ISLAM WITH EMAN
Ir al canal en Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
Mostrar más1 286
Suscriptores
+124 horas
-27 días
-630 días
Archivo de publicaciones
1 285
انسانی ارتقاء کا مخصوص نظریہ رکھنے والوں سے تین سوالات !
نمبر ١. یہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان لاکھوں سال پرانا ہے تو ہمارا سوال یہ ہے کہ لاکھوں سالوں میں انسانی ابادی میں اضافہ کیوں نہیں ہوا ؟
گزشتہ صدی میں خوف ناک جنگوں کے باوجود ابادی میں سات گنا اضافہ ہوا اگر ہم دس ہزار پہلےدس لاکھ ابادی کو لیکر ہر سوسال میں صرف اسے دوگناکرے تو اٹھ ہزار پہلے تک یہ ایک ارب سے زیادہ بنتی ہے جو کہ نا قابل یقین ہے
دوسری بات براعظم افریقہ اج بھی بہت غریب ہیں لوگوں کھانا تک نہیں ملتا لیکن اس کی موجودہ ابادی سو سال پہلے تک کی پوری دنیا کی انسانی ابادی سے زیادہ ہے !
تو سوال وہی کہ ابادی اضافہ کیوں نہیں ہوا ؟
دوسرا سوال !. انسان نے پہلی بار کاشت کیلیے گندم کو کہا سے حاصل کیا ؟
کیونکہ گندم کی یہ خصوصیت ہے کہ جب یہ زمین پر گرتا ہے تو جب بھی اسے پانی ملتا ہے یہ اگتا ہے دوسری یہ موسمی فصل ہے نا مناسب موسم کے بنا یہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ! مثلا کسان سے گندم کے جو دانے گرتے ہیں زمین پر اگر اس پر سال بھی گزر جایے لیکن ان میں سے ایک دانہ ایسا نہیں ہوگا جو سبز ہوکر خود بخود پک جایے !
تو یہ بہت بڑا سوال ہے ارتقاء والوں سے کہ انسان نے پہلی بار کاشت کیلیے گندم کے دانے کہا سے حاصل کئے ؟
تیسرا سوال !
اس وقت دنیا میں انسانوں کی تین بڑی نسلیں ہیں
١ منگولیڈ نسل (تقریبا ایک تہایی )
٢ کالے لوگ ( بلیک پیوپل )
٣ گورے لوگ
ان تینوں کی ابادی تقریبا برابر ہے '
ان میں سے منگولیڈ نسل چاینا ' انڈونیشیاء ' جاپان ' کوریا ' شمالی ایشیایی ممالک اور انڈیا ' پاکستان ' افغانستان ' ایران اور ترکی کے شمالی علاقوں میں رہتے ہیں اور یہ دنیا کی ابادی کا ٣٣ % حصہ بناتے ہیں '
دوسری نسل کالے لوگوں کی ہے جو کہ افریقہ ' امریکہ اور بر صغیر میں رہتے ہیں ' اگرچہ بر صغیر میں گورے اور کالے لوگوں کی نسلیں حلط ملط ہوی لیکن اگر اپ اس کا مختاط اندازہ لگایے تو ان کی ابادی بھی تقریبا دنیا کی کم و بیش ٣٣% حصہ بنتی ہے اور باقی گورروں کی ابادی بھی کم و بیش ٣٣% بنتی ہے !
اب ارتقاء والوں سے سوال یہ ہے کہ یہ تینوں نسلیں کس طرح بنی اور ان کی ابادی ایک جیسے کیوں ہیں ؟
🔷🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
🔷 آزاد عورت 🔷
ماڈرن خواتین اب کھانا بنانے کے قابل نہیں رہیں ، وہ اب بچے پیدا کرنا نہیں چاہتیں ، وہ صرف ایک گرم شہوت انگیز جنسی عمل کرنے والا وجود بن کر رہ چکی ہیں جو اپنے اہلخانہ کا خیال رکھنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کے قابل نہیں ہے -
ماڈرن خواتین شاید اتنی ہی “آزاد” اور “مضبوط” ہو چکی ہیں کہ اب وہ اپنی شادی شدہ فیملی لائف شروع کرنے کے قابل ہی نہیں رہیں ۔
ایک ماڈرن عورت آج مرد کو جو چیز پیش کر سکتی ہے وہ ہے صرف "جنسی عمل" - لہذا ایک محبت کرنے والی بیوی اور فیملی خاتون بننے کے بجائے، جو کھانا بناتی ہے اور اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہے ، ماڈرن عورت کا مرد کے ساتھ تعلق صرف "جنسی کھیل" تک محدود ہوکر رہ گیا ہے -
جذباتی اور ذہنی طور پر وہ اس حد تک بیمار ہے کہ جہاں وہ اپنی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لیے مصنوعی طریقے اختیار کرتی ہے جیسا کہ ؛ پلاسٹک سرجریوں ، کاسمیٹکس اور سلیکون فلرز پر خرچ کرتی ہے اور وہ یہ سوچتی ہے کہ ایسا کرنے سے وہ زیادہ حسین دکھائی دے گی ، زیادہ پرکشش، اور جاذب نظر آنے کے لیے وہ شدت سے کوشش کر رہی ہے۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی دیگر اخلاقی خوبیاں جیسا کہ؛ محبت کرنا اور دوسروں کا خیال رکھنا کھو دیا ہے، جو مرد اور خاندان کو یکساں طور پر عورت کی طرف راغب کرتا ہے ۔ تو ہم اخلاقی حسن سے عاری ایک مصنوعی وجود سے اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟
یہ ہے عورت کی آزادی ، حقوق نسواں کا پھل - جو عورت کو اس کی نسوانیت سے عاری کرکے ایک مصنوعی مارکیٹ پراڈکٹ بنا چکی ہے -
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 چنگیز خان اور چرواہے کا سچ 🔷
کہا جاتا ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور میں خون کی ندیاں بہا دیں اور شہر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا، تو اُس کے بعد وہ اپنی فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔
وہاں کے لوگوں پر خوف کے سائے چھا گئے۔ لوگ لرزتے دل اور سہمے چہروں کے ساتھ اس کا سامنا کرنے پر مجبور تھے۔
“چنگیز خان نے سارے شہر کو ایک وسیع و عریض میدان میں جمع کیا، جہاں ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ اس نے بلند آواز میں اعلان کیا:
‘میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت سمجھدار، زیرک، اور فہم و شعور میں بے مثال ہیں۔ ھمدانیوں کی معاملہ فھمی زبان زد عام ہے ، اور تمہارے بارے میں مشہور ہے ھمه دانی و ھیچ ندانی اتنے زیرک ھو سب کچھ جانتے ہو ے بھی کچھ نہیں جانتے ،
چنگیز خان کی نظریں میدان میں کھڑے لوگوں پر جم گئیں اور اس نے کہا:
‘میں تم سے ایک سوال کروں گا، جس کا جواب اگر صحیح اور معقول ہو، تو تمہیں امان ملے گی، تمہیں تحفظ ملے گا، لیکن اگر تم میرے سوال کا جواب غلط دیا، تو یہی میدان تمہارا آخری ٹھکانا بنے گا۔ تمہاری تقدیر یہاں فیصلے کی محتاج ہے، اور اگر تم غلط جواب دو، تو اس میدان میں تم سب کو تہہ تیغ کر دوں گا۔’
اس کی آواز میں وہ دلی دھاڑ تھی جو ہر شخص کے دل میں خوف کی لہر دوڑاتی۔”
اس میں چنگیز خان کے ارادے اور اس کے حاکمانہ انداز کو واضح کیا گیا ہے، اور یہ اس کے سوال کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے
پھر وہ رُکا، لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:
“کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں، یا اپنی مرضی سے آیا ہوں ؟”
مجمع ساکت تھا۔ کوئی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ جانیں لبوں پر تھیں،
“لہذا ہمدان کے دانشور، علما، بزرگان، پڑھے لکھے لوگ اور اہلِ حل و عقد سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ وہ چنگیز خان کے سوال کا مناسب جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سب کے چہرے پر خوف اور اضطراب تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ سوال محض ایک امتحان نہیں، بلکہ پورے شہر کے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا
“شہر کے بڑے اور اہلِ دانش سوچ و بچار میں غرق تھے، ایک طرف شہر کی تقدیر کا سوال تھا اور دوسری طرف خوف کی ایک گہری لہر۔ اس دوران اچانک ایک چرواہا جواب دینے کے لئے کھڑا ہوا جس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے بصیرت تھی، ہجوم سے آگے بڑھا۔
شہر کے لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں، ہر کسی کے دل میں یہی سوال تھا کہ یہ چرواہا چنگیز خان کے سوال کا کیا جواب دے گا؟
چنگیز خان نے اسے غور سے دیکھا، پھر اپنی گرجدار آواز میں کہا: ‘اگر میں جواب سنوں گا، تو اسی سے سنوں گا!
چرواہے نے نہایت دلیری سے چنگیز خان کی طرف دیکھا اور کہا:
“نہ تو تم خدا کی طرف سے آئے ہو، اور نہ ہی اپنی مرضی سے آے ہو ۔
تمہیں ہمارے اعمال یہاں لائے ہیں!
جب ہم نے اہلِ عقل و دانش کو نظرانداز کیا،
اور بےوقوفوں، جاہلوں، اور چاپلوسوں کو عزت، اختیار اور قیادت دی،
تو پھر یہی دن دیکھنا تھا۔
تم ہماری نادانی، ہماری بےبصیرتی اور ناانصافی کا نتیجہ ہو!”
چنگیز خاموش ہو گیا۔ شاید اُسے بھی اس سچائی کی گہرائی نے ایک لمحے کو ہلا دیا تھا۔ اور چنگیز خان نے سب کو جانے دیا
پیغام:
قوموں پر چنگیز جیسے طوفان آسمان سے نازل نہیں ہوتے،
یہ اُن کے اپنے ہاتھوں کے بوئے ہوئے بیجوں کا پھل اور مکافات عمل ہوتے ہیں۔
از مکافات عمل غافل مشو
گندم از گندم بروید جوزجو
ترجمہ:
مکافات عمل سے کبھی غافل نہ ہونا گندم بؤو گے تو گندم کاٹو گے جو بوؤ گے تو جو کاٹو گے
جیسا کروگے ویسا بھرو گے۔
🔘 اگر آج بھی ہم نے عقل و علم کو مقام نہ دیا، انصاف اور صداقت کا پرچم نہ تھاما، تو چنگیز کے سائے پھر سے لوٹ آئیں گے۔ چاہے نام کچھ بھی ہو، شکل کچھ بھی ہو۔ قومیں بندوق سے نہیں، بصیرت سے باقی رہتی ہیں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ روپیہ کیوں ہے؟ 🔷
ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﯿﮟ، ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺟﻮ ﺳﮑﮧ (ﮐﺮﻧﺴﯽ) ﺭﺍﺋﺞ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺘﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺗﻮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﺧﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺧﻠﯿﺠﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ
ﯾﮧ ﺭﯾﺎﻝ، ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻐﺖ ‘ﺍٓﮐﺴﻔﺮﮈ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔
🔹 روپیہ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ”ﭼﺎﻧﺪﯼ “ ﮨﮯ۔ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ
ﻣﯿﮟ ﺳﮑﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﻮ ﺭﺍﺋﺞ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ
ﺍﻧﮉﻭﻧﯿﺸﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺑﻮﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﻣﺎﺧﺬ
ﺳﻨﺴﮑﺮﺕ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﯽ ﮨﮯ۔
🔹 ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﮈﺍﻟﺮ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻧﺎﻡ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ، ﺍٓﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ، ﮐﯿﻨﯿﮉﺍ، ﻧﯿﻮﺯﯼ ﻟﯿﻨﮉ، ﺳﻨﮕﺎﭘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍٓﮐﺴﻔﺮﮈ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺎﺧﺬ ﺟﺮﻣﻨﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﯾﻢ ﻟﻔﻆ ” ﮨﺎﻭٔﺧﻤﺴﺘﮭﺎﻝ “ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺳﮯ ﻣﺎﻻﻣﺎﻝ ﮨﺎﻭٔﺧﻢ ﻭﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﺱ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﻮ ” ﮨﺎﻭٔﺧﻤﺴﺘﮭﺎﻟﺮ “ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺻﺮﻑ ”ﺗﮭﺎﻟﺮ “ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﮕﮍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
🔹 ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ، ﺍﯾﺮﺍﻥ، ﻗﻄﺮ، ﯾﻤﻦ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﮑﮧ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ” ﺭﯾﺎﻝ “ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺎﺧﺬ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﻟﻔﻆ ” ﺭﯾﻐﺎﻟﺲ “ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ”ﺷﺎﮨﯽ “ ﮨﮯ۔
ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﻮﺭﻭ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﺳﭙﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﺭﯾﺎﻝ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺮﺍﺯﯾﻞ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺭﯾﺎﻝ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻮﺍٓﺑﺎﺩﯾﺎﺗﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﮞ ﺍﺳﭙﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺗﮕﺎﻝ ﭘﺮ ﻋﺮﺏ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
🔹 ﺍﺭﺩﻥ ﺍﻟﺠﺰﺍﺋﺮ، ﺳﺮﺑﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﯾﺖ ﮐﺎ ﺳﮑﮧ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﻟﻔﻆ ”ﺩﯾﻨﺎﺭﯾﺲ “ ﮐﯽ ﺑﮕﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮑﻞ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺪﯾﻢ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
🔹 ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﭘﺎﻭٔﻧﮉ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﻟﻔﻆ ”ﭘﺎﻭٔﻧﮉﺱ “ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﺯﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ، ﻣﺼﺮ، ﻟﺒﻨﺎﻥ، ﺳﻮﮈﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﭘﺎﻭٔﻧﮉ ﮐﮩﻼﺗﯽ ﮨﮯ۔
🔹 ﭼﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺍٓﻥ، ﺟﺎﭘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﻭﻥ۔ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻣﺎﺧﺬ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻨﯽ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ” ﮔﻮﻝ “ ﯾﺎ ”ﮔﻮﻝ ﺳﮑﮧ “
🔹 ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ” ﻟﯿﺮﺍ “ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﻟﻔﻆ ” ﻟﺒﺮﺍ “ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﯽ ﮨﮯ۔
🔹 ﺭﻭﺱ ﮐﺎ ﺳﮑﮧ ﺭﻭﺑﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
🔹 ﺟﺮﻣﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻦ ﻟﯿﻨﮉ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﻣﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﻥ ﮨﯽ ﮨﮯ۔
🔹 ﻣﯿﮑﺴﯿﮑﻮ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﯿﺴﻮ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﯾﮏ ﮨﺴﭙﺎﻧﻮﯼ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ”ﻭﺯﻥ “
🔹 ﺷﻤﺎﻟﯽ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺮﻧﺴﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ہوتی ہے۔۔۔
Copied۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 دوسروں کا خیال رکھیں 🔷
اہل عرب جب شادی بیاہ کرتے تھے تو قدیم رواج کے مطابق،،، دعوت کی تقریب میں شامل مہمانوں کی تواضع کے لیے بھنے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کو روٹی کے اندر لپیٹ کر پیش کرتے تھے .
اگر کسی تقریب میں گھر کے سربراہ کو پتا چلتا کہ اس شادی میں شریک افراد کی تعداد دعوت میں تیار کیے گوشت کے ٹکڑوں کی تعداد سے زیادہ ہے ، یا زیادہ ہوسکتی ہے ، تو وہ کھانے کے وقت دو روٹیاں (گوشت کے بغیر) ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور انتہائی قریبی دوستوں میں تقسیم کرتے جبکہ گوشت روٹی کے اندر لپیٹ کر صرف باہر سے آئے ہوئے اجنبیوں کو پیش کیا جاتا تھا...
ایسا ہی ایک بار غریب شخص کے ہاں شادی کی تقریب تھی جس میں اس شخص نے دعوت کے دن احتیاطاً بغیر گوشت کے روٹی کے اندر روٹی لپیٹ کر اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور متعدد قریبی قابلِ بھروسہ دوستوں کو کھانے میں پیش کی،،، تاکہ اجنبیوں کو کھانے میں روٹی کے ساتھ گوشت مل سکے اور کسی بھی قسم کی شرمندگی سے بچا جاسکے.
جنہیں صرف روٹی ملی تھی تو انہوں نے ایسے کھانا شروع کردیا گویا اس میں گوشت موجود ہے ، سوائے اس کے ایک انتہائی قریبی رشتہ دار کے اس نے روٹی کھولی گھر کے سربراہ کو بلایا اور غصے سے بلند آواز میں اس سے کہا ، "اے عبداللہ کے باپ یہ کیا مذاق ہے یہ تو روٹی گوشت کے بغیر ہے میں تو آج کے دن ہرگز یہ نہیں کھاؤں گا"
غریب شخص نے تحمل سے سنا اور مسکرا کر جواب دیا ، "اجنبیوں کا مجھ پر حق ہے کہ میرے دسترخوان پر انہیں ہر حال میں گوشت پیش کیا جائے" . یہ لیجئے گوشت کا ٹکڑا اور معافی چاہتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی میں آپ کو اپنے اہلِ خانہ میں شمار کررہا تھا۔
قدیم عربی ادب سے ماخوذ....
🔘 ہمارے موجودہ دور میں ، ہم بہت سارے لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں. ان کو گھر کے فرد جیسا سمجھتے ہوئے یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہماری پیٹھ پیچھے ہماری عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ہر حال میں وفاداری نبھائیں گے. لیکن عین ضرورت کے وقت ہمارے اندازے غلط ثابت ہوجاتے ہیں اس لیے
" اس بات کو یقینی بنائیں کہ کون سی روٹی کون سے بندے کو دینی ہے"
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 مرضی کے کام کیسے کروائیں 🔷
لوگوں سے اپنی مرضی کا کام کیسے کروایا جائے؟ (ماہرینِ نفسیات کے مطابق)
کیا آپ نے کبھی خود کو ایسی حالت میں پایا ہے جہاں آپ نے کوئی ایسی چیز خرید لی ہو جس کی درحقیقت آپ کو ضرورت ہی نہ تھی؟ یا آپ نے محض کسی کی بات مان کر اپنے منصوبے چھوڑ دیے ہوں، جیسے کہ سینما جانے کے بجائے کسی کے بچوں کی دیکھ بھال؟
اگر ہاں، تو ممکن ہے آپ کو اندازہ نہ ہو کہ لوگ ہمیں کس مہارت سے اپنے مفاد کے لیے قائل کرتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں وہ 7 نفسیاتی چالیں جن کے ذریعے لوگ ہمیں اپنی بات منوا لیتے ہیں — اور آپ بھی چاہیں تو ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں (اخلاص کے ساتھ!)
1. "سب لوگ تو ایسا ہی کرتے ہیں!"
یہ جملہ ہمیں اکثر دباؤ میں لا دیتا ہے۔
مارکیٹنگ کرنے والے جانتے ہیں کہ آپ کس طبقے سے ہیں، اور یہی سوچ کر وہ کہتے ہیں
"آپ جیسی تمام خواتین یہی کپڑے خریدتی ہیں!"
انسٹاگرام پر بھی یہی ہوتا ہے آپ اُن لوگوں کو فالو کرتے ہیں جو آپ جیسے ہیں، اور جب وہ کچھ استعمال کرتے نظر آئیں، تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو بھی وہی چیز چاہیئے!
2. "پہلے بڑی بات، پھر چھوٹی"
یہ طریقہ بہت مؤثر ہے
پہلے کوئی بڑی فرمائش کی جائے، پھر اس سے چھوٹی — تو جواب "ہاں" میں آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
مثلاً، کوئی آپ سے کہے: 100 ڈالر دو۔ آپ انکار کریں
پھر وہ کہے: صرف 30 ڈالر دے دو، وعدہ ہے ایک ہفتے میں واپس کر دوں گا۔
اب آپ کا دل نرم پڑ جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ درخواست پہلے سے "آسان" لگتی ہے
3. ذاتی رابطہ
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر کسی درخواست کے ساتھ ذاتی رابطہ ہو جیسے ہاتھ سے لکھی ہوئی بات یا مخاطب کا نام لینا تو لوگ زیادہ آسانی سے مان جاتے ہیں
اسی لیے دکاندار آپ سے پوچھتے ہیں: آپ کیا کرتے ہیں؟ یہ تحفہ کس کے لیے ہے؟
وہ تعلق قائم کر رہے ہوتے ہیں تاکہ آپ انکار نہ کر سکیں
4. بار بار ایک ہی شخص کی درخواست
اگر آپ نے کسی کو ایک بار انکار کیا، تو اگلی بار وہی شخص اگر پھر سے وہی بات کہے تو آپ کے "ہاں" کہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کیوں؟
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کو دوسروں کو بار بار مایوس کرنے سے شرمندگی ہوتی ہے
5. فائدے کا لالچ
جرمنی میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگ ایسے کام زیادہ کرتے ہیں جن میں انہیں خود فائدہ محسوس ہو۔
لیکن ہوشیار رہیے کچھ لوگ اس بہانے اپنی خود غرضی چھپاتے ہیں۔
دیکھیں کہ کیا وہ واقعی آپ کا فائدہ چاہتے ہیں، یا صرف اپنا کام نکلوا رہے ہیں
6. "آپ آزاد ہیں، فیصلہ آپ کا ہے"
جب آپ کو یہ یاد دلایا جائے کہ آپ مجبور نہیں، تو آپ کا دل زیادہ آسانی سے مان جاتا ہے۔
یہ جملے: "فیصلہ آپ کا ہے" یا "بس مشورہ ہے، باقی مرضی آپ کی" دراصل آپ کو ایک آرام دہ جگہ میں لے آتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اکثر ہاں کہہ دیتے ہیں
7. تین بار "ہاں" کہلوانے کی تکنیک
یہ چال مشہور ہے
کسی سے تین یا چار آسان سوال پوچھیں جن کا جواب "ہاں" ہو، پھر اس سے اپنی اصل بات منوائیں
کیونکہ انسان اپنے رویے کو مستقل رکھنا چاہتا ہے — وہ بار بار "ہاں" کہنے کے بعد چوتھی بار انکار کرتے ہوئے جھجکتا ہے
کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے؟
کبھی کسی چیز پر راضی ہو گئے ہوں جو آپ کا ارادہ نہیں تھا؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 مرضی کے کام کیسے کروائیں 🔷
لوگوں سے اپنی مرضی کا کام کیسے کروایا جائے؟ (ماہرینِ نفسیات کے مطابق)
کیا آپ نے کبھی خود کو ایسی حالت میں پایا ہے جہاں آپ نے کوئی ایسی چیز خرید لی ہو جس کی درحقیقت آپ کو ضرورت ہی نہ تھی؟ یا آپ نے محض کسی کی بات مان کر اپنے منصوبے چھوڑ دیے ہوں، جیسے کہ سینما جانے کے بجائے کسی کے بچوں کی دیکھ بھال؟
اگر ہاں، تو ممکن ہے آپ کو اندازہ نہ ہو کہ لوگ ہمیں کس مہارت سے اپنے مفاد کے لیے قائل کرتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں وہ 7 نفسیاتی چالیں جن کے ذریعے لوگ ہمیں اپنی بات منوا لیتے ہیں — اور آپ بھی چاہیں تو ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں (اخلاص کے ساتھ!)
1. "سب لوگ تو ایسا ہی کرتے ہیں!"
یہ جملہ ہمیں اکثر دباؤ میں لا دیتا ہے۔
مارکیٹنگ کرنے والے جانتے ہیں کہ آپ کس طبقے سے ہیں، اور یہی سوچ کر وہ کہتے ہیں
"آپ جیسی تمام خواتین یہی کپڑے خریدتی ہیں!"
انسٹاگرام پر بھی یہی ہوتا ہے آپ اُن لوگوں کو فالو کرتے ہیں جو آپ جیسے ہیں، اور جب وہ کچھ استعمال کرتے نظر آئیں، تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو بھی وہی چیز چاہیئے!
2. "پہلے بڑی بات، پھر چھوٹی"
یہ طریقہ بہت مؤثر ہے
پہلے کوئی بڑی فرمائش کی جائے، پھر اس سے چھوٹی — تو جواب "ہاں" میں آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
مثلاً، کوئی آپ سے کہے: 100 ڈالر دو۔ آپ انکار کریں
پھر وہ کہے: صرف 30 ڈالر دے دو، وعدہ ہے ایک ہفتے میں واپس کر دوں گا۔
اب آپ کا دل نرم پڑ جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ درخواست پہلے سے "آسان" لگتی ہے
3. ذاتی رابطہ
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اگر کسی درخواست کے ساتھ ذاتی رابطہ ہو جیسے ہاتھ سے لکھی ہوئی بات یا مخاطب کا نام لینا تو لوگ زیادہ آسانی سے مان جاتے ہیں
اسی لیے دکاندار آپ سے پوچھتے ہیں: آپ کیا کرتے ہیں؟ یہ تحفہ کس کے لیے ہے؟
وہ تعلق قائم کر رہے ہوتے ہیں تاکہ آپ انکار نہ کر سکیں
4. بار بار ایک ہی شخص کی درخواست
اگر آپ نے کسی کو ایک بار انکار کیا، تو اگلی بار وہی شخص اگر پھر سے وہی بات کہے تو آپ کے "ہاں" کہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کیوں؟
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کو دوسروں کو بار بار مایوس کرنے سے شرمندگی ہوتی ہے
5. فائدے کا لالچ
جرمنی میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگ ایسے کام زیادہ کرتے ہیں جن میں انہیں خود فائدہ محسوس ہو۔
لیکن ہوشیار رہیے کچھ لوگ اس بہانے اپنی خود غرضی چھپاتے ہیں۔
دیکھیں کہ کیا وہ واقعی آپ کا فائدہ چاہتے ہیں، یا صرف اپنا کام نکلوا رہے ہیں
6. "آپ آزاد ہیں، فیصلہ آپ کا ہے"
جب آپ کو یہ یاد دلایا جائے کہ آپ مجبور نہیں، تو آپ کا دل زیادہ آسانی سے مان جاتا ہے۔
یہ جملے: "فیصلہ آپ کا ہے" یا "بس مشورہ ہے، باقی مرضی آپ کی" دراصل آپ کو ایک آرام دہ جگہ میں لے آتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اکثر ہاں کہہ دیتے ہیں
7. تین بار "ہاں" کہلوانے کی تکنیک
یہ چال مشہور ہے
کسی سے تین یا چار آسان سوال پوچھیں جن کا جواب "ہاں" ہو، پھر اس سے اپنی اصل بات منوائیں
کیونکہ انسان اپنے رویے کو مستقل رکھنا چاہتا ہے — وہ بار بار "ہاں" کہنے کے بعد چوتھی بار انکار کرتے ہوئے جھجکتا ہے
کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے؟
کبھی کسی چیز پر راضی ہو گئے ہوں جو آپ کا ارادہ نہیں تھا؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 قائد اعظم کے دو واقعات 🔷
🔹 قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھوں نے یہ واقعہ سنایا ’’میں پہلے ایک ہی برتھ مخصوص کراتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں لکھنٔو سے بمبئی جا رہا تھا۔ کسی چھوٹے سے اسٹیشن پر ریل رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسری برتھ پر بیٹھ گئی۔ چونکہ میں نے ایک ہی برتھ مخصوص کرائی تھی، اس لیے خاموش رہا.
ریل نے رفتار پکڑی تو اچانک وہ لڑکی بولی ’’تمھارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو، ورنہ میں ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ میں نے کاغذات سے سر ہی نہیں اٹھایا۔اُس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔ آخر تنگ آ کر اُس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا ’’میں بہرہ ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے، لکھ کر دو۔‘‘اُس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کر دیا۔میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے مع تحریر ریلوے حکام کے حوالے کردیا۔ اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھیں مخصوص کراتا ہوں۔‘‘😀
🔹 ا یک بار قائد اعظم محمد علی جناح سکول و کالج کے طلبا سے خطاب کر رہے تھے , ایک ہندو لڑکے نے کهڑے ہو کر آپ سے کہا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارہ کر کے ہمیں کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں , آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے . ؟
آپ کچھ دیر تو خاموش رہے , تو سٹوڈنٹس نے آپ پر جملے کسنے شروع کر دئیے , کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس کا جواب نہیں , اور پهر ہر طرف سے ہندو لڑکوں کی ہوٹنگ اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں .
قائد اعظم نے ایک پانی کا گلاس منگوایا , آپ نے تهوڑا سا پانی پیا پهر اسکو میز پر رکھ دیا , آپ نے ایک ہندو لڑکے کو بلایا اور اسے باقی بچا ہوا پانی پینے کو کہا , تو ہندو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا ,
پهر آپ نے ایک مسلمان لڑکے کو بلایا , آپ نے وہی بچا ہوا پانی اس مسلم لڑکے کو دیا , تو وہ فوراً قائد اعظم کا جوٹها پانی پی گیا .
آپ پهر سب طلباء سے مخاطب ہوئے اور فرمایا , یہ فرق ہے آپ میں اور ہم میں .
ہر طرف سناٹا چھا گیا . کیونکہ سب کے سامنے فرق واضح ہو چکا تها
محمد علی جناح نے کبهی کسی کو گالی نہ دی اور نہ کبهی آپ نے بداخلاقی کی . آپ اپنی بات اس قدر ٹهوس دلائل سے پیش کرتے تهے کہ بڑے بڑے منہ میں انگلیاں دبا لیتے اور آپ کے سامنے لاجواب ہو جاتے .
قائد اعظم سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی آپ سے ہاتھ ملا لیتا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سماتا , اور سارا دن لوگوں کو بتاتا پهرتا کہ آج میں نے قائد اعظم سے ہاتھ ملایا ہے .
قائد اعظم محمد علی جناح اتنی مخالفت کے باوجود ایک دن کے لیے بھی جیل نہیں گئے۔۔
اور کبھی بھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہیں نکالے جن کے بعد یہ کہنا پڑے کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں...!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
اللہ کی طرف سے 200 گائے
یہ ایک ایسا منظر ہے، جو تقدیر کے حیرت انگیز تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔ جب قابض اسرائیلی بستیوں کو آگ کے شعلے اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے تو اس دوران 200 سے زائد گائیں مقبوضہ علاقوں سے فرار ہو کر خراماں خراماں غزہ روانہ ہوگئیں، یہ خصوصاً غزہ کے اس شمالی علاقے کی طرف نکل آئیں، جو قحط، بھوک اور اجتماعی فاقہ کشی کا شکار ہے۔ جہاں نہ امدادی قافلے پہنچتے ہیں، نہ سرحدی راستے کھلتے ہیں اور نہ دنیا کا ضمیر جاگتا ہے… مگر اللہ نے بھوکوں کو رزق دشمن کی آگ سے نکال کر دے دیا۔
غاصب دجالیوں کی یہ گائیں ان لوگوں کے ہاتھ لگیں جو مسلسل محاصرے اور مظالم سے تھک چکے ہیں۔ اہل غزہ نے انہیں غنیمت کے طور پر نہیں، بلکہ ایک چھینا ہوا حق سمجھ کر اپنایا۔
یوں اللہ ٹوٹے دلوں کو سنبھالتا ہے اور ان بھوکوں کو ایسی جگہ سے کھلاتا ہے، جہاں کوئی تدبیر کام آتی ہے اور نہ وہم وگمان کا گزر ہوتا ہے۔ یہ ایسا رزق ہے جو اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں میں درج نہیں ہوتا، نہ ہی امدادی تنظیموں کی فہرستوں میں، بلکہ فرشتوں کے صحیفوں میں لکھا جاتا ہے۔
یہ اعلان ہے کہ غزہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، کیونکہ اس کا ربّ آسمانوں والا ہے، جو دروازے بند ہونے پر بھی رزق عطا کرتا ہے۔
Copy...
🔷🔷🔷🔷🔷
