fa
Feedback

فریب کلاهبرداران را نخورید! تل‌متریو این کانال‌ها را شناسایی و برچسب‌گذاری می‌کند 👉 برای مشاهده برچسب، اشتراک تهیه کنید

بی ایل اے میڈیا آفیشل

بی ایل اے میڈیا آفیشل

رفتن به کانال در Telegram

🚩 Channel was restricted by Telegram

نمایش بیشتر
کشور مشخص نشده استدسته بندی مشخص نشده است
1 383
مشترکین
-1524 ساعت
-557 روز
-5530 روز
آرشیو پست ها
18 Personnel of Occupying Army Killed in 25 Attacks, Control Over Government Installations – Baloch Liberation Army Sarmachars (Freedom Fighters) of the Baloch Liberation Army killed 18 personnel of the occupying Pakistani army and injured several others during 25 successive operations in various areas. Sarmachars took complete control of various areas and police stations during three major operations in Mand and Khuzdar, while also targeting military installations associated with the occupying army. Ten Sarmachars of the BLA embraced martyrdom during intense clashes and battles with the enemy at various locations. On September 14, in the Gwargo area of Panjgur, Sarmachars targeted death squad operatives in an armed attack, inflicting losses. On September 15, between Gwargo and Fateh Ali in Panjgur, Sarmachars destroyed a communication tower installed for surveillance cameras with a blast. On September 16, in Badrang, Kulwah area of Kech, BLA Sarmachars ambushed a convoy of motorcycles and vehicles of the occupying Pakistani army while they were going to provide security to an exploitative company; as a result of this attack, 4 personnel of the occupying army were killed on the spot and 5 others were injured. Meanwhile, in Kalatuk, Turbat, an ambush was carried out on a convoy of the occupying Pakistani army, in which 2 enemy personnel were killed and at least 4 injured. Furthermore, in Dali, Kharan, occupying forces were ambushed, killing 1 enemy personnel and injuring at least 2 more. On the same day in Rodban, Tump, Sarmachars targeted a convoy of the occupying army, inflicting human and material losses. On September 17, in Sonarao, Khuzdar, Sarmachars targeted an occupying army vehicle with an IED blast, inflicting losses. In Kardgap, Mastung, Sarmachars blew up and destroyed the main bridge on the Quetta-Taftan trade route. On the same day in Kharan, Sarmachars detained Mehboob, son of Molla Bakhsh Mandai, resident of Barshunki, an agent of the occupying Pakistani army and death squad. During interrogation, Mehboob confessed that he had been working as an informer for the occupying army under the patronage of Sufi Mumtaz. The agent revealed that he had hidden a tracking chip near a hotel in Habar and two tracking chips in Lijay, following which the occupying army carried out drone strikes. The agent also revealed that he had been smuggling weapons and ammunition hidden in vehicles for the occupying army from the Kachki post in Noshki to Tafoi and from Kharan to Patkan post. Agent Mehboob stated that he was also involved in clearing routes for the occupying army in Kharan, Lijay, and surrounding areas. The agent stated that he was involved in various theft and robbery incidents under the patronage of Sufi Mumtaz, including the theft of solar inverters from Sarwar's orchards in Barshunki and the robbery of a truck full of grain from the main highway. Upon finding agent Mehboob guilty of severe crimes of Baloch national treason, the Baloch National Court sentenced him to death, which Sarmachars immediately executed, bringing him to his logical end. On the same day in the Gwargo area of Panjgur, Sarmachars targeted the occupying army in an attack, as a result of which an occupying army vehicle was disabled due to a direct hit, killing 4 personnel on board on the spot and injuring several. Sarmachars also shot down a quadcopter belonging to the occupying forces. Afterward, prolonged clashes continued between the occupying army and Sarmachars, during which 4 BLA Sarmachars Sangat Shafiq alias Zagrin, Sangat Sakim alias Miran, Sangat Habib alias Khalid, and Sangat Safiullah alias Amir embraced martyrdom. On the same day On September 18, Sarmachars took control of Balochabad and Blu areas of Mand. Sarmachars established blockades on all major entry routes and addressed public gatherings during this time. The cowardly occupying army targeted civilian populations using quadcopters, injuring 5 individuals, while Sarmachars shot down one of the enemy's quadcopters.

مزید برآں، بسیمہ کے علاقے پتک میں معدنیات لے جانے والی ایک استحصالی گاڑی کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا گیا، جبکہ نوشکی کے علاقے بٹو میں جاسوسی کیمروں کے لیے نصب ایک ٹاور کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ 19 ستمبر کو مستونگ کے علاقے شیرناپ میں ناگمان کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا جہاں قابض فوج اور سرمچاروں کے مابین طویل جھڑپیں جاری رہیں؛ ان جھڑپوں میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے، جبکہ بعد ازاں قابض فوج نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرمچاروں کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مزید چار سرمچار امیر عباس کرد عرف ساجد، عبدالحلیم محمد شہی عرف دانش، حکمے اللہ لہڑی عرف فہد اور محمد نسیم لہڑی عرف گروک شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ 20 ستمبر کو نوشکی شہر میں شہید بالاچ خان اسٹیڈیم کے قریب بائی پاس روڈ پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ ناکہ بندی کی آڑ میں عوام کو ہراساں کررہے تھے، اس حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم چار زخمی ہوگئے۔ اسی روز سرمچاروں نے بلیدہ کے علاقے کوشک میں قابض فوج کی ایک پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا۔ 21 ستمبر کو سرمچاروں نے مند کے علاقے ردیگ کا کنٹرول حاصل کرلیا، اہم مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کیں اور اس دوران قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کرکے نقصانات سے دوچار کیا، جبکہ سرمچاروں کے ایک دوسرے دستے نے کسٹم پوسٹ کا کنٹرول حاصل کرکے اسے نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔ اسی روز واشک میں زیارت کراس کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے لیئے راشن لے جانے والی گاڑی کو سامان سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ 22 ستمبر کو کوئٹہ سے متصل دشت کے علاقے تیرہ میل میں سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید ایک زخمی ہو گیا۔ اسی روز خضدار کے علاقے باغبانہ میں سرمچاروں نے پولیس تھانے کا مکمل کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود تمام اسلحہ اور جنگی سازوسامان اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس دوران پولیس (اے ٹی ایف) اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں کے ایک دستے نے گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد کارندے ہلاک ہوگئے جبکہ ایس ایچ او منیر عالم جتک سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ 23 ستمبر کو کیچ کے علاقے ہیرونک میں سرمچاروں نے قابض فوج کی نقل و حرکت کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بناکر نقصانات سے دوچار کیا۔ اس کے علاوہ، چھ ستمبر کو مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو سرمچار عرفان مینگل عرف خلیل اور رفیع اللہ گرگناڑی عرف تنویر شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے تھے۔ بلوچ لبریشن آرمی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قومی وسائل کی لوٹ مار، ڈیتھ اسکواڈز کی سرپرستی اور قابض ریاست کے استحصالی ہتھکنڈوں کے خلاف ہماری عسکری کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ تنظیم ان تمام دس عظیم شہدا سنگت شفیق عرف زگرین، سنگت ساکم عرف میران، سنگت حبیب عرف خالد، سنگت صفی اللہ عرف امیر، سنگت امیر عباس کرد عرف ساجد، سنگت عبدالحلیم محمد شہی عرف دانش، حکمت اللہ لہڑی عرف فہد، محمد نسیم لہڑی عرف گروک، عرفان مینگل عرف خلیل اور رفیع اللہ گرگناڑی عرف تنویر کے کردار اور ان کی قربانیوں کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ہمارے سرمچاروں کی یہ قربانیاں اور معاشی ناکہ بندی کی حکمت عملی قابض فوج کو اس کے ہر محاذ پر شکست سے دوچار کررہی ہے۔ جب تک آخری غدار کا صفایا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کا قیام عمل میں نہیں آتا، بی ایل اے کی یہ عسکری جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتی جائے گی۔ جیئند بلوچ ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی بتاریخ: 23 ستمبر 2026

25 حملوں میں قابض فوج کے 18 اہلکار ہلاک، سرکاری تنصیبات پر کنٹرول – بلوچ لبریشن آرمی بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مختلف علاقوں میں پے در پے پچیس کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کے اٹھارہ اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔ سرمچاروں نے مند اور خضدار میں تین اہم کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں اور تھانوں کا مکمل کنٹرول اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ قابض فوج سے منسلک عسکری تنصیبات کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ دشمن کے ساتھ مختلف مقامات پر ہونے والی شدید جھڑپوں اور معرکوں میں بی ایل اے کے دس جانثار سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔ 14 ستمبر کو پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔ 15 ستمبر کو پنجگور میں گوارگو اور فتح علی کے درمیان سرمچاروں نے جاسوسی کیمروں کے لیئے نصب ایک مواصلاتی ٹاور کو دھماکے سے تباہ کردیا۔ 16 ستمبر کو کیچ کے علاقے کولواہ کے بدرنگ میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا جب وہ کسی استحصالی کمپنی کو سیکیورٹی فراہم کرنے جا رہے تھے، اس حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے چار اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور مزید پانچ زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء، تربت کے علاقے کلاتک میں مینو کراس کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں دو دشمن اہلکار ہلاک اور کم از کم چار زخمی ہوگئے۔ مزید برآں، خاران میں دالی کے مقام پر قابض فوج کو گھات کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایک دشمن اہلکار ہلاک اور کم از کم مزید دو زخمی ہوگئے۔ اسی روز تمپ کے علاقے رودبن میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے کا نشانہ بناکر جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ 17 ستمبر کو خضدار کے علاقے سونارو میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے کوئٹہ تا تفتان تجارتی روٹ پر مرکزی پل کو دھماکے سے اڑا کر تباہ کر دیا۔ اسی روز خاران سے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے آلہ کار محبوب ولد مولا بخش ماندائی سکنہ برشونکی کو حراست میں لے لیا۔ محبوب نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ صوفی ممتاز کی سرپرستی میں قابض فوج کے لیئے بطور مخبر کام کرتا رہا ہے۔ آلہ کار نے انکشاف کیا کہ اس نے ہبڑ میں ہوٹل کے قریب ایک ٹریکنگ چپ چھپایا جبکہ لجے میں دو مقامات پر ٹریکنگ چپ چھپائے، جن کی نشاندہی پر قابض فوج نے ڈرون حملے کیئے۔ آلہ کار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ نوشکی کی کچکی پوسٹ سے تافوئی اور خاران سے پتکن پوسٹ تک قابض فوج کے لیئے اسلحہ و گولہ بارود گاڑی میں چھپا کر منتقل کرتا رہا ہے۔ آلہ کار محبوب نے بتایا کہ وہ قابض فوج کے لیئے خاران، لجے اور گردو نواح میں راستوں کی کلئرینس میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ آلہ کار نے یہ بھی بتایا کہ وہ صوفی ممتاز کی سرپرستی میں چوری اور ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں ملوث رہا ہے، جن میں برشونکی میں سرور کے باغات سے سولر انورٹرز کی چوری اور مرکزی شاہراہ سے اناج سے بھرے ٹرک کی ڈکیتی شامل ہیں۔ آلہ کار محبوب کے خلاف بلوچ قومی غداری کے سنگین جرائم پائے جانے پر اسے بلوچ قومی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی، جس پر سرمچاروں نے فوری عمل درآمد کرتے ہوئے اسے کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔ اسی روز پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے قابض فوج کو ایک حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کی ایک گاڑی براہِ راست حملے کی زد میں آنے سے ناکارہ ہو گئی اور اس میں سوار چار اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک کواڈ کاپٹر کو بھی مار گرایا۔ اس کے بعد قابض فوج اور سرمچاروں کے مابین طویل جھڑپیں جاری رہیں، اور ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے چار سرمچار شفیق عرف زگرین، ساکم عرف میران، حبیب عرف خالد اور صفی اللہ عرف امیر جامِ شہادت نوش کرگئے۔ 18 ستمبر کو سرمچاروں نے مند کے علاقے بلوچ آباد اور بلو کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں نے تمام اہم داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کیں اور اس دوران عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ بزدل قابض فوج نے کواڈ کاپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے عام آبادیوں کو نشانہ بنایا جن میں پانچ افراد زخمی ہوگئے، جبکہ سرمچاروں نے دشمن کے ایک کواڈ کاپٹر کو فائرنگ کرکے مار گرایا۔ اسی روز ماشکیل کے علاقے گلوگہ میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی دو گاڑیوں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا جن میں سے ایک مکمل تباہ ہوگئی، اور اس حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ سے زائد زخمی ہوگئے۔

Name: Imran Sarparah Alias: Asim Father’s Name: Muhammad Hussain Sarparah Residence: Sariab, Quetta Joined as an Urban Guerrilla: December 2024 Mountain Front: January 2026 Fronts: Quetta, Nagaho, Noshki Martyrdom: September 13, 2026, Sultan Shar, Qila Abdullah Imran Sarparah, known as Asim, belonged to Sariab, the heart of Shal. In December 2024, he joined the Baloch Liberation Army as an urban guerrilla. With this decision at a young age, that period of his personal life was left behind in which a young person builds a separate path for his home, his personal desires, and his future. Imran decided to connect his personal life with the concept of a national responsibility. This choice was not merely an ordinary change, but along with it, he also had to give up many of his personal comforts, relationships, and possibilities for the future. In January 2026, he became associated with the mountain front and later remained in the areas of Quetta, Nagaho, and Nushki. By this stage, his life had moved quite far from its previous direction. The city life in which personal priorities and everyday routines had their own place had now become a memory left behind for him. He devoted a major part of his life to a collective purpose and considered the difficulties and hardships that came along this path to be part of his responsibility. On September 13, 2026, during a clash in Sultan Shar, Qila Abdullah, Imran Sarparah, known as Asim, attained martyrdom. The final period of his life was a great fulfillment of the decision he had made nearly two years earlier. His journey, which had begun in Sariab, physically came to a stop in Sultan Shar, but the most prominent aspect of his personality remained that, at a young age, he made a collective responsibility his priority instead of his personal life.

نام: عمران سرپرہ عرف: عاصم ولد: محمد حسین سرپرہ سکنہ: سریاب، شال شمولیت (شہری گوریلا): دسمبر 2024 پہاڑی محاذ: جنوری 2026 محاذ: کوئٹہ، ناگاہو، نوشکی شہادت: 13 ستمبر 2026، سلطان شار، قلعہ عبداللہ عمران سرپرہ عرف عاصم شال کے دل سریاب سے تعلق رکھتے تھے۔ دسمبر 2024 میں انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی میں شہری گوریلا کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ کم عمری میں اس فیصلے کے ساتھ ان کی ذاتی زندگی کا وہ دور پیچھے رہ گیا جس میں ایک نوجوان اپنے گھر، اپنی ذاتی خواہشات اور اپنے مستقبل کے لیے ایک الگ راستہ بناتا ہے۔ عمران نے اپنی ذاتی زندگی کو ایک قومی ذمہ داری کے تصور سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ انتخاب محض ایک معمول کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ انہیں اپنی بہت سی ذاتی آسائشوں، تعلقات اور مستقبل کے امکانات سے بھی دستبردار ہونا پڑا۔ جنوری 2026 میں وہ پہاڑی محاذ سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں کوئٹہ، ناگاہو اور نوشکی کے علاقوں میں رہے۔ اس مرحلے تک ان کی زندگی اپنی پرانی سمت سے کافی دور نکل چکی تھی۔ شہر کی وہ زندگی جس میں ذاتی ترجیحات اور روزمرہ کے معمولات کی اپنی جگہ تھی، اب ان کے لیے ایک پیچھے رہ جانے والی یاد بن چکی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ایک بڑے حصے کو ایک اجتماعی مقصد کے لیے وقف کر دیا اور اس راستے میں آنے والی دشواریوں اور محرومیوں کو اپنی ذمہ داری کا حصہ سمجھا۔ 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں ہونے والی جھڑپ کے دوران عمران سرپرہ عرف عاصم نے جام ء شہادت نوش کیا۔ ان کی زندگی کا آخری دور اس فیصلے کی ایک عظیم تکمیل تھی جو انہوں نے تقریباً دو برس پہلے کیا تھا۔ سریاب سے شروع ہونے والا ان کا سفر سلطان شار میں جسمانی طور پر رک گیا، مگر ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں بات یہی رہی کہ انہوں نے کم عمری میں اپنی ذاتی زندگی کے بجائے ایک اجتماعی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بنایا۔

IMG_0181.JPG1.40 MB

نام: یاسر مینگل عرف: شاہ یار ولد: نور محمد مینگل سکنہ: احمد وال، نوشکی شمولیت: 2026 محاذ: نوشکی شہادت: 13 ستمبر 2026، سلطان شار، قلعہ عبداللہ یاسر مینگل عرف شاہ یار، احمد وال، نوشکی سے تعلق رکھتے تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ڈرائیور تھے اور روزمرہ زندگی میں سفر اور سڑکوں سے وابستہ رہے۔ 2026 میں انہوں نے مسلح تحریک میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں نوشکی کے محاذ سے وابستہ ہوگئے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ سادہ مزاج اور ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ڈرائیونگ کے پیشے نے انہیں مختلف علاقوں اور لوگوں سے واسطہ رکھنے کا موقع دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سفر اور راستوں کے معاملات سے بخوبی واقف تھے۔ محاذ پر آنے کے بعد بھی ان کی شخصیت میں یہی سادگی اور عملی مزاج نمایاں رہا۔ نوشکی کے محاذ سے وابستگی ان کی زندگی کا اہم مرحلہ ثابت ہوئی۔ ساتھیوں کے ساتھ گزرا ہوا یہ مختصر عرصہ ان کی معمول کی زندگی سے بالکل مختلف تھا۔ 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپ میں یاسر مینگل عرف شاہ یار شہید ہوگئے۔ Name: Yasir Mengal Alias: Shayar Son of: Noor Muhammad Mengal Resident of: Ahemdwal, Noshki Joined : 2026 Front: Noshki Martyrdom: 13 Sept 2026, Sultan Shar, Killah Abdullah Yasir Mengal, known as Shah Yar, belonged to Ahmad Wal, Noshki. Professionally, he was a driver and remained connected with travel and roads in his everyday life. In 2026, he joined the armed movement and later became associated with the Noshki front. According to his close comrades, he was simple in nature and had a sociable personality. His profession as a driver gave him the opportunity to interact with different people and travel through different areas, due to which he was well acquainted with journeys and routes. Even after joining the front, the same simplicity and practical nature remained evident in his personality. His association with the Noshki front proved to be the important stage of his life. The brief period he spent with his comrades was completely different from his ordinary life. On September 13, 2026, Yasir Mengal, known as Shah Yar, was martyred in a clash in the Sultan Shar area of Qila Abdullah.

Martyr Yasir Mengal alias Shayar

نام: عصمت اللہ محمد حسنی عرف: ملا چاکر ولد: نعمت اللہ محمد حسنی سکنہ: زور آباد، نوشکی تعلیم: حافظ قرآن مسلح تحریک شمولیت: جون 2025 بی ایل اے شمولیت: اپریل 2026 محاذ: نوشکی شہادت: 13 ستمبر 2026، سلطان شار، قلعہ عبداللہ عصمت اللہ محمد حسنی عرف ملا چاکر، زور آباد، نوشکی سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ حافظ قرآن تھے اور مذہبی تعلیم ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تھی۔ جون 2025 میں انہوں نے مسلح تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ اپریل 2026 میں وہ بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بنے اور بعد ازاں نوشکی کے محاذ سے وابستہ رہے۔ ساتھیوں کے مطابق وہ سنجیدہ، کم گو اور اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دینے والے نوجوان تھے۔ نوشکی کے محاذ سے وابستگی نے ان کی زندگی کے آخری مہینوں کو ایک ایسے ماحول سے جوڑ دیا جہاں روزمرہ زندگی آسان نہیں تھی۔ اس مختصر عرصے میں وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان رہے، ان کے ساتھ مختلف حالات دیکھے اور اسی ماحول میں ان کی اپنی شناخت بھی مضبوط ہوتی گئی۔ حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے ان کا مذہبی پس منظر ساتھیوں کے لیے ان کی شخصیت کا ایک الگ حوالہ تھا، جبکہ ملا چاکر کے نام سے وہ اپنے حلقے میں پہچانے جاتے تھے۔ 13 ستمبر 2026 کا دن ان کی جسمانی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں ہونے والی جھڑپ کے دوران عصمت اللہ محمد حسنی عرف ملا چاکر شہید ہوگئے۔ Asmatullah Muhammad Hassani, known as Mulla Chakar, belonged to Zorabad, Noshki. He was a Hafiz of the Quran, and his religious education was a prominent aspect of his personality. In June 2025, he joined the armed movement. In April 2026, he became part of the Baloch Liberation Army and was later associated with the Noshki front. According to his comrades, he was a serious and quiet young man who gave importance to his responsibilities. His association with the Noshki front connected the final months of his life with an environment where everyday life was not easy. During this brief period, he lived among his comrades, experienced different circumstances alongside them, and gradually developed his own identity within that environment. His religious background as a Hafiz of the Quran was a distinct aspect of his personality in the eyes of his comrades, while he was known among his circle by the name Mulla Chakar. September 13, 2026, proved to be the final day of his physical life. Asmatullah Muhammad Hassani, known as Mulla Chakar, was martyred during a clash in Sultan Shar, Qila Abdullah.

Martyr Asmal Ullah alias Mullah Chakar

Name: Farooq Pirkani Alias: Asif Son of: Haji Muhammad Murad Pirkani Resident of: Gowar Abad, Quetta Joined : 2026 Front: Nushki Martyrdom: 13 Sept 2026, Sultan Shar, Killah Abdullah Farooq Pirkani, son of Haji Muhammad Murad Pirkani, became part of the Baloch Liberation Army’s resistance in 2026 for the freedom of his homeland. Choosing this path at a young age marked the beginning of a major change in his life. He was a quiet, serious young man who placed great importance on his responsibilities. He was later deployed to the Noshki area, where harsh weather conditions, long journeys, and continuous physical exertion tested his endurance. During this short period, while living alongside his comrades, he made discipline and mutual trust a part of his character. On September 13, 2026, Farooq Pirkani attained martyrdom during an armed clash in the Sultan Shar area of Qila Abdullah. Despite his age, limited experience, and the short period of his life spent on this path, his comrades continued to remember him as a young man who was serious about the path he had chosen and who did not step back in difficult times. His martyrdom left a void for those close to him, while the memories associated with him remained among the people who had shared this journey with him.

نام: فاروق پرکانی عرف: آصف ولد: حاجی محمد مراد پرکانی سکنہ: گوہر آباد، کوئٹہ شمولیت: 2026 محاذ: نوشکی شہادت: 13 ستمبر 2026، سلطان شار، قلعہ عبداللہ فاروق پرکانی، ولد حاجی محمد مراد پرکانی، 2026 میں اپنے وطن کی آزادی کیلیے بلوچ لبریشن آرمی کے مزاحمت کا حصہ بنے۔ کم عمری میں اس راستے کا انتخاب ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز تھا۔ وہ کم گو، سنجیدہ اور اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دینے والے نوجوان تھے۔ انہیں نوشکی کے علاقے میں تعینات کیا گیا، جہاں سخت موسمی حالات، طویل سفر اور مسلسل جسمانی مشقت نے ان کی برداشت کا امتحان لیا۔ اس مختصر عرصے میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہتے ہوئے نظم و ضبط اور باہمی اعتماد کو اپنی شخصیت کا حصہ بنایا۔ 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ کے علاقے میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران فاروق پرکانی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ ان کی عمر، تجربے اور اس مختصر عرصۂ زندگی کے باوجود ان کے ساتھی انہیں ایک ایسے نوجوان کے طور پر یاد کرتے رہے جو اپنے اختیار کردہ راستے کے بارے میں سنجیدہ تھا اور مشکل وقت میں اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاتا تھا۔ ان کی شہادت نے ان کے قریبی ساتھیوں کے لیے ایک خلا چھوڑا، جبکہ ان سے وابستہ یادیں ان لوگوں کے درمیان باقی رہیں جو ان کے ساتھ اس سفر میں شریک رہے تھے۔

Martyr Farooq Pirkani alias Asif

Name: Waqar Ahmed Lehri Alias: Chakar Joshk Son of: Sanaullah Lehri Resident of: Balochi Street, Quetta Joined (Urban Guerrilla) : 2022 Mountain Front: August 2025 Front: Quetta, Nushki Martyrdom: 13 Sept 2026, Sultan Shar, Killah Abdullah Martyr Waqar Ahmed Lehri, known by the alias Chakar Josh, joined the Baloch Liberation Army in 2022. During the initial period, he carried out responsibilities on the urban front and, due to his discipline, secrecy, consistency, and ability to understand circumstances, established himself as a reliable urban guerrilla. Rather than making emotional decisions, he was accustomed to acting with patience and caution, and he was known for not stepping back from his responsibilities even in difficult circumstances. His transition from civilian life to an armed resistance role was not merely a physical transformation, but also reflected a form of mental training in which discipline, patience, and commitment to his cause were given fundamental importance. On August 1, 2025, Waqar Ahmed Lehri moved from the urban front to the mountain front. The harsh conditions of mountain life, long distances, difficult terrain, and continuous physical exertion tested his abilities at a new level, but due to his strong physical endurance and exceptional perseverance, he gradually adapted to this environment. According to his comrades, he stood out in physical contests and rigorous training and maintained his morale even in difficult circumstances. After remaining associated with the fronts in Quetta and Noshki, his physical life came to an end on September 13, 2026, in Sultan Shar, Qila Abdullah. His story presents the figure of a young man who faced changing fronts at different stages of his life and remained committed to the path he had chosen until the end. The sacrifices of Martyr Waqar Ahmed Lehri for his homeland will never go in vain, and their purpose and impact will continue to be passed on to future generations.

نام: وقار احمد لہڑی عرف: چاکر جوش ولد: ثناء اللہ لہڑی سکنہ: بلوچی اسٹریٹ، کوئٹہ شمولیت (شہری گوریلا): 2022 پہاڑی محاذ: یکم اگست 2025 محاذ: کوئٹہ، نوشکی شہادت: 13 ستمبر 2026، سلطان شار، قلعہ عبداللہ شہید وقار احمد لہڑی عرف چاکر جوش، 2022 میں بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ ہوئے۔ ابتدائی عرصے میں انہوں نے شہری محاذ پر ذمہ داریاں انجام دیں اور اپنے ضبط، رازداری، مستقل مزاجی اور حالات کو سمجھنے کی صلاحیت کے باعث ایک قابل اعتماد شہری گوریلا کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے تحمل اور احتیاط سے کام لینے کے عادی تھے اور مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہ ہٹنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ شہری زندگی سے ایک مسلح مزاحمتی کردار تک ان کا سفر محض جسمانی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنی تربیت کا بھی عکاس تھا جس میں نظم، صبر اور اپنے مقصد سے وابستگی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یکم اگست 2025 کو وقار احمد لہڑی نے شہری محاذ سے پہاڑی محاذ کا رخ کیا۔ پہاڑی زندگی کے سخت حالات، طویل مسافت، دشوار گزار راستوں اور مسلسل جسمانی مشقت نے ان کی صلاحیتوں کو ایک نئے مرحلے میں آزمایا، مگر وہ مضبوط جسمانی برداشت اور غیر معمولی استقامت کے باعث اس ماحول سے ہم آہنگ ہوتے گئے۔ ساتھیوں کے مطابق وہ جسمانی مقابلے اور سخت تربیت میں نمایاں تھے اور مشکل حالات میں بھی اپنے حوصلے کو برقرار رکھتے تھے۔ کوئٹہ اور نوشکی کے محاذوں سے وابستہ رہنے کے بعد 13 ستمبر 2026 کو سلطان شار، قلعہ عبداللہ میں ان کی جسمانی زندگی کا اختتام ہوا۔ ان کی داستان میں ایک ایسے نوجوان کا کردار سامنے آتا ہے جس نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں بدلتے ہوئے محاذوں کا سامنا کیا اور آخر تک اپنے اختیار کردہ راستے پر قائم رہا۔ شہید وقار احمد لہڑی کی وطن کے لیے دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،اور ان کا مقصد اور اثر آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا۔

Martyr Waqar Ahmed Lehri

نام: عباداللہ زہری عرف: ثاقب ولد: فضل اللہ زہری سکنہ: زرد، واشک شمولیت: 2026 محاذ: واشک، بسیمہ شہادت: 7 ستمبر 2026، بسیمہ، سوراب شہید عبداللہ زہری نے اسی سال بلوچ قومی آزادی کے مقصد و پروگرام سے ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچ مسلح مزاحمت کے حقیقی راستے کا انتخاب کیا اور بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ واشک سے تعلق رکھنے والے عبداللہ زہری نے بلوچ جنگ کے قومی اور اجتماعی مقاصد کی اہمیت کو اچھی طرح بھانپ لیا تھا، اس لیے انہوں نے دشمن کے خلاف اس عظیم راستے کا انتخاب کیا اور شور کے محاذ پر فعال ہو گئے۔ بنیادی ٹریننگ کورسز کے اختتام پر انہوں نے مسلح گشت جوائن کیے اور مختصر مدت میں خود کو ایک بہادر و باعمل سپاہی کے طور پر منوا لیا۔ ان کے اندر موجود صلاحیتیں جلد ہی گراؤنڈ پر قومی مقاصد کے لیے کارآمد ثابت ہونا شروع ہوئیں۔ ثاقب فکری و شعوری حوالے سے ایک پختہ اور باعمل جہدکار تھے اور جنگ کی سختیوں اور اس کی حقیقت سے آگاہی رکھتے تھے۔ اسی شعور نے انہیں اس مقام تک پہنچایا تھا جہاں انہوں نے قومی آزادی کے سفر میں اپنی ذاتی زندگی کی قربانی دی۔ انہوں نے ایک مختصر مدت تک جنگی میدان میں اپنی خدمات دیں، لیکن وہ اس تمام دورانیے میں ایک ثابت قدم اور باعمل سرمچار تھے، جنہوں نے تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہر ذمہ داری اور سرگرمی کو انتہائی مخلصی و ایمانداری کے ساتھ انجام دیا۔ انہوں نے دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے شہادت حاصل کی اور آخر تک اسی نظریاتی حقیقت سے وابستہ رہے، جسے انہوں نے جنگ میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے قبول کیا تھا۔ ان کی قربانیاں تاریخ میں ایک بہادر سرمچار کے طور پر نقش رہیں گی، جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ Name: Ibadullah Zehri Alias: Saqib Son of: Fazalullah Zehri Resident of: Zard, Washuk Joined BLA: 2026 Front: Washuk, Basima Martyrdom: 7 Sept 2026, Basima, Surab Martyr Ibad Ullah Zahri, in the same year, expressing his alignment with the goals and program of Baloch national liberation, chose the true path of armed Baloch resistance and joined the Baloch Liberation Army. Ibad Ullah Zehri, a native of Washuk, had fully understood the importance of the national and collective objectives of the Baloch war. Therefore, he chose this great path against the enemy and became active on the Shor front. After completing the basic training courses, he joined armed patrols and, in a short period, proved himself to be a brave and capable fighter. His inherent abilities soon began to prove useful on the ground in pursuit of national objectives. Saqib was a mature and capable fighter in terms of thought and action and was fully aware of the hardships and realities of war. This awareness brought him to the point where he sacrificed his personal life in the cause of national liberation. He served on the battlefield for a short period, but throughout that time, he remained a steadfast and active fighter, carrying out every responsibility and activity assigned by the organization with great sincerity and honesty. He attained martyrdom while confronting the enemy and remained committed until the end to the ideological truth he had embraced before joining the war. His sacrifices will remain etched in history as those of a brave fighter who offered his life for the freedom of his homeland.

Martyr IbadUllah Zehri | Surab

نام: عدنان سمالانی عرف: ساہ روت ولد: جلال الدین سمالانی سکنہ: احمد وال، نوشکی شمولیت: 2026 محاذ: نوشکی، بسیمہ شہادت: 7 ستمبر 2026، بسیمہ، سوراب عدنان سمالانی نے بلوچ لبریشن آرمی کے قومی و آزادی کے عظیم راستے کا انتخاب کرتے ہوئے رواں سال بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے شور کے مقام پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور مختصر مدت میں ساتھیوں کے درمیان ایک قابل اور بہادر سرمچار کے طور پر خود کو ثابت کیا۔ پہلے انہوں نے نوشکی کے محاذ پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور بعدازاں انہیں بیسمہ کے مقام پر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے ساتھی سرمچاروں کے ساتھ مل کر مختلف مسلح کارروائیوں، ناکہ بندی اور گوریلا حکمتِ عملی کے تحت سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ شہید عدنان بلوچستان پر پاکستان کے قائم کردہ غیر قانونی اور غیر انسانی قبضے سے آگاہ تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اگر جلد یا بدیر دشمن کو بلوچستان سے باہر نہیں نکالا گیا تو وہ ہماری بقا اور شناخت پر مزید حملے کریں گے۔ اسی اجتماعی بقا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے قومی مزاحمت کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا، جسے وہ ہماری آزادی اور خودمختاری کا واحد ذریعہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے آخر تک اپنے فکر و فلسفے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے دشمن کے خلاف اپنے مورچے کو مضبوط رکھا اور 7 دسمبر کو قومی آزادی و مقصد کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی۔ بلوچ قومی تاریخ کے پنوں میں وہ ہمیشہ ایک عظیم قومی سرمچار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ Name: Adnan Sumalani Alias: SahRoth Son of: Jalal-ud-din Sumalani Resident of: Ahmad Wall, Noshki Joined BLA: 2026 Front: Noshki, Basima Martyrdom: 7 September 2026, Basima, Surab Adnan Sumalani chose the great path of national liberation by joining the Baloch Liberation Army. This year, he began his struggle at Shor through the platform of the BLA and, in a short period, proved himself among his comrades as a capable and courageous fighter. First, he fulfilled his responsibilities on the Nushki front and was later deployed to Basima, where he took part alongside fellow fighters in various armed operations, blockades, and activities carried out under guerrilla tactics. Martyr Adnan was aware of Pakistan’s illegal and inhumane occupation of Balochistan and understood that if the enemy was not driven out of Balochistan sooner or later, they would further attack our survival and identity. Understanding the importance of this collective survival, he decided to join the national resistance through the platform of the Baloch Liberation Army, which he regarded as the sole means of achieving our freedom and sovereignty. He remained true to his ideas and philosophy until the end, holding his position against the enemy, and on December 7, sacrificed his life for national freedom and his cause. In the pages of Baloch national history, he will always be remembered as a great national Sarmachar.

Martyr Adnan Sumalani | Surab