ISLAM WITH EMAN
Ir al canal en Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Mostrar más1 279
Suscriptores
Sin datos24 horas
-47 días
-1330 días
Archivo de publicaciones
1 279
🔷 میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔۔ 🔷
ایک ہیڈ ماسٹر کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے جب وہ کسی سکول میں استاد تعینات تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔
ٹیسٹ کے خاتمے پر انہوں نے سب کی کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی اپنی کاپی اپنے ہاتھ میں پکڑکر ایک قطار میں کھڑا ہوجانے کو کہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس کی جتنی غلطیاں ہوں گی، اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں ماری جائیں گی۔
اگرچہ وہ نرم دل ہونے کے باعث بہت ہی آہستگی سے بچوں کو چھڑی کی سزا دیتے تھے تاکہ ایذا کی بجائے صرف نصیحت ہو، مگر سزا کا خوف اپنی جگہ تھا۔
تمام بچے کھڑے ہوگئے۔
ہیڈ ماسٹر سب بچوں سے ان کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے جاتے اور اس کے مطابق ان کے ہاتھوں پر چھڑیاں رسید کرتے جاتے۔
ایک بچہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے اور اس سے غلطیوں کی بابت دریافت کیا تو خوف کے مارے اس کے ہاتھ سے کاپی گرگئی اور گھگیاتے ہوئے بولا:
”جی مجھے معاف کر دیں میرا توسب کچھ ہی غلط ہے۔“
معرفت کی گود میں پلے ہوئے ہیڈ ماسٹر اس کے اس جملے کی تاب نہ لاسکے اور ان کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ ہاتھ سے چھڑی پھینک کر زاروقطار رونے لگے اور بار بار یہ جملہ دہراتے:
”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔“
روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ اس بچے کو ایک ہی بات کہتے
”تم نے یہ کیا کہہ دیا ہے
، یہ کیا کہہ دیا ہے میرے بچے!“
”میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے"
"اے کاش ہمیں بھی معرفتِ الٰہی کا ذره نصيب ہو جاۓ اور بہترین اور صرف اللّٰه کے لۓ عمل کر کے بھی دل اور زبان سے نکلے.....میرے اللّٰه! مجھے معاف کردینا۔ میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے"....
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🔷 مفت علاج 🔷
اگر دوائیں خریدنے کے پیسے نہیں ، یا دوائیاں خریدنے سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ کام مفت میں کریں ۔
1. بلڈ پریشر کے مریض اپنا وقت بچوں کے گرد گزاریں ۔ ان کے ساتھ کھیلیں اور بہت سا خوش ہوں۔ ادویات میں کمی آتی جاۓ گی اور بیماری بھاگ جاۓ گی
2. شوگر کے مریض intermittent fasting کریں جس کی ہدایات ڈاکٹر سے لینا ضروری ہے۔ اس میں صرف hypoglycemia سے بچنا ہے ۔ باقی یہ مفت کا عمل آپ کی شوگر کو کنٹرول رکھے گا اور ادویات بھی کم ہو جائیں گی۔
3. نیند کی کمی کا شکار لوگ مغرب کے بعد کچھ نہ کھائیں ۔ اور عشاء کے بعد لائٹس آف کر دیں ۔ ایک ہفتے میں نیند کی عادت اچھی ہو جاۓ گی اور نیند کی گولیاں بھی چھوٹ جائیں گی۔
4. معدے کی تزابیت والے لوگ اپنا تکیہ اونچا رکھ کر سوئیں ۔ اور سونے سے 3 گھنٹے قبل کھانا کھائیں ۔ معدے کی ادویات آدھی ہو جائیں گی۔
5. پٹھوں اور ہڈیوں کے امراض والے لوگ لمبی لمبی نمازیں پڑھیں ۔ نماز انسان کے ہر عضو کے لیے ایک بہترین ورزش ہے۔خاص کر کمر کی ہڈی کے مسائل کے لئے ۔
6. دائمی زکام کے مریض نمک ملے پانی سے روزانہ دو بار اپنی ناک کو صاف کریں ۔ 2 ہفتے میں زکام انتہائی کم ہو جاۓ گا اور مسلسل کرنے سے بہت زیادہ بہتری ۔ ہمارے ENT کے پروفیسر ہر مریض کو یہ طریقہ بتاتے تھے اور مریض شفا یاب ہو جاتے تھے
صحت کے خزانے سادہ اور قدرتی چیزوں میں رکھے ہیں نہ کہ ادویات کے ڈبوں میں ۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ کیونکہ صحت اہم ہے۔
تحریر: سبطین نامہ
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🔷 گائے کے ذبح کرنے پر تجربہ 🔷
جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں گائے پر ایک تجربہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسلامی طریقے سے ذبح کرنے پر گائے کو کتنا درد محسوس ہوتا ہے۔
یہ جانچ EEG نامی عمل کے ذریعے کی گئی، جس میں گائے کے دماغ کی برقی لہروں کی پیمائش کی گئی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گائے کو کسی قسم کا درد محسوس ہوا یا نہیں، اور اگر ہوا تو اس کی شدت کتنی تھی۔
انہوں نے گائے کو تجربے کے لیے تیار کیا، اسے مخصوص آلات سے جوڑا اور پھر ذبح کیا۔
ذبح کے پہلے تین سیکنڈ میں دماغ کی برقی لہروں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گائے کو کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔ اگلے تین سیکنڈز میں یہ دیکھا گیا کہ گائے غشی کی حالت میں چلی گئی اور بے ہوش ہو گئی۔ یہ خون کے تیزی سے بہنے اور دماغ کو خون کی سپلائی رکنے کی وجہ سے ہوا۔
چھ سیکنڈ بعد، EEG نے دماغی لہروں کے بند ہونے کو ریکارڈ کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ گائے مر چکی تھی اور اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
ہم اکثر قربانی کے جانور کے ذبح کے وقت اس کے درد کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس پر افسوس کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی حلال ذبح کے طریقے میں شہ رگ، ورید، سانس کی نالی اور خوراک کی نالی کو کاٹا جاتا ہے، لیکن سر کو دھڑ سے الگ نہیں کیا جاتا۔
اس طریقے سے دماغ تک خون اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے، اور قربانی کا جانور چند ہی لمحوں میں غشی کی حالت میں چلا جاتا ہے اور بے ہوش ہو جاتا ہے۔
سبحان اللہ!
قربانی کے جانور کو بے ہوشی کی حالت میں درد کا احساس نہیں ہوتا۔ اس دوران، جانور کے دماغ میں موجود پچوٹری گلینڈ (غدہ نخامیہ) ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے گردوں میں موجود ایڈرینل گلینڈ (غدہ کظرہ) کو سگنل بھیجتا ہے، جو ایڈرینالین خارج کرتا ہے۔
یہ ہارمون خون کے بہاؤ کو تیز کرنے میں مدد دیتا ہے، اور تیزی سے خون بہنے کے نتیجے میں چند منٹوں کے اندر جانور کا جسم خون سے خالی ہو جاتا ہے۔
اسلامی ذبح کا طریقہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ جانور کے درد کو کم کرنے کا سب سے تیز اور مہربان طریقہ ہے۔
سبحان اللہ، اس عظیم شریعت کی حکمت پر غور کریں!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
جیسے وہ گرم آتش دان غائب ہو گیا، جیسے سوپ کا پیالہ۔ آپ بھی ایسے ہی چلی جائیں گی لیکن آپ نہ جانا۔ میں اب اندھیرا نہیں ہونے دوں گی۔
میں آپ کو نہیں جانے دوں گی‘‘۔ اس سے پہلے کہ وہ تیلی بجھ جاتی اس نے ایک تیلی اور جلائی، پھر دوسری، پھر اس نے پورے ماچسوں کے بنڈل کو تیلی دکھا دی۔ ماچس کی تمام تیلیاں دم جلیں۔ ایک بہت بڑا شعلہ اٹھا، رات دن کی طرح روشن ہو گئی۔ دادی نے ہاتھ بڑھائے، بچّی کو گود میں لیا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ اسے لگا وہ ستاروں کی طرف جا رہی ہے لیکن دو پرانے مکانوں کے درمیان بنے تھڑے پر دیوار سے لگی ایک چھوٹی سی بچّی، جس کے رخسار لال اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، سردی کی تاب نہ لا کر مر گئی۔ اس کا بے جان جسم سردی سے جم کر اکڑ چکا تھا۔ وہ ایسے ہی بیٹھی تھی جیسے رات کو بیٹھی تھی۔ ایک طرف جلی ماچسوں کا ڈھیر تھا، دوسری طرف، جھولی میں کچھ ماچسوں کی ڈبیاں۔ جیسے کہہ رہی ہو کہ کوئی تو مجھ سے ماچس خرید لے۔
صبح کی چہل پہل شروع ہو چکی ہے۔ مرد، عورتیں، بچے تھڑے کے پاس جمع ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بے چاری اپنے آپ کو سردی سے بچانے کی کوشش میں مر گئی۔ لیکن کسی کو نہیں پتہ کہ وہ اپنے تصور میں کتنی خوب صورت دنیا دیکھ رہی تھی اور اب کتنی مسرت سے اپنی بوڑھی دادی کی گود میں ایسی دنیا میں ہے جہاں نہ بھوک ہے نہ پیاس، نہ سردی ہے، جہاں صرف خوشی ہی خوشی ہے، محبت ہی محبت ہے۔ پیار ہی پیار ہے۔
🔘 میرے محترم!
اپنے محلے میں، تعلقداری میں یتیم، محتاج اور معذوروں کا خیال رکھیں، ہرممکن مدد کریں تاکہ کسی کے ساتھ کچھ ایسا غلط نہ ہو کہ اس کی جان چلی جائے۔ ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5722
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🔷 ماچس والی لڑکی 🔷
The Little Match Girl
{عالمی شہرت یافتہ ادیب ہینز کرسچن اینڈرسن کی مشہور کہانی کا اردو ترجمہ}
بَلا کی سردی تھی۔ شام اندھیری ہونا شروع ہو گئی تھی۔ بالآخر رات آگئی۔ سال کی آخری رات۔
ایک چھوٹی سی غریب بچّی، ننگے سَر، ننگے پاؤں گلیوں میں پھر رہی تھی۔ جب وہ گھر سے نکلی تھی تو اس کے پاؤں میں اس کے اپنے نہیں بلکہ ماں کے چپل تھی لیکن وہ کس کام کے؟ وہ تو اس کے ننھے ننھّے پاؤں سے بہت بڑے تھے۔ صبح جب وہ سڑک پار کرنے لگی تھی تو ایک تیز رفتار گھوڑا گاڑی سے بچنے کی کوشش میں چپل اس کے پاؤں سے اتر گئے۔ ایک تو گٹر میں گر گیا ، دوسرا ایک لڑکا اس کا منہ چڑاتا ہوا، لے کر بھاگ گیا۔
جب سے بچّی ننگے پاؤں پھر رہی تھی، پاؤں سردی کی شدت سے نیلے ہو رہے تھے۔ اس نے ایک پھٹا پرانا ایپرن باندھا ہوا تھا۔ ماچسوں کے کچھ پیکٹ اس نے ایپرن کی جھولی میں رکھے ہوئے تھے۔ ایک پیکٹ گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ لیکن صبح سے اب تک اسے کوئی گاہک نہیں ملا تھا۔ اب تک اس نے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں کمائی تھی۔ سردی سے کانپتی، بھوک سے لاغر دکھ کی تصویر بنی یہ غریب معصوم بچّی گلی گلی گاہکوں کی تلاش میں پھرتی رہی۔
گھروں سے لذیذ کھانوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ اس کے منہ میں پانی آ رہا تھا۔ اس کی بھوک اور بھڑک اٹھی تھی۔ اب وہ جس گلی میں آئی تھی اس کے دو مکانوں کے درمیان ایک چھوٹا سا تھڑا تھا۔ تھکن سے چور بچّی سستانے وہاں بیٹھ گئی۔ اپنے یخ پاؤں کو اس نے ہاتھوں سے گرمانے کی کوشش کی، پھر اکڑوں بیٹھ کر اپنی فراک سے انہیں کسی حد تک ڈھانپا لیکن وہ ویسے ہی ٹھنڈے رہے۔
سردی شدید ہوتی جا رہی تھی۔ لیکن اس کی ہمّت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ گھر واپس جائے، کیسے واپس جاتی؟ اس کی تو صبح سے ایک ماچس بھی نہیں بکی تھی۔ وہ خالی ہاتھ گھر نہیں جاسکتی تھی اور ویسے بھی گھر میں سردی کون سی کم تھی۔ ایک کمرے والے گھر کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ پڑا ہوا تھا اور چھت میں ایک بڑا سا سوراخ جس کو بھوسے اور پرانے چیتھڑوں سے بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن وہاں سے ہر وقت ٹھنڈی ہوا آتی رہتی۔ اب اس کے ہاتھ سردی سے بالکل سُن ہو چکے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کاش اس وقت کہیں سے تھوڑی سی آگ مل جائے تو اس کے ہاتھ کچھ گرم ہو جائیں۔ لیکن آگ کیسے ملے؟ کہاں سے آئے؟
اس نے لالچ بھری نظروں سے ماچس کی ڈبیہ کی طرف دیکھا۔ امید کی ہلکی سی کرن نظر آئی۔ سَر کے ایک جھٹکے سے اس نے اس خیال کو بھگانے کی کوشش کی، مگر خیال بار بار واپس لوٹتا رہا۔ اس نے جھجکتے جھجکتے ایک تیلی نکالی، ڈرتے ڈرتے اسے تھڑے کے فرش سے رگڑا۔ ایک شعلہ نمودار ہواتو اس نے جلتی تیلی کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپا، شعلے کی تپش کو محسوس کیا، شعلے کی چمک عجیب سی تھی۔
اس لمحے بچّی کو ایسا لگا کہ وہ ماچس کا شعلہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑا آتش دان ہے، جس پر چمکیلے پیتل کے دستے لگے ہوئے ہیں اور سنہری جالی کے پیچھے جلتی آگ اس سجے سجائے کمرے کو تاپ رہی ہے، جہاں وہ ایک دیوان پر موٹا سا گرم اونی گاؤن پہنے بیٹھی ہے۔ اچانک شعلہ لپک کر ایک دم بجھ گیا۔ آتش دان، گرم اونی گاؤن، دیوان، سب اچانک غائب ہو گئے، تاریکی پھر سے چھا گئی۔ صرف بجھی ہوئی ماچس کی تیلی اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے ایک اور تیلی جلائی۔
تھڑے سے جڑی ہوئی دیوار کو شعلے کی روشنی نے چمکیلے موتیوں سے جڑی جھالر میں بدل دیا۔ اس کے پیچھے اسے صاف نظر آیا جیسے ایک خوش و خرم خاندان کے لوگ دستر خوان کے گرد بیٹھے ہیں اور دستر خوان پر کھانے کی پلیٹیں لگی ہیں۔ کٹوروں میں انواع و اقسام کے کھانے ہیں، ایک بڑا برتن گرم گرم سوپ سے بھرا ہوا ہے جس میں سے بھاپ نکل رہی ہے۔ ایک لڑکا سوپ کا پیالہ لے کر اس بچّی کے پاس آیا۔ لیکن جیسے ہی اس نے سوپ کا پیالہ لینے کے لیے ہاتھ بڑھائے ماچس کی تیلی بجھ گئی اور پھر سے اندھیرا چھا گیا۔ اب اس کے سامنے صرف ٹھنڈی، پتھریلی دیوار تھی۔
بچّی نے آنکھیں اوپر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔ ایک ستارہ ٹوٹ کر زمین کی طرف آ رہا تھا۔ بچّی کی دادی، واحد شخص تھیں جن سے اس کو پیار ملا تھا۔ وہ اسے کہانیاں سناتی تھیں۔ دادی نے ایک کہانی سناتے ہوئے اسے بتایا تھا کہ جب آسمان سے چمکتا ہوا تارہ ٹوٹ کر نیچے آتا ہے تو زمین سے کوئی روح آسمان کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ معلوم نہیں یہ تارہ کس کی موت کا پیغام لے کر میری طرف بڑھ رہا ہے؟ کوئی نہ کوئی ضرور مرنے والا ہے۔ خدا جانے کون؟
بچّی نے ماچس کی ایک اور تیلی جلائی، پھر سے روشنی ہوئی۔ اب اسے روشنی میں صاف نظر آیا کہ سَر پر روشنی کا تاج پہنے اس کی دادی اس کے سامنے کھڑی اسے پیار سے دیکھ رہی ہیں۔ ’’دادی، پیاری دادی مجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔ میں بہت بھوکی ہوں۔ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں دادی۔ مجھے معلوم ہے کہ جیسے ہی یہ ماچس بجھے گی آپ بھی چلی جائیں گی،
1 279
🔷 بوڑھے ماں باپ کی یادیں 🔷
ایک ماں لکھتی ہیں!
وہ بھی کیا دن تھے جب میرا گھر ہنسی مذاق اور لڑائی جھگڑے کی آوازوں سے گونجتا تھا۔ہر طرف بکھری ہوئی چیزیں ۔ ۔ ۔ بستر پر پینسلوں اور کتابوں کا ڈھیر ۔ ۔ ۔ پورے کمرے میں پھیلے ہوئے کپڑے۔ میرا پورا دن ان کو کمرہ صاف کرنے اور چیزیں سلیقے سے رکھنے کے لیے ڈانٹنے میں گزرتا۔
صبح کے وقت ایک جاگتے ہی کہتا:
ماما مجھے ایک کتاب نہیں مل رہی
دوسرا چیختا:
میرے جوتے کہاں ہیں؟
ایک منمناتا:
ماما میری ہوم ورک والی ڈائری!
اور دوسرا رندھی آواز میں کہتا:
ماما میں اپنا ہوم ورک کرنا بھول گیا ۔ ۔ ۔
ہر کوئی اپنا اپنا رونا رو رہا ہوتا۔ اور میں چیختی کہ آپ کی چیزوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری نہیں ۔ ۔ ۔ اب آپ بڑے ہو گئے ہو، خود سنبھالو!
آج میں ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوں. بستر خالی ہیں. الماریوں میں صرف چند کپڑے ہیں. جو چیز باقی ہے، وہ ہے ان کی خوشبو.
اور میں ان کی خوشبو محسوس کر کے اپنے خالی دل کو بھرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
اب صرف ان کے قہقوں، جھگڑوں اور میرے گلے لگنے کی یاد ہے.
آج میرا گھر صاف ہے۔ سب کچھ اپنی جگہ پر ہے۔ یہ پرسکون، پرامن اور خاموش ہے ۔ ۔ ۔ زندگی سے خالی ایک صحرا کی طرح۔
وہ ان کا دروازے کھلے چھوڑ کر بھاگ جانا اور میرا چیختے رہنا کہ دروازے بند کرو۔ آج سب دروازے بند ہیں اور انہیں کھلا چھوڑ جانے والا کوئی نہیں۔
ایک کسی دوسرے شہر چلا گیا ہے اور دوسرا کسی دوسرے ملک۔ دونوں زندگی میں اپنا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
ہر بار وہ آتے ہیں اور ہمارے ساتھ کچھ دن گزارتے ہیں۔ جاتے ہوئے جب وہ اپنے بیگ کھینچتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے میرا دل بھی ساتھ کھنچ رہا ہے۔
میں سوچتی ہوں کہ کاش میں ان کا یہ بیگ ہوتی تو ان کے ساتھ رہتی۔
لیکن پھر میں دعا کرتی ہوں کہ وہ جہاں رہیں آباد رہیں۔
اگر آپ کے بچے ابھی چھوٹے ہیں تو انہیں انجوائے کریں۔ ان کو گدگدائیں، ان کی معصوم حیرت کو شیئر کریں اور ان کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا مداوا کریں۔
گھر گندا ہے، کمرے بکھرے ہیں اور دروازے کھلے ہیں تو رہنے دیں۔ یہ سب بعد میں بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ لیکن بچوں کے ساتھ یہ وقت آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🔷 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🔷 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🔷 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🔷 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🔷 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
🌴 شفقت پدری
https://t.me/islamwitheman/770
☔ والدین اور رحمت خداوندی
https://t.me/islamwitheman/1038
🌴 یہ بابے ویلے نہیں ہوتے
https://t.me/islamwitheman/1039
🌹 ماں کی مامتا
https://t.me/islamwitheman/1204
🔷 ماں کی خدمت
https://t.me/islamwitheman/1212
👁 ماں کی قربانی
https://t.me/islamwitheman/1225
🔷 والدین کی قدر کرو
http://t.me/islamwitheman/1476
🌹 حقوق عظمت والدین
https://t.me/islamwitheman/1982
🌹 والدین کی دعا
https://t.me/islamwitheman/2037
🌹 مامتا
https://t.me/islamwitheman/2351
🔷 بگڑے ہوئے نوجوان کی داستان
https://t.me/islamwitheman/2373
🔷 ماں کی پسند، ناپسند
http://t.me/islamwitheman/2376
🌺 بیمار ماں کی خدمت
http://t.me/islamwitheman/2437
🌸 بیٹی اور ماں میں فرق
http://t.me/islamwitheman/2456
❤️ ماں اور بیوی
http://t.me/islamwitheman/2516
🔷 ماں کی بددعا کا اثر
https://t.me/islamwitheman/2728
🔷 اولڈ ہاؤس
https://t.me/islamwitheman/4198
🌷 اس نسل کی ماں
https://t.me/islamwitheman/4206
🌷 میری ماں
https://t.me/islamwitheman/4395
🔷 ماں عظیم نعمت
https://t.me/islamwitheman/4573
🔷 والدین کے حقوق کا خیال رکھیں
https://t.me/islamwitheman/5397
🔷 والدین کا احترام
https://t.me/islamwitheman/5399
🔷 بوڑھے ماں باپ کی یادیں
https://t.me/islamwitheman/5721
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
اس کی مدہوش آنکھوں سے ہیرے کی مانند کی آنسو بہنے لگے
میرے سینے سے لگ گئی
آپ کو پتا بھی ہے میں کتنا روئی ہوں سارا دن
آپ بات نہیں کر رہےتھے میری جان نکل رہی تھی
کیا آپ سے میں ناراض نہیں ہو سکتے بس مجھے ڈانٹ کر خود کو ہیرو سمجھنے لگے پتا بھی ہے صبح سے کچھ نہیں کھایا میں نے
ہائے میں قربان اس کی محبت پہ
میرے ہاتھ کو زور سے پکڑے صلح کرتے ہوئے مجھ سے جھگڑ رہی تھی شکوہ کر رہی تھی
میں کچن میں گیا اس کے لیئے آلو والا پلاو لے آیا
دیکھ کر مسکرانے لگی کب بنائے
میں اپنے ہاتھ سے کھلاتے ہوئے بولا پاگل میں کوئی دشمن تھوڑی ہوں تمہارا
کبھی کچھ کہہ دوں تو ناراض نہ ہوا کرو
سب کچھ تمہاری بھلائی کے لیئے تو کرتا ہوں
تم میرے بنا نہیں رہ سکتی تو دل میرا بھی تمہارے بنا نہیں دھڑکتا
وہ سوری کرنے لگی
اس کی ہر ادا میری زندگی تھی۔۔۔۔۔۔۔
🔘 یہ ایک صفحہ جس پہ کسی نے اپنی زندگی کو محفوظ کیا تھا لیکن میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا آخر یہ چاہت بھری داستاں کسی کباڑیے کے پاس کیسے بھلا۔
پیدل چلتے ہوئے سوچ رہا تھا، کسی کے زندگی کے حسیں پل، کسی کے لئے بس کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ کاش میں اس ڈائری کو مکمل پڑھ سکتا۔
لیکن کچھ قصے ادھورے اچھے لگتے ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5719
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🌹 کسی کی ڈائری کا ایک ورق 🌹
پھیری والا کباڑیہ ڈائری کے صفحات پہ کھانے کی اشیا رکھ کر دے رہا تھا
اتفاق تھا کے میں وہاں پاس کھڑا تھا
اچانک میری نظر اس صفحے پہ پڑی
چند الفاظ پڑھ پایا تھا
ملاحظہ
وہ ڈری سہمی سی میری زندگی میں آئی تھی
کہتی تھی شوہر بہت ظالم ہوتے ہیں
پہلی رات میں اس کی یہ بات سن کر بہت ہنسا
وہ میری طرف دیکھ کر حیران ہو رہی تھی
بولی آپ پاگل ہیں اتنا کیوں ہنس رہے ہیں
بات بھی سچ تھی میں کیوں اتنا ہنس رہا تھا
آپ نہیں سمجھ پائیں گے
باخدا اس کا انداز بیاں اتنا دلفریب تھا نا مجھے اس پہ پیار آ رہا تھا
کہنے لگی میری بات سن لیں ابا جی کے کہنے پہ میں نے آپ سے بیاہ تو کر لیا ہے لیکن اگر آپ نے مجھے مارا یا گالی دی تو
میں واپس اپنے گھر چلی جاوں گی ابا جی کے پاس
اس کی آنکھوں میں نہ جانے کون سا کوئی ڈر تھا جو اسے کھائے جا رہا تھا
ہماری ارینج میرج تھی
مجھ پہ ایک راز کھلا تھا کے اس کی بڑی بہن کو اس کے شوہر نے اتنا مارا تھا کے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی
اب وہ نفسیاتی مریضہ ہے
مجھے کہنے لگی مجھے مارنا نہیں مجھے کچھ نہ کہنا
جب آپ نے مجھے چھوڑنا ہوا تو بس ایک بار کہہ دینا میں چلی جاوں گی
حق مہر بھی معاف کروں گی بس مجھے کچھ نہ کہنا کبھی
ہائے اس کی بے بسی
وہ میری بیوی تھی
کیوں کر بھلا کوئی اپنی ہمسفر کو دیمک زدہ کر سکتا ہے
میں اس کا ہاتھ پکڑا
ایک بوسہ کیا
میری گلاب کا پھول بھلا کیوں ماروں گا آپ کو میں
ادھر آو اس کا سر اپنی گود میں رکھا
اس کو پیار سے سمجھانے لگا
ایسا کچھ نہیں ہو گا تم پریشان نہ ہو
چونکہ اس کی عمر 18 اور میری 20 تھی
جلد ہماری شادی ہو گئی تھی
اس کا لڈو کھیلنے کا بہت شوق تھا شادی کے کچھ دن گزرے مجھے کہنے لگی لڈو لے کر آئیں نا
میں کام سے تھکا ہارا آتا مجھے کھانا دیتی
پھر لڈو اٹھا کر لے آتی
چلیں ایک گیم کھیلتے ہیں میں اس کی طرف دیکھتا
تھکا ہونے باوجود اس کو انکار نہ کر پاتا
اسی کی وہ خوشی بیان نہیں کر سکتا میں
جب وہ مجھ سے جیت جاتی تھی
کبھی وہ جیت جاتی کبھی میں ہار جاتا مطلب
میں جان بوجھ کر ہار جاتا تھا
وہ رفتہ رفتہ میرے قریب آنے لگی
اسے میری مجھے اس کی عادت ہونے لگی
عادت نہیں محبت کہیں تو اچھا ہو گا
ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہونے لگی
میں حیران تھا پہلے وہ بھوک برداشت نہیں کر سکتی تھی
لیکن
اب میرے گھر آنے تک وہ کھانا ہی نہیں کھاتی
کبھی رات کے بارہ بھی بج جائیں پھر بھی وہ بھوکی میرا انتظار کرتی
پہلے مجھے کھانا دیتی پھر میرے پاس بیٹھ کر میرے کندھے پہ سر رکھ لیتی
بچوں کی طرح ضدی سی تھی
مجھے کہتی اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاو
میں اس کو اہنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا پھر میری گود میں سر رکھتی
دن بھر کیا کیا کام کیئے سب بتاتی
باتیں کرتے کرتے سو جاتی
مجھے زندگی کے ہونے کا احساس ہونے لگا تھا
مجھے محسوس ہونے لگا
زندگی کیا اتنی حسیں بھی ہو سکتی ہے کیا
زندگی کے یہ خوبصورت لمحے بھلا جنت سا سماں کیسے نہ دیتے
ایک بار میں کسی بات سے ناراض تھا
اسے ڈانٹا بھی تھا
میری طرف غصے سے دیکھنے کے بعد کمرے میں چلی گئی
میں جانتا ہوں وہ بہت روئی تھی
لیکن میں بھی غصے میں تھا اس لیے اسے رونے دیا
پورا دن گزر گیا مجھ سے کوئی بات نہ کی اس نے
میں بھی انا میں رہا
میرے سامنے کھانا رکھا کندے پہ سر رکھ کر بیٹھ گئی
میں جانتا تھا وہ بھوکی ہے میں اس کو کھانا نہ کھلایا
آخر میں بھی تو ناراض تھا
کچھ نہ بولی برتن اٹھانے کچن میں رکھ کر آ گئی
میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی
خاموش تھی
کبھی کبھی نظریں چرا کر دیکھتی تھی میری جانب میں ٹی وی دیکھ رہا تھا
رات کے بارہ بج گئے
بارش زوروں کی تھی
بجلی چمکنے لگی
میں اٹھا کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا اس کا معصوم سا چہرہ بھوکی سو گئی تھی
اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر میں سارا غصہ بھول گیا
وہ سارا دن میرے لیے گھر کے کام کرتی ہیں ایک روبوٹ مشین کی طرح میرا ہر حکم مانتی ہے
بھلا اس کی ایک چھوٹی سی غلطی پہ آج میری وجہ سے بھوکی سو گئی
میں قریب ہوا اسے چاند سے پیارے چہرے پہ بوسہ کیا
نیند میں بھی میرا نام لے رہی تھی
بارش بہت تیز تھی
میں کچن میں گیا
اس کے لیئے آلو والے چاول بنائے بہت شوق سے کھاتی تھی
اس کے چہرے سے آہستہ سے بال ہٹائے
اس کے چہرے پہ ہاتھ رکھا
وہ معصوم سا چہرہ آہستہ سے آنکھیں کھولیں
میری طرف دیکھنے لگی
پہلے مسکرائی پھر شاید اسے یاد آیا مجھ سے ناراض ہے
کروٹ بدلنے لگی
میں نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر لیا
آنکھوں میں دیکھا
پھر آہستہ سے مسکرایا
کانوں کو پکڑ کر معافی مانگنے لگا
1 279
سقراط کی اپنے شاگردوں کو نصیحت!
سقراط نے اپنے شاگردوں کو وصیت کی:
ایک ایسے معاشرے میں رہنے کا انتخاب کریں جہاں مساوات اور انصاف غالب ہو۔
عدل لوگوں کو برائی اور جرم سے بچاتا ہے اور تمام لوگوں میں سب سے بہتر اور اعلیٰ صرف وہی ہے جو علم و حکمت والا ہو۔
ذہین اور عقلمند لوگ صرف سچائی میں سکون پاتے ہیں لیکن بے وقوف اور بے وقوف لوگ غداروں اور چوروں سے ہی سکون پاتے ہیں۔
انسان صرف ان لوگوں سے خوش رہ سکتا ہے جن کا مزاج اور دل ایک جیسا ہو۔
اس دنیا میں جتنے بھی دکھ اور تکلیفیں ہیں وہ ظالم اور ظالم حکمرانوں کی وجہ سے ہیں۔
عدل و انصاف کی مدد سے ہی یہ دنیا رہنے کے لیے موزوں جگہ بن سکتی ہے۔
وہ جگہ جہاں انصاف نہیں، برابری نہیں اور انصاف نہیں، وہ بے ترتیب جانوروں سے بھرا جنگل ہے.
1 279
🔷 سوتیلی ماں۔۔ 🔷
ایک عورت آپریشن کے کمرے میں داخل ہوئی تاکہ اس کا بچہ پیدا ہو اور اسی دوران اُس کی روح قبض کر لی گئی اور اُس نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دینے کے بعد وفات پائی۔
شوہر اپنی بیوی کے بچھڑنے سے بہت غمگین ہوا اور اُس نے بیٹے کو اپنی سالی کے حوالے کر دیا کیونکہ وہ خود بہت مصروف رہتا تھا۔
سات ماہ بعد اُس آدمی نے دوسری شادی کر لی اور اس نئی بیوی سے اُس کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔
تین سال گزرنے کے بعد وہ آدمی اپنے بیٹے کو خالہ کے گھر سے واپس لے آیا تاکہ وہ اس کے ساتھ رہے۔
بیوی نے اپنے بچوں کا خیال رکھا لیکن اس بچے کا خیال نہ رکھا۔
اُس نے اس کے ساتھ سختی برتی اور اُس کو معاف نہ کیا اکثر اوقات اُس کو اکیلا کھانا دیا جاتا۔
ایک دن اُس عورت نے اپنے خاندان کو رات کے کھانے پر مدعو کیا بچہ کھانے کی میز کے پاس آیا اور وہاں موجود کھانے اور مٹھائیوں کو دیکھ کر اُس نے کچھ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، عورت نے اُس کو دیکھ لیا اور سختی سے ڈانٹا پھر اُس نے اُسے چاولوں کی پلیٹ دی اور بالکونی میں بٹھا دیا اور کہا یہاں بیٹھو جب تک مہمان چلے نہ جائیں اور اپنی جگہ سے مت نکلنا۔
بچہ جو ابھی چار سال کا بھی نہیں ہوا تھا، سردی کے موسم میں بالکونی میں اکیلا بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔ أسے سوتیلی ماں سے ڈر لگا کہ کہیں وہ باہر نکلے اور اُس کو مارے۔ تو وہ وہیں سو گیا۔
عورت کے رشتہ دار چلے گئے اور عورت اپنے بچوں کو لے کر سونے چلی گئی۔
شوہر کام سے دیر سے گھر آیا، بیوی نے کہا میں تمہارے لیے کھانا لاتی ہوں۔ شوہر نے کہا میں کھانا باہر کھا چکا ہوں۔
اُس نے اپنے یتیم بیٹے کے بارے میں پوچھا تو بیوی نے کہا وہ اپنے بستر پر سو رہا ہے اور بھول گئی کہ اُس کو بالکونی میں بٹھایا تھا۔
شوہر سو گیا سوتے میں اُس نے اپنی مرحوم بیوی کو خواب میں دیکھا جو کہہ رہی تھی اپنے بیٹے کا خیال رکھو۔ وہ آدمی گھبرا کر اُٹھا اور بچے کے بارے میں پوچھا۔ بیوی نے کہا وہ اپنے بستر پر ہے۔ وہ آدمی سو گیا۔ پھر سے اُس نے اپنی مرحوم بیوی کو خواب میں دیکھا، جو کہہ رہی تھی اپنے بیٹے کا خیال رکھو۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا، بیوی نے کہا آپ بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں، بچہ اپنے بستر پر سو رہا ہے، فکر نہ کریں۔
آدمی تیسری بار سویا پھر اُس نے اپنی مرحوم بیوی کو دیکھا، جو کہہ رہی تھی اب تمہارا بیٹا میرے پاس آ گیا ہے۔
آدمی گھبرا کر اُٹھا اور بستر میں بچے کو دیکھا، وہاں نہیں ملا پھر اُس نے گھر کے ہر کونے میں اُس کو تلاش کیا، نہیں ملا اس نے بالکونی کا دروازہ کھولا تو دیکھا بچّہ سردی سے کانپ رہا تھا اس نے اپنے جسم کو لپیٹ رکھا تھا اور سر کو گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا بچہ زرد چہرے کے ساتھ بے حرکت تھا، باپ نے اُس کو ہلایا تو معلوم ہوا کہ وہ انتقال کر چکا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں چاولوں کی پلیٹ تھی، کچھ کھا چکا تھا اور کچھ چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ اُس سے ملنے والا تھا جو اُس پر رحم کرے گی وہ اپنی ماں کے پاس چلا گیا تھا.
🔘 اے بنتِ حوا خدا کے واسطے اپنے بچوں جیسا دوسروں کے بچوں کا بھی خیال رکھو۔۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ مزید اچھی اچھی پوسٹوں کیلئے وٹس ایپ کا یہ چینل فالو کریں۔۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
"تم یورپ کی طرف ہجرت کرو گے، اور قانون کی پابندی کرو گے۔ تم سگریٹ کے ٹوٹے زمین پر نہیں پھینکو گے، عوامی مقامات پر تمباکو نوشی نہیں کرو گے، اور مخصوص مقامات سے سڑک پار کرو گے۔ تمہاری سیکیورٹی کا شعور اتنا ہوگا کہ اگر تمہاری کھڑکی کے سامنے سے بلی بھی چوری ہو جائے تو پولیس کو اطلاع دو گے۔
تم گاڑی چلاتے وقت سیٹ بیلٹ باندھو گے اور بچے کے لیے پچھلی سیٹ پر کرسی رکھو گے۔ تم قطار میں کھڑے رہو گے چاہے وہ ایک کلومیٹر لمبی کیوں نہ ہو۔ جب تمہیں یورپی شہریت ملے گی اور تم اپنے نمائندے کا انتخاب کرو گے، تو اس کی تاریخ، ماضی اور پیشہ ورانہ مہارت کے بارے میں تحقیق کرو گے۔ اگر تم یہ سب اپنی ملک میں کرتے تو شاید تمہیں ہجرت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔"
General collection
1 279
وہ دلہن کے لباس میں نماز پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ مجھے یہ چیز اچھی تو لگی لیکن عجیب بھی ۔۔۔۔نماز ادا کر وہ گھونگھٹ لے کر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ میری دھڑکن تیز تھی کہ جانے کیا ہوگی مجھے یہ جاننے کی بھی دلچسپی تھی کہ رانی کے بارے میں جو باتیں مشہور ہیں ان میں کتنی سچائی ہے ۔۔۔۔
میں نے اس کے پاس جا کر اسے سلام کیا اس نے بڑی محبت سے میری بات کا جواب دیا ۔۔۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور سوچا کیا بات کروں کیسے کروں ۔۔۔۔ پھر میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔
' کیسی ہو تم '
اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں "
میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا ۔۔۔۔
" اللہ کا شکر ہے "
پھر میں نے اس کا گھونگھٹ اٹھایا وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔ پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس میں سونے کی انگھوٹی پہنا دی ۔۔۔۔ اس نے میرا شکریہ ادا کیا ۔۔۔ اب وقت تھا وہ کرنے کا جو میں کب سے کرنے کی خواہش کر رہا تھا ۔۔۔ اب میرے تجسس کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا ۔۔۔
اور پھر جب مجھے رانی کی سچائی پتہ چلی ۔۔۔۔
اس وقت میرا دل چاہا میں کسی کنوئیں میں چھلانگ لگا دوں اور سارے محلوں والوں کو لائن میں کھڑا کر کے گولی مار دوں ۔۔۔۔ کیونکہ نہ وہ خواجہ سرا تھی اور نہ ہی کوئی کھسرا ۔۔۔ وہ ایک عام سیدھی سادی لڑکی تھی جیسی باقی لڑکیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ میرے سارے وہم و گمان ختم ہو چکے تھے مجھے خوشی تھی اس بات کی لیکن ساتھ شرمندگی بھی تھی کہ میں کیسے ایک شریف اور نیک لڑکی پر شک کرتا رہا اب یہ پچھتاوا اور شرمندگی مجھے ساری زندگی رہنا تھا ۔۔۔۔ اور محلے والوں کے کام دیکھو کیسے ایک معصوم کو بدنام کر دیا تھا اور کیسے اس بیچاری کا جینا حرام کر دیا تھا ۔۔۔۔ اب میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ رانی کو وہ خوشیاں دوں گا جن کے لئے وہ ترستی رہی تھی ۔۔۔ اگلی صبح میری زندگی کی سب سے حسین صبح تھی جب رانی میری بیوی تھی ۔۔۔۔۔
میں رانی سے شادی کر کے بہت خوش تھا ۔۔۔ اگلے دن میرے سب دوستوں اور کچھ محلے داروں نے مجھے گھیر لیا اور پوچھا کیسی رہی ایک خواجہ سرا کے ساتھ سہاگ رات ۔۔۔۔۔
میں نے ان سب کو لعنت کیا اور کہا دل کرتا ہے تم سب کو شوٹ کر دوں کیسے ایک معصوم لڑکی کو بدنام کر دیا تھا ۔۔۔۔ وہ سب شرمندہ ہو گئے لیکن سب کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ بات ابھی بھی موجود تھی کہ رانی ایک خواجہ سرا ہے ۔۔۔۔۔لیکن جب ایک سال بعد میرا اور رانی کا بیٹا پیدا ہوا تب سب کو یقین آ گیا اور سب بری طرح شرمندہ ہو گئے اب جب بھی وہ کبھی مجھے دیکھتے نظریں چرا کر نکل جاتے ۔۔۔اب تو میرے گھر والوں کو بھی سب پتا چل گیا اور وہ بھی شرمندہ ہو کر مجھ سے معافی مانگنے لگے ۔۔ اور مجھے اور رانی کو اپنے گھر لے گئے ۔۔۔ رانی کی ساتھ میری زندگی بہت خوشحال تھی ۔۔۔۔
ایک رات میں نے باتوں باتوں میں رانی سے پوچھا ۔۔۔۔
" رانی تمہارے بارے میں یہ خواجہ سرا والی بات کیسے مشہور ہو گئی "
تو رانی نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔۔۔۔
" میں جس کالج میں پڑھتی تھی وہاں ایک کبیر نام کا لوفر لڑکا بھی تھا وہ کالج سے گھر تک میرا پیچھا کرتا تھا اور مجھے برائی کے لئے اکساتا ۔۔۔ لیکن ایک دن میں نے اسے تھپڑ مارا اور بہت سارے لوگوں سے اسے پٹوایا ۔۔۔ اس کے بعد وہ تو نظر نہ آیا مجھے لیکن اس نے میرے بارے میں یہ ساری باتیں مشہور کر دیں جس سے میں بدنام ہو گئی ۔۔۔ مگر اس سب میں بھی میرا فائدہ ہوا اگر یہ سب باتیں مشہور نہ ہوتیں تو مجھے آپ جیسا شوہر کبھی نہیں ملتا "
میں رانی کی بات پر مسکرا دیا ۔۔۔۔ مجھے پورا یقین تھا اگر میں کسی اور سے شادی کرتا تب کبھی اتنا خوش نہیں ہوتا ۔۔۔۔ جتنا رانی سے شادی کر کے خوش تھا ۔۔۔۔۔
ہر چیز جیسی نظر آتی ہے یا اس کے بارے میں ہم جیسا سنتے ہیں وہ ویسا ہی ہو ۔۔۔ یہ ضروری تو نہیں۔۔۔۔
🔘 کبھی کسی پر غلط الزام مت لگائیں۔ آپ کا لگایا گیا غلط الزام کسی کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5713
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
میں روزانہ رانی کے راستے میں کھڑا ہو جاتا اور اسے دیکھنے لگتا وہ بھی کبھی کبھی آنکھ اٹھا کر مجھے دیکھ لیتی لیکن زیادہ تر نگاہیں نیچے کر کے چلی جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں اسے دیکھتے ہوئے سوچتا کیا وہ لڑکی ہے یا خواجہ سرا ؟
لیکن مجھے اس سوال کا جواب کبھی نہیں ملتا ، محلے کے کچھ لوگ کچھ اور کہتے تھے اور کچھ لوگ کچھ اور ہی کہتے تھے ۔۔۔۔ اب سچ جاننے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ میں رانی سے شادی کر لوں ۔۔۔۔ میں نے یہ فیصلہ کر تو لیا لیکن مجھے یہ ڈر بھی تھا اگر رانی شادی کے بعد خواجہ سرا نکلی تو کیا ہوگا ۔۔۔۔ میں نے یہ فیصلہ ابو امی کو سنایا تو وہ ناراض ہو کر بولے ۔۔
' استغفراللہ اب تم ایک خواجہ سرا سے شادی کرو گے ۔۔۔ پورا محلہ جانتا ہے کہ وہ لڑکی نہیں ہے '
ابو امی اور تایا مجھے کافی دیر تک سمجھاتے رہے لیکن میں اپنے فیصلے پر قائم رہا میں نے کہا اگر وہ خواجہ سرا نکلی تو اسے چھوڑ دوں گا ۔۔۔۔
لیکن ابو نے حتمی لہجے میں کہا ۔۔۔۔
" اگر تم اس کھسرے سے شادی کرو گے تو ہمارے گھر مت آنا ۔۔۔ ایک خواجہ سرا کو ہم بہو نہیں بنائیں گے '
ابو نے مجھے گھر سے نکال دیا ۔۔۔ جب رشتے داروں اور دوستوں نے یہ سنا تو سب حیران ہو گئے ۔۔۔۔
دوست میرا مذاق اڑانے لگانے اور مجھ پر جملے کسنے لگے کوئی کہتا ' اب تمہاری دلہن خواجہ سرا ہوگی ' تو کوئی کہتا ' بیچارے کی کیا حالت ہوگی جب اسے پتا چلے گا کہ اس کی بیوی لڑکی نہیں ایک خواجہ سرا ہے '
میں نے سب کی باتوں کو نظر انداز کر دیا تھا ۔۔۔۔
میرے سب رشتے دار دوڑے چلے آئے ۔۔۔۔
سب مجھے سمجھا رہے تھے میرے بھائی بہن مجھے سمجھانے چلے آئے میرے دور دراز کے رشتے داروں کو جب پتا چلی تو سب مجھے سمجھانے آئے ۔۔۔ میرے سارے گھر والے ناراض ہو گئے تھے لیکن میرا فیصلہ حتمی تھا کہ میں رانی کہ علاوہ کہیں شادی نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔ سارے رشتے دار مجھے ملامت کرتے ہوئے چلے گئے ۔۔۔۔ اور میرے محلے دار الگ مجھے ملامت کر رہے تھے ۔۔۔ کوئی مجھ پہ ہنس رہا تھا تو کوئی کہہ رہا تھا یہ پاگل ہو گیا ہے لیکن میں نے کسی کی بات نہ سنی ۔۔۔۔۔
میں رشتے کی بات رانی کے والدین کے سامنے کی تو رانی کے والد نے مجھ سے کہا تھا ۔۔۔
' بیٹا تم جانتے ہو ناں رانی کے بارے میں محلے میں کیسی کیسی باتیں مشہور ہو چکی ہیں اس کے باوجود تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔۔ '
میں نے کہا ' جی انکل یہ سب جاننے کے باوجود بھی میں رانی سے شادی کے لئے تیار ہوں ۔۔۔ "
اس کے والدین خوش ہو گئے رانی بھی خوش تھی لیکن میرے دل میں کہیں نہ کہیں یہ گھٹن ضرور تھی کہ رانی کی حقیقت کیا ہوگی اگر وہ سچ میں کوئی خواجہ سرا نکل آئی تب کیا ہوگی ۔۔۔ میں ان سب خیالوں کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کر رہا تھا مگر سوچیں تھیں کہ بڑھتی چلی جا رہی تھیں ۔۔۔۔
پہلے میں نے سوچا تھا کہ رانی کے والد سے کہوں کہ میں شادی سے پہلے ایک با رانی کو دیکھنا چاہتا ہوں اس سے کنفرم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ لڑکی ہے یا خواجہ سرا لیکن یہ بات کہنا تو دور مجھے خود سے سوچتے ہوئے بھی شرم آ رہی تھی ایسی بات میں کیسے کہہ سکتا تھا ۔۔۔۔۔
زندگی اگر جوا تھی تو میں جوا کھیل چکا تھا اب جو ہوتا دیکھا جاتا ۔۔۔۔میرے دوست میرا مذاقیں اڑاتے رہتے کہ تیری بیوی خواجہ سرا ہوگی ۔۔۔ بہت پچھتائے گا لیکن میں نے کسی کی بات نہ مانی ۔۔۔ میں نے ایک بہت بڑا گھر کرائے پر لے لیا تھا جہاں شادی کے بعد میں رانی کو رکھ سکتا ۔۔۔ میرے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی میری خود کی جاب تھی ۔۔۔۔
آخر کار وہ لمحہ بھی آ گیا جب میری شادی رانی سے ہو گئی ۔۔۔ میں اپنی شادی پہ بہت ٹینشن میں تھا کہ جانے کیا ہوگا ۔ ۔۔ ساری رات میں سوچتا رہا ، اگر رانی خواجہ سرا نکلی تو میرا کیا ہوگا ۔۔۔۔ میری شادی پہ کوئی نہیں آیا تھا نہ میرے دوست نہ رشتے دار اور نہ ہی میرے اپنے گھر والے سب کو یہی لگتا تھا کہ جیسے میں شادی نہیں کوئی گناہ کر رہا ہوں ۔۔۔۔
مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی لیکن میری خود کی الجھن بڑھتی چلی جا رہی تھی شادی میں جتنی دیر رسمیں چلتی رہیں میرا دل دھڑکتا رہا ۔۔۔ میں انتظار کر رہا تھا کا جب مجھے رانی کے بارے میں سچ پتا چلتا ۔۔۔۔ پتا نہیں اس وقت میری کیا حالت ہوتی ۔۔۔ میں رانی کو بیاہ کر اپنے گھر لے آیا تھا ۔۔۔ اور رانی کو کمرے میں بٹھا دیا
رانی کے ساتھ اس کی ماں اور ایک بہن بھی آئیں تھیں جو دو ، تین گھنٹے بعد چلی گئیں ۔۔۔ اب رات ہو چکی تھی مجھے رانی کے کمرے میں جانا تھا لیکن میں یہ سوچ کر ڈر رہا تھا جانے کیا ہوگا ۔ ۔۔۔۔۔
میں کمرے میں چلا گیا۔۔۔ لیکن میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا میں نے ایک عجیب چیز دیکھی ۔۔۔۔
لیکن میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا میں نے ایک عجیب چیز دیکھی ۔۔۔۔
1 279
🔷 غلط الزام 🔷
ہمارے پرانے محلے کی ایک لڑکی تھی اور اس قدر خوبصورت تھی کہ اس کے مقابلے کی کوئی لڑکی نہیں تھی مگر محلے والے رانی کے بارے میں ایک ایسی بات کہتے تھے جس پر یقین کرنا ناممکن سا تھا ۔۔۔۔۔۔ محلے کے کچھ لوگ کا کہنا تھا کہ رانی کوئی لڑکی نہیں ہے بلکہ ایک خواجہ سرا ہے ۔۔۔۔
یہ بات اپنے آپ میں کافی حد تک عجیب تھی رانی کے کسی بھی انداز سے نہیں لگتا تھا کہ وہ لڑکی نہیں ہے نہ آواز سے ، نہ جسامت سے نہ چال ڈھال سے ۔۔۔۔ پھر کیوں محلے کے کچھ لوگ اس کے بارے میں ایسی باتیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔
جہاں رانی کو آدھے محلے والے خواجہ سرا مانتے تھے وہیں آدھے لوگ یہ بھی کہتے تھے ' شریف اور سادہ سی لڑکی ہے بس زرا سا رنگ روپ باقی لڑکیوں سے خوبصورت ہے اس لئے کچھ لوگ اسے خواجہ سرا سمجھتے ہیں '
مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوئی اگر کسی کا رنگ روپ خوبصورت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ خواجہ سرا ہے ۔۔۔مجھے نہ تو کبھی رانی سے ہمدردی تھی نہ ہی محلے والوں کی باتوں میں کوئی دلچسپی تھی مگر دل میں ایک تجسس ایک سسپنس سا پیدا ہو گیا کہ یہ چکر کیا ہے ۔۔۔۔۔
میں نے رانی کے گھر کے بہت سارے لوگوں سے پتا کرانے کی کوشش کی سب کا یہی جواب تھی کہ وہ لڑکی ہے مگر محلے والے کس بنا پر یہ بات کر رہے تھے ۔ ۔۔۔ اور اس بات کے جواب میں اکثر وہ یہ کہتے تھے ۔۔۔۔
' اب گھر والے تو اپنی اولاد کے عیب چھپائیں گے ناں ۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے رانی ایک خواجہ سرا پیدا ہوئی تھی ۔۔۔ جس دائی نے ڈیلیوری کی تھی اس نے خود ہی یہ بات بتائی تھی ۔۔۔۔ اب اپنی عزت بچانے کے لئے اس کے گھر والے جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔'
میرا تجسس ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گیا یہ گھتی الجھتی چلی جا رہی تھی آخر حقیقت کیا تھی ۔۔۔۔ میں محلے کے ایک بزرگ کے پاس گیا اور اس سے دائی اور رانی کے حوالے سے چھیڑا جوابا اس نے کہا تھا ۔۔۔۔۔
' بیٹا ہم تو چالیس سالوں سے اسی محلے میں رہ رہے ہیں رانی کی پیدائش بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوئی تھی ہم نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں سنی اس زمانے ۔۔۔۔ لیکن پچھلے چند سالوں سے یہ بات پورے محلے میں مشہور ہو گئی ۔۔۔۔ اب سچ جھوٹ تو خدا ہی بہتر جانے ۔۔۔۔۔ '
سچ جو بھی تھا لیکن رانی اس قدر بدنام ہو چکی تھی کہ اس کا گھر سے نکلنا بھی بند کر دیا گیا تھا اب وہ کبھی کبھی اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ یہاں وہاں جاتی نظر آتی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے اب اس پر تھوڑا ترس آنے لگا تھا محلے والوں سے خدا پوچھے انہوں کس طرح ایک شریف لڑکی کو بدنام کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ انہی باتوں کی وجہ سے تو کوئی رانی سے شادی کے لئے تیار نہیں تھا یہ باتیں ہمارے محلے میں تو کیا آس پاس کے پانچ پانچ محلوں تک پھیل چکی تھیں تبھی رانی کے لئے کوئی رشتہ نہیں آتا تھا حالانکہ وہ سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔۔ ایک بار تو اس کی طے شدہ منگنی بھی ٹوٹ گئی ۔۔۔۔اس کی منگنی اس کے کزن سے طے شدہ تھی مگر محلے میں پھیلتی عجیب و غریب باتوں کی وجہ سے اور بدنامی کے ڈر سے اس کے کزن نے رشتے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔
اور ایک بار تو اس بیچاری کو شادی والی رات ہی لڑکے والے چھوڑ کر چلے گئے تھے ہوا کچھ یوں تھا کہ لڑکے والے دوسرے محلے کے تھے اور لڑکے نے گلی میں آتے جاتے رانی کو پسند کر لیا تھا بات شادی تک پہنچ گئی اور شادی ہو بھی جاتی اگر لڑکے والوں نے نکاح سے دو گھبٹے پہلے رانی کے بارے میں افواہیں نہ سن لی ہوتیں کہ رانی ایک خواجہ سرا ہے ۔۔۔۔۔۔
رانی کے گھر والے ہر وقت پریشانی میں ڈوبے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔
ایک دن میں محلے کے پرانے گھر کے سامنے سیڑھیوں پر بیٹھا تھا ، دور سے رانی اپنے بھائی کے ساتھ آتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔۔ میرے دل کی بے چینی بڑھ گئی ۔۔۔۔
میں نے سوچا تھا کسی سے پوچھنے کی بجائے ڈائریکٹ یہ بات رانی سے ہی پوچھ لیتا ہوں ۔۔جب وہ میرے پاس سے گزری تو میں نے کہا 'اسلام و علیکم '
اس نے بڑی شرافت سے میرے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔ کافی کوشش کے بعد بھی میں اس سے یہ بات نہیں پوچھ سکا ۔۔۔ اور وہ وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
جب اس نے میرے سلام کا جواب دیا تو وہ اتنی خوبصورت آواز تھی جو کہ کسی لڑکی کی ہی ہو سکتی تھی مگر محلے والوں کی باتوں نے مجھے دونوں طرح سے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔
کل شام کے وقت میں نے اپنے دوست زاہد سے رانی کا ذکر کیا تو اس نے مجھے چیلنج کرتے ہوئے کہا ' اگر رانی لڑکی ہوئی تو میں تمہیں ایک لاکھ انعام دوں گا ۔۔۔ "
اب خدا جانے سچ کیا تھا ۔۔۔ میں ہر وقت رانی کے بارے میں سوچنے لگا تھا صبح سے شام تک ۔۔۔۔ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ کوئی اسے اگر ایک بار دیکھ لیتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا لیکن محلے والوں کی باتوں نے بھی دل میں ایک عجیب کراہت سے پیدا کر دی تھی ۔۔۔۔۔
1 279
🔷 بیوی کیلئے بن سنور کر رہیں 🔷
ارشد صاحب شادی کے شروع کے دنوں میں تو کچھ لحاظ میں رہے ۔ یعنی گھر آکر پسینے سے بھرے ہوئے کپڑے بدلنا اور صاف ستھرا لباس پہن کر بیوی کے سامنے آنا۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ اپنی پرانی ڈگر پر واپس آگئے۔
ان کی کتابوں کی دکان تھی۔ ہول سیل کا کام کرتے تھے۔ دو ملازم بھی رکھے ہوئے تھےلیکن خود بھی کافی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی۔ دکان میں ابھی اے سی نہیں لگا تھا۔ آجکل سکولوں میں داخلے کا سیزن تھا۔سارا دن گاہکوں کا رش لگا رہتا۔
رات کے نو بجے جب ارشد صاحب گھر میں داخل ہوتے تو انہیں صرف گرما گرم کھانے اور آرام دہ بستر کی طلب ہوتی۔ وہ سارا دن کے پسینے سے بھیگی ہوئی قمیص اتارکے الماری کے ساتھ لٹکاتے ۔ پھر بنیان اور شلوار میں ہی بستر پر نیم دراز ہو جاتے۔
صائمہ یعنی ارشد صاحب کی بیوی کو ان کی اس عادت سے بڑی چڑ تھی۔ وہ اکثر کوفت سے کہتی۔ ’’کم از کم بنیان ہی بدل کیا کریں۔ سامنے الماری میں دھلی رکھی ہوتی ہے۔ اور یہ ازاربند۔۔۔‘‘ ارشد صاحب کو صائمہ کے الفاظ پر اندر ہی اندر واقعی شرمندگی ہوتی لیکن وہ ان مردوں میں سے تھے جو بیوی کے سامنے اپنی غلطی ماننا جرم سمجھتے ہیں!
ازاربند کو سنبھالتے ہوئے وہ بازوؤں کے نیچے سے پیلی ہوتی ہوئی اپنی بنیان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے اور بڑی ڈھٹائی سے کہتے۔’’تم جاہل کیا سمجھو گی۔ یہ ہماری خاندانی روایت ہے۔ ہم نے تو اپنے ابا کو گھر میں ہمیشہ انہی کپڑوں میں دیکھا ہے۔‘‘
ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے گئے۔ ارشد صاحب کےدونوں بچے اب بڑے ہو گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے ابا کی پسینے سےبھری ہوئی بنیان اور شلوار کے سامنے جھولتے ہوئے ازاربند کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ لیکن صائمہ! کیا اس نے سمجھوتا کر لیا تھا؟ شاید نہیں۔
یہ چند مہینے پہلے کی بات ہے جب صائمہ کے پڑوس میں رہنے والے پٹھانوں نے اپنا گھر خالی کیا اور پشاور چلے گئے۔ ان کے جانے کےکچھ ہی دنوں بعد گھر کرایہ پر لگ گیا۔ نئے پڑوسی آئے تو ہمیشہ کی ملنسار صائمہ نے سلام دعا کا سوچا۔
اگلے دن ٹھنڈی مزیدار کھیر کا باؤل پکڑ ے اس نے بیل بجائی۔’’کون؟‘‘ ایک مردانہ آواز آئی اور ساتھ ہی دروازہ کھل گیا۔ اگر چہ صائمہ برقعہ میں تھی لیکن پھر بھی گھبرا کر ایک طرف ہو گئی۔
اتنے میں ان صاحب کی بیوی، نادیہ بھی چلی آئی تو صائمہ کی مشکل آسان ہو گئی۔
’’میں یہ پڑوس سے آئی ہوں۔ ‘‘ اس نے ٹھنڈا سا باؤل نادیہ کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا۔نادیہ اصرار کر کے اسے گھر کے اندر لے آئی پھر ڈرائینگ روم میں بٹھا کر چلی گئی۔
صائمہ نے اردگرد کا جائزہ لیا ۔ اچانک شیشے کی دیوار کے اس پاروہی صاحب یعنی نادیہ کے میاں دکھائی دیے۔ نفیس سا کرتہ شلوار اور خوبصورت سی چپل پہنے وہ موبائل پر مصروف تھے۔ ہاتھ میں خوبصورت سی گھڑی تھی ۔بال بھی بڑے سلیقے سے بنائے گئے تھے۔
’’شاید یہ لوگ کہیں جارہے تھے۔ میں ایسے ہی آگئی۔‘‘ صائمہ نے کچھ شرمندگی سے سوچا۔ اتنے میں نادیہ کولڈ ڈرنک لے آئی۔
’’آپ لوگ کہیں جارہے ہیں؟‘‘ صائمہ نے پوچھا۔
’’نہیں تو! آپ آرام سے بیٹھیں ناں۔‘‘ نادیہ نے خوشدلی سے کہا۔
’’اچھا پھر کسی شادی سے آرہے ہیں ناں؟‘‘ اب کی بار صائمہ نے یقین سے کہا۔
نادیہ نے ایک نظر باہر اپنے شوہر پر ڈالی اور پھر ہنس پڑی۔
’’مجھے معلوم ہے آپ میرے میاں کو دیکھ کر پوچھ رہی ہیں۔اصل میں یہ ہر وقت گھر میں بھی ایسے ہی تیار رہتے ہیں۔۔۔ میرے لیے!‘‘ اس نے کچھ شرماتے ہوئے بتایا۔
صائمہ سے کچھ کہا نہ گیا۔ وہ بس خالی خالی نظروں سے دیکھتی گئی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے نادیہ کو خدا حافظ کہا اور اپنے گھر چلی آئی۔ جہاں میلا کچیلا سا، بنیان، شلوار میں ملبوس ایک شخص اس کا منتظر تھا ۔۔۔ اس کا شوہر ارشد! لیکن یہ اس کا وہ ’’ارشد‘‘ تو نہ تھا جس سے اس نے شادی کی تھی۔ یہ تو کوئی اور ہی تھا جس کو اپنی پسینے سے بھری ہوئی بنیان اور جسم سے آتی ناگوار بو نے کبھی یہ محسوس تک نہ ہونے دیا کہ وہ اپنی بیوی کی نظروں میں کیا سے کیا ہو چکا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں۔ ’’ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کے لیے اسی طرح بن سنور کر رہوں جس طرح میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے لئے بناؤ سنگھار کرے۔‘‘
📚 السنن الكبرى ، كتاب القسم والنشوز ، باب حق المرأة على الرجل۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🔷 جانوروں کے طفیل 🔷
ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح
ور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔
کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“
مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“
”ہاں ہے!“
پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“
”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔
”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“
اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“
”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“
سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“
شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟
شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“
”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“
”جی ہاں کیوں نہیں؟“
”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“
”بالکل!“
”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“
”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🔷 خوشی اور سکون 🔷
ایک بادشاہ تھا۔ وہ دن بھر ملک کے انتظامی کاموں میں اتنا مصروف رہتا تھا کہ اسے آرام کرنے کی لیے بہت ہی کم فرصت ملتی تھی۔
ایک دن اس بادشاہ کو خیال آیا کہ یہ بادشاہت تو ایک مصیبت ہے۔ ہر وقت کام میں لگا رہتا ہوں۔ نہ دن کو چین ملتا ہے نہ رات کو آرام۔ بادشاہ ہونے کے باوجود میری زندگی میں خوشیاں نہیں ہیں۔ اگر میں خوش نہیں ہوں تو کوئی اور شخص کیسے اپنی زندگی سے خوش ہوگا۔
اس بادشاہ نے سوچا کہ مجھے دیکھنا چاہیے کہ میرے ملک میں خوش انسان کونسا ہے۔؟
یہ سوچ کر رات کے وقت اس نے بھیس بدلا اور خوش رہنے والے آدمی کی تلاش میں محل سے روانہ ہو گیا۔
سب سے پہلے وہ ایک سوداگر کے پاس گیا۔
بادشاہ نے اس سے پوچھا، "تم یقینا خوشی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہو گے؟"
سوداگر نے جواب دیا، "میرے پاس بہت دولت ہے، مگر یہ دولت بھی مجھے سکون نہیں دے سکتی۔اگر دولت سے خوشی اور سکون ملتا تو میں خریدنے میں دیر نہیں لگاتا۔ اس دولت نے میری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ میرے وارثوں کی نظریں میری جائیداد پر ہیں۔ وہ میرے مرنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ اسی دولت کے لیے مجھے جان سے مار دیں۔ اس کے علاوہ آئے دن چوری اور ڈاکے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ رات دن اسی سوچ میں گھل رہا ہوں۔ میری صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ کاش میں غریب آدمی ہوتا۔ محنت مزدوری کر کے ایک جھونپڑے میں خوشی سے زندگی گزارتا۔ تب مجھے کسی قسم کی فکر نہ ہوتی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اپنے غریب پڑوسی کی طرح ہوتا۔ کتنا خوش رہتا ہے وہ۔"
بادشاہ اس کا جواب سن کر اس کے پڑوسی کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا، "تم اپنے اس حال میں خوش ہو؟"
پڑوسی بولا، "میں تو اس سخت محنت اور مشقت سے تنگ آ گیا ہوں۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے پڑوسی سوداگر کی طرح ہر وقت آرام کرتا رہوں اصل زندگی تو یہی ہے۔"
ان دونوں کے جواب سن کر بادشاہ کو تسلی نہ ہوئی تو وہ اپنی حکومت کے ایک بڑے افسر سے ملا۔ اسے چند روز پہلے ایک بڑے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔
بادشاہ کے سوال پر وہ بولا، "میری بدقسمتی ہے کہ میں نے یہ عہدہ قبول کر لیا۔ جو افسر میرے ساتھ پہلے کام کرتے تھے وہ میرے دوست تھے۔ اس عہدے نے انہیں میرا ماتحت بنا دیا ہے۔ اب وہ مجھ سے جلنے لگے ہیں۔ اس عہدے سے جو خوشی ملی تھی، وہ بھی خاک میں مل گئی۔ لگتا ہے خوشی میرے نصیب میں ہے ہی نہیں۔"
بادشاہ افسر کا جواب سن کر اس کے پڑوس میں ایک درزی کی دکان پر پہنچا اور اس سے بولا، "تم تو عیش کرتے ہو گے؟"
درزی بولا، "جناب میں اس کام سے ہرگز خوش نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی کام ہے۔ سارا دن ایک جگہ بیٹھے کپڑے سیتے رہو۔ اس کام سے تو میری جان جاتی ہے۔ مگر کیا کروں مجبوری ہے۔ اس کام نے میری خوشیاں چھین لی ہیں۔ اب دیکھیں میرے پڑوسی افسر کو۔ بادشاہ نے اسے بڑا عہدہ دیا ہے۔ اب اسے سکون اور خوشی بھی حاصل ہو گئی اور دولت بھی۔ کاش میں ہی وہ افسر ہوتا۔"
بادشاہ درزی کا جواب سن کر شہر کے باہر ایک دیہات میں پہنچا ہی تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ بادشاہ نے ایک جھونپڑے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک بزرگ باہر آئے اور بادشاہ سے بولے، "اندر آ جاؤ۔"
جھونپڑے کی چھت کئی جگہوں سے ٹپک رہی تھی۔ جہاں سے بارش کا پانی ٹپک رہا تھا، وہاں بزرگ نے ٹین کے خالی ڈبے نیچے رکھ دیئے تھے۔ پانی ان ڈبوں میں گر رہا تھا۔
"معلوم ہوتا ہے تمہاری مالی حالت اچھی نہیں ہے؟" بادشاہ نے بزرگ سے پوچھا۔
بزرگ بولے، "ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں بہت خوش ہوں۔ الله تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ہر چیز دی ہے۔ دیکھ لو۔ یہ میرا صاف ستھرا گھر ہے۔ میرے پاس دو بیل، ایک بکری، پانچ بطخیں اور کچھ مرغیاں ہیں۔ ان سے میں دودھ، انڈے اور گوشت حاصل کرتا ہوں۔ ان کو میں بیچتا ہوں۔ بیل کنواں اور ہل چلانے کے کام آتے ہیں۔ یہ میری تنہائی کے ساتھی ہیں۔ یہاں گھاس بہت ہے۔ ایک تالاب بھی ہے۔ میرے پاس کچھ زمین بھی ہے جس میں میں گندم اور کپاس اگاتا ہوں۔ میرے گھر کے پچھواڑے میں میرا ایک خوبصورت اور چھوٹا باغ بھی ہے۔ اس میں آم، کھجور، کیلے اور مالٹے وغیرہ کے درخت ہیں۔ کنویں سے پانی نکال کر کھیتوں اور باغ کو دیتا ہوں۔ باقی وقت میں جانور چراتا ہوں۔ پھر فرصت میں الله الله کرتا ہوں۔ میں بہت خوشی اور سکون سے زندگی گزار رہا ہوں۔"
بادشاہ نے سوچا کہ خوشیوں کے ساتھ اگر تھوڑی تکلیف بھی ہو تو انسان کو برداشت کر لینی چاہیے۔ بغیر تکلیف اور دکھ کے راحت نصیب نہیں ہوتی۔ میں جس شخص کی تلاش میں تھا وہ مجھے مل گیا ہے۔ بارش تھم چکی تھی۔ بادشاہ اپنے محل میں واپس آگیا اور ایک بار پھر تندہی سے کام کرنے لگا۔“
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
خاتون بُت بنى بے یقینی کے عالم میں کھڑی آنسؤوں بھری نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی اور وہ وین سمیت نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اس کی کیفیت اب کافی بلکہ بہت مختلف تھی، اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔ کچھ گھنٹوں پہلے جو اس کی حالت تھی وہ اب یکسر بدل گئی تھی۔ اب اسے ہفتہ دس دن گزارنے کی جو فکر تھی وہ تھوڑی کم ہو گئی تھی۔ ہفتہ دس دنوں کا خیال آتے ہی اس نے کاغذ قلم لے کر خاتون کا ایڈریس لکھ کر وصیت لکھی کہ ہر ماہ باقاعدگی سے چار لوگوں کے معقول سے بڑھ کر خرچے کی رقم اس ایڈریس پہ بھجوائی جائے۔ اور کاغذ کو لفافے میں بند کر کے تجوری میں رکھ دیا۔
اب اسے لگ رہا تھا کہ اپنے آخری سفر کے لئے وہ تیار ہے یا تھوڑی بہت تیاری کر لی ہے۔ پھر ہفتہ گزر گیا اور دس دن گزر گئے۔ پھر مزید دس اور پورے پندرہ دن گزر گئے۔ گھر والوں کے کہنے کے باوجود وہ ہسپتال نہیں گیا اور پھر پورا ایک مہینہ گزر گیا اور اگلے مہینے کی رقم بھی اس نے فوراً بھجوا دی۔
پھر ایسے ایک ایک مہینہ کرتے پورا سال گزر گیا اور وہ معمول کے مطابق رقم بھجواتا رہا۔ پھر پانچ سال، پھر دس سال گزر گئے اور پھر پورے بیس سال گزر جانے کے بعد ایک رات وہ معمول کے مطابق تہجد کے لئے اٹھا، وضو کر کے تہجد شروع کی اور سجدے میں دعا کرتے کرتے اس کی سانسیں ختم ہو گئیں ۔ وہ اس جہانِ فانی سے سجدے کی حالت میں رخصت ہو گیا۔
یہ سچا واقعہ یہاں ختم نہیں ہوتا اصل خلاصہ تو اب آنا ہے۔۔۔
گھر والے جب صبح اٹھے تو اس کو سجدے کی حالت میں مردہ پایا۔ افسوس کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو اس بات کی خوشی سی بھی تھی کہ اچھی اور مبارک موت ہوئی ہے۔
خیر تکفین و تدفین اور دیگر انتظامات کے بعد اولاد کا تجوری اور وصیت کھولنے کا وقت آیا تو وہ بند لفافہ بھی نکل آیا جو کم از کم بیس سال پہلے کی تاریخ کا ان کے والد کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا اور اس کا مطلب تھا اس لکھے گئے ایڈریس پہ بیس سال سے رقم دی جاتی رہی ہے۔ لفافہ پڑھنے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ والد صاحب کو فوت ہوئے سات دن ہو گئے ہیں جو کہ تکفین و تدفین اور رشتے دار لوگوں کے ملنے ملانے میں نکل گئے ہیں اور وصیت کے مطابق رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہو گئی ہے۔
رقم لے کر وہ لوگ اس ایڈریس پر پہنچے تو دروازہ کھٹکھٹانے پر خاتون باہر آئی جو کہ اب پچاس سے اوپر کی ہو چکی تھی۔ سلام دعا کے بعد تاجر کے بڑے لڑکے نے خاتون سے مؤدب انداز میں کہا کہ ہم آپ کو والد صاحب کی طرف سے جو ماہانہ مخصوص رقم ہے وہ دینے آئے ہیں اور معذرت چاہتے ہیں کہ رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہو گئی وہ اصل میں۔۔۔
خاتون جلدی سے بولی، ارے نہیں نہیں کوئی بات نہیں آپ کے والد صاحب کے ہم پر بہت احسانات ہیں۔ آپ لوگ میری طرف سے والد صاحب کو بہت بہت شکریہ بولئے گا اور اور انہیں بتائیے گا کہ ہم ہمیشہ انہیں دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں اور رکھیں گے، اور میری طرف سے آداب کے ساتھ انہیں بتائیے گا کہ اب انہیں رقم بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بیٹا حیرانگی سے بولا کیوں؟ اب کیوں نہیں ہے ضرورت رقم کی؟
خاتون نے خوشی کے آنسووں میں ملی آواز میں جواب دیا، اللّٰـــہ کے فضل سے مہینہ پہلے میرے بڑے بیٹے کی ملازمت لگی تھی اور سات دن پہلے ہی بیٹے اس کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے ۔
خاتون روانی میں پتہ نہیں کیا کیا بولے چلے جا رہی تھی جب کہ لڑکوں کے کانوں میں خاتون کا یہی جملہ اٹک کر رہ گیا،
”سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے۔“
”سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے۔“
(عربی سے منقول)
امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:
"إن صدقة السر تطفئ غضب الرب"
رازداری میں کیا گیا صدقہ اللّٰـــہ پاک کے غصے کو بجھاتا ہے۔“ (📚 ثواب الأعمال: ١٢٨)
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5708
https://t.me/islamwitheman/5694
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 279
🌹 صدقہ اللہ کے غضب کو بجھاتا ہے 🌹
دمشق کا معروف و مشہور تاجر رات کے پچھلے پہر سڑکوں پہ ٹہل رہا تھا۔ موسم خوشگوار ہونے کے باوجود اس کا دم گھٹا جا رہا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق اس کے پاس ہفتہ یا دس دن سے زیادہ ٹائم نہیں تھا۔ دنیا کی ہر آسائش کے ہوتے ہوئے بے بسی کا یہ عالم تھا کہ ٹائم سے پہلے ہی سب کچھ ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ ملک کے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا۔ ایک ننھی سی امید تھی کہ امریکا میں علاج ہو سکتا ہے وہ بھی دم توڑ گئی۔ جب وہاں کئی مہینے ٹیسٹ وغیرہ کروانے کے بعد سینئر ترین ڈاکٹر نے آخر کار ایک دن آ کر نرمی سے سمجھایا کہ آپ کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے ۔ لہٰذا میرا مشورہ ہے اور عقل مندی یہی ہو گی کہ باقی کا قیمتی ٹائم آپ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزاریں-
رات کے اس پہر بے خبری کے عالم میں نہ جانے کتنی دیر ٹہلتا رہا۔ اس کی سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک تنگ سے بے رونق پل پر پہنچ چکا تھا۔
سڑک پار دوسری طرف سٹریٹ لائٹ کے نیچے ایک خاتون کھڑی کسی آدمی سے گفتگو کر رہی تھی۔ تیس سال کے لگ بھگ خاتون کا انداز منت سماجت والا تھا، جبکہ بندہ کوئی اوباش قسم کا تھا جو کہ اس کی بات نہیں مان رہا تھا۔ اس کے چلنے کی رفتار خود بخود آہستہ ہو گئی، کانوں میں جب آواز پہنچنا شروع ہوئی تو خاتون کہہ رہی تھی:
خدا کے لئے مجھے اتنے پیسوں کی ضرورت ہے، بچے بھوکے ہیں، میں تمہارے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوں۔
جبکہ وہ اوباش قسم کا بندہ اس خاتون کی (قیمت) آدھی سے بھی کم دینا چاہ رہا تھا اور یہ کہ تمہاری اس سے بھی کم قیمت بنتی ہے بول رہا تھا۔ پھر وہ کندھے اُچکاتا ہوا چل پڑا اور خاتون حسرت کی تصویر بنی کھڑی رہ گئی-
وہ تھوڑا آگے جا کر مُڑا اور خاتون کی طرف چل دیا۔ اسے نزدیک آتا دیکھ کر خاتون چوکنی ہو گئی۔ اُمید بھری نظروں سے قریب آتے کو دیکھنے لگی۔ نزدیک پہنچنے سے پہلے خاتون آگے بڑھی اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے اپنے آپ سے زبردستی کر رہی ہو ۔ اس نے قریب پہنچ کر سلام کیا۔ خاتون نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور ٹٹولتی نظروں سے دیکھا اور تھوڑا قریب ہوتے ہوئے معنی خیز انداز بنا کر پوچھا کیا موڈ ہے؟
وہ پیچھے ہٹا اور نرمی سے کہا، نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ دراصل میں نے ابھی گزرتے ہوئے تمہاری اس آدمی کے ساتھ تھوڑی سی گفتگو سنی ہے۔ مجھے بتاؤ میری بہن تمہارا کیا مسئلہ ہے؟
اس طرح پوچھنا تھا کہ خاتون جو کہ مضبوط دکھائی دینے کی کوشش کر رہی تھی یکدم روہانسی ہو گئی بولی:
”بھائی قسم ہے اس ذات کی جو ہماری گفتگو سن رہا ہے، میں اس ٹائپ کی عورت نہیں ہوں جو اس وقت گھر سے نکل کر سڑک پہ کسی کا انتظار کرے ۔ مگر میں بہت مجبوری کے عالم میں اس وقت اس جگہ پہ ہوں۔”
اسے لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے لیا ہو۔ اس نے مزید نرمی سے کہا دلوں کا حال تو اللّٰـــہ جانتا ہی ہے بہن، مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟ بولی:
”میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں شوہر کو فوت ہوئے ۔ سال ہونے کو ہے۔ شروع میں تو پڑوسی، رشتےدار کچھ مدد وغیرہ کر دیتے تھے، پھر آہستہ آہستہ سب نے ہاتھ کھینچ لیا۔ گھر میں راشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کرائے دار کا صبر بھی ختم ہو گیا ہے، اس نے کل شام تک کی آخری مہلت دی ہے۔ اگر کرایہ نہ دیا تو سامان سمیت گھر سے نکال دے گا ۔ میرے پاس اب اور کوئی چارہ نہیں رہا سوائے کہ اپنے آپ کو ۔۔۔“
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بیٹھ گئی۔ اس نے بھی جلدی سے دوسری طرف مڑ کر بہانے سے اپنے آنسو صاف کئے۔ پھر مڑ کر جلدی سے بولا، بس بس ٹھیک ہے بہن کوئی بات نہیں اور اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے تو پتہ چلا کہ جیبوں میں جو رقم ہے، وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ جس عالم میں وہ نکلا تھا اسے تو ہوش ہی نہیں تھا، اس نے خاتون سے کہا فی الحال یہ رکھو اور مجھے اپنا ایڈریس بتاؤ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اپنے گھر جاؤ ان شاء اللّٰہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خاتون بے یقینی کے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جیسے سوچ رہی ہو کہ اس پہ بھروسہ کرے کہ نا کرے
اس نے پھر سے یقین دھانی کرائی کہ تم جاؤ اور ایڈریس بتا دو بس۔ اس نے آخر کار ایڈریس بتا دیا اور پھر ایک طرف کو چل پڑی۔
تھوڑی دیر تک خاتون کو جاتا دیکھنے کے بعد وہ مڑا اور واپسی کی طرف تیزی سے قدم اٹھانے لگا۔
گھر پہنچ کر اس نے کافی مقدار میں نقدی لی اور ڈرائیور کو بڑی وین نکالنے کو کہا پھر خود ڈرائیو کرتے ہوئے شہر کے چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے سٹور سے راشن کی بڑی مقدار وین میں بھری اور خاتون کے بتائے ہوئے ایڈریس پہ پہنچ کر سارا راشن اس کے گھر اتارا باقی کی رقم خاتون کو دی اور کہا ۔۔۔
صبح کرائے دار سے وہ خود بات کر لے گا اور کرائے کا معاملہ نمٹا دے گا اور ان شاء اللّٰہ ہر مہینے مخصوص رقم آپ تک پہنچا دی جائے گی۔ یہ کہہ کر جلدی سے بنا کچھ کہے سنے واپس مڑ گیا۔
1 279
🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ 🌹
وفات جناب زینب عالیہؑ کی وفات کے موقع پر ان کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت میں چھوٹی سی کاوش..
🌹 ولادت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت 5جمادی الاول کو مدینہ منورہ میں ہوئی، آپ امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے 2سال بعد پیدا ہوئیں.
🌹 ثانی زہراؑ کا اسم گرامی
جب آپؑ اس دنیا میں تشریف لائیں تو جناب فاطمہؑ نے اپنے شوہر نامدار سے آپ کا نام تجویز کرنے کو کہا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ اس کام میں رسول خدا پر سبقت نہیں لے سکتے. رسول خدا سے درخواست کی گئی تو انھوں نے فرمایا اس کام میں میں الله سے سبقت نہیں لے سکتا. پس جبرائیلؑ نازل ہوئے اور عرض کی کہ پروردگار آپ پر سلام بھیجنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ شہزادی کا نام زینب رکھا جائے.
🌹 القابات جناب زینبؑ
جناب زینب عالیہؑ کی حیات اقدس کا کچھ زمانہ نہ گزرا تھا کہ آپ کی عظیم صفات ظاہر ہونے کے بعد متعدد القابات کی تعیین کرنے کی نوبت آئی. آپ کی مخصوص صفات کے اعتبار سے لوگ آپ کو موسوم کرنے لگے. ہم ان تمام القابات کو جمع کرنے کی قوت نہیں رکھتے لیکن بعض کتب تاریخ میں جن کا ذکر آیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔۔
آپ کو عظیم و خردمند خاتون کے طور پر "عقیلہ" کا نام دیا گیا. لغت کی کتب میں لکھا ہے
*العقيله الكريمة المخدرة
*لبية جزلة عاقلة یعنی تیز فہم، تیز ادراک و خردمند خاتون۔
*عقيلة جليلة یعنی پر شوکت و جلال بیبی۔
*أهراة عاقلة یعنی خردمند مخدومہ
*عقيلة طالبين یعنی عقیلہ خاندان ابوطالب۔
*محدثة؛ کیونکہ آپ احادیثِ پیغمبرؐ کی راوی ہیں. اس لیے آپ کو یہ اسم گرامی الله کی طرف سے عطا ہوا اور یہ وہ بخشش ہے جو الله اپنے پاک و نیک بندوں پر رحمت فرماتا ہے.
*بطلة كربلا یعنی کربلا کی شجاع خاتون
*أهل ألتقي یعنی اہل تقویٰ اور شب وروز مصروف عبادت۔
🌹 پرورش جناب زینبؑ عالیہ
آپ اپنی والدہ کے سایہ عاطفت میں پرورش پاکر سنِ رشیدہ کو پہنچیں۔ زینب عالیہؑ کا گوشت و خون سیدہ طاہرہ کے گوشت و خون سے بنا ایسی بیٹی کی آمد سے گھر میں رونق اور خوشیوں کو زندہ کردیا جس کو دیکھ کر ماں کا دل مسرت و شادمانی حاصل کرتا ہے، جس نے سیدہ طاہرہؑ کا دودھ پیا جو سینہ عظمت و عصمت و تقویٰ کی مالک تھیں. تقریباً 6 برس آپ اپنی والدہ کے ہمراہ رہیں. سیدہ طاہرہؑ کی تنہائی اس بیٹی کے دم سے باقی نہ رہی اور وجود زینب سے خانہ سیدہ کی خلوت کو منور کیا۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں:
سیرت فرزند ہا از امہات
جوہرصدق وصفا از امہات
مزرع تسلیم ر حاصل بتولؑ
مادران را اسوہ کامل بتولؑ
🌹 جناب زینبؑ کی شادی مبارک
سنِ بالغہ کو پہنچیں تو بہت سے اشراف و روسائے قبائلِ عرب نے آپ کے رشتہ کی خواستگاری کی. حضرت عبدللہ ابن جعفر جو حضرت جعفر طیار کے فرزند تھے (وہ شہید جن کے بارے میں رسول اکرمؐ نے فرمایا: بہشت میں وہ دو بہشتی پروں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں) بھی دل میں آپؑ کے ساتھ شادی کی خواہش رکھتے تھے. انھوں نے قاصد کے ذریعے پیغام بھجوایا جسے حضرت علیؑ ابن ابیطالبؑ نے قبول فرمایا.
🔶 کربلا میں کردار زینبیہ؛
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کربلا میں خاندانِ ابوطالب نے اپنی جانوں کا نذرانہ ایسے پیش کیا کہ جیسے وہ اس دنیا میں آئے ہی اسی مقصد کی خاطر تھے اور سچ میں ایسا ہی تھا. دینِ اسلام پر جس طرح حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا احسانِ عظیم ہے اسی طرح کربلا کا واقعہ شجاعتِ زینبؑ کی وجہ سے آج قائم و دائم ہے. یہ وہ بہن ہیں جنہوں نے ایسے عالم میں بھائی کی مدد کی کہ جب ان کے پاس عباسؑ جیسا بھائی نہ رہا. اور شام کا بازار و یزید کا دربار گواہ ہے کہ اپنے بھائی کے بعد کس طرح ایک عورت ہو کر یزید کی حکومت کو پاش پاش کر آئیں بیبی۔
یہ گلشنِ عصمت کی وہ معصوم کلی ہے
تطہیر میں زہراؑء ہے تو تیور میں علیؑ ہے
🔶 وفات حضرت زینبؑ
تاریخ گواہ ہے کہ آپؑ شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ زندگی بھر آپ کو بہت زیادہ اور کئی نوعیت کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا. یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ نے جو کارِ تبلیغ اپنے ذمہ لیاتھا وہ انجام پاچکا تھا.
بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ کربلا کے بعد آپ کا عرصۂ حیات ایک سال پانچ ماہ، بعض دو سال پانچ ماہ، بعض کم و بیش چار سال بیان کرتے ہیں۔
قول کے مطابق سیدہ زینبؑ نے بروز یکشنبہ بوقت شام 15 رجب 62ھ کو انتقال فرمایا اور ان آنکھوں کو جنہوں نے کربلا کی قتل گاہ دیکھی تھی ہمیشہ کے لیے بند کرلیا. آپ کو اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں آپ وفات پائیں. آپ کا مزار شام میں واقع ہے جو آج محبانِ اہلبیت کے دل کا سکون ہے.
زینبؑ تھی کربلا میں بھرے گھر کی سوگوار
زینبؑ ہے قبر میں بھی بہتر کی سوگوار
الا لعنةالله علی القوم الظالمین.
https://whatsapp.com/channel/0029Vb1PxYPEwEjoQpZsBA1F
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
