ISLAM WITH EMAN
Ir al canal en Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Mostrar más1 278
Suscriptores
Sin datos24 horas
-37 días
-1330 días
Archivo de publicaciones
1 278
🌹 اصـــــــل وارث 🌹
ایک علاقہ میں ایک بابا جی کا انتقال ہو گیا، جنازہ تیار ہوا اور جب اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے تو ایک آدمی آگے آیا اور چارپائی کا ایک پاوں پکڑ لیا اور بولا کہ مرنے والے نے میرے پندرہ لاکھ روپے دینے ہیں، پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دوں گا۔
اب تمام لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔
بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے ہمیں تو کوئی ایسی بات نہیں بتائی کہ وہ مقروض ہے، اس لئے ہم نہیں دے سکتے۔
متوفی کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ دار نہیں تو ہم کیوں دیں۔
اب سارے کھڑے ہیں اور اس نے چارپائی پکڑی ہوئی ہے، جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتوں تک بھی پہنچ گئی۔
مرنے والے کی اکلوتی بیٹی نے جب بات سنی تو فورا اپنا سارا زیور اتارا اور اپنی ساری نقد رقم جمع کر کے اس آدمی کے لئے بھجوا دی اور کہا کہ اللہ کے لئے یہ رقم اور زیور بیچ کے اس کی رقم رکھو اور میرے ابو جان کا جنازہ نہ روکو، میں مرنے سے پہلے سارا قرض ادا کر دوں گی، اور باقی رقم کا جلد بندوبست کر دوں گی۔
اب وہ چارپائی پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا اور سارے مجمع کو مخاطب ہو کے بولا:
اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے پندرہ لاکھ روپے لینا نہیں بلکہ اسکا دینا ہے اور اس کے کسی وارث کو میں جانتا نہ تھا تو میں نے یہ کھیل کیا، اب مجھے پتہ چل چکا ہے کہ اس کی وارث ایک بیٹی ہے اور اسکا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں ہے۔
اب بھائی منہ اٹھا کے اسے دیکھ رہے تھے اور بیٹے بھی۔
🔘 سبق
بیٹی والے خوش نصیب ہیں، لہذا بیٹی کی پیدائش پہ خوش ہونا چاہیے نہ کہ غمگین۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 دوسروں کی خوبیاں یاد رکھیں 🌹
میاں بیوی کے لئے بہت دلچسپ واقعہ۔۔
میاں بیوی ایک کاؤنسلر کے پاس گئے۔ ان کا آپس میں شدید جھگڑا چل رہا تھا۔ وہ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کسی ثالث کے مشورے پر عمل درآمد کیا جائے اور تھوڑی سی تھیراپی کروا لی جائے۔
جب وہ دونوں آفس میں داخل ہوئے تو کاؤنسلر نے دونوں کے چہرے پر سخت کشیدگی دیکھی۔ اس نے ان دونوں کو بیٹھنے کے لیے بولا۔
جب وہ بیٹھ گئے تو اس نے بولا کہ اب آپ بتائیں کہ کیا مسئلہ ہے؟
وہ دونوں یکدم بولنا شروع ہو گئے اور ایک سانس میں ایک دوسرے پر تنقید کے پہاڑ ڈال دیے۔
دونوں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔
کاؤنسلر نے ان دونوں کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے دی اور چپ کر کے ان کی لڑائی کی شدت ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
جب دونوں بول بول کر تنگ آگئے تو کاؤنسلر نے انہیں بولا کہ اچھا یہ تو لڑائی اور خامیوں والی کہانی ہو گئی اب ایک دوسرے کی خوبیاں بیان کریں۔ آپ دونوں کو ایک دوسرے میں کیا کیا باتیں پسند ہیں؟
دونوں بالکل خاموش ہو گئے۔ بہت دیر تک دونوں نے کچھ نہیں بولا۔ کاؤنسلر سمجھ گئی کہ ان کو ایک دوسرے پر اتنا شدید غصہ ہے کہ ایک دوسرے کی کوئی اچھی بات یاد ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ یاد کرنا چاہتے تھے۔
کاؤنسلر نے ایک ایک کاغذ اور قلم دونوں کو تھما دیے اور میاں بیوی کو بولا کہ اپنے اپنے کاغذ پر ایک دوسرے کی خوبیاں تحریر کریں۔
ایک دفعہ پھر بہت دیر دونوں نے کچھ بھی نہ لکھا اور غصہ ان کے چہروں پر عیاں تھا۔ بہت دیر کے بعد خاوند نے جیسے ہی اپنے کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کیا تو ایک دم ہی اس کی بیگم بھی تیز تیز اپنے کاغذ پر کچھ لکھنے لگ گئی۔ لگ رہا تھا کہ ابھی بھی دونوں مقابلے پر اپنا اپنا کاغذ بھرنے بیٹھ گئے تھے۔
جب دونوں نے سب لکھ لیا تو، بیوی نے اپنا کاغذ کاؤنسلر کو تھمایا۔ اس نے اسے واپس کرتے ہوئے کہا کہ نہیں اسے اپنے شوہر کو دو۔ وہ خود ہی پڑھے گا۔ بیوی نے اسے دے دیا اور اس کا کاغذ لے لیا۔ دونوں نے پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی دیر بعد بیوی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی تعریفیں پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔
کمرے کی فضا ایک دم تبدیل ہو گئی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ان دونوں کی کبھی لڑائی ہی نہ ہوئی ہو۔ کاؤنسلر کا فرض پورا ہو چکا تھا۔ وہ دونوں جیسے لڑتے بھڑتے اندر داخل ہوئے تھے ویسے ہی ہنستے مسکراتے بانہوں میں بانہیں ڈالے کمرے سے نکل رہے تھے۔
ہر انسان بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے عیب تلاش کرنے لگیں تو ان کی اور اپنی زندگی عذاب بنا لیتے ہیں اور اگر ہم ہر ایک کی خوبیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیں تو اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں۔
فیصلہ آپ لوگوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5438
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 ملا نصیرالدین کا جادوئی قالین 🔷
ملا نصیرالدین کی کہانیاں ہمیشہ حیرت اور مزاح سے بھری ہوتی ہیں۔ یہاں ایک دلچسپ کہانی ہے جس میں ملا نے ایک جادوئی قالین کا استعمال کرتے ہوئے ایک مسئلہ حل کیا:
ایک دن ملا نصیرالدین کے گاؤں میں دو آدمی ایک زمین کے ٹکڑے پر جھگڑ رہے تھے۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ زمین ان کی ہے۔ یہ جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ گاؤں کے بزرگ بھی کوئی حل نہ نکال سکے۔ آخرکار، ملا نصیرالدین کو بلایا گیا۔
ملا نے دونوں فریقین کو سنا اور کہا:
"میں اس مسئلے کا حل نکالوں گا، لیکن مجھے وقت اور سکون چاہیے۔"
پھر ملا اپنے گھر سے ایک پرانا جادوئی قالین لے کر آئے اور اسے زمین پر بچھا دیا۔ انہوں نے گاؤں والوں سے کہا:
"یہ قالین مجھے جادوئی طاقت عطا کرتا ہے۔ میں اس پر بیٹھ کر زمین سے پوچھوں گا کہ اس کا مالک کون ہے۔"
ملا قالین پر بیٹھ گئے اور آنکھیں بند کر کے غور سے زمین کی طرف دیکھنے لگے، جیسے وہ زمین سے بات کر رہے ہوں۔ کچھ دیر کے بعد، انہوں نے آنکھیں کھول کر کہا:
"زمین کہتی ہے کہ وہ کسی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ اس پر رہنے والوں کو اپنی خدمت کے لیے دی گئی ہے۔ لیکن چونکہ تم دونوں اس کے لیے لڑ رہے ہو، زمین تم دونوں کو رد کرتی ہے۔ اب یہ گاؤں کے فائدے کے لیے استعمال کی جائے گی۔"
دونوں فریق حیران رہ گئے، اور جھگڑا ختم ہو گیا۔ مولانا کی حکمت اور جادوئی قالین کا چرچا پورے گاؤں میں ہونے لگا۔
آخر میں مولانا ہنس کر کہنے لگے:
"یہ قالین جادوئی نہیں تھا، لیکن کبھی کبھی مسئلے کا حل عقل اور تھوڑے ڈرامے سے ہی نکلتا ہے!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌷 صدقے سے مشکلات دور کریں 🌷
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک لکڑہارا ان کے پاس سے گزرا۔
حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے آس پاس کے لوگوں سے کہا: یہ لکڑہاڑا جلد ہی مر جائے گا۔
تھوڑی دیر کے بعد لکڑہارا لکڑی کا گھٹا لے کر واپس آگیا۔
صحابہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا: آپ نے فرمایا تھا کہ یہ شخص جلد ہی مر جائے گا لیکن ہم اسے زندہ دیکھ رہے ھیں۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لکڑہارے سے کہا: اپنا لکڑیوں کا گھٹا نیچے رکھو۔
جب اس نے لکڑیوں کا گھٹا کھولا تو اچانک دیکھا کہ ایک سیاہ سانپ منہ میں ایک پتھر لیے ھوئے ھے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لکڑہارے سے پوچھا: آج تم نے ایسا کیا کیا کہ یہ تباہی تم سے ٹل گئی؟
لکڑہارے نے جواب دیا: میرے پاس دو روٹیاں تھیں۔ میں نے ایک غریب آدمی کو دیکھا۔ میں نے ایک روٹی اس غریب کو دی۔
📚 عده الداعی و نجاح الساعی، صفحه 84۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 اپنی تاریخ 🔷
یہ 1957ء كی بات ہے- بیسویں صدی کا مشہور مؤرخ ٹائن بی پاکستان کے دورے پر آیا ہوا تھا- یہ تاریخ کے بارے میں کوئی سیمینار تھا- تقریب کے اختتام پر پاکستان کے ایک نامور مصنف اور سرکاری ملازم ڈائری لے کر آگے بڑھے اور آٹوگراف كی كی درخواست كی- ٹائن بی نے قلم پکڑا، دستخط کئے، نظریں اٹھائیں اور بیوروکریٹ كی طرف دیکھ کر بولے:
"میں ہجری تاریخ لکھنا چاہتا ہوں، کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ آج ہجری تاریخ کیا ہے؟"
سرکاری ملازم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں-
ٹائن بی نے ہجری تاریخ لکھی، تھوڑا سا مسکرایا اور اس كی طرف دیکھ کر کہا:
"تھوڑی دیر پہلے یہاں اسلام کے مستقبل کے بارے میں بڑے زور شور سے تقریریں ہو رہی تھیں- وہ لوگ تاریخ کیسے بنا سکتے ہیں جنہیں اپنی تاریخ بھی یاد نہ ہو- تاریخ باتیں کرنے سے نہیں، عمل سے بنتی ہے-"
سرکاری ملازم اور مصنف نے شرمندگی سے سر جھکا لیا-
📚 مختار مسعود کی کتاب آواز دوست سے اقتباس۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 رزق حلال یا حرام 🔷
ایک دن امیرالمؤمنین امام علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنا مرکب ایک شخص کے حوالے کیا اور مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے تشریف لے گئے۔
نماز سےفارغ ہوکر جب باہر آئےتو دیکھا کہ وہ شخص افسار (گھوڑےکی لگام) چرا کر فرار ہو چکا ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ الصلاۃ السّلام نے افسوس کرتے ہوئے فرمایا:
میرا ارادہ تھا کہ اسے دو درہم بطور اجرت ادا کروں۔
آپ علیہ الصلاۃ والسّلام بازار کی طرف روانہ ہوئے تاکہ ایک نیا افسار (لگام) خرید سکیں۔
وہاں پہنچ کر دیکھا کہ وہی افسار، جو چرایا گیا تھا، بازار میں موجود ہے۔
معلوم ہوا کہ چور نے اسے دو درہم کے عوض بیچ دیا ہے۔
امام کائنات علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ السّلام نے وہی افسار خرید لیا اور فرمایا:
اگر وہ صبر کرتا تو یہی دو درہم حلال طریقے سے اسے دے دیتا، لیکن اب اس نے چوری کر کے اپنا رزق حرام طریقے سے کمایا۔
■ تبصرہ:
اس قسم کے جزئی واقعات کی تحقیقات کا امکان صفر ہے۔ ہمارا مقصود یہاں صرف اس اخلاقی پیغام کی طرف توجہ دلانا ہے کہ انسان کا رزق حلال بھی ہوسکتا ہےاور وہی رزق اسے حرام کی کمائی سے بھی مل سکتا ہے۔
📚 بحوالہ: علامہ مجلسی، بحارالانوار، جلد 41، صفحہ 137۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5463
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
امی ابھی تک ویسی ہی ہیں۔ ابو کو بہت کوستی ہیں۔ اب میری اور امی کے گھمسان کے معرکے ہوتے ہیں۔ میں کہتی ہوں کے اگر ابو نے آپ کو پہلے ہی طلاق دے دی ہوتی تو آج مجھے طلاق نہ ہوتی۔
کھانے پینے کو سب ملتا ہے، رہنے کو سر پر چھت ہے مگر اب سکون نہیں ہے۔ ابو کا چہرہ دماغ میں گھومتا رہتا ہے۔ اپنا شوہر بھی یاد آتا ہے۔
میرا شوہر برا آدمی نہیں تھا میری تربیت بری تھی۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں ساری غلطی امی کی کیوں بتا رہی ہوں۔ میں تو بالغ تھی سب دیکھ اور سمجھ رہی تھی آخر کیوں امی کی باتوں میں آگئی،
آپ بتائیں جس لڑکی کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہو۔ میں نے ساری زندگی امی کو نانی سے یہی باتیں کرتے دیکھا تھا۔ بس نانی یہ کہتی تھیں دیکھو کچھ بھی ہو طلاق مت لینا تو امی طلاق کی نوبت نہیں آنے دیتی تھیں کچھ ابو بھی چپ ہو جاتے تھے۔
ہر کسی کے صبر کا پیمانہ ایک نہیں ہوتا۔ میرے شوہر نیک فطرت کے تھے لیکن بس اس دن ان کا پیمانہ چھلک گیا۔ میں نے ان کو اس حد تک پریشان کیا کہ آخر نوبت یہاں تک آگئی۔
امی یہی کہتی تھیں کہ تمھاری شادی ہی غلط شخص سے ہوئی ہے۔ بس یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔ ان کی اچھائی بھی برائی ہی لگتی تھی۔
اب مجھے نیند نہیں آتی میں چوبیس میں سے بمشکل دو گھنٹے سو پاتی ہوں۔ آپ بتائیں کیا ابو کی جان لے کر اور اپنا گھر تباہ کر کے مجھے نیند آنی چاہیے؟
🔘 اس کہانی کو آپ سب کے سامنے رکھنے کا بس ایک مقصد ہے کہ تربیت پر کام کریں اور بہت زیادہ کریں۔ عورت بطور ماں گیم چینجر بن سکتی ہے، کون غلط ہے کون صحیح اس بحث میں جانے کی بجائے تربیت اولاد اور خود اپنا احتساب کریں۔ اولاد کے سامنے ہر وقت رونے مت روئیں۔ مظلوم بننے کی سوچ سے باہر آجائیں اور شادی شدہ بیٹیوں پر رحم کریں۔ ان کے کچن میں بیڈروم میں ان کے ذہن میں گھسنے کی کوشش نہ کریں۔ بیٹیوں کو بھڑکانے کی پالیسی ختم کر دیں۔ ماں کی بہت زیادہ مداخلت بیٹیوں کے گھر اجاڑنے کا ایک اہم سبب ہے۔
مجھے امید ہے کہ خواتین کسی بھی قسم کے فیمنزم کا چشمہ لگائے بغیر اس تحریر کو پڑھ کر سبق حاصل کریں گی....
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5559
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 عورت بطور ماں گیم چینجر 🔷
یہ ایک لڑکی کی آپ بیتی ہے۔ ان کی اجازت سے اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ شاید کوئی لڑکی سنبھل جائے۔
والدین کی اکلوتی ذرا نازوں سے پلی، ابو شروع سے ہی کہتے تھے کہ ایسے لاڈ نہ کیا کرو اس سے کہ جو کل کو اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں لیکن امی اپنی ناک کے نیچے ساری ضدیں پوری کیا کرتیں اور ابو کو خبر نہ ہوتی، جس کام کو ابو منع کرتے امی خاموشی سے اجازت دے دیتیں اور میں کر لیتی۔
انٹر کے بعد شادی ہوگئی، بیس سال کی عمر میں۔ اچھا پڑھا لکھا رشتہ تھا کھاتا کماتا۔ ابو نے چھان بین کر کے بیاہ دیا۔ امی راضی نہیں تھیں کہ ابھی اور اچھے رشتے آئیں گے ذرا انتظار کریں خیر ابو نے خاندان کے بڑوں کو شامل کر کے امی کو منا لیا اور پھر میری بھی رضا تھی کہ چلو لڑکا پیسے والا بھی یے اور ہینڈسم بھی ہے۔
میں چونکہ بہت نازوں میں پلی تھی تو برداشت بہت کم تھی۔ تربیت کسی قسم کی کچھ تھی نہیں۔ میں نے اپنے شوہر کی باتیں امی کو بتانی شروع کر دیں۔ ذرا ذرا سی باتیں شکایت کی صورت میں بتانے لگی۔ امی چونکہ خود یہ کام کرتی رہی تھیں اس لیے مزے لے لے کر سنتیں اور پھر الٹے سیدھے مشورے دیتیں۔
دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوگیا لیکن میرا یہی حال رہا۔ ایک دو بار میاں نے سختی کرنے کی کوشش کی تو میں بیماری کا ڈھونگ رچا کر میکے چلی گئی۔ ابو نے بہت سمجھایا سختی کی تو واپس آگئی لیکن عادت سے مجبور تھی سو وہ ہی سب کیا کہ غلطیاں کر کے سینہ چوڑا کر کے بدتمیزی کرنا اور اپنی غلطی نہ ماننا۔
میاں نے بھی پیار سے سمجھا کر ہر طرح کوشش کی کہ میں سدھر جاوں لیکن اس وقت مجھے یہ شخص دنیا کا سب سے برا آدمی لگتا تھا۔
ابو نے ڈانٹ کر پیار سے، ہاتھ جوڑ کر ہر طرح سمجھایا کہ بیٹا اپنا گھر آباد رکھو ایسا نہ کرو لیکن میری والدہ کی طرف سے ملنے والی ٹیوشن نے آخر کار وہ سیاہ دن دکھا ہی دیا۔
کچھ دن سے شوہر سے ان بن چل رہی تھی۔ امی سے روز سبق لے رہی تھی میں بس صبح ہی صبح ذرا سی بات کا میں نے پتنگڑ بنا لیا جیسا کہ میں اکثر کیا کرتی تھی اور دس سال کی بھڑاس میرے میاں کے منہ سے طلاق کے تین لفظوں کی صورت میں نکل گئی۔
میں نے کال کر کے ابو کو کہا کہ لڑائی ہو گئی ہے آکر لے جائیں اس وقت طلاق کا نہیں بتایا تھا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ ابو کے لیے یہ بہٹ بڑا صدمہ ہوگا۔
ابو گھر میں آتے ہی میرے میاں سے کہنے لگے کہ اس کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں بیٹا، مجھے پتا ہے میری بیٹی کی غلطی ہے۔ کیونکہ ایسی لڑائیاں میں اکثر کرتی رہتی تھی۔ میرے میاں نے بہت تحمل سے ابو کو طلاق کا بتا دیا۔ ابو نے کہا کہ مجھے رکشہ کروا دو میں اسے گھر لے جاؤں میرے شوہر نے کہا کہ نہیں آپ گاڑی میں جائیں۔
اصرار کر کے ابو سے معافی مانگ کر میرے شوہر نے ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں ہمیں چھوڑنے کے لیے بھیج دیا۔
ابو گاڑی میں بالکل خاموش رہے گھر میں آتے ہی امی سے کہا لو تمھاری بیٹی کو صلہ مل گیا ہے اس کے کیے کا، اب تمھیں بھی یہ انعام ملنا چاہیے اور امی کو اسی وقت طلاق دے دی۔ مجھے نہیں پتا کہ ابو نے غلط کیا یا صحیح لیکن ابو کی حالت ایسی تھی کہ مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ تم دونوں ماں بیٹی کو طلاق مبارک، اب ساتھ بیٹھ کر عدت کرنا۔ (ابو نے اس وقت باقاعدہ تالیاں بجا کر کہا۔ شاید وہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ میں تھے)
ابو یہ کہہ کر باہر چلے گئے۔ پھر چار دن ہوگئے ابو واپس نہیں آئے۔ ہم ڈھونڈتے رہے کہاں کی عدت اور کیسی عدت۔ بس ابو کو ہر جگہ ڈھونڈا کہیں نہیں ملے۔ خاندان والوں کی باتیں الگ اور ابو کی گمشدگی الگ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
پانچویں دن جمعے کی نماز کے وقت میرے موبائل پر تایا زاد کزن کی کال آئی کہ چچا مل گئے ہیں میں گھر لا رہا ہوں ان کو۔ میری کچھ سانس میں سانس آئی۔
ابو آئے تو مگر ایدھی کی ایمبولینس میں کفن میں لپٹے ہوئے۔ پانچ دن ابو کہاں رہے نہیں معلوم۔ بس ایدھی والوں کا کہنا تھا کہ یہ صاحب فٹ پاتھ پر پڑے ملے تھے۔ نہ کوئی زخم نہ چوٹ کا نشان
ابو کا شاید دل بند ہونے سے ان کی موت ہوئی تھی اور آپ کو پتا ہے کہ ان کا دل میں نے اور امی نے مل کر بند کیا ہے۔
ابو نے ہمارے لیے گھر چھوڑا جو کہ وہ پہلے ہی امی کے نام کر چکے تھے۔ اوپر والا پورشن ہم نے کرائے پر اٹھا دیا، ابو کی پینشن بھی آتی ہے، کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی، سفید پوشی میں اچھے سے گزارا ہو رہا ہے۔ دودھیال والے ہم سے ملتے نہیں ہیں کہتے کہ تم دونوں ہمارے بھائی کی موت کا سبب ہو۔
میرے تین میں سے دو بڑے بچے اپنی مرضی سے اپنے باپ کے پاس جا چکے ہیں۔ باقاعدہ لڑ کر گئے ہیں۔ ملنے بھی نہیں آتے، چھوٹے والا ابھی تین سال کا ہے تو وہ میرے پاس ہے مگر مجھے پتا ہے کہ وہ بھی چلا جائے گا۔
1 278
🌴 شــبِ جـــمـــعــــه 🌴
💧 فرمانِ رسول اللہ (ص):
شبِ جمعہ و روزِ جمعہ کی چوبیس ساعتیں ہیں اور ہر ایک ساعت میں خداوند عالم چھ لاکھ انسانوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔
💧 فرمانِ امام علی علیہ السلام:
اگر کوئی گروہ مستحقِ عذاب ہو تو اگر وہ شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ دعا کرے تو اسے عذاب سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
شبِ جمعہ میں گناہوں سے بچو کہ اس میں عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے جیسا کہ اس شب میں نیکیوں کا ثواب بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
زوالِ جمعرات سے زوالِ جمعہ کے درمیان جس شخص کی موت واقع ہو، وہ فشارِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
شبِ جمعہ دعا و نماز میں گزارو، شبِ جمعہ میں اللہ تعالٰی مومنین کی عزت بڑھانے کے لئے ملائکہ کو آسمانِ اول پر بھیجتا ہے کہ وہ ان کی نیکیوں میں اضافہ کریں اور ان کے گناہ مٹا ڈالیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی رحیم و کریم ہےاور اس کی عنائتیں اور عطائیں وسیع ہیں۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
جمعرات کی عصرکو ملائکہ آسمان سے اترتے ہیں. ان کے ہاتھوں میں سونے کا قلم اور چاندی کا کاغذ ہوتا ھے، وہ اس میں جمعرات کی عصر سے روزِ جمعہ کے آخر تک مُحمدِِ وآلِ مُحَمَّد ص پر بھیجے گئے درود کے سوا کچھ اور درج نہیں کرتے۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
جو شخص ہر شبِ جمعہ میں سورہ بنی اسرائیل کی تلاوت کرے تو امام عصر عج کی خدمت میں حاضری نصیب ہونے سے پہلے اسے موت نہیں آئے گی اور وہ امامِ زمانہ عج کے اصحاب میں سے ہو گا۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ میں سورہ احقاف کی تلاوت کرنے والا دنیا میں خوف و خطر اور آخرت میں دل گیری و پریشانی سے امن میں ہو گا۔
💧 فرمانِ امام جعفر صادق علیہ السلام:
شبِ جمعہ میں سورہ کہف کی تلاوت کرنے والا نہیں مرے گا مگر شہید ۔۔۔۔ اور قیامت میں حقِ تعالٰی اس کا حشر شہیدوں کے ساتھ کرے گا اور وہ انہی کے ساتھ رہے گا۔
💧مرحوم مومنین کے حق میں زیادہ سے زیادہ دعا کرے، جیسا کہ حضرت زہرا سلام الله علیھا کیا کرتی تھیں.
💧 علامہ مجلسی رح نے ایک شبِ جمعہ یہ دعا پڑھی، دوسری شبِ جمعہ جب وہی دعا پڑھنا شروع کیا تو غیب سے آواز آئی کہ مجلسی تم نے یہ دعا جو گزشتہ شبِ جمعہ پڑھی تھی اسی کا ثواب ابھی لکھا جا رہا ہے، ثواب کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے. دعا یہ ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِنْ اوّلِ الدُّنْیَا اِلٰی فَنآ ئِھا وَ مِنَ الْآخِرَۃِ اِلٰی بَقَآئِھا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ علٰی کُلِّ نِعْمَۃٍوَّاسْتَغْفِرُ اللّٰهَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوبُ اِلَیہِ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔ (بحارالانوار جلد102)
📗 بحوالہ مفاتیح الجنان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 غسل جمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
📄 جمعةالوداع کی دعا
http://t.me/islamwitheman/1056
🌺 روز جمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112
🌹 فضائل جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/1974
🌹 فضیلت جمعہ اور نماز حاجت
https://t.me/islamwitheman/1987
🌹 فضیلت جمعہ اور سورہ ھود
https://t.me/islamwitheman/1998
🌹 فضلت جمعہ اور سورہ صافات
https://t.me/islamwitheman/2027
🌹 احادیث فضیلت نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/2036
🌹 جمعہ کے دن کی دعا
https://t.me/islamwitheman/2062
🌹 جمعہ کے دن کی زیارت
https://t.me/islamwitheman/2063
🌹 فضیلت جمعہ اور چار رکعت نماز
https://t.me/islamwitheman/2064
💐 جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/2083
🌹 فضیلت جمعہ اور سورةالقدر
https://t.me/islamwitheman/2084
🌹 فضیلت جمعہ اور عمل اولاد
https://t.me/islamwitheman/2107
🌴 شــبِ جـــمـــعــــه
https://t.me/islamwitheman/5558
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 بیٹی کے گھر کا پانی 🔷
اج کل کی تلخ حقیقت ۔۔۔۔
شادی کے کئی سال بعد اٙبا اور بھائی اسکے گھر آرہے تھے، وہ بہت خوش تھی، کئی پکوان تیار کیے تھے، مشروب بنائے تھے، خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی۔
ﷲ ﷲ کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں...!!!! وہ بڑے شوق سے انکو بیٹھک (ڈرائینگ روم) میں لیکر آئی۔
باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، بھائیوں نے بھی حال چال پوچھا۔
وہ جلدی سے ٹھنڈے مشروب لے آئی...!!!!
"ناں پتر" باپ نے دیکھتے ہی کہا:
ہمارے خاندان میں بیٹیوں کے گھر کا پانی بھی حرام سمجھا جاتا ہے، اسے واپس لےجا، ہم تو تجھے دیکھنے آئے تھے۔ بس اب چلتے ہیں۔
"یہ کہہ کر ابا اور بھائی واپس چلے گئے۔
اور اسے وہ دن یاد آگیا۔۔۔
جب وہ دلہن بنی بیٹھی تھی کمرے میں اس کی سہیلیاں خوش گپیوں میں مصروف اسے چھیڑ رہی تھیں کہ ابا اور بھائی آگئے تھے...!!!!
"دیکھ پتر" ابا نے اس سے مخاطب ہو کر کہا تھا"
ہمارے خاندان کی ریت ہے کہ شادی سے پہلے بیٹیاں اپنی جائیداد سے دستبرداری کرتی ہیں
لے پتر تو بھی اس کاغذ پر سائن کردے۔"
اور پھر اس سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروا لئے گئے تھے...!!!!
اور اب وہ چپ چاپ کھڑی یہی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیسی ریت کیسا رواج ہے کہ بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا تو حرام ہے مگر ان کی جائیداد کا حصہ ہڑپ کرنا حلال ہے۔
🔘 بہنوں، بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیجئـے کیونکہ یہ انسان کا نہیں بلکہ قرآن کا فیصلہ ہے...!!!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 ہمیشہ اچھا گمان رکھیں 🌹
اک روز میں نے اپنے جگری دوست کو فون کیا اور کہا: ’’آج شام کو میں اپنی بیگم کے ہمراہ تمہارے گھر آؤں گا۔‘‘
دوست نے یہ سنتے ہی کہا:
"مرحبا! خوش آمدید! ... بڑے اچھے وقت پر یاد کیا، میری تم سے ایک چھوٹی سی درخواست ہے۔"
میں نے استفسار کیا کہ وہ کیا؟
کہنے لگا "جیسا کہ تم بڑے شہر میں رہتے ہو تو میں چاہتا ہوں کہ تم وہاں سے آتے ہوئے وہاں کی سب سے مشہور اور مہنگی بیکری سے دو پاؤنڈ کا فریش کیک بھی لیتے آنا، اور اس کے ساتھ فلاں چاکلیٹ, فلاں بسکٹ اور فلاں جوس بھی لیتے آنا۔"
میں نے کہا: "کیوں؟ کیا یہ ہماری دعوت کا اہتمام ہے کیا؟"
دوست نے کہا:
"نہیں، یہ تمام اشیاء میرے بیٹے کی پسندیدہ ترین چیزیں ہیں، اور آج میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس کی کامیابی کا جشن منانا چاہتا ہوں، لیکن اس وقت میں باہر نہیں جا سکتا، اور میں اسے اس بات کا احساس دلائے بغیر حیران کرنا چاہتا ہوں۔"
میں نے دوست کی مطلوبہ چیزیں خریدیں، پرتعیش بیکری کا بل بھی ٹھیک ٹھاک بن گیا، میں نے رقم ادا کی، سامان لیا اور دوست کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
جب وہاں پہنچے تو تھوڑی دیر بعد ہی اس دوست نے اپنے بیٹے کو سرپرائز دیتے ہوئے، جشن کا اہتمام کر دیا اور یوں وہ شام خوشیوں سے بھر گئی۔
رات گئے جب میں نے دوست سے اجازت چاہی تو اس نے کہا: "میرے پاس کیک کا ایک بڑا ٹکڑا بچا ہے۔ براہ کرم مجھے شرمندہ نہ کیجیے گا اور اسے اپنے بچوں کے واسطے لے جائیں۔"
اس نے فقط وہی ڈبہ مجھے تھما دیا جو میں لایا تھا، اس کے علاوہ نہ ہی مجھے وہ رقم دی جو میں نے خرچ کی تھی اور نہ ہی پیسوں کا ذکر کیا، اس نے کیک کے ٹکڑے کے ساتھ مجھے الوداع کہا۔
میں وہاں سے رخصت ہوا اور واپسی پر سارے راستے اسے کوستا رہا، اور اس وقت کو کوستا رہا جب میں نے اسے بتایا کہ اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے آرہا ہوں۔
گاڑی میں میری بیگم نے یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کی کہ شاید آپ کا دوست ادائیگی کرنا بھول گیا ہے۔ وہ کل ضرور یاد کرے گا، اور آپ کو فون کر کے معذرت کرے گا اور پیسے بھی بھجوا دے گا۔
لیکن میں کہتا رہا کہ اس نے مروتاً بھی نہیں پوچھا لہٰذا "یہ رویہ یاری دوستی کا استحصال اور آداب و احترام کے منافی ہے۔‘‘
میں بدستور غصے میں بڑبڑاتا رہا، گھر پہنچ کر بیگم کو کہا کہ شیخ صاحب نے جو کیک کا ٹکڑا تھما کر احسان کیا ہے وہ کیک کا ٹکڑا بچوں کو کھلا دو کم از کم کچھ تو تسکین ہو۔
اس نے ڈبہ کھولا تو اس میں کیک کا ایک ٹکڑا اور پوری رقم کے ساتھ شکریہ کا رقعہ ملا، جس پر یہ الفاظ تحریر تھے:
"میرے دوست باوجود اس کے یہ بڑی رقم ہے مگر میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے کسی بھی صورت میں پیسے نہیں لو گے، اس لیے میں نے تمھارے علم میں لائے بغیر پیسے ڈبے میں رکھ دیے ہیں۔"
میں حیران کم اور شرمندہ زیادہ تھا، اور اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کروں۔
میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اس دوران میں نے اپنے دوست کے متعلق جو رائے بنا لی تھی کیا میں اپنے دوست سے اپنے برے خیالات کے لیے معذرت کروں اور معافی مانگوں؟
اس نے کہا:
آپ کے متعلق اس کا جو حسن ظن ہے اسے اس پر قائم رہنے دیں اور آپ بھی دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں۔
🔘 ہمارے اکثر مسائل ہمارے قول و فعل میں پیدا ہونے والی غلط فہمی اور ہمارے رویوں کی غلط تشریح کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
کاش ہم ایک دوسرے کے لیے ایسے ہی اچھے بہانے بنا سکتے جیسے میرے دوست نے کیک کے ٹکڑے کے بہانے ڈبے میں پیسے رکھ دیے تھے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 طلاق اور خلع کی بڑی وجہ 🔷
آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ محبت ہوگئی ہے۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے۔ بتائیں کیا کروں۔۔۔؟
ایک دارالافتا میں ایک خط آیا جس میں شوہر نے لکھا تھا کہ ”رات آنکھ کھلی تو بیوی بستر پر نہیں تھی، بیڈروم سے باہر آیا تو صوفے پر لیٹی موبائل میں مصروف تھی۔ اب وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے اور ہمارا ایک بچہ بھی ہے “۔
میں نے خود یہ واقعات سنے ہیں کہ شوہروں کے پیچھے عورتوں نے ان کی امانت میں خیانت کی ہے۔
نبی مہربان ﷺ نے فرمایا ”اللہ تعالٰی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے۔“
ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ”یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئے تیار نہیں ہے۔“
آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں۔ آپ کو نماز، روزہ، حج، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔
لیکن نکاح، طلاق، خلع، شادی، ازدواجی معاملات، میاں بیوی کے تعلقات، گھریلو ناچاقی، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ چوم چوم کر رکھتے ہیں۔
آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ”جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے۔“
قربانی، ایثار، احسان، درگذر، معافی، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ ان جوڑوں کی طلاق زیادہ جلدی ہو جاتی ہے جو جوائنٹ فیملی میں نہیں رہتے۔
خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا ٹی وی سیریل فلموں نے گھر گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ”شاہ رخ خان“جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ...
گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے۔ کم ہو یا زیادہ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں۔
سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے۔
پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔ شوہر شام میں گھر آتا، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں۔
یہاں میڈم صاحبہ کا موڈ آف ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہو جاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ...
مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا۔
لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے۔ آپ کو سب ملے گا اور ان شاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئے تو خوب میک اپ لیکن شوہر کے لئے "سر جھاڑ منہ پھاڑ" ایسا نہ کریں۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔
یاد رکھیں مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت۔
🔘 ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہی اسلام کی منشاء ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
"الله بڑا بادشاہ ہے، کچھ نہیں ہوگا آپ کو، میں ہوں نا آپ کے لئے، کیوں پریشان ہوتے ہو آپ؟؟؟؟ زخم بھی بھر جائے گا اور آپ پہلے کی طرح دوڑتے پھرو گے ان شاءاللہ۔" مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر سجائے اس کی بیوی نے اسے دلاسہ دیا مگر آنکھیں اس کی بھی نم تھیں۔
بیگم نے اپنے الفاظ سچ کر دکھائے کہ "میں ہوں نا آپ کے لئے" پھر وہ تھی اس کے لئے ہر جگہ۔۔۔ ہر قدم پر۔۔۔
ایک پل کے لئے وہ شوہر کے بستر سے نہ ہٹی۔۔۔کھانا پینا۔۔۔ ہاتھ منہ دھلوانا۔۔۔ غرض کہ ہر کام میں وہ سہارا بنی۔ جب بھی شوہر حوصلہ ہارتا، مایوس ہوتا، اس کی بیوی اس کی ہمت بڑھاتی، امید کی کرن دکھاتی، آنے والا وقت اچھا بتاتی۔۔۔
ایک مہینہ گزرا، تیس دن گزر گئے اسی حال میں۔ اس کی بیوی نہ تھکی، نہ اس نے پریشانی ظاہر کی کہ ایک کمسن بچہ بھی پال رہی ہے اور اب شوہر بھی بستر سے لگا اس کی جان پر بوجھ۔ اس کے لبوں پر حوصلہ بڑھاتے جملے ہوتے۔ اس کے مسکراتی آنکھیں محبت چھلکاتی رہتیں۔ اس کی نمازیں لمبی ہوگئیں۔ ہاتھ اٹھتے دعا کے لئے تو اٹھے رہتے۔ وہ اپنے رب سے باتیں کرتی۔ ایسے ہی مہینہ گزارا۔
شوہر کا زخم ٹھیک ہو چکا تھا مگر گھٹنا مکمل نہیں مڑ رہا تھا۔ چلنے میں دشواری کے سبب ڈاکٹر نے چھڑی کے سہارے چلنے کا کہا اور گھٹنے کی ورزش بتائی کہ پندرہ روز میں ٹھیک ہو جانا چاہیئے ورنہ پھر مزید علاج کی ضرورت ہوگی۔ یہ سب جاننے کے بعد بیوی نے کہا "آپ کو چھڑی کی ضرورت نہیں آپ کا سہارا میں ہوں" اور وہ اس قول میں بھی سچی ثابت ہوئی۔ وہ اسے اپنے سہارے گھر میں چلانے لگی اور اتنا چلایا کہ وہ پھر بغیر سہارے لنگڑا کر چلنے گا۔ ایک ہفتے میں اسے کرسی پر بیٹھے کے قابل کردیا۔
"دیکھیں اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ شفا دینے والا سچا رب ہے، میں کوشش کر رہی ہوں جتنا کر سکتی ہوں، باقی الله ہی ہے جو آپ کو صحت دے رہا ہے۔" بیگم نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔
"ہاں جانتا ہوں کہ آپ کوشش کر رہی ہیں اور اپنی طاقت سے بڑھ کر کر رہی ہیں۔ میرے پاس آپ کو دینے کے لئے دعائیں ہیں اور۔۔۔۔۔۔."
"بس بس ٹھیک ہے۔ اب جذباتی نہ ہوں آپ کی دعائیں ہی میرے لئے بہت ہیں۔" اسکی بیگم نے بات کاٹتے ہوئے اسے جذباتی ہونے سے روکا۔
اسی طرح دوسرا ہفتہ بھی گزر گیا۔۔۔
"بیٹھیں۔۔۔ اُٹھیں۔۔۔ بیٹھیں۔۔۔ اُٹھیں۔۔۔ بس ٹھیک ہے کرسی پر بیٹھ جائیں۔ آپ کے گھٹنے کی حالت اب بہت اچھی ہے۔ بس اٹھنے بیٹھنے میں تھوڑی احتیاط کچھ عرصے کے لئے۔ پھر آپ کو شاید یاد بھی نہ ہو کہ کوئی آپریشن ہوا تھا۔" ڈاکٹر نے اسے مسکراتے دیکھا اور رخصت دے دی۔
اس نے گھر جانے کے لئے سواری لی اور رستے بھر اس کی آنکھوں میں بستر پر گزارا مہینہ گھومتا رہا کہ اس کی بیوی نے کیسے اپنا دن کا چین اور رات کا آرام اس پر قربان کر دیا۔ اس کی ایک آواز پر اس کی ضرورتوں کو پورا کیا۔ کسی بچے کی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔ اس کی بیگم کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ اس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔۔۔ "میں ہوں نا آپ کے لئے" ۔۔۔۔ "آپ کا سہارا میں ہوں۔"
اسے یقین نہ تھا کہ وہ دوبارہ پہلے کی طرح چل پائے گا۔ مگر اس کی بیوی کو تھا۔ وہ بیٹھے بیٹھے مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جاتا مگر اس کی بیوی اسے امید کی روشنی میں گھسیٹ لاتی۔ وہ اکھڑا اکھڑا بیزار سا رہتا۔ اس کی بیوی کا لہجہ نرم و ملائم ہوتا جاتا۔ وہ خاموش رہنے لگتا۔ اس کی بیگم اسے باتوں سے بہلاتی۔ اسی سوچ میں وہ گھر پہنچ گیا۔ ڈاکٹر کی بات گھر والوں کو بتائی تو سبھی نے رب کا شکر ادا کیا کہ زندگی معمول کی طرف لوٹی۔
اگلی صبح یہ اپنے کام پر جانے کی تیاری میں تھا۔ اس کی بیگم اس کا بیگ بھرنے میں مدد کر رہی تھی۔ وہ بار بار اپنی بیوی کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اسے اس کی بیوی کے چہرے پر خوشی کے کئی رنگ نظر آرہے تھے۔ کامیابی کے رنگ۔۔۔ چہکتا۔۔۔ چمکتا دمکتا چہرہ۔ یونہی دیکھتے دیکھتے اس کا بیگ تیار ہوچکا تھا۔ وہ الوداع کہتا گھر کے دروازے کی طرف بڑھا۔
بیگم نے آواز دی۔۔۔۔
"مبین ۔۔۔۔ سنیئے"
جی چندا
"اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور موٹر سائیکل دھیان سے چلانا ۔۔۔ اور ہاں جلدی واپس آنا۔"
بالکل۔۔۔۔ میں خیال رکھوں گا اور جلد آجاؤں گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5553
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 بیوی کا ساتھ 🌹
فون کی مخصوص گھنٹی نے اس کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا۔۔۔ "السلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟؟؟؟؟"
"جی۔۔ میں ٹھیک، آپ کیسے ہیں؟ مصروف تو نہیں تھے؟" کھنکتی نسوانی آواز محترم کی زوجہ محترمہ تھیں۔
"نہیں میں مصروف نہیں تھا۔۔۔ آپ بتائیں کیسے یاد کیا؟؟؟؟"
"وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ آج آپ مجھے امی کے گھر لے چلیں گے؟؟؟"
"جی بالکل آپ تیاری کر لیں۔ آج رات ہم لے چلیں گے آپ کو ان شاءاللہ"
"جی شکریہ بس یہی پوچھنا تھا۔ آپ کام کر لیں بعد میں بات کروں گی ان شاءاللہ"
"جی بہتر" اور فون کٹ گیا۔
کام سے فارغ ہو کر وہ رات گھر پہنچا۔ اسکی شریکِ حیات اپنے ڈیڑھ سالہ بچے کے ساتھ اسکی منتظر تھی۔ گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا کر والدین سے اجازت لی اور وہ اپنے سُسرال کی جانب اپنی موٹر سائیکل پر روانہ ہوا۔
اپنی بیگم سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے اسکا سفر کٹ رہا تھا کہ اچانک اسکی موٹرسائیکل کی رفتار تیز ہوئی اور اگلا پہیہ ہوا میں معلق ہوگیا اور چند گز کے بعد موٹرسائیکل زمین پر لیٹ گئی اور رگڑ کھاتی ہوئی کچھ دور جا کر رک گئی۔ اس کی ٹانگ بری طرح سے موٹر سائیکل کے نیچے دبی ہوئی تھی۔ اس کی شریکِ حیات پیٹھ کے بل موٹرسائیکل کے پچھلے وہیل پر پڑی تھی۔ ایک ہاتھ اس کے شوہر کی کمر کے نیچے دبا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے اپنا بچہ اپنے سینے سے چمٹائے رکھا تھا اور موٹر سائیکل کا وہیل اس کی کمر پر کسی پنکھے کی طرح گھوم رہا تھا۔
اس اچانک ہوئے حادثے نے تھوڑی دیر کے لئے اس کے حواس گم کردیئے۔ لمحوں میں اسکی آنکھوں کے سامنے کئی چہرے آگئے۔ اس نے اپنی تمام تر ہمت کو جمع کر کے اپنی ٹانگ زبردستی موٹر سائیکل کے نیچے سے کھینچی اور کھڑا ہو کر اپنی بیگم کے ہاتھ سے بچہ لیا اور ارد گرد جمع ہونے والے مجمع میں سے کسی نے اس کے ہاتھ سے بچہ سنبھالا اور اس نے اپنی بیگم کو کھڑا کیا۔
دو موٹرسائیکل سوار آپس میں ریس لگاتے ہوئے جا رہے تھے۔ جن میں سے ایک اس کی موٹرسائیکل سے ٹکرایا اور اسے گراتے ہوئے خود بھی گرا مگر فوراً سے اٹھ کر یہ جا وہ جا۔ پیچھے رہ گیا یہ اپنی زخمی بیگم کے ساتھ سڑک کنارے اپنے بچے کو ٹٹول رہا تھا کہ کہیں اسے لگا تو نہیں اور رب کا خاص کرم کہ معمولی خراش تک نہ تھی۔ بیگم کا وہ ہاتھ جو اس کی کمر کے نیچے تھا ہتھیلی کی پشت پر جگہ جگہ سے کھال غائب تھی، کمر پر جلن محسوس ہو رہی تھی، برقعہ جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا۔
گھر واپس جانا طے ہوا کہ وہاں سے والدہ کو ساتھ لے کر ہسپتال جایا جائے۔ موٹر سائیکل اٹھائی اور کک لگانے کے لئے ٹانگ اٹھائی تو احساس ہوا کہ اس کا گھٹنا زخمی ہے اور لہو سے پنڈلی تر ہو رہی۔ سر جھٹک کر اس نے زخمی ٹانگ سے کک لگائی اور گھر پہنچا۔
بیگم اور بچے کو والدہ نے لیا اور کلینک کی طرف روانہ ہوئیں۔ والد نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور ہسپتال روانہ ہوئے۔ اپنے زخم کو ہلکا اور معمولی سمجھتا ہوا یہ ہسپتال کی سیڑھیاں چڑھتا گیا اور ڈاکٹر کے سامنے جا بیٹھا۔ زخم کا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے معذرت کر لی کہ اس کا کام نہیں۔ کسی بڑے ہسپتال لے جائیں۔ ایک بعد دوسرا اور پھر تیسرے ہسپتال کی طرف سے معذرت۔ بالآخر سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں اسے طبی امداد حاصل ہوئی، جہاں زخم کی صفائی کے دوران اسے اندازہ ہوا کے گھٹنے سے گوشت غائب ہوچکا ہے، زخم سنگین ہے اور یہ چھوٹی چوٹ سمجھ کر اب تک مطمئن تھا۔ ٹانکے وغیرہ لگا کر زخم بند کر کے پٹیاں کر دی گئیں اور گھر روانہ ہوا۔
دوسرے دن سُسر صاحب عیادت کو تشریف لائے۔ میڈیکل کا وسیع تجربہ رکھنے والے۔ ڈاکٹر کی دوائیاں وغیرہ دیکھ کر مطمئن نہ ہوئے اور شہر کے نامور ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ اسی دن شام یہ معروف ہسپتال میں ڈاکٹر کے سامنے لیٹا اپنا زخم دکھا رہا تھا۔
"زخم تیزی سے بگڑ رہا ہے اور بہت بری حالت ہے۔ جس رفتار سے اس میں خرابی پیدا ہو رہی ہے اگر بروقت آپریشن کر کے صفائی نہ کی گئی تو اگلے ہفتے تک ٹانگ کاٹنا پڑے گی۔"
ڈاکٹر کے بیان نے کوئی دوسرا راستہ نہ چھوڑا۔ آپریشن کر دیا گیا اور تین دن ہسپتال میں رہ کر یہ گھر آگیا۔
اس کی ران سے لیکر ٹخنے تک پلاسٹر بندھا ہوا تھا۔ نہ کھڑا ہو سکے نہ ٹھیک سے بیٹھ سکے چلنا تو بہت دور کی بات۔ بیگم کی طبیعت بھی اب کافی بہتر تھی۔ ہاتھ اور کمر پر زخم بھرنے لگے تھے۔ اسے آگے اپنی معذوری کا ایک مہینہ نظر آرہا تھا۔ اس کے بعد زخم کے ٹانکے کھلنے تھے اور پھر یہ خدشہ کہ پہلے کی طرح چل پائے یا پھر لنگڑاہٹ رہے۔ اس نے نم آنکھوں سے اپنی بیگم کی جانب دیکھا۔
1 278
🌹 ریل انجن کی طرح بنو 🌹
سو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک بابو جی روزانہ ٹرین کو دیکھنے ریل کی پٹڑی کے پاس چلے جاتے ان کے مریدوں نے بابو جی سے پوچھا آپ یہاں کیوں آتے ہیں؟
تو انہوں نے جواب دیا مجھے ٹرین کے انجن سے محبت ہو گئی ہے۔
انہوں نے پوچھا کیوں محبت ہو گئی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
انہوں نے کہا اس کی پانچ وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ ٹرین کا انجن ٹرین کو منزل تک لے کر جاتاہے۔
دوسری وجہ آخری ڈبے کو بھی ساتھ لے کر جاتا ہے۔
تیسری وجہ آگ خود کھاتا ہے ڈبوں کو نہیں کھانی پڑتی۔ {اس زمانے کوئلے سے انجن چلتے تھے}
چوتھی وجہ صراط مستقیم پر یعنی سیدھا چلتا ہے۔
اور پانچویں وجہ یہ ڈبوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ڈبے اس کے محتاج ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس دنیا میں کچھ لوگ انجن کی طرح ہیں تو کچھ ڈبے کی طرح ۔۔
ہر کوئی انجن نہیں بن سکتا
لیکن جو انجن بن جائے اس کو چاہیے کے ڈبوں کو بھی ساتھ لیکر چلے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 جمود زوال ہے 🔷
ماضی بھول کر آگے بڑھتے رہو- رک جانا جمود کی علامت ہے، اور جمود زندگی نہیں بلکہ زوال ہے۔
ماضی ایک آئینہ ہے جس میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے کیا سیکھا، لیکن اسے اپنی منزل نہ بننے دیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر تجربہ، چاہے وہ اچھا ہو یا برا، ہماری شخصیت کو سنوارنے کے لیے آتا ہے۔
پچھتاوا انسان کو اس کی انسانیت کا احساس دلاتا ہے لیکن اسی پچھتاوے میں الجھ کر رہ جانا آپ کی ترقی کو روک دیتا ہے۔
زندگی کا حسن آگے بڑھنے میں ہے۔ اگر ہم ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے تو نہ حال کا لطف اٹھا سکیں گے اور نہ ہی مستقبل کے خواب دیکھ سکیں گے۔
غلطیوں سے سیکھیں، انہیں اپنی طاقت بنائیں، اور خود سے وعدہ کریں کہ جو بھی کریں گے، دل اور دماغ کی پوری قوت کے ساتھ کریں گے۔
ہر دن ایک نیا موقع ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانیں، اپنے آپ کو معاف کریں، دوسروں کو معاف کریں، اور آگے بڑھنے کا عزم کریں۔ یہی وہ عمل ہے جو ہمیں سکون اور خوشی دے سکتا ہے۔ زندگی کو رواں دواں رکھیں، کیونکہ رک جانا جمود کی علامت ہے، اور جمود زندگی نہیں بلکہ زوال ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌹 موجود کی قدر کریں 🌹
انسانی نفسیات میں خوفناک حد تک تضاد کے بارے میں جاپانی اداکار ہیرویوکی سناڈا کہتے ہیں۔۔۔
"ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو گھر میں سوئمنگ پول چاہتے ہیں، جبکہ جن لوگوں کے گھروں میں موجود ہے وہ بمشکل اس کا استعمال کرتے ہیں۔
وہ لوگ جنہوں نے اپنے کسی عزیز کو کھو دیا ہے، وہ ہر گھڑی پیاروں کے کھو جانے کا گہرا دکھ محسوس کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اپنے زندہ رشتہ داروں کے بارے میں اکثر شکوہ کناں رہتے ہیں۔
جس کے پاس جیون ساتھی نہیں ہے وہ شدت سے ایک ہمسفر کی خواہش اور تلاش کرتا ہے، لیکن جس کے پاس ایک ساتھی ہے وہ اس کی تعریف ہی نہیں کرتا اور اس کی موجودگی کی اہمیت کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔
ایک بھوکا شخص روٹی کے ایک لقمے کے عوض اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دے گا جبکہ جس کا پیٹ بھرا رہتا ہے وہ اپنے کھانے کے ذائقے کی شکایت کرتا رہتا ہے۔
جس کے پاس گاڑی نہیں ہے وہ ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتا ہے... اور جس کے پاس گاڑی ہے وہ اس سے بڑی گاڑی کی فکر میں ہلکان ہوا رہتا ہے۔
🔘 بہتر سے بہترین کی جستجو میں ہمیشہ پلے باندھنے والی بات یہ ہے کہ خوشی کی کلید شکر گزار ہونا اور ہمارے پاس جو کچھ ہے اس پر غور و فکر کرنا اور اس بات کو سمجھنا کہ اسی دنیا میں کہیں کوئی ان چیزوں کے بدلے میں سب کچھ دینے کو تیار ہے جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں لیکن ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🔷 ہائے یہ جوڑوں کا درد..! 🔷
سب کچھ ٹھیک تھا، مگر پھر یہ جوڑوں کا درد شروع ہو گیا!
یہ ایک جملہ نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی کہانی ہے جو کسی نہ کسی دن خود کو کہتے ہوئے پاتے ہیں۔
جوڑوں کا درد، وہ خاموش تکلیف ہے جو انسان کے جسم کو جکڑ لیتی ہے اور زندگی کی خوشیوں کو مدھم کر دیتی ہے۔
مگر یہ درد کب اور کیوں بڑھتا ہے؟
اسکے پیچھے کیا چھپی حقیقتیں ہیں؟
سب سے پہلے یہ سمجھیے کہ جوڑوں کا درد اکثر ہمارے جسم کی ایک پکار ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا جسم تھک چکا ہے، زہریلے مواد سے بھر چکا ہے اور ہم اسکا خیال رکھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
موسمی تبدیلیاں، وائرل بخار، یا عمر کا بڑھنا، یہ سب اس تکلیف کو بڑھانے والے عوامل ہو سکتے ہیں۔
لیکن کیا صرف یہی اس کا سبب ہیں؟
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی فطرت سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ہم نےقدرت کے آسان اور سادہ اصولوں کو نظرانداز کر دیا ہے۔
فوری آرام اور دوائیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے، ہم اپنی زندگی کا وہ توازن کھو بیٹھے ہیں جو ہمارے جسم کو صحت مند رکھ سکتا تھا۔
اب سوال یہ ہےکہ کیا ہم ہمیشہ درد کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟
کیا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں کہ اس تکلیف کو ختم کیا جا سکے؟
بالکل ہے! لیکن اس کیلئے ہمیں اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانی ہوں گی۔
👈🏻 پہلا قدم، جسم کو اندر سےصاف کرنا ہے۔
ہمارے جسم میں وقت کےساتھ زہریلے مادے جمع ہوتے رہتےہیں، جو بیماریوں اور درد کا باعث بنتے ہیں۔
زیادہ پانی پینا، تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال، اور مصنوعی غذاؤں سے پرہیز، یہ سب آپکے جسم کو ڈی ٹاکسیفائی کر سکتے ہیں۔
تیل سےمساج ایک قدیم علاج ہے جو جوڑوں کے درد میں سکون فراہم کرتا ہے۔ یہ محض درد کم کرنےکا ذریعہ نہیں، بلکہ جسم میں خون کی روانی کو بہتر بنا کر آپ کی صحت کو مجموعی طور پر بہتر کرتا ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے تو صرف ریڑھ کی ہڈی پر ہلکا مساج بھی آپکے جسم کو سکون دے سکتا ہے۔
قدرتی مصالحے جیسے ہلدی، ادرک، اور کلونجی، کسی نعمت سے کم نہیں۔ انکے اندر موجود سوزش کم کرنے والے اجزاء، جوڑوں کے درد کو جڑ سے ختم کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہلدی والا دودھ یا ادرک کی چائے ایک بہترین اور آسان علاج ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ سورج کی روشنی اور کچی مٹی کے ساتھ وقت گزارنا، آپ کے درد کو کم کر سکتا ہے؟
کچی مٹی میں بیٹھنا نہ صرف جسم کو آرام دیتا ہے بلکہ دماغی سکون بھی فراہم کرتا ہے۔
سب سے اہم بات،
اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں۔ نیند کی کمی آپکے جسمانی اور دماغی نظام کو متاثر کرتی ہے اور جوڑوں کے درد کو بڑھا سکتی ہے۔
جلد سونا اور اچھے گہرے نیند کے معمولات اپنانا، آپ کے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
آخری مگر اہم پہلو یہ ہےکہ اپنے دل کو صاف رکھیں۔ دل کا بوجھ، دماغ کی ٹینشن، اور غصہ، یہ سب جسم کی تکلیف کو بڑھاتے ہیں۔
معاف کرنا، سکون حاصل کرنا، اور مثبت سوچ اپنانا، نہ صرف آپکے جوڑوں کےدرد کو کم کرتا ہے بلکہ زندگی کو خوشگوار بھی بناتا ہے۔
یاد رکھیں!
زندگی درد کےساتھ گزارنے کیلئے نہیں بنی۔
اگر ہم قدرت کےاصولوں کےساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، تو نہ صرف ہمارا درد کم ہوگا بلکہ ہماری زندگی بھی صحت مند اور خوشحال ہوگی۔
تو آئیں، آج ہی اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
🌴 مائیں ہی نسل سنوارتی ہیں 🌴
ایک قابل رشک واقعہ۔۔۔
ایک معلم قرآن انتہائی نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک بچہ میرے پاس آیا جو مدرسے میں داخلہ لینے کا شدید خواہشمند تھا۔
میں نے اس سے پوچھا: بچے! آپ کو قرآن کا کچھ حصہ زبانی یاد ہے؟ بچے نے کہا: جی۔
میں نے اس کا امتحان لیتے ہوئے کہا: پھر آپ مجھے تیسواں پارہ سنائیں۔
اس نے مجھے تیسواں پارہ زبانی سنا دیا۔
میں نے پوچھا: آپ کو سورۃ الملک بھی یاد ہے؟
اس نے مجھے سورۃ الملک بھی سنادی۔
مجھے بڑا تعجب ہوا کہ اس چھوٹے سے بچے نے کم سنی کے باوجود قرآن کریم کا کچھ حصہ حفظ کیا ہوا ہے۔ میں نے اس سے سورۃ النحل سنانے کو کہا تو اسے وہ بھی یاد تھی۔۔
جوں جوں وہ میرے سوالات کا جواب دے رہا تھا، میری حیرانی بڑھتی جا رہی تھی۔
میں نے سوچا کہ اب اس سے بڑی سورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ کو سورۃ البقرہ بھی یاد ہے؟
اس نے ”ہاں“ میں جواب دیا اور ساتھ ہی کسی غلطی کے بغیر سورۃ البقرہ بھی زبانی سنا ڈالی۔
میں نے متعجب ہو کر پوچھا: بچے! لگتا ہے آپ نے پورا قرآن حفظ کر رکھا ہے؟
اس نے کہا: جی۔ یہ سنتے ہی فرط مسرت سے میری زبان سے بے ساختہ سبحان اللّٰہ، ماشاءاللہ، تبارک اللہ کے الفاظ ادا ہونا شروع ہو گئے۔
میں نے اس سے کہا: آپ کل میرے دفتر آجائیے گا اور ساتھ اپنے سرپرست کو بھی لیتے آئیے گا۔
میں بچے کے جانے کے بعد حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوبا رہا اور دل ہی دل میں تانے بانے بنتا رہا کہ یقینا اس کے والد صاحب دین کے پابند، نیک سیرت اور قرآن سے شدید محبت رکھنے والے ہوں گے جس کے نتیجے میں اس نے اپنے بچے کو اتنی چھوٹی عمر میں قرآن یاد کرا دیا ہے۔
مجھے اس وقت حیرانی کا شدید جھٹکا لگا جب وہ کل صبح اپنے والد صاحب کو لے کر آیا تو اس کے والد صاحب ظاہری شکل و صورت سے بالکل بھی متبع سنت اور پابند شریعت نہیں لگ رہے تھے۔
اس بچے کے باپ نے میری پریشانی اور استعجاب کو بھانپ لیا اور فورا بولا: میں جانتا ہوں کہ آپ میرے اس بچے کا والد ہونے کی وجہ سے حیران و ششدر ہو رہے ہیں۔۔ میں ابھی آپ کی حیرت ختم کیے دیتا ہوں۔۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بچے کے حفظ قرآن کے پیچھے اس کی والدہ کا ہاتھ ہے جو بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔۔
آپ یہ بات سن کر مزید حیران ہوں گے کہ میرے تین بیٹے ہیں اور سب قرآن کے حافظ ہیں۔
میری سب سے چھوٹی بیٹی چار سال کی ہے اور وہ بھی تیسواں پارہ حفظ کر چکی ہے۔
میری حیرانی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔۔ میں نے پوچھا: یہ کیسے ممکن ہے!! چار سال کی بچی نے تیسواں پارہ کیسے یاد کر لیا ہے؟!
اس نے جواب دیا: بچوں کی والدہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو وہ اسے قرآن یاد کروانا اور حفظ قرآن کا شوق دلانا شروع کردیتی ہے۔۔
وہ بچوں کا مقابلہ کرواتی ہے اور کہتی ہے کہ جو سب سے پہلے یہ سورۃ یاد کرے گا، رات کا کھانا اس کی پسند کا بنے گا۔۔
جو سب سے پہلے پارہ حفظ کرے گا، ہم ویک اینڈ پر اس کی پسند کی جگہ جائیں گے۔۔
جو سب سے پہلے قرآن ختم کرے گا، ہم سالانہ چھٹیاں اس کے منتخب کردہ علاقے میں گزارنے جائیں گے۔۔
یوں بچے اپنے اپنے شوق کی تکمیل کے کیے حفظ قرآن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
جی ہاں، ایسی نیک مائیں ہی گھر سنوارتی ہیں۔
🔘 یاد رکھیے! نیک اور صالح عورت نصف معاشرہ نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کی بنیاد اور ستون ہوتی ہے۔
میری امت کی ماؤں کو معاشرے کو کار آمد اور دین کے نور سے آراستہ افراد فراہم کرنے کے لیے امت بننے کی ضرورت ہے۔۔ اگر مائیں امت بننے کا تہیہ کر لیں تو قوم کو بام عروج پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 278
کون کون سی اداکارہ نہیں بتانے آئی گورے رنگ کے فوائد-
کریمیں بنانے والے، بیچنے والے، اشتہار بنانے والے، دکھانے والے، ان میں کام کرنے والے، سب اپنی اپنی کمائی کر لیں، انہیں کیا غرض کہ کیسے کیسے گھاؤ ڈالتے ہیں روح تلک ان کے اشتہار!
اور یا تو یہ کریمیں کچھ کام بھی کرتی ہوں۔ میں تو چھپ چھپ کے، وہ کیا کہتے ہیں ناں گوگل، وہ بھی کرتی رہی کہ کس طور کالا رنگ گورا ہو سکتا ہے۔ یہی پتا چلتا رہا کہ طب کا شعبہ کم از کم ابھی تک اس معراج پر نہیں پہنچا۔
میں کبھی کبھی سوچتی تھی اتنے بڑے بڑے دانشور لکھتے ہیں، ٹی وی پر بولتے ہیں، جا بجا لیکچر دیتے ہیں، اور پھر یہ بڑے بڑے قانون دان، سیاستدان، این جی اوز کی بیگمات، کیا کسی کو نہیں سوجھتا کہ ایسے اشتہارات پر پابندی ہونی چاہیے کہ جن کے نتیجہ میں محض ایک خاص رنگ ہی قابلِ قبول قرار پائے، اور ہزاروں لاکھوں لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو جائیں!
اور ایسا بھی تو کوئی ادارہ ہوتا ہو گا ناں جو میڈیا کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہو گا۔ وہ کیوں نہیں روکتا ان جھوٹے دعٰووں پر مبنی، دل دُکھانے والے اشتہارات کو؟
انہی دنوں کچھ دیسی کریموں کا بڑا چرچہ ہو گیا۔ ماں میرے لئے بھی کہیں سے لے آتی اور بڑی یاد سے مجھے لگواتی۔ یہ سلسلہ کئی مہینے چلتا رہا۔ کوئی کون سا پوچھنے والا تھا، ان کریموں میں نہ جانے کیا کیا کیمیکل شامل تھے، رنگ گورا کیا کرنا تھا، وہ کریمیں تو گویا رنگ کو کاٹتی تھیں، اسے اڑا دیتی تھیں، پھیکا کر ڈالتی تھیں۔ مجھے بھی خارش کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ یہ بڑھ جاتا، میں نے ماں کو بتائے بغیر ہی ان کا استعمال ترک کر دیا۔
ساری زندگی تنہائی میری سب سے اچھی ساتھی رہی۔ اس کے ساتھ مل کر کتنے ہی آنسو ہیں جو زندگی میں نہیں بہائے میں نے!
کسی سیانے سے یا کسی ماہرِ نفسیات سے پوچھ کر دیکھیں، آپ کو بتائے گا، منفی سوچ ترک کر دیں، کہیں مصروف ہو جائیں، کوئی ملازمت کر لیں، زمانے کو اپنا آپ ثابت کر کے دکھائیں۔
ان صاحبان کو کوئی بتائے، یہ بھی کر کے دیکھ چکی، ہم جیسیوں کو ملازمت دیتا کون ہے۔ میں عمدہ تعلیمی کیرئیر کی حامل تھی، بہت جگہ انٹرویو دینے گئی، میرٹ پر بھرتی ہو سکتی تھی لیکن مجھے تو جیسے دیکھتے ہی انٹر ویو والے بیزار ہو جاتے تھے، دو چار سوالوں میں ہی فارغ کرنے کا چارہ شروع کر دیتے تھے۔ اک سیدھا سادھا سا اصول گویا کارفرما تھا، جو جس قدر خوش شکل تھی، نوکری ملنے کے امکانات اسی قدر زیادہ تھے۔ نوکری کا دروازہ یوں میرے پر بند ہی رہا۔
اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ رشتہ ڈھونڈنے کے دن آ گئے اور یہ ڈھونڈ کچھ لمبی، کچھ مشکل ہی ہو گئی۔ اول تو کوئی آتا ہی نہیں تھا، اگر کوئی بھول کے آ بھی جاتا تھا تو لوٹ کے نہ آتا تھا۔ دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں کا روپ دھارنے لگے۔
میری شخصیت پر چھائی پرمژدگی مزید گہری ہونے لگی۔ سارے گھر نے گویا سنجیدگی کی چادر ہی اوڑھ لی۔ میری وجہ سے چھوٹی بہن کے لئے بھی رشتے نہ دیکھے جاتے تھے کہ اگر اس کی شادی ہو گئی تو میرے حوالے سے رہی سہی امید بھی جاتی رہے گی۔ اک مجھے اپنی پریشانی کم تھی کہ اس چھوٹی بہن کی فکر نے بھی آ گھیرا۔
اور پھر ایک دن میری بھی ہاں ہو گئی۔ شاید صحیح کہتے ہیں جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ نوید سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ والد صاحب کا کہیں بچپن میں انتقال ہو گیا تو چھوٹی عمر میں ہی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا۔ ایک ایک کر کے سب کو پڑھاتے اور پھر ان کے بیاہ کرتے اپنی تو تقریباً عمر ہی نکل گئی۔ کسی بینک میں کیشئیر تھے۔ چالیس کے پیٹے میں ہوں گے، کم بالوں اور چشمے کے ساتھ تو پروفیسر ہی لگتے تھے۔ بہرحال میرا خیال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ اور یوں زندگی ایک نئی ڈگر پر چل نکلی۔
شادی کو اب تقریباً ایک سال ہونے کو ہے۔ اپنی تو روتے دھوتے، جیسے تیسے گزر ہی گئی ہے، یہ جو آج میں آپ سے مخا طب ہوں، اور جو ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے ہیں، آنکھوں سے آنسو رواں ہیں ہونٹوں سے لفظ، میں ہسپتال کے ایک بستر پر موجود ہوں۔ کل اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی سے نوازا ہے۔ میرے پہلو میں لیٹی ہوئی ہے، ماں پر گئی ہے!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5546
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
