1 553
Suscriptores
Sin datos24 horas
Sin datos7 días
-1430 días
Archivo de publicaciones
1 553
اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طواف شمع وفا تھی رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصورؔ ہوئے فرہادؔ ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیضؔ نہ ہم یوسفؔ نہ کوئی یعقوبؔ جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
فیض احمد فیضؔ
1 553
اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طواف شمع وفا تھی رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصورؔ ہوئے فرہادؔ ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیضؔ نہ ہم یوسفؔ نہ کوئی یعقوبؔ جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
فیض احمد فیضؔ
1 553
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺷﮩﺮِ ﺳﺘﻢ ﮔﺮﺍﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺷﻨﺎﺱ ﺁﺋﮯ
ﻭﮦ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺭ ﭼﮭﻠﮑﮯ
ﻟﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺱ ﺁﺋﮯ ,
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩِﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﮨﻮﺍ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﮨﯿﮟ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﺪﻧﺼﯿﺐ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ
ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﮯ ﻧﮧ ﺭﺍﺱ ﺁﺋﮯ ,
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﯾﮧ ﻣﻨﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍ ﺩﻭ صاحب
ﺟﺴﮯ ﻃﻠﺐ ﮨﻮ ﻣﺘﺎﻉِ ﻏﻢ ﮐﯽ
ﻭﮦ ﮨﻢ ﻓﻘﯿﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁئے ___!!!
محسن نقوی
1 553
چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا، سمجھانے دو، ان کی اپنی مجبوری
میں نے دل کی بات رکھی اور تونے دنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری
روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی، ہے مٹی کی مجبوری
ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہربلب
جبرِ وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری
جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے، سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری
مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسن
ہم نے ساری عمر نبھائی اپنی پہلی مجبوری
محسن بھوپالی
1 553
عہد پُختہ کیا رِندوں نے یہ پیمانے سے
خاک ہو جائیں گے نِکلیں گے نہ میخانے سے
میرے ساقی ہو عطا مُجھ کو بھی پیمانے سے
فیض پاتا ہے زمانہ ترے میخانے سے
یک بہ یک اور بھڑک اُٹھتا ہے سمجھانے سے
کوئی کیا بات کرے آپ کے دیوانے سے
رِند مِل مِل کے گلے روئے تھے پیمانے سے
جب مری لاش اُٹھائی گئی میخانے سے
مُجھ سے پُوچھے کوئی کیا مُجھ پہ جُنوں میں گُزری
قیس و فرہاد کے قِصّے تو ہیں افسانے سے
واعظِ شہر کی توبہ نہ کہیں ٹوٹی ہو
آج "ہُو حق" کی صدا آتی ہے مے خانے سے
كون يہ آگ لگا ديتا ہے، معلوم نہيں
روز اٹھتا ہے دھواں سا مرے كاشانے سے
ترکِ ثابت قدمی ایک قیامت ہو گی
اور گھِر جاؤ گے آلام میں گھبرانے سے
پا لیا آپ کو اِقرارِ محبت نہ کریں
بن گئی بات مری آپ کے شرمانے سے
رِند کے ظرف پہ ساقی کی نظر رہتی ہے
اِسے چُلّو سے پلا دی، اُسے پیمانے سے
شیخ کے ساتھ یہ رِندوں پہ قیامت ٹُوٹی
پینے والے بھی نِکالے گئے میخانے سے
باغباں پھونک، مگر شرط يہ ہے گلُشن ميں
آگ پھولوں پہ نہ برسے ميرے خَس خانے سے
اس سے بہتر نہ ملے فرشِ سكينت شايد
ہم پُكاريں گے اُنہيں بيٹھ كے ويرانے سے
بات سُنتے جو نصیرؔ آپ تو اِک بات بھی تھی
بات سُنتے نہیں کیا فائدہ سمجھانے سے
بے سہارا ہوں بُڑھاپے میں کہاں جاؤں نصیرؔ
اب تو جنازہ ہی اُٹھے گا مرا میخانے سے
نصیر الدین نصیرؔ
1 553
دل لے کے مجھ سے دیتے ہو داغِ جگر مجھے
یہ بات بھولنے کی نہیں عمر بھر مجھے
ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے
کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے
سینے سے دل عزیز ہے دل سے ہو تم عزیز
سب سے مگر عزیز ہے تیری نظر مجھے
مرنا ہے ان کے پاؤں پہ رکھ کر سر نیاز
کرنا ہے آج قصۂ غم مختصر مجھے
جگر مراد آبادی
1 553
اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے
میں تھک کے چھاؤں میں بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے
میں دے رہا تھا سہارے تو اک ہجوم میں تھا
جو گر پڑا تو سبھی راستہ بدلنے لگے
میں پالتا رہا جن کو جلا کے سُرمہءجاں
ہوا ضعیف تو آنکھیں چُرا کے چلنے لگے
بڑے خلوص سے آئے تھے تخت پر عفریت
بڑے وثوق سے دھرتی مری نگلنے لگے
نہ مارتے ہیں مجھے اور نہ جینے دیتے ہیں
یہ کسے زخم مری آستیں میں پلنے لگے
کبھی کبھی ذرا خود کو گلے لگایا کر
اور اس سے پہلے کہ جیون تجھے نگلنے لگے
تھی سرد مہری ِ یاراں بھی کیا عجب فرحت
تپش بغیر مرے جسم و جاں پگھلنے لگے
فرحت عباس شاہ
1 553
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ھمیں
اور ھم بھول گئے ھوں تجھے ایسا بھی نہیں
بات یہ ھے کہ سکون دل وحشی کا مقام
کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں
ارے صیاد ھمِیں گل ھیں ھمِیں بلبل ھیں
تو نے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں
آہ یہ مجمع احباب یہ بزم خاموش
آج محفل میں فراقؔ سخن آرا بھی نہیں
یہ بھی سچ ھے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور
یہ بھی سچ ھے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں
یوں تو ھنگامے اٹھاتے نہیں دیوانۂ عشق
مگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں
فطرت حسن تو معلوم ھے تجھ کو ھمدم
چارہ ھی کیا ھے بجز صبر سو ھوتا بھی نہیں
منہ سے ھم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراقؔ
ھے ترا دوست مگر آدمی اچھا بھی نہیں
فراق گورکھپوری
1 553
وہ دِل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مِرا علاج مِرے چارہ گر کے پاس نہیں
تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
مِرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں
تِرے جلو میں بھی دِل کانپ کانپ اُٹھتا ہے
مِرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
کبھی کبھی جو ترے قرب میں گُزارے تھے
اب اُن دِنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں
گُزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دِیدہ و دِل
سَحر کی آس تو ہے ، زندگی کی آس نہیں
مجھے یہ ڈر ہے ، تِری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دِنوں سے طبیعت مِری اُداس نہیں
ناصر کاظمی
1 553
اک خسارے نے بھرم توڑ دیے ضبط کے سب
اور پھر ہوتا گیا میرا زیاں تیرے بعد
پھر کسی دکھ کی, خوشی کی, نہ رہی کوئی تمیز
کس روانی سے چلی عمر رواں تیرے بعد
1 553
برسے گا ٹوٹ ٹوٹ کر ابر محبتاں
ہم چیختے رہیں گے کہ حاجت نہیں رہی
اک روز کوئی آئے گا لے کر کے فرصتیں
اک روز ہم کہیں گے ضرورت نہیں رہی!!
"عائشہ شفق "
1 553
صیاد آ گئے ہیں سبھی ایک گھات پر
اٹھنے لگی ہیں انگلیاں اب میری ذات پر
موسم کا لہجہ سرد ہے یادیں بھی تلخ ہیں
تنہائیوں کا بوجھ ہے ہر سمت رات پر
کیوں آج میری یاد بھی آئی نہیں تجھے
کل تک تو میرا تذکرہ تھا بات بات پر
1 553
صدیوں سے راہ تکتی ھُوئی ، گھاٹیوں میں تم
اِک لمحہ آ کے ھنس گئے ، میں ڈُھونڈتا پِھرا
اُن وادیوں میں ، برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
ھر سُو شرر برس گئے ، میں ڈُھونڈتا پِھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دِن دَلدلوں میں دَھنس گئے ، میں ڈُھونڈتا پِھرا
راھیں دُھوئیں سے بھر گئیں ، میں منتظر رھا
کرنوں کے رُخ جُھلس گئے ، میں ڈُھونڈتا پِھرا
تم پھر نہ آ سکو گے ، بتانا تو تھا مجھے
تم دُور جا کے بس گئے ، میں ڈُھونڈتا پِھرا
مجید امجد
1 553
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں
حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں
تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں
صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں
میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے طفیل
پھول کھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں
وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خد و خال
یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں
دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں
اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
احمد ندیم قاسمی
1 553
وہ تَہی دَست بھی کیا خوب کہانی گَر تھا
باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا
ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھا
کر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بُھلا بھی دیتا تھا
بے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھا
کبھی کبھار باتیں محبت کی سُنا بھی دیتا تھا
کبھی بے وقت چلا آتا تھا ملنے کو
کبھی قیمتی وقت محبت کے گنوا بھی دیتا تھا
تھام لیتا تھا میرا ہاتھ کبھی یوں ہی خود
کبھی ہاتھ اپنا میرے ہاتھ سے چھڑا بھی لیتا تھا
عجیب دھوپ چھاؤں سا مزاج تھا اُس کا
معتبر بھی رکھتا تھا نظروں سے گرا بھی دیتا تھا
1 553
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب
دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے
پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن
گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے
اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن
میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں
سر رکھ کے مرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 553
آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں
اے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوں
دستک تو کچھ ایسی ہے کہ دل چھونے لگی ہے
اس حبس میں بارش کا یہ جھونکا بھی تو دیکھوں
صحرا کی طرح رہتے ہوئے تھک گئیں آنکھیں
دکھ کہتا ہے میں اب کوئی دریا بھی تو دیکھوں
یہ کیا کہ وہ جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے
اپنے لئے وہ شخص تڑپتا بھی تو دیکھوں
اب تک تو مرے شعر حوالہ رہے تیرا
اب میں تری رسوائی کا چرچا بھی تو دیکھوں
اب تک جو سراب آئے تھے انجانے میں آئے
پہچانے ہوئے رستوں کا دھوکا بھی تو دیکھوں
پروین شاکر
1 553
سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں
شاید آ جائیں کبھی چشم خریدار میں ہم
جان و دل بیچ میں بازار کے رکھ دیتے ہیں
تاکہ طعنہ نہ ملے ہم کو تنک ظرفی کا
ہم قدح سامنے اغیار کے رکھ دیتے ہیں
اب کسے رنج اسیری کہ قفس میں صیاد
سارے منظر گل و گلزار کے رکھ دیتے ہیں
ذکر جاناں میں یہ دنیا کو کہاں لے آئے
لوگ کیوں مسئلے بے کار کے رکھ دیتے ہیں
وقت وہ رنگ دکھاتا ہے کہ اہل دل بھی
طاق نسیاں پہ سخن یار کے رکھ دیتے ہیں
زندگی تیری امانت ہے مگر کیا کیجے
لوگ یہ بوجھ بھی تھک ہار کے رکھ دیتے ہیں
ہم تو چاہت میں بھی غالبؔ کے مقلد ہیں فرازؔ
جس پہ مرتے ہیں اسے مار کے رکھ دیتے ہیں
#احمد فراز
1 553
زور سے ہاتھ جھٹک ، یار مکمل کردے
تو مرے ھجر کو اس بار مکمل کردے
ان دنوں آدھے ادھورے ھیں تخیل سارے
بھیج وہ درد جو اشعار مکمل کردے
روٹھ جانے کی یہ تلوار ھٹادے سر سے
ورنہ رستے کی یہ دیوار مکمل کردے
ایک چُھٹی تو مِرے ساتھ مَنا گاؤں میں
کوئی خوش بخت سا اتوار مکمل کردے
کردے اعلان مسخر ھوئی کومل جوئیہ
جیتنے والے مِری ھار مکمل کردے
کومل جوئیہ
