es
Feedback
|-|ard Talk جلی کٹی

|-|ard Talk جلی کٹی

Ir al canal en Telegram

Cartoonist, Journalist, Researcher Journalism Is Not A Crime ہمارا فیسبک پیج بھی ضرور لائک کریں https://www.facebook.com/profile.php?id=61564417160250&mibextid=ZbWKwL

Mostrar más
1 748
Suscriptores
Sin datos24 horas
+207 días
+4330 días
Archivo de publicaciones
کہ موجودہ دور کے بارے میں قرآن وحدیث کیا کہتے ہیں، تب تک ہم صورت حال کو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتے۔ مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل بنانا ہوگا اور مغربی میڈیا کی نام نہاد تحقیقی رپورٹیں پڑھکر تجزیے کرنے سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ ورنہ قیامت تک ہم حالات کا صحیح انداز نہیں کرسکیں گے اور اچانک قیامت ہمارے سروں پر پہونچ جاۓ گی۔ اگر ہم یوں ہی تجزیے کرتے رہے، تو نہ ہی ماضی کا آئینہ درست تصویر دکھاۓ گا اور نہ مستقبل کی تصویر واضح ہوگی۔ نہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ (The Renaissance ) کی وجہ سمجھ پائیں گے، نہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی حقیقت کا سراغ ملے گا، اور نہ ہی امریکہ اور سوویت یونین کے مابین سرد جنگ کے ڈرامے کی ہوا لگے گی۔ اسی طرح اب امریکہ چین یا بھارت چین دشمنی کی حقیقت تک بھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ اس کتاب کو لکھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی احادیث کی روشنی میں حالات کو سمجھا جاۓ اور پھر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے، جب تک تشخیص (Diagnosis) درست نہیں ہوگی، علاج کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے قیامت تک پیش آنے والے واقعات کو کھول کر بیان فرمایا تاکہ مسلمان ان احادیث کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل مرتب کرسکیں، آنے والے وقت کے لئے خود کو ابھی سے تیار کریں، ایک طے شدہ حقیقت سے نظریں چرانے کے بجاۓ اس سے مقابلے کی تیاری کریں۔ اللہ تعالی امت مسلمہ کو دین کی سمجھ عطا فرماۓ اور ہم سب کو دین و دنیا میں کامیابی سے ہمکنار فرماۓ۔ آمین        <===== *جاری ہے* =====> ''ماخوذ از: تیسری جنگ عظیم اور دجال" "تصنیف: حضرت مولانا عاصم عمر صاحب"

روس کے خلاف افغان جہاد کو مکمل امریکی امداد اور سیاست کی نظر کرکے مسلمانوں کے بڑھتے حوصلوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ اتنی بھی تحقیق گوارا نہیں کی گئی کہ روس کو شکست امریکی اسلحے سے دی گئی یا آسمان سے اترتے فرشتوں کے ذریعے یہ فتح حاصل کی گئی۔ اگر یہ امریکی مفاد کی جنگ ہوتی تو اس جنگ سے پھر اللہ رب العزت کو بھلا کیا غرض ہوسکتی تھی لیکن یہ بات تحقیق شدہ ہے کہ مکمل افغان جہاد میں مجاہدین کے ساتھ فرشتے آتے رہے، جنکو خود روسی افسروں نے بھی بارہا دیکھا۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ اس جہاد میں مکمل اللہ کی مدد تھی تو پھر ہمارے کالم نگار حضرات اس جنگ کو مکمل امریکہ کی جھولی میں کیوں ڈال دیتے ہیں؟ کیا صرف اسلئے کہ اس طرح کا مضمون سب سے پہلے کسی امریکی نے لکھا تھا کہ امریکہ سوویت یونین کو ختم کرنے کے لئے افغان مجاہدین کی مدد کر رہا ہے، اسی طرح امریکہ کی عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کو مکمل اقتصادیات کی جنگ قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ عالم کفر خود اس جنگ کے مذہبی ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ نام نہاد مسلم دانشوروں کے بقول عراق پر قبضہ تیل کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے کیا گیا، جبکہ افغانستان پر قبضہ وسط ایشیاء کے معدنی وسائل (Mineral Resources) پر قبضہ کرنے کے لئے کیا گیا۔ یہ وہی تجزیے ہیں جو خود یہودی اپنے کالم نگاروں کے ذریعے اپنے اخبارات و رسائل میں حقیقی رپورٹ کے نام پر شائع کراتے ہیں اور ہمارے نام نہاد دانشور اور مفکرین جن کی تمام دانش اور تمام فکر، میڈاِن یو ایس اے ہوتی ہے، ان تحقیقی رپورٹوں کو پڑھ کر انکے پیچھے اپنے قلم کو گھسنا شروع کر دیتے ہیں، ایسے دانشوروں کے بارے میں یہودی پروٹوکولز میں لکھا ہے کہ "یہ لوگ ہمارے ہی ذہن سے سوچتے ہیں جو رخ ہم ان کو دیتے ہیں یہ اس پر سوچنا شروع کر دیتے ہیں"۔ جہاں تک تعلق وسائل پر قبضے کا ہے تو اگر آج سے پچاس سال پہلے جنگوں کے بارے میں یہ کہا جاتا کہ یہ دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے ہیں تو کسی حد تک درست تھا لیکن اس دور میں ان جنگوں کو تیل اور معدنی وسائل کی جنگ کہنا اسلئے درست نہیں کہ امریکہ پر حکمرانی کرنے والی اصل قوتیں اب تیل اور دیگر دولت کے مرحلے سے بہت آگے جاچکی ہیں۔ اب انکے سامنے آخری ہدف ہے اور وہ اپنی چودہ سو سالہ جنگ کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ دنیا کے تمام وسائل پر اگرچہ امریکہ کا قبضہ نہیں ہے لیکن ان تمام وسائل پر ان یہودیوں کا قبضہ ہے جنکے قبضے میں امریکہ ہے۔ جبکہ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آچکی ہے کہ افغانستان و عراق پر چڑھائی کرانے والی وہی قوتیں ہیں تو پھر ایک ایسی چیز جو پہلے سے انکے پاس ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے جنگ کرنے کی بھلا انکو کیا ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ہمارے کہنے کا یہ مقصد بالکل نہیں کہ امریکہ کو ان وسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ سروکار ہے لیکن ان جنگوں کا پہلا مقصد یہ وسائل نہیں بلکہ پہلا مقصد وہ ہے جو محمد عربی ﷺ نے چودہ سو سال پہلے بیان فرما دیا ہے۔ یہودی کالم نگار جب ان جنگوں کو اقتصادی جنگ کا نام دیتے ہیں تو انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان ان جنگوں کو مذہبی جنگ نہ سمجھنے لگیں کہ یہ چیز انکے اندر جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت کو زندہ کر دیگی، یہ ٹھیک وہی طریقہ کار ہے جو برہمن بھارت کے اندر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کے بعد ان مسلم کش فسادات کو بی جے پی کی سیاست کا نام دے کر مسلمانوں کو ٹھنڈا کر دیتا ہے، اور مذہبی تعصب کو سیاست اور ووٹ پالیٹکس کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ سوچوں میں اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان موجودہ حالات کو قرآن وحدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ انکی بنیاد مغربی میڈیا کے تجزیے اور تبصرے ہوتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ آج اکثر پڑھے لکھے لوگوں کے سوچنے کا انداز مغربی ہے۔ اور لوگ مغرب کی ذہنی غلامی کا شکار ہیں۔ جبکہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی قوم کا اپنے عقیدے اور نظریے، اپنی بنیادوں اور اصولوں سے گہرا تعلق رہے گا وہ قوم اس وقت تک کسی کی ذہنی غلام نہیں بن سکتی۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اسکا اپنے افکار ونظریات، عقیدے اور اصولوں کے ساتھ گہرا تعلق رہتا ہے۔ کسی نظریے اور عقیدے کے بغیر کوئی بھی قوم اس قافلے کی طرح ہوتی ہے جو ڈاکووں کے ہاتھوں لٹنے کے بعد صحراء میں حیران و پریشان بھٹکتا پھر رہا ہو۔ اور ایسے قافلے کی بدنصیبی یہ ہوتی ہے کہ یہ ہر رہزن کو رہبر سمجھ کر اسکے پیچھے چلنا شروع کر دیتا ہے۔ بار بار دھوکہ کھانے کے بعد بھی ان کا یہی خیال ہوتا ہے کہ اس بار انکا سفر صحیح سمت میں ہو رہا ہے۔ اس طرح یہ قافلہ اس وقت تک بھٹکتا ہی رہتا ہے جب تک یہ قافلے والے اس راستے کا پتہ نہیں چلا لیتے جہاں ان کو لوٹا گیا تھا، چنانچہ اگر آج بھی ہم اپنی منزل کو پانا چاہتے ہیں اور حالات کو درست انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اصولوں اور بنیادوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ جب تک ہم یہ پتہ نہیں لگا لیتے

تیسری جنگ عظیم اور دجال: تیسری جنگ عظیم اور دجال :-               بسم اللہ الرحمن الرحیم                          مقدمہ الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين وعلى آله واصحابه اجميعن تاریخ عالم میں ایسا بارہا ہوتا رہا ہے کہ اپنے وقت کی طاقتور قومیں کمزور قوموں کو فتح کر کے انکو اپنا غلام بناتی رہی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے فاتح قوموں کی طاقت کا سورج ڈھلتا جاتا تھا ویسے ہی غلامی کی زنجیریں بھی ڈھیلی پڑتی جاتی تھیں، لیکن دورِ جدید میں طاقتور قومیں کمزور قوموں کو بغیر انکے علاقے فتح کئے ہی اپنا غلام بنالیتی ہیں، اور یہ غلامی اتنی بدترین ہوتی ہے کہ فاتح قوم کے مٹ جانے کے بعد بھی جوں کی توں باقی رہتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو جسمانی غلامی اتنی نقصان دہ اور معیوب نہیں جتنی کہ ذہنی غلامی ہے۔ کیونکہ اگر کسی قوم کی فکر اور سوچ آزاد ہو تو وہ کبھی بھی شکست تسلیم نہیں کرتی، اور موقع پاتے ہی خود کو آزاد کرا لیا کرتی ہے۔ جبکہ کسی قوم کا ذہنی غلامی میں مبتلاء ہو جانا اسکے اندر سے سوچنے تک کی صلاحیت کو ختم کر کے رکھ دیتا ہے۔ ذہنی غلامی کا شکار قومیں نہ تو اپنے ذہن سے سوچتی ہیں اور نہ ہی حالات کو اپنی نظروں سے دیکھتی ہیں بلکہ انکے آقا جس طرف چاہتے ہیں انکی سوچوں کا رخ موڑ دیتے ہیں، پھر اس پر ستم بالائے ستم کہ یہ بے چارے غلام یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم آزاد سوچ کے مالک ہیں۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں پر نازک سے نازک حالات آۓ۔ آقائے مدنی ﷺ کے وصال کے فوراً بعد اٹھنے والا ارتداد کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نہ تھا۔ اگر اسلام کے بجاۓ دنیا کا کوئی اور مذہب ہوتا تو اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہتا۔ لیکن اس خطرناک فتنے سے مسلمان سرخرو ہوکر نکلے۔ 1258 میں فتنہُ تاتار درحقیقت ساری دنیا سے مسلمانوں کا وجود مٹا دینے کی سازش تھی، تاتاری ایک کے بعد ایک مسلم علاقہ فتح کرتے جاتے تھے، یوں لگتا تھا کہ اس تباہی مچاتے سیلاب کو اب کوئی نہیں روک سکے گا کیونکہ کسی قوم کے لئے اس سے بڑی مایوسی اور خوف کی بات کیا ہوگی کہ اس کے دارالخلافہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاۓ، اور خلیفہُ وقت کو چٹائی میں لپیٹ کر، گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا جائے لیکن اس سب کے باوجود بھی مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری اور تاتاریوں کے خلاف میدان جہاد میں نکل آۓ اور بالآخر انکو شکست دی۔ غرض یہ کہ جب تک مسلمانوں میں خلافت رہی مسلمان کبھی کسی قوم کے ذہنی غلام نہیں بنے بلکہ انکی سوچیں ہمیشہ آزاد رہیں، لیکن خلافت ٹوٹنے کے بعد جہاں ایک طرف مسلم علاقوں پر کافر قبضہ کرتے چلے گئے وہیں انکے ذہن بھی کافروں کی غلامی میں جاتے رہے، اس غلامی کے اثرات اتنے مؤثر اور دیرپا ثابت ہوئے کہ جسمانی آزادی کے باوجود بھی مسلمان ذہنی طور پر کفری طاقتوں کے غلام ہی رہے۔ ذہنی غلامی کی سب سے بڑی نحوست (Adversity) یہ ہوتی ہے کہ ذہنی طور پر غلام قوم اچھے کو برا، برے کو اچھا، نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع، دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن سمجھ رہی ہوتی ہے۔ اسی کو علامہ اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا : بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا اسی ذہنی غلامی کے زہریلے اثرات نے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی کہ اس دور میں اسلامی خلافت کی کوئی ضرورت نہیں، اور اب جمہوریت کا دور ہے۔ اس طرح جمہوریت کو اسلامی خلافت کا نعم البدل (Alternative) قرار دیدیا گیا۔ اسی ذہنی غلامی نے مسلمانوں کو قرآن وحدیث کے مطابق سوچنے کی صلاحیت سے دور کرکے رکھ دیا، جبکہ وہ حالات کا قرآن وحدیث کی روشنی میں تجزیہ (Analysis) کرتے، لیکن آج اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی حالات کو مغربی میڈیا کی نظر سے دیکھ کر تجزیہ کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں نام نہاد دانشور (Intellectuals) اور مفکرین (Thinkers) اور ادیب حضرات اپنے قلم کو انہی راستوں پر دوڑاتے ہوۓ نظر آتے ہیں، جو خود مغربی مفکرین نے اپنے ہاتھ سے بناۓ ہوتے ہیں۔ اور یہ دانشور انہی راستوں پر اپنے قلم کو دوڑا کر جب منزل تک پہنچتے ہیں تو یہ وہی منزل ہوتی ہے جو مغربی مفکرین پہلے سے طے کر چکے ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ حضرات یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔ موجودہ دور میں آپ اکثر یہی بات دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر روس کا افغانستان میں آنا، اور افغان مجاہدین کا جہاد اور فتح، طالبان کی اسلامی حکومت اور امریکہ کا افغانستان پر حملہ، امریکہ کا خلیج میں آنا اور عراق پر قبضہ، اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم، گیارہ ستمبر کے امریکہ پر حملے اس طرح کے دیگر واقعات میں ان دانشوروں کے تجزیوں کے نتیجوں کا خلاصہ ایسا ہوگا جس میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے بجاۓ حوصلہ شکنی ہوتی ہوگی، اللہ تعالی کی طاقت کو سپرپاور ثابت کرنے کے بجاۓ کسی کافر ملک کو سپرپاور ثابت کیا جائے گا، کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے بس کافروں کی مرضی کے مطابق ہی ہوتا ہے۔

قرآن کریم انبیاء علیہم السلام کی دعوت وتبلیغ اور کفار کے مجادلات سے بھرا ہوا ہے اس میں کہیں نظر نہیں آتا کہ اللہ کے کسی رسول نے حق کے خلاف ان پر طعنہ زنی کرنےوالوں کے جواب میں کوئی ثقیل کلمہ بھی بولا ہو …… رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت و اصلاح کے کام میں اس کا بھی بڑا اہتمام تھا کہ مخاطب کی سبکی یا رسوائی نہ ہو اسی لیے جب کسی شخص کو دیکھتے کہ کسی غلط اور برے کام میں مبتلا ہے تو اس کو براہ راست خطاب کرنے کے بجائے مجمعِ عام کو مخاطب کر کے فرماتے تھے، ’’مابال أقوام یفعلون کذا‘‘ ’’لوگوں کو کیا ہو گیا کہ فلاں کام کرتے ہیں‘‘ ۔اس عام خطاب میں جس کو سنانا اصل مقصود ہوتا وہ بھی سن لیتا اور دل میں شرمندہ ہو کر اس کے چھوڑنے کی فکر میں لگ جاتا ۔ انبیاء علیہم السلام کی عام عادت یہی تھی کہ مخاطب کو شرمندگی سے بچاتے تھے اسی لیے بعض اوقات جو کام مخاطب سے سرزد ہوا ہے اسی کو اپنی طرف منسوب کر کے اصلاح کی کوشش فرماتے ۔ سورۃ یسین میں ہے وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ ’’یعنی مجھے کیا ہوگیا کہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں‘‘، ظاہر ہے کہ یہ قاصد رسول تو ہر وقت عبادت میں مشغول تھے، سنانا اس(کافر) مخاطب کو تھا جو مشغول عبادت نہیں ہے مگر اس کام کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ دعوت کے معنی دوسرے کو اپنے پاس بلانا ہے محض اس کے عیب بیان کرنا نہیں اور یہ بلانا اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ متکلم اور مخاطب میں کوئی اشتراک ہو، اسی لیے قرآن عزیز میں انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا عنوان اکثر یا قوم سے شروع ہوتا ہے جس میں برادرانہ رشتہ کا اشتراک پہلے جتلا کرآگے اصلاحی کلام کیا جاتا ہے کہ ہم تم تو ایک ہی برادری کے آدمی ہیں کوئی منافرت نہیں ہونی چاہیے یہ کہہ کر ان کی اصلاح کا کام شروع فرماتے ہیں … … … رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دعوت کا خط ہرقل شاہ روم کے نام بھیجا اس میں اول تو شاہ روم کو عظیم الروم کے لقب سے یاد فرمایا جس میں اس کا جائز اکرام ہے کیونکہ اس میں اس کے عظیم ہونے کا اقرار بھی ہے مگر رومیوں کے لیے، اپنے لیے نہیں اس کے بعد ایمان کی دعوت اس عنوان سے دی گئی ﴿تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ ﴾ [2]جس میں پہلے آپس کا ایک مشترک نقطۂ وحدت ذکر کیا کہ توحید کا عقیدہ ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اس کے بعد عیسائیوں کی غلطی پر متنبہ فرمایا ۔ تعلیمات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھیان دیا جائے تو ہر تعلیمِ دعوت میں اسی طرح کہ آداب و اصول ملیں گے۔ آج کل اول تو دعوت واصلاح اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی طرف دھیان ہی نہ رہا اور جو اس میں مشغول بھی ہیں انہوں نے صرف بحث و مباحثہ ، مخالف پر الزام تراشی، فقرے کسنے اور اس کی تحقیر و توہین کرنے کو دعوت و تبلیغ سمجھ لیا ہے جو خلاف سنت ہونے کی وجہ سے کبھی مؤ ثر ومفید نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی بڑی خدمت کی اور حقیقت میں وہ لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں … … آیت مذکورہ کی تفسیر میں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اصل مقصودِ شرع دعوت الی اللہ ہے۔ جس کے دو اصول ہیں حکمت اور موعظت حسنہ۔ مجادلہ کی صورت کبھی سر پر آن پڑے تو اس کے لیے بھی احسن کی قید لگا کر اجازت دے دی گئی ہے مگر وہ حقیقتاً دعوت کا کوئی شعبہ نہیں بلکہ اس کے منفی پہلو کی ایک تدبیر ہے جس میں قرآن کریم میں بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ کی قید لگا کر جس طرح یہ بتلا دیا ہے کہ وہ نرمی، خیر خواہی اور ہمدری کے جذبے سے ہونا چاہیے اور اس میں دلائلِ واضحہ مخاطب کے مناسبِ حال بیان کرنا چاہیے مخاطب کی توہین و تحقیر سے کلی اجتناب کرنا چاہیے اسی طرح اس کے احسن ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود متکلم کے لیے مضر نہ ہو جائے کہ اس میں اخلاقِ رذیلہ حسد، بغض، تکبر، جاہ پسندی وغیرہ پیدا نہ ہوجائے جو باطنی گناہ کبیرہ ہیں اور آج کل کے بحث ومباحثہ مناظر ہ و مجادلہ میں شاذو نادر ہی کوئی اللہ کا بندہ ان سے نجات پائے تو ممکن ہے، ورنہ عادتاً ان سے بچنا سخت دشوار ہے ۔

دعـــوت کا اسلوب اور منہـــج جــہـــاد کی حفاظت و فروغ (بالخصوص انٹرنیٹ اور بالعموم سب داعیانِ جــــہـــاد کو مخاطب تحریر) استــاد اســـامـــہ محـــمود حفــظــہ اللہ دعوت کا مطلوب اسلوب اللہ ربّ العزت جہاں حق کی طرف بلانے کاحکم دیتے ہیں﴿اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ﴾ ،یعنی دین اور دینی امور کی طرف دعوت کا امر دیتے ہیں، وہاں اس دعوت کے اسلوب کا بھی تعین کرتے ہیں ، یہ اسلوب حکمت ہے ، اچھی وعظ و نصیحت ہے اور دل نشین انداز میں بحث و مجادلہ ہے۔اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ ’’ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ذریعے بلائیے، اور ان سے ایسے طریقے پر بحث کیجیے جو اچھا طریقہ ہو، بلاشبہ آپ کا رب ان کو خوب جاننے والا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گئے اور وہ ان کو خوب جانتا ہے جو ہدایت کی راہ پر چلنے والے ہیں ۔‘‘ مولانا شبیر احمدعثمانی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ الخ سے خود پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ لوگوں کو راستہ پر کس طرح لانا چاہیے، اس کے تین طریقے بتلائے؛ حکمت، موعظت حسنہ، جدال بالتی ھي أحسن ۔’’حکمت‘‘سے مراد یہ ہے کہ نہایت پختہ اور اٹل مضامین مضبوط دلائل و براہین کی روشنی میں حکیمانہ انداز سے پیش کیے جائیں ۔ جن کو سن کر فہم و ادراک اور علمی ذوق رکھنے والا طبقہ گردن جھکا سکے۔ دنیا کے خیالی فلسفے ان کے سامنے ماند پڑ جائیں اور کسی قسم کی علمی و دماغی ترقیات وحی الٰہی کے بیان کردہ حقائق کا ایک شوشہ تبدیل نہ کر سکیں ۔ ’’موعظت حسنہ‘‘مؤثر اور رقت انگیز نصیحتوں سے عبارت ہے جن میں نرم خوئی اور دل سوزی کی روح بھری ہو ۔ اخلاص، ہمدردی ، شفقت و حسن اخلاق سے خوبصورت اور معتدل پیرایہ میں کی جانے والی نصیحت سے بسا اوقات پتھر کے دل بھی موم ہو جاتے ہیں، مُردوں میں جانیں پڑ جاتی ہیں، ایک مایوس و پژمردہ قوم جھر جھری لے کر کھڑی ہو جاتی ہے، لوگ ترغیب و ترہیب کے مضامین سن کر منزلِ مقصود کی طرف بےتابانہ دوڑنے لگتے ہیں ۔ بالخصوص جو طلب حق کی چنگاری تو سینے میں رکھتے ہیں مگر زیادہ عالی دماغ اور ذکی و فہیم نہیں ہوتے، ان میں مؤثر وعظ و پند سے عمل کی ایسی اسٹیم بھری جاسکتی ہے جو بڑی اونچی عالمانہ تحقیقات کے ذریعہ سے ممکن نہیں ۔ ہاں دنیا میں ہمیشہ سے ایک ایسی جماعت بھی موجود رہی ہے جس کا کام ہر چیز میں الجھنا اور بات بات میں حجتیں نکالنا اور کج بحثی کرنا ہے۔ یہ لوگ نہ حکمت کی باتیں قبول کرتے ہیں نہ وعظ و نصیحت سنتے ہیں، بلکہ چاہتے ہیں کہ ہر مسئلہ میں بحث و مناظرہ کا بازار گرم ہو ۔ بعض اوقات اہل فہم و انصاف اور طالبین حق کو بھی شبہات گھیر لیتے ہیں اور بدون بحث کے تسلی نہیں ہوتی اس لیے وَجَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھيَ اَحْسَنُ فرما دیا کہ اگر ایسا موقع پیش آئے تو بہترین طریقہ سے تہذیب، شائستگی، حق شناسی اور انصاف کے ساتھ بحث کرو ۔ اپنے حریفِ مقابل کو الزام دو تو بہترین اسلوب سے دو، خواہی نہ خواہی دل آزار اور جگر خراش باتیں مت کرو جن سے قضیہ بڑھے اور معاملہ طول کھینچے، مقصود تفہیم اور احقاق حق ہونا چاہیے۔ خشونت، بداخلاقی، سخن پروری اور ہٹ دھرمی سے کچھ نتیجہ نہیں‘‘۔ [1] حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اسلوبِ دعوت میں طریقۂ انبیاء اور اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ دعوت الی اللہ دراصل انبیاء علیہم السلام کا منصب ہے۔ امت کے علماء اس منصب کو ان کا نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں تو لازم یہ ہے کہ اس کے آداب اور طریقے بھی انہی سے سیکھیں۔ جو دعوت ان طریقوں پر نہ رہے وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ وجدال کا موجب ہو جاتی ہے۔ دعوتِ پیغمبرانہ کے اصول میں جو ہدایت قرآن کریم میں حضرت موسیٰ وہارون کے لیے نقل کی گئی ہے ﴿فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى﴾ یعنی فرعون سے نرم بات کرو شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔ یہ ہر داعیٔ حق کو ہر وقت سامنے رکھنا ضروری ہے کہ فرعون جیسا سرکش کافر، جس کی موت بھی علم الہٰی میں کفر ہی پر ہونے والی تھی، اس کی طرف بھی جب اللہ تعالیٰ اپنے داعی کو بھیجتے ہیں تو نرم گفتار کی ہدایت کے ساتھ بھیجتے ہیں تو آج ہم جن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ فرعون سے زیادہ گمراہ نہیں اور ہم میں سے کوئی موسیٰ وہارون علیہما السلام کے برابر ہادی وداعی نہیں تو جو حق اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں پیغمبروں کو نہیں دیا کہ مخاطب سے سخت کلامی کریں اس پر فقرے کسیں اس کی توہین کریں وہ حق ہمیں کہاں سے حاصل ہوگیا !!!

Repost from اذانِ سحر
اللهمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ اے اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچا دیجیے۔ #رمضان #Ramadhan #AzaaneSahar #اذان_سحر
اللهمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ اے اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچا دیجیے۔ #رمضان #Ramadhan #AzaaneSahar #اذان_سحر

شمارہ نمبر: 836 شہید میر سعد اللہ عرف مجاھد تقبلہ اللہ سکونت اصلی: ولسوالی گڑیوم ولایت شمالی وزیرستان تاریخ شہادت: 11/2/2025 مقام شہادت: ولسوالی گڑیوم ولایت شمالی وزیرستان ناپاک فوج کے ساتھ دست بدست لڑائی میں شھید ہوئے ہم نے رسم محبت کو زندہ کیا زخمِ دل جیت کر نقد جاں ہار کر وٹس ایپ رابطہ +15416980424 #رسم_محبت @RasmeMohabbat_bot #رسم_محبت چینل https://whatsapp.com/channel/0029VaoGNRY4Y9lm1uWP6h2i #رسم_محبت گروپ https://chat.whatsapp.com/HyHPCWPSYDqBlJKWGVpuaO

photo content

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ جامع ترمذی، کتاب: گواہیوں کا بیان باب: زبان کی حفاظت کرنے کے متعلق حدیث نمبر: 2406 تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٩٢٨)، وانظر مسند احمد (٤/١٤٨)، و (٥/٢٥٩) (صحیح) (یہ سند مشہور ضعیف اسانید میں سے ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے الصحیحة رقم: ٨٩٠ ) وضاحت: ١ ؎: اس حدیث میں زبان کی حفاظت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کیونکہ اسے کنٹرول میں نہ رکھنے کی صورت میں اس سے بکثرت گناہ صادر ہوتے ہیں، اس لیے لایعنی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور کوشش یہ ہو کہ ہمیشہ زبان سے خیر ہی نکلے، ایسے لوگوں اور مجالس سے دور رہنا چاہیئے جن سے شر کا خطرہ ہو، بحیثیت انسان غلطیاں ضرور ہوں گی ان کی تلافی کے لیے رب العالمین کے سامنے عاجزی کا اظہار کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (888) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2406 Translation: Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported having asked, “O Messenger of Allah ﷺ how to get salvation?” He said, “Control your tongue, keep yourself to your home and weep over your sins”. [Ahmed 22298]

Repost from Politics Plus
کتنے خطرناک راستے پر افغان بچہ مزے سے چل رہا ہے ❤️ https://whatsapp.com/channel/0029Vaz6Q56GZNChAjuFNy2U

جھوٹے اور ظالم حکمران حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
جھوٹے اور ظالم حکمران حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "مستقبل میں ایسے حکمران ہونگے جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے ، سو جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کی تو وہ ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں اور نہ میں ان میں سے ہوں اور وہ حوض کوثر پر میرے قریب نہیں آسکیں گے اور جس نے ان ( امراء ) کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور نہ ان کے ظلم میں ان کی مدد کی تو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور جلد وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئے گا" (مسند احمد 23308 قال المحقق شعیب الارنؤوط : اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین) فائدہ .... ظلم میں مدد کرنا اور جھوٹ کی تصدیق کرنا جمہوری نظام میں یہ عام سی بات ہے جو جس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اندھا بہرہ ہوکر اس کے تمام فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔ جھوٹ کو سچ ثابت کیا جاتا ہے۔ ظم ، بدعنوانی اور ناانصافی میں تعاون کیا جاتا ہے۔ برمودہ تکون اور دجال ص 108

مشہور شخصیات فتنے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور چوتھے فتنے کا تذکرہ کیا "اس کے شر سے وہی بچ پائے گا جو ڈوبنے والے کی طرح (اخلاص سے ) دعا کرے گا ۔ اس وقت سب سے خوش قسمت شخص وہ متقی ہوگا جو پوشیدہ ہوگا۔ سب سے بدقسمت شخص پر جوش خطیب اور تیز سوار ہوگا ۔ (الفتن 363 , رواہ ابونعیم فی الحلیہ ) ۔۔۔۔ گمنام متقی لوگ جن کو کوئی نہ جانتا ہو یعنی مشہور نہ ہوں کہ سامنے آ جائیں تو کوئی پہچانے نہیں اور کہیں چلے جائیں تو کوئی پوچھتا نہ پھرے کہ کہاں گیا۔ اسی طرح وہ سوار جسکی سواری نمود و نمائش والی ہو۔ موجودہ دور میں اگر آپ غور کریں تو حالت یہی یے جو مشہور و معروف لوگ ہیں ، خواہ علماء ہوں ، یا صحافی یا کالم نگار ہر مسئلے میں وہی آزمائش میں پڑے نظر آتے ہیں لال مسجد آپریشن، وزیرستان میں امریکی مفاد کی جنگ ، جہاد اور استشہادی کاروائی کے خلاف فتوی ، باطل کی جنگ کو اپنی جنگ ثابت کرنا اور تمام مسئلوں میں وہی لوگ آگے لائے گئے یا مجبور کیے گئے جو عوام میں مشہور ہیں ۔ بحوالہ برمودہ تکون اور دجال ص 105

‏کچھ لوگوں کا مقصد اسلام کو مسجد تک منحصر کر کے اس میں نظر بند کر دینا ہے تاکہ باہرکی گمراہی پر ان کا اختیار ہی نہ رہے ۔ اگر نبی کریم ﷺ کی دعوت مسجد تک منحصر ہوتی تو نہ آپ ہجرت کرتے ، نہ جہاد اور نہ آزمائشوں کا سامنا کرتے۔ شیخ عبدالعزیز ‎#الطریفی فک اللہ اسرہ

Repost from Voice Of Pakistan
🚨قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقے موسکی میں ایک مسجد پر پاکستانی فوج کی طرف سے کئے گئے ڈرون حملے میں 5 نمازی شھید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

Repost from Voice Of Pakistan

Repost from Politics Plus
امریکی بچے نماز پڑھنے والوں کو کاپی کررہے ہیں ❤️ https://whatsapp.com/channel/0029Vaz6Q56GZNChAjuFNy2U

کفار کے لیے اہم ترین سبق ۔۔۔
کفار کے لیے اہم ترین سبق ۔۔۔

استاد شاہین گلزار رح پکتیکا سنہ ۲۰۱۰ 🔗 Usmanbalochعُثمان بلوچ (@Usmanbaloch316) 📲 @twittervid_bot

*اپنے بچوں کہ دلوں کو جہاااااا د مجاااااہدین کی محبت سے بھر دیں ۔۔۔۔۔۔تاکہ کل جہااااا د کہ میدان میں اپنا کردار ادا کر سکیں* *کاش کہ یہ بچیں امام مہدی کی فوج کا حصہ بن سکیں ۔۔ان کی تربیت آپ کہ ہاتھ میں ہے ۔۔۔اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا سرمایہ ہیں یہ 💐❤️* 🔗 Noor (@Noor1870793) 📲 @twittervid_bot