es
Feedback

¡No caigas en manos de tramposos! Telemetrio encuentra y marca estos canales 👉 Si quieres ver la etiqueta, suscríbete

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Ir al canal en Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Mostrar más
1 284
Suscriptores
-124 horas
-17 días
-830 días
Archivo de publicaciones
🔷 دھوکے باز بندر 🔷 جنگل میں ایک آم کا درخت تھا درخت پر بہت سے آم لگے تھے۔ اس درخت پر ایک بندر چڑیا اور گلہری رہتے تھے۔ بندر بہت فراڈیا اور دھوکے باز تھا اس نے چڑیا اور گلہری سے کہا: کہ ہم یہ آم ابھی نہیں کھائیں بلکہ مل کر ان کی حفاظت کریں گے۔ جب بارش اور سردی کا موسم آئے گا تو ہمیں کھانا ڈھونڈے نہیں جانا پڑے گا۔ اس وقت ہم جنگل سے کچھ اور کھا کر گزارا کریں۔ چڑیا اور گلہری نے بندر کی بات مان لی اور انھوں نے بھی سوچا کہ بندر ٹھیک کہ رہا ہے۔ بندر نے ان دونوں سے کہا پہلے تم دونوں جنگل سے کھانا ڈھونڈ کر کھاو اتنی دیر میں أموں کی رکھوالی مین کروں گا۔ جب تم دونوں کھانا کھا لو گی تو پھر تم درخت پر آموں کی رکھوالی کرنا اور میں جنگل سے کھانا ڈھونڈ کر کھاوں گا۔ چڑیا اور گلہری جنگل میں کھانا ڈھونڈے گئے تو بندر نے درخت سے چوری آم کھا کر گھٹلیاں درخت کے نیچے زمین کھود کر دبا دیں تاکہ چڑیا اور گلہری کو پتہ نہ چلے۔ بہت دیر جنگل میں کھانا تلاش کرنے کے بعد جو کچھ ملا انھوں نے کھا کر پیٹ بھر لیا تو واپس درخت پر آئے تو بندر جنگل کے دوسرے پرندوں کو آموں سے دور بھگا رہا تھا۔ چڑیا اور گلہری نے دیکھا بندر تو بہت سخت پہرے داری کر رہا ہے تو انھوں نے بندر سے کہا اب تم بھی جنگل سے کچھ کھا لو۔ بندر جنگل میں تھوڑی دیر گھوم پھر کر درخت پر واپس آگیا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے چڑیا اور گلہری جنگل میں کھانا ڈھونڈنے جاتے بندر درخت سے روزانہ چوری آم کھاتا اور گھٹلیاں زمین میں رکھ کر اوپر مٹی ڈال دیتا۔ آہیستہ آہستہ درخت سے آم کم ہونا شروع ہو گئے۔ چڑیا اور گلہری نے بندر سے کہا ہم میں سے کوئی بھی آم نہیں کھایا رہا تو یہ آم کییسے کم ہو رہے ہیں۔؟ بندر نے کہا ہوسکتا ہے جب ہم سو جاتے ہوں تب کوئی چوری سے آم توڑ کر کھاتا ہو۔انھوں نے کہا یہ بھی ہوسکتا ہے انھوں نے سوچا ہم میں سے ایک رات کو جاگ کر آموں کا پہرہ دیا کرے گا۔ جس دن بندر رات کو جاگتا جب سب سو جاتے بندر پھر چوری آم توڑ کر کھا لیتا۔ اب درخت پر بہت تھوڑے آم رہ گئے تھے۔ ایک دن چڑیا اور گلہری نے سوچا کیوں نا ہم چھپ کر دیکھیں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ ہم نے ایک آم بھی نہیں کھایا اور درخت سے آم بھی ختم ہو گئے۔ چڑیا اور گلہری دوسرے درخت پر گھنی جھاڑیوں میں چھپ کر بٹیھ گئے تو انھوں. نے دیکھا بندر آم کھا کر گھٹلیاں زمین میں دبا رہا ہے۔ تو انھوں نے کہا یہ بات ہے بندر ہم سے دھوکا کرتا رہا ہے۔ اب درخت پر صرف ایک آم باقی رہ گیا تو چڑیا اور گلہری نے کہا کہ یہ آخری آم اب ہم دونوں کھائیں گی۔ بندر نے ان کے ساتھ پھر چلاکی کی اور ان سے کہا کہ سب سے زیادہ آموں کی رکھوالی مین کرتا رہا ہوں اس لیے اس آخری آم پر میرا حق ہے۔ اسے میں کھاوں گا اور بندر وہ آخری آم بھی توڑ کر کھا گیا۔ چڑیا اور گلہری نے جنگل میں ایک اور پھل کا درخت ڈھونڈ لیا لیکن بندر کو اس کے بارے میں نہیں بتایا۔ جس درخت پر بندر چڑیا اور گلہری رہتے تھے اس کی بہت گھنی چھاوں تھی ایک دن بہت سے شیر اس درخت کے نیچے آکر رہنے لگے۔ اب بندر کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا اور وہ شیروں کے ڈر سے درخت سے نیچے بھی نہیں آ سکتا تھا کہ کہیں اسے شیر نہ کھا جائیں وہ بھوکا پیاسا درخت پر بیٹھا رہتا۔ چڑیا اور گلہری نے بندر سے کہا یہ تمھیں دھوکا دینے کی سزا ملی ہے اب بھوکے پیاسے رہو۔ اگر چوری آم نہ کھاتے اور ہمیں دھوکا نہ دیتے تو آج تم بھوکے نہ رہتے۔ بندر بہت شرمندہ ہوا اور گلہری اور چڑیا سے معافی مانگنے لگا کہ مجھے کہیں کچھ کھانے کو لا دو نہیں تو میں اسی درخت پر بھوکا پیاسا مر جاوں گا۔ اب میں ہمیشہ کبھی کسی کے ساتھ دھوکا نہیں کروں گا۔ 🌹 پیارے بچو اگر اپ کو کہانی پسند آئی ہو تو شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

کیا صحاحِ ستہ کے پبلیشرز پر بھی کبھی 295C لگے گی ؟ »صحاحِ ستہ اور توہینِ انبیاء علیہم السلام تحریر کا آغاز بنام خدا سے🤲🏻 ✓ رسول ص نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنا۔ صحیح بخاری حدیث نمبر: 224 صحیح بخاری حدیث 225 صحیح بخاری حدیث : 226. صحیح بخاری حدیث 2471 صحیح مسلم حدیث نمبر: 625 سنن ابوداؤد حدیث نمبر: 23 سنن نسائی حدیث ۔ 26حدیث۔ 775. سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 305 ✓رسول ص کا آپریشن جبرائیل ع نے کیا صحیح بخاری حدیث 349۔ صحیح بخاری حدیث 1636 ۔ صحیح بخاری حدیث3887 صحیح بخاری حدیث.7517. صحیح مسلم حدیث 413 ۔ صحیح مسلم حدیث 415 صحیحہ مسلم حدیث 416 ۔ مسند احمد حدیث 20330. ✓رسول ص نے کئی بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی ۔ بخاری حدیث 6982. مسندِ احمد حدیث 24812. ✓ایک دن رسول ص کسی کے گھر بطور مہمان تشریف لے گئے تو آپ کے سر سے جوئیں برآمد ہوئی میزبان خاتون نے آپ کے سر سے جوئیں مارنا شروع کردی حتا کہ آپ ص سو گئے بخاری حدیث 2778 ۔ صحیح بخاری حدیث 2789 ابو داؤد حدیث 2491 ، ابو داؤد حدیث3081 ۔ ابو داؤد حدیث 3080 جامع ترمزی حدیث 1645 مسند احمد حدیث 25849 ✓رسول اللہ ص کے گھر میں شیطان کی آواز کا بلند ہونا۔ حوالہ صحیح مسلم حدیث 2061 ✓حضرت محمد ص کا حضرت عائشہ رض کو کندھوں پر بٹھا کر ناچ گانا دکھانا۔ حوالہ صحیح مسلم حدیث 2066 صحیح مسلم حدیث 2068 ✓ایک روز نہاتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کپڑے پتھر لے کے بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر کے پیچھے بھاگے تو پورے بنی اسرائیل والوں نے آپ کو ننگا دیکھ لیا اور کہا کہ نبی تو عیب دار ہیں ۔ حضرت موسیٰ نے پتھر کو اس قدر مارا کہ آج بھی اس پتھر ہر نشانات باقی ییں۔ حوالہ۔ بخاری حدیث 278.3404 صحیح مسلم حدیث 770. 6146 جامع ترمزی حدیث 3221. مسند احمد حدیث 7826۔ 8729 ۔ 10262. 10493 ۔ ✓حضرت ابراہیم نے تین جھوٹ بولے (جھوٹے تھے) حوالہ جات صحیح بخاری حدیث 3358 ۔ صحیح بخاری حدیث4712. صحیح بخاری حدیث5084 ۔ صحیح مسلم حدیث 6145. سنن ابو داود حدیث۔ 2212. جامع ترمزی حدیث 3148 ۔ جامع ترمذی حدیث3166. مسند احمد حدیث 8873 ۔ مسند احمد حدیث 9250. ✓حضرت موسیٰ نے ملک الموت کے چہرے پر ایسا تھپڑ مارا کہ آنکھ پھوڑ دی۔ صحیح بخاری حدیث 1339 صحیح مسلم حدیث 6147 ۔ صحیح مسلم حدیث 6148. صحیح مسلم حدیث6149۔ ✓حضرت عزیر یا موسیٰ ع کو ایک چیونٹی نے کاٹ کیا تو اللہ کے حکم سے چیونٹیوں کے سارے گھر جلا دیئے پھر اللہ نے کہا کہ تمھیں ایک چیونٹی نے کاٹا اور تم نے ایسی خلقت کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی۔ بخاری حدیث 3019. صحیح مسلم حدیث 5849. صحیح مسلم حدیث5850 ۔ صحیح مسلم حدیث5851 ابو داؤد حدیث 5266. ۔ سنن نسائی حدیث 4363 سنن نسائی حدیث. 4364 ابن ماجہ حدیث 3225. ✓حضرت سلیمان ع نے کہا کہ آج میں اپنی سو بیویوں کے پاس ہمبستری کیلیے جاؤں کا اور ان سب سے بچے پیدا ہوں گے لیکن بچے پیدا نہیں ہوئے کیونکہ آپ ع نے انشاللہ نہیں کہا تھا۔(بیویوں کی تعداد بعض میں 70 بعض میں 99 بھی ہے) حوالہ جات بخاری حدیث 2819. صحیح بخاری حدیث3424 صحیح بخاری حدیث۔ 5242. صحیح بخاری حدیث6639 صحیح بخاری حدیث۔ 6720 ، صحیح بخاری حدیث7469 ۔ صحیح مسلم حدیث 4285 ۔ صحیح مسلم حدیث4286 سنن نسائی حدیث 3862 ۔ سنن نسائی حدیث3887. جامع ترمزی حدیث 1532. مسند احمد حدیث 7390۔ کاوش؛ محتاج دعا نوکر اہل بیت ابو عبداللہ 🔷🔷🔷🔷🔷🔷

🔷 امام علیؑ کی قبر کا راز 🔷 امام علی علیہ السلام کی قبر کا راز کم و پیش سو سال کے عرصے تک مخفی رہا۔ امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت 21 رمضان 40 ہجری کو ہوئی۔ آپؑ کی وصیت کے مطابق، آپؑ کو مخفی انداز میں دفن کیا گیا تاکہ دشمنانِ اہل بیت، خصوصاً بنو امیہ، آپؑ کی قبر کی بے حرمتی نہ کریں۔ یہی وجہ تھی کہ کم و پیش 100 سال تک امام علیؑ کی قبر کا مقام عام لوگوں کے لیے ایک راز رہا۔ 1. امام علیؑ کی شہادت اور تدفین کا خفیہ انتظام: جب عبدالرحمٰن ابن ملجم نے 19 رمضان 40 ہجری کو مسجد کوفہ میں آپؑ پر زہر آلود تلوار سے حملہ کیا، تو 21 رمضان کو آپؑ کی شہادت واقع ہوئی۔ امام حسنؑ اور امام حسینؑ نے آپؑ کی وصیت کے مطابق رات کی تاریکی میں چند قریبی اصحاب کے ساتھ تدفین کی تاکہ دشمنوں کو معلوم نہ ہو. تدفین کا مقام صرف چند اہل بیت کے افراد اور قریبی اصحاب کو معلوم تھا۔ روایات کے مطابق، آپؑ کی قبر کوفہ سے باہر موجود ایک وادی (نجف الاشرف) میں بنائی گئی۔ دشمنوں کی سازشوں کو روکنے کے لیے قبر کے مقام کو رازداری میں رکھا گیا۔ 2. قبر مخفی رکھنے کی وجوہات 1. دشمنانِ اہل بیت علیہم السلام کی عداوت: بنو امیہ خاص طور پر امام علیؑ سے بغض رکھتے تھے۔ معاویہ نے امام علیؑ پر سبّ و شتم کروایا اور چاہتا تھا کہ امامؑ کی کوئی یادگار باقی نہ رہے۔ بنو امیہ کو خدشہ تھا کہ اگر امام علیؑ کی قبر کا مقام عام ہو گیا تو لوگ وہاں اکٹھے ہو کر بنو امیہ کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔ 2.خوارج کی مولا علیؑ سے عداوت و دشمنی: خوارج کے دل میں جنگ نہروان سے جو آ گ لگی تھی وہ ابن ملجم کی تلوار کے وار سے بھی نہ بجھ سکی۔۔ اس لیے امکان تھا کہ وہ آپ کی نعش مبارک کی بے حرمتی کرتے۔ جیسا کہ سید بن طاووس تحریر کرتے ہیں: یہ مخفی کاری آپ کے دشمنوں بنی امیہ اور خوارج کے خوف سے کی گئی تھی۔ کیونکہ ممکن تھا کہ وہ لوگ آپ کی قبر کو نبش کر دیتے اور یہ چیز بنی ہاشم سے ان کی جنگ کا سبب بن جاتی اور اس وجہ سے قتل و غارت کا بازار گرم اور بڑے فتنہ کا سبب ہو جاتا۔ اس بات کے پیش نظر کہ آپ نے اپنی پوری زندگی کو ان فتنوں کی آگ کو خاموش کرنے کی سعی میں صرف کر دیا، لہذا یہ فطری امر ہے کہ آپ وصیت کرتے کہ آپ کے انتقال کے بعد اس چیز سے پرہیز کیا جائے جو جنگ و اختلاف کا سبب بنتا ہو۔ 3.حجاج بن یوسف کا کردار: حجاج بن یوسف (وفات 95 ہجری) امام علیؑ کا شدید دشمن تھا اور اس نے اہلبیت کے ماننے والوں پر ظلم کیے۔ اگر اسے قبر کا پتہ چلتا تو وہ اسے مسمار کر دیتا، جیسا کہ اس نے کربلا میں امام حسینؑ کے روضے کے ساتھ کیا تھا۔ 4. امام علیؑ کی اپنی وصیت: شیخ مفید (متوفی 413 ہجری) "الارشاد" میں لکھتے ہیں: "وصیَّ امام علی علیہ السلام بدفنه في موضع خفي لئلا ينبش قبره أعداؤه" (امام علیؑ نے وصیت کی کہ انہیں مخفی مقام پر دفن کیا جائے تاکہ ان کے دشمن ان کی قبر نہ کھودیں۔) 3. قبر مبارک کا راز کب اور کیسے ظاہر ہوا؟ 1. امام جعفر صادقؑ کا انکشاف (135 ہجری کے بعد) امام جعفر صادقؑ (وفات 148 ہجری) نے پہلی مرتبہ اپنے خاص اصحاب کو بتایا کہ امام علیؑ کی قبر نجف میں موجود ہے۔ اس وقت بنو امیہ کا زوال ہو رہا تھا اور عباسی حکومت قائم ہو چکی تھی، جس نے شیعہ مکتبِ فکر کو کچھ آزادی دی۔ جب بعض اصحاب کو قبر کے آثار دکھائے گئے، تب آہستہ آہستہ یہ راز عام ہونے لگا۔ 2. عباسی دور میں نجف زیارت کا مرکز بن گیا 136 ہجری میں عباسی خلافت قائم ہوئی، جس کے بعد شیعہ افراد کو نسبتاً آزادی ملی۔ امام جعفر صادقؑ کے فرمان کے بعد لوگ نجف میں امام علیؑ کی زیارت کے لیے آنے لگے۔ عباسی خلفاء میں سے بعض (مثلاً ہارون الرشید) نے نجف کی زیارت کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا۔ 4. حوالہ جات 1. "الارشاد" - شیخ مفید (متوفی 413 ہجری) ذکر ہے کہ امام علیؑ نے اپنی قبر کو مخفی رکھنے کی وصیت کی تاکہ دشمنانِ اہل بیت نقصان نہ پہنچا سکیں۔ 2. "فرحة الغری" - ابن طاووس (متوفی 664 ہجری)* اس میں امام جعفر صادقؑ کے فرمان کا ذکر ہے کہ امام علیؑ کی قبر نجف میں ہے۔ 3. "بحار الانوار" - علامہ مجلسی (متوفی 1111 ہجری) یہ تفصیل بیان کی گئی ہے کہ امام علیؑ کی قبر 100 سال تک مخفی رہی، اور امام جعفر صادقؑ نے اس کا انکشاف کیا۔ 4. "مروج الذہب" - مسعودی (متوفی 346 ہجری) مسعودی نے بھی امام علیؑ کی تدفین کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ اسے دشمنوں سے بچانے کے لیے مخفی رکھا گیا۔ آج امام علیؑ کا روضہ نجف میں ایک عظیم زیارت گاہ ہے، جہاں دنیا بھر سے عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ https://t.me/islamwitheman/3501 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

photo content

پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے لیے نیا 10 نکاتی گریڈنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت طلبہ کی کارکر
پاکستان میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے لیے نیا 10 نکاتی گریڈنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت طلبہ کی کارکردگی کو نمبروں کے بجائے گریڈز اور گریڈ پوائنٹس (GPA) کی بنیاد پر جانچا جائے گا۔ پاسنگ مارکس کو 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا گیا ہے، اور 'فیل' کی جگہ 'U' (غیر تسلی بخش) گریڈ استعمال ہوگا۔ اس تبدیلی کا مقصد طلبہ کو نمبروں کی دوڑ سے نکال کر ان کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ #9thClass #1styear #matriculation #9thgrade

photo content

🔷 ٹماٹو کیچپ گھر میں تیار کریں 🔷 ٹماٹر مہنگا ہو جاتا ہے لیکن کمرشل کیچپ کی قیمت نہیں بڑھتی ۔۔ کیونکہ کمرشل کیچپ میں ٹماٹر ہوتا ہی نہیں ۔۔۔۔ یہ لیجئے گھر میں تیار کیچپ ۔۔۔ ریسپی ٹماٹر 1 کلو پیاز 2 عدد چینی 1 کپ سفید سرکہ 1 کپ کارن فلور 2 چمچ نمک + سرخ مرچ 1 چمچ ٹماٹر لے کر ان کو اچھی طرح بوائل کر لیں ۔۔۔ جب اچھی طرح گل جائیں تو انہیں بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کر لیں ۔۔۔ اس کے بعد چھان لیں چھلکے اور بیج وغیرہ الگ کر کے پھینک دیں باقی جوس جو ہے اس کو الگ برتن میں ڈال کر ہلکی انچ پر پکائیں اور اوپر بیان کی گئی تمام چیزیں اس میں ڈال دیں یہاں تک کہ وہ پک کر گاڑھا ہو جائے ۔۔ لیکن یاد رکھیں صرف کارن فلور پانی میں حل کر کے اخر میں ڈالیں۔۔۔ اب اپ کا کیچپ تیار ہے ٹھنڈا ہونے کے بعد بوتل میں ڈال کر فریج میں رکھیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6011 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔷 سائنس کے سبق 🔷 "دماغ کی دہی بنانے والے سائنس کے سبق" بچو! جب میں تمہاری عمر کا تھا، یعنی کوئی دس، بارہ سال کا، تو میری حالت کچھ یوں تھی جیسے کوئی ایسا سپاہی جو پڑھائی کے میدان میں ہمیشہ ہتھیار ڈال دیتا ہو۔ خاص طور پر سائنس کی کتاب کھولتے ہی لگتا تھا جیسے یہ کسی اور سیارے کی زبان میں لکھی گئی ہو۔ کیمسٹری، فزکس، بائیولوجی، میتھمیٹکس—سبھی کسی جادوئی منتر کی طرح لگتے تھے، جو میرے دماغ میں گھستے ہی نہیں تھے! اب جیسے ہی امتحانات قریب آتے، تو ہم جیسے "محنت سے محروم" بچوں کی پریشانیاں بڑھ جاتیں اور ہمارے کلاس کے "چمکتے ستارے" یعنی احمد کمال، جنید سرور، خالد فروخ، کامران خواجہ ہماری بند گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کرتے۔ یعنی پرچے سے پہلے تھوڑی بہت پڑھائی کرانے کی ناکام کوشش اور پرچے کے دوران آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے! لیکن سچ کہوں؟ میں تو اشارے بھی سمجھنے سے قاصر تھا! اب سوچتا ہوں، اگر کسی نے ہمیں آسان الفاظ میں سمجھایا ہوتا، مزے دار کہانیوں کی طرح، تو شاید سائنس اتنی ڈراؤنی نہ لگتی۔ تو چلو بھئی! میں اب تمہارے لیے وہی کرنے والا ہوں، تاکہ سائنس مشکل نہیں، مزے دار لگے! کیمسٹری – "دادی اماں کی کڑاہی میں سائنس" کیمسٹری اصل میں کھانے پکانے کی سائنس ہے۔ جیسے ہماری دادی اماں سالن بناتی ہیں۔ پانی، مرچ مصالحے، گوشت، سبزی—سب کچھ ملا کر چولہے پر چڑھا دیا اور کہہ دیا، "بیٹا! ذرا دھیان رکھنا، جل نہ جائے!"۔ یہی حال کیمسٹری کا ہے، بس فرق یہ ہے کہ یہاں چولہا "Bunsen Burner" بن جاتا ہے، دیگچی "Test Tube" اور مرچ مصالحے "Acid" اور "Base"! جیسے سالن میں نمک توازن میں رکھنا ضروری ہے، ورنہ کھانے کا بیڑا غرق ہو جائے گا، ویسے ہی کیمسٹری میں مقدار زیادہ یا کم ہونے سے تجربہ ناکام ہو سکتا ہے۔ اور ہاں، جیسے سالن میں کچھ چیزیں پکنے کے بعد واپس اصل حالت میں نہیں آتیں (مثلاً انڈا اُبالنے کے بعد واپس کچا نہیں ہوتا)، ویسے ہی کچھ کیمیائی ردعمل ناقابلِ واپسی ہوتے ہیں! فزکس – "یہ کششِ ثقل کیا بلا ہے؟" ایک دن نیوٹن درخت کے نیچے بیٹھے تھے، ایک سیب گرا، اور وہ حیران ہوئے: "یہ نیچے ہی کیوں گرا؟ اوپر کیوں نہیں گیا؟" اور بس، یہی وہ لمحہ تھا جب کششِ ثقل کا راز کھلا! (یہ ضروری نہیں کہ سیب ان کے سر پر گرا ہو، لیکن کہانی مزے دار لگتی ہے!) فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ اگر تم کرسی سے چھلانگ لگاؤ گے، تو سیدھے زمین پر گرو گے، خلا میں نہیں اڑو گے! اور نیوٹن کا تیسرا قانون؟ وہ کہتا ہے کہ "ہر عمل کا ایک مساوی اور مخالف ردِعمل ہوتا ہے"۔ مطلب، اگر تم دیوار کو زور سے دھکا دو گے، تو وہ بھی تمہیں اتنی ہی قوت سے واپس دھکا دے گی—بس، دیوار اپنی جگہ سے ہلتی نہیں! بائیولوجی – "اندر کی کہانی" کبھی سوچا ہے کہ پیٹ میں گڑگڑ کیوں ہوتی ہے؟ زخم خود ہی کیسے بھر جاتا ہے؟ یا نیند کیوں آتی ہے؟ یہ سب بائیولوجی کی کہانی ہے! بائیولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ جسم کیسے کام کرتا ہے، کھایا ہوا کھانا کیسے ہضم ہوتا ہے، اور کیوں بعض اوقات امتحان سے پہلے بخار چڑھ جاتا ہے! (ہاں بھائی، یہ حقیقت ہے! دباؤ (Stress) ہمارے جسم پر اثر ڈالتا ہے، جس سے مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے!) میتھمیٹکس – "جمع تفریق کا کھیل" میتھ دیکھ کر بعض بچوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں، لیکن سوچو، اگر یہ نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ جیب خرچ گنتے وقت دکاندار تم سے زیادہ پیسے بھی لے سکتا تھا اور تمہیں خبر تک نہ ہوتی! امی کو یاد نہ رہتا کہ تمہیں ہفتے کی شروعات میں ہی "پچاس روپے" مل چکے ہیں! اور اگر میتھ نہ ہوتی تو انجینئر عمارتیں بنانے کے بجائے ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیاں کھڑی کر دیتے! میتھ اصل میں کھیل ہے، بس اسے سمجھنے کا صحیح طریقہ چاہیے۔ جیسے کرکٹ میں ہر اوور کے بعد رنز گننے پڑتے ہیں، ویسے ہی میتھ بھی روزمرہ زندگی میں ہماری مدد کرتی ہے۔ آخر میں ایک کام کی بات دیکھو بچو، سائنس کوئی جن بھوت نہیں، بس سمجھنے کا طریقہ آنا چاہیے۔ اگر نیوٹن، آئنسٹائن اور دادی اماں سائنس سمجھ سکتے ہیں، تو تم بھی سمجھ سکتے ہو! اور ہاں، جب کوئی چیز مشکل لگے، تو نیوٹن کی طرح سر کھجانے کے بجائے، بس آسان الفاظ میں سوچو۔ پھر سائنس بھی تمہیں اپنی دوست لگے گی، دشمن نہیں! جاوید اختر آرائیں 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ہمارے اعمال کا ریکارڈ 🔷 میرا ایک دوست بتاتا ہے جب میں امریکہ (نیو یارک) میں رہ رہا تھا، مجھے ڈاک میں ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ میں نے ایک ٹریفک خلاف ورزی کی ہے... کہ میں نے فلاں فلاں سڑک پر، فلاں دن، فلاں وقت، سگنل توڑ کر ریڈ لائٹ عبور کی۔ اور اس خط میں مجھ سے کئی سوال پوچھے گئے: کیا آپ اس خلاف ورزی کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ جرمانہ تقریباً 150 ڈالر تھا۔ اور چونکہ مجھے یاد نہیں تھا کہ آیا میں نے واقعی ریڈ لائٹ توڑی تھی یا نہیں، اور نہ ہی میں اس ریاست کی سڑکوں کے درست نام جانتا تھا، میں نے انہیں جواب دیا: "ہاں، مجھے اعتراض ہے... میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں اس سڑک پر گیا تھا... اور نہ ہی مجھے یقین ہے کہ میں نے ریڈ لائٹ توڑی۔" ایک ہفتہ بعد، مجھے ایک خط ملا جس میں میری گاڑی کی تین تصاویر تھیں: پہلی تصویر، جب میں نے ریڈ لائٹ پر سگنل عبور کرنے سے پہلے گاڑی چلائی۔ دوسری تصویر، جب میں ریڈ لائٹ کے درمیان میں تھا۔ تیسری تصویر، جب میں ریڈ لائٹ عبور کر چکا تھا اور سگنل سے ایک میٹر آگے تھا! تو بنیادی طور پر مجھے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ تصویریں میرے خلاف حتمی ثبوت تھیں! میں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے 150 ڈالر کا جرمانہ ادا کر دیا اور خاموش ہو گیا۔ پھر ایک دن جب میں "سورۃ الجاثیہ" پڑھ رہا تھا، تو یہ واقعہ اور میری خلاف ورزی مجھے پھر یاد آ گئی، جب میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پہنچا: "هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ" "یہ ہمارا نوشتہ ہے جو تمہارے خلاف سچ سچ گواہی دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے رہے ہم لکھواتے جا رہے تھے۔" (سورۃ الجاثیہ: 29) یعنی اللہ رب العزت کے پاس انسان کے تمام اعمال کا مکمل ریکارڈ موجود ہے! یہ آیت کا وہ ٹکڑا تھا: "إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ" "ہم تمہارے اعمال کو نقل کرتے جا رہے تھے۔" میں دنگ رہ گیا، کانپ گیا، اور اللہ کے خوف سے لرزنے لگا! یا اللہ! یہ ایک کیمرہ تھا، جو انسانوں نے بنایا، اور کوئی اس سے نہیں بچ سکا، تو پھر ہمارے اعمال کا ریکارڈ جو لوگوں کے رب نے محفوظ کر رکھا ہے، وہاں کہاں بچنے کی جگہ ہوگی؟ یہ ہے ہمارے اعمال کا مکمل ریکارڈ: ایسی کتاب میں جو غلطی نہیں کرتی، نہ بھولتی ہے۔ محفوظ مقام پر رکھی ہوئی، جسے طوفان، ہوائیں یا بارش نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ نہ یہ چوری ہوتی ہے، نہ اس میں رد و بدل ہو سکتا ہے۔ یا اللہ! ہمارے تمام گناہ محفوظ کیے جا رہے ہیں: ان کی تاریخوں کے ساتھ... ان کے حقائق... ان میں شامل افراد... ان کی جگہ... ان کا وقت... ان کے رنگ... ان کے مقاصد... ان کے حالات... ان کی وجوہات... ان کے پس منظر... سب کچھ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، آواز اور ویڈیو سمیت! بلکہ نیتوں کے ساتھ بھی! اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو ان خیانتوں کو بھی جانتا ہے جو آنکھیں کرتی ہیں، اور ان باتوں کو بھی جو سینوں میں چھپائی جاتی ہیں۔ یعنی وہ سب کچھ جانتا ہے جو انسان کے بنائے ہوئے کیمرے ریکارڈ نہیں کر سکتے! یہ سب کچھ قیامت کے دن انسان کے سامنے رکھا جائے گا، یا اللہ! "وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَا لِهَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا" "اور (اعمال کی) کتاب رکھی جائے گی، تو تم دیکھو گے کہ مجرم اس میں (درج اعمال) سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہماری بربادی! یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹی یا بڑی (برائی) نہیں چھوڑی مگر اسے شمار کر لیا ہے، اور وہ اپنے سب اعمال کو اپنے سامنے حاضر پائیں گے، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔" (سورۃ الکہف: 49) اللہ ہمیں معاف فرمائے۔ منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ایک خاموش دھوکہ 🔷 "ایک خاموش دھوکہ — جو ہم روز کھاتے ہیں!" 1930ء کی دہائی کا ایک سرد دن تھا۔ نیویارک کی گلیوں میں لوگ اپنے گرم کوٹوں میں لپٹے دکانوں کی رونق بڑھا رہے تھے۔ ایک چھوٹی سی پرانی سی کپڑوں کی دکان، "Sid & Harry's Tailors" کے باہر بھی کچھ گاہک کھڑے تھے۔ یہ دکان بظاہر عام سی لگتی تھی، مگر اس کے اندر ہر روز ایک غیر معمولی کھیل کھیلا جاتا تھا... ایک ایسا کھیل جو آج بھی، ہاں آج بھی، ہر دکان، ہر برانڈ اور ہر آن لائن سیل میں ہم سب کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ سِڈ، ایک خوش مزاج، باتونی سیلز مین تھا۔ وہ گاہکوں کو باتوں میں ایسا الجھاتا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھنے لگتے۔ اور ہیری، خاموش طبع مگر ماہر درزی، ہمیشہ سلائی کی میز پر جھکا ہوتا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر ایک "طریقہ" بنا رکھا تھا… ایک ایسا طریقہ جس نے ان کی سیل کو آسمان تک پہنچا دیا۔ "غلط سننے کی اداکاری" — مگر اثر بہت گہرا تھا ایک دن، ایک نوجوان دکان میں داخل ہوا۔ اُس نے ایک خوبصورت سوٹ پہنا، آئینے کے سامنے خود کو گھمایا اور کچھ لمحوں تک وہیں ٹھٹک گیا۔ شاید اُسے سوٹ پسند آ گیا تھا۔ سِڈ نے موقع بھانپا۔ وہ بولا: "ہیری! یہ والا سوٹ کتنے کا ہے؟" ہیری نے معمول کے مطابق اونچی آواز میں جواب دیا: "بیالیس ڈالر!" سِڈ نے ماتھے پر بل ڈال کر دوبارہ پوچھا: "کیا کہا؟" ہیری نے اس بار اور زور سے کہا: "بیالیس ڈالر!" سِڈ نے مسکرا کر گاہک کی طرف دیکھا: "اوہ، وہ کہہ رہا ہے بائیس ڈالر!" نوجوان کا چہرہ کھل اٹھا۔ اُس نے فوراً پیسے نکالے، سوٹ پیک کروایا اور تیزی سے دکان سے نکل گیا۔ وہ اندر ہی اندر خوش تھا کہ شاید دکاندار سے کوئی غلطی ہو گئی ہے اور اُس نے بڑا "فائدہ" حاصل کر لیا ہے۔ مگر سچ یہ تھا کہ... دھوکہ دینے والا وہی تھا — اور دھوکہ کھانے والا بھی۔ "کیا ہم بھی ایسے دھوکے کھاتے ہیں؟" جی ہاں، ہم روزانہ ایسی چالوں کا شکار ہوتے ہیں۔ شاید اتنی وضاحت سے نہیں، لیکن "Contrast Effect" کا استعمال ہر جگہ ہوتا ہے۔ 📌 جب کوئی چیز پہلے "بہت مہنگی" دکھائی جائے اور پھر فوراً "کم قیمت" بتائی جائے، تو ہم خوشی سے خرید لیتے ہیں — یہ سمجھے بغیر کہ شاید وہ قیمت بھی اصل سے زیادہ ہے۔ "میری اپنی زندگی کا واقعہ" کچھ ماہ پہلے، میں نے ایک مہنگی جیکٹ خریدی۔ قیمت 9000 روپے تھی۔ سیلز مین نے بتایا کہ "اصل قیمت 14000 ہے، مگر سیل چل رہی ہے۔" میں فوراً مائل ہو گیا — یہ سوچے بغیر کہ کیا یہ جیکٹ واقعی 9000 کی بھی ہے یا نہیں؟ بعد میں پتا چلا… وہی جیکٹ ایک اور دکان پر بغیر کسی سیل کے ہی ہمیشہ 8500 میں ملتی تھی۔ تب احساس ہوا… ہم اکثر "بچت" نہیں کرتے، ہم صرف "احساسِ بچت" خریدتے ہیں۔ "یہی ذہنی دھوکہ ہماری جیب خالی کرتا ہے"۔ 60 لاکھ کی گاڑی لیتے ہوئے 75 ہزار کی سیٹیں معمولی لگتی ہیں، 1200 والا جوتا، جب 800 میں ملے، تو ہم فوراً لے لیتے ہیں مہنگائی جب دھیرے دھیرے بڑھتی ہے، تو ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا حکومت اگر 30% ٹیکس ایک دن میں لگا دے، تو ہم احتجاج کریں گے مگر جب ہر چیز روز تھوڑی تھوڑی مہنگی ہو، ہم چپ رہتے ہیں! "کیا واقعی ہم سمجھدار خریدار ہیں؟" یہ کہانی ہمیں ایک آئینہ دکھاتی ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی سِڈ کے اس "غلط سننے" والے دھوکے کا شکار ہوا ہے۔ اب وقت ہے کہ: ✅ چیزوں کو قیمت سے نہیں، ضرورت سے تولیں۔ ✅ ڈسکاؤنٹ یا آفر کے پیچھے سوچ کو سمجھیں۔ ✅ ہر خریداری سے پہلے خود سے ایک سوال کریں: "کیا میں یہ چیز خریدتا اگر اسے مہنگی چیز کے ساتھ نہ رکھا جاتا؟" "یہ کہانی فقط پرانی دکان کی نہیں... یہ آج کی مارکیٹنگ کی روح ہے" اگر ہم نے آنکھ نہ کھولی، تو ہر سیل، ہر آفر، ہر اشتہار ہمیں خوش فہمی میں ہی مبتلا رکھے گا... اور ہم خوشی خوشی اپنی جیب خالی کرواتے رہیں گے۔ سوچیئے...! کہیں آپ بھی وہ نوجوان تو نہیں، جو "بائیس ڈالر" کی خوشی میں "بیالیس ڈالر" کا نقصان کر رہا ہے؟ اگر یہ کہانی آپ کے دل پر اثر انداز ہوئی ہے، تو اسے شیئر کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے شیئر سے کسی کا آج کا فیصلہ بہتر ہو سکتا ہو۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 نادان لڑکی 🔷 وہ ہانپتی کانپتی سیڑھیاں چڑھتی چھت پر پہنچی جانے کیوں نیچے جانے کے بجائے وہ اوپر آ گئی۔ ٹرن ٹرن ۔۔ فون فور بجنے لگا ایک دم سے اس نے سائلنٹ کا بٹن دبایا اور سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگی۔۔ جاوید وہ فون اٹھاتے ہوئے بوکھلائے انداز میں بولی؛ میں نے سب سامان تیار کر لیا ہے تم کہاں ہو؟ بولتے بولتے اس نے سیڑھیوں کی جانب دیکھا۔ میں بس پہنچنے والا ہوں تم اطمینان رکھو اور ہاں جلدی سے نیچے آنا ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، جاوید نے جلدی سے جواب دیتے فون بند کر دیا۔ شبنم کے لئے یہ انتظار اتنا طویل ہوگیا جیسے برسوں وہ اس انتظار میں گزری ہو ۔۔ گھبراتے ہوئے وہ چھت کی دیوار کے پاس آئی، اور یونہی نیچے جھانکنے لگی تھی مگر یہ کیا اسکا دل لمحے کے ہزارویں حصے میں جیسے رک سا گیا ہو۔۔ جاوید گلی کے نکڑ پر بائیک پر اپنے دو دوستوں کے ساتھ تھا اور اسکے دونوں دوست بائیک سے اتر کر ایک سائیڈ پر ہوگئے اور جاوید کا رخ شبنم کے گھر کی جانب تھا۔ شبنم نے دوبارہ اپنا فون نکالا اور جاوید کا نمبر ملایا چھونٹتے ہی جاوید نے بولا: جلدی نیچے آؤ میں آگیا ہوں اور ہاں دیکھو اپنا زیور اور نقدی ساتھ لیا ہے نا؟ تم اکیلے آئے ہو نا؟ شبنم نے اسکے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا؟ ہاں میں نے اکیلے آنا تھا تو ظاہر ہے اکیلا ہی آیا ہوں نا۔۔ جاوید جھنجھلاتے ہوئے بولا تم فوراً آؤ وقت کم ہے وہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولا۔ مگر شبنم پر تو جیسے سکوت طاری ہو گیا۔ تم سچ کہہ رہے ہو تم اکیلے آئے ہو؟ شبنم کی سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی جاوید پر جیسے شک گزرا وہ فوراً نرم انداز اپنے ہوئے بولا: کیا کوئی اپنی زندگی سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے میں تمھیں کس طرح یقین دلاؤں کے میں تنہا ہوں تم آؤ اور خود دیکھ لو میں تنہا آیا ہوں اب کی بار وہ کچھ زیادہ ہی تفصیل سے جواب دے گیا۔ دونوں طرف سکوت چھا گیا۔ شبنم کی آواز نے سکوت توڑا تو جیسے جاوید پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔۔۔ وہ کانپتی آواز میں بولی: چلے جاؤ اور اب دوبار کبھی میرے گھر کا رخ نہ کرنا اگر تم یہاں آئے تو جان لو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔ کونسی دوست تھی میری ایسی جس نے مجھے تم سے ملنے سے نہ روکا ہو مگر میں نے کسی کی نہ سنی یہانتک کہ اپنے ماں باپ کو دھوکہ دینے چلی تھی، انکی آنکھوں میں دھول جھونک کر میں نے تمھیں اہم جانا اور تم نے آج بتا دیا، مجھ سے بڑھ کوئی پاگل ہو ہی نہیں سکتی۔ بے دردی سے وہ گال رگڑتی کال بند کرنے لگی کے وہ گویا ہوا ۔۔۔ تم اگر میری اصلیت جان ہی چکی ہو تو سیدھی طرح زیور اور نقدی مجھے دے دو ورنہ میں تمھاری تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دونگا پھر تم کسی کو تو کیا اپنے گھر والوں کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گی غصے سے بولتا وہ چپ ہوا۔ ہر بےایمان انسان کیطرح وہ اپنی اصلیت پر اتر آیا مگر شبنم پر اس کا اثر نہ پڑا ۔۔ وہ پھٹ پڑی۔ جاؤ جو جی میں آئے کر لو میں کسی صورت تمھیں پھوٹی کوڑی نہی دینے والی ۔۔ اور ایک بات یاد رکھنا جب کوئی توبہ کرے تو وہ اس نے آسمان کی طرف شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے کہا وہ کسی کی توبہ رد نہیں کرتا اور جب آزماتا ہے تو اپنے بندے کو رسوا نہیں کرتا یہ کہتے ہی اس نے فون بند کرتے ہی دیوار پر دے مارا ۔۔ اور ایسے رونے لگی جیسے اسکا کوئی اپنا مر گیا ہو ۔۔۔ مر ہی تو گیا تھا ناں اسکا ضمیر ۔۔۔۔ آہ کیا ہوتا اگر میں چھت پر نہ آتی اور اسکے دوستوں کو نہ دیکھ لیتی یقینا میرا بھی ذکر ان لڑکیوں میں ہوتا جو اپنے والدین کی نافرمان ہوتی ہیں۔ در در ٹھوکریں کھانے والی جنہیں پھر کبھی عزت نہی ملتی جو ماں باپ کی عزت کو ان کی دہلیز پر روند کر اپنی خواہشات کے پیچھے گھر سے نکلتی ہیں ۔۔۔!!! پچھتاوے کے آنسو بہاتی وہ اب سیڑھیاں اترتے نیچے آ رہی تھی جیسے صدیوں کا بوجھ اسکے کندھوں پر آ پڑا ہو۔۔۔!!!! اے کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔ میری خواہش صرف اتنی ہے کہ کچھ ایسے مضامیں لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے، اگر نہ بھی رکے تو سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 نادان لڑکیوں کا لالچ 🔷 ننانوے فیصد لڑکیوں کو لالچ موت کی گھاٹ اتار دیتی ہے۔۔۔ اکثر لڑکیاں اس چیز سے بے خبر ھے کہ یہ جانو مانو کا چکر سارے کا سارا ڈرامہ ھے۔ اصل چکر جسم کی ھوس ھے۔ جانو عید تو قریب ھے اب تو میرے ھاتھوں سے شاپنگ کر لو۔ کہیں بیٹھ کر کچھ کھا پی لیتے ہیں۔ آپ سے ملنے کا آج بہت دل کر رہا ہے۔ تیرے سر کی قسم تیری خوبصورت زلفوں کی قسم اج ضرور آ جاؤ۔ ہر وقت انکا ر کرتی ہو آج ہاں کرنا۔ Ok شاپنگ کے بعد جانو کسی بند کمرے میں چلتے ہیں یہاں کوئی دیکھ لے گا۔ Ok ہوٹل کے کمرے میں محبت کا حق ادا کرنے اور شاپنگ کی کسر نکالنے کے بعد لڑکا اور لڑکی برہنہ حالت میں لیٹے محبت کی باتیں کر رہے تھے.... لڑکا جانو یہ لمحے بہت قیمتی ہیں آپ سے ملنا ویسے ہی بہت مشکل ھے؟ چلواج ایک دو تصویریں اور ایک وڈیو بنا کر ان کو یادگار کے لئے قید کر لیتے ہیں.... لڑکی: نہیں جان ایسا مت کرو تم وڈیو لیک کر دو گے یا کوئی دیکھ لے گا۔ لڑکا: تمہیں مجھ پرابھی بھروسہ نہیں۔ مجھ پر شک کرتی ہو؟ جان تمہیں میری قسم ایک وڈیو بنانے دو تمہارے سر کی قسم ڈلیٹ کر دوں گا... لڑکی: جان تم سر کی قسم مت دیا کرو تم میری زندگی ہو, چلو بنا لو. ‏عزت ہوٹل کے کمرے میں نیلام کر کے وہ محبوب کی یادوں میں اُڑتی ہوئی گھر آکر سوگئی... یاد رہے وہ گھر سے سہیلی سے ملنے کا بہانہ لگا کر گئی تھی... صبح جب وہ اُٹھی تو اُسکی وہ برہنہ وڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو چکی تھی..ماں باپ .بھائیوں نے اُسی وقت مار کر دفن کر دیا..یا لاش کو کسی روڈ کے کنارے پھینک کر آ گئے .. لوگوں کو بتایا کل سے گھر سے نکلی ہوئی ھے۔ یا اُسے دل کا اٹیک ہو گیا درد سا ہوا اور وہ مر گئی... ایسی لڑکیوں کو بغیر جنازے کے راتوں رات لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے.. یا کسی کچرہ کنڈی میں پھنیک دیتے ہیں۔ یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک سچ ہے جو نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ہوچکا ہے.....!!! یا ویڈو بنا کر بلیک ملینگ یا دھمکی یا دوبارہ ملنے کی خواہش یا بہت سارے لڑکے ملکر درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد گلہ دبا کر کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں ؟؟؟ اے بنتِ حوا گاڑیوں میں گھومنا مہنگے تحفے لینا آئی فون لینا... ہوٹلوں میں محبوب کے ساتھ کھانے کھانا، تمہیں یہ دنیا بہت اچھی لگتی ہوگی.... پر یاد رہےاپ کم عقل اور نادان ایک ناسمجھ اور معصوم ہو یہ ایک بھیانک دنیا ہے. سب کے سب جسم کی پچاری ھیں، اس کا انجام ذلت اور اس کے بعد قتل اور بغیر جنازے کے تدفین ہے...!!!! ‏بنتِ حوا آپ کے بابا نے زمانے کی خاک چھان کر آپ کو جوان کیا ہے... آپ کو خون پسینہ لگا کر تعلیم دلوائی۔ کسی قابل بنایا۔ اُس باپ کی عزت کا کچرہ محبت کی آڑ میں مت کرو... اس دنیا میں سب مل کر چلے جاتے ہیں لیکن عزت کا جو داغ و دھبہ ھے وہ دوبارہ نہیں دھو سکتے۔ عزت واپس کبھی نہیں ملتی..... سنبھل جاؤ اس سے پہلے کہ لاوارث موت تمہارا مقدر بنے. ایک بات تو سچ ہے۔ سچ پتہ کیا ہے جب کوئی مخلص لڑکا ہو نا وہ لڑکی آپنی اوقات بھول کر اسے روند کر آگے نکل جاتی ہے پھر کوئی امیر لڑکا آپنے جال میں پھنسا کر لڑکی کو روند دیتا ہے۔ دونوں طرف سے نتیجہ یہی نکلتا ھے جو اوپر بیان ہوا۔ ہمیشہ لڑکیوں کو لالچ مروا دیتی ہے پیسے کے پیچھے بھاگنے والی لڑکیوں کی موت کا سبب صرف یہی ھے ؟؟ بات کڑوی ھے مگر سچ ھے۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 بیوی کے کئے کاموں کی قدر کریں 🔷 خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں، گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے،گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی، مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی... کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔ ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی... کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا،فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں. ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا... اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟ خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟ بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟ خاوند نے کہا؛ "ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں" بیوی نے کہا:"تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔" 🔘 ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نہ کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجئے... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 سوچ سمجھ کر شیئر کریں 🔷 اس تحریر کو جتنا ممکن ہو شیئر کریں پھر چاہیں آپ اپنے نام کے ساتھ ہی کریں بس اسے آگے بڑھا دیں.. اگر سوشل میڈیا پر کوئی تصویر ملے جس کے ساتھ لکھا ہو کہ یہ بندہ گستاخ ہے یا پھر کوئی قاتل درندہ، یا پھر مفرور ملزم ہے، تو جب تک کسی آفیشل متعلقہ ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہ ہو، ہر گز ہرگز اس تصویر کو شیئر نہ کریں، اگر میری فرینڈ لسٹ میں کوئی ایک بھی بندہ ایسا پایا گیا تو فل الفور نہ صرف انفرینڈ ہوگا بلکہ میں پوسٹ کا سکرین شاٹ لیکر اسکی شان میں حسب توفیق قصیدہ بھی لکھونگا ،آپ سے بھی درخواست ہے اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود جاہلوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھیں تاکہ اس بڑھتی ہوئی خرابی کو روکا جا سکے۔ نمبر دو وڈیو ایڈیٹنگ کوئی راکٹ سائنس نہیں، خود میرے کم از کم ایک ہزار ایسے سٹوڈنٹس فیس بک پر پائے جاتے ہیں جنہوں نے میرے پاس وڈیو ایڈیٹنگ سیکھی اور وہ کسی بھی طرح کی ایڈیٹنگ کرسکتے ہیں، سو کسی بھی طرح کے وڈیو کلپ پر ایمان لاکر کسی کی بدنامی کا سبب ہرگز نہ نہ بنیں، یاد رکھیں، عدالت میں بھی کوئی وڈیو کلپ یونہی ثبوت نہیں مان لیا جاتا جب تک اسے خاص طرح چیک نہ کروا لیا جائے، یہی حال آڈیو کا بھی ہے، کسی کی آواز و انداز کی نقل ہر گز کوئی مشکل کام نہیں، ایسے ایسے پروفیشنل لوگ موجود ہیں کہ آپ کی عقل دنگ رہ جائے (یوٹیوب پر درجنوں کلپس دیکھے جا سکتے ہیں) نمبر تین ہمارے معاشرے میں سب سے آسان کام ہے، کسی بے گناہ پر کوئی الزام لگا کر اسے لوگوں سے پٹوانا۔ خاص کر اگر الزام کسی عورت کے ذریعے لگایا جائے، بہت سے شر پسند لوگ خاص موقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی ذاتی دشمنیاں نکالتے ہیں، آج کل بچیوں کے حوالے سے ماحول بہت زیادہ حساس ہو گیا ہے، تو اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں انکشاف کرے یا کچھ لوگ کسی بھی شخص کو پکڑ کر مار پٹائی کرتے دکھائی دیں تو ثواب سمجھ کر آپ ان کے ساتھ شامل نہ ہوں بلکہ فورا' انہیں الگ کروائیں اور قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں سے رجوع کریں۔ پچھلے دنوں جب کراچی میں ڈاکوؤں کو پکڑ کر جلانے کی روایت کا آغاز ہوا تو ایک دو جگہ ایسے افراد بھی ہجوم کے ہاتھوں اسکا شکار ہوگئے جو تفشیش و تحقیق کے بعد یقینی طور پر بالکل بے گناہ ثابت ہوئے، کسی نے بنے بنائے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بس پہلا تھپڑ مارا اور باقی کا کام عقل کے اندھے ہجوم نے خود انجام دے دیا۔ خدا سے بے گناہ لوگوں کے حق میں ڈرتے رہیں، جذبات میں شر پسندوں کے آلہ کار مت بنیں۔ سوچ سمجھ کر شیئر کریں۔ آپ جو کچھ شیئر کرتے ہیں یہ صرف فیس بک اور ٹویٹر پر شیئر نہیں ہوتا آپ کے اس نامہ اعمال میں بھی ہوتا ہے جو قیامت والے دن سب کے سامنے آپ کو پیش کیا جائیگا... Copy... 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌴ماہ رمضان کے متعلق پوسٹس🌴 https://t.me/islamwitheman/3320 🌛استقبال ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3330 🌛وجہ تسمیہ ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3331 🌺ماہ رمضان یا رمضان t.me/islamwitheman/3341 🌺فضیلت ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3343 🌷استقبال ماہ رمضان کی دعا t.me/islamwitheman/3344 💐ماہ رمضان میں نماز کیبعد کی دعا t.me/islamwitheman/3346 🌛ماہ رمضان کے اسماء و صفات t.me/islamwitheman/3347 🌴فضیلت ماہ رمضان و روزہ t.me/islamwitheman/3348 👹شیطان کی قید t.me/islamwitheman/3350 🌛اعمال ماہ رمضان شب و روز اول t.me/islamwitheman/3351 🍀یوم الشک کا روزہ t.me/islamwitheman/3352 🌹امام حسینؑ کابچپن میں پہلاروزہ t.me/islamwitheman/3353 🍃 اعمال ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3374 🌷روزے کا فلسفہ t.me/islamwitheman/3375 🌷فلسفة الصوم t.me/islamwitheman/3376 🔷روزے کے مراتب t.me/islamwitheman/3377 🍁روزے کے آثار و جزاء t.me/islamwitheman/3378 🍁گالی دینے کا روزے پر اثر t.me/islamwitheman/3379 🍃احاديث بسلسلہ ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3380 🌷کثیرالسفر کیلئے احکام روزہ t.me/islamwitheman/3381 🌸جن پر روزہ رکھنا واجب نہیں t.me/islamwitheman/3382 🕌ماہ رمضان کی نافلہ نمازیں t.me/islamwitheman/3383 🌼مبطلات و مکروہات روزہ t.me/islamwitheman/3385 🔶تقديم الصلاة علی الافطار t.me/islamwitheman/3386 🔷افطار میں تأخير t.me/islamwitheman/3387 🌴وقت افطار اور وقت غروب t.me/islamwitheman/3388 ♻افطاری کیلئے بہترین چیز t.me/islamwitheman/3389 🌴افطاری کرانے کا ثواب t.me/islamwitheman/3390 🔷افطاری t.me/islamwitheman/3391 🌹گولڈن روزہ t.me/islamwitheman/3392 🌷روزہ دار اور دانتوں کا علاج t.me/islamwitheman/3393 🔶بحالت روزہ انجکشن و ڈرپ لگوانا t.me/islamwitheman/3394 ❄روزہ کی حالت میں بلغم نگلنا t.me/islamwitheman/3395 🌹 خوشبودار چیز سے استفادہ کرنا t.me/islamwitheman/3396 🔷روزے کی قضا، کفارہ t.me/islamwitheman/3397 🌴کھجور احادیث میں t.me/islamwitheman/3398 🌴نبیذ شربت t.me/islamwitheman/3399 🌻ایک مریض کا روزہ t.me/islamwitheman/3401 🌹وفات جناب فاطمہ بنت اسد t.me/islamwitheman/3405 🌹ام المؤمنين جناب خدیجہؑ t.me/islamwitheman/3416 🌹حضرت خدیجہؑ کبرٰی کی وصیتیں t.me/islamwitheman/3417 🌹حضورؑ کے نزدیک مقام خدیجہؑ t.me/islamwitheman/3418 🌹جناب خدیجہؑ کی عظمت و اہمیت t.me/islamwitheman/3419 🌹زیارت خدیجةالکبرٰیؑ t.me/islamwitheman/3420 📄دعائے مجیر t.me/islamwitheman/3423 t.me/islamwitheman/3426 🔷شہادت جناب قنبرؑ t.me/islamwitheman/3432 🔷شہادت امیر مختار ثقفی t.me/islamwitheman/3434 🌸مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی t.me/islamwitheman/3435 🔷مختار ثقفی علماء کی نظر میں t.me/islamwitheman/3436 🌹حضرت امام حسن علیہ السّلام t.me/islamwitheman/3452 t.me/islamwitheman/3452 🌷محمد بن ابی بکر t.me/islamwitheman/3455 ❤️فتح جنگ بدر مبارک t.me/islamwitheman/3459 t.me/islamwitheman/3460 🌺شب قدر کی فضیلت t.me/islamwitheman/3464 🌺شب قدر کی شان t.me/islamwitheman/3465 🌺شب قدر اور حضرت موسٰیؑ t.me/islamwitheman/3466 🌺کونسی رات شب قدر؟ t.me/islamwitheman/3467 🌺شبھائ قدر کے مشترکہ اعمال t.me/islamwitheman/3468 🌺اعمال 19 ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3469 🔷️دعائے جوشن کبیر t.me/islamwitheman/3471 🌺شب قدر میں عمل قرآن t.me/islamwitheman/3472 🌹ضربت حضرت علی علیہ السلام t.me/islamwitheman/3474 t.me/islamwitheman/3475 🌹حضرت علیؑ کی وصیت t.me/islamwitheman/3482 🌹حدیث سفینہ t.me/islamwitheman/3488 🌹حدیث باب مدینةالعلم t.me/islamwitheman/3489 🔷️یوم فتح مکّہ t.me/islamwitheman/3494 🌷اعتکاف کی فضیلت t.me/islamwitheman/3496 🔷 اِعْتِکاف کی فضیلت و احکام t.me/islamwitheman/4295 🌹شھادت حضرت علیؑ t.me/islamwitheman/3500 🔷️ابن ملجم کا انجام t.me/islamwitheman/3502 🌺شب قدر و نزول قرآن t.me/islamwitheman/3507 🔷️الوداع ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3528 🔷نماز قضائے عمری کی حقیقت t.me/islamwitheman/3529 🔷️یوم القدس کی مختصر تاریخ t.me/islamwitheman/3530 🔷️اسرائیل ایک ناجائز ریاست t.me/islamwitheman/3532 🌷فطرہ و احکام t.me/islamwitheman/3537 t.me/islamwitheman/2324 🌹عید یا سوگ؟ t.me/islamwitheman/3539 🌹استحباب نماز عیدین t.me/islamwitheman/3540 🌹نماز عید کے حوالے سے چند شبہات t.me/islamwitheman/3541 🌹دعائے رویت ہلال t.me/islamwitheman/3566 🔷️اعمال شب عیدالفطر t.me/islamwitheman/3567 🕌عید کی نماز t.me/islamwitheman/3569 🌹عید کا پیغام t.me/islamwitheman/3570 🌷عید مبارک t.me/islamwitheman/3571 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ضدی بلغم کو نکالنے کیلئے 🔷 کیا آپ کی چھاتی میں کف بلغم جمع ہے۔ سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے ۔ سانس پھول رہی ہے ۔ جب آپ بات کرتے ہیں تو آواز آپ کی چھاتی سے گر گر کی آواز نکلتی ہے ۔ بولتے ہوئے درمیان میں بلغم اڑک جاتا ہے۔ کھانسی آتی ہے اور جتنا بھی کھانس لیں بلغم باہر نہیں نکلتا۔ آپ کافی میڈیسن لے چکے ہیں لیکن ان کا رزلٹ نہیں ملا ہے ۔ آپ کو ایک نسخہ بتاتا ہوں جو بلغم کو پگھلا کر باہر خارج کرے گا۔ اور جوسانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے ضدی بلغم کو پگھلا کر خارج کرے گا۔ ترکیب نسخہ ھوالشافی ایک گلاس دودھ لیں اور دھیمی آنچ پر پکائیں پھر اس میں ادرک آدھے انچ کا ٹکڑا کوٹ کر پیسٹ ڈالیں۔ کالی مرچ دو عدد پسی ہوئی دودھ میں شامل کر دیں اور ساتھ میں ہلدی پاؤڈر آدھی چمچ چائے والی ڈالیں اور چمچ کے ساتھ دودھ میں مکس کریں۔۔ ان اشیاء کو دودھ میں اچھی طرح دو منٹ پکا لیں ابالیں۔ پھر پتیلی اتار کر کسی گلاس میں چھان لیں اور اگر چاہیں تو اس میں زائقہ کیلئے مصری شامل کریں یا شہد یا ویسے ہی چسکیاں لے لے کر پئیں۔ اس کا بہتر وقت استعمال رات کو سونے سے چند منٹ پہلے پئیں اور سو جائیں ۔۔ یہ نسخہ ان شاءاللہ پھیپھڑوں کو صاف کرنے انفکشن دور کرنے اور کف بلغم کو پگھلائے گا اور باہر نکالے گا۔ اس نسخہ کو متواتر تین دن استعمال کریں۔ اگر خدانخواستہ بلغم بہت زیادہ ہے اور انفکشن ہے تو آپ سات دن تک استعمال کریں۔ اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں- سٹیم بھاپ لیں، ایک پتیلی میں پانی ڈال کر اور اس میں چند پتے تلسی کے ڈال کر خوب ابالیں اور پھر اتار کر رکھیں اور سر پر تولیہ لے کر ناک کے ذریعے بھاپ کے ذریعے سانس اندر کھینچیں بہت بہترین رزلٹ ملے گا۔ 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 قانون 3 منٹ اور نصف 🔷 یہ ایک نہایت اہم پیغام ہےجو ایک طبیب نے ان لوگوں کیلئے بھیجا ہےجو رات کے وقت واش روم جانے کیلئے اچانک بستر سے اٹھتے ہیں۔ قانون "تین منٹ اور نصف" پر عمل کریں، تاکہ اچانک موت کےخطرے سے بچا جا سکے! ہم اکثر سنتے ہیں کہ کوئی شخص جو بالکل صحت مند تھا، اچانک رات کے وقت انتقال کر گیا۔ اکثر اوقات، اسکا سبب یہ ہوتا ہے کہ جب ہم اچانک بستر سے اٹھتے ہیں تو دماغ کو فوری طورپر خون کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر یہ ضرورت پوری نہ ہو تو اچانک چکر، بےہوشی یا فالج جیسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ 🚨 احتیاطی تدابیر، قانون "تین منٹ اور نصف" جب رات کے وقت آپ واش روم جانے کیلئے جاگیں، تو فوراً نہ اٹھیں، بلکہ ان تین مراحل پر عمل کریں: ✅ پہلا مرحلہ: نصف منٹ بستر پر لیٹے رہیں۔ ✅ دوسرا مرحلہ: نصف منٹ بستر پر بیٹھیں، اور سانس کو معمول پر آنےدیں۔ ✅ تیسرا مرحلہ: نصف منٹ پیر نیچے لٹکا کر بستر کے کنارے پر بیٹھیں۔ پھر سکون کے ساتھ اٹھیں اور اپنی ضرورت پوری کریں۔ 💖 دل کیلئےایک اور احتیاط نیند سے فوراً جاگنے کےبعد پانی نہ پئیں! جب ہم جاگتے ہیں، تو دل کا نظام ابھی پوری طرح متحرک نہیں ہوتا، اور فوراً پانی پینا دل پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ لہذا، کم از کم تین منٹ انتظار کریں، پھر پانی پئیں۔ ✅ یہ احتیاط چھوٹے اور بڑے ہر عمر کے افراد کیلئے ضروری ہے کیونکہ اچانک حرکت دل اور دماغ پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔ اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے! 📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 چھوٹی سی تپائی 🔷 پیزا کی ہوم ڈلیوری میں ایک مسئلہ تھا. ڈبے میں جب یہ ڈالا جاتا تو اکثر ڈبے کے اوپر کا گتہ اس کی بیرونی ٹماٹر چیز کی سطح کے ساتھ دوران ڈلیوری ٹچ ہو جاتا اور گاہک مسلی ہوئی سطح دیکھ کر بدمزہ ہوتے. ارجنٹینا کے خوان رامیرز پونس نے اسکا ایک آسان حل تلاش کیا. اس نے پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی تپائی بنائی اور پیزا کے درمیان لگا دی. مسئلہ حل ہوگیا. ارجنٹینا کے خوان رامیرز نے اسے لیکن کوئی سنجیدہ ایجاد نہیں مانا کیونکہ اس نے اس کی پیٹنٹ کی تجدید نہیں کی. البتہ نیویارک کے کارمیلا ویٹالے نے 1983 میں اسی ایجاد کو سنجیدہ لیا. اسے پیٹنٹ کرایا. اور کچھ اوپر 57 ملین ڈالر اس تپائی کو چند پیسوں میں بیچ کر بنا لئے. امیر یا غریب ہونا ایک ذہنی کیفیت ہے. ایک غریب کا کروڑوں روپے کا بانڈ لاٹری نکل آئے تو وہ امیر نہیں ہو جاتا. وہ بس ایک ایسا غریب ہوتا ہے جس کے پاس بہت سا نقد پیسہ ہوتا ہے. لیکن اسے پیسہ بنانا نہیں آتا. اس لئے کچھ سال بعد وہ پھر ایک ایسا غریب بن جاتا ہے جس کے پاس پیسہ بھی نہیں ہوتا. جبکہ امیر کے پاس بھلے کیش نہ ہو لیکن وہ پیسہ بنانا جانتا ہے. اور وہ امیر ہوتا چلا جاتا ہے. یہ ذہنی کیفیت ہماری زندگی کے نتائج طے کرتے ہیں. ہوٹل کی میز پر کھانا کھانے کے بعد کچھ لوگ کرسیاں پیچھے کر کے لمبے ہو جاتے ہیں. کچھ ویٹر کو برتن پکڑانے میں مدد کرتے ہیں. اسکا شکریہ ادا کرتے ہیں. پیٹ دونوں نے ہی بھرا ہوتا ہے لیکن ایک تعلق جوڑ رہا ہوتا ہے. ایک خاموش مہربان سا تعلق. فطرت خاموش شکر گزاری کے تعلقات کی بہت قدردان ہے. یہ قدرت کے پیٹنٹ سسٹم میں رجسٹر ہوتے ہیں. اور قدرت جب مہربان ہو جائے تو ایک چھوٹی سی تپائی بھی کسی کی زندگی بدل دیتی ہے. کیونکہ یہ تپائی انسانیت کا حسن قائم رکھتی ہے. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5999 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕