزیر عاصم کرد گیلو کے ٹھکانے پر حملہ کرکے وہاں موجود مورچوں اور مشینری کو تباہ کردیا۔
9 اپریل: مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR) نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔ اس جدید حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ دشمن کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔
10 اپریل: اوتھل شہر میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک مسلح کارروائی میں ملٹری انٹیلیجنس (MI) کے کارندے عدیل ارشد (سکنہ خانیوال، پنجاب) کو ہلاک کردیا۔
11 اپریل: خاران کے علاقے چنال میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے قابض فوج کے سات گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ دشمن کی 4 گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اسی دوران قابض فوج کی مزید 4 گاڑیوں نے المرک کی جانب سے پیش قدمی کی کوشش کی، جسے سرمچاروں کے دوسرے دستے نے روک کر شدید حملے کا نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 9 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
مستونگ میں دشت کے علاقے کمبیلا میں سرمچاروں کی ناکہ بندی کے دوران قابض فوج نے ایک سویلین گاڑی میں چھپ کر پیش قدمی کی کوشش کی، جسے بروقت کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، حملے میں دشمن کے 2 اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔
جھل مگسی کے علاقوں لانڈی اور سفراڑی میں سرمچاروں نے لیویز چوکیوں پر قبضہ کرکے تمام اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان کا اسلحہ ضبط کرلیا۔ تاہم بعد ازاں، مقامی عمائدین کی درخواست اور ضمانت پر اہلکاروں کو وارننگ دے کر رہا کردیا گیا۔
12 اپریل: خاران کے علاقے گرُک میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو ایندھن سپلائی کرنے والے ایک ٹرک کو رسد سمیت تحویل میں لیا۔ دورانِ تفتیش ڈرائیور نے اعتراف کیا کہ یہ ایندھن کراچی سے قابض فوج کے کیمپ منتقل کیا جارہا تھا۔
پنجگور کے علاقے پروم (کیلکور) میں سرمچاروں نے قابض فوج کی رسد لے جانے والی گاڑیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ فوجی قافلے کی حفاظت میں جارہی تھیں۔ سرمچاروں نے قافلے کے بیچ میں موجود ایک رسد گاڑی کو نذرِ آتش کردیا جبکہ دوسری گاڑی کو فائرنگ کرکے شدید نقصان پہنچایا اور بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
سوراب کے علاقے بینچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کو مرکزی شاہراہ پر اس وقت نشانہ بنایا جب وہ گاڑیوں کے ذریعے پیش قدمی کی کوشش کررہی تھی۔ اس حملے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
Repost from N/a
خاران: سراوان میں بلوچ آزادی پسندوں کی ناکہ بندی، سخت چیکنگ
دیوانِ خاران نیوز
ہمارے نمائندے کے مطابق گزشتہ روز خاران کے علاقے سراوان میں بلوچ آزادی پسندوں نے نوروز آباد روڈ پر کئی گھنٹوں تک ناکہ بندی کی۔
ذرائع کے مطابق اس دوران گاڑیوں کی سخت اسنیپ چیکنگ کی گئی جبکہ آمد و رفت کی کڑی نگرانی بھی جاری رہی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ آزادی پسندوں نے بس مالکان کو سخت تنبیہ کی کہ وہ پاکستانی فورسز کے ساتھ کسی بھی قسم کی سہولت کاری سے گریز کریں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق بعض بس مالکان پر فورسز کی سہولت کاری میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
