es
Feedback
1 798
Suscriptores
Sin datos24 horas
+177 días
+3030 días

Carga de datos en curso...

Nube de Etiquetas
Sin datos
¿Algún problema? Por favor, actualice la página o contacte a nuestro gerente de soporte.
Menciones Entrantes y Salientes
---
---
---
---
---
---
Atraer Suscriptores
septiembre '26
septiembre '26
+18
en 3 canales
agosto '26
+65
en 3 canales
Get PRO
julio '26
+80
en 3 canales
Get PRO
junio '26
+48
en 3 canales
Get PRO
mayo '26
+50
en 3 canales
Get PRO
abril '26
+49
en 3 canales
Get PRO
marzo '26
+65
en 3 canales
Get PRO
febrero '26
+61
en 2 canales
Get PRO
enero '26
+59
en 2 canales
Get PRO
diciembre '25
+41
en 3 canales
Get PRO
noviembre '25
+39
en 2 canales
Get PRO
octubre '25
+51
en 2 canales
Get PRO
septiembre '25
+38
en 0 canales
Get PRO
agosto '25
+57
en 1 canales
Get PRO
julio '25
+48
en 2 canales
Get PRO
junio '25
+52
en 1 canales
Get PRO
mayo '25
+67
en 2 canales
Get PRO
abril '25
+42
en 1 canales
Get PRO
marzo '25
+51
en 4 canales
Get PRO
febrero '25
+51
en 2 canales
Get PRO
enero '25
+95
en 5 canales
Get PRO
diciembre '24
+80
en 1 canales
Get PRO
noviembre '24
+95
en 1 canales
Get PRO
octubre '24
+111
en 2 canales
Get PRO
septiembre '24
+96
en 2 canales
Get PRO
agosto '24
+113
en 3 canales
Get PRO
julio '24
+150
en 2 canales
Get PRO
junio '240
en 3 canales
Get PRO
mayo '240
en 2 canales
Get PRO
abril '240
en 1 canales
Get PRO
marzo '240
en 4 canales
Get PRO
febrero '24
+18
en 4 canales
Get PRO
enero '24
+73
en 4 canales
Get PRO
diciembre '23
+37
en 3 canales
Get PRO
noviembre '230
en 1 canales
Get PRO
octubre '23
+8
en 0 canales
Get PRO
septiembre '23
+20
en 0 canales
Get PRO
agosto '23
+23
en 0 canales
Get PRO
julio '23
+43
en 0 canales
Get PRO
junio '23
+20
en 0 canales
Get PRO
mayo '23
+18
en 0 canales
Get PRO
abril '23
+31
en 0 canales
Get PRO
marzo '23
+6
en 0 canales
Get PRO
febrero '23
+7
en 0 canales
Get PRO
enero '23
+11
en 0 canales
Get PRO
diciembre '22
+12
en 0 canales
Get PRO
noviembre '22
+13
en 0 canales
Get PRO
octubre '22
+6
en 0 canales
Get PRO
septiembre '22
+34
en 0 canales
Get PRO
agosto '22
+21
en 0 canales
Get PRO
julio '22
+20
en 0 canales
Get PRO
junio '22
+30
en 0 canales
Get PRO
mayo '22
+17
en 0 canales
Get PRO
abril '22
+40
en 0 canales
Get PRO
marzo '22
+47
en 0 canales
Get PRO
febrero '22
+19
en 0 canales
Get PRO
enero '22
+36
en 0 canales
Get PRO
diciembre '21
+19
en 0 canales
Get PRO
noviembre '21
+16
en 0 canales
Get PRO
octubre '21
+40
en 0 canales
Get PRO
septiembre '21
+23
en 0 canales
Get PRO
agosto '21
+26
en 0 canales
Get PRO
julio '21
+16
en 0 canales
Get PRO
junio '21
+33
en 0 canales
Get PRO
mayo '21
+264
en 0 canales
Fecha
Crecimiento de Suscriptores
Menciones
Canales
06 septiembre+2
05 septiembre+2
04 septiembre+2
03 septiembre+6
02 septiembre+1
01 septiembre+5
Publicaciones del Canal
موبائل میں قرآنِ پاک کی ایپ کھولنے اور اسے چھونے سے متعلق حکم: 👇 سوال: کیا حیض و نفاس والی عورت یا جنب شخص موبائل میں قرآنِ پاک کی ایپ کھول سکتا ہے؟ اور اگر موبائل کی اسکرین پر قرآنِ پاک کی آیات کھلی ہوئی ہوں تو کیا اس موبائل یا اس کی اسکرین کو چھو سکتا ہے؟ الجواب بعون الملک الوھاب:👇 حیض و نفاس والی عورت اور جنب شخص کے لیے قرآنِ کریم کی باقاعدہ تلاوت کرنا جائز نہیں، خواہ زبانی تلاوت کرے یا موبائل وغیرہ میں دیکھ کر تلاوت کرے۔ فتاویٰ رضویہ، جلد ۱، ص ۱۰۷۵؛ فتاویٰ رضویہ، جلد ۴، ص ۳۶۶ بہارِ شریعت، جلد ۱، ص ۳۷۹ لیکن یہاں ایک نہایت اہم فرق سمجھنے کی ضرورت ہے:👇 قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا ایک الگ مسئلہ ہے، اور موبائل میں موجود قرآنِ پاک کی ایپ کو کھولنا یا موبائل کو چھونا ایک الگ مسئلہ ہے۔ لہٰذا اگر موبائل میں قرآنِ پاک کھلا ہوا ہو تو حیض و نفاس والی عورت یا جنب شخص کے لیے اس موبائل کو، حتیٰ کہ اس کی اسکرین کو بھی چھونا جائز ہے؛ البتہ اس حالت میں آیات کی تلاوت جائز نہئں۔ ❗ بعض حضرات کا استدلال: ❗️👇 بعض حضرات موبائل کی اسکرین کو چھونے کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ:👇 موبائل کا شیشہ قرآنِ پاک کے غلافِ منفصل کی طرح نہیں کہ اسے آسانی سے الگ کیا جاسکے، بلکہ غلافِ متصل کی طرح ہے، یعنی وہ موبائل کے ساتھ متصل رہتا ہے، لہٰذا اسکرین بھی اسی موبائل کا تابع ہے، اور چونکہ اس پر قرآنِ پاک کے حروف دکھائی دے رہے ہیں، اس لیے اسے چھونا بھی جائز نہیں ہونا چاہیے۔ مگر یہ استدلال درست نہیں۔ کیوں؟؟؟ 👇 اس لیے کہ فقہائے کرام نے ممانعت کا مدار محض اس بات پر نہیں رکھا کہ کوئی چیز مصحف کے ساتھ لگی ہوئی ہے، بلکہ تابعِ مصحف ہونے کا اعتبار فرمایا ہے۔ امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:👇 "یہ زوائد (ترجمہ و تفسیر) قرآنِ عظیم کے توابع ہیں اور مصحف شریف سے جدا نہیں، ولہٰذا حاشیۂ مصحف کی بیاضِ سادہ کو چھونا بھی ناجائز ہوا، بلکہ پٹھوں کو بھی، بلکہ چولی پر سے بھی، بلکہ ترجمہ کا چھونا خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جدا لکھا ہو۔" فتاویٰ رضویہ، جلد ۱، ص: ۱۰۷۵ اس عبارت پر غور کیجیے! امامِ اہلِ سنت نے مصحف کے حاشیے، پٹھوں، چولی اور ترجمہ وغیرہ کے بارے میں حکم بیان کرتے ہوئے ان کے تابعِ مصحف ہونے کو ملحوظ رکھا ہے۔ یعنی جو چیز شرعاً مصحف کے تابع قرار پائے، اسے چھونے کا حکم بھی مصحف کے حکم سے متعلق ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ:👇 کیا موبائل کا شیشہ یا موبائل کا پچھلا حصہ قرآنِ پاک کا تابع ہے؟ یقیناً نہیں! اگر موبائل کا شیشہ قرآنِ پاک کا تابع قرار پائے، تو پھر صرف سامنے کا شیشہ ہی کیوں؟ موبائل کا پورا جسم اسی کے ساتھ متصل ہے، اس کا پچھلا حصہ، نیچے، اوپر، کنارے، بٹن وغیرہ یہ سب کے سب موبائل سے متصل اجزا ہیں نہ کہ منفصل ۔ تو کیا یہ کہا جائے گا کہ موبائل میں قرآنِ پاک کھلا ہونے کی صورت میں پورا موبائل ہی مصحف کا تابع ہوگیا اور حیض و جنابت کی حالت میں موبائل کا چھونا بھی ناجائز ہوگیا؟ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی حکم نہیں۔ 📖 غلافِ منفصل کی فقہی مثال: 👇 فقہائے کرام نے مصحف کے غلافِ منفصل کو چھونے کی اجازت دی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:👇 لَا يَجُوزُ لَهُمَا وَلِلْجُنُبِ وَالْمُحْدِثِ مَسُّ الْمُصْحَفِ إِلَّا بِغِلَافٍ مُتَجَافٍ عَنْهُ كَالْخَرِيطَةِ وَالْجِلْدِ الْغَيْرِ الْمُشَرَّزِ لَا بِمَا هُوَ مُتَّصِلٌ بِهِ۔ ان دونوں (حیض و نفاس والی عورتوں) کے لیے، اور جنب و بے وضو شخص کے لیے بھی مصحفِ قرآن کو چھونا جائز نہیں، مگر ایسے غلاف کے ساتھ جو مصحف سے جدا ہو، مثلاً تھیلی یا ایسا چمڑے کا غلاف جو مصحف کے ساتھ سلا ہوا نہ ہو، البتہ جو غلاف مصحف کے ساتھ متصل ہو، اس کو چھونا بھی جائز نہیں۔ 📚 فتاویٰ عالمگیری، جلد ۱، ص: ۳۸، دارالفکر 📚 فتاویٰ عالمگیری، جلد ۱، ص: ۴۳، علمیہ 📚 فتاویٰ عالمگیری، جلد ۱، ص: ۹۳، زکریا یہاں فقہاء نے غلافِ منفصل اور غلافِ متصل میں واضح فرق فرمایا ہے۔ اسی طرح فتاویٰ شامی میں ہے:👇 لَوْ كَانَ الْمُصْحَفُ فِي صُنْدُوقٍ فَلَا بَأْسَ لِلْجُنُبِ أَنْ يَحْمِلَهُ۔ ترجمہ: اگر قرآنِ کریم کسی صندوق کے اندر ہو تو جنب کے لیے اس صندوق کو اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ 📚 فتاویٰ شامی، جلد ۱، ص ۲۹۳، دارالفکر، بیروت 📚 فتاویٰ شامی، جلد ۱، ص ۴۸۸، علمیہ، بیروت 📱 اب موبائل کو سامنے رکھیے! موبائل میں قرآنِ پاک کی آیات دکھائی دیتی ہیں، لیکن موبائل مصحف نہیں بن جاتا۔ موبائل کی اسکرین پر ظاہر ہونے والے قرآنی حروف کاغذ پر چھپے یا لکھے ہوئے مستقل حروف کی طرح نہیں ہوتے کہ انہیں مصحف کے مادی حروف قرار دیا جائے۔ وہ ایک برقی/ڈیجیٹل صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور اسکرین کے ذریعے ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا موبائل کی اسکرین کو مصحف کے تابع حصے پر قیاس کرنا درست نہیں، بلکہ اس معاملے میں اسے اس چیز کے مشابہ سمجھا جائے گا جس کے اندر قرآن موجود ہو مگر وہ خود قرآن نہ ہو، نہ ہی اس کے تابع، جیسے صندوق میں رکھا ہوا مصحف۔ لہٰذا حیض و نفاس والی یا جنب کو: موبائل میں قرآن کی ایپ کھولنا جائز ہے۔ موبائل میں قرآنِ پاک کی آیات دیکھنا جائز ہے۔ قرآن کھلا ہوا ہو تو موبائل کو ہاتھ لگانا جائز ہے۔ حتیٰ کہ اسکرین کو چھونا بھی جائز ہے۔ لیکن حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں قرآنِ پاک کی باقاعدہ تلاوت کرنا جائز نہیں۔ ایک ضروری وضاحت: 👇 یہاں "موبائل کو چھونا جائز ہے" کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ حیض و نفاس والی عورت یا جنب شخص کو قرآنِ کریم کی تلاوت بھی جائز ہوگئی۔ بلکہ دونوں مسئلے الگ الگ ہیں:👇 مسِّ جوال (موبائل کے چھونے) کا حکم الگ ہے، اور تلاوتِ قرآن کا حکم الگ۔ لہٰذا موبائل میں قرآنِ پاک کھلا ہوا ہو تو اسے ہاتھ لگانے میں حرج نہیں، مگر حیض و نفاس یا جنابت کی حالت میں تلاوت نہیں کی جائے گی۔ خلاصۂ کلام یہ کہ: 👇 قرآنِ پاک کو بلا وضو چھونا حرام ہے، اس کے تابع اجزاء کا بھی یہی حکم ہے، لیکن موبائل مصحف نہیں اور اس کی اسکرین یا پورا موبائل بھی مصحفِ پاک کا تابع نہیں، (بلکہ اس کی مثال صندوق کی طرح ہے۔) لہٰذا موبائل میں قرآنِ پاک کھلا ہونے کے باوجود حیض و نفاس والی عورت یا جنب کے لیے موبائل اور اس کی اسکرین کو چھونا جائز ہے، البتہ تلاوت کرنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ:✍✍✍ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 19 ربیع النور شریف، 1448ھ، جمعرات 💚💚💚✍💚💚💚 https://t.me/jamiya_sadiya_arabiya_kerala/41 🔴🔴🔴📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️📱

2
غریب بچی کی شادی کے لیے جمع شدہ رقم، کاروباری نقصان، چندہ اور زکوٰۃ کے متعلق شرعی حکم: 👇 سوال: ❗️👇 ایک غریب گھرانے کی ایک بچی کی والدہ نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے تین لاکھ روپے جمع کر رکھے تھے۔ یہ رقم خاص طور پر بیٹی کی شادی کے لیے محفوظ کی گئی تھی۔ ایک خاتون نے اس بچی کی والدہ سے کہا کہ: اگر یہ تین لاکھ روپے کاروبار میں لگا دیے جائیں تو تین لاکھ کے چھ لاکھ ہوجائیں گے۔ بچی کی والدہ نے اسی امید پر اپنی بیٹی کی شادی کے لیے جمع کیے ہوئے تین لاکھ روپے اس خاتون کو دے دیے۔ اس خاتون نے یہ بھی کہا کہ: 👇 اگر کاروبار میں نفع نہ ہوا تو اصل تین لاکھ روپے محفوظ رہیں گے اور وہ رقم واپس کر دی جائے گی۔ بعد میں کاروبار میں نفع ہونے کے بجائے پوری رقم ڈوب گئی۔😢 اب چونکہ بچی کی والدہ کو اپنی بیٹی کی شادی کے لیے وہ تین لاکھ روپے دوبارہ درکار ہیں، اس لیے مذکورہ خاتون اپنی طرف سے تین لاکھ روپے ادا کرنے کے بجائے دوسرے لوگوں سے مالی مدد حاصل کر رہی ہیں۔ وہ لوگوں سے یہ کہہ کر رقم مانگ رہی ہیں:👇 "میں نے ایک غریب/یتیم بچی کی شادی کا ذمہ لیا ہے، اس کی شادی کرانی ہے، آپ اس کی مدد کریں۔" لوگ اس بات کو سن کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ بچی کی شادی کے اخراجات کے لیے رقم درکار ہے اور اسی نیت سے مدد کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بچی کی شادی کے لیے اس کی والدہ نے پہلے ہی تین لاکھ روپے جمع کیے تھے، لیکن وہ رقم کاروبار میں ڈوب گئی ہے۔ اب اصل مقصد وہی تین لاکھ روپے واپس کرنا ہے تاکہ بچی کی شادی کے لیے اس کی والدہ کے پاس رقم دوبارہ موجود ہوجائے۔ مزید یہ کہ ایک شخص نے مدرسے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی۔ مذکورہ خاتون نے حیلۂ شرعی کے ذریعے وہ رقم اپنے پاس حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کیا، اور شروع ہی سے مقصد یہ تھا کہ حیلہ کرنے کے بعد وہ رقم اسی خاتون کو دے دی جائے تاکہ وہ اسے مذکورہ بچی کے تین لاکھ روپے واپس کرنے میں استعمال کر سکیں۔ درج ذیل امور کے بارے میں شرعی حکم مطلوب ہے:👇 ❶. جب بچی کی والدہ نے تین لاکھ روپے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے جمع کیے تھے اور مذکورہ خاتون نے انہیں کاروبار میں لگانے کے لیے لیا، ساتھ ہی اصل رقم واپس کرنے کی ضمانت بھی دی، تو کاروبار میں رقم ڈوب جانے کے بعد کیا مذکورہ خاتون پر تین لاکھ روپے واپس کرنا شرعاً لازم ہے؟ ❷. کیا لوگوں سے یہ کہہ کر رقم لینا کہ "ایک غریب/یتیم بچی کی شادی کا ذمہ لیا ہے، اس کی شادی کرانی ہے" جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ بچی کی شادی کے لیے رقم پہلے سے موجود تھی اور کاروبار میں ڈوب جانے کے بعد وہی رقم واپس کی جا رہی ہے، شرعاً جائز ہے؟ ❸. اگر لوگ یہ سمجھ کر رقم دے رہے ہوں کہ وہ بچی کی شادی کے اخراجات میں خرچ ہوگی، جبکہ حقیقت میں وہ رقم اس بچی کی پہلے سے موجود اور کاروبار میں ڈوب جانے والی رقم واپس کرنے میں استعمال ہوگی، تو کیا اس طرح لوگوں سے رقم لینا درست ہے؟ ❹. کیا اس طریقے سے بچی کو لوگوں کے سامنے "غریب/محتاج" ظاہر کرنا، جبکہ اس کی والدہ نے اس کی شادی کے لیے پہلے ہی رقم جمع کر رکھی تھی، بچی کی عزتِ نفس کے خلاف یا شرعاً قابلِ اعتراض ہے؟ ❺. مدرسے کے لیے دی گئی زکوٰۃ کی رقم کو پہلے سے اس نیت سے حیلۂ شرعی کے ذریعے مذکورہ خاتون تک پہنچانا کہ وہ رقم اسی بچی کے تین لاکھ روپے واپس کرنے میں استعمال کرے، کیا شرعاً درست ہے؟ ❻. اگر مذکورہ خاتون خود رقم واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں اور لوگوں سے مدد لینا چاہتی ہیں، تو شرعاً صحیح اور جائز طریقہ کیا ہوگا؟ براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں مکمل اور واضح حکم بیان فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً الجواب بعون الملک الوھاب: 👇 مذکورہ سوال کے بارے میں حضرت استادِ محترم حضرت علامہ مفتی اشفاق احمد مصباحی صاحب قبلہ سے دریافت کیا، تو حضرت نے ارشاد فرمایا کہ: 👇 اگر یہ ایسا کاروبار ہوتا کہ نفع و نقصان میں سب شرکاء اپنے اپنے حصے کے مطابق شریک ہوتے اور واقعۃً پوری پونجی ختم ہوجاتی تو جتنا نقصان اس کے حصے میں آتا اتنا برداشت کرنا ہوتا، مگر یہاں ایسی صورت نظر نہیں آتی، کیونکہ یہ کاروبار اس شرط پر ہواتھا کہ: 👇 اگر کاروبار میں نفع نہ ہوا تو اصل تین لاکھ روپے محفوظ رہیں گے اور وہ رقم واپس کردی جائے گی۔ اس شرط کی وجہ سے یہ کاروبار غیر شرعی اور واجب الفسخ ہوا، لہٰذا مذکورہ تین لاکھ روپے واپس کرنا لازم ہے۔ اب آپ کے بقیہ سوالات کے جوابات نمبر وار حاضر ہیں :👇 ❶ جی ہاں! مذکورہ صورت میں تین لاکھ روپے واپس کرنا لازم ہیں۔ ❷ ایسا کہہ کر پیسہ لینا جائز نہیں۔ یہ دھوکہ اور جھوٹ ہے۔ ❸ اس کا جواب ماقبل سے واضح ہوگیا؛ یعنی اگر لوگوں کو حقیقت سے مختلف تاثر دے کر رقم حاصل کی جائے تو ایسا کرنا جائز نہیں۔ ❹ اگر واقعی ضرورت ہے تو اس کے لیے جائز طریقے سے رقم لی جاسکتی ہے، کوئی حرج نہیں۔ محض مدد طلب کرنا یا بچی کی شادی کے لیے تعاون حاصل کرنا فی نفسہٖ ممنوع نہیں، البتہ جھوٹ اور دھوکے سے بچنا ضروری ہے۔ ❺ اگر وہ خاتون شرعی طور پر غریب اور مستحقِ زکوٰۃ ہیں تو حیلۂ شرعی کی بھی حاجت نہیں، انہیں زکوٰۃ وغیرہ کی رقم سے دی جاسکتی ہے۔ یا کسی مستحق فقیر کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ فقیر اپنی مرضی سے وہ رقم ہبہ کردے۔ البتہ اگر کسی شخص نے یہ کہہ کر زکوٰۃ دی ہو کہ فلاں مدرسے یا فلاں بچوں پر خرچ کرنا ہے تو اس میں سے مذکورہ خاتون کے لیے لینا جائز نہ ہوگا۔ ❻ جائز طریقے کئی ہیں، مثلاً قرض لے، جائز طریقے سے مالی مدد مانگے یا کسی اور مباح ذریعے سے رقم کا انتظام کرے۔ ہاں، ہر صورت میں دھوکہ اور جھوٹ سے بچنا ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:✍✍✍ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 19 ربیع النور شریف، 1448ھ، جمعرات 💚💚💚✍💚💚💚 https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2610 🔴🔴🔴📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️📱
123
3
سوال: ❗️👇 ہندہ کو حیض آیا اور اسے علم نہ ہوا کیونکہ اسے اور بھی دقت ہے، اس نے نماز ادا کر لی اب اس پر کیا حکم ہوگا؟ کیا معاف ہے؟ حضرت! رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ جزاک اللہ خیرا 🤲 جواب:✍ 👇👇👇 غلطی سے پڑھ لی گناہگار نہیں ہوگی۔ حیض و نفاس میں نماز معاف ہے۔ استحاضہ میں معاف نہیں۔ ❗ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: ✍✍✍ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 17 ربیع الاول 1448ھ، سہ شنبہ https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2610 سنی رضوی لائبریری: 👇👇 https://t.me/Sunni_Razavi_Library/11306
155
4
🔴✅📱بنیادی تعلیم مضبوط کریں، اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں یہاں ترکیب سکھائی جاتی ہے۔ رابطہ نمبر: 💚💚💚👇 9570885436 واٹس ایپ چینل: 👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q درسِ نظامی چینل: 👇 https://t.me/Dars_E_Nizami_Suwal_O_Jawab/2927 سنی رضوی لائبریری: 👇👇 https://t.me/Sunni_Razavi_Library/11306 نعت و منقبت: ❤️❤️❤️👇 https://t.me/Tahriri_Kalam_Naat_O_Manqabat/2009 دیوناگری میں تحریر: 👇 https://whatsapp.com/channel/0029Vak99kIHQbRz3WLCan3E رومن میں تحریر: گروپ: 👇 https://chat.whatsapp.com/L7e66HMaNvz52UrfFbSq68 ❤️❤️❤️✍️❤️❤️❤️ https://t.me/Sunni_Razavi_Library/11306
87
5
📢 ممبرانِ محترم!!! ذرا توجہ فرمائیں: 👇 کچھ عرصے سے چند طالبات کی طرف سے اس مسئلے کے بارے میں ایسی باتیں سننے میں آرہی تھیں جو شرعی حوالہ کے بغیر بیان کی جارہی تھیں، مثلاً یہ کہنا کہ:👇 "استاد سے علمِ دین حاصل کرنا ہی حرام ہے!"😂🤔😳 اس سلسلے میں مجھے متعدد احباب کی طرف سے شکایات بھی موصول ہوئیں کہ فلاں طالبہ اس طرح کی باتیں کررہی ہیں، اور بعض اوقات ایسی باتیں بھی قطعی انداز میں کہی جارہی ہیں جن کے ساتھ کوئی حوالہ پیش نہیں کیا جاتا۔❗️🤔 بس جو جی میں آیا کہہ دیا۔ اسی لیے مناسب سمجھا کہ محض زبانی جواب دینے کے بجائے معتبر فقہی حوالہ جات کی روشنی میں باقاعدہ تحریر/فتویٰ تیار کرکے مسئلہ واضح کردیا جائے، تاکہ کسی کے دل میں اس بارے میں کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے۔❗️ مقصد کسی طالبہ کی تنقید یا دل آزاری نہیں، بلکہ شرعی مسئلے کو دلیل کے ساتھ سمجھانا اور غلط فہمی کی اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا تمام طالبات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ دینی مسائل میں اپنی رائے کو حتمی حکم نہ سمجھیں، بلکہ معتبر علماء و مفتیانِ کرام کے فتاویٰ اور مستند حوالہ جات کی طرف رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین صحیح سمجھنے، صحیح بات کہنے اور صحیح بات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲🤲🤲 کتبہ: ✍️✍️✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 15 ربیع الاول 1448ھ، یکشنبہ 💚💚💚❤️💚💚💚 https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2610 Aap ke masaael: group: 👇 https://chat.whatsapp.com/Gj9Zj420NLM0NiSqQB70nH?s=cl&p=a&mlu=0 💖💖💖💕💖💖💖
230
6
سوال:❗️❗️❗️👇 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: کیا طالبات صرف خواتین معلمات (استانیوں) ہی سے علمِ دین حاصل کرسکتی ہیں؟ کیا مرد استاد سے علمِ دین پڑھنا حرام ہے؟ بعض طالبات یہ کہتی ہیں کہ مرد استاد سے علمِ دین پڑھنا ہی حرام ہے، خواہ شرعی پردے کے ساتھ ہو، اور آج کل بہت سی طالبات آن لائن وائس کال کے ذریعے مرد اساتذہ سے عقائد و ضروری دینی مسائل پڑھتی ہیں۔ کیا یہ بھی ناجائز ہے؟ بالخصوص موجودہ دور میں جبکہ مختلف باطل فرقے اور گمراہ کن نظریات عام ہیں، اگر صحیح عقیدہ سیکھنے کے لیے مرد عالم سے بقدرِ ضرورت تعلیم حاصل کی جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حالانکہ یہ دینی ضرورت ہے، ایمان بچانا فرض ہے۔ ✍️ الجواب بعون الملک الوہاب:👇 مرد استاد سے علمِ دین حاصل کرنا مطلقاً حرام کہنا درست نہیں۔ اصل اعتبار شرعی پردے، حاجت و ضرورت، عدمِ خلوت اور عدمِ فتنہ کا ہے۔ اس مسئلہ کو درج ذیل تین باتوں سے سمجھا جاسکتا ہے:👇 ❶ پہلی بات: 👇 مرد سے علمِ دین سیکھنے کی اصل گنجائش: 👇 امامِ اہلِ سنت، سرکار اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک جوان پیر کے پاس عورتوں کے جانے کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ نے بے پردگی کو حرام قرار دینے کے بعد فرمایا:👇 «غرض کوئی فتنہ نہ فی الحال ہو، نہ اس کا اندیشہ ہو تو علم دین امور راہ خدا سیکھنے کے لئے جانے اور بلانے میں حرج نہیں۔» یعنی اگر فی الحال کوئی فتنہ نہ ہو اور نہ اس کا اندیشہ ہو تو علمِ دین اور راہِ خدا کے امور سیکھنے کے لیے جانا اور بلانا حرج نہیں۔ 📚 فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص 240، مسئلہ 97 اس عبارت میں غور کیجیے!!! 👆 سوال عورت کے جوان پیر کے پاس جانے کا ہے، اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شرعی شرائط کی رعایت کے ساتھ علمِ دین سیکھنے کے لیے جانے میں حرج نہ ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ:👇 «"مرد استاد سے علمِ دین پڑھنا ہی حرام ہے"» مطلقاً درست نہیں۔❗️❗️❗️ ہاں! اگر بے پردگی ہو، خلوت ہو، شہوت یا فتنہ کا اندیشہ ہو یا کوئی شرعی خرابی پائی جائے تو اس صورت کا حکم الگ ہوگا۔ ❷ دوسری بات: 👇👇 جب دنیاوی ضرورت کے لیے نامحرم سے بقدرِ ضرورت معاملہ جائز ہے تو دینی ضرورت کی اہمیت بھی سمجھی جائے۔ ❗️ سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک اور مسئلے میں اجنبی عورت کو چوڑی پہنانے والے اور طبیب کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا:👇 «طبیب کا نبض دیکھنا حاجت کے لئے ہے اور ایسی حاجت وضرورت کہ دیگر اعضاء مس (یعنی عورت کے بدن کو چھونا)‍ بھی جائز ہے۔» یعنی طبیب کا نبض دیکھنا حاجت کی وجہ سے ہے، اور ایسی حاجت و ضرورت کے وقت دوسرے اعضاء کو چھونا بھی جائز ہوسکتا ہے۔ پھر واضح فرمایا:👇 «رہا یہ کہ وہ نیت فاسدہ کرے یہ ضرور اسے حرام ہے مگر اس کا علم اللہ عزوجل کو ہے، ہاں بلا حاجت مس و نظر جائز کرتا ہوتو و ہ بھی فاسق ہے۔» 📚 فتاویٰ رضویہ، جلد 6، ص 591، مسئلہ 739 اس سے فقہی اصول سمجھ میں آتا ہے کہ حقیقی حاجت و ضرورت کا اعتبار کیا جاتا ہے، البتہ شرعی حدود بہرحال برقرار رہتی ہیں۔ اب غور کیجیے:👇👇👇 جب عورت اپنی دنیاوی ضرورت اور علاج کے لیے شرعی حدود کے اندر مرد طبیب سے بقدرِ ضرورت رجوع کرسکتی ہے، تو اپنے ایمان، عقیدہ، فرائض اور ضروری دینی مسائل کا علم حاصل کرنا تو اس سے کہیں زیادہ اہم حاجت ہے۔ خصوصاً آج کے دور میں، جب مختلف باطل افکار و نظریات عام ہیں اور بہت سے لوگ عقائد کے بارے میں غلط باتیں پھیلا رہے ہیں، صحیح عقیدہ سیکھنا اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا نہایت اہم ہے۔ لہٰذا محض یہ کہہ دینا کہ: 👇 "استاد مرد ہے، اس لیے اس سے دینی تعلیم لینا حرام ہے" درست طرزِ استدلال نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ یہی طالبات اپنی دنیاوی حاجات، مثلاً علاج و معالجہ کے لیے شرعی ضرورت کے تحت مرد طبیب سے بقدرِ ضرورت گفتگو اور معائنہ کرا لیتی ہیں، لیکن جب اپنے ایمان و عقیدہ اور ضروری دینی مسائل سیکھنے کے لیے شرعی حدود کے ساتھ کسی مرد عالم سے تعلیم حاصل کرنے کی بات آتی ہے تو اسے مطلقاً حرام قرار دینے لگتی ہیں۔ صد افسوس! کیا ایمان و عقیدہ کی حفاظت دنیاوی حاجت سے کم اہم ہے؟؟؟ ❸ تیسری بات: 👇👇👇 آن لائن وائس کال کے ذریعے دینی تعلیم: 👇 آج کے زمانے میں بہت سی طالبات آن لائن وائس کال کے ذریعے مرد اساتذہ سے علمِ دین، خصوصاً عقائد، ضروری مسائل اور دینی علوم حاصل کرتی ہیں۔ اگر صورت یہ ہو کہ:👇 صرف آواز کے ذریعے تعلیم ہو، چہرہ دکھانے یا جسم کا کوئی حصہ دکھانے کی ضرورت نہ ہو، خلوت کی صورت نہ ہو، گفتگو صرف تعلیم و تعلم کی ضرورت تک محدود ہو۔ تو محض اس وجہ سے کہ استاد مرد ہے، ایسی دینی تعلیم کو مطلقاً حرام کہنا درست نہیں۔❗️ بلکہ یہ حکم مذکورہ فقہی اصول کی روشنی میں سمجھا جائے گا۔ البتہ اگر کسی آن لائن رابطے میں آہستہ آہستہ غیر ضروری گفتگو، بے تکلفی، ذاتی تعلق یا فتنہ پیدا ہونے لگے تو اس سے بچنا لازم ہوگا، کیونکہ حاجت کے نام پر شرعی حدود کو پامال کرنے کی اجازت نہیں۔ اور اگر کسی طالبہ کو قابل و لائق فائق خاتون (استانی) سے مطلوبہ علم بآسانی حاصل ہوسکتا ہو تو خاتون استانی سے پڑھنا زیادہ محتاط اور فتنہ سے دور طریقہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ: 👇 دورِ حاضر میں ہر جگہ مطلوبہ علمی صلاحیت رکھنے والی ماہر معلمات بآسانی میسر نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ماہر معلمین بھی مشکل سے دستیاب ہوتے ہیں۔ روز بروز علم اٹھتا جارہاہے، یعنی اکابر اہلِ علم کے یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جارہے ہیں، اسی لیے دورِ حاضر میں بہت سی طالبات صحیح عقائد و ضروری دینی مسائل کے حصول کے لیے ماہر اساتذہ سے استفادہ کر رہی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ: 👇 استاد سے علمِ دین حاصل کرنا شرائط کےساتھ جائز ہے۔ لہٰذا نہ تو بے احتیاطی کی اجازت ہے، نہ بے جا سختی کی، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ علمِ دین بھی حاصل کیا جائے اور شریعت کی تمام حدود بھی محفوظ رکھی جائیں۔ اور جس چیز کو شریعت نے مطلقاً حرام نہیں فرمایا، اسے محض اپنی رائے یا غلط فہمی کی بنیاد پر مطلقاً حرام قرار دینے سے بھی بچنا چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ 📚 مراجع:👇👇👇 فتاویٰ رضویہ، جلد 6، ص 591، مسئلہ 739۔ فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص 240، مسئلہ 97۔ فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص 243، مسئلہ 106 فتاویٰ بحر العلوم، جلد1، ص: 386 فتاویٰ اتراکھنڈ، جلد2، ص: 319 کتبہ: ✍️✍️✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 15 ربیع الاول 1448ھ، یکشنبہ 💚💚💚❤️💚💚💚 💚💚💚❤️💚💚💚 https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2553 Aap ke masaael: group: 👇 https://chat.whatsapp.com/Gj9Zj420NLM0NiSqQB70nH?s=cl&p=a&mlu=0 💖💖💖💕💖💖💖 🔴🔴🔴📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️📱
210
7
سوال:❗️❗️❗️👇 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر کسی شخص کا گھر مثلث نما، یعنی تین کونوں والا بنا ہوا ہو تو کیا اس گھر میں رہنا شرعاً جائز ہے؟ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ تین کونوں والے گھر میں رہنے سے مصیبت، پریشانی اور نحوست آتی ہے۔ کیا شریعت میں اس کی کوئی حقیقت ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب:✍👇 گھر کا مثلث، مربع، مخمس مسدس نما ہونا بذاتِ خود کوئی نحوست نہیں، اور محض گھر کی اس شکل کی وجہ سے اس میں رہنا ناجائز یا مکروہ نہیں۔ عوام میں اس قسم کی باتیں مشہور ہوجانا شرعی دلیل نہیں بنتا۔ احادیثِ مبارکہ میں گھر کے بارے میں شؤم کا ذکر ضرور آیا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:👇 «الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ» یعنی: بدشگونی عورت، گھر اور گھوڑے میں ہے۔ لیکن اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہر گھر اپنی ذات میں منحوس ہوتا ہے یا گھر کی کسی خاص شکل سے نحوست لازم آتی ہے۔ چنانچہ مرقات المفاتیح میں اس کی شرح کرتے ہوئے امام خطابی رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا:👇 «هَذِهِ الْأَشْيَاءُ الثَّلَاثَةُ لَيْسَ لَهَا بِأَنْفُسِهَا وَطِبَاعِهَا فِعْلٌ وَتَأْثِيرٌ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ كُلُّهُ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ وَقَضَائِهِ» یعنی: یہ تینوں چیزیں اپنی ذات اور اپنی طبعی خصوصیات سے خود کسی فعل اور اثر کی مالک نہیں ہیں، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے فیصلے سے ہے۔ اور مرقات میں گھر میں شؤم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: «وَالدَّارِ بِضِيقِهَا وَسُوءِ جِيرَانِهَا» یعنی: گھر میں شؤم اس کے تنگ ہونے اور اس کے پڑوسیوں کے برے ہونے کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ 📚 مرقات المفاتیح، جلد 6، ص 244 لہٰذا معلوم ہوا کہ حدیث میں گھر کے شؤم کا ذکر گھر کی بناوٹ یا شکل کو منحوس قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ بعض ناگوار حالات و اسباب کے اعتبار سے ہے۔ اسی طرح مرقات میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کا گھر ایسا ہو کہ اسے وہاں رہنا ناپسند ہو تو وہ وہاں سے منتقل ہوسکتا ہے؛ لیکن یہ ممنوع بدشگونی کے عقیدے سے نہیں ہوگا۔ مرآۃ المناجیح میں ہے: 👇 بہر حال یہاں شوم سے مراد بدفال نہیں کہ اس کی وجہ سے رزق گھٹ جائے یا آدمی مر جائے کہ اسلام میں بد فالی ممنوع ہے۔ مرآۃ المناجیح، جلد5، ص: 21 پس اگر کسی گھر کے بارے میں صرف یہ بات کہی جائے کہ:👇 "یہ تین کونوں والا ہے، اس لیے منحوس ہے اور اس میں مصیبت آتی ہے" تو اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ خلاصہ یہ کہ:👇 تین کونوں والے گھر میں رہنا شرعاً جائز ہے، اور محض اس کی شکل کی وجہ سے اسے منحوس سمجھنا درست نہیں۔ مکان یا کسی بھی چیز کو محض اس کی شکل و صورت کی وجہ سے منحوس سمجھنا اور اس کے لیے مستقل ذاتی تاثیر ماننا درست نہیں، نفع و ضرر کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا عوام کی بے اصل باتوں سے متاثر ہوکر گھر بدلنے یا اسے منحوس سمجھنے سے اجتناب کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 14 ربیع الاول 1448ھ، شنبہ 💚💚💚❤️💚💚💚 https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2553 Aap ke masaael: group: 👇 https://chat.whatsapp.com/Gj9Zj420NLM0NiSqQB70nH?s=cl&p=a&mlu=0 💖💖💖💕💖💖💖
167
8
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام:👇 عورت اپنی کلائی ، گردن ، گلا وغیرہ اپنے محرم ( باپ ، بھائی وغیرہ ) کو دِکھا سکتی ہے یا نہیں ؟ ✍️ الجواب بعون الملک الوھاب:👇 محرم وہ ہے جس سے ابدی طورپر نکاح حرام ہو، نسب کی وجہ سے محرمہ ہو، یا کسی سبب کی وجہ سے، وہ سبب زنا ہی کیوں نہ ہو، عورت کا اپنے محرم مثلاً والد، بھائی وغیرہ کے سامنے کلائی، گردن، گلا وغیرہ ظاہر کرنا فی نفسہٖ جائز ہے، بشرطیکہ شہوت و فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ فتاویٰ رضویہ میں درمختار کے حوالے سے ہے:👇 محرم عورت کے سر، چہرے، سینے، پنڈلی اور بازو کو دیکھنا اس وقت جائز ہے جب مرد و عورت دونوں کی طرف سے شہوت کا اندیشہ نہ ہو، اور اگر شہوت کا اندیشہ ہو تو دیکھنا اور چھونا جائز نہیں۔ 📚 فتاویٰ رضویہ، جلد 11، ص 413، مسئلہ 203 √√√ لہٰذا محرم کے سامنے کلائی، گردن اور گلا وغیرہ ظاہر کرنے میں فی نفسہٖ حرج نہیں، البتہ حیا و پردے کا لحاظ بہرحال ضروری ہے، اور شہوت یا فتنہ کا اندیشہ ہو تو ایسا کرنا جائز نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: ✍✍✍ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی 14 ربیع النور 1448 ھ، شنبہ Aap ke masaael: group: 👇 https://chat.whatsapp.com/Gj9Zj420NLM0NiSqQB70nH?s=cl&p=a&mlu=0 💖💖💖💕💖💖💖
176
9
السلام عليكم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضور مفتی صاحب قبلہ سوال عرض یہ ہے کہ: (کلب مکلب) کا جوٹھا ناپاک کیوں ہے جب کہ اس کا کیا ہوا شکار کا گوشت کھانا جائز ہے؟ بینوا توجروا محمد سعید علیمی الجواب بعون الملک الوھاب: 👇 باسمہ تعالی و تبارک: کتا کا جوٹھا ناپاک ہے چاہے وہ سدھایا ہوا ہو یا نہ ہو، اس کی وجہ اس کے لعاب کا نجس ہونا ہے۔ کیونکہ اس کے لعاب کا وہی حکم ہے جو اس کے گوشت کا حکم ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے: 👇 " القسم الثاني , سؤر نجس .....و هو ....ما شرب منه الكلب سواء فيه كلب صيد و ماشية و غيره .....أو شرب من سباع البهائم ........لتولد لعابها من لحمها و هو نجس كلبنها " ( فصل في بيان أحكام السؤر ) لہذا کتے کا لعاب جس میں ہوگا وہ ناپاک ہوگا، اگر ماء قلیل میں ہو یا کسی اور چیز میں جہاں کہیں بھی اس کا لعاب ہو اتنی مقدار ناپاک ہوگی، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ چیزیں ناپاک ہی رہینگی، بلکہ پاک کرنے کے جو طریقے کتب فقہ میں مذکور ہیں ان میں سے کسی مناسب طریقہ سے پاک بھی ہو جائینگی، اگر اس کا لعاب شکار کو لگ جائے تو اتنا حصہ اس کا بھی ناپاک ہو جائیگا مگر اس کو شرعی طور پر پاک کرنے سے پاک ہو جائیگا۔ حالت غضب میں کتے کا لعاب نکلتا ہے بھی یا نہیں , ذیل میں سیدی اعلَی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کی تحقیق ملاحظہ کریں: 👇 " اس کے دانت جسم میں پیوست ہو جانا وجہ ممانعت نہیں ہو سکتا، قرآن عظیم نے اس کا شکار حلال فرمایا، اور شکار بے زخمی کئے نہ ہوگا، اور زخمی جبھی ہوگا کہ اس کے دانت اس کے جسم کو شق کرکے اندر داخل ہوں، اور یہ خیال کہ اس صورت میں اس کا لعاب کہ ناپاک ہے ,بدن کو نجس کر دے گا , دو وجہ سے غلط ہے۔ اولا: شکار حالتِ غضب میں ہوتا ہے اور غضب کے وقت اس کا لعاب خشک ہو جاتا ہے۔ ولذا فرق جمع من العلماء في أخذه طرف الثوب ملاطفا فينجس , أو غضبان فلا . اس لئے علماء کی ایک جماعت نے کتے کے پاک کپڑے کو پیار سے منہ میں لینے اور غصہ کی حالت میں لینے میں فرق کیا ہے کہ پیار سے منہ لے تو ناپاک اور غصہ میں لے تو پاک ہے۔ ثانیا: اگر لعاب لگا بھی تو آخر جسم سے خون بھی نکلے گا وہ کب پاک ہے، جب اس سے طہارت حاصل ہوگی اس سے بھی ہو جائےگی " (رضویہ، جدید، ص 351 ج 20) والله تعالى أعلم محمد أشفاق أحمد مصباحي سعدية، كيرلا 12 ربیع النور 1448ھ، 26 اگست 2026 ء، بدھ https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2312 💚💚💚❤️💚💚💚✍
255
10
📱📱📱📱📱📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/13777
185
11
سوال: 👇👇👇 کیا ایسی حدیث ہے کہ: حبّ الوطن من الإيمان'' یعنی: وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے؟‼️👇👇👇 https://t.me/Masaileshariyyaa_com/2390
1 055
12
سوال: ❗❗❗👇 نعت و منقبت کے اشعار طاق رکھنا بہتر ہے یا جفت؟ جواب: ✍️👇 امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:👇 "اتنا ضرور ہے کہ طاق عدد اللہ عزوجل کو محبوب ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ۔ یعنی: اللہ تعالیٰ وتر یعنی طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔" 📚 فتاویٰ رضویہ، جلد 16، ص:300 اس سے معلوم ہوا کہ طاق عدد فی نفسہٖ ایک محبوب امر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر کام میں طاق عدد رکھنا شرعاً لازم یا واجب ہے۔ نعت و منقبت کے اشعار میں بھی طاق یا جفت عدد رکھنا واجب نہیں ہاں بہتر ہے کہ طاق عدد رکھے، کہ طاق (بے جوڑ) اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مشہور کتاب حدائقِ بخشش شریف کا پہلا کلام:👇 "واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا" پچیس اشعار پر مشتمل ہے، جو طاق تعداد ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کلام میں طاق تعداد موجود ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ طاق عدد کو برا سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کو برا سمجھنا ہی برا ہے۔ ❗ ایک عجیب غلط فہمی: 👇 افسوس! بعض لوگوں میں یہ غلط خیال پیدا ہوگیا ہے کہ اگر کسی کو کھانے کے لیے مثلاً ایک، تین یا پانچ کھجوریں دی جائیں تو وہ کہنے لگتا ہے: "کیا تم مجھے دشمن سمجھتے ہو؟ تین چیزیں تو دشمن کو دی جاتی ہیں!" کس قدر عجیب اور جہالت والی بات ہے! بھائی! تین کوئی دشمنی کا عدد نہیں، بلکہ طاق عدد ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:👇 "بے شک اللہ تعالیٰ طاق (بے جوڑ) ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔" لہٰذا محض تین یا پانچ ہونے کی وجہ سے کسی چیز کو دشمنی کی علامت سمجھ لینا اسلامی تعلیمات اور طاق عدد کی فضیلت سے ناواقفیت ہے۔ ذرا اپنے معمولات پر بھی غور کیجیے! ہم خود اپنی روزمرہ زندگی میں کتنے ایسے شرعی اعمال کرتے ہیں جن میں تین، سات یا کسی اور طاق عدد کی رعایت پائی جاتی ہے!!! 👇 ❶ سرمہ لگانے میں نبی کریم ﷺ سے تین تین مرتبہ لگانا منقول ہے۔ ❷ استجمار یعنی پتھر وغیرہ سے استنجا کرنے میں تین، پانچ، سات وغیرہ طاق تعداد اختیار کرنا مستحب ہے، بشرطیکہ صفائی حاصل ہوجائے۔ ❸ بعض اذکار و دعاؤں میں تین مرتبہ پڑھنے کا معمول خود احادیث سے ثابت ہے۔ ❹ وضو میں اعضا کو تین مرتبہ دھونا سنت ہے۔ ❺ غسل میں بھی نبی کریم ﷺ کے طریقۂ غسل میں تین مرتبہ پانی ڈالنے وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔ ❻ طواف سات چکروں کا ہے۔ ❼ صفا و مروہ کی سعی سات چکروں کی ہے۔ ❽ حجرِ اسود کے استلام (چومنے) کے متعلق تین مرتبہ استلام کا ذکر فقہی کتب میں ملتا ہے، اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اس کو نقل فرمایا ہے۔ 📚 فتاویٰ رضویہ، جلد 10، ص:746 ❾ برا خواب دیکھنے والے کے لیے بائیں جانب تین مرتبہ ہلکا سا تھوکنے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم حدیث میں آئی ہے۔ ❿ بیری کے پتوں سے غسل کے متعلق احادیث میں تین یا پانچ مرتبہ کا ذکر ملتا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی شریعت کے متعدد احکام و معمولات میں طاق اعداد کی رعایت ملتی ہے۔ 💚 تو پھر طاق عدد سے اتنی گھبراہٹ کیوں؟؟؟ ایک طرف ہم خود تین مرتبہ وضو کرتے ہیں، تین مرتبہ بعض اذکار پڑھتے ہیں، سات چکر طواف کرتے ہیں، سات چکر سعی کرتے ہیں، استجمار میں تین، پانچ یا سات کی رعایت کرتے ہیں، اور دوسری طرف اگر کسی کو تین کھجوریں دے دی جائیں تو کہہ دیتے ہیں:👇 "تین تو دشمن کو دی جاتی ہیں!" پانچ، سات یا نو اشعار بنادیے جائیں تو کہتے ہیں چھ آٹھ یا دس بناؤ۔ ذرا سوچیے!!! 👇👇👇 یہ کیسا خیال ہے کہ جس عدد کو شریعت کے متعدد مواقع پر اختیار کیا جاتا ہے، اسی عدد کو ہم دشمنی کی علامت سمجھ بیٹھے ہیں! نعت و منقبت کے اشعار کا حکم: 👇 نعت و منقبت کے اشعار کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ: اگر اشعار جفت ہوں تو کوئی حرج نہیں، لیکن طاق عدد کی عمومی فضیلت کے پیشِ نظر اسے ہی اختیار کرنا چاہیے۔ "اِنَّ اللّٰهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ" اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب مراجع: 📚📚📚👇 بخاری شریف، ص:1171، رقم:6410، علمیہ مسلم شریف، ص:1033، رقم:6809، (2677)علمیہ ابوداؤد شریف، ص:234، رقم:1416، علمیہ ترمذی شریف، ص:136، رقم:453، علمیہ نسائی شریف، ص:291، رقم:1672، علمیہ ابنِ ماجہ شریف، ص:189، رقم:1169،علمیہ مشکاۃ المصابیح، ص:495، رقم:1266، مرقات المفاتیح، جلد2، ص: 63،علمیہ مرقات المفاتیح، جلد2، ص:557،علمیہ مرقات المفاتیح، جلد3، ص: 304 مرقات المفاتیح، جلد3، ص: 307 مرقات المفاتیح، جلد5، ص:167 مرقات المفاتیح، جلد8، ص: 174 فتاویٰ رضویہ، جلد7، ص: 618 فتاویٰ رضویہ، جلد7، ص: 650 فتاویٰ رضویہ، جلد8، ص: 344 فتاویٰ رضویہ، جلد9، ص: 115 فتاویٰ رضویہ، جلد16، ص: 300 کتبہ: ✍️✍️✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی ہندی خادم: مدرسہ اہلِ سنت غوثیہ امامِ ملت چورا، ٹٹہی، پلاموں، جھارکھنڈ 24 صفر المظفر 1448ھ، یک شنبہ 💚💚💚❤️💚💚💚 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/12445 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️📱
474
13
سوال: ‼️‼️‼️👇 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حدیثِ پاک میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مومن کو کھیتی کے نرم پودے اور منافق کو مضبوط درخت سے تشبیہ دی ہے۔ اس حدیث کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اس کی تشریح میں محدثین نے کیا فرمایا ہے؟ اور اس سے اہلِ ایمان کے لیے کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے؟ الجواب بعون الملك الوهاب:👇 حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:👇 «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، حَتَّى يَأْتِيَ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ، حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً» " یعنی مومن کی مثال کھیتی کے اس نرم پودے کی ہے جسے ہوائیں کبھی جھکا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے، جبکہ منافق کی مثال اس مضبوط درخت کی ہے جو اپنی جگہ قائم رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں مروی ہے۔ اس حدیث میں "الخامة" کے معنی میں اہلِ لغت نے متعدد اقوال ذکر کیے ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد نرم شاخ ہے۔ بعض نے فرمایا کہ تر و تازہ پودا مراد ہے جو ابھی پوری طرح مضبوط نہ ہوا ہو۔ اور قاضی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس سے مراد کھیتی کا ایک نرم گچھا ہے۔ علامہ توربشتی رحمہ اللہ نے «تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ» کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ: 👇 جب شمال کی ہوا چلتی ہے تو پودا جنوب کی طرف جھک جاتا ہے، اور جب جنوب کی ہوا چلتی ہے تو شمال کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ یعنی وہ ٹوٹتا نہیں بلکہ حالات کے مطابق جھکتا رہتا ہے۔ پھر علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس مثال کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں خوف، بھوک، بیماری اور دوسری آزمائشیں پیش آتی رہتی ہیں۔ پھر نہایت لطیف کلام نقل فرمایا:👇 «وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَخْلُو مِنْ عِلَّةٍ أَوْ قِلَّةٍ أَوْ ذِلَّةٍ.» یعنی: حاصلِ کلام یہ ہے کہ مومن بیماری، تنگ دستی یا کسی نہ کسی آزمائش سے خالی نہیں رہتا۔ پھر ابن مالک رحمہ اللہ کا یہ قیمتی اضافہ بھی نقل فرمایا کہ:👇 وَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ عَلَامَةِ السَّعَادَةِ، يَعْنِي بِشَرْطِ الصَّبْرِ وَالرِّضَا وَالشُّكْرِ. یعنی: یہ تمام آزمائشیں سعادت کی علامت ہیں، بشرطیکہ بندہ صبر، رضا اور شکر اختیار کرے۔ اسی طرح حدیث کے دوسرے حصے میں منافق کی مثال ایک مضبوط درخت سے دی گئی ہے۔ علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: 👇 اس سے مراد یہ ہے کہ منافق، بلکہ بعض اعتبار سے فاسق بھی، دنیا میں نسبتاً کم آزمائشوں سے دوچار ہوتا ہے، یہاں تک کہ اچانک اس پر ایسی گرفت آتی ہے جو اسے جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے۔ چنانچہ فرمایا:👇 «فَكَذٰلِكَ الْمُنَافِقُ وَالْفَاسِقُ يُقِلُّ لَهُمُ الْأَمْرَاضُ وَالْمَصَائِبُ؛ لِئَلَّا يَحْصُلَ لَهُمْ كَفَّارَةٌ وَلَا ثَوَابٌ.» یعنی: منافق اور فاسق پر بیماریاں اور مصیبتیں کم آتی ہیں، تاکہ نہ ان کے گناہوں کا کفارہ ہو اور نہ انہیں ثواب حاصل ہو۔ لہٰذا اس حدیثِ مبارک سے معلوم ہوا کہ مومن پر آنے والی بیماری، تنگ دستی، خوف اور دیگر آزمائشیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ اگر بندہ صبر، رضا اور شکر کے ساتھ انہیں برداشت کرے تو یہی آزمائشیں اس کے درجات کی بلندی، گناہوں کے کفارے اور سعادت کی علامت بن جاتی ہیں۔ اس کے برخلاف دنیا کی دائمی راحت اور بے فکری کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کی قطعی دلیل نہیں۔ واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر، شکر اور رضا کی دولت نصیب فرمائے، آزمائشوں کو ہمارے لیے گناہوں کا کفارہ، درجات کی بلندی اور اپنی رضا کا ذریعہ بنائے، اور ایمان و عافیت کے ساتھ ہمارا خاتمہ فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ مراجع: 📚📚📚👇 بخاری شریف، ص: 1052، رقم: 5643 مسلم شریف، ص: 1081، رقم: 7095، (2810) مشکاۃ المصابیح، جلد1، ص: 581، رقم: 1541، اکیڈمی مرقات المفاتیح، جلد4، ص: 18، علمیہ مرآۃ المناجیح، جلد2، ص: 404 کتبہ: ✍️✍️✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی ہندی خادم: مدرسہ اہلِ سنت غوثیہ امامِ ملت چورا، ٹٹہی، پلاموں، جھارکھنڈ ⓳ صفر المظفر 1448ھ، سہ شنبہ 💚💚💚❤️💚💚💚 🔴🔴🔴📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️      📱
411
14
چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️ 📱
262
15
سوال: ‼️‼️‼️👇 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حدیثِ پاک میں وارد ہے:👇 «مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ...الخ» کیا اس حدیث میں "غسَّل" سے مراد جمعہ کے دن اپنی اہلیہ سے جماع کرنا ہے؟ یا اس سے مراد سر دھونا ہے؟ ائمہ و محدثین نے اس حدیث کی کیا تشریح فرمائی ہے؟ اور راجح قول کون سا ہے؟ الجواب بعون الملك الوهاب: 👇 سنن ابی داؤد وغیرہ میں ہے: 👇 " «مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ، وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ: أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا» ". یعنی: "جو شخص جمعہ کے دن نہلائے (یا سر دھوئے) اور نہائے،  سویرے (نمازِ جمعہ کے لیے) روانہ ہو، اول وقت مسجد پہنچے، پیدل چلے، سواری پر نہ جائے، امام کے قریب بیٹھے، توجہ سے خطبہ سنے اور کوئی لغو بات نہ کرے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اسے ایک سال کے اعمال کا ثواب ملے گا، یعنی ایک سال کے روزوں اور ایک سال کے قیام (عبادتِ شب) کا اجر۔" ابوداؤد شریف 📚📚📚 یہ حدیثِ پاک صحیح ہے، لیکن اس کے لفظ "غسَّل" کے معنی میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات، مثلاً حضرت عبدالرحمن بن اسود، حضرت ہلال رحمہما اللہ، اور ابتداءً امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: "غسَّل" سے مراد بیوی سے جماع کرنا ہے، تاکہ اس پر بھی غسل لازم ہو۔ ان حضرات نے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اس سے نگاہ کی حفاظت ہوگی اور نماز و خطبہ میں دل زیادہ متوجہ رہے گا۔ دوسری طرف حضرت مکحول، حضرت ابو عبیدہ، امام بیہقی اور امام نووی رحمہم اللہ نے فرمایا کہ: "غسَّل" سے مراد سر کو اچھی طرح دھونا ہے، پھر جمعہ کا غسل کرنا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اسی قول کو مختار قرار دیا، اور امام ابو داؤد کی اس روایت سے استدلال فرمایا:👇 «وَمَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ...» یعنی: "جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا..." اسی طرح علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے تمام اقوال نقل کرنے کے بعد فرمایا:👇 «وَالْأَظْهَرُ أَنَّ الْأَوَّلَ يُحْمَلُ عَلَى غَسْلِ الرَّأْسِ، وَالثَّانِي عَلَى الِاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ.» یعنی: زیادہ ظاہر اور راجح یہ ہے کہ پہلے لفظ سے مراد سر دھونا ہے، اور دوسرے لفظ سے مراد جمعہ کا غسل کرنا ہے۔ پھر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے متعلق بھی نقل فرمایا کہ ابتدا میں وہ پہلے قول کے قائل تھے، لیکن بعد میں انہوں نے تخفیف والے قول کو اختیار کرلیا۔ لہٰذا اس حدیث میں جماع والا معنی بھی بعض سلف سے منقول ہے، لیکن متعدد محققین اور خود علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے "سر دھونے" والے معنی کو راجح قرار دیا ہے۔‼️ اسی لیے اس حدیث سے جمعہ کے دن بیوی سے جماع کو مستقل سنت یا مستحب قرار دینا درست نہیں، البتہ اگر کوئی پہلے قول کو اختیار کرے تو اس کی اصل بعض اہلِ علم کے اقوال میں موجود ہے۔ ہاں! اگر کوئی شخص جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے لیے دل، نگاہ اور فکر کو یکسو رکھنے کی نیت سے اپنی زوجہ سے ہم بستری کرے، پھر غسل کرکے نمازِ جمعہ کے لیے حاضر ہو، تو امید ہے کہ اپنی نیک نیت اور اخلاص کی وجہ سے اجر و ثواب کا مستحق ہوگا؛ کیونکہ شریعت میں حلال طریقے سے بیوی سے ہم بستری بھی باعثِ اجر ہے، اور اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:👇 «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔" اور دوسری حدیثِ پاک کا مفہوم یہ ہے کہ: 👇 آدمی کا اپنی اہلیہ سے (حلال طریقے سے) ہم بستری کرنا بھی صدقہ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص محض نفسانی خواہش کے بجائے عبادت میں زیادہ دلجمعی، نگاہ کی حفاظت اور اتباعِ سنت کی نیت سے یہ عمل کرے تو ان شاء اللہ اپنی نیک نیت کے مطابق اجر کا امیدوار ہوگا۔ البتہ اس مخصوص کیفیت پر کوئی مستقل فضیلت یا مخصوص ثواب صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس لیے اتنا ہی کہا جائے گا کہ ثواب کی امید ہے، قطعی طور پر کسی مخصوص اجر کا دعویٰ نہیں کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ مراجع: 📚📚📚👇 سنن ابی داؤد، ص: 71، حدیث: 345،علمیہ جامع ترمذی، ص: 148، حدیث: 496، علمیہ سنن نسائی، ص: 238، حدیث: 1381، علمیہ سنن ابن ماجہ، ص: 177، حدیث: 1087، علمیہ مشکاۃ المصابیح، جلد1 ‍‍، ص: 531، رقم: 1388، اکیڈمی مرقات المفاتیح، جلد3، ص: 435، علمیہ مرآۃ المناجیح، جلد2، ص: 329۔ کتبہ: ✍️✍️✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی ہندی خادم: مدرسہ اہلِ سنت غوثیہ امامِ ملت چورا، ٹٹہی، پلاموں، جھارکھنڈ ⓱ صفر المظفر 1448ھ، یکشنبہ 💚💚💚❤️💚💚💚 🔴🔴🔴📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH
284
16
سوال: ‼️👇👇👇 بدمذہب کو سمجھانا بجھانا کیسا؟ کیا اسے سمجھانے بجھانے کے لیے اس سے تعلق رکھ سکتے ہیں؟ الجواب بعون الملک الوہاب:👇 بدمذہب سے تعلق رکھنا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اسی "سمجھانے" کے چکر میں بہت سے لوگ خود گمراہی کا شکار ہوگئے، معاذ اللہ تعالیٰ۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی شبہے یا غلط فہمی کی وجہ سے گمراہی کی طرف مائل ہوگیا ہو، مگر ابھی اپنے باطل عقیدے پر مُصر نہ ہو، اور غالب گمان ہو کہ سمجھانے سے حق قبول کرلے گا، تو اہلِ علم اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ لیکن جو شخص اپنے باطل مذہب پر اڑا ہوا ہو، نصیحت قبول کرنے کی کوئی امید نہ ہو، اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے اپنے یا دوسروں کے ایمان پر فتنے کا اندیشہ ہو، تو اس سے تعلق رکھنا جائز نہیں، بلکہ اس سے اجتناب کیا جائے اور اس کے باطل عقائد کا علمی رد کیا جائے تاکہ لوگ اس سے دور رہیں۔ ہاں! سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں کو صحیح عقائد سکھاتے رہیں، انہیں مسلکِ اعلیٰ حضرت پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کرتے رہیں، کیونکہ اپنے ایمان کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وہابیہ کےلیے دعا کرنا فضول ہے: 👇 امامِ اہلِ سنت، سرکار اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:👇 «"وہابیہ کے لیے دعا فضول ہے۔ ثم لا یعودون ان کے لیے آچکا ہے، وہابی کبھی لوٹ کر نہ آئے گا، اور جو ہدایت پا جائے وہ وہابی نہ تھا، وہابی ہونے کو تھا۔"» (الملفوظ، حصہ سوم، ص: 374) اور حدیثِ پاک میں فرمایا گیا:👇 «"يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ"» "وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، یعنی ان کے دل اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔" یقولون من خیر قول البریۃ. باتیں بظاہر بہت اچھی کریں گے ،ا ور ایک روایت ہے۔ من قول خیر البریۃ. حدیث حدیث بہت پکاریں گے۔ بایں ہمہ حال یہ ہوگا: 👇 «"يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، "وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ. پھر اس کی طرف واپس نہیں آئیں گے۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد6، ص:662) (فتاویٰ رضویہ، جلد14، ص:125) (فتاویٰ رضویہ، جلد22، ص:542) (فتاویٰ رضویہ، جلد22، ص:567) (فتاویٰ رضویہ، جلد 29، ص: 97) لہٰذا اپنے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ایمان کی حفاظت کیجیے، اور اہلِ باطل کی صحبت اور مناظروں سے بچیے۔ جہاں ضرورت ہو، وہاں اہلِ علم ان کے باطل عقائد کا علمی رد کریں، اور عوام اپنے ایمان کی سلامتی کو مقدم رکھیں۔ واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان و عافیت پر فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ کتبہ: ✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی ہندی خادم: مدرسہ اہلِ سنت غوثیہ امامِ ملت چورا، ٹٹہی، پلاموں، جھارکھنڈ ⓯ صفر المظفر 1448ھ، جمعہ مبارکہ 💚💚💚❤️💚💚💚 🔴🔴🔴📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️📱
259
17
🔴🔴🔴✅📱 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/13534 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q/7901 🔴🔴🔴✅📱
189
18
اور ان سوالوں کے جواب صرف زبان سے نہیں، بلکہ ایمان، علم اور عمل سے دیے جائیں گے۔ اسی لیے حدیث میں عالم اور طالبِ علم کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا گیا۔ لہٰذا جس گھر میں قرآن نہ ہو، دینی تعلیم نہ ہو، ذکرِ الٰہی نہ ہو، سنتِ رسول ﷺ نہ ہو، وہاں صرف دنیا کی چمک دمک ہی باقی رہ جاتی ہے، حقیقی زندگی نہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ:👇 دنیاوی تعلیم ضرور حاصل کریں، لیکن دین کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ اپنے بچوں کو قرآن، نماز، عقائد، اخلاق اور ضروری دینی مسائل ضرور سکھائیں۔ اگر لاکھوں روپے دنیا کے لیے خرچ کرتے ہیں تو دین کے لیے خرچ کرنا بھی اپنی سعادت سمجھیں۔ اپنے گھروں کو صرف ڈگریوں سے نہیں، بلکہ علمِ دین، ذکرِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ سے بھی آباد کریں۔ آخر میں رسولِ کریم ﷺ کی ایک اور روایت اس مضمون کی بہترین وضاحت کرتی ہے:👇 «الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» یعنی: دنیا ملعون ہے، اور اس میں کی ہر چیز ملعون ہے، سوائے اس کے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جائے۔ پس اگر مال، تعلیم، تجارت، ملازمت اور دنیاوی وسائل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا، دین کی خدمت اور حلال زندگی کے لیے ہوں تو وہ بھی عبادت بن جاتے ہیں، لیکن اگر یہی چیزیں انسان کو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور دین سے غافل کر دیں تو یہی دنیا مذموم اور باعثِ خسارہ ہے۔ اسی حقیقت کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نہایت بلیغ انداز میں یوں بیان فرمایا ہے:👇 إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ: جُزْءٌ لِلْمُؤْمِنِ، وَجُزْءٌ لِلْمُنَافِقِ، وَجُزْءٌ لِلْكَافِرِ، فَالْمُؤْمِنُ يَتَزَوَّدُ، وَالْمُنَافِقُ يَتَزَيَّنُ، وَالْكَافِرُ يَتَمَتَّعُ. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:👇 اللہ تعالیٰ نے دنیا کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہے:👇 ایک حصہ مؤمن کے لیے، ایک حصہ منافق کے لیے، اور ایک حصہ کافر کے لیے۔ مؤمن دنیا سے آخرت کا زادِ راہ حاصل کرتا ہے۔ منافق دنیا کو اپنی آرائش اور دکھاوے کا ذریعہ بناتا ہے۔ اور کافر صرف دنیا کی لذتیں اٹھاتا اور عیش کرتا ہے۔ نصیحت: 👇 ونصيحةً للمسلمين نقول: ❗️❗️❗️👇 اللّٰهَ اللّٰهَ فِي دِينِكُمْ، اللّٰهَ اللّٰهَ فِي أَوْلَادِكُمْ. "اللہ سے ڈرو! اپنے دین کی فکر کرو، اور اللہ سے ڈرو! اپنی اولاد کے دین کی فکر کرو۔" اپنی اولاد کو صرف دنیا کمانا نہ سکھائیے، بلکہ دین پر جینا بھی سکھائیے، کیونکہ دنیا چند روزہ ہے، مگر آخرت ہمیشہ ہمیشہ کی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دین اور اپنی اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کرے، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب نسأل الله تعالى أن يرزقنا العلم النافع، والعمل الصالح، والإخلاص في القول والعمل، وأن يجعل الدنيا في أيدينا لا في قلوبنا، آمين. حوالہ جات: 💓💓💓👇 ترمذی شریف، ص: 556‍، 2322 ابنِ ماجہ شریف، ص: 669، رقم: 4112 مشکاۃ المصابیح، جلد2، ص: 536، رقم: 5176، اکیڈمی شرح الطیبی، جلد9، ص: 343، علمیہ مرقات المفاتیح، جلد9، ص: 372،علمیہ اشعۃ اللعات، جلد6، ص: 256 مرآۃ المناجیح، جلد7، ص: 25 فتاویٰ رضویہ، جلد15، ص: 564 فتاویٰ رضویہ، جلد23، ص: 298 فتاویٰ رضویہ، جلد23، ص: 299 وصلى الله تعالى على سيدنا محمد وآله وصحبه وسلم تسليماً كثيراً. کتبہ: ✍️ محمد عمار رضا قادری رضوی پلاموی ہندی خادم: مدرسہ اہلِ سنت غوثیہ امامِ ملت چورا، ٹٹہی، پلاموں، جھارکھنڈ ⓮ صفر المظفر 1448ھ،  پنج شنبہ 💚💚💚🩷💚💚💚 https://t.me/Urdu_Tahrir_Telegram/11334 گروپ: ❷: 🤍🤍💖👇 https://chat.whatsapp.com/G3laa4QtSIh8Mo9ydbooPH چینل جوائن کیجیے:👇👇👇 https://whatsapp.com/channel/0029Va6A5Kn5K3zaa8nAIE0q ❤️❤️❤️💚❤️❤️❤️📱
222
19
لیکن اس حدیث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر دنیاوی چیز مذموم ہے۔ علامہ علی قاری رحمہ اللہ اسی حدیث کی شرح میں صاف فرماتے ہیں:👇 «مَلْعُونٌ مَا فِيهَا أَيْ: مِمَّا يَشْغَلُ عَنِ اللَّهِ» یعنی: دنیا کی وہ چیز ملعون ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے۔ اور مزید فرماتے ہیں:👇 «وَمَا وَالَاهُ أَيْ: أَحَبَّهُ اللَّهُ مِنْ أَعْمَالِ الْبِرِّ وَأَفْعَالِ الْقُرْبِ» یعنی: "وما والاه" سے مراد ہر وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ پھر علامہ طیبی رحمہ اللہ ایک نہایت نفیس نکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:👇 «ذِكْرُ اللَّهِ رَأْسُ كُلِّ عِبَادَةٍ، وَرَأْسُ كُلِّ سَعَادَةٍ، بل هو كالحياة للأبدان والروح للإنسان. وهل للإنسان عن الحياة غنى؟ وهل له عن الروح معدل؟ وإن شئت قلت: به بقاء الدنيا وقيام السموات والأرض؛ ذکرِ الٰہی ہر عبادت کی بنیاد اور ہر سعادت کی جڑ ہے، بلکہ وہ انسان کے لیے ایسے ہی ہے جیسے جسم کے لیے زندگی اور انسان کے لیے روح۔ بھلا کیا کوئی انسان زندگی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ اور کیا روح کے بغیر اس کا وجود باقی رہ سکتا ہے؟ اگر تم چاہو تو یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ:👇 ذکرِ الٰہی ہی کی برکت سے دنیا قائم ہے، اور آسمان و زمین کا نظام برقرار ہے۔ ✅ عالم و متعلم کی فضیلت: 🩷🩷🩷👇 علامہ طیبی رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:👇 ظاہر کا تقاضا یہ تھا کہ حدیث میں صرف "وما والاه" فرما دیا جاتا، کیونکہ اس کے اندر تمام نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزیں داخل ہیں۔ اس کے باوجود نبیِ کریم ﷺ نے خاص طور پر "عالم یا طالبِ علم" کا ذکر فرمایا، حالانکہ وہ بھی "وما والاه" میں داخل تھے۔ اس تخصیص سے مقصود علمِ دین کی عظمت، اس کی رفعتِ شان، اور اہلِ علم و طلبۂ علم کے بلند مقام کو نمایاں کرنا ہے۔ اگر صرف "وما والاه" پر اکتفا فرمایا جاتا تو عالم اور طالبِ علم کا ذکر اشارۃً سمجھا جاتا، لیکن رسولِ اکرم ﷺ نے ان کا نام لے کر ذکر فرمایا تاکہ ان کی فضیلت صراحت کے ساتھ واضح ہو جائے۔ اسی لیے علامہ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس تعبیر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم اور طالبِ علم کے علاوہ باقی لوگ محض عام ہجوم کی مانند ہیں۔ «وَلِيُؤْذِنَ أَنَّ جَمِيعَ النَّاسِ سِوَى الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ هَمَجٌ» یعنی: حدیث میں "عالم یا طالبِ علم" کو الگ ذکر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ان کے علاوہ لوگ محض ایک عام ہجوم کی مانند ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا:👇 «الْعُلَمَاءُ بِاللَّهِ الْجَامِعُونَ بَيْنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ» یعنی یہاں عالم سے مراد وہ ہے جو علم اور عمل دونوں کا جامع ہو۔ اے طلبہ و طالباتِ علمِ دین!!! 💚💚💚👇 تم کتنے خوش نصیب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے دین کا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺ نے عالم اور طالبِ علم کو دنیا کی ملعون چیزوں سے مستثنیٰ قرار دیا۔ لہٰذا اپنے اس مقام کی قدر کرو۔ اپنے وقت کو قیمتی سمجھو، اپنے اساتذہ کا ادب کرو، اخلاص کے ساتھ علم حاصل کرو، اور علم کے ساتھ عمل کو بھی لازم پکڑو۔ یاد رکھو! صرف علم کافی نہیں، بلکہ وہ علم اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے جس کے ساتھ اخلاص، تقویٰ اور عمل بھی ہو۔ دنیا کی ڈگریاں ختم ہو جائیں گی، عہدے چھن جائیں گے، مال باقی نہیں رہے گا، لیکن علمِ دین وہ دولت ہے جس کا نور قبر میں بھی ساتھ ہوگا، میدانِ محشر میں بھی عزت کا سبب بنے گا، اور ان شاء اللہ جنت تک پہنچانے کا ذریعہ بھی۔ افسوس! 😭 آج امت کی ایک بڑی تعداد نے دنیا کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ بچے کے اسکول کی فیس لاکھوں میں ہو تو کوئی پریشانی نہیں۔ کوچنگ، ہاسٹل، یونیورسٹی، انجینئرنگ، میڈیکل، بیرونِ ملک تعلیم—سب کے لیے دل کھول کر خرچ کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہی کہا جائے:👇 بچے کو قرآنِ مجید بھی پڑھا دو۔ نماز کے مسائل بھی سکھا دو۔ عقائدِ اہلِ سنت بھی سکھا دو۔ دین کا بنیادی علم بھی دلا دو۔ تو بعض لوگ کہتے ہیں:👇 "اس کی کیا ضرورت ہے؟" معاذاللہ حالانکہ یہی وہ علم ہے جس کے فضائل قرآن و احادیث میں بیان کیے گئے ہیں اور اسے ہی سیکھنے کا حکم دیا گیاہے،  ہر مسلمان پر دین کے ضروری مسائل سیکھنا فرضِ عین ہے، اور اپنی اولاد کو ان کی ضرورت کے مطابق دینی تعلیم دلانا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیے! ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر بن جانا انسان کو قبر کے سوالات سے نہیں بچائے گا۔ قرآنِ پاک میں ہے: 👇👇👇 ﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۝ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾ جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر ۔ قبر میں یہ نہیں پوچھا جائے گا:👇 تمہاری ڈگری کیا تھی؟ تمہارے پاس سندیں کتنی تھیں؟ تمہارا عہدہ کیا تھا؟ بلکہ پوچھا جائے گا:👇 مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟
170
20
سوال: ❗️❗️❗️👇 آج کل لوگ دنیا کمانے میں اس قدر مشغول ہو چکے ہیں کہ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، علمِ دین اور آخرت کی فکر کے لیے وقت ہی نہیں نکالتے۔ بعض لوگ تو دنیا ہی کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ والعياذ بالله تعالى. اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بہت سے مسلمان دنیاوی تعلیم کے لیے اپنے بچوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، بڑے بڑے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دلاتے ہیں، لیکن جب دینی تعلیم کی بات آتی ہے تو اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نہ بچوں کو قرآنِ کریم صحیح پڑھاتے ہیں، نہ نماز کے مسائل سکھاتے ہیں، نہ عقائدِ اہلِ سنت، نہ حلال و حرام، نہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور نہ ہی دین کی بنیادی تعلیمات۔ بلکہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ: 👇 "دینی تعلیم سے کیا ہوگا؟ پہلے دنیا بناؤ، دین تو بعد میں بھی سیکھ لیا جائے گا!" معاذاللہ! ایسے لوگوں کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کیا فرماتی ہے؟ اور اس حدیثِ پاک:👇 «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ۔۔۔۔الخ کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔ الجواب بعون الملك الوهاب: ✍👇 سب سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ اسلام دنیا کمانے سے منع نہیں کرتا، بلکہ دنیا کو مقصدِ زندگی بنانے سے منع کرتا ہے۔ اے مسلمانو! ذرا ٹھہر کر اپنے دل سے ایک سوال کرو:❗️👇 جس دنیا کے لیے تم نے اپنی صبحیں اور شامیں وقف کر دی ہیں، جس دنیا کے لیے تم رات دن دوڑ رہے ہو، جس دنیا کی خاطر تم نے اپنی نیند، سکون، عبادت، بلکہ کبھی کبھی حلال و حرام کی تمییز بھی قربان کر دی ہے، اسی دنیا کے بارے میں ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا:👇 "أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا ذِكْرُ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ، وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ." "خبردار! بے شک دنیا ملعون ہے، اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر، اس سے متعلق اعمال، اور عالم یا طالبِ علم کے۔" (سنن ترمذی، حدیث: 2322)📚📚📚 آج افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت تو موجزن ہے، مگر دین کی محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا کمانے کے لیے گھنٹوں بلکہ دن رات محنت کی جاتی ہے، لیکن نماز کے لیے چند منٹ بھی بھاری معلوم ہوتے ہیں۔ کاروبار کے لیے وقت ہے، موبائل کے لیے وقت ہے، سوشل میڈیا کے لیے وقت ہے، دوستوں کی مجلس کے لیے وقت ہے، مگر ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، درودِ پاک اور علمِ دین کے لیے وقت نہیں! ذرا سوچو!!!  جس دنیا کو تم نے اپنا سب کچھ بنا لیا ہے، وہ نہ ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی، نہ تم ہمیشہ اس کے پاس رہو گے۔ ایک دن سب کچھ یہیں رہ جائے گا، اور تم صرف اپنے اعمال لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے۔ سنو!!! اگر فکر کرنی ہے تو آخرت کی فکر کرو، اگر محبت کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ، اس کے رسولِ کریم ﷺ اور دینِ اسلام سے محبت کرو، اور اگر محنت کرنی ہے تو ایسی محنت کرو جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی کام آئے۔ یاد رکھو! دین کا غم تمام غموں سے بہتر غم ہے۔ یہی غم بندے کو سجدوں میں لے جاتا ہے، یہی غم آنکھوں میں آنسو لاتا ہے، یہی غم آخرت میں نور بن کر کام آئے گا، اور یہی غم انسان کو جنت کی راہ دکھاتا ہے۔ لہٰذا اپنے دل سے دنیا کی اندھی محبت نکالو، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ کریم ﷺ کی محبت اور دینِ اسلام کی محبت بساؤ۔ دنیا کو منزل نہ بناؤ، بلکہ آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ؛ کیونکہ کامیاب وہی ہے جو دنیا میں رہ کر بھی اپنے رب کو نہ بھولے۔ 🌹 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: 👇 وَ ابۡتَغِ  فِیۡمَآ  اٰتٰىکَ اللّٰہُ  الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ  وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنۡیَا. ترجمہ: اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول۔ القصص، آیت: 77📚📚📚 تفسیرِ خزائن العرفان میں ہے: 👇 یعنی دنیا میں آخرت کے لئے عمل کر کہ عذاب سے نجات پائے اس لئے کہ دنیا میں انسان کا حقیقی حصہ یہ ہے کہ آخرت کے لئے عمل کرے ، صدقہ دے کر ، صلہ رحمی کر کے اور اعمال خیر کے ساتھ، اور اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: اپنی صحت و قوت و جوانی و دولت کو نہ بھول اس سے کہ ان کے ساتھ آخرت طلب کرے ۔ حدیث میں ہے کہ پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو ۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، تندرستی کو بیماری سے پہلے ، ثروت کو ناداری سے پہلے ، فراغت کو شغل سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے ۔ تفسیرِ خزائن العرفان، پارہ 20📚 شرح السنۃ، جلد14، ص: 224، المکتبۃ الاسلامی، دمشق، بیروت مرقات المفاتیح، جلد9، ص:370‍، رقم:5174، علمیہ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے نہایت بلیغ انداز میں فرمایا:👇 أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ وقد سبق لفظ الحديث. (حدیثِ پاک کے الفاظ اوپر گزر چکے ہیں۔) یعنی: "خبردار! دنیا ملعون ہے، اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس سے متعلق اعمال، اور عالم یا طالبِ علم کے۔"
137