es
Feedback

¡No caigas en manos de tramposos! Telemetrio encuentra y marca estos canales 👉 Si quieres ver la etiqueta, suscríbete

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

Ir al canal en Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

Mostrar más
1 286
Suscriptores
+124 horas
-27 días
-630 días
Archivo de publicaciones
خریداری کرو اگرچہ مہنگی ہے کیونکہ خریداری کے ساتھ رزق نازل ہوتا ہے۔
خریداری کرو اگرچہ مہنگی ہے کیونکہ خریداری کے ساتھ رزق نازل ہوتا ہے۔

🔷 موت کا سرٹیفیکیٹ 🔷 آخر میں صرف "موت کا سرٹیفیکیٹ" بچتا ہے… ایک ریٹائرڈ پولیس کمشنر، جو پہلے اپنے سرکاری بنگلے میں رہا کرتے تھے، اب کالونی کے اپنے ذاتی مکان میں آ کر رہنے لگے۔ اُنہیں اپنی حیثیت پر بہت فخر تھا۔ روز شام کو وہ کالونی کے پارک میں چہل قدمی کے لیے آتے، لیکن وہاں آنے والے کسی سے بات نہ کرتے، نہ ہی کسی کی طرف دیکھتے۔ اُنہیں لگتا تھا: "یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں!" ایک دن وہ بینچ پر بیٹھے تھے، تب ایک بوڑھا شخص آ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔ لیکن کمشنر صاحب نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی بولتے رہے – کہ وہ کتنے بڑے عہدے پر تھے، ان کی کتنی عزت تھی، اور وہ کتنے اہم شخص ہیں… وہ کہنے لگے، "میں یہاں اس لیے رہتا ہوں کیونکہ یہ میرا ذاتی گھر ہے!" کچھ دن یہی ہوتا رہا۔ وہ بوڑھا صرف خاموشی سے سنتا رہا۔ آخر ایک دن اُس بوڑھے نے کہنا شروع کیا: "سنیے کمشنر صاحب! بلب ہوتا ہے نا – جب تک جلتا ہے، تب تک اہم ہوتا ہے۔ لیکن ایک بار فیوز ہو جائے، تو چاہے وہ ۱۰ واٹ کا ہو یا ۱۰۰ واٹ کا – سب برابر ہو جاتے ہیں۔ دکھنے میں وہ بلب تو رہتا ہے، لیکن روشنی نہیں دیتا۔" "میں یہاں پچھلے پانچ سال سے رہ رہا ہوں، لیکن میں نے آج تک کسی کو نہیں بتایا کہ میں دو بار ممبر آف پارلیمنٹ رہ چکا ہوں۔" یہ سنتے ہی کمشنر صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ بوڑھا آگے بولا: "آپ کے دائیں طرف جو ورما جی بیٹھے ہیں، وہ ریلوے میں جنرل مینجر تھے۔ سامنے جو راؤ صاحب بیٹھے ہنستے ہوئے بات کر رہے ہیں – وہ آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل رہ چکے ہیں۔ اور کونے میں جو سفید کپڑوں میں صاحب بیٹھے ہیں – وہ ISRO کے چیئرمین تھے۔ لیکن اِن میں سے کسی نے بھی کبھی کسی کو یہ نہیں بتایا۔" "میری بس ایک بات ہے: ہم سب یہاں – آپ سمیت – فیوز بلب ہیں! جب بجلی چلی جاتی ہے تو پولیس کمشنر اور پولیس کانسٹیبل – سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں!" "طلوع ہوتا سورج اور غروب ہوتا سورج – دونوں خوبصورت ہوتے ہیں۔ لیکن لوگ صرف طلوع ہونے والے سورج کو نمسکار کرتے ہیں۔ غروب ہونے والے کو کوئی نہیں پوچھتا۔ یہ حقیقت ہے جسے ماننا ہی پڑتا ہے۔" "ہم جو عہدوں، عزت، اختیار میں جیتے ہیں – وہ ہماری اصل شناخت نہیں ہوتے۔ وہ سب عارضی ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم اسی کو زندگی سمجھ لیں، تو یاد رکھیں – ایک دن یہ سب ختم ہونے والا ہے۔" "شطرنج میں بادشاہ، وزیر، اونٹ، گھوڑا، پیادہ – ان کی اہمیت صرف کھیل کے دوران ہی ہوتی ہے۔ ایک بار کھیل ختم ہوا، تو سب ایک ہی ڈبے میں رکھے جاتے ہیں۔ ڈبہ بند!" "آج کا دن پرسکون ہے، اس کا شکر ادا کریں۔ دعا کریں کہ کل بھی سکون سے گزرے۔" **"اور آخر میں... چاہے ہمیں کتنے ہی سرٹیفیکیٹ، میڈل یا ایوارڈز کیوں نہ ملے ہوں – زندگی کے اختتام پر ہمیں ایک ہی سرٹیفیکیٹ ملتا ہے… 'موت کا سرٹیفیکیٹ!'" 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

سو سالہ وزیراعظم ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی تاریخ ولادت 10 جولائی 1925ء ہے۔ جی ہاں دس جولائی کو مہاتیر محمد سو
سو سالہ وزیراعظم ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی تاریخ ولادت 10 جولائی 1925ء ہے۔ جی ہاں دس جولائی کو مہاتیر محمد سو برس کے ہو چکے ہیں۔ وہ معمول کے مطابق اُٹھے۔ اہل خانہ کے ساتھ اپنی سو ویں سالگرہ منائی۔ مبارک بادیں وصول کیں پھر اپنا روایتی سفاری سوٹ پہن کر دفتر کے لیے روانہ ہوگئے اور معمول کے کام انجام دیے۔ اس دوران میں ایک خصوصی لائیو پوڈ کاسٹ میں اُنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور بہار و خزاں کے ماہ و ایام کا خوب خوب تذکرہ بھی کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ٭ اگر کوئی انسان اتنا خوش قسمت ہے کہ اسے کوئی مہلک بیماری نہ ہوئی ہو تو وہ طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ٭ صحت مند رہنے کے لیے کم کھائیں، تھوڑی بہت ورزش کریں۔ ٭ پڑھنا لکھنا جاری رکھیں، لوگوں سے بات چیت کریں۔ ٭ نتیجہ خیز مباحثوں کے ذریعے اپنے دماغ کو متحرک رکھیں۔ ٭ طویل عمر کا اگر کوئی راز ہوسکتا ہے تو وہ وہی ہے جو میں کرتا آیا ہوں اگر آپ اچھی طرح سے کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اپنے جسم اور دماغ کو متحرک رکھنا ہوگا۔

🔷 فالج کی علامات 🔷 پرانے کلاس فیلوز کی ایک ملاقات تھی۔ ایک خاتون باربی کیو کے دوران ٹھوکر کھا کر گر گئیں۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر کو دکھایا جائے، لیکن وہ پُراعتماد تھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی جوتی کی وجہ سے اینٹ سے ٹکرا گئیں۔ دوستوں نے ان کی مدد کی، صفائی کروائی اور کھانے کی پلیٹ دی۔ پھر وہ باقی وقت سب کے ساتھ خوشی سے گزارتی رہیں۔ مگر ملاقات کے بعد، ان کے شوہر نے سب کو اطلاع دی کہ انہیں اسپتال لے جایا گیا اور شام 6 بجے ان کا انتقال ہو گیا—باربی کیو کے دوران انہیں فالج کا حملہ ہوا تھا۔ اگر وہاں موجود لوگ فالج کی علامات پہچان لیتے، تو شاید وہ آج بھی زندہ ہوتیں۔ درحقیقت، فالج کی کچھ ابتدائی علامات ہوتی ہیں اور اسے روکا جا سکتا ہے۔ ایک نیوروسرجن کا کہنا ہے کہ اگر وہ فالج کے مریض تک تین گھنٹوں کے اندر پہنچ جائیں، تو وہ فالج کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں۔ راز یہ ہے کہ فالج کی علامات کو جلد پہچانا جائے اور مریض کو تین گھنٹوں کے اندر علاج فراہم کیا جائے—یہ مشکل نہیں۔ *فالج کی شناخت* کے لیے یاد رکھیں *تین آسان حروف: S، T، R* براہِ کرم پڑھیں اور سیکھیں! اگر آپ کے اردگرد لوگ *فالج کی علامات* نہ پہچان سکیں، تو مریض کو شدید دماغی نقصان ہو سکتا ہے۔ *تین آسان سوالات پوچھیں:* *S: (Smile) مسکرائیں* مریض سے کہیں کہ وہ مسکرائے۔ اگر منہ کا ایک کونہ نیچے جھک جائے، تو یہ علامت ہے۔ *T: (Talk) بات کریں* مریض سے کہیں کہ ایک سادہ جملہ بولے، جیسے: "آج دھوپ والا دن ہے" اگر جملہ بے ربط یا الجھا ہوا ہو، تو یہ بھی علامت ہے۔ *R:(Raise) ہاتھ اٹھائیں* مریض سے کہیں کہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔ اگر ایک ہاتھ نیچے گر جائے، تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔ 📌 نوٹ: ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض سے کہیں کہ زبان باہر نکالے۔ اگر زبان ایک طرف کو مڑی ہوئی ہو یا ٹیڑھی ہو، تو یہ بھی فالج کی علامت ہے۔ اگر مریض ان چاروں میں سے اگر کوئی ایک عمل نہ کر سکے، تو فوراً ایمبولینس یا اسپتال کو کال کریں اور علامات بتائیں۔ -Copied۔۔۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

روس اور امریکہ جغرافیائی طور پر "ہمسائے" ممالک ہیں۔ روس اور امریکہ کے درمیان جو سب سے قریبی فاصلہ ہے وہ ہے: برنگ اسٹریٹ (Beri
روس اور امریکہ جغرافیائی طور پر "ہمسائے" ممالک ہیں۔ روس اور امریکہ کے درمیان جو سب سے قریبی فاصلہ ہے وہ ہے: برنگ اسٹریٹ (Bering Strait) میں یہ فاصلہ تقریباً 85 کلومیٹر (53 میل) ہے مزید تفصیل: روسی طرف امریکی طرف چیوکوٹکا (Chukotka) علاقہ روس۔ الاسکا (Alaska) ریاست امریکہ ان دونوں کے درمیان دو چھوٹے جزیرے ہیں: Big Diomede (روسی جزیرہ) Little Diomede (امریکی جزیرہ) ان دونوں جزیروں کے درمیان فاصلہ صرف 3.8 کلومیٹر ہے۔ دلچسپ بات: ان دو جزیروں کے بیچ بین الاقوامی ڈیٹ لائن (International Date Line) بھی گزرتی ہے۔ مطلب یہ کہ روسی جزیرے پر اگر پیر کا دن ہے تو امریکی جزیرے پر اتوار ہوتا ہے۔ ان جزائر میں سے ایک، بگ ڈیومیڈ، روس کا حصہ ہے، جبکہ دوسرا، لٹل ڈیومیڈ، امریکہ (الاسکا) کا حصہ ہے۔ ان دونوں جزیروں کے درمیان صرف تقریباً 3.8 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، اور سردیوں میں یہ پانی جم جاتا ہے، جس کی وجہ سے نظریاتی طور پر ان کے درمیان پیدل چل کر بھی سفر کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل ڈیٹ لائن ان دونوں جزائر کے درمیان سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے وقت میں 21 گھنٹے کا فرق ہوتا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ بارہ روزہ جنگ میں اسّی اسرائیلی طیارے گرائے گئے جن میں سے بتیس کے ڈھانچے ہمارے قبضے میں ہیں۔ سحرنیوز/ایران: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل کے تقریباً 80 ڈرون طیاروں کو مار گرایا ہے، جن میں سے 32 ڈرون کے ملبے ایرانی افواج کے قبضے میں ہیں۔ ان میں صہیونی افواج کے انتہائی جدید اور پیشرفتہ ڈرونز بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایرانی ریڈار سسٹمز نے تمام طیاروں کو ہدف بنانے کے مناظر ریکارڈ کیے ہیں جو ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ محسن رضائی نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ اس جنگ کے بعد اسرائیل اور امریکہ نے پروپیگنڈا مہم شروع کی تاکہ اپنی شکست پر پردہ ڈال سکیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو نہ صرف عسکری محاذ پر بلکہ معاشی سطح پر بھی سنگین نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صیہونی وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق صرف 12 دنوں میں تل ابیب حکومت کو 20 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے، جن میں دو سال کی مقدار کے امریکی ’تھاڈ‘ میزائلوں کا استعمال شامل ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی میڈیا مہم کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا اور ایران کی فتح پر پردہ ڈالنا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے CNN جیسے میڈیا اداروں پر برہمی ظاہر کی اور دعوی کیا کہ امریکہ فاتح ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آخر میں محسن رضائی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے صرف ڈرونز کو نہیں گرایا بلکہ اسرائیلی انسانی و اقتصادی ڈھانچوں پر کاری ضرب بھی لگائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صہیونی حکومت نے اتنی بھاری قیمت چکا کر کیا حاصل کیا؟ 🔷🔷🔷🔷🔷🔷

⭕️ لومڑی اور آخری زمانے کے لوگ ایک عبرتناک حکایت۔۔۔ 🔰 ایک دن ایک لومڑی کی دُم ایک پتھر کے بیچ پھنس گئی۔ جب وہ بہت تگ و دو کرنے لگی تو اس کا دُم کٹ گئی۔ دوسری لومڑی نے اُسے دیکھا اور مذاق اُڑاتے ہوئے کہا: "ارے! تمہاری دُم کہاں گئی؟" 🔰 پہلی لومڑی نے جواب دیا: "اب میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتی ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے میں ہوا میں اُڑ رہی ہوں!" پھر اس نے دُم نہ ہونے کی کئی جھوٹی خوبیاں گنوانا شروع کیں اور خوشی کا اظہار کرنے لگی۔ 💠 دوسری لومڑی نے بھی اس کی باتوں میں آکر خود اپنی دُم زور لگا کر اور درد سہہ کر کاٹ ڈالی، لیکن اسے کوئی لذت نہ ملی۔ پریشان ہوکر بولی: "یہ وہ مزا کہاں گیا جس کا تم ذکر کر رہی تھیں؟" ‼️ پہلی لومڑی نے جواب دیا: "اگر ہم دوسروں کو سچ بتائیں، کہ دُم کٹنے میں کتنا درد اور نقصان ہے، تو وہ ہمارا مذاق اُڑائیں گے۔" یوں ہی کرتے کرتے یہ جھوٹی سوچ تمام لومڑیوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ زیادہ تر لومڑیاں دُم کے بغیر ہو گئیں۔ اب اگر کبھی کوئی دُم والی لومڑی نظر آتی، تو اسے سب مل کر مذاق کا نشانہ بناتے۔ ⚠️ اسی طرح آج کے دورِ آخرالزمان میں بھی *اگر کوئی شخص حیاء، عفّت، عبادت، خداترسی، اور امامِ زمانؑ کے ظہور کا انتظار کرے تو وہ لوگوں کی تمسخر اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتا ہے۔* *اور اگر کوئی شخص گناہوں اور برائیوں میں رنگا ہوا ہو، تو وہ معاشرے کا پسندیدہ اور مقبول فرد بن جاتا ہے۔* *🔸 بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نیک لوگوں کی بات سننے والا کوئی نہیں رہا،* *جبکہ جاہلوں اور فاسقوں کو عزت دی جاتی ہے — جیسے کہ قومِ لوط کے زمانے میں ہوا تھا:* ‼️ "لوطؑ اور اس کے ساتھیوں کو بستی سے نکال دو، کیونکہ یہ لوگ پاکیزگی اختیار کرتے ہیں اور ہماری ناپاکیوں سے نفرت کرتے ہیں۔" *✨ آج بھی اگر آپ اکثریت کے رنگ میں رنگے نہ جائیں، تو آپ کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔* *🤲 لیکن اہل حق وہی ہیں، جو اکثریت کے بہاؤ میں گم نہ ہوں!* جیسے اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ کی آیت 100 میں فرماتا ہے: > "پاک اور ناپاک کبھی برابر نہیں ہو سکتے، چاہے ناپاکوں کی کثرت تمہیں حیران ہی کیوں نہ کر دے۔" 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

*🤔 غیرت اور حیا کہاں گئی؟* 💠 شیخ بہاءالدین عاملی اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں: ایک دن ایک عورت قاضی کے پاس شکایت لے کر آئی کہ: "میرے شوہر سے مجھے پانچ سو مثقال سونا لینا ہے، مگر وہ مجھے نہیں دے رہا۔" قاضی نے شوہر کو بلایا۔ پھر عورت سے پوچھا: "کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟" عورت نے کہا: "جی ہاں، یہ دو مرد میرے گواہ ہیں۔" قاضی نے گواہوں سے کہا: "گواہی دو کہ یہ عورت اپنے شوہر سے پانچ سو مثقال سونا طلب کر رہی ہے۔" گواہوں نے کہا: " کہ یہ عورت اپنا نقاب ہٹا دے تاکہ ہم اس کے چہرے کو اچھی طرح پہچان سکیں اور جان سکیں کہ یہی وہی عورت ہے۔" جیسے ہی عورت نے یہ بات سنی، کانپ اٹھی! شوہر چیخ پڑا: "تم نے کیا کہا؟ صرف پانچ سو مثقال سونے کے لیے، میری بیوی اپنا چہرہ تمہیں دکھائے؟ ہرگز نہیں! ہرگز نہیں! میں پانچ سو مثقال دے دوں گا، لیکن ہرگز راضی نہیں ہوں کہ میری بیوی کا چہرہ دو اجنبی مردوں کے سامنے کھلے!" جب عورت نے اپنے شوہر کی یہ جوانمردی اور غیرت دیکھی، تو اپنی شکایت واپس لے لی اور وہ رقم اپنے شوہر کو بخش دی۔ 👌 کاش! وہ غیرت مند مرد آج کا زمانہ بھی دیکھ سکتا کہ *کیسے چہرے اور بازو سب کے سامنے ظاہر کیے جا رہے ہیں،* *اور شوہر، باپ، اور بھائی بھی اسی کے ہم خیال ہیں،* *بلکہ بعض تو ان اعمال پر فخر بھی کرتے ہیں۔* *💐 یاد رکھو ‼️* *دین پھلوں کی ٹوکری نہیں ہے کہ مثلاً سیب لے لو اور مالٹے کو چھوڑ دو!* *❌ روزہ رکھو، لیکن نماز نہ پڑھو!* *❌ نماز پڑھو، مگر حجاب نہ کرو!* *❌ قرآن پڑھو، روزہ رکھو، لیکن ناجائز موسیقی بھی سنو!* *🏴 امام حسین علیہ السلام کے لیے عزاداری کرو، مگر تمہاری نماز قضا ہو جائے!* *⭕️ چادر اوڑھو، مگر حیا نہ ہو!* *⭕️ چادر ہو، لیکن چہرہ میک اپ سے بھرا ہو!* *📖 قرآن پڑھو، مگر اپنے والدین کی عزت نہ کرو!* *🔅 حجاب اور حیا ہو، لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کر دو!* *📖 اللہ کا دین مکمل ہے — آدھا قبول کرنا اور آدھا چھوڑ دینا دھوکہ ہے، ایمان نہیں!* التماس دعا *زھراء احمد جعفری* *حـوزہ عـلـمـیہ مـعـصـومـہ قـم* 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 کیا میں لٹیرا ہوں 🔷 سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لِکھا ہے۔ اُس میں اُس نے اپنے ساتھ پیش آنیوالے دو دِلچسپ واقعات بیان کِیے ہیں۔ پہلا واقعہ: مُجھے آئرلینڈ میں میڈیکل کا اِمتحان دینا تھا. اِمتحان فیس 309 ڈالر تھی۔ میرے پاس کُھلی رقم نہیں تھی، اِس لِیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے۔ اٙہم بات یہ کہ میں اِمتحان میں بیٹھا، اِمتحان بھی دے دِیا اور کُچھ وقت گُذرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا۔ ایک دِن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا۔ اُس خط میں لِکھا تھا کہ "آپ نے اِمتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے۔ ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جا رہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے"۔ حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹِکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہُوئے ہوں گے!! دوسرا واقعہ: کالج اور اپنی رہائش کے درمیان میں جِس راستے سے گُذرتا تھا، اُس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پِنس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔ ایک دِن دیکھا کہ اُس نے اُسی کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھا ہُوا ہے جِس پر قیمت 20 پِنس لِکھی ہُوئی ہے۔ مُجھے حیرت ہُوئی۔ میں نے اُس سے پُوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی کوالٹی میں کُچھ فرق ہے؟ اُس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے۔ میں نے پُوچھا کہ پِھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟ اُس نے جواب دِیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے مُلک میں آتا ہے، اُس کے ساتھ کُچھ مٙسائل پیدا ہو گئے ہیں، جِس کی وجہ سے قیمت میں اِضافہ ہو گیا ہے۔ زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اُسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اُسے ہم 18 کا بیچ رہے ہیں۔ میں نے کہا، پِھر تو سب 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہو جائے؟ 20 والا تو اِس کے بعد ہی کوئی خریدے گا۔ اُس نے کہا: ہاں، یہ مُجھے معلوم ہے۔ میں نے مٙشورہ دِیا کہ دونوں ڈبوں کو مِکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو ۔ کِسی کے لِیے قیمت کا یہ فرق جاننا مُشکل ہو گا۔ اُس نے سرزنش کے انداز میں کہا : کیا تم کوئی لُٹیرے ہو۔؟ مُجھے اُس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا۔ لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گُونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لُٹیرا ہوں؟ یہ کون سا اٙخلاق ہے؟ دراصل یہ ہمارا اٙخلاق ہونا چاہیے تھا۔ یہ ہمارے دین کا اٙخلاق ہے ۔ یہ وہ اٙخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سِکھایا تھا۔ 🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

تیونس سے ٹھنڈی ہواکا جھونکا🛑👇 تیونس کے نئے منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر قیس سعید کی عمر 61 برس ہے ۔ وہ قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں ۔ انہوں نے آزاد حیثیت سے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور 77٪ ووٹ لے کر ساری دنیا کو حیران کر دیا ۔ ان کو کسی سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل نہیں تھی ۔ دوسرے نمبر پر آنے والے ارب پتی نبیل القروی اربوں روپے انتخابی مہم میں جھونک کر بھی ہار گئے ۔ ڈاکٹر قیس سعید نے چند ہزار روپے سے انتخابی مہم چلائی اور کامیابی حاصل کی ان کی انتخابی مہم میں نوجوان پیش پیش تھے اور ان کو پچیس صدارتی امیدواروں میں سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انتخاب سے پہلے ایک ٹی وی مزاکرہ ہوا جس میں ان سے کچھ سوال و جواب کیئے گئے جو مندرجہ ذیل ھیں : ● سوال ۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ جواب۔ تعلقات بحالی کا لفظ ہی غلط ہے اس کے لیے صحیح لفظ غداری ہے جو بھی اس سے تعلقات رکھے گا وہ غدار ہو گا ۔ ● سوال۔۔۔۔ ہمارے ملک تیونس میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ ہے جس کو الغریبہ کہتے ہیں بہت سے یہودی اس کی زیارت کے لیے تیونس آتے ہیں ان کے بارے میں آپ کی پالیسی کیا ہو گی ؟؟ جواب ۔۔۔ہم یہودیوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے لیکن اسرائیلی شہریوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی ۔ ● سوال۔ یعنی وہ اسرائیلی پاسپورٹ پر تیونس نہیں آ سکتے؟ جواب۔۔۔ ہرگز نہیں اسرائیلی پاسپورٹ کے ساتھ کوئی شخص تیونس میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ ● سوال ۔ حیرت سے۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی اسرائیلی تیونس نہیں آ سکے گا ؟ جواب ۔ بالکل نہیں بلکہ ہرگز نہیں ۔ جس ملک نے مسلمانوں کو ان کے وطن سے نکال کر در بدر کر دیا ہے میں ان کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا ۔ ● سوال ۔ پانچ سیکنڈ رہ گئے ہیں آپ کوئی خاص بات کہنا چاہتے ہیں ؟ جواب۔ میں یہ ہی کہوں گا اسرائیل سے تعلقات غداری ہے ۔ یہ یاد رہے اس وقت پوری عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور یہ موقف اختیار کرنا معمولی بات نہیں ۔ انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ان کا سب سے بڑا مخالف امیدوار نبیل القروی کرپشن کے الزام میں گرفتار تھا اس وجہ سے قیس سعید نے بھی اپنی انتخابی مہم یہ کہہ کر روک دی کہ میرا مخالف مہم نہیں چلا سکتا تو مجھے بھی نہیں چلانی چاہیے ۔ پھر ووٹنگ سے چند روز قبل نبیل کے رہا ہونے پر انتخابی مہم شروع کر دی ۔ نو منتخب صدر کی اہلیہ ایک جج ہیں۔ صدر نے حلف اٹھانے کے فورا" بعد اپنی اہلیہ کو بغیر تنخواہ کے پانچ سال کے لیے چھٹی دے دی ہے تا کہ ان کے فیصلوں سے جانبداری کا تاثر نہ ابھرے ۔ ▪︎ ماضی میں تیونس میں عجیب و غریب صدر رہے ہیں ۔ سابق صدر حبیب ابو رقیبہ نے موسم گرما کے روزے ساقط کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ ▪︎ ایک اور صدر نے قرآن کے قانون وراثت میں ترمیم کر کے عورت اور مرد کا حصہ برابر کر دیا تھا ۔ ▪︎ ایک اور صدر داڑھی اور حجاب کے خلاف جنگ کرتے رہے ۔ اب موجودہ صدر نے اعلان کر دیا ہے کہ قرآن کے احکامات حتمی اور ابدی ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ۔ عرب دنیا میں اس قسم کا حکمران غنیمت ہے ۔صدر کی اپنی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے لیکن ایک بڑی اسلامی پارٹی تحریک نہضت نے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اس پارٹی کو الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں اور امید ہے وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔ ( نوٹ ) اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ باقی مسلمان لیڈروں کی غیرت بیدار ھو سکے۔ منقول 📝۔۔۔۔۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

ایک چمکتی دنیا کا تاریک انجام اداکارہ حمیرا اصغر کی دردناک کہانی کل تک جسے دنیا “اسکرین کی جان” کہتی تھی فیشن شوز، ڈرامے، اشتہارات اور تقریبات کی رونق، اداکارہ حمیرا اصغر آج کراچی کے ڈیفنس میں اپنے فلیٹ میں اکیلی، مردہ، 21 دنوں تک بےخبر پڑی رہی کیا یہی ہے وہ دنیا، جہاں شہرت، آزادی اور چمک دمک کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم ماں باپ، دین، رشتے، اور اقدار تک کو قربان کر دیتے ہیں ؟ جب جوانی تھی، حسن تھا، شہرت تھی سب ساتھ تھے لیکن جونہی وقت بدلا، کام کم ہوا، پیسہ رُکا، چہرے پر تھکن آئی تو سب نے نظر پھیر لی کوئی نہ پوچھنے آیا 21 دن تک کوئی دروازہ کھٹکھٹانے والا نہ تھا فلیٹ سے اٹھنے والی بدبو نے آخرکار پولیس کو بلوا دیا نہ کوئی رشتہ دار، نہ کوئی دوست بس مالک مکان کرایہ لینے آیا یہ لمحہ صرف دکھ نہیں دیتا، جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ شوبز، یہ آزادی، یہ جدید طرزِ زندگی صرف تب تک تمہیں گلے لگاتی ہے جب تک تم اور تمہارا چہرہ "قابلِ استعمال" ہوتا ہے جب مقصد پورا ہو جاتا ہے، تو تمہیں ایک بند کمرے میں تنہا سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے آج ہماری نوجوان نسل ان کو رول ماڈل بناتی ہے جن کا اندر مرجھایا ہوا ہے جو اپنی زندگی کے شب و روز سے تنگ ہیں جگہ جگہ ہریسمنٹ ہے جگہ جگہ بلیک میلنگ ہے نواج بچیاں بچے "میرا جسم میری مرضی" اور "میں اکیلا کافی ہوں" جیسے نعرے لگا کر اپنے سب سے بڑے سہاروں ماں باپ، خاندان، اور دین سے منہ موڑ لیتے ہیں لیکن سچ یہ ہے: زندگی کا سب سے بڑا سہارا خدا اور اپنے لوگ ہوتے ہیں یاد رکھیں! صرف مردہ جسم کو نہیں، زندہ دل کو بھی کندھے کی ضرورت ہوتی ہے کسی کو اس لیے مت چھوڑیں کہ وہ "پُرانا خیال" رکھتا ہے وہی پرانے لوگ مرنے پر کاندھا دیتے ہیں، اور تنہا مرنے سے بچاتے ہیں۔ یہ دنیا تماشہ نہیں، عبرت کی جگہ ہے۔ رشتوں کو چھوڑ کر آزادی کے خواب مت دیکھو کیونکہ یہی آزادی تمہاری بربادی ہے یہ دنیا وفا کرنا نہیں جانتی بلکہ استعمال کرنا جانتی ہے تحریر: محمد یونس شاہ بخاری

*"سوشل میڈیا اور فتنوں سے بچاؤ"* 📱 سوشل میڈیا اور فتنوں سے بچاؤ 🌐 آج کا دور ڈیجیٹل دنیا کا ہے — انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب وغیرہ ہر جگہ عورت کی موجودگی عام ہو چکی ہے۔ لیکن اسلام عورت کو عزت، حیاء، اور پردے کا حکم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی فتنے موجود ہیں جن سے بچنا بہت ضروری ہے: ⚠️ فتنہ نمبر 1: تصاویر اور ویڈیوز کی نمائش اپنی سیلفیاں، فیشن، میک اپ، وی لاگ، یا ڈانس کی ویڈیوز ڈالنا عام ہو گیا ہے۔ یہ عمل نامحرم مردوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے، جو حیاء کے خلاف ہے۔ 📸❌ "جس چہرے کو اللہ نے چھپانے کا حکم دیا ہو، اسے پوری دنیا کے سامنے کیوں لایا جائے؟" ⚠️ فتنہ نمبر 2: نامحرم سے لائکس، چیٹ، اور دوستی سوشل میڈیا پر فرینڈ ریکویسٹ، کمنٹس، انسٹا ڈی ایمز کے ذریعے غیر مردوں سے بات چیت عام ہے۔ یہ سب دل کے فتنے، شیطانی وسوسے اور گناہ کا راستہ ہیں۔ 💔🗣️ "شیطان صرف ایک کمنٹ سے دل میں اتر جاتا ہے!" ⚠️ فتنہ نمبر 3: ریٹنگ، فیم، اور فالورز کا لالچ بعض لڑکیاں صرف فالورز، شہرت اور تعریف کے لیے اپنی خوبصورتی، آواز یا لباس کی نمائش کرتی ہیں۔ یہ سب نیت کو خراب کر دیتا ہے اور دل کو دنیا کی محبت میں الجھا دیتا ہے۔ 🎯👁️ "جس عورت کا مقصد رب کی رضا ہو، وہ دنیا کے نظروں کا شکار نہیں بنتی۔" ✅ کیا کریں؟ 📵 غیر ضروری پوسٹیں، ویڈیوز اور تصاویر اپلوڈ کرنے سے پرہیز کریں۔ 🧕 اپنی شناخت کو باوقار اور پردے دار رکھیں۔ 🤲 سوشل میڈیا پر بھی اللہ کا خوف اور حیاء ساتھ لے کر چلیں۔ 🧠 جس چیز سے دل میں *بےچینی یا فتنہ* پیدا ہو — اس سے فوراً دور ہو جائیں۔ 🌟 خلاصہ: > "سوشل میڈیا پر عزت کمانے سے بہتر ہے رب کی رضا حاصل کی جائے۔" "نامحرموں کی نگاہوں کی زینت بننے سے بہتر ہے، اللہ کے نیک بندوں کی دعاوں کی حق دار بنو۔" 🔷🔷🔷🔷🔷

اطلاعات کے مطابق شیعہ قوم نے 2025 میں محرم کے 10 دنوں میں عزاداری پر 9500 ارب خرچ کیئے جبکہ پورے پاکستان کا 25/26 کا کل بجٹ 18877 ارب ہے۔ 🔷🔷🔷🔷🔷

آپ نے پانی پر قبضہ کیا مشک بھری اور واپس اذن خیام ہوئے. جب لشکر نے دیکھا کہ آپ بغیر تلوار کے ہیں تو آپ پر حملہ کیا اور پانی کی مشک بچاتے ہوئے آپ کا داہنا ہاتھ زیند بن ورقا کی تلوار سے قلم ہوا. بایاں ہاتھ حکیم ابن طفیل نے قلم کیا. مشکیزے پر تیر لگنے سے سارا پانی بہہ گیا اور ایک تیر آپ کی سینے پر لگا. آپ کی شہادت پر امام علیہ السلام نے فرمایا: "ہائے میری کمر ٹوٹ گئی." آپ کو کمال حسن کی وجہ سے قمر بنی ہاشم بھی کہا جاتا ہے مشہور القاب "سقہ" اور ابوقریہ ہیں. شہادت کے وقت آپ کی عمر 34 برس تھی. 🌹16= علی اکبر بن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب آپ امام علیہ السلام کے منجھلے بیٹے تھے امیرالمؤمنین علیہ السلام اور جناب خاتون جنت سلام اللہ علیھا کے پوتے تھے. آپ کی والدہ کا نام "ام لیلی" تھا. آپ صورت اور سیرت میں پیغمبر اسلام کے مشابہ تھے آپ کا نام علی ابن حسین، کنیت ابوالحسن اور لقب اکبر تھا. آپ نے میدان کربلا میں 120 دشمنوں کو قتل کیا اور منقذ ابن مرہ عبدی نے آپ کے گلوئے مبارک پر تیر مار اور ابن نمیر نے سینہ اقدس پر نیزے کا وار کیا. شہادت کے وقت آپ کی عمر 18 برس تھی. 🌹17= محمد بن ابی سعید بن عقیل. آپ جناب عقیل کے فرزند اور نہایت کم سن تھے. جناب علی اکبر کی شہادت کے بعد آپ چوب خیمہ لے کر باہر نکلے اور امام علیہ السلام کی طرف رخ کیا ابھی آپ امام علیہ السلام کے نزدیک بھی نہیں پہنچے تھے کہ نفیظ ابن یاسی نے آپ پر تلوار کی ضرب لگائی اور آپ شہید ہو گئے. 🌹18= علی اصغر ابن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام علیہ السلام کے کمسن ترین فرزند اور ۱۰ رجب سن 60 کو پیدا ہوئے آپ کی والدہ کا نام رباب بنت امراءالقیس بن عدی بن اوس تھا. یوم عاشور کو جب امام علیہ السلام نے آواز استغاثہ بلند کی تو آپ نے خود کو جھولے سے گرا دیا. امام علیہ السلام جب بے شیر شہزادے کو لے کر میدان میں گئے تو لشکر میں ہلچل مچ گئی اور لشکر بے قابو ہونے لگا اور ابن سعد نے حرملہ کو حکم دیا کہ تیر سہہ شعبہ استعمال کرو. اس لعین نے گلوئے صغیر کو تاکا اور تیر کمان سے چھوڑ دیا تیر کا لگنا تھا کہ شش ماہہ امام علیہ السلام کے ہاتھوں پر منقلب ہو گئے. امام علیہ السلام نے خون علی اصغر علیہ السلام آسمان کی طرف پھر زمین کی طرف پھینکنا چاہا مگر دونوں نے اس خون ناحق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا بالآخر آپ علیہ السلام نے اس لہو کو اپنے چہرہ مبارک پر مل لیا، اور فرمایا کہ "اسی حالت میں اپنے نانا کی بارگاہ میں جاؤں گا." ↩انکار آسمان کو ہے راضی زمیں نہیں. اصغر تمہارے خون کا ٹھکانا کہیں نہیں. 🔴 شہادت خامس آل عبا 🔴 جب امام حسین علیہ السلام کا کوئی معین اور مددگار باقی نہ رہا تو آپ خود میدان کارزار میں آئے آپ علیہ السلام کے جسم مبارک پر 1951 زخم آئےاور آپ زمین پر اس طرح تشریف لائے کے آپ علیہ السلام نہ تو زین پر تھے اور نہ زمین پر، نماز عصر کا وقت آ چکا تھا، آپ سجدہ خالق میں گئے تو شمر ملعون نے کند خنجر سے آپ کا سر مبارک جدا کر دیا. ↕↕یہ واقعہ (عظیم قربانیاں) 10 محرم سن 61 ہجری بمطابق 31 مئی 680 عیسوی بروز جمعہ اس دنیا میں وقوع ہوا. اور دین اسلام کی لازوال تاریخ رقم کر گیا. ↩مجاہد فی سبیل اللہ ایسے کم نظر آئے..... قیامت ہو جنہیں اک اک گھڑی شوق شہادت میں. حوالہ کتب: ریاض الشہادة، سیرآلائمہ، ناسخ التواریخ، زیارت ناحیہ، ابصارالعین، جلاءالعیون، اسرار شہادت، قمقام، دمعہ ساکبہ، روضةالشہداء، نورالعین، مقاتل الطالبین، مجالس مفجعہ، ذکرالعباس، چودہ ستارے. 🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵

↕اٹھارہ شہدائے بنی ہاشم علیہم السلام↕ کارزار کربلا میں امام علیہ السلام کے اصحاب باصفا اور موالیان باوفا کی شہادت کے بعد امام علیہ السلام کے اعزاء و اقرباء، برادران، اور اولاد نے راہ اسلام میں عظیم اور لازوال قربانیاں دیں اور اسلام کو سدا بہار بنا دیا. ↩اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے ایک ضرب ید اللہ ایک سجدہ شبیری.......... 🌹1= عبداللہ ابن مسلم. آپ حضرت مسلم علیہ السلام کے فرزند اور امام علیہ السلام کے بھانجے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نواسے تھے. آپ کی والدہ ماجدہ رقیہ بنت علی علیہ السلام اور نانی کا نام صہبا بنت عباد. آپ کی والدہ قبیلہ بنی ثعلبتہ کی فرد اور کنیت ام حبیبہ تھی. آپ اٹھارہ بنی ہاشم کے سب سے پہلے شہید ہیں آپ نے 90 دشمنوں کو واصل نار کیا اور دوران جنگ عمر ابن صبیح صیدادی نے آپ کی پیشانی پر تیر مارا جس کو روکتے ہوئے وہ آپ کا ہاتھ پیشانی میں پیوست ہو گیا. اس نے دوسرا تیر آپ کے سینے پر مارا جس سے آپ نے شہادت پائی. 🌹2= محمد ابن مسلم. آپ بھائی کو زخمی دیکھ کر امام علیہ السلام سے اذن شہادت لے کر میدان میں گئے اور گهمسان کی جنگ کی آپ کو ابوجرہم ازدی اور لقیط ابن ایاش جہمی نے شہید کیا. 🌹3= جعفر ابن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند اور آپ کی والدہ "حوصا" بنت عمرہ بن عام بن حسان بن کعب بن عبد بن ابی بکر ابن کلاب عامری اور آپ کی نانی ریطہ بنت عبداللہ بن ابی بکر تھیں. میدان جنگ میں 15 دشمنوں کو قتل کر کے بشر ابن خوط کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹4= عبد الرحمان بن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند، اورمیدان کربلا میں 17 دشمنوں کو قتل کر کے عثمان بن خالد ابن اثیم اور بشر بن خوط کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹5= عبداللہ ابن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند، اور میدان کربلا میں بہت سے دشمنوں کو قتل کر کے عثمان بن خالد کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹6= موسی ابن عقیل. آپ عقیل ابن ابی طالب کے فرزند، اور میدان کربلا میں 70 دشمنوں کو قتل کر کے سرور کائنات کی بارگاہ میں پہنچے. 🌹7= عون بن عبداللہ بن جعفر طیار. آپ جناب عبداللہ کے فرزند، اور حضرت جعفر طیار کے پوتے تھے. امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نواسے، آپ کی والدہ زینب کبری سلام اللہ علیھا اور نانی جناب خاتون جنت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا تھیں. جناب عبداللہ ابن جعفر علالت کی وجہ سے اپنے بیٹوں کو امام علیہ السلام کی بارگاہ میں دے دیا تھا اور امام علیہ السلام پر جانثاری کی ہدایت کر کے چلے گئے تھے. جناب عون کے رجز کے اشعار نے اشقیا کے دل دہلا دیئے تھے. آپ نے 30 سوار، 18 پیادے قتل کئے اور عبدابن قطنہ نبھانی کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹8= محمد ابن عبداللہ بن جعفر طیار. آپ جناب عون کے بھائی، اور 10 دشمنوں کا قتل کرنے کے بعد عامر بن نہشل کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹9= عبداللہ الاکبر عرف عمرو بن الحسن ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام حسن علیہ السلام کے بڑے بیٹے اور آپ کی کنیت ابوبکر تھی. آپ کی والدہ گرامی کا نام جناب "رملہ" اور کچھ روایات کے مطابق "نفیلہ" تھا. میدان کربلا میں 80 آدمیوں کو قتل کرنے کے بعد عبداللہ بن عقبی غنوی کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹10= قاسم بن حسن ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام حسن علیہ السلام اور جناب رملہ کے فرزند تھے آپ نہایت جری تھے ارزق شامی جیسے نامی گرامی پہلوان کو میدان کربلا میں قتل کیا. اور جب دشمنوں سے زیر نہ ہوئے تو سب نے اچانک چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا اور عمیر بن نفیل ازدی کے وار سے گھائل ہوئے. گھوڑے سے گرنے کے بعد زندہ ہی پامال سم اسپاں ہو گئے. 🌹11= عبداللہ ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب. آپ امام حسن علیہ السلام کے فرزند اور والدہ بنت شلیل بن عبداللہ بجلی تھیں آپ کے نانا صحابی رسول تھے، کربلا میں سن بلوغ تک نہ پہنچے تھے، مگر شجاعت بے مثال کے مالک تھے. 14 دشمنوں کو قتل کر کے بدست ہانی ابن شیت خضرمی شہید ہوئے. 🌹12= عبداللہ بن علی ابن ابی طالب. آپ علمدار کربلا کے حقیقی بھائی اور فرزند جناب ام البنین اور امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے. کربلا میں ہانی بن ثبیث حضرمی کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹13= عثمان بن علی ابن ابی طالب. آپ بھی علمدار کربلا کے بھائی تھے آپ کی عمر 23 برس تھی اور میدان کربلا میں خولی شقی کے تیر سے گھائل ہو کر زخمی ہوئے اور قبیلہ ابان بن وارم کے ایک شخص کی تلوار سے شہید ہوئے. 🌹14= جعفر بن علی ابن ابی طالب. آپ کی عمر 21 برس اور میدان کربلا میں ہانی ابن ثبیث کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌹15= علمدار کربلا عباس بن علی ابن ابی طالب. ان بہادران بنی ہاشم کی شہادت کے بعد علمدار کربلا نے اذن شہادت طلب کیا مگر امام علیہ السلام نے اذن جنگ نہ دیا اور فرمایا کہ اطفال کے لیے پانی کا بندوبست کرو آپ مشکیزہ اور علم لے کے میدان میں گئے، جنگ کی اجازت نہ ملنےکے باوجود آپ کی ہیبت سے لشکر میں ہلچل مچ گئی تھی.

روایت ہے کہ مقام زرو پر امام نے آپ کی آمد کا انتظار کیا. اور میسرہ کی کمان آپ کے سپرد کی. یوم عاشور آپ نے 62 دشمن واصل نار کئے اور بدیل ابن حریم عفقائی کی تلوار کی ضرب سے گھائل ہوئے اور حصین بن نمیر کی تلوار جو آپ کے سر مبارک پر لگی شہید ہوئے. روایت ہے کہ آپ کا قاتل ابن زیاد سے 100 درہم کا انعام لے کے اور آپ کا سر مباک گھوڑے کی گردن میں لٹکا کر مکہ پہنچا جہان حبیب کے ایک فرزند نے اس کو قتل کر کے آپ کا سر مبارک مقام معلی میں جو اب "راس الحبیب" کے نام سے مشہور ہے دفن کر دیا. 🌺57= ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی. آپ نماز ظہر کے لئے عین ہنگامہ کارزار میں امام علیہ السلام جب امامت فرما رہے تھے، امام علیہ السلام کی حاظت کرتے ہوئے کمال دلیری سے شمشیرزنی کی اور اپنے چچازاد بھائی قیس ابن عبداللہ انصاری کے ہاتھوں شہید ہوئے. 🌺58= انیس بن معقل الاصبحی. آپ آل محمد علیہم السلام کے جانثاروں میں سے تھے. یوم عاشور ظہر کی نماز سے کچھ پہلے 10 دشمنوں کو قتل کرنے کے بعد شہید ہوئے. 🌺59= جابر ابن عروۃ الغفاری. آپ صحابی رسول تھے اور کافی غزوات میں شریک ہوئے. آپ نہایت ضعیف تھے. جنگ پر جانے سے قبل آپ نے عمامہ سے اپنی کمر اور ایک کپڑے سے اپنی پلکوں کو اٹھا کر باندھ لیا تھا. غضب کا معرکہ لڑا اور 60 افراد کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺60= سالم مولی عامرالعبدی. آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے اور کربلا میں شہید ہوئے. 🌺61= جنادہ ابن کعب الخزرجی. آپ قبیلہ خزرج کی یادگار تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے. 18 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺62= عمر بن جنادۃ النصاری. آپ جنادہ ابن کعب کے فرزند تھے باپ کی شہادت کے بعد والدہ نے آپ کو تیار کر کے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کیا امام نے کہا: "ابھی تمہارا باپ شہید ہوا ہے میں تم کو اجازت نہیں دے سکتا." تو آپ کی والدہ نے امام علیہ السلام کی قدم بوسی کی اور اجازت طلب کی. امام علیہ السلام سے اجازت لے کر میدان میں گئے اور شہید ہوئے. روایت ہے کہ قاتل نے سر کاٹ کر خیام کی طرف پھینکا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان میں پھینک دیا جو قاتل کے سینے پر لگا اور وہ وہیں واصل جہنم ہو گیا. 🌺63= جنادہ بن الحرث السلمانی. آپ کوفہ کے رہائشی تھے اور امام علیہ السلام سے راستے میں ملاقات کر کے شامل ہوئے. کربلا میں میدان جنگ میں ظہر سے قبل شہید ہوئے. 🌺64= عابس ابن شبیب الشاکری. آپ قبیلہ بنوشاکر کی یادگار تھے اور یہ وہی قبیلہ ہے جس کی بابت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جنگ صفین میں فرمایا تھا: "اگر بنوشاکر کے 1000 افراد موجود ہوں تو دنیا میں اسلام کے علاہ کوئی اور مذہب نہ ہو." یوم عاشور پر جب میدان میں آ کر مبازر طلب کیا تو کوئی بھی سامنے نہیں آیا بالآخر آپ پر اجتماعی پتھراؤ کیا گیا اور سب نے مل کر حملہ کیا جس سے آپ شہید ہوئے. 🌺65= شوذب ابن عبداللہ الہمدانی. آپ عابس الشاکری کے غلام تھے اور بلا کے جری تھے. آپ بھی اپنے مالک کے ہمراہ میدان کربلا میں شہید ہوئے. 🌺66= عبدالرحمان بن عروۃ الغفاری. آپ کوفہ کے رہائشی تھے اور میدان کربلا میں امام علیہ السلام کے نصرت اور تائید میں شہید ہوئے. 🌺67= حرث ابن امرو القیس الکندی. آپ صبح عاشور لشکر ابن سعد سے نکل کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوئے اور جام شہادت نوش کیا. 🌺68= یزید ابن زیاد الہدلی. آپ کی کنیت ابوالشعشا تھی. آپ اپنی قوم کے سردار اور فنون جنگ میں طاق تھے. آپ میدان کربلا میں بے جگری سے لڑے تو دشمنوں نے آپ کے گھوڑے کے پیر کاٹ دیئے اس وقت آپ کے ترکش میں 100 تیر تھے آپ نے ہر تیر سے ایک فرد کو واصل نار کیا. تیر ختم ہونے کے بعد تلواربازی کی اور نیزہ لگنے سے گھائل ہوئے. اور درجہ شہادت حاصل کیا. 🌺69= ابو عمرہ النہثلی. آپ میدان کربلا کی انفرادی جنگ میں شہید ہوئے آپ کا قاتل عامر بن نہشل تھا. 🌺70= جندب بن حجیر الخولانی الکندی. آپ انصار امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے اور کوفہ سے نکل کر لشکر حر کی آمد سے پیشتر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے. یوم عاشورہ کو حمایت فرزند رسول علیہ السلام میں جنت کے حقدار ہوئے. 🌺71= سلامن بن مضارب الانماری. آپ زہیر ابن قین کے چچا زاد بھائی تھے. مکہ سے امام علیہ السلام کے ہمرکاب ہوئے اور یوم عاشور بعد نماز ظہر شہادت سے سرفراز ہوئے. 🌺72= مالک ابن عبداللہ الجابری. آپ یوم عاشورہ سے چند یوم پہلے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے. آپ کی شہادت پر امام نے وہ ایک جملہ کہا جو تاریخ میں محفوظ ہے: "اے میرے وفادار بہادروں! تم میرے نانا کی خدمت میں چلو میں تمہارے پیچھے آ رہا ہوں."

🌺42= عبد الرحمن بن عبد المزنی. آپ نہایت سعید اور محب آل محمد تھے یوم عاشور اذن جنگ حاصل کر کے میدان میں آئے اور بے جگری سے لڑ کر شہید ہوئے. 🌺43= نافع بن ہلال الجملی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں شامل تھے جمل، نہروان اور صفین میں شر کت کی. کربلا میں سعی آب کی کوششوں میں علمدارکربلا کے ساتھ شریک ہوئے. 12 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺44= عمر ابن قزظتہ الانصاری. آپ مدینہ سے آ کر کوفہ میں مقیم ہو گئے تھے، اصحاب امیرالمؤمنین میں شامل تھے. میدان کربلا میں امام علیہ السلام کے پیغامات عمر بن سعد تک پہنچایا کرتے تھے. آپ نے بہت بے جگری سے جنگ لڑی اور بالآخر شہید ہو کر راہ حق میں کامیاب ہوئے. 🌺45= جون بن حوی غلام الغفاری. آپ جناب ابوذر غفاری کے غلام تھے. جون پہلے امام حسن علیہ السلام کی خدمت کرتے تھے اور اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کے خدمت میں مصروف ہو گئے. آپ امام علیہ السلام کے ہمراہ مکہ سے مدینہ اور کربلا آئے، عاشورہ کے دن آپ پہلے فرد ہیں جن کو امام علیہ السلام نے کئی بار اذن شہادت طلب کرنے کے باوجود منع فرمایا اور کہا: "جون مجھے پسند نہیں کہ میں تم کو قتل ہوتا دیکھوں." پھر جون کا وہ جملہ جو تاریخ میں مرقوم ہے: " مولا میرا پسینہ بدبودار، حسب خراب اور رنگ کالا ہی سہی لیکن عزم شہادت میں کوئی خامی نہیں ہے. مولا براہ خدا اجازت عطا کریں تا کہ سرخ رو ہو سکوں." اذن ملنے کے بعد جب آپ شہید ہو گئے تو امام علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ: "پروردگار ان کے پسینے کو مشکبار رنگ کو سفید اور حسب کو آل محمد کے انتساب سے ممتاز کر دے." روایت ہے کہ دعا ختم ہوتے ہی جون مثل گلاب اور پسینہ انتہائی معطر ہو گیا تھا. 🌺46= عمر ابن خال الصیدادی. آپ کوفہ سے نکل کر مقام عذیب پر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوم عاشورہ کو عروس شہادت سے ہم کنار ہوئے. 🌺47= حنظلہ ابن اسعد الشبامی. آپ امام علیہ السلام کے پاس کربلا میں پہنچے تھے اور بہت جواں مردی کے ساتھ جنگ کر کے شہید ہوئے. 🌺48= سوید ابن عمارالاتماری. آپ بڑے شجاع اور آزمودہ کارزار تھے آپ کو میدان کربلا میں عروہ بن بکار اور یزید بن ورقا نے شہید کیا. 🌺49= یحیی بن سلیم امازنی. آپ شب عاشور بریر ہمدانی کے ساتھ پانی کے لئے کی جانے والی کوشش میں شریک تھے. اور یوم عاشور کو امام علیہ السلام کے انصاروں کے ساتھ میدان کربلا میں شہید ہوئے. 🌺50= قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری. آپ نہایت شریف اور جانباز تھے. یوم عاشور امام علیہ السلام سے اجازت حاصل کرنے کے بعد دشمن پر اتنی بے جگری سے حملے کئے کہ دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے. آپ رجز پڑھتے اور حملے کرتے یہاں تک کے شہید ہو گئے. 🌺51= مالک ان انس المالکی. آپ کا نام انس بن حرژ بن کاہل بن عمر بن صعب بن اسد بن حزیمہ اسدی کاہلی تھا. آپ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے صحابی اور راوی حدیث بھی ہیں. آپ کوفہ سے نکل کے امام علیہ السلام کی بارگاہ میں کربلا میں حاضر ہوئے. آپ نہایت کبیرالسن تھے. اور یوم عاشور ظہر کی نماز سے کچھ پہلے شہید ہوئے. 🌺52= زیاد ابن غریب الصائدی. آپ کی کنیت ابو عمرۃ تھی. آپ بنی ہمدان کی شاخ بنی حائد کے چراغ تھے. امام علیہ السلام سے کربلا میں ملاقات کی اور درجہ شہادت حاصل کیا. آپ کا قاتل عامر بن نہشل تھا. 🌺53= عمر بن مطاع الجعفی. امام علیہ السلام سے کربلا میں ملاقات کی اور درجہ شہادت حاصل کیا. 🌺54= حجاج ابن مسروق المدحجی. آپ کا شمار انصار امیرالمؤمنین علیہ السلام میں ہوتا تھا. امام علیہ السلام کی مکہ سے روانگی کا سن کر آپ بھی کوفہ سے عازم سفر ہوئے اور منزل قصر بنی مقاتل میں شرف ملاقات حاصل کیا اور 15 دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد واپس امام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے واپسی پر آپ کا غلام "مبارک" بھی ہمراہ ہو گیا دونوں نے کمال کی جنگ کی اور 150 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺55= زہیر ابن قین بجلی. آپ کوفہ کے رہائشی تھے پہلے عثمانی بعد میں حسینی علوی ہو گئے. حج سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپسی پر امام علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور امام علیہ السلام کے ہمراہ ہو گئے. امام کے لشکر میں شامل ہونے کے بعد اپنی زوجہ کو طلاق دے کے واپس بھیج دیا اور خود شیہد ہو گئے. روایت ہے کہ شب عاشور جب ایک رات کی مہلت لینے کے لیے علمدار کربلا گئے تهے تو آپ بھی ان کے ہمراہ گئے تھے. مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کے میمنہ کی سربراہی بھی جناب کو ہی عطا کی گئی تھی. آپ نے 120 افراد کو قتل کر کے جام شہادت نوش کیا. 🌺56= حبیب ابن مظاہر الاسدی. آپ صحابی رسول صلی علیہ وآلہ وسلم تھے اور امام علیہ السلام کے بچپن کے دوست تھے. آپ کاایک اعزاز یہ بھی ہے کہ آپ نے 3 اماموں علیہم السلام کی صحبت کا شرف حاصل کیا.

🌺31= بشر بن عمر الکندی. آپ حضر موت کے رہنے والے تھے اور قبیلہ کندہ کے فرد تھے آپ بھی جنگ اولین میں شہید ہوئے. 🌺32= عبداللہ بن عروہ الغفاری. آپ کربلا میں امام علیہ السلام سے آ کر ملے اور جنگ ملغوبہ میں شہادت پائی. 🌺33= بریر ابن خضیر الہمدانی. آپ قبیلہ بنو ہمدان کی شاخ بنو مشرق کی عظیم شخصیت تھے. انصار امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے اور مکہ سے امام علیہ السلام کے ہم رکاب ہوئے. شب عاشور پانی کی جدوجہد میں جو کارنامہ کیا ہے وہ تاریخ میں سونے کے حروف سے رقم ہے. آپ کا شب عاشور پانی لانا وہ واقعہ تاریخ میں رقم ہے ۔مائتین صفحہ 316-323۔ یوم عاشور سب سے پہلا گریہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا وہ آپ کے جسد خاکی پر کیا تھا "ان بریر امن عباد اللہ الصالحین" ہاے بریر ہم سے جدا ہو گئے جو خدا کے بہترین بندوں میں سے ایک تھے. 🌺34= وہب ابن عبداللہ الکلبی. یہ حسینی بہادر نصرانی تھا اور کسی سفر میں اپنی بیوی اور والدہ کے ہمراہ جا رہا تھا امام علیہ السلام کے نصرت کے لئے رکا اور اسلام قبول کیا اور کتاب ذکر العباس میں تفصیل سے موجود ہے. آپ نے 24 پیادے قتل کئے اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ آپ کی لاش پر گئیں اور اسی دوران شمر کے حکم پر اس کے غلام رستم نے آپ کو بھی شہید کر دیا. بعض مؤرخین نے آپ کی زوجہ کو پہلی خاتون شہید لکھا ہے. روایت ہے کے آپ کا سر کاٹ کے خیام حسینی کی طرف پهینکا گیا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان کی طرف پهینک دیا اور فرمایا: "ہم راہ مولا میں جو چیز دے دیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے." روایت ہے کہ آپ کی والدہ نے بھی 2 دشمنوں کو واصل جہنم کیا تھا. دمعةالساکبہ، ص: 331. طوفان بکا 13. 🌺35= ادہم بن امیتہ العبدی. آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ میں سکونت اختیار کی تھی. ماریہ کے مکان پر ہونے والے تمام اجلاسوں میں شریک ہوئے. ایک دن یزید بن ثبیط نے کہا کے میں امام علیہ السلام کی امداد کے لئے مکہ جا رہا ہوں. آپ نے کہا کے میں بھی ساتھ چلوں گا. آپ مکہ پہنچے اور یوم عاشور اپنی جان عزیز امام علیہ السلام پر قربان کر کے امر ہو گئے. 🌺36= امیہ بن سعد الطائی. آپ کوفے میں رہتے تھے جب آپ کو علم ہوا کے امام حسین علیہ السلام کربلا پہنچ گئے ہیں تو آپ فی الفور کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو گئےاور یوم عاشور کمال جذبہ قربانی کے پیش نظر امام علیہ السلام اور اسلام پر قربان ہو گئے. 🌺37= سعد ابن حنظلہ التمیمی. آپ کے بیشتر حالات تاریخ میں موجود نہیں ہیں مگر ایک جملہ موجود ہے کہ آپ نہایت بے جگری سے لڑے اور بہت سے دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتار کر میدان کارزار میں جام شہادت نوش کیا. 🌺38= عمیر ابن عبداللہ المدحجی. جناب سعد ابن حنظلہ کی شہادت کے بعد آپ میدان میں آئے اور کمال بے جگری سے لڑے، بالاخر مسلم صبانی اور عبداللہ بجلی نے آپ کو شہید کیا. 🌺39= مسلم بن عوسجہ الاسدی. آپ کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے. 24 ہجری میں فتح آذربائیجان میں حذیفہ یمان کے ہمراہ جو کارنامے انجام دیئے وہ تاریخ میں موجود ہیں. نو محرم کی شام میں امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں امام علیہ السلام نے جب انصار اور احباب سے واپس جانے کو کہا تھا تو اعزاء کی طرف سے حضرت عباس علمدار علیہ السلام اور انصار کی طرف سے جناب مسلم بن عوسجہ نے کہا تھا: " کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا ہم اگر ساری عمر مارے جائیں اور جلا بھی دیئے جائیں تب بھی آپ کی معرفت اور ساتھ نہیں چھوڑیں گے. آپ علیہ السلام کی خدمت میں شہادت، شہادت عظیم ہے." شب عاشور جب خندق کے گرد آگ جلانے پر لشکر کفار سے لڑائی ہوئی تھی تو آپ نے ہی اسکا منہ توڑ جواب دیا تھا. جب آپ مسلم بن عبداللہ اور عبداللہ بن خشکارہ بلخی کے ہاتھوں شہید ہوئے تو شبت ابن ربعی اگرچہ دشمن تھا بولا "افسوس تم ایسے شخص کے مرنے پر خوشی کر رہے ہو جس کے اسلام پر احسانات ہیں جس نے جنگ آذربائیجان میں مشرکوں کی کمر توڑ دی تھی." آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند میدان میں آئے اور 30 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے. 🌺40= ہلال ابن نافع البجلی. آپ کی پرورش امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کی تھی. تیر اندازی میں ثانی نہیں رکھتے تھے. اور عادت تھی کی تیروں پر اپنا نام کندہ کر کے استعمال کرتے تھے. شب عاشور امام علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور موقعہ جنگ کا معائنہ کیا. ترکش میں موجود 80 تیروں سے 75 دشمنوں کو قتل کیا اور اسکے بعد تلوار سے 13 کو واصل جہنم کیا. اور پھر کفار کی طرف سے اجتماعی حملے میں شہید ہوئے. 🌺41= سعید بن عبداللہ الحنفی. آپ کوفے کی نامی گرامی اشخاص میں تھے. اور میدان کربلا میں بوقت نماز ظہر جب دوران جماعت دشمنوں نے تیر اندازی شروع کی تو آپ امام علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ایک بھی تیر امام کی طرف آنے نہ دیا تا آنکہ شہید ہو گئے.

🌺16= عمرو بن عبداللہ الجندعی. جندع قبائل ہمدان کی ایک شاخ کا نام تھا آپ کربلا میں شامل لشکر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. علامہ مجلسی، فاضل اربلی اور سپہر کاشانی نے اپنی کتابوں میں جنگ ملغوبہ کے بجائے میدان کارزار میں شہادت بیان کی ہے. زیارت ناحیہ میں درد آگین الفاظ کے ساتھ آپ پر سلام کیا گیا ہے. 🌺17= حلاس بن عمر الراسبی. آپ کوفہ کے رہائشی اور قبیلہ ازو کی شاخ راسب کی یادگار تھے اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام میں شمار ہوتے تھے. کوفہ سے عمر سعد کے لشکر کے ہمراہ آئے تھے اور جب آپ کو یقین ہو گیا کے صلح نہ ہو سکے گی تو شب عاشور امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺18= نعمان بن عمر الراسبی. آپ بھی قبیلہ ازو کے چشم و چراغ تھے آپ حلاس ازدی کے سگے بھائی تھے لشکر ابن سعد سے بغاوت کر کے شب عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر حیات ابدی کے مالک بن گئے. 🌺19= سوار ابن ابی عمیر الہمدانی. آپ ھمدان کے رہنے والے تھے اور محرم کے مہینے میں امام علیہ السلام کے پاس پہنچے تھے. اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺20= عمار ابن سلامتہ الدالانی. آپ قبائل ہمدان کی ایک شاخ بنی دالان کے ایک معزز فرد تھے اورآپ کو صحابی رسول صلی علیہ و آلہ وسلم اور صحابی امیرالمؤمنین علیہ السلام ہونے کا شرف حاصل ہے. جنگ جمل، صفین و نہروان میں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ رہے. آپ بھی جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺21= زاہر بن عمر الکندی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ایک صحابی عمرو بن الحمق کے ہر وقت ہمراہ رہتے تھے آپ نہایت زبردست پہلوان مشہور تھے اور عرب کے لوگ آپ سے متاثر تھے آپ حج کے لیے مکہ پہنچے اور پھر امام علیہ السلام کے ہمراہ ہو گئے. آپ مکہ سے کربلا امام علیہ السلام کے ہمراہ آئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. آپ کے پوتوں میں محمد بن سنان امام رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے روایوں میں شامل ہیں محمد ابن سنان کی وفات 220 ہجری میں ہوئی. 🌺22= جبلہ ابن علی الشیبانی. آپ جناب مسلم علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہو گئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺23= مسعود بن حجاج التیمی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک تھے. آپ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ کربلا پہنچے اور پھر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر حیات ابدی کے مالک بن گئے. علماء نے لکھا ہے کہ آپ کے ہمراہ اپ کے فرزند عبدالحمن ابن مسعود بھی شہید ہوئے تھے. 🌺24= حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی. آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور آپ کا تعلق بنی سعد سے تھا آپ رئیس بصرہ مسعود بن عمر کا خط لے کر امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پھر واپس نہیں گئے. اور یوم عاشور جنگ ملغوبہ میں امام علیہ السلام پر قربان ہو گئے. 🌺25= عبداللہ ابن بشر الخثعمی. آپ ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ کوفہ سے کربلا آئے تھے اور صبح عاشور، امام علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر جنگ ملغوبہ میں شہید ہو کر شہداء میں شامل ہوئے. 🌺26= عمار ابن حسان الطائی. آپ امام عالی مقام علیہ السلام کے ساتھ مکہ سے کربلا آئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺27= عبداللہ ابن عمیر الکلبی. آپ قبیلہ علیم کے چراغ تھے آپ پہلوانی میں بہت ماہر تھے اور کوفہ کے محلہ ہمدان کے قریب چاہ جعد میں رہتے تھے. کوفہ سے اپنی زوجہ کے ہمراہ نکل کر امام کے لشکر میں شامل ہوئے اور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. آپ کی زوجہ ام وہب جب آپ کی لاش پر پہنچی تو شمر کے ایک غلام رستم نے اس مومنہ کے سر پر گرز کا وار کر کے ان کو بھی شہید کر دیا. آپ کی زوجہ کو کربلا کی پہلی خاتون شہید کہا جاتا ہے. 🌺28= مسلم ابن کشیر الازدی. آپ امام علیہ السلام کے کربلا پہنچنے سے قبل کسی مقام پر امام علیہ السلام کے ہمراہ شامل ہو گئے تھے اور صبح عاشور شہید ہوئے. کچھ مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کے ہمراہ آپ کے ایک غلام رافع ابن عبداللہ بھی شامل تھے جو کربلا میں نماز ظہر کے بعد شہید ہوئے. 🌺29= زہیر ابن سیلم الازدی. آپ قبیلہ ازد کے نمایاں فرد تھے اور شب عاشور امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچ کر شامل لشکر ہوئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺30= عبداللہ بن یزید العبدی. آپ اپنی قوم کے سردار اور کوفے میں ماریہ کےگھر جو اجلاس ہوتا تھا اس میں شرکت کرتے تھے آپ مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے اور کربلا میں اولین جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا. کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ آپ کے بھائی عبیداللہ اور والد گرامی یزید ابن ثبیط بھی مکہ سے ہم رکاب ہوئے اور عبیداللہ نے اولین اور بعد نماز جنگ میں والد نے شہادت پائی.

🌺2= علی ابن حر الریاحی. آپ حر بن یزید الریاحی کے بیٹے تھے۔ نام علی تھا حر علیہ السلام کی شہادت کے بعد حر شہید کے قدموں سے اپنی آنکھوں کو ملایا اور امام علیہ السلام کے قدم بوس ہو کر اذن شہادت طلب کیا اور شہید ہوئے. 🌺3= نعیم بن العجلان الانصاری. آپ قبیلہ خزرج کے چشم و چراخ تھے اور آپ کے 2 بھائی نضر اور نعمان اصحاب امیرالمؤمنین علیہ السلام میں تھے اور آپ واقعہ کربلا میں عاشور کے اولین شہداء میں شامل ہوئے. یہ وہ جنگ تھی جو صبح عاشور بوقت نماز فجر ہوئی تھی. تاریخ میں یہ جنگ، جنگ مغلوبہ کے نام سے مشہور ہے. 🌺4= عمران بن کعب الاشجعی. آپ کا پورا نام عمران بن کعب ابن حارث الاشجعی تھا. آپ نے امام عالی مقام علیہ السلام کا جس وقت سے ساتھ دیا آخر دم تک اسی پر قائم رہے آپ بھی جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺5= حنظلہ ابن عمر الشیبانی. آپ بھی امام علیہ السلام کے وفاداروں میں تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺6= قاسط بن زہیر التغلبی. جناب امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے جمل، نہروان، صفین میں جانبازی سے شریک ہوئے تھے اور بہت جری تھے. آپ کوفہ سے امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے آئے تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺7= کردوس بن زہیر التغلبی. آپ کا نام کردوس بن زہیر حرث تغلبی تھا آپ قاسط بن زہیر کے حقیقی بھائی تھے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے. روایت ہے کہ آپ بھی اپنے تیسرے بھائی مسقط بن زہیر کے ہمراہ امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے شب عاشور کربلا میں وارد ہوئے تھے اور جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺8= کنانہ بن عتیق التغلبی. آپ کوفہ کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتے تھے. قرأت قرآن میں بھی شہرت رکھتے تھے. کربلا میں جنگ مغلوبہ میں شہید ہوئے. 🌺9= عمر بن صبیقی الضبعی. آپ کا پورا نام عمر بن صبیقہ ابن قیس بن ثعلبتہ الضبعی تھا. ابن سعد کے لشکر کے ہمراہ امام علیہ السلام سے مقابلے کے لیے کربلا آئے تھے. لیکن صحیح حالات سے باخبر ہونے کے بعد لشکر کو خیر باد کہہ کر امام علیہ السلام کی بارگاہ میں معافی طلب کر کے جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. 🌺10= ضرغامہ ابن مالک التغلبی. آپ کا نام اسحاق اور لقب ضرغامہ تھا. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے جانباز صحابی مالک اشتر کے بیٹے اور ابراہیم بن مالک کے بھائی تھے. کوفے میں جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کے ہاتھ پر امام علیہ السلام کی بیعت کر کے کربلا پہنچ کر یوم عاشور 500 درندوں کو واصل جہنم کر کے شہید ہوئے. 🌺11= غامر بن مسلم العبدی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے شیعہ اور بصرہ کے رہنے والے تھے آپ کا پورا نام غامر بن مسلم عبدی المطری تھا. آپ مکہ معظمہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ ہو گئے تھے اور تا دم آخر ساتھ ہی رہے آپ کے ہمراہ آپ کا غلام سالم بھی تھا، زیارت ناحیہ کی بناء پر آپ کا غلام بھی آپ کے ہمراہ ہی شہید ہوا. 🌺12= سیف ابن مالک العبدی. آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے امام علیہ السلام کی نصرت کے لیے ماریہ کے مکان پر جو خفیہ اجتماع ہوا کرتا تھا آپ اس میں شامل ہوا کرتے تھے. آپ نے مکہ میں امام علیہ السلام کی معیت اختیار کی اور جنگ ملغوبہ میں یوم عاشور کو شہید ہوئے. 🌺13= عبد الرحمان الارجبی. آپ قبیلہ بنوہمدان کے شاخ بنو ارجب کے چشم و چراغ تھے آپ کا پورا نام عبد الرحمن بن عبداللہ الکذن بن ارجب بن دعام بن مالک بن معاویہ بن صعب بن رومان بن بکیر الھمدانی الارجبی تھا. آپ اس دوسرے وفد کے ایک رکن تھے جو کوفے سے خطوط لے کے مکہ گئے تھے جبکہ آپ کے ہمراہ قیس اور 50 خطوط تھے. یہ وفد 12 رمضان کو امام علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچا تھا. کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کے جناب مسلم علیہ السلام کے ہمراہ یہی عبد الرحمن، قیس اور عمارہ شامل تھے. عبدالرحمٰن جناب مسلم کو کوفے پہنچا کر واپس امام علیہ السلام کی خدمت میں مستقل شامل ہو گئے تھے اور عاشور کو امام علیہ السلام کے ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہوئے. 🌺14= مجمع بن عبداللہ العامذی. آپ قبیلہ مذحج کے نمایاں فرد تھے. آپ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے. یہ وہی ہیں جنہوں نے امام علیہ السلام کو مقام عذیب میں کوفے کے تمام حالات سے آگاہ کیا تھا اور کوفہ جانے والے امام کے آخری قاصد قیس ابن مسہر کی گرفتاری اور انکی شہادت سے امام علیہ السلام کو آگاہ کیا تھا. آپ بھی جنگ ملغوبہ میں شہید ہوئے. کچھ روایات نے آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند عائذ بن مجمع کی شہادت بھی کربلا میں لکھی ہے. 🌺15= حیان بن حارث السلمانی. آپ قبیلہ ازو کے چشم و چراغ تھے. مدینے سے کربلا جاتے ہوئے امام علیہ السلام کے ہمراہ ہوئے اور صبح عاشور جنگ ملغوبہ میں امام علیہ السلام کی نصرت کرتے ہوئے شہید ہوئے.