Sobain|سوبین بلوچ
Ir al canal en Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
Mostrar másEl país no está especificadoLa categoría no está especificada
259
Suscriptores
+124 horas
+77 días
+2230 días
Archivo de publicaciones
+1
گزشتہ تین دنوں سے ضلع بارکھان کے علاقوں بغاو، رڑکن، دوسڑکہ، عیشانی، چوہڑ کوٹ، تغاو، کندھڑ اور راڑہ شم سمیت مختلف علاقوں میں بلوچ سرمچاروں کی گشت جاری ہے۔
بلوچ سرمچار مختلف کرکٹ گراؤنڈز اور عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کر رہے ہیں اور عوام کو بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 19 تاریخ کو بارکھان اور رکنی کے درمیان اہم شاہراہ پر بھی بلوچ سرمچاروں نے ناکہ بندی کر دی تھی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق بلوچ قوم اپنے سرمچاروں کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کر رہی ہے، جبکہ سرمچاروں کے خوف کے باعث پاکستانی فورسز اپنے کیمپوں اور چوکیوں تک محدود ہو کر دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران شیخ واصل چیک پوسٹ کو بھی نذرِ آتش کردیا۔
On the night of March 19, the Sarmachars of the Baloch Republican Guards destroyed two towers of the 220 kV electricity transmission line running from Uch Power Plant to Punjab in the Naseerabad area of Balochistan by planting explosive materials. The powerful explosion also caused severe damage to two nearby towers.
بریکنگ نیوز
مستونگ کے علاقے شیخ واصل میں مسلح افراد کی بڑی تعداد میں ناکہ بندی اور سنیپ چیکنگ جاری
مزید تفصیلات انا باقی ہے ۔۔
https://x.com/suhbainbluc/status/2034657778451542121?s=52
گردگاپ کے علاقوں کلی پسند خان، کلی سرگڑھ اور کلی خراسانی میں پاکستانی آرمی اور ایف سی کی جانب سے سرچ آپریشن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے علاقے میں گھر گھر تلاشی لی، جبکہ متعدد نوجوانوں کی گرفتاریوں کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔
https://x.com/suhbainbluc/status/2034577316660019583?s=52
کردگاپ کے مخلتف علاقوں میں پاکستانی آرمی اور ایف سی کی بڑی تعداد میں سرچ آپریشن جاری
مختلف راستوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ کلی سرگڑھ کو محاصرے میں لیا گیا ہے۔
گزشتہ روز مسلح افراد نے قلات مین آر سی ڈی روڈ پر ناکہ بندی اور گاڑیوں کی سنیپ چیکنگ کی۔
زیرِ حراست خاتون کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ بی ایل اے
۱۸ مارچ ۲۰۲۶ کو کوئٹہ میں قابض کے تنخواہ دار کارندے، ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ اور بلوچ نسل کشی کے مرکزی سہولت کار سرفراز مسوری کی پریس کانفرنس اسی فرسودہ اور ناکام ریاستی اسکرپٹ کا اعادہ ہے، جس کے ذریعے یہ جنگی منافع خور قابض فوج سے شاباشی بٹور کر اپنی نوکریاں پکی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی واضح کرتی ہے کہ جس خاتون کو فدائی بنا کر پیش کیا گیا، اس کا ہماری تنظیم یا کسی بھی عسکری مشن سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
بلوچستان کی تحریکِ آزادی میں خواتین کی فعال شرکت اب ایک ایسی ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے جس نے ریاستی ڈھانچے کی بنیادیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ قابض ریاست اس شعوری بیداری سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ اب بلوچ خواتین کی آواز کو دبانے کے لیئے ایسی اوچھی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔ سرفراز مسوری جیسا شخص، جو تاحیات دشمن کا وفادار کارندہ رہا ہے، آج بلوچ چادر و چار دیواری کو پامال کر کے ایک نہتی بلوچ بہن کو میڈیا کے سامنے بٹھا کر اپنے آقا جرنیلوں کو خوش کرنے کی تگ و دو کررہا ہے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک ایسا شخص، جس کے ہاتھ بلوچوں کے خون سے رنگے ہیں، آج اسی منہ سے بلوچی غیرت و اقدار کا راگ الاپ رہا ہے۔
یہ حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہے کہ ریاستی ادارے بارہا معصوم شہریوں کو جبری لاپتہ کرنے کے بعد انہیں پریس کانفرنسوں میں مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کا جھوٹ ہر بار بے نقاب ہوتا رہا ہے۔ ان کے پاس اب کوئی نیا بیانیہ یا موثر حکمت عملی نہیں بچی۔ ماضی میں ماہل بلوچ کا کیس اس کی واضح مثال ہے، جنہیں ۱۷ فروری ۲۰۲۳ کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد "خودکش بمبار" قرار دے کر بھرپور میڈیا ٹرائل کیا گیا، تاہم تمام تر ریاستی دباؤ کے باوجود دشمن کی اپنی ہی عدالتوں کو بالآخر انہیں رہا کرنا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قابض کو بلوچستان میں سرمچاروں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے، وہ انتقامی طور پر عام شہریوں اور خواتین کو نشانہ بنا کر اسے "انٹیلی جنس کامیابی" کا نام دے دیتی ہے۔ موجودہ ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ عوامی توجہ کو آپریشن ہیروف کی حالیہ تاریخی کامیابیوں اور قابض ریاست کی مکمل عسکری شکست خوردگی سے ہٹایا جاسکے۔
بی ایل اے یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ بلوچ قومی تحریک اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں دشمن کے یہ بھونڈے پروپیگنڈے اپنا اثر کھو چکے ہیں۔ ہم اپنی سرزمین کے دفاع اور مکمل آزادی تک اپنی ضربیں پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔ قابض کے آلہ کار یاد رکھیں کہ بلوچ لبریشن آرمی اور تاریخ کی عدالت ان کا کڑا محاسبہ ضرور کرے گی۔
جیئند بلوچ
ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی
مورخہ: 19 مارچ 2026
ظفر نیچاری عرف مسلم
ولد: علی نواز
سکنہ: گزگ، قلات
شمولیت بی ایل اے: 14 اپریل 2025
شہادت: آپریشن ہیروف، دوسرا مرحلہ (نوشکی محاذ)
قلات کے سنگلاخ پہاڑوں اور گزگ کی غیرت مند سرزمین سے تعلق رکھنے والے ظفر نیچاری عرف مسلم اُن جرات مند سرمچاروں میں شامل تھے، جنہوں نے دشمن کی غلامی پر موت کو ترجیح دی۔ انہوں نے نہایت کم عمری میں شعور کی منزلیں طے کیں اور 14 اپریل 2025 کو باقاعدہ طور پر مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ ظفر نیچاری اپنے بلند کردار، جفاکشی اور تنظیمی نظم و ضبط کی بدولت جلد ہی اپنے دستے کے ایک معتبر سرمچار بن کر ابھرے۔ ان کا پختہ ایمان تھا کہ قومی آزادی کی منزل صرف اور صرف قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔
آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے دوران، جب دشمن کے خلاف ملک گیر ضربیں لگائی جارہی تھیں، ظفر نیچاری نوشکی کے محاذ پر ہراول دستے کا حصہ بنے۔ نوشکی کے تزویراتی مقام پر قابض فوج کے خلاف ہونے والی خونریز جھڑپوں کے دوران انہوں نے کمالِ بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اسی شدید معرکے کے دوران وہ بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے اور ہمیشہ کے لیئے تاریخِ بلوچستان میں امر ہوگئے۔ ان کی یہ عظیم قربانی بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے ماتھے کا جھومر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
Zafar Nichari alias Muslim
Son of: Ali Nawaz
Resident of: Gazg, Kalat
Joined BLA: April 14, 2025
Martyrdom: Operation Herof Phase 2, Nushki Front
Zafar Nichari, known by the code name Muslim, hailed from the resilient land of Gazg in Kalat. He was among those valiant sarmachars who refused to accept national subjugation as destiny, choosing instead the path of armed resistance. Since joining the organization on April 14, 2025, Zafar demonstrated through his character and actions that when a conscious individual embraces the liberation of his nation as his life's purpose, no fear of death can falter his steps. His unwavering commitment and organizational discipline quickly established him as a dedicated soldier of the movement.
During Operation Herof Phase 2, as coordinated strikes were launched against the occupying forces across the motherland, Zafar Nichari stood at the vanguard of the Nushki front. In the intense tactical clashes at the strategic front of Nushki, he fought with exceptional courage, inflicting significant losses upon the enemy forces. Amidst this fierce battle, while maintaining steadfast resistance, he sacrificed his life for the cause of freedom. His martyrdom remains a beacon of light for the Baloch national liberation movement and an inspiration for generations to come.
A compilation of the latest operational updates and military activities by the Balochistan Liberation Front The documented attacks were carried out in Buleida, Panjgur, Tump, Balagatar, Surab, Besima, Mashkay, and Tirteej. The footage shows BLF fighters breaching enemy defensive lines, advancing on the battlefield and successfully targeting various objectives. Ashob Media Balochistan Liberation Front
A compilation of the latest operational updates and military activities by the Balochistan Liberation Front
18 March 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00041
Pakistani forces Suffer Casualties and Losses in Mand and Hirronk attacks- Major Gwahram Baloch
On March 16, 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front attacked Pakistani Army post in the Redheg area of Mand with grenade launcher. As a result of the attack, the occupying forces suffered human and material losses. On the same day, in another attack, BLF fighters also fired grenade launcher shells at a Pakistani Army post in the Soro area of Mand, inflicting the occupying forces significant casualties and heavy material damage.
on March 16, in another attack, our fighters attacked a Pakistani Army post established on the CPEC road in the Hirronk area of Kech, with heavy and automatic weapons. As a result of the attack, the Pakistani Army suffered casulalities and material losses.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for the attacks on Pakistani Army posts in Mand and Hirronk.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson- Balochistan Liberation Front
18 مارچ 2026
Ref. No. BLF/Mar2026/00041
مند اور ہیرونک میں پاکستانی فوج کے چوکیوں پر حملوں میں فوج کو جانی و مالی نقصان۔ میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 16 مارچ 2026 کو مند کے علاقے ردیگ میں پاکستانی فوج کے چوکی پر گرنیڈ لانچر کے گولے داغے، جو اپنے اہداف پر جا لگے۔ حملے کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے مند کے علاقے سورو میں بھی پاکستانی فوج کے چوکی پر گرنیڈ لانچر کے گولے داغے جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و بھاری مالی نقصان پہنچا۔
اسی روز 16 مارچ کو ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے کیچ کے علاقے ہیرونک میں سی پیک روڈ پر قائم پاکستانی فوج کے ایک چوکی پر حملہ کر کے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ مند اور ہیرونک میں پاکستانی فوج کے چوکیوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
Claim responsibility for the attacks on the Jaffar Express in Shikarpur and on the police checkpost in Sibi. BRG
The fighters of the Baloch Republican Guards carried out an attack on the night of March 17 at Shikarpur, targeting the Eid Special train (Jaffar Express) using an improvised explosive device (IED), resulting in severe damage to the train and railway track.
In another operation on March 17, near Sibi on Talli Road, police personnel attempted to stop the fighters at a checkpoint, upon which the personnel present at the checkpoint and government vehicles were targeted.
The Baloch Republican Guards, while claiming responsibility for the attacks on the Jaffar Express train in Shikarpur and on police in Sibi, have issued a warning through the media to police personnel to refrain from taking any action against Baloch fighters; otherwise, they will be held responsible for any loss of life incurred.
Dostain Baloch
Spokesperson, Baloch Republican Guards
نیوز اپڈیٹ
بلوچ آزادی پسندوں کا ناکہ بندی کے دوران ایس پی بارکھان کی گاڑی پر حملہ
بارکھان اور رکنی کے درمیان کوہلو شائراہ پر مسلح افراد کا ناکہ بندی جاری، دوران ناکہ بندی پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نے حراست میں لے لیا اور دو سرکاری گاڑیوں پر حملوں کی بھی اطلاعات ہیں
