📚حدیثِ رسـولﷺ🌴
Ir al canal en Telegram
🌴حــــــدیثِ رســــــولﷺ چـینــل📚 صحیحین، سنن اربعہ و دیگر کتبِ احادیث کا بہترین مجموعـہ جس کو آپکی خدمت میں خوبصورت مختصر پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جارہا،چینل کو جوائن کریں https://t.me/HadeethERasool •°• ایڈمن ٹیم: حـدیثِ رسولﷺ 🌴°•°
Mostrar másEl país no está especificadoReligión y espiritualidad38 086
2 924
Suscriptores
Sin datos24 horas
-37 días
-530 días
Archivo de publicaciones
2 924
”بیشک پکی ٹھکی گمراہی تو یہ ہے کہ تم جسے منکر سمجھتے تھے اسے معروف سمجھنے لگو، اور جسے معروف سمجھتے تھے اسے منکر سمجھنے لگو۔ اور رنگ بدلنے سے باز رہو، کیونکہ اللہ کا دین ایک ہی ہے۔“
”تم میں سے جس نے دیکھنا ہو کہ وہ فتنے میں مبتلا ہوا یا نہیں تو دیکھے کہ کل جسے حرام سمجھتا تھا اب حلال تو نہیں سمجھتا، یا کل جسے حلال سمجھتا تھا اب حرام تو نہیں سمجھتا؟! اگر یہ معاملہ ہو تو یقینًا وہ فتنے میں پڑ چکا ہے۔“
(سيدنا حذيفة بن اليمان رضي الله عنه)
#سلسلۃ_اقوال_الصحابه
2 924
شاذ رائے کی اتباع کوئی علمی رویہ نہیں بلکہ انحراف کی علامت ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسا اوقات جب ایک شخص کو واضح دلائل سے یہ بات سمجھائی جائے کہ دیکھیں بھئی! ان ادلہ کے مقابلے میں آپ ایک غلط موقف پر کھڑے ہیں، تو جوابا آگے سے کہا جاتا ہے کہ میں کوئی تنہا نہیں، یہی رائے مجھ سے پہلے بھی بعض اہل علم کی رہی ہے اور میں دنیا میں اکیلا ہی اس کا قائل نہیں!
یاد رکھیے کہ ماضی میں کسی شاذ رائے یا کسی منفرد موقف کے سہارے کسی قول کو اختیار کر لینا یہ ہمیشہ سے باطل پرستوں کا وتیرہ تو ضرور رہا ہے، اہل حق کا نہیں!
بلکہ اہل سنت ہمیشہ امت کے علمی موقف اور مسلمہ دینی روایت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ کسی شاذ رائے کو کوئی حیثیت نہیں دیتے کہ اسے ائمہ سلف اور جمہور علمائے سنت کے مقابلے میں پیش کر کے اپنی لیے الگ راہ نکالی جائے۔ خواہ وہ شاذ رائے کسی بڑے عالم اور امام ہی کی کیوں نہ ہو!
امام عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ (وفات: 280ھ) فرماتے ہیں:
"ﺇﻥ اﻟﺬﻱ ﻳﺮﻳﺪ اﻟﺸﺬﻭﺫ ﻋﻦ اﻟﺤﻖ، ﻳﺘﺒﻊ اﻟﺸﺎﺫ ﻣﻦ ﻗﻮﻝ اﻟﻌﻠﻤﺎء، ﻭﻳﺘﻌﻠﻖ ﺑﺰﻻﺗﻬﻢ، ﻭاﻟﺬﻱ ﻳﺆﻡ اﻟﺤﻖ ﻓﻲ ﻧﻔﺴﻪ ﻳﺘﺒﻊ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻣﻦ ﻗﻮﻝ ﺟﻤﺎﻋﺘﻬﻢ، ﻭﻳﻨﻘﻠﺐ ﻣﻊ ﺟﻤﻬﻮﺭﻫﻢ، ﻓﻬﻤﺎ ﺁﻳﺘﺎﻥ ﺑﻴﻨﺘﺎﻥ ﻳﺴﺘﺪﻝ ﺑﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ اﺗﺒﺎﻉ اﻟﺮﺟﻞ، ﻭﻋﻠﻰ اﺑﺘﺪاﻋﻪ" (الرد علی الجھمیہ، ص: 124)
"راہ حق سے انحراف کا قصد کرنے والا انسان علماء کے شاذ قول کی پیروی کرتا ہے اور ان کی اغلاط سے جڑا رہتا ہے، جبکہ جو شخص خالص حق کو اپنا نصب العین بنا لیتا ہے وہ علماء کے معروف قول کو اختیار کرتا اور ہمیشہ جمہور اہل علم کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔ یہی دو نشانیاں ہیں جن سے ایک متبع سنت اور بدعتی شخص کی پہچان ہوتی ہے!"
✍۔۔۔۔۔۔۔ حافظ شاھد رفیق
#سلسلة_اقوال_السلف #اصلاحی_تحریریں
2 924
🌺 *حسن سلوک کی اہمیت!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگوں پر رحم نہیں کھاتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کھاتا۔“*🔹
📗«صحیح بخاری-7376»
2 924
▪️ - "امام احمد بن حنبل رحمه الله کے نزدیک نماز میں رفع الیدین کی اہمیت"
امام اہلُ السُّنہ امام احمد بن حنبل رحمه الله فرماتے ہیں :
"رفع الیدین کے ساتھ نماز پڑھنے والے کی نماز ، رفع الیدین نہ کرنے والے سے زیادہ مکمل ہے اور جو اسے چھوڑتا ہے وہ سنتِ نبوی سے منہ موڑتا ہے."
(مسائل ابن ھانیء : 240)
عبدالله بن احمد بیان کرتے ہیں میں نے والدِ محترم سے پوچھا :
ایک حافظِ قرآن رفع الیدین نہیں کرتا اور دوسرا رفع الیدین تو کرتا ہے لیکن حافظِ قرآن نہیں ہے، نماز میں امامت کے لیے کسے آگے کیا جائے؟
فرمایا :
" جو قرآنِ مجید زیادہ پڑھنے والا ہو (یعنی حافظِ قرآن) البتہ اسے چاہیے کہ رفع الیدین کرے کیونکہ یہ سنت ہے."
(مسائل عبداللہ : 252)
اس مسئلے کا تعلق وہاں ہے جہاں رفع الیدین نہ کرنے والے کے باقی عقائد و اعمال درست ہوں، البتہ ایسے علاقے جن میں رفع الیدین نہ کرنا اہلِ بدعت و قبر پرست لوگوں کی علامت و شعار ہو وہاں رفع الیدین کرنے والے کو ہی امام بنانا چاہیے، چاہے وہ قرآن کا کم علم ہی رکھتا ہو.
صالح بن احمد رحمه الله بیان کرتے ہیں :
"میں نے والدِ گرامی سے پوچھا، اگر بندہ کسی ایسی جگہ ہو جہاں منکرینِ رفع الیدین ہوں، اسے کرنے پر رافضی ہونے کا الزام لگاتے ہوں تو کیا وہاں رفع الیدین چھوڑنا جائز ہے؟
فرمایا :
" بالکل نہ چھوڑے، البتہ انہیں نرمی سے سمجھائے."
(مسائل صالح : 161)
امام ابو داود رحمه الله بیان کرتے ہیں میں نے امام احمد رحمه الله سے سنا جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے رفع الیدین کے متعلق نبی کریم صلی الله علیه و سلم کی احادیث سن لیں، پھر بھی رفع الیدین نہیں کرتا تو اس کی نماز کامل ہے؟؟؟
تو انہوں نے فرمایا :
"نماز کامل ہونے کا تو مجھے نہیں پتا، البتہ میرے مطابق ایسا شخص خواہشات پرست ہے."
(مسائل ابی داود : 235)
(نیز دیکھئے : الجامع لعلوم الإمام أحمد - الفقه : 6/ 94-106)
✍🏻 - ترجمہ : حافظ محمد طاھر
2 924
*💎 جب بچے بالغ ہو جائیں•••*
• سیدنا ابن عمر رضی الله عنهما سے روایت ہے کہ « جب ان کا کوئی بچہ بلوغت کو پہنچ جاتا تو اس کو الگ کر دیتے اور وہ اجازت کے بغیر اندر داخل نہیں ہوتا تھا ».
*🖊️فائدہ :* بچے جب سمجھ دار ہو جائیں تو انہیں یہ تعلیم دینی چاہیے کہ والدین کے کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوں، خصوصاً دوپہر کے وقت، عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے اس کا ضرور اہتمام کریں۔
📘 { الأدب المفرد : ١٠٥٨ }
#منتخب_احادیث
2 924
⭕ - *فتنوں کے دور کے متعلق رسول الله ﷺ کی نصیحت!*
🔸 - سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنه نے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:
”فتنوں کا دور جب آئے گا تو اس میں بیٹھنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس میں جھانکے گا فتنہ بھی اسے اچک لے گا اور اس وقت جسے جہاں بھی پناہ مل جائے بس وہیں پناہ پکڑ لے تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے۔“
📗 - *(صحیح البخاری: 3601)*
#فتنے
2 924
♥️ - *"کائنات کا مہنگا ترین مہر"*
🏷️ سیدنا انس بن مالك رضي الله عنه سے مروی ہے کہ سيدنا ابو طلحہ رضي الله عنه نے (ان کی والدہ) سيده ام سلیم رضي الله عنها کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا :
🏷️ "اے أبو طلحہ! الله کی قسم! تیرے جیسے شخص کا پیغام رد نہیں کیا جا سکتا لیکن تو کافر ہے اور میں اسلام لا چکی ہوں۔ میرے لیے تجھ سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر تو مسلمان ہو جائے تو یہی میرا مہر ہو گا اور میں تجھ سے اس کے علاوہ کوئی مہر نہ مانگوں گی۔"
🏷️ وہ مسلمان ہو گئے اور ان کا اسلام ہی سيده ام سلیم رضي الله عنها کا مہر قرار پایا۔ سيدنا انس رضي الله عنه کے شاگرد حضرت ثابت نے کہا :
🏷️ "میں نے کسی اور عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کا مہر سيده ام سلیم رضي الله عنها کے مہر اسلام سے بہتر ہو۔ سيدنا أبو طلحہ رضي الله عنه نے ان کے ساتھ زندگی گزاری اور ان سے ان کے بچے بھی ہوئے."
📕 - *(سنن النسائي : ٣٣٤٣، إسناده صحيح)*
🏷️ اس طرح سیدنا انس بن مالك کو اپنے حقیقی باپ (مالك بن نضر) سے زیادہ چاہنے والا مومن باپ مل گیا. اور وہ اپنی ماں سیدہ ام سلیم کے ساتھ اپنے سوتیلے باپ سیدنا أبو طلحہ - رضي الله عنهم - کے گھر چلے آئے.
2 924
🌺 *برتن میں سانس نہ لو!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۔*🔹
📗«صحیح بخاری-١٥٣»
2 924
احنف بن قیس نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت کی، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ قَالَهَا ثَلَاثًا - غلو میں گہرے اترنے والے ہلاک ہو گئے۔ آپ ﷺ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔
(صحیح مسلم : 2670)
المتنطعون : غلو اور انتہا پسندی اختیار کرنے والے، بال کی کھال اتارنے والے، کیونکہ تنطع کا معنی غلو اور تعمق ہے۔
بے مقصد اور بے فائدہ موشگافیاں کرنا اور حد سے بڑھنا پسندیدہ طرز عمل نہیں ہے، کیونکہ یہ بد عملی اور راہ فرار اختیار کرنے یا بہانہ سازی کا باعث بنتا ہے ۔۔
(فضيلۃ الشيخ عبد العزيز علوی حفظہ اللہ)
2 924
🍁 *یتیموں کا مال ناحق کھانے والے!*
🔹 *یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں ، اور انہیں جلد ہی ایک دہکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا ۔*🔹
📗«سورۃ النساء-10»
2 924
🍂 *جمعہ کے دن غسل !*
🔹 *حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جمعے کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر ضروری ہے ، نیز وہ مسواک کرے اور جو خوشبو حاصل کر سکے ، لگائے ۔‘‘*🔹
📗«سنــن النسائی-1384»
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: رجسٹر میں مستحقین کے ناموں کا اندراج کرنا
حدیث نمبر: 2962
💞ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے وہ (جب بولتے ہیں) حق ہی بولتے ہیں ۔
📚تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٦٥، ١٧٧) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: کس عمر کے مرد کا حصہ لگانا چاہیے
حدیث نمبر: 2957
💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر (١٤) سال تھی، آپ ﷺ نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہوگئے تھے، آپ ﷺ نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات ١٨ (٢٦٦٤)، والمغازي ٢٩ (٤٠٩٧)، سنن النسائی/الطلاق ٢٠ (٣٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٣، ٨١١٥، ٨١٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٢٣ (١٨٦٤)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٤ (١٣١٦)، والجھاد ٣١ (١٧١١)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤٣)، مسند احمد (٢/١٧) ویأتی ہذا الحدیث فی الحدود (٤٤٠٦) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: مسلمانوں کے بچوں کو حصہ دینا
حدیث نمبر: 2954
💞جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: میں مسلمانوں سے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں (بس) جو مرجائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ (قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش) میرے ذمہ ہے ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٥)، والصدقات ١٣ (٢٤١٦)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٧)، سنن النسائی/العیدین ٢١ (١٥٧٩)، والجنائز ٦٧ (١٩٦٤)، مسند احمد (٣/٣٧١) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: امام پر رعیت کے حقوق اور ان کی ضروریات کی تکمیل کا بیان
حدیث نمبر: 2949
❤️ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم کو کوئی چیز نہ اپنی طرف سے دیتا ہوں اور نہ ہی اسے دینے سے روکتا ہوں میں تو صرف خازن ہوں میں تو بس وہیں خرچ کرتا ہوں جہاں مجھے حکم ہوتا ہے ۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ٧ (٣١١٧)، مسند احمد (٢/ ٣١٤، ٤٨٢) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: عاملین کو ہدیہ لینا درست نہیں
حدیث نمبر: 2946
💐🪷ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا (ابن سرح کی روایت میں ابن اتبیہ ہے) جب وہ (وصول کر کے) آیا تو کہنے لگا: یہ مال تو تمہارے لیے ہے (یعنی مسلمانوں کا) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے، تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: عامل کا کیا معاملہ ہے؟ کہ ہم اسے (وصولی کے لیے) بھیجیں اور وہ (زکاۃ کا مال لے کر) آئے اور پھر یہ کہے: یہ مال تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، کیوں نہیں وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے کہ نہیں ١ ؎، تم میں سے جو شخص کوئی چیز لے گا وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا، اگر اونٹ ہوگا تو وہ بلبلا رہا ہوگا، اگر بیل ہوگا تو ڈکار رہا ہوگا، اگر بکری ہوگی تو ممیا رہی ہوگی ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائے کہ ہم نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ (یعنی تو گواہ رہ جیسا تو نے فرمایا ہو بہو ویسے ہی میں نے اسے پہنچا دیا) ۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ٦٧ (١٥٠٠)، الھبة ١٧ (٢٥٩٧)، الأیمان والنذور ٣ (٦٦٣٦)، الحیل ١٥ (٦٩٧٩)، الأحکام ٢٤ (٧١٧٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٧ (١٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢٣)، سنن الدارمی/الزکاة ٣١ (١٧١١) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس کام پر مقرر نہ ہوتا تو یہ ہدیہ اس کو کبھی نہ ملتا۔
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: عاملین زکوة کی تنخواہ کا بیان
حدیث نمبر: 2944
🌹ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر ؓ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة ٥١ (١٤٧٣)، والأحکام ١٧ (٧١٦٣)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٧ (١٠٤٥)، سنن النسائی/الزکاة ٩٤ (٢٦٠٥، ٢٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧، ٤٠، ٥٢)، سنن الدارمی/الزکاة ١٩ (١٦٨٩) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 2941
🌹عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں سے کس طرح بیعت لیا کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، البتہ عورت سے عہد لیتے جب وہ عہد دے دیتی تو آپ ﷺ فرماتے: جاؤ میں تم سے بیعت لے چکا ۔
📚تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة ٢١ (١٨٦٦)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦٠ (٣٣٠٦) (تحفة الأشراف: ١٦٦٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الممتحنة ٢ (٤٨٩١)، والطلاق ٢٠ (٥٢٨٨)، والأحکام ٤٩ (٧٢١٤)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٣ (٢٨٧٥)، مسند احمد (٦/١١٤) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 2940
💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے اور ہمیں آپ ﷺ تلقین کرتے تھے کہ ہم یہ بھی کہیں: جہاں تک ہمیں طاقت ہے (یعنی ہم اپنی پوری طاقت بھر آپ کی سمع و طاعت کرتے رہیں گے) ۔
📚تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧١٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام ٤٣ (٧٢٠٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٢ (١٨٦٧)، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٣)، سنن النسائی/البیعة ٢٤ (٤١٩٢)، موطا امام مالک/البیعة ١ (١)، مسند احمد (٢/٦٢، ٨١، ١٠١، ١٣٩) (صحیح )
2 924
📗سنن ابوداؤد
کتاب: محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء
باب: بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 2939
💞عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد نہ کروں (تو کوئی حرج نہیں) کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا ١ ؎ اور اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کر دوں (تو بھی کوئی حرج نہیں) کیونکہ ابوبکر ؓ نے خلیفہ مقرر کیا تھا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! انہوں نے صرف رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کا ذکر کیا تو میں نے سمجھ لیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے برابر کسی کو درجہ نہیں دے سکتے اور یہ کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔
📚 تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة ٢ (١٨٢٣)، سنن الترمذی/الفتن ٤٨ (٢٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٢١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام ٥١ (٧٢١٨)، مسند احمد (١/٤٣) (صحیح )
✏️وضاحت: ١ ؎: عمر ؓ کے فرمان: کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے لئے کسی متعین شخص کا نام نہیں لیا تھا بلکہ صرف اتنا کہہ کر رہنمائی کردی تھی کہ الأئمة من قريش چناچہ عمر ؓ نے بھی اسی سنت نبوی کو اپنا کر کبار صحابہ میں سے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے لئے چھ ناموں کا اعلان کیا اور کہا کہ ان میں سے صحابہ جس پر اتفاق کرلیں وہی میرے بعد ان کا خلیفہ ہے چناچہ سبھوں نے عثمان ؓ پر اتفاق کیا۔
