es
Feedback

¡No caigas en manos de tramposos! Telemetrio encuentra y marca estos canales 👉 Si quieres ver la etiqueta, suscríbete

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Ir al canal en Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Mostrar más
1 285
Suscriptores
+124 horas
-27 días
-630 días
Archivo de publicaciones
روس، چین اور پاکستان یہ بات الگ الگ واضح کرچکے کہ ایران نے فی الحال کوئی مدد نہیں مانگی اس کا مطلب ہے کہ صورتحال ایران کےمکمل کنٹرول میں ہے یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے اگر ایران نے مدد مانگی تو اسے مدد فراہم کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہوگا کیونکہ یہ وہ ملک ہے جس پر حملہ ہوا ہے لیکن حملہ آور اسرائیل کو یہ سہولت میسر نہیں کیونکہ جارح کی مدد قانونا جرم ہے 🔷🔷🔷🔷🔷

photo content

■ ماہ ذوالحجہ کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/3763 🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ https://t.me/islamwitheman/3676 🌷 نور کی نور سے شادی https://t.me/islamwitheman/3677 🌹خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ https://t.me/islamwitheman/3678 🌹 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز https://t.me/islamwitheman/3679 🌸 حضرت ابوذر غفاریؓ https://t.me/islamwitheman/3683 🌹 حضرت ابوذرؓ کا اسلام قبول کرنا https://t.me/islamwitheman/3684 🌺 حضرت ابوذرؓ کے فضائل https://t.me/islamwitheman/3685 🌼 حضرت ابوذرؓ کی جلاوطنی https://t.me/islamwitheman/3686 🍁 حضرت ابوذرؓ کی وفات https://t.me/islamwitheman/3687 🌹 رسول اکرمؐ سے عشقِ ابوذرؓ https://t.me/islamwitheman/3688 🌹 شہادت امام محمد باقر https://t.me/islamwitheman/3690 🔷️ امام حسین کی مکہ سے روانگی https://t.me/islamwitheman/3693 🌺 یوم عرفہ کی فضیلت https://t.me/islamwitheman/3698 🌺 یوم عرفہ کے اعمال https://t.me/islamwitheman/3699 🔷️ شہادت حضرت مسلم و طفلان https://t.me/islamwitheman/3701 🌹 سفیر امام حسین https://t.me/islamwitheman/3702 🔷️ ذوالجناح اور گائے https://t.me/islamwitheman/3704 🔷️ مولوی جی https://t.me/islamwitheman/3705 🔷️ قربانی کا گوشت https://t.me/islamwitheman/3706 🔷️ قربانی کے احکام https://t.me/islamwitheman/3716 🔷️ حلال گوشت جانور کے حرام اعضاء https://t.me/islamwitheman/3717 🔷️ قربانی کا صحیح وقت https://t.me/islamwitheman/3718 🌹 عید قربان کے 5 افضل عمل https://t.me/islamwitheman/3721 🔷️ شہادت طفلان حضرت مسلم https://t.me/islamwitheman/3723 🌹 ولادت مبارک امام علی النقی https://t.me/islamwitheman/3726 🌹 عید غدیر مبارک https://t.me/islamwitheman/3744 🌹 مختصر واقعۂ غدیر https://t.me/islamwitheman/3745 🌹 عید غدیر کیدن اطعام وانفاق کا ثواب https://t.me/islamwitheman/3746 🌹 غدیر خم میں پیغمبرؐ کا خطبہ https://t.me/islamwitheman/3747 🌹 اعمال عید غدیر بمعہ آثار و ثواب https://t.me/islamwitheman/3748 🔷 روزِ عید غدیر اس زیارت کو پڑھیں https://t.me/islamwitheman/3749 🌹 جشن عید غدیر https://t.me/islamwitheman/3750 🌹 تکمیل دین https://t.me/islamwitheman/3751 🌹عید غدیر کے اسماء و اوصاف t.me/islamwitheman/3756 🌺احتجاج حضرت زهراءؑ، حدیث غدیر t.me/islamwitheman/3757 🌺عید غدیر، عیدِ اکبر t.me/islamwitheman/3758 🌹سیدہ زھراءؑ کی رخصتی t.me/islamwitheman/3760 💝حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی t.me/islamwitheman/3762 🌴شہادت حضرت میثم تمارؓ اسدی t.me/islamwitheman/3765 t.me/islamwitheman/3766 🌹مولا علیؑ اور میثم تمارؓ t.me/islamwitheman/3767 🌷مباہلہ نبوت و امامت کی حقانیت t.me/islamwitheman/3773 🔷آیت مباہلہ t.me/islamwitheman/3775 🔷اعمال عید مباہلہ t.me/islamwitheman/3776 🔷آیت ولایت t.me/islamwitheman/3780 🌹مباہلہ کا مختصر واقعہ t.me/islamwitheman/3781 🔷آیت مباھلہ، امام رضاؑ کا استدلال t.me/islamwitheman/3782 🌹ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ t.me/islamwitheman/3784 🌷26 ذوالحجه روزِ ایثارِ اهلبیتؑ t.me/islamwitheman/3785 🔷️واقعہ حرہ t.me/islamwitheman/3799 🔷ذوالحجہ کی آخری تاریخ کی نماز t.me/islamwitheman/3801 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

اسی دوران اسرائیل ایران کے سائبر اٹیک کی بھی زد میں آگیا۔ سائبر اٹیک کے ذریعے مواصلاتی نظام، ٹیلی وژن اسٹیشنز ہی نہیں بلکہ آئرن ڈوم کی بچی کھچی بیٹریز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ چنانچہ چوتھی رات یہ مناظر سب نے دیکھے کہ آئرن ڈوم نے خود کار طور پر راکٹ فائر کرکے قریبی اسرائیلی عمارتوں کو ہی نشانہ بنایا۔ یوں جنگ کے 5ویں دن ہی نیتن یاہو نے ہاتھ کھڑے کردیے کہ اب وہ امریکی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 سمٹ کے لیے کینیڈا میں تھا جس نے جنگ کے آغاز پر بڑی معصومیت کے ساتھ کہا تھا کہ ’ہمارا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ اسرائیل کی جنگ ہے‘۔ لیکن 5ویں روز اسرائیل کی حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ اسے جی 7 سمٹ چھوڑ کر امریکا کی طرف دوڑ لگانی پڑی۔ حواس باختہ ٹرمپ نے شاید دوران پرواز ہی وہ ٹوئٹ کی جس میں تہران خالی کرنے کی وارننگ جاری کی اور جب واشنگٹن آمد ہوئی تو ان کی جانب سے بس ایک ہی رٹ سنائی دی، ’میری ایرانیوں سے ہر حال میں میٹنگ کروائی جائے‘۔ اسی دن اچانک امریکی ایئر ری فیولرز اور دیگر طیارے مشرق وسطی کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔ گویا 5 روز قبل جس ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، یہ ہماری نہیں اسرائیل کی جنگ ہے۔ وہ فقط 4 روز بعد زبان حال سے کہہ رہا تھا ’یہ جنگ ہماری ہی ہے۔ تہران خالی کرو ورنہ میں آگ لگا دوں گا‘۔ یعنی صاحب بہادر یہی بھول گئے کہ انہیں تو نوبیل پیس پرائز حاصل کرنا تھا۔ ایک صحافی نے انہیں اطلاع دی کہ معروف امریکی صحافی اور ان کے دوست ٹکر کارلسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں کودے تو یہ اقدام امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ اس پر وہ کچھ بڑبڑا کر گزر گئے مگر چند ہی منٹ بعد ٹکر کارلسن کے خلاف تمسخر بھری ٹوئٹ آگئی۔ گھنٹے بعد ایک اور صحافی نے انہیں یاد دلایا ’ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گابرڈ نے تو سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے انٹیلی جنس رپورٹ دی تھی کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا‘ ٹرمپ ایک بار پھر بڑبڑائے مگر اس بار بڑبڑاہٹ واضح تھی ’مجھے کوئی پروا نہیں کہ اس نے کیا کہا تھا، میں کہہ رہا ہوں کہ ایران ایٹم بم بنا رہا تو بس بنا رہا ہے‘۔ بات یہیں نہ رکی بلکہ اگلی ٹوئٹ کسی بھی ریاست کے سربراہ کی نہیں بلکہ گلی کے غنڈے کی ثابت ہوئی۔ ٹرمپ نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر ہی ایرانی رہبر کے قتل کی دھمکی دے دی۔ کیا کسی نے تصور بھی کیا تھا کہ امریکی منصب صدارت پر اتنے برے دن بھی آئیں گے؟ جانتے ہیں اس پوری صورتحال نے سب سے زیادہ کن کو پریشان کر رکھا ہے؟ ٹرمپ کی اس ٹیم کو ہی سب سے زیادہ پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے جو ’ماگا‘ کہلاتی ہے اور جس میں انتخابی مہم کے دوران ایلان مسک، ٹکر کارلسن اور تلسی گابرڈ جیسے لوگ بھی اس امید پر شامل ہوئے تھے کہ ٹرمپ امریکا کو جنگوں سے نکال کر امن کی اس راہ پر ڈالے گا جسے خود ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی ’آؤ امریکا کو پھر سے عظیم بنائیں‘ کا ٹائٹل دے رکھا تھا۔ یہی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ کا ماٹو بھی تھا۔ اسی فقرے کے سائے تلے ان کی پوری انتخابی مہم چلی تھی۔ اسی لیے پورا ٹرمپ کیمپ مضطرب ہے کہ یہ اچانک چل کیا پڑا ہے؟ کوئی شخص اپنے پورے انتخابی ایجنڈے سے ہی یکایک یوٹرن کیسے لے سکتا ہے؟ اضطراب کے اسی عالم میں ٹوئٹر پر کچھ معتبر امریکی اب یہ سرگوشیاں بھی کرنے لگے ہیں تو کیا ایلان مسک سچ کہہ رہا تھا کہ جیفری ایپسٹین فائلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی نام ہے؟ ان سرگوشیوں کی اہمیت یہ ہے کہ جیفری ایپسٹین کے پورے نیٹ ورک کے پیچھے موساد کا ہاتھ درجن بھر ڈاکومنٹریز میں واضح دکھایا گیا ہے۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ اس کیس کی فائلز میں کس کا نام ہے اور کس کا نہیں۔ مگر یہ اب پوری دنیا پر واضح ہوگیا ہے کہ ایران کی صرف 4 دن کی مار نے ہی اسرائیل کا بھرکس ہی نہیں نکال دیا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی اوسان بھی اس حد تک خطا کردیے ہیں کہ وہ یہی بھول گئے ہیں کہ منصب صدارت کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی دن بھر کی ان دھمکیوں کا ایرانی قیادت پر کوئی اثر پڑا؟ قطعا نہیں۔ کیونکہ اس دن کے بعد آنے والی رات میں ایران نے جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس میں اسرائیلی ملٹری اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا ہے۔ جانتے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے؟ یہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کا ایریا ہے۔ یوں گویا اس کے سامنے موجود اسرائیلی رکاوٹوں کو دور کیا گیا ہے۔ اندازہ گانا دشوار نہیں کہ اس سے اسرائیل پر کتنا بڑا دباؤ آگیا ہوگا۔ انہیں اب اسرائیلی میزائلوں کا ہی نہیں حزب اللہ کی کسی ممکنہ پیش قدمی کا بھی خوف رہے گا۔ اس پوری صورتحال نے واضح کردیا ہے کہ جنگ پر ایران اپنی پوری بالادستی صرف ایک ہفتے کے اندر اندر ثابت کرچکا ہے۔ اگر امریکا بیچ میں نہیں کودتا تو اسرائیل کی عبرتناک شکست نوشتہ دیوار ہے۔ اور نوشتہ دیوار بھی وہ جو بیت المقدس کی دیوار گریہ پر درج ہے! 🔷🔷🔷🔷🔷

ایران کی اب تک کی پیش رفت پر یہ تحریر پڑھنے کے لائق ہے۔ دیوار گریہ پر درج نوشتہ دیوار رعایت اللہ فاروقی جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، ایران پر اسرائیل کے سرپرائز اٹیک کو 5 دن گزرچکے۔ اور بعد کے ان 5 دنوں میں مزید بھی بہت کچھ ہوچکا لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ چیزیں اب بہت حد تک واضح ہوچکیں۔ واضح شدہ میں سب سے اہم یہ ہے کہ حملے کی پلاننگ یہ سوچ کر کی گئی تھی کہ ایران کی ٹاپ کمانڈ کے صفائے، موساد ایجنٹوں کے ایران میں جگہ جگہ دہشتگرد حملوں اور ایرانی ایئرڈیفنس کے ہیک ہونے سے پورے ملک میں بے یقینی اور افراتفری کی فضا بن جائے گی جس سے رجیم چینج کا خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ اسرائیلی کیلکولیشن میں یقیناً یہ تصور شامل رہا تھا کہ بالکل ہی اچانک اس قدر بڑا جھٹکا لگنے کے بعد باقی ماندہ پولیٹکل و ملٹری قیادت کسی جائے پناہ کی طرف دوڑے گی اور ہر کسی کو اپنی جان کی فکر لاحق ہوگی۔ مگر یہی وہ اندازہ تھا جو مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔ ایرانی قیادت کے نہ ہاتھ پھولے اور نہ ہی پیر۔ ملک کا ایئرڈیفنس ہیک ہوچکا تھا اور ایرانی فضاؤں میں اسرائیلی لڑاکا طیارے آزادنہ پرواز ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ اہداف کو بھی نشانہ بنا رہے تھے۔ مگر سیاسی ہی نہیں عسکری قیادت بھی پوری طرح یکسو نظر تھی۔ انہوں نے 8 گھنٹے میں ایئرڈیفنس کا کنٹرول واپس حاصل کیا ، نئی کمانڈ کا اعلان کیا اور اس سے فارغ ہوتے ہی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش بھی کردی۔ یوں اسرائیل اپنے حملے کے 20 ویں گھنٹے میں آدھی گیم ہار چکا تھا۔ ایران نے اپنی یکسوئی ثابت کردی تھی، اب اسے بس اسے مستحکم کرنا تھا۔استحکام کے لیے ضروری تھا کہ موساد کے ان ایجنٹوں کو جلد از جلد قابو کیا جائے جو ایران بھر میں دہشتگردی کے مشن پر تھے۔ ایرانی پولیس نے اس معاملے میں بھی اگلے 48 گھنٹوں کے دوران اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد کے کئی ایجنٹ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ ان سے برآمد شدہ سازوسامان میں چھوٹے ڈرون اور بڑی مقدار میں بارود شامل ہے۔ جس سے واضح ہے کہ یہ کس نوعیت کے مشن پر تھے۔ کہنے میں عام آدمی کو یہ سب بہت آسان لگ سکتا ہے مگر یہ کس قدر غیر معمولی کارکردگی رہی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے ریٹائرڈ سینیئر ملٹری و انٹیلی جنس افسران ہی نہیں عسکری تجزیہ کار بھی اس پر انگشت بدنداں ہیں۔ اکثریت کو اس کی بات کی توقع ہی نہ تھی کہ ایران اس مہلک وار سے سنبھل پائے گا۔ اور جس اقلیت کو لگتا تھا کہ صورتحال شاید قابو میں آجائے گی وہ بھی اس کام میں کم از کم ہفتہ بھر لگنے کی توقع کر رہے تھے۔ سنبھلنے میں حیران کن تیزی دکھانے کے بعد ایران نے ایک اور معاملے میں بھی حیران کیا ہے۔ مگر یہ والی حیرت صرف ان کے حصے میں آئی ہے جو جنگ اور اس کی حکمت عملیوں کا شعور رکھتے ہیں۔ ٹی وی یا کمپیوٹر اسکرینوں پر غیرعسکری ذہن تو بس یہی دیکھ پائے ہیں کہ ایرانی میزائل اسرائیلی شہروں میں پر گر رہے ہیں۔ اور پھر ہر رات کے بعد آنے والے دن میں سب نے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے بھی دیکھ رکھے ہیں۔ لیکن یہ میزائل بس داغ ہی نہیں دیے گئے۔ بلکہ ان کا استعمال شطرنج کے مہروں کی طرح کیا گیا ہے۔ ایرانی میزائلوں کا ہر بیراج پوری پلاننگ کے ساتھ پہلے سے طے شدہ اہداف کی جانب بڑھا ہے اور اپنے اہداف حاصل کر کرکے دکھائے ہیں۔ مثلاً پہلی رات ایران نے ڈرونز اور لگ بھگ 200 پرانی ٹیکنالوجی والے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے مختلف مقامات کی جانب بھیجے۔ ان ڈرونز اور میزائلوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایئرڈیفنس کی ایک دم تازہ موجودگی کنفرم ہوجائے کہ یہ کہاں کہاں نصب ہے۔ وہ الگ بات کہ بہت سے میزائل شہروں پر گرے بھی مگر مقصد اصلی ان کا بس اسرائیلی ریڈارز اور ایئرڈیفنس کو بے نقاب کرنا تھا۔ اگلی 2 راتیں ایران نے ان ریڈارز اور ایئرڈیفنس کی صفائی میں لگائیں اور چوتھی رات میزائلوں کی کوالٹی بدل کر مہلک میزائلوں سے اسٹریٹیجک اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ مثلاً اس نے حیفہ کی اس ریفائنری کو سب سے پہلے اڑایا جو جیٹ فیول تیار کرتی ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے مختلف مقامات پر واقع جیٹ فیول کے ہی ڈپو بھی اڑا دیے۔ جس سے ایران کے فضائی حملے کمزور پڑ گئے۔ ساتھ ہی گیس، بجلی کی سپلائی کے مراکز کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔ چوتھی رات کی صبح ایرانی میزائلوں نے تل ابیب میں واقع موساد ہیڈ کوارٹر کو ہی نہیں بلکہ انتہائی خفیہ انٹیلی جنس ادارے یونٹ 8200 اور اس کے مواصلاتی نظام کو بھی اڑا دیا۔ جو نہیں جانتے ان کے لئے عرض کردیں کہ یونٹ 8200 اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ یہ امریکا کی این ایس اے کی طرح مواصلاتی جاسوسی کرتی ہے۔ یعنی فون، وائرلیس، سوشل میڈیا، اور وٹس ایپ جیسے دیگر ذرائع مواصلات کو ہدف بنا کر وہاں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے۔

■ ماہ ذوالحجہ کی مناسبت سے پوسٹس لنکس۔۔۔ https://t.me/islamwitheman/3763 🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ https://t.me/islamwitheman/3676 🌷 نور کی نور سے شادی https://t.me/islamwitheman/3677 🌹خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ https://t.me/islamwitheman/3678 🌹 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز https://t.me/islamwitheman/3679 🌸 حضرت ابوذر غفاریؓ https://t.me/islamwitheman/3683 🌹 حضرت ابوذرؓ کا اسلام قبول کرنا https://t.me/islamwitheman/3684 🌺 حضرت ابوذرؓ کے فضائل https://t.me/islamwitheman/3685 🌼 حضرت ابوذرؓ کی جلاوطنی https://t.me/islamwitheman/3686 🍁 حضرت ابوذرؓ کی وفات https://t.me/islamwitheman/3687 🌹 رسول اکرمؐ سے عشقِ ابوذرؓ https://t.me/islamwitheman/3688 🌹 شہادت امام محمد باقر https://t.me/islamwitheman/3690 🔷️ امام حسین کی مکہ سے روانگی https://t.me/islamwitheman/3693 🌺 یوم عرفہ کی فضیلت https://t.me/islamwitheman/3698 🌺 یوم عرفہ کے اعمال https://t.me/islamwitheman/3699 🔷️ شہادت حضرت مسلم و طفلان https://t.me/islamwitheman/3701 🌹 سفیر امام حسین https://t.me/islamwitheman/3702 🔷️ ذوالجناح اور گائے https://t.me/islamwitheman/3704 🔷️ مولوی جی https://t.me/islamwitheman/3705 🔷️ قربانی کا گوشت https://t.me/islamwitheman/3706 🔷️ قربانی کے احکام https://t.me/islamwitheman/3716 🔷️ حلال گوشت جانور کے حرام اعضاء https://t.me/islamwitheman/3717 🔷️ قربانی کا صحیح وقت https://t.me/islamwitheman/3718 🌹 عید قربان کے 5 افضل عمل https://t.me/islamwitheman/3721 🔷️ شہادت طفلان حضرت مسلم https://t.me/islamwitheman/3723 🌹 ولادت مبارک امام علی النقی https://t.me/islamwitheman/3726 🌹 عید غدیر مبارک https://t.me/islamwitheman/3744 🌹 مختصر واقعۂ غدیر https://t.me/islamwitheman/3745 🌹 عید غدیر کیدن اطعام وانفاق کا ثواب https://t.me/islamwitheman/3746 🌹 غدیر خم میں پیغمبرؐ کا خطبہ https://t.me/islamwitheman/3747 🌹 اعمال عید غدیر بمعہ آثار و ثواب https://t.me/islamwitheman/3748 🔷 روزِ عید غدیر اس زیارت کو پڑھیں https://t.me/islamwitheman/3749 🌹 جشن عید غدیر https://t.me/islamwitheman/3750 🌹 تکمیل دین https://t.me/islamwitheman/3751 🌹عید غدیر کے اسماء و اوصاف t.me/islamwitheman/3756 🌺احتجاج حضرت زهراءؑ، حدیث غدیر t.me/islamwitheman/3757 🌺عید غدیر، عیدِ اکبر t.me/islamwitheman/3758 🌹سیدہ زھراءؑ کی رخصتی t.me/islamwitheman/3760 💝حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی t.me/islamwitheman/3762 🌴شہادت حضرت میثم تمارؓ اسدی t.me/islamwitheman/3765 t.me/islamwitheman/3766 🌹مولا علیؑ اور میثم تمارؓ t.me/islamwitheman/3767 🌷مباہلہ نبوت و امامت کی حقانیت t.me/islamwitheman/3773 🔷آیت مباہلہ t.me/islamwitheman/3775 🔷اعمال عید مباہلہ t.me/islamwitheman/3776 🔷آیت ولایت t.me/islamwitheman/3780 🌹مباہلہ کا مختصر واقعہ t.me/islamwitheman/3781 🔷آیت مباھلہ، امام رضاؑ کا استدلال t.me/islamwitheman/3782 🌹ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ t.me/islamwitheman/3784 🌷26 ذوالحجه روزِ ایثارِ اهلبیتؑ t.me/islamwitheman/3785 🔷️واقعہ حرہ t.me/islamwitheman/3799 🔷ذوالحجہ کی آخری تاریخ کی نماز t.me/islamwitheman/3801 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 وقت ضائع نہ کیا کریں 🌹 ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں بزرگ ماہی گیر "بابا نعمت" رہا کرتے تھے۔ ان کی عمر ڈھل چکی تھی، مگر دل میں ہنوز زندگی کی تپش موجود تھی۔ وہ جانتے تھے کہ سمندر ہر دن مہربان نہیں ہوتا۔ کبھی طوفان، کبھی ہوائیں، کبھی خاموشی—یہ سب ماہی گیروں کی آزمائش ہوا کرتی تھیں۔ ایک دن سخت طوفان آیا۔ کشتیوں کو بندرگاہ پر باندھ دیا گیا۔ آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ نوجوان ماہی گیر بےچینی سے ساحل پر بیٹھے سمندر کو تکتے رہے۔ کوئی تاش کھیلنے لگا، کوئی اداسی میں ڈوب گیا، کوئی بس وقت کاٹنے لگا۔ مگر بابا نعمت نے ایسا کچھ نہ کیا۔ وہ چپ چاپ اپنے پرانے جال اُٹھا کر ساحل پر آ گئے، اور ان کی مرمت میں لگ گئے۔ اُن کے ہاتھوں میں مہارت تھی، دل میں سکون، اور دماغ میں منصوبہ۔ ایک نوجوان ماہی گیر، اکرم، جو اکثر بابا نعمت کو پرانا سمجھ کر نظرانداز کرتا تھا، اُن کے پاس آیا اور پوچھا: "بابا، آپ کیوں محنت کر رہے ہیں؟ نہ تو آج شکار ہوگا، نہ کل۔ سب کچھ بند ہے!" بابا نعمت مسکرائے، اور نرمی سے بولے: "بیٹا، جب ماہی گیر سمندر نہیں جا سکتے، تو وہ اپنے جال ٹھیک کرتے ہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کل آسمان صاف ہو جائے، پانی پرسکون ہو، اور اگر ہمارے جال ٹوٹے ہوں، تو ہم کیا پکڑیں گے؟ جو لوگ طوفان کے وقت بیٹھے رہتے ہیں، وہ طوفان کے بعد بھی خالی ہاتھ ہوتے ہیں۔" اکرم یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر وہ بھی اپنے جال لے آیا اور بابا نعمت کے ساتھ بیٹھ کر مرمت میں لگ گیا۔ جلد ہی دوسرے نوجوان بھی شامل ہو گئے۔ طوفان کے دو دن بعد جب آسمان صاف ہوا، سمندر نرم ہوا، اور ہوا میں مچھلیوں کی خوشبو آنے لگی—تب وہی نوجوان ماہی گیر، جو تیار تھے، پہلا شکار لے کر لوٹے، اور اُن کے جال سب سے بھاری تھے۔ اور تب گاؤں کے سب نوجوانوں نے سیکھا: اصل کامیابی اُنہی کی ہوتی ہے، جو ٹھہراؤ کے لمحوں کو بھی آگے بڑھنے کا وقت سمجھتے ہیں۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 برابر کے حقوق نہیں چاہئیں 🔷 میں نے ایک خاتون سے پوچھا کہ کیا آپ کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہیں تو اس نے ایک حیران کن جواب دیا اس نے کہا کہ مجھے برابر کے حقوق نہیں چاہئیں۔ میں نے تفصیل چاہی تو اس نے کچھ یوں بیان کیا میرا جائیداد میں باپ کی طرف سے حصہ ہے بھائی کی طرف سے حصہ ہے بیٹے کی طرف سے حصہ ہے خاوند کی طرف سے حصہ ہے جب میں مردوں کے برابر آجاوں گی تو میں ان حقوق سے محروم ہو جاوں گی میں کسی جگہ جاب کرتی ہوں تو مجھے جاب میں سہولت دی جاتی ہے برابر کے حقوق میں میرا نقصان زیادہ ہے بنک ہسپتال مارکیٹ ہر جگہ لیڈیز فرسٹ کہ اصول پر مجھے رلیف مل جاتا ہے میں ابو سے ملنے جاؤں تو وہ کھڑے ہو کر ملتے ہیں اور بھائی کو بیٹھے بیٹھے سلام کر لیتے ہیں ہم شہر سے باہر کہیں جائیں تو مین نے اور بیٹی نے اپنا اپنا ہینڈ بیگ پکڑنا ہوتا ہے، اور بس، باقی سامان بیٹے جانیں اور انکے پاپا۔ ایک بار راستے میں گاڑی رک گئی تھی، تو مجھے سٹیرنگ تھما کر بیٹے اور میاں نے دھکا لگایا، برابر کے حقوق ہوتے تو مجھے بھی دھکا لگانا پڑتا سبھی بڑے اور بھاری کام خود بخود مردوں پر جا پڑتے ہیں مجھے کبھی بل ادا کرنے نہیں جانا پڑتا، کبھی پینٹ والے کے پیچھے نہیں دوڑنا پڑتا، کبھی الیکٹریشن کے ساتھ دماغ کھپائی نہیں کرنی پڑتی، کمانے کی ذمہ داری کبھی میری نہیں رہی، میاں نے کمانے کیلیئے نکلنا ہی نکلنا ہے میں کبھی بھی کہہ دوں آج کچھ نہیں پکایا، گرمی لگ رہی تھی، یا موڈ نہیں تھا تو بازار سے کھانا آ جاتا یے، کوئی زبردستی نہیں ہے،،، لیکن انکو کام سے چھٹی نہیں ہے مین انکے کپڑے جوتے بنا بتاۂے کسی کو اٹھوا سکتی ہوں، وہ ایسا نہیں کر سکتے میاں کی انکم پر مجھے حق حاصل ہے، میری انکم پر صرف میرا میرا لباس ان سے مہنگا ہوتا ہے، میرے جوتے کپڑون کی تعداد ان سے زیادہ ہوتی ہے، ایسے بے شمار فایدے مجھے حاصل ہیں، میں برابر کے حقوق لیکر گھاٹے کا سودا کروں گی؟؟؟ اتنی پاگل لگتی ہوں کیا؟؟؟... 🔘 لبرلز کو دلائل سے سمجھانے کی ادنیٰ کاوش۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

ٹرمپ : "خیر میں نے پاکستان کی جنگ روک دی۔ مجھے پاکستان سے پیار ہے۔ مودی ایک لاجواب آدمی ہیں میں نے کل رات ان سے بات کی تھی کہ اب ہم ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر سکتے ہیں لیکن میں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوائی ہے۔" آئی لو یو بولو یا جنگ کی دھمکی دو پاکستان ایران کیخلاف اڈے نہیں دے گا ۔ یہ مکھن مودی کے کام آئیں گے ہم تمھارے آئی لو یو کے جواب میں گو ٹو ہیل بولتے ہیں۔ یاد رہے آج سینیٹر پلوشہ خان نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر اعلان کیا ہے پاکستان کو ایرانی ایٹمی بم کی حمایت کرنی چاہیے اور اسلامی نیٹو کی تشکیل دی جانی چاہیے ۔ عاصم منیر اکیلا ٹرمپ کو ہاں بھی کرلے تو کور کمانڈرز نہیں مانیں گے ۔ پارلیمنٹ نہیں مانے گی عوام نہیں مانے گی 5 کروڑ شیعہ پاکستانی نہیں مانیں گے ۔ چیف صاحب کو اچھے سے معلوم ہے دس دن بعد محرم شروع ہو رہا ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

میں نے امریکہ و پاکستان کا ذکر کیا ہے ۔ کہیں پر ٹرمپ و آرمی چیف ملاقات کا ذکر نہیں کیا ۔ وہائٹ ہاؤس میں جاری اجلاس کی بات کر رہا ہوں ۔ ٹرمپ سے ملاقات بعد میں رات 11 بجے تک ہونی ہے ۔ پنٹاگون والوں نے ٹرمپ سے ملاقات سے قبل آرمی چیف سے ملنے کا مقصد آرمی چیف سے ان کی رائے اور اگر آفرز پر ہاں کرتے تو رات کو عاصم منیر کے ساتھ خوشگوار تصاویر بنوانے کا سین بنا رکھا تھا لیکن اب عاصم منیر نے منع کردیا ہے تو ممکن ہے ٹرمپ ملاقات میں اپنی اوقات دیکھا دے زیلنسکی کی طرح ذلیل کرے ۔ عسکری ذرائع کے مطابق عاصم منیر نے ایران کیخلاف استعمال ہونے سے مکمل انکار کردیا ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

ایرانی فوجی صلاحیتوں کا اعلان: جب شہری "انٹیلی جنس آئیز" بن جاتے ہیں تو ملک میں موساد کے نیٹ ورک ٹوٹ جاتے ہیں 48 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں انجام پانے والی محتاط سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کارروائیوں کے سلسلے میں، ایرانی سیکیورٹی ایجنسیوں نے تمام ایرانی شہریوں کے تعاون سے، کامیابی سے موساد سے وابستہ متعدد نیٹ ورکس کو ختم کر دیا جو ملک کی داخلی سلامتی کو نشانہ بنانے کے لیے درست حملے اور تخریب کاری کے لیے کام کر رہے تھے۔ آج تک کی اہم کامیابیاں: تہران - نواب سٹریٹ: سویلین رپورٹ کے بعد 127 کلو گرام دھماکہ خیز مواد اور 3 لیٹر انتہائی دھماکہ خیز مائع ضبط کیا گیا۔ لورستان - 5 جاسوسوں کی گرفتاری: ان کی الیکٹرانک تخریب کاری کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ شہریار - ڈرون بمباری کو ناکام بنانا: علاقہ مکینوں نے حملہ آوروں کو روکنے اور آپریشن کو ناکام بنانے میں تعاون کیا۔ پشوا - ڈرون مینوفیکچرنگ ورکشاپ کی دریافت: دو آپریشنز کے ذریعے 23 ڈرونز قبضے میں لے کر دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اراک - موساد کے ایجنٹوں کی گرفتاری: عین مطابق نگرانی کے نتیجے میں ایک پورے سیل کو گرفتار کر لیا گیا۔ البورز - میزائلوں اور رہنمائی کے سامان کی ضبطی: "اسپائک" میزائلوں اور جدید الیکٹرانک آلات کو قبضے میں لے لیا گیا۔ بہارستان - خودکش حملہ آوروں کی گرفتاری: ایک کار بم کے اندر سے ڈرون، دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کو ضبط کرنا۔ خرم آباد - سب سے خطرناک معیار کی اسٹرائیک: ایک نیورولوجسٹ اور اس کے بیٹے کی گرفتاری اور امام علی علیہ السلام پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار 200-300 ڈرونز کو قبضے میں لے لیا گیا۔ Ilam - حساس جگہ کے اندر دراندازی: الہام میں پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کی کوششوں سے صوبے کے ایک حساس مرکز کے اندر کام کرنے والے ایک غدار عنصر کو گرفتار کیا گیا جس کا صیہونی اداروں سے رابطہ ثابت تھا۔ رے - دہشت گرد سیل کو ختم کرنا: موساد کے ایک مسلح حملے کو ناکام بنانا جو تہران میں پرہجوم علاقوں کو نشانہ بنا رہا تھا، اس کے علاوہ ایک افغان طالب علم کو گرفتار کیا گیا جس کے فون پر ڈرون اور بم بنانے کی فائلیں پائی گئیں۔ اس رپورٹ کے لکھنے کے وقت تک، اسرائیلی جاسوسی اور فیلڈ سیکیورٹی کے نفاذ کے نیٹ ورک جو بہت طویل سالوں میں بنائے گئے تھے، سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

*معمر قذافی* لیبیا کے "ظالم ڈکٹیٹر" معمر قذافی کے عوام پر ڈھائے جانے والے "مظالم" کی تفصیل۔۔۔!!! ۱۔ لیبیا میں بجلی مفت ہے، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا۔۔ ۲۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے۔۔ ۳۔ اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی۔۔ ۴۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی۔۔ ۵۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل ہیں۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔۔ ۶۔ کسانوں کو زرعی آلات، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی۔۔ ۷۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی۔۔ ۸۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھی۔۔ ۹۔ پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی۔۔ ۱۰۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد تھے، جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے۔۔ ۱۱۔ اگر کوئی باشندہ گریجوایشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پارہا تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تھی تا وقت کہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے۔۔ ۱۲۔ ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا تھا۔ ۱۳۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے تھے۔ ۱۴۔ قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا ، تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ یہ ان مظالم میں سے کچھ کی تفصیل ہے جو قذافی نامی ڈکٹیٹر نے لیبیا کی عوام پر ڈھائے ۔ ان مظالم کے علاوہ قذافی نے تین بہت بڑے گناہ اور بھی کیے تھے ۔ پہلا کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر کی رقم اس وقت فراہم کی جب پاکستان پر ہر طرح کی پابندیاں تھیں ۔ اسی رقم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا ۔ دوسرا اس نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو اکھٹا کر کے انکا ایک بلاک بناے کی کوشش کی ۔ کبھی افریقی ممالک کا بلاک کبھی عرب ممالک کا ۔ لیکن ہمارے مسلمان ممالک قضافی کی اس " چال " میں نہیں آئے اور آپس میں ہی لڑنے مرنے پر متفق رہے ۔ تیسری چیز میں تو اسنے حد ہی کر دی جب اس نے سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پیپر کرنسی جعلی کرنسی ہے ۔ ان کے ان کرتوتوں کی بدولت ہی امریکہ نے قذافی کو قتل کروا دیا تاکہ لیبیا کے عوام کو ایک ظالم ڈکٹیٹر سے نجات دلائی جا سکے ۔ اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی اور لیبیا جمہوریت کے مزے لے رہا ہے !! 🤔🤔🤔🤔🤔 دوستوں کیساتھ ضرور شیر کریں . شکریہ فریدہ خان کے پیج سے کاپی۔ https://t.me/islamwitheman/6540 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

جوں جوں شباب ڈھلتا گیا، اس چہرے کی، زیبائیت نورانیت اور طمانیت میں اضافہ ہوتا گیا … ❤️ برائے صحت و سلامتی رہبرانقلاب آیةاللّٰ
جوں جوں شباب ڈھلتا گیا، اس چہرے کی، زیبائیت نورانیت اور طمانیت میں اضافہ ہوتا گیا … ❤️ برائے صحت و سلامتی رہبرانقلاب آیةاللّٰه العظمٰی السید علی حسینی خامنہ ائ حفظہ اللّٰه تین مرتبہ صلوات کی تلاوت فرمائیں۔ *اَللّٰهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍوََآلِ مُحَمَّــدٍوَّعَجِــل فَّرَجَهُــم*

🔴 *امریکہ کے پاس اب کوئی چارا نہیں بچا* 🔻 یہ جنگ دراصل امریکہ کی ہے، اسرائیل کی نہیں۔ امریکہ جو مقاصد اس جنگ سے حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ اسرائیل کے براہ راست حملوں اور امریکہ و مغربی ممالک کی بھرپور انٹیلیجنس، لاجسٹک اور سیاسی پشت پناہی کے باوجود حاصل ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ نہ تو ایران کے جوہری اثاثوں کو کوئی نمایاں نقصان پہنچایا جا سکا ہے، نہ ہی اس کے زیرِ زمین میزائل ذخائر تک رسائی ممکن ہوئی ہے — جبکہ "رجیم چینج" تو ابھی بہت دور کی بات ہے۔ 🔻 البتہ ایران کے متعدد اعلیٰ عسکری کمانڈرز اور سائنسدان ضرور شہید ہوئے ہیں، جو یقینی طور پر ایک بڑا نقصان ہے۔ لیکن ایران کی طاقت محض ان افراد میں نہیں، بلکہ اُس نظریاتی، منطقی اور انقلابی نظام میں ہے جو ان جیسے افراد کو مسلسل جنم دیتا ہے۔ چنانچہ شہداء کی جگہ لینے کے لیے اسی نظام کے تربیت یافتہ سینکڑوں افراد موجود ہیں اور اس حوالے سے ایران کو کوئی خاص تشویش لاحق نہیں۔ مزید افراد بھی نشانہ بن سکتے ہیں — یہی ایک میدان ہے جس میں امریکہ اور اس کے اتحادی مہارت رکھتے ہیں — لیکن اس سے جنگ کے اصل اہداف پھر بھی حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ موجودہ حکمتِ عملی میں جتنا زور لگایا جا سکتا تھا، لگ چکا ہے۔ 🔻 دفاع کے تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہے کہ ایران کے جدید اور بھاری میزائلوں کا مؤثر مقابلہ دشمن کے مشترکہ دفاعی اقدامات کے باوجود ممکن نہیں ہو رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے منظم اور ہدفمند حملے اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو رفتہ رفتہ کمزور کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر ایران اپنے اصل اور بھرپور میزائل لانچ کرتا ہے تو اسرائیل کو بھاری تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے — اور ایرانی ذرائع کے مطابق، آنے والے دنوں میں ایسا ہی کچھ ہونے کا امکان موجود ہے۔ 🔻 ان حالات میں امریکہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ صرف براہِ راست اور بڑی فوجی مداخلت کے ذریعے ہی اس جنگ سے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی اسرائیل کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم، وہ بخوبی جانتا ہے کہ ایسا اقدام خطے اور خود امریکہ کے لیے کس قدر تباہ کن نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر یمن میں اس کی ذلت آمیز ناکامی نے ایران کے خلاف کسی بھی براہِ راست جنگ میں کامیابی کی امیدوں کو مزید معدوم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب محض زبانی دعووں، دھمکیوں اور نفسیاتی داؤ پیچ کے ذریعے ایران کے عزم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے تمام متضاد بیانات اور ڈرامائی حرکات کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ 🔻 لیکن زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ یہ حربہ بھی کارگر ثابت نہیں ہوا۔ ایران بدستور پرعزم ہے اور وہ اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچا کر اسے اور اس کے سرپرست امریکہ کو سزا دینے کے درپے ہے۔ اس صورتِ حال میں امریکہ ایک نہایت خطرناک دو راہے پر کھڑا ہے: کیا وہ براہِ راست میدانِ جنگ میں اتر کر خطے اور دنیا کو ایک خوفناک جنگ کی آگ میں جھونک دے گا؟ شاید اب اس کے پاس اس جنگ سے کچھ بڑا پانے یا بہت کچھ نہ کھونے کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارا بچا ہی نہیں۔۔۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

ماسکو کے چینی سفارت خانے نے جنگِ عظیم دوم کے بعد ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے جن پر امریکا نے بمباری کی: جاپان: 6 اور 9 اگست 1945 کوریا اور چین: 1950–1953 (جنگِ کوریا) گواتی مالا: 1954، 1960، 1967–1969 انڈونیشیا: 1958 کیوبا: 1959–1961 کانگو: 1964 لاؤس: 1964–1973 ویتنام: 1961–1973 کمبوڈیا: 1969–1970 گریناڈا: 1983 لبنان: 1983، 1984 (لبنان اور شام میں اہداف پر حملے) لیبیا: 1986، 2011، 2015 ایل سلواڈور: 1980 نکاراگوا: 1980 ایران: 1987 پاناما: 1989 عراق: 1991 (خلیجی جنگ)، 1991–2003 (امریکی و برطانوی حملے)، 2003–2015 کویت: 1991 صومالیہ: 1993، 2007–2008، 2011 بوسنیا: 1994، 1995 سوڈان: 1998 افغانستان: 1998، 2001–2015 یوگوسلاویہ: 1999 یمن: 2002، 2009، 2011 پاکستان: 2007–2015 شام: 2014–2015 یہ فہرست 20 سے زائد ممالک پر مشتمل ہے۔ چین نے زور دیا ہے کہ "ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔" پھر سوال اُٹھتا ہے: کیا کبھی مغربی معاشرے نے امریکا پر برہمی ظاہر کی؟ کیا کبھی اس کے خلاف زوردار آوازیں بلند ہوئیں؟ کیا کسی ایک بار بھی امریکا پر پابندیاں عائد ہوئیں؟ یہ پورا دنیاوی نظام، جسے ہم "بین الاقوامی برادری" کہتے ہیں، خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے، جبکہ امریکا دنیا بھر کے ممالک پر ڈاکوؤں کی طرح حملہ آور ہو کر ان کے خوابوں کو بھی خوفناک کابوس میں بدل دیتا ہے۔ نہ کوئی مذمت، نہ کوئی سرزنش، نہ کسی قسم کی ناراضگی۔ ایک بزدل، بے شرم، اور منافق عالمی ضمیر۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فہرست کو ہر ممکن پلیٹ فارم پر بار بار نشر کیا جائے۔ ایسی ویڈیوز بنائی جائیں جو ان تمام مغربی منافقوں کو بے نقاب کریں اور امریکا کے ہاتھوں دنیا بھر میں ہونے والے جرائم کی ہر حقیقت یاد دلاتی رہیں۔ چینی سفارتخانے کی جانب سے یہ فہرست سفارتِ چین برائے روس (ماسکو) نے ایک سیاسی اور اخلاقی پیغام کے طور پر اُس وقت جاری کی، جب عالمی میڈیا اور مغربی ممالک ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کر رہے تھے، لیکن خود امریکا کے ماضی کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ یہ فہرست اس دوہرے معیار (double standards) کو بے نقاب کرنے کے لیے شائع کی گئی، جو امریکا اور مغرب انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی سلامتی کے معاملات میں اپناتے ہیں۔ جب ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا تو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کو "عالمی خطرہ" قرار دینا شروع کر دیا۔ چینی سفارتخانے نے اس تنقیدی مہم کے جواب میں یہ فہرست جاری کی تاکہ یاد دلایا جا سکے کہ حقیقی خطرہ وہ ملک ہے جس نے جنگِ عظیم دوم کے بعد 30 سے زائد ممالک پر بمباری کی ہے۔ چین کا موقف ہے کہ امریکا کسی بھی اخلاقی مقام سے بات کرنے کے اہل نہیں، کیونکہ خود اس کا ماضی اور حال انسانی حقوق کی پامالیوں اور عالمی جارحیت سے بھرا پڑا ہے۔ چین نے اس فہرست کو جاری کر کے ایک وسیع تر پیغام دیا: "دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ کون اصل خطرہ ہے۔ مغربی میڈیا اور حکومتیں منافقت سے کام لیتے ہیں، اور جب امریکا قتل عام کرتا ہے تو وہ خاموش رہتے ہیں۔" یہ اقدام صرف سفارتی یا معلوماتی نہیں، بلکہ سیاسی جواب اور اخلاقی چارج شیٹ بھی ہے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری یک طرفہ بیانیے کے خلاف۔۔ 👆👆👆👆👆

ایمپائر گر رہی ہے۔۔۔ جب ہم چین اور امریکہ یا یورپ کا ٹیکنالوجی کے میدان میں موازنہ کرتے ہیں تو زیادہ تر لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت کس کے پاس کون سی ٹیکنالوجی زیادہ ایڈوانس ہے، کون سا ملک فلاں شعبے میں آگے ہے اور کون سا پیچھے۔ لیکن اکثر دو اہم فیکٹرز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پہلا فیکٹر یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کو ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہوئے دو سو سال ہو چکے ہیں۔ جبکہ چین نے یہی سفر صرف چالیس سال میں طے کیا ہے اور آج ان کے برابر آ کھڑا ہوا ہے۔ ذرا اس رفتار کا اندازہ لگائیں۔ آپ تصور کریں کہ ایک گاڑی سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پانچ گھنٹے سفر کر کے فنش لائن پر پہنچی ہے اور ایک دوسری گاڑی صرف ایک گھنٹے میں اسی فنش لائن پر پہنچ گئی۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ دوسری گاڑی کتنی تیز چل رہی ہوگی۔ پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ۔ چین نے صرف چند دہائیوں میں وہ فاصلہ طے کر لیا ہے جو مغرب نے دو صدیوں میں کیا۔ تو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ چین کی ترقی کی رفتار کہیں زیادہ تیز ہے۔ اور اگر آج بھی کسی ٹیکنالوجی میں چین پیچھے ہے تو یہ صرف چند مہینوں کا فرق ہے سالوں کا نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اتنا سادہ فارمولہ نہیں ہے مگر آپ اس مثال سے مستقبل کا اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں۔ آنے والے پانچ سالوں کا اندازہ لگا لیجئے۔ چین شاید ہر اس شعبے میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ چکا ہوگا جسے آج ہم جدید ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔ اب دوسرے فیکٹر پر بات کرتے ہیں جو اور بھی زیادہ اہم ہے۔ چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹریل بیس ہے۔ امریکہ اور یورپ کے پاس اب وہ پیداواری صلاحیت ہی نہیں رہی۔ امریکہ کے شہر شیشے کے ٹاورز سے بھرے ہیں مگر وہاں چیزیں بنتی نہیں صرف بکتی ہیں۔ جبکہ چین کے پاس ہر قسم کی انڈسٹری ہے۔ خام مال سے لے کر آخری پراڈکٹ تک وہ سب کچھ خود بناتا ہے۔ چین میں ہر شعبے کی ٹیکنالوجی موجود ہے اور سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک سنرجی، ایک طاقتور انٹرکنیکٹڈ نظام موجود ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو لوگ محسوس نہیں کرتے۔ اگر ایک ملک ہر چیز خود بناتا ہو تو اس کی ترقی صرف رفتار کی بات نہیں رہتی بلکہ وہ ایک خود مختار سائیکل میں داخل ہو چکا ہوتا ہے جو آسانی سے نہیں رکتا۔ یہ دونوں فیکٹرز اگر آپ ذہن میں رکھیں تو آپ آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دو ہزار تیس تک چین کے پاس ساتویں جنریشن کے فائٹر جیٹ ہوں گے اور امریکہ ان کے قریب بھی نہیں پہنچ پائے گا۔ چین فوجی ٹیکنالوجیز میں امریکہ سے کئی قدم آگے جا چکا ہوگا اور یہ امریکہ کے لیے ایک خوفناک خواب بن چکا ہے۔ اسی لیے امریکہ بوکھلایا ہوا ہے۔ کبھی ابراہیمی معاہدے کر رہا ہے۔ کبھی دہشت گردی کی نئی فرنچائز لانچ کر رہا ہے۔ کبھی انڈیا کو فرنٹ لائن سٹیٹ بناتا ہے اور پھر کسی اور طرف منہ موڑ لیتا ہے۔ کبھی اسرائیل کی جنگ چھیڑتا ہے۔ کبھی یوکرین میں آگ لگاتا ہے اور پھر خود ہی بجھانے کی اداکاری کرتا ہے۔ یہ سب حرکتیں، یہ جلد بازیاں، یہ حماقتیں، صرف اس لیے ہو رہی ہیں کہ امریکہ ہر صورت چین تک پہنچنا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ پوتن نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ امریکہ نے پندرہ سال دیر کر دی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ جملہ تاریخ میں سنہری لفظوں میں لکھا جائے گا۔ ذرا سوچیں کہ اگر امریکہ اگلے پانچ سال بھی چین پر کوئی جنگ یا بڑا بحران مسلط نہ کر سکا تو پھر دو ہزار تیس کے بعد امریکہ اور یورپ صرف ایک ماضی کی یاد بن جائیں گے۔ اقتصادی طور پر تباہ، ٹیکنالوجی میں پیچھے اور دنیا میں اپنی برتری کھو چکے ہوں گے۔ کوئی راستہ نہیں بچے گا ان کے دوبارہ ابھرنے کا۔ اور یہی وہ چیز ہے جو ایران اور پاکستان کیلئے نہایت خطرناک ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نیوکلئیر ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اگر ایران نہ ہارا تو امریکہ ہار جائے گا اور اسرائیل ختم ہو جائے گا۔ انڈیا پاکستان کو نہیں ہرا پایا اور اسکا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ دعا ہے کہ ایران یہ جنگ نہ ہارے۔ ہم سب جیت جائیں گے۔ انسانیت جیت جائے گی۔ 👆👆👆👆👆

ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻨﮓ ﮐﯽ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻧﮑﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﺍﻣﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮧ ﻧﮑﻠﻮﺍﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ iPhone ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﻣﺎﻧﯿﮟ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ McDonald's ﯾﺎ KFC ﮐﮭﺎﺅﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﺠﻮﺱ ﮨﻮﮞ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﮏ ﺑﯿﭩﮭﮏ Downtown Cafe ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﺭﺋﯿﺲ ﮨﻮﮞ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Gucci ,Lacoste, Adidas ﯾﺎ Nike ﮐﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﭩﻞ ﻣﯿﻦ ﮐﮩﻼﯾﺎ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﭨﮭﻮﻧﺴﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﮩﺬﺏ ﮐﮩﻼﺅﮞ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Adele ﯾﺎ Rihanna ﮐﻮ ﺳﻨﻮﮞ ﺗﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﻧﮩﯿﮟ ! ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﻋﺎﻡ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﮍﮮ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﭨﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ۔۔۔۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ Adidas ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺺ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺷﻦ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺧﻼﻕ، ﺑﺮﺗﺎﺅ، ﻣﯿﻞ ﺟﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ، ﺻﻠﮧ ﺭﺣﻤﯽ، ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ.. 🔷🔷🔷🔷🔷

نقشہ دیکھ لیجیے: ۔اسرائیل کی سرحد اردن سے ملتی ہے۔ اردن کی سرحد شام سے، شام کی سرحد عراق سے، اور عراق کی سرحد ایران سے جا ملتی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد ملتی ہے۔ اب ذرا تاریخ کے صفحات پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ: جب (کنگ حسین) کے ساتھ اردن کا اسرائیل سے امن معاہدہ ہوتا ہے، تو اسرائیل براہِ راست شام کی سرحد تک پہنچ جاتا ہے اور موساد وہاں سرگرمِ عمل ہو جاتا ہے۔ شام میں حافظ الاسد رکاوٹ بنتا ہے، چنانچہ وہاں چودہ سال اور تین ماہ تک خانہ جنگی کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ اس دوران شام کا فضائیہ اور فوج مکمل طور پر تباہ کر دی جاتی ہے، ملک قرض میں ڈوب جاتا ہے، بھائی، بھائی کا گلا کاٹتا ہے، اور بالآخر بشار الاسد کو چلتا کیا جاتا ہے۔ اقتدار پر الجولانی اس حالت میں قبضہ کرتا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیارے جب چاہیں شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں اور اہلِ شام صرف بے بسی کی آہیں بھرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ⸻ اب ایران اور پاکستان کے درمیان صرف عراق باقی رہ جاتا ہے۔ پہلے عراق کو اسلحہ دیا جاتا ہے، ایران میں خونی انقلاب برپا کروایا جاتا ہے، اور پھر عرب اور عجم (یعنی عربی اور فارسی) کو آپس میں لڑایا جاتا ہے۔ یہ خونریزی آٹھ سال تک جاری رہتی ہے — نہ کوئی فاتح ہوتا ہے، نہ مفتوح۔ ہاں، یہی اسرائیل جب دیکھتا ہے کہ عراق اور ایران حالتِ جنگ میں ہیں، تو وہ اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے تموز کے نیوکلیئر پلانٹ پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے، یہ کہہ کر کہ اس سے اسرائیل کی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد عراق کو شہ دی جاتی ہے اور وہ کویت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ کویت کی سرحد پار کرتا ہے، امریکہ بہادر پوری دنیا کو اکٹھا کر کے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔ مگر تب بھی عراق میں کچھ جان باقی رہتی ہے۔ پھر یہی اسرائیل 2003 میں امریکہ کو قائل کرتا ہے کہ عراق ایسے ہتھیار بنا رہا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ عراق بار بار یقین دہانی کرواتا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں، وہ عالمی ایٹمی توانائی کے ادارے کو مکمل رسائی دیتا ہے، مگر اس ادارے کے افراد جاسوسی پر مامور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد عراق پر تباہ کن حملہ ہوتا ہے، شیعہ ملیشیا حرکت میں آتے ہیں، بھائی بھائی کا گلا کاٹتا ہے، عراق کی فوج اور فضائیہ مکمل تباہ کر دی جاتی ہے، سونے کے ذخائر لوٹے جاتے ہیں اور صدام حسین کو تختۂ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ ⸻ اب پاکستان اور اسرائیل کے درمیان صرف ایران رہ جاتا ہے۔ اسرائیلی جنگی طیارے جب چاہیں اردن، شام، اور عراق کے اوپر سے بلاخوف و خطر پرواز کر سکتے ہیں، بمباری کر سکتے ہیں، اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں۔ پھر 12 جون 2025 کا وہ لمحہ آتا ہے، جب بغیر کسی پیشگی وجہ کے اسرائیل، ایران کے ایٹمی مراکز پر بمباری کرتا ہے۔ ایران کے اہم جرنیلوں اور سائنسدانوں کو ان کے بچوں کے سامنے خاک و خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔ دھمکی دی جاتی ہے کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر نیست و نابود نہیں کر دیا جاتا، کیونکہ اس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کا وزیرِ دفاع دھمکی دیتا ہے کہ اگر ایران نے جوابی دفاع کا حق استعمال کیا تو تہران کو جلا کر راکھ کر دیا جائے گا۔ یہ حملے اور جوابی حملے تین دن سے جاری ہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ کب تک جاری رہیں گے۔ ⸻ اب تصور کیجیے — خدانخواستہ — اگر ایران بھی اسی انجام سے دوچار ہو جائے جس سے شام اور عراق ہوئے، تو پھر: خاکم بدہن! اسرائیل کے تین چار سو جنگی جہاز پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کسی بھی وقت، بغیر کسی روک ٹوک کے آسکیں گے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ان کو “کھنڈ بھارت” کے خواب دیکھنے والے گوبر آچاریہ جیسے لوگوں کی حمایت حاصل ہوگی، ان کے اڈے اور رہنما بھی ساتھ ہوں گے، اور فضا میں ایندھن کی ضرورت تک نہیں پڑے گی! تو کیا ہم اس وقت کا انتظار کریں؟ ⸻ یورپ اور امریکہ کی انسان دوستی، عدل و انصاف کے پیمانے اور دعوے اب محض نعرے بن چکے ہیں۔ وہ صرف اُس وقت چیختے ہیں جب ان کی دم پر پاؤں پڑتا ہے، ورنہ راوی چین ہی لکھتا ہے۔ ⸻ جو کچھ کرنا ہے جیسا بھی کرنا ہے ابھی اور اسی وقت کرنا ہے۔ ورنہ: “تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں!” تجزیہ: حامد میر 👆👆👆👆👆

🇮🇷ایرانی سیکورٹی آفیشلز کا کہنا ہے کہ ایران ایک ہزار سے دو ہزار میزائلوں کے ساتھ اسرائیل پر بڑا حملہ کرنے کا سوچ رہا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ جنگ اب ایرانی بڑے حملے سے ہی ختم ہوگی ورنہ لمبی چلے گی اور عالمی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی۔ #IsraelIranWar #MiddleEast #IranJustDoIt