ch
Feedback
RAHI HIJAZI راہی حجازی

RAHI HIJAZI راہی حجازی

前往频道在 Telegram

ہماری اردو موبائل ایپ ⬇ https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender ٹیلی گرام رابطہ آئی ڈی ⬇ @RAHIHIJAZI

显示更多
8 229
订阅者
+224 小时
-27
+1330
帖子存档
مولانا سلمان حسینی ندوی کے بہت سے تلامذہ میری فرینڈ لسٹ میں ہیں، بعض سے ہمارے بہت خوش گوار تعلقات ہیں،میرا خطاب تلامذہ سے ہے، میں سب سے تعزیت کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ آپ کو صبر دے، ایسا نہیں کہ ہم مولانا سے حسد کرتے ہیں ، مولانا واقعی بہت بڑے آدمی تھے ، اب وہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں ، وہ اللہ جس کے آگے بڑے بڑے بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں ،مولانا سلمان ندوی صاحب کا اختیار بھی اب سلب ہوچکا۔ اب وہ عدالتِ عظمیٰ میں اپنے سیاہ و سفید نامۂ اعمال کے ساتھ حاضر ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں پاس ہو جانا انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ، ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ اپنے فضل سے ان کی حسنات قبول فرمائے اور سیئات و تقصیرات کو خدمتِ دین کے بدلے معاف فرمائے۔ یہ ایک انسانی جذبہ ہے ، جو ہمیں مولانا سلمان ندوی سے ہے ، لیکن ان کی زندگی کی ایک اور حقیقت ہے ، وہ یہ کہ صحابیت کے تعلق سے ان کے افکار اہلِ سنت سے متصادم تھے، سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے کھل کر تبرا کیا ہے ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مفسدِ ایمان تعبیر اختیار کی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ آخر تک وہ اپنی اسی مؤقف پر قائم تھے، صحابیت کے تعلق سے ہمارا صاف عقیدہ ہے کہ ہم صحابہ سے نفرت رکھنے والوں سے محبت نہیں کرسکتے ، ان کی خدمتِ دین اپنی جگہ ؛ مگر وہ اس نظریہ کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ہم انھیں مثالی شخصیت نہیں سمجھ سکتے ، انھوں نے قابلِ تقلید افکار امت کو نہیں دیے ، صحابہ کا معاملہ سب سے اہم ہے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضہ اللہ عنہ کا جس طرح مذاق اڑایا ، ان کا کفن نوچا، ان کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی ، وہ اب مثالی شخصیت نہیں رہے، وہ روافض اور جماعتِ اسلامی کے لیے تو نمونہ ہوسکتے ہیں ؛ اہلِ سنت والجماعت کو ان کے افکار سے دوری کا اعلان کرنا واجب ہے! وفات شدہ لوگوں کے محاسن یاد کرو ؛ لیکن اگر کوئی ان کی خامی کو ہی حسن سمجھنے لگے تو پھر کھل کر بتاؤ کہ وہ ایک خطیب، عالم، محدث ، مفسر اور مؤلف ہونے کے ساتھ شیعیت کی زبان بولتے تھے ، ان کے دل میں صحابہ کا بغض تھا ، وہ جن کے لیے قابلِ تقلید تھے وہ تقلید کریں ، اہلِ سنت و الجماعت کے لیے وہ نمونہ نہیں تھے، ان کا نظریہ باطل تھا ، یہ کہنا صحابہ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے! (انس بجنوری)

صحابۂ کرامؓ کے معاملے میں دوہرا معیار کیوں؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے والد،حضرت علی رضی اللہ عنہ، ان کے سگے بھائی، ابو طالب کے بیٹے حضرت عقیل بن ابی طالب ہیں.انہوں نے آغاز میں اسلام دشمنی نبھائی، جنگ بدر میں رسول اللہ اور ان کے اصحاب کے خلاف جنگ لڑی. مسلم بن عقیل آپ ہی کے صاحبزادے ہیں. آپ کی کنیت "ابو یزید" ہے۔ رسول اللہ کے سگے چچا، عبدالمطلب کے بیٹے حضرت عباس رضی اللہ عنہ، جنگ بدر میں رسول اللہ اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ لڑی، قیدی بنے اور فدیہ دے کر چھوٹے. بنو ہاشم کے یہ دو بڑے نام، جنگ بدر کے بعد مسلمان ہوئے، مگر یہ تو مسلمان کہلائیں، مانیں، اور جانیں جائیں مگر حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تاخیر سے اسلام قبول کرنے پر آپ کے سب و شتم کا نشانہ بنیں؟ کیوں بھئی؟ تمہارے باپ کا دین ہے؟

حد تو یہ ہوگئی کہ بعض ویڈیو بیان میں وہ مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کے ذریعے "المرتضی" نامی کتاب میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع اور ان کی حکومت کی ستائش کی یہ کہکر تاویل کرتے ہیں کہ مولانا علی میاں صاحب کو ان حدیثوں کا استحضار نہیں رہا ہوگا جن میں حضرت معاویہ کے خلاف باتیں موجود ہیں. حضرت مولانا کی کتاب شائع ہوئے ایک زمانہ گزر گیا، لوگ پڑھتے رہے، ایڈیشن پر ایڈیشن شائع ہوتے رہے اور علماء استفادہ کرتے رہے اور خود حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ نے بار بار پڑھا ہوگا اور پھر شائع کرایا ہوگا مگر مولانا علی میاں علیہ الرحمہ کو ان حدیثوں کا استحضار نہیں رہا ہوگا. کمال کردیا سلمان صاحب نے! سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ سلمان صاحب جیسے عالم کو صحابہ کرام، حضرت معاویہ، حضرت ابوہریرہ کے بارے میں یہ سارے انکشافات ان ہی گزشتہ 8-10 سالوں میں نہ جانے کیوں ہوئے؟ حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ کے زمانے میں اور بہت بعد تک کیا سلمان صاحب سے وہ ساری حدیثیں، قرآنِ کریم کی وہ آیتیں اور دلیلیں اوجھل رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بات کچھ اور ہے؟ اب جب ان کا انتقال ہوچکا ہے یہ فتنہ اگر بدستور انٹرنیٹ پر اور کتابوں کی شکل میں باقی رہا تو قوی اندیشہ ہے کہ کم علموں اور کج فہموں اور سادہ لوح مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا ایمان اور عاقبت خراب ہوجائے. لہذا ان کے وارثین کے لئے یہ بہتر ہوگا اور نیکی کی بات ہوگی کہ ان مواد اور لیٹریچر کو جلد از جلد ختم کر ڈالیں تاکہ وہ مزید گمراہی، فتنہ اور امت میں انتشار کا ذریعہ نہ بنیں. ۔ پروفیسر عبید اللہ قاسمی

مولانا سلمان ندوی صاحب کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نہیں ہے. ان کی موت پر ان کے متبعین سوشل میڈیا پر ان کے گمراہانہ عقائد کا جس طرح دفاع کر رہے ہیں بلکہ تبلیغ کر رہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک اور لمحہِ فکریہ ہے. اس فتنے نے بہتیرے مسلمانوں حتی کہ نوخیز فارغینِ مدارسِ دینیہ کو بھی صحابہِ کرام کے تئیں بدظن کردیا ہے اور ان کے سینوں میں صحابہِ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف بغض اور غِل بھر دیا ہے. اِس موقعے سے سلمان صاحب کے متعدد ویڈیو بیانات سنے کا اتفاق ہوا اور تقریباً ہر ویڈیو میں وہ صحابہِ کرام کو مطعون کر رہے ہیں اور خصوصا کاتبِ وحی صحابیِ رسول حضرت معاویہ کو وہ منافق، ظالم، قاتل اور کافر کہہ رہے ہیں. انہوں نے حضرت معاویہ کے خلاف بدزبانی اور ہذیان گوئی کا ناپاک ریکارڈ قائم کردیا ہے. مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ندوۃ العلماء نے انہیں ان اداروں سے باہر کرکے بہت اہم اور ضروری فرض نبھایا تھا. سلمان صاحب اپنے تقریباً ہر ویڈیو بیان میں صحابہ میں منافقین کا وجود بتاتے ہیں اور اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ "عقیدہِ عدالت" کو روندتے نظر آتے ہیں. تمام محدثین اور ائمہِ جرح وتعدیل تو تمام صحابہ کو "عدول" قرار دیتے ہوئے الصحابة كلهم عدول کا عقیدہ اختیار کرتے ہیں اور اس پر اجماع کرتے ہیں کہ کسی بھی صحابی پر جرح نہیں کی جائے گی بلکہ صرف ان کے بعد والوں کی کی جائے گی مگر سلمان صاحب تمام اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے اور تمام محدثین کے اصول کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں. وہ منافقین کو صحابہ بناکر پیش کرتے ہیں تاکہ انہیں یہ کہنے کا جواز مل سکے کہ کچھ صحابہ اچھے ومخلص تھے اور کچھ صحابہ منافق وبدترین کافر تھے. ظاہر ہے کہ کسی بھی اچھی چیز کو جب خراب کہنا ہو تو اس میں خراب چیزوں کی ملاوٹ کردی جائے تو یہ کہنا درست ہوجائے گا. ان کا ایک طویل ویڈیو بیان صحابہ کے definition کے عنوان سے ہی ہے مگر ظلم انہوں نے یہ ڈھایا کہ پورے بیان میں کسی ایک جگہ بھی صحابی کی مکمل definition انہوں نے نہیں کی، کوئی حوالہ پیش نہیں کیا اور ادھوری وغلط definition اس وجہ سے پیش کی تاکہ منافقین بھی صحابی کی تعریف میں شامل ہوجائیں اور پھر یہ کہنا درست ہوجائے کہ صحابہ میں منافقین بھی تھے جنہوں نے فلاں فلاں گندے کام کیئے اور ان کے خلاف قرآن کی آیات اور احادیث وارد ہوئیں. انہوں نے صحابی کی تعریف ہر جگہ صرف یہ کی کہ جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حالتِ اسلام میں دیکھا وہ صحابی ہے. ظاہر ہے کہ اس تعریف کی رو سے سارے منافقین بھی صحابہ میں داخل ہوجائینگے کیونکہ انہوں نے حضور کو دیکھا جبکہ صحابی کی مکمل تعریف اہل سنت والجماعت نے یہ کی ہے کہ جس نے حالتِ اسلام میں حضور علیہ السلام سے ملاقات کی ہو اور حالتِ اسلام میں ہی اس کی وفات بھی ہوئی. ظاہر ہے کہ اس تعریف کی رو سے سارے منافقین (جو بدترین کفار تھے) تعریفِ صحابی سے خارج ہوگئے. سلمان صاحب نے ایک اور خطرناک مغالطہ دیا ہے. نصوص میں صحابہ/اصحاب کا جو لفظ آیا ہے وہ بعض جگہوں پر لغوی اور بعض جگہوں پر اصطلاحی معنی میں مستعمل ہوا ہے اور یہ فرق قرینے اور سیاق وسباق سے بالکل واضح ہوجاتا ہے. مثلاً یہ کہ ایک موقعے پر میرے اصحاب میں 12 منافق ہیں والی حدیث میں لغوی معنی مراد ہے یعنی وہ منافق عام مسلمانوں میں گھلے ملے ہیں مگر ہیں منافق اور کافر. جنگِ احد میں منافقین کا سردار عبد اللہ بن ابی درمیان راستے سے ہی ایک تہائی لشکر کو لیکر واپس مدینہ چلا گیا اور غزوہ میں شریک نہیں ہوا. ظاہر ہے کہ یہ سب منافق تھے. دوسری طرف حدیث الله الله في أصحابي.. اور لا تسبوا أصحابي وغیرہ میں اصطلاحی صحابی یعنی حقیقی صحابی مراد ہیں. بعد میں اہلِ سنت والجماعت نے نصوص میں وارد لفظ صحابہ/اصحاب کے اطلاق کو حقیقی صحابہ کے ساتھ خاص کردیا یعنی جنہوں نے حالتِ اسلام میں نبی علیہ السلام سے ملاقات کی اور حالتِ اسلام پر ہی انتقال فرمایا. اور صحابی کی یہی اصطلاحی تعریف چودہ سو سالوں سے امت میں رائج ہے. اس اصطلاحی تعریف سے صحابہ الگ اور منافقین الگ ہوگئے. اس اصطلاح کے رائج اور خوب عام اور راسخ ہوجانے کے بعد اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ منافق بھی تھے اور اس پر اصحاب/صحابہ کے لفظ کے ساتھ نصوص ودلائل پیش کرے تو عوام یہی سمجھے گی کہ اصطلاحی صحابہ ہی میں منافقین موجود تھے. مزید یہ کہ وہ ان بیانات میں حضرت معاویہ کے بارے میں جھوٹی اور دشمنوں کی گھڑی ہوئی تاریخی کہانیوں کو پیش کرتے ہیں اور اگر صحیح حدیث کو پیش کرتے ہیں تو اس کو محدثین کے برعکس زبردستی اپنی طرف سے اس کا مصداق حضرت معاویہ کو ٹھہراتے ہیں. کسی ایک صحیح حدیث میں بھی وہ باتیں موجود نہیں ہیں جن کی نسبت وہ کاتبِ وحی حضرت معاویہ کی طرف کرتے ہیں.

گو کہ ملت نے عمومی طور پر اسے ریجیکٹ کر دیا۔ بڑے اسٹیجوں کا جو کبھی دولھا ہوا کرتا تھا اسے اسٹیج کی نچلی صفوں سے بھی کھینچ کر پھینک دیا۔ مگر ہر ناپاک تحریک کو جس طرح کچھ ہر کارے مل جاتے ہیں اسی طرح سلمان ندوی کو بھی ملے۔ صحابہ کرام پر تبرے بازی کے باوجود کچھ لوگ اسے مختلف القاب سے نوازتے رہے۔ رافضیت کے جراثیم اور وائرس کے شکار اس کے قریب تر ہو گئے مگر عمومی ملت اس کے خبث کو سمجھ گئی اور پوری ملت نے اس سے دوری بنا لی۔ ہمیں امید تھی کہ شاید اسے علی الاعلان توفیق توبہ ملے اور مرنے سے پہلے ہمیں پرانا سید سلمان ندوی دیکھنے کو ملے مگر کھلے طور پر بغض اصحاب میں وہ اس قدر آگے بڑھ چکا تھا کہ واپسی کا راستہ مسدود ہو چکا تھا اور دائمی ذلت اس کا مقدر بن چکی تھی۔ آج جب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے ہمیں اس کے بغض صحابہ کے ساتھ مرنے پر سخت افسوس ہے۔ مگر مرنے کے بعد جو لوگ اس کے فضائل گھڑ رہے ہیں اور زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں در اصل یہ خود بغض صحابہ کرام میں بد مست ہیں جن کو ایکسپوز کرنا ضروری ہے۔ 01/07/2026

*نشانِ عبرت* (بر وفات سلمان ندوی) از: اظہارالحق بستوی یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں سن 2003 کے آس پاس کی بات ہو گی جب سلمان ندوی کا نام پہلی بار سماعت سے ٹکرایا۔ یہ ہماری عربی تعلیم کا دوسرا تیسرا سال تھا۔ اسلوبِ خطابت کے حوالے سے پہلی بار نام سنا۔ عربی چہارم میں عربی زبان کی اہمیت پر عربی میں تقریری مسابقہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر بعض خوش گمان بڑوں اور ہم عمروں نے ہمارے عربی اسلوب خطابت میں سلمان ندوی کی گھن گرج محسوس کی۔ ہمیں بھی اپنے بارے میں اس طرح کے جملے سن کر فخر سا محسوس ہوا اور دل میں غائبانہ عقیدت پیدا ہو گئی۔ پھر جب بھی جس طرح بھی اسے سننے کا موقع ملا سنتے رہے اور اس کی جادو بیانی کے سحر میں ڈوبتے رہے۔ یہاں تک کہ 2013 میں حیدرآباد میں ہماری ملازمت کا وقت آیا۔ حیدرآباد پہنچنے پر کچھ ہی ایام گزرے ہوں گے کہ سلمان ندوی نے حیدرآباد میں اپنا وہ معروف خطاب فرمایا جس میں عرب حکمرانوں کو قزاق اور لٹیرا اور ظالم و غاصب ہونے کا اعلان کیا۔ پہلی بار ہم اسے بالمشافہ سن رہے تھے اور سارا مجمع دم بخود اس کی ہر چیخ اور چنگھاڑ پر سر تصدیق خم کر رہا تھا۔ ہم تو پرانے فین تھے ہی۔ ہمیں بھی بہت مزہ آیا اور اس شعلہ بیانی کا سحر دیر تک پورے وجود پر چھایا رہا۔ مصافحہ کی بھیڑ میں جانے کا ہمیں کوئی یارا نہیں رہا اور نہ کسی کی دست بوسی کے لیے آج تک یہ جوکھم اٹھانے کی توفیق ہوئی۔ پھر 2014 یا 2015 کا کوئی دن تھا جب ہمارے سابقہ اسکول اذان انٹرنیشنل اسکول حیدرآباد کے دو بچوں کی حفظ کی دستاربندی کے موقع پر سلمان ندوی کی ہمارے اسکول آمد ہوئی۔ شخصیت کے رعب کے نیچے ہم دب گئے اور بہرحال یہ پہلی ملاقات ہمارے پرانے خوابوں کی تعبیر تھی مگر لہجے اور چال ڈھال سے رعونت کی بو باس کھلے طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ حیدرآباد کے اس گالیوں والے بیان کے بعد خلیجی ملکوں میں سلمان ندوی کے خلاف سخت ہوا بنادی گئی جس کا بہت زیادہ کریڈٹ ہندوستان کے ریالی مولویوں کو جاتا ہے جس کی وجہ سے خلیج سے سلمان ندوی کے لیے آنے والے پیسوں کی ریل پیل پر سخت ضرب پڑی۔ پھر بغدادی کو امیر المؤمنین کا خط لکھنے کی پاداش میں ہندوستانی ایجنسیوں کی طرف سے بھی ناطقہ بندی کردی گئی جس کی وجہ سے اسے خلیج کے ممالک کی غلطیاں تو نظر آتیں مگر اپنے ملک کے ظالموں پر کبھی زبان نہ کھل سکی۔ چناں چہ اسے ایک نئی پناہ گاہ ڈھونڈنی پڑی اور وہ تھی رافضیت اور تبرے کی راہ۔ صحابہ پر سب و شتم کی راہ۔ چناں چہ سلمان ندوی نے جب اس راہ پر قدم رکھا تو پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے کی مثال زندہ ہو گئی۔ اس نے ذلت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ حضرت معاویہ رض پر سب وشتم اس حد تک کی کہ شیعہ ذاکروں نے اسے اپنا گرو مان لیا۔ اہل ایران و عراق نے اپنے دامن میں اسے جگہ دی اور تبرے بازی کی اس نے بھرپور قیمت وصول کی۔ رافضیت کو کمک پہنچانے کے لیے اور تبرے بازی میں اوج کمال کو پانے کے لیے اس نے تمام حدیں پار کردیں چناں چہ حضرات شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما پر زبان طعن دراز کی۔ حضرت ابو ہریرہ رض کے خلاف دریدہ دہنی کی۔ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی رض کے مقابل کھڑے ہونے والے دیگر صحابہ کرام کے خلاف غیظ و غضب ظاہر کرنے اور اندرون کا خبث انڈیلنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ اپنی ہر مجلس میں حضرت معاویہ کو گالی دینا اپنا فرض منصبی سمجھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ رافضیت کا ترجمان بن گیا اور اہل سنت والجماعت سے اس نے اپنی راہ الگ کر لی۔ چناں چہ وہ جیتے جی نشانِ عبرت بن گیا۔ خود اپنے ہی لوگوں کی نگاہ میں ذلیل و خوار ہو گیا۔ امت کے علماء اور عوام نے اس سے اپنا دامن جھٹک لیا۔ بڑے جلسے جلوس تو کجا چھوٹے پروگراموں میں بھی اس کے نام کو دیکھنا ملت کو گوارا نہ رہا۔ صحابہ کو گالی دینے کی پاداش میں اخیر عمر ذلت و خواری کی نذر ہو گئی۔ جن صحابہ سے بلا استثناء اللہ تعالیٰ نے رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کہہ کر اپنی رضامندی کا اعلان کیا تھا ان کے درمیان بے غیرتی کے ساتھ فیصل بننے کی وجہ سے راندہ درگاہ ٹھہرنا اس کا مقدر ٹھہرا۔ رافضیت سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس نے ملت اسلامیہ کے علماء اور اداروں پر بھی غلیظ تبصرے کیے۔ اپنے محسن ماموں حضرت مولانا رابع حسنی ندوی رح کو چیلنج کیا۔ مولانا ارشد مدنی کو مباہلے کی دعوت دی۔ دارالعلوم دیوبند پر تسلسل کے ساتھ اپنی گندی زبان کھولی۔ ملت کا سودا کرنے کے لیے بورڈ بنائے اور ضمیر فروشی کی۔ لہذا لازم تھا کہ وہ ذلیل و خوار ہو جائے۔ ملت اسلامیہ اس کے خبث کو سمجھے۔ اس کے ناپاک عزائم کو بھانپے اور اسے کوڑے دان میں ڈال دے جو کہ ملت اسلامیہ نے کیا۔

> "بیٹا! تم کس کے لیے تعزیتی مضمون لکھنے بیٹھے ہو؟ کیا میرے بارے میں اس شخص نے کیا کچھ نہیں کہا؟ کیا اس نے مجھے (اور میرے ساتھیوں زبیر و طلحہ رضی اللہ عنہما کو) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے کی وجہ سے 'فاسق' اور 'مردود الروایہ والشہادہ' (جن کی روایت اور گواہی قبول نہ ہو) نہیں کہا؟ کیا اس نے یہ نہیں لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابہ (نعوذ باللہ) 'باغی، طاغی، عاصی، مجرم، قاتل، ظالم اور فاسق' ہیں؟ کیا میری 'ام المؤمنین' کی حیثیت اس کے لیے کافی نہیں تھی؟ کیا میری پاکیزگی، میری دیانت، میری قربانیاں، سب کو اس طرح ایک جملے سے رد کر دیا گیا؟" فضائل، مناقب اور قرآنی گواہیوں کا وہ پورا منظرنامہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ ایک طرف رسولِ پاک ﷺ کی صحبت یافتہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن نے دی، جن کے بارے میں کہا گیا 'رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ'، اور دوسری طرف میرا وہ قلم تھا جو ان پر تنقید کرنے والی شخصیت کی ثناء خوانی کے لیے بے قرار تھا۔ ان تمام مقدس ہستیوں نے مجھے ایک نگاہ سے دیکھا، ان کے چہروں پر ایک عجیب بے نیازی اور گہرا صدمہ تھا۔ انہوں نے جاتے جاتے رندھی ہوئی آواز میں مجھ سے کہا: > "تم نے دیکھا، تم نے سنا، اور تم نے جانا کہ اس شخص نے ہمیں منافق، غاصب اور فاسق کہا ۔ اس سب کے باوجود... اگر تمہارا ضمیر تمہیں اجازت دیتا ہے، اگر تمہاری عقیدت کے پیمانے اتنے ہی وسیع ہیں، تو شوق سے لکھو! جاؤ، ان کی تعریفوں کے پُل باندھو۔ انہیں 'محققِ دوراں' لکھو، انہیں 'مفکرِ اسلام' کے القابات سے نوازو... ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بس ہمارے ان سوالوں کا جواب روزِ محشر اپنے خدا کو دے دینا۔" وہ چلے گئے... لیکن میری تڑپ، میرا جوش اور میرے الفاظ وہیں منجمد ہو گئے۔ قلم ہاتھ میں لرز رہا ہے، کاغذ میری بے بسی پر ہنس رہا ہے، اور ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے کے لیے تعزیتی کلمات لکھوں، یا صحابہ کی ناموس پر اٹھنے والے ان گہرے زخموں پر ماتم کروں جن پر اس کی تحریریں گواہ ہیں!

*مولانا سلمان ندوی : کیا لکھوں کچھ لکھا نہیں جاتا* مفتی عنایت اللہ خورشید قاسمی شیخ الحدیث: جامعۃ المؤمنات رامپور امام وخطیب مسجد رحمت کاندیولی مولانا سلمان ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ خبر صدمہ بن کر آئی اور دلِ مضطر نے پکارا کہ اٹھو! قلم اٹھاؤ، تعزیتی کلمات لکھو، ان کے لیے ایصالِ ثواب کا سامان کرو، ان کی خطابت، ان کی تحریر اور ان کے علم و فضل کا ذکرِ خیر کر کے حقِ محبت ادا کرو۔ وہ ایک طویل عرصے تک علم و ادب کی دنیا پر راج کرتے رہے، تو کیا آج ان کے جانے پر دو لفظ بھی نہ لکھے جائیں؟ میں اسی تڑپ کے ساتھ کاغذ اور قلم سنبھال کر بیٹھا ہی تھا۔ ذہن پر سکتہ طاری تھا اور الفاظ کی آمد کا انتظار تھا کہ اچانک... فضا بدل گئی۔ میرے تخیل کے بند دریچوں سے جلالِ نورانی کے پیکر نمودار ہونے لگے۔ یہ وہ ہستیاں تھیں جن کا نام لیتے ہوئے زبان لرزتی ہے، اور جن کی عدالت پر خود قرآن نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ سب سے پہلے امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سامنے آ کھڑے ہوئے! ان کے چہرے پر ایک خاموش درد تھا، وہ عتاب آمیز لیکن دھیمے لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے: > "اے قلم کار! تو آج کس کی اچھائیوں کا دفتر کھولنے بیٹھا ہے؟ ذرا ٹھہر... اور مجھے دیکھ! کیا میرے اندر کوئی ایک بھی اچھائی نہیں تھی؟ کیا میں اللہ کے آخری نبی ﷺ کا قریبی رشتہ دار اور سالا نہیں تھا؟ کیا میں کاتبِ وحی نہیں تھا کہ میرے لکھے ہوئے حروف کو آسمانی تصدیق حاصل تھی؟ کیا میرے لیے خود سرورِ کائنات ﷺ نے 'ہادی اور مہدی' ہونے کی دعا نہیں فرمائی تھی؟" ان کی آواز میں ایک کسک تھی، وہ آگے بڑھے اور کہنے لگے: > "کیا میرے ہاتھ پر سید الشہداء حضرت حسن اور سید شباب اہل الجنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہما نے بیعت نہیں کی تھی؟ کیا میں نے انہیں ہمیشہ عزت، انعام اور اکرام سے نہیں نوازا؟ کیا میری پوری زندگی میں کوئی ایک بھی ایسی خوبی نہیں تھی کہ وہ شخص مجھے سرِ عام، منبر و محراب سے 'باغی، طاغی، منافق اور فاسق' کہتا رہا؟ کیا میرے لیے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز—'شرفِ صحابیت'—کافی نہیں تھا کہ میری عدالت پر انگلی اٹھائی گئی؟" میں ابھی اس جلالِ عزم کے سامنے کانپ ہی رہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آ گئے۔ ان کی آنکھوں میں ایک صدیوں پرانا زخم ابھر آیا تھا۔ وہ تڑپ کر بولے: > "اے لکھنے والے! ذرا میری طرف بھی دیکھ۔ مجھے 'درباری مولوی' کہا گیا، مجھے 'منافق' کے لقب سے یاد کیا گیا، مجھ پر احادیثِ رسول ﷺ کو چھپانے اور من گھڑت باتیں پھیلانے کا الزام لگایا گیا! کیا میرا حضور ﷺ کی نظرِ شفقت میں کوئی مقام نہیں تھا؟ کیا میں نے بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر، پیٹ پر پتھر باندھ کر، دن رات ایک نہیں کیے تھے تاکہ فرمانِ رسول ﷺ تم تک پہنچ سکے؟ کیا میری زندگی صرف برائیوں کا مجموعہ تھی کہ مجھ پر اس بیدردی سے طعن و تشنیع کے تیر چلائے گئے؟" ابھی میں ان شکایات کے بوجھ تلے دبا ہی تھا کہ کمرے کا وقار دوچند ہو گیا۔ اسلام کے عظیم المرتبت خلفاء، جن کے جلال سے باطل لرزتا تھا، تشریف لائے۔ ان کی خاموشی بھی سوالیہ نشان تھی۔ خلیفہ اول، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں شدید صدمہ تھا۔ انہوں نے کہا: > "کیا اس شخص نے میرے بارے میں یہ نہیں لکھا کہ میں نے خلافت ہتھیانے کے چکر میں حضور ﷺ کی آخری وقت میں کھل کر مخالفت کی؟ کیا اس نے مجھ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ میں نے (اور میرے ساتھی عمر نے) ثقیفہ بنو ساعدہ کے وقت حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو دھوکہ دیا؟ کیا میری پوری زندگی کی قربانیاں، میری 'صدیقیت' اور غارِ ثور کی یاری، سب صرف اس لیے تھی کہ مجھ پر خلافت کا 'ناحق حقدار' ہونے کا الزام لگایا جائے؟" ان کے فورا بعد، خلیفہ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے، مخاطب ہوئے: > "اور میرے بارے میں کیا زبان استعمال کی گئی؟ کیا اس نے یہ نہیں لکھا کہ تمام صحابہ نے (نعوذ باللہ) حضور ﷺ کی وصیت کو ٹھکرا دیا تھا؟ کیا مجھ پر اور ابوبکر پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ ہم حضور ﷺ کے بعد خلافت کے حقدار نہیں تھے؟ کیا میری عدالت، میری حق گوئی، اور میرے لیے رسول اللہ ﷺ کی وہ دعائیں، سب کچھ اس شخص کی تنقید کی بھینٹ چڑھ گئیں؟ کیا میں نے اسلام کی جو خدمت کی، اس کا صلہ یہ الزامات ہیں؟" آخر میں، ایک ایسا جلال نمودار ہوا جس کے سامنے حیا بھی سر جھکا لے۔ وہ آئیں جن کا مقام تمام مومنوں کے لیے ماں کا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین زوجہ تھیں، جن کے گھر میں وحی کا نزول ہوتا تھا۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر گہرا صدمہ تھا، انہوں نے تڑپ کر کہا:

آج کا مدرس بھوکا اور عالم بے وقار کیوں۔۔۔؟ تنخواہوں کی کمی نے آج علماء کو سب سے زیادہ پریشان کر رکھا ہے اخراجات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور آمدنی وہی 10 ہزار 12 ہزار 15 ہزار صرف عوام نے ایک جملہ رٹ رکھا ہے کہ جی آپکے پیسہ میں برکت بہت ہوتی ہے بھیا رے برکت نہیں ہوتی وہ بیچارہ اپنا اور بچوں کا پیٹ کاٹ کر گذارا کر رہا ہے کوئی دل کا حال تو پوچھے کم آمدنی کی وجہ سے والدین بھی ٹیڑھی نگاہ کرکے بات کرتے ہیں بیوی اور بچوں کی شکایتیں سو الگ اب کچھ لوگ کہینگے کہ مساجد و مدارس میں کام کرنا ضروری تو نہیں ہے کوئی کاروبار کرلے بھیا رے کاروبار کرنے یا کوئی دوسرا کام کرنے کے لئے بھی تو سرمایہ چاہئے یا کوئی ہنر چاہئے ایک عالم فارغ ہوتے ہوتے 25 سال کا ہوجاتا ہے اور یہ عمر کسی کام کو سیکھنے کی نہیں ہوتی اور ہمارا معاشرہ اسکو کسی کام کے لائق سمجھتا بھی نہیں ہے بلکہ اب تو ذہنیت یہ بن گئی ہے کہ اگر عالم کوئی کام کرکے کامیاب ہو جائے تو پیٹھ پیچھے چہ میگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہیں سے مال مار دیا حضرت نے اور اہل مدارس کا حال یہ ہیکہ مہتمم زندگی کی تمام تر عیاشیاں کرتا پھریگا لیکن مدرسین کو غلام سمجھ کر رکھے گا جس مدرس نے تنخواہ سے متعلق کچھ کہا جواب میں کہا جاتا ہے مولوی صاحب آپ کے جیسے ہزاروں 10 ہزار میں کام کرنے کے لئے لائن لگا کر کھڑے ہیں اب مجھے آپ حضرات بتائیں یہ عوام کی غلطی ہے یا ہمارے مدارس کی۔۔ محمد نشاط بن مغیث گھنگرالہ

دسویں بات یہ کہ علم نبوت صبر اور جد وجہد کا رستہ ہے۔ یہ کانٹوں کا ہار ہے پھولوں کی مالا نہیں۔ اس لئے جس جد وجہد اور کد وکاوش سے اسے حاصل کیا جاتا ہے، اس سے کم از کم دس گنا کم کوشش اس کو پھیلانے میں بھی کر لینی چاہئے۔ سو، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسجد کمیٹی یا مدرسے کے اہتمام کے ظلم کا شکار ہیں، ان کے لئے میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ وہ کڑھ کڑھ کر زندگی گزارنے کی بجائے کوئی اور جگہ ضرور دیکھیں تاکہ فارغ البال ہو کر اخلاص کے ساتھ دین کا کام کر سکیں۔ آخری بات یہ کہ جس طرح پانچ سال طب کا علم حاصل کرنے والے طبیب یا علم ہندسہ کی تعلیم پانے والے کو سبزی کی دکان کھولنے کا مشورہ دینا عقلمندی نہیں ہو سکتا، اسی طرح کم از کم آٹھ سال مدرسے میں پڑھنے والے مولوی کو بھی یہ مشورہ دینا عقل کی بات نہیں البتہ یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اگر وہ کوئی اور حلال پیشہ اختیار کر لیتا ہے تو شریعت کی روشنی میں وہ گنہگار تو نہیں لیکن جس طرح طبیب سبزی کی دکان کھول لینے کے بعد طبیب نہیں رہے گا، ایسے ہی مولوی قصاب کی دکان کھولنے کے بعد مولوی۔ اس لئے مہتمم حضرات اور مساجد کمیٹی ممبران سے بھی گزارش ہے کہ اپنے مدرسین اور ائمہ کی ضروریات کا اچھے طریقے سے خیال رکھا کریں تاکہ کوئی اچھا مدرس اور امام آپ کے برتاؤ اور سلوک کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر سبزی کی دکان نہ کھول لےکیونکہ مدرس اور امام بھی آپ ہی کی طرح ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ھمدردیات)

تدریس، امامت، خطابت اور عزیمت ورخصت بہت دنوں بعد آج طبیعت لکھنے پر مائل ہوئی ہے اور موضوع بھی بڑا دلچسپ ہے یعنی مساجد میں امامت خطابت اور اس کی مشکلات۔ اس بارے میں کچھ باتیں تو شاید میں نے ’’میں اور تدریس‘‘ والے سلسلہء مضامین کے آخر میں لکھ دی تھیں لیکن اس وقت وہ باتیں مستحضر نہیں۔ اس لئے ایک نئی تحریر لکھنے لگا ہوں۔ باعث اس کا یہ ہوا کہ ہمارے ایک عزیز دوست نے لکھا کہ مدارس کے فضلاء کو صرف مساجد مدارس پر اعتماد کرنے کی بجائے عزت نفس کے ساتھ رزق کمانے کے اور ذرائع کی جانب بھی متوجہ ہونا چاہئے اور اس پر بہت سے حضرات نے اپنے اپنے تجربے کے مطابق ان کی تائید کی۔ اس سلسلے میں اپنی سوچ کے مطابق چند باتیں عرض کرتا ہوں حالانکہ میں خود ان مولویوں میں سے ہوں جو کل وقتی مولوی نہیں رہ سکے۔ پہلی بات یہ ہے کہ حلال کھانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس میں کسی طبقے کی کوئی تخصیص نہیں۔ اس لئے رزق حلال کے حصول کے لئے حلال ذرائع آمدن کو کام میں لانا ضروری ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کسی بھی مسلمان کو حرام کھانے کی اجازت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ دین کا اتنا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے جس سے وہ اپنے چوبیس گھنٹے کی زندگی اسلام کے احکام کے مطابق گزار سکے۔ حلال حرام اور جائز ناجائز کا فرق جان سکے۔ تیسری بات یہ ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے لوگ دینی علوم پڑھتے ہیں جبکہ ان علوم کا تقاضہ یہ ہے کہ جو علم آپ کو حاصل ہوا ہے، اسے آگے بھی پہنچائیں۔ اس بارے میں احادیث کی اتنی کثرت ہے کہ ان کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ چوتھی بات یہ کہ دین کی تبلیغ میں عزیمت کا رستہ انبیاء کرام کا رستہ ہے کہ وہ بے لوث، بلا اجرت اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ ہو۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ انبیاء کرام کی زبان سے یہ مبارک الفاظ کہلوائے گئے ہیں کہ ’’ان اجری الا علی اللہ‘‘ (میرا بدلہ تو صرف اللہ کے ذمے ہے)۔ پانچویں بات یہ کہ مدارس میں تعلیم اور مساجد میں امامت خطابت پر جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ در اصل اس وقت کا بدل ہے جو کسی عالم سے لیا جاتا ہے کیونکہ وہ نماز پڑھنے اور علم پھیلانے کے لئے کسی خاص مسجد یا مدرسے میں رہنے کا پابند نہیں لیکن امام اور مدرس ہو جانے کے بعد وہ اپنی آزادی کھو دیتا ہے۔ اس لئے وہ تنخواہ اور اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ چھٹی بات یہ کہ مساجد کی کمیٹیوں اور مدارس کے انتظام اہتمام میں اچھے برے ہر طرح کے لوگ اسی طرح ہوتے ہیں جس طرح دنیا کے کسی بھی ادارے میں ہو سکتے ہیں۔ اس لئے کسی بھی نظام سے جڑ جانے کے بعد کلی شخصی آزادی اور عزت نفس کو برقرار رکھنا ناممکن کے درجے کی چیز ہے۔ آپ خواہ جتنے بھی خود دار ہو جائیں کسی نہ کسی جگہ اس خود داری اور عزت نفس کا کسی نہ کسی درجے میں سودا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہو کہ مدرسے کے مہتمم اور مسجد کی کمیٹی سے جان چھڑا کر کہیں اور ملازمت کر لوں گا، تو اسے مسجد اور مدرسے سے زیادہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ساتویں بات یہ کہ جس طرح مہتممین اور کمیٹی ممبران میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو امام اور مدرس کو پریشان کرتے ہیں، تو ویسے ہی مدرسین اور ائمہ کے طبقے میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کمیٹی اور مہتممین کا دم ناک میں کر دیتے ہیں۔ اس لئے صرف ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانا شاید قرین قیاس نہ ہو۔ آٹھویں بات یہ کہ تدریس اور امامت چوبیس گھنٹے کی ملازمت ہے۔ اس لئے جب آدمی اس کے ساتھ کوئی دوسرا کام شروع کرتا ہے تو یہ کام ثانوی ہو جاتے ہیں کیونکہ دوسرا کام اصل ہو جاتا ہے۔ مثلا امام نے دکان کھول لی ہے تو وہ اس کا ذریعہ آمدن ہے۔ اب نماز کے لئے مسجد میں حاضری کوئی ضروری نہیں۔ اسی طرح اگر مدرس نے کوئی اور کام ڈھونڈ لیا ہے تو وہ پہلے اسے انجام دے گا اور اس کے بعد تدریس کرے گا۔ اس کی زندہ مثال میں خود ہوں کہ ایک جگہ جز وقتی پڑھاتا تھا لیکن ملازمت کے اوقات بدل گئے تو تدریس چھوٹ گئی۔ منطق کی زبان میں ’’نتیجہ ارذل کے تابع ہوتا ہے‘‘ کا یہی مطلب ہے۔ نوویں بات یہ کہ مسجد اور مدرسہ مدارس کے فضلاء کا اصل میدان ہے۔ علوم نبوت کی ترویج اور تبلیغ کا ان سے مؤثر اور دیرپا ذریعہ کوئی نہیں۔ اس لئے اگر اچھے اور قابل لوگ اس میدان سے دور ہوتے جائیں گے تو کمزور لوگ اس کو سنبھالیں گے۔ اس کیفیت کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ’’گھوڑے مر جانے کے بعد میدان گدھوں کے لئے خالی ہو جاتا ہے۔‘‘ اسی طرح حدیث شریف میں بھی آیا کہ علم خود نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ علماء کے اٹھانے سے اٹھ جائے گا۔ اس کے بعد لوگ جاہلوں کو مقتدا بنا لیں گے جو خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔)

ہماری موجودہ فکری پسماندگی اور مایوسی کے اس دور میں، حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ کا ایک انتہائی حوصلہ افزا اور بص
+9
ہماری موجودہ فکری پسماندگی اور مایوسی کے اس دور میں، حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ کا ایک انتہائی حوصلہ افزا اور بصیرت افروز مضمون فکر و نظر کے حلقوں میں زیرِ گردش ہے۔ یہ تحریر دراصل تقسیمِ ہند کے ان مخدوش اور لہو رنگ حالات کا آئینہ دار ہے جب ملک ہندو مسلم فسادات کی آگ میں جھلس رہا تھا، اور خوف و ہراس کے شدید غلبے کے باعث مسلمانوں نے اپنے ہی وطن میں نقل و حرکت اور سفر کرنا ترک کر دیا تھا۔ ​خوف کا عالم یہ تھا کہ ٹرینوں میں مسلمانوں کے لیے باقاعدہ الگ ڈبے مخصوص کر دیے گئے تھے، جن کی حفاظت پر بندوق بردار پولیس دستے مامور ہوتے۔ وہ ایک ایسا ہولناک دور تھا جب مسلم اقلیت خود کو اپنے ہی ملک میں مشکوک اور بے بس محسوس کر رہی تھی۔ ایسے کٹھن حالات میں، مولانا نعمانی رحمہ اللہ نے اس نفسیاتی شکست، ڈر اور احساسِ کمتری کے حصار کو توڑنے کا ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ۔ ایسے نازک موڑ پر، مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ کا یہ جرات مندانہ طریقہ و مضمون ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ اور مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حذیفہ ایوبی

@kashkoleurdu پاکستان اور انڈیا کے مدرسوں کو موبائل نے برباد کردیا: شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا بیان

دوران سبق بعض ایسے نکات سامنے آتے ہیں جو بعد میں یاد نہیں رہتے اگر ان کو قلم بند کر لیا جائے تو بہت قیمتی سرمایہ اپنے ہاتھ لگ جاتا ہے، تحریر کر لینے کے بعد بات ذہن میں اور زیادہ جا گزیں ہو جاتی ہے، پھر اگر کبھی زمانے کی درازی یا ذمے داریوں کے بوجھ کے سبب یادداشت پر گرد کی پرتیں جم جاتی ہیں، تو جب کبھی لکھا ہوا سامنے آ جاتا ہے تو گرد صاف ہو جاتی ہے اور ذہن پھر سے چیزوں کو ری اسٹور کر لیتا ہے۔ اس لیے کچھ ضروری چیزیں لکھ لینی چاہییں۔ جن طلبہ کے سرپرستوں کو اللہ نے مالی فراوانی عطا کی ہے یا جو کسی صورت برداشت کر سکتے ہوں ان کو اپنی ذاتی کتابیں خریدنی چاہییں تاکہ بوقت ضرورت بین السطور و حواشی وغیرہ لگا سکیں، بعض دفعہ تھوڑا اشارہ مل جاتا ہے اور استاد کی پوری بات ذہن میں آ جاتی ہے۔ مگر یہ سب کرے گا کون؟ وہی کرے گا جس کو پڑھنے کا شوق ہوگا، جو واقعی صلاحیت سازی پر توجہ دیتا ہوگا اور جس نے شروحات پر مکمل اعتماد نہ کیا ہو۔ آج کل طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات رہتی ہے کہ شرح میں دیکھ کر سبق یاد کر لیں گے۔ سبق یاد کرنے تک ہی بات ہو تب بھی غنیمت ہے، اکثر کے ذہن میں تو یہ رہتا ہے کہ جب امتحان آئے گا تب شروحات سے مدد لے کر تیاری کر لیں گے۔ بھلا بتائیے جس کے ذہن میں یہ زہر پہلے سے ہی بھرا ہو وہ سبق کیوں کر غور سے سنے گا، اس کے دل میں استاد کی عظمت و اہمیت بھلا کیوں ہوگی؟ سبق پڑھنے کے بعد دوسرا مرحلہ اس کے اعادے و مذاکرے کا ہوتا ہے، اس کے لیے بہت اچھا وقت سبق کے فوراً بعد کا ہوتا ہے اگر گھنٹہ ختم ہونے کے بعد دس پندرہ منٹ میسر آ جائیں اور یہ چھوٹی کتابوں میں ممکن ہے۔ ہاں کچھ ذہین طلبہ بڑی کتابوں میں بھی سرسری نظر ڈال کر اعادہ کر لیں تو بہت بہتر ہے۔ پھر مغرب بعد اور عشاء بعد کا وقت بہترین وقت ہے۔ مذاکرے و تکرار کے نام پر طلبہ مغرب بعد بیٹھتے ہیں، اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک طالب علم تکرار کراتا ہے، باقی سنتے ہیں، بعض دفعہ سامعین کا گروپ بڑا ہوتا ہے اور وہ سبق ہی کی طرح خاموشی سے تکرار سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ سبق یاد ہو گیا؛ مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے، سبق جب تک خود نہ دہرایا جائے تب تک اچھی طرح یاد نہیں ہوتا یا یاد ہو جائے تو جلدی ذہن سے نکل بھی جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم ہو کر تکرار کرنا زیادہ مفید ہے، جس میں ہر طالب علم کسی نہ کسی کتاب کا مذاکرہ کرائے، اس سے ہر ایک کے اندر مرتب انداز میں بولنے اور تفہیم کی صلاحیت پیدا ہوگی اور وہ کتاب بھی بہتر طریقے پر یاد ہو جائے گی۔ ایک کتاب کے مذاکرے کے بعد چند منٹ سامعین طلبہ کو پھر سے ایک نظر ڈال لینی چاہیے، کچھ سوال بھی آپس میں کر لینے چاہیئیں تاکہ مذاکرے کا پورا فایدہ حاصل ہو سکے۔ محمد اعظم سیتاپوری مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ

منہج کے تابع ہو گئی، وہ “علم” بن گئی۔ اسی تبدیلی کو قبول کرنے سے مسلم معاشرے کے اندر تصورِ علم مسخ ہونا شروع ہوا۔ انگریزی تعلیمی نظام چونکہ بنیادی طور پر طاقت کے حصول اور معاش کے لیے پیدا ہوا تھا، اس لیے اس کی اصل غایت تسخیر کائنات ، طاقت کا ارتکاز اور معاشی سرگرمی ہی ہے، نہ کہ خدا، آخرت، یا دینی فرائض کی معرفت۔ لیکن چونکہ اس نظام نے طاقت کے ذریعہ خود کو “علم” کے نام سے پیش کیا، اور مسلمان استعمار کے چنگل میں پھنسنے کی وجہ سے ان کے طاقت کو قبول کرلیا جس سے رفتہ رفتہ مسلمانوں نے بھی اس پر “علم” کی حقیقت اور فضیلت کا اطلاق کرنا شروع کر دیا۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں بہت سے متجددین نے اس بیانیے کو قبول کرنے‌پر اصرار کیا ، لیکن طویل عرصے تک مسلم معاشرے کے اندر علم کی قدیم تعریف کسی نہ کسی درجے میں باقی رہی۔ تاہم اب صورتِ حال یہ محسوس ہوتی ہے کہ سرمایہ دارانہ پر مبنی تعلیمی نظام کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف مسلم عوام بلکہ علماء کے ایک طبقے کو بھی اس بات پر آمادہ کر دیا ہے کہ انگریزی نظامِ تعلیم میں پڑھائی جانے والی ہر چیز کو بھی اسی “علم” کے درجے میں رکھا جائے جس کے فضائل قرآن و سنت میں وارد ہوئے ہیں۔ حالانکہ اسلامی روایت میں علم کی حقیقت کا تعلق محض طریقۂ کار سے نہیں بلکہ نیت، ارادہ، اور غرض و غایت سے ہے۔ اسی لیے قدیم اسلامی نظامِ تعلیم میں علوم و فنون کی تدریس سے پہلے اور دوران تدریس بار بار “نیت” کی اصلاح، علم کی تعریف، اور اس کی غایت بیان کی جاتی ہے۔ کیونکہ اسلامی روایت یہ مانتی ہے کہ علم کے کئی مناہج ہو سکتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس علم کا مقصد کیا ہے؟ وہ انسان کو کس طرف لے جا رہا ہے؟ اس کا تعلق خدا اور انسانی ذمہ داری سے کیا ہے؟ جدید انگریزی تعلیمی نظام میں ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ اس نظام کی بنیاد ہی ایک ایسے تصورِ علم پر قائم ہے جو سرمایہ مرکزیت ہے ، خدا مخالف ہے اور اسلامی غایات سے الگ ہے۔ اسی لیے مغربی نظام اور فریم ورک میں رہتے ہویے “Islamization of Knowledge” جیسے منصوبے بھی کوئی بڑا تمدنی نتیجہ پیدا نہ کر سکے، وہ اکثر اپنی اسلامی علمی روایت سے منقطع ہوتے ہیں اور کر جدید علوم پر اسلامی لیبل لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تمام بحث کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان جدید انگریزی نظامِ تعلیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ موجودہ نظام دنیا میں اس نظام میں حصہ لینا ایک عملی ضرورت ہے۔ لیکن ضرورت اور حقیقت دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر مسلمان اس نظام میں حصہ لیتے ہوئے اپنے تصورِ علم کو بھی مغرب زدہ کر دیں، تو پھر وہ صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اپنے پورے علمی و تہذیبی شعور کو تبدیل کر بیٹھیں گے۔ اور معاشی سرگرمی ہمیشہ کے لیے علمی سرگرمی میں تبدیل ہو جائے گی، اور پھر “علم” کا لفظ اپنے اسلامی مفہوم سے خالی ہو جائے گا جو کہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ کشمیر قالین بافی علامتی زبان کے متعلق مزید پڑھیں۔ https://www.josetfine.com/post/taleem-secret-language-of-handknotted-kashmiri-carpets

معاشی سرگرمی علمی سرگرمی میں کیسے تبدیل ہوگیی؟ عاصم افتخار معاشی سرگرمی اور علمی سرگرمی کے درمیان فرق کو سمجھے بغیر جدید تعلیمی نظام کے اثرات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ جدید مسلم ذہن کے اندر جو سب سے بڑا خلطِ مبحث پیدا ہوا ہے، وہ دراصل “علم” کی تعریف، اس کی غرض و غایت، اور اس کے منہج (Methodology) کے درمیان فرق کو ختم کر دینے کا نتیجہ ہے۔ اسی خلطِ مبحث نے معاشی سرگرمی کو علمی سرگرمی میں تبدیل کر دیا، حتیٰ کہ اب ایک ایسا پورا اجتماعی شعور پیدا ہو چکا ہے جس میں معاش کے لیے ہونے والی سرگرمیوں کو بھی “علم” کے فضائل اور تقدس کا حامل سمجھا جانے لگا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی روایت میں “معاشی سرگرمی” کیا ہے۔ اسلامی تصور میں معاشی سرگرمی وہ عمل ہے جس میں فعل کا ابتدائی ارادہ بھی معاش سے متعلق ہو اور اس کا نتیجہ بھی مادی ضروریات یا خواہشات کو پورا کرنے والے اسباب کی فراہمی ہو۔ یعنی وہ سرگرمی جس کا بنیادی مقصد انسان کے صنعت، تجارت، حرفت، زراعت یا مادی ضروریات کے لیے وسائل پیدا کرنا ہو، وہ معاشی سرگرمی کہلاتی تھی۔ اس میں مہارت، تجربہ، تربیت اور بعض اوقات پیچیدہ فنی نظام بھی شامل ہو تے تھے، لیکن اس کے باوجود اس کی حقیقت معاشی ہی سمجھی جاتی تھی۔ اس کے برعکس اسلامی روایت میں “علمی سرگرمی” بنیادی طور پر وہ ہے جس کا تعلق خدا کی ذات، صفات، احکام کو جاننے یا ان علوم سے ہو جو فرضِ کفایہ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی علم کی اصل تعریف نیت اور غرض و غایت سے متعین ہوتی تھی، نہ کہ صرف اس کے طریقۂ کار سے۔ اسی لیے فقہ، حدیث، تفسیر، اصول، کلام، اخلاق، اور وہ فنون جو مسلمانوں کے اجتماعی فرائض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہوں، انہیں “علم” کہا جاتا تھا۔ یہاں ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلامی روایت میں معاشی اور علمی دونوں سرگرمیوں کو دینی تصور کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی حقیقت ایک شمار نہیں کیا جاتا۔ تجارت بھی دینی عمل ہے، زراعت بھی عبادت بن سکتی ہے، اور صنعت بھی باعثِ اجر ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں “علم” کی وہ وجودی حیثیت حاصل نہیں جو علمِ دین یا فرضِ کفایہ سے متعلق علوم کو حاصل ہے۔ یعنی اسلام نے معاشی سرگرمی کو دین کے دائرے میں ضرور شامل کیا ہے، مگر اسے “علم” کی حقیقت کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ جدید مغرب میں مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ وہاں “علم” کی تعریف بنیادی طور پر سائنسی منہج (Scientific Method) کے ساتھ وابستہ ہو گئی۔ یعنی وہی چیز علم قرار پائی جو تجرباتی (Empirical)، قابلِ پیمائش (Measurable)، یا سائنسی طریقۂ تحقیق کے تحت ثابت ہو سکے۔ اس تبدیلی نے علم کی تعریف کو اس کی غرض و غایت سے الگ کر کے محض منہج کے تابع کر دیا۔ نتیجتاً وہ تمام علوم جن کا تعلق خدا، وحی، آخرت اور اخلاق سے ہے، آہستہ آہستہ “علم” کے دائرے سے خارج ہونے لگے۔ دوسری طرف وہ تمام سرگرمیاں جو پہلے معاشی یا فنی سمجھی جاتی تھیں، اگر وہ سائنسی منہج کے تحت منظم کر دی جائیں تو وہ “علم” بن گئیں۔ یہاں سے ایک عظیم فکری انقلاب پیدا ہوا۔ طاقت اور معاش کے ارادہ و عرض و غایت پر مبنی صنعت، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، معاشیات، مینجمنٹ، اور حتیٰ کہ مارکیٹنگ جیسے شعبے بھی “علم” کے مقدس دائرے میں شامل ہوچکے ہیں، کیونکہ ان کے پیچھے سائنسی منہج موجود ہے۔ گویا مغرب میں “علم” کی تعریف کا مرکز “غرض و غایت” سے ہٹ کر “منہج” بن گیا۔ اسلامی معاشروں کی تاریخ دیکھی جائے تو وہاں اس قسم کا خلطِ مبحث موجود نہیں۔ مثال کے طور پر آج بھی کشمیر میں قالین بافی ایک انتہائی نفیس فن ہے۔ اس فن کو سیکھنے کے لیے طویل تربیت، مہارت، ڈیزائن کے پیچیدہ رموز، اور ایک خاص قسم کی symbolic language یا code system سیکھنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایک قالین کی تیاری میں کئی مہینے یا سال لگ جاتے ہیں۔ اس پورے عمل میں استاد، شاگرد، قواعد، تربیت، اور باقاعدہ تعلیمی نظم موجود ہوتا ہے۔ قالین بافوں کے حلقے میں اس پورے عمل کو “تعلیم” بھی کہا جاتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود کشمیری معاشرہ جو اسلامی روایت رکھتا ہے کبھی اس سرگرمی پر قرآن و سنت میں وارد “علم” کے فضائل کا اطلاق نہیں کرتا ۔ کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ قالین بافی کے پیچیدہ نظام کو سیکھنا وہی “علم” ہے جس کی فضیلت حدیث “طلب العلم فریضة” میں بیان ہوئی ہے۔ وجہ یہ تھی کہ اسلامی ذہن علمی اور معاشی سرگرمی کے فرق سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہر سیکھنے کا عمل “علم” نہیں ہوتا، اگرچہ وہ مفید، ضروری یا پیچیدہ ہی کیوں نہ ہو۔ جدید مغربی نظامِ تعلیم نے یہاں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ اب اگر یہی قالین بافی کسی یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ، یا “فیشن ڈیزائننگ” کے شعبے کے تحت پڑھائی جائے، اس کے لیے research methodology، empirical analysis، یا industrial framework بنایا جائے، تو جدید ذہن فوراً اسے “علم” کے دائرے میں شامل کر لیتا ہے۔ یعنی اب معیار نیت اور غرض و غایت نہیں بلکہ منہج ہے‌ یعنی جو چیز سائنسی

قربانی کرنے والے متوجہ ہوں انڈیا پاکستان میں آج 17 مئی بروزِ اتوار ذو القعدہ کی 29 تاریخ ہے اور چاند نظر آنے کا امکان بھی ہے،
قربانی کرنے والے متوجہ ہوں انڈیا پاکستان میں آج 17 مئی بروزِ اتوار ذو القعدہ کی 29 تاریخ ہے اور چاند نظر آنے کا امکان بھی ہے، اس لیے قربانی کرنے والے حضرات چاند نظر آنے سے پہلے اپنے ناخن اور بال کاٹنے کا اہتمام کریں کیوں کہ پھر ان کے لیے قربانی کرنے تک ناخن اور بال نہ کاٹنا مستحب ہے۔ دیگر ممالک کے حضرات اپنے ملک کی تاریخ کے اعتبار سے اس پر عمل کریں۔

اساتذہ کیسے پڑھائیں؟ گزشتہ دنوں ’’میں کیسے پڑھتا تھا؟‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں مدارس میں اپنے زمانہء طالب علمی کے تجربات تحریر کئے تو ایک عزیز دوست نے یہ سوال پوچھ لیا کہ استاد کو کیسے پڑھانا چاہئے؟ چنانچہ اپنی ناقص فہم اور تجربے کی بنیاد پر اس کا جواب حاضر خدمت ہے۔ اس سلسلے میں اصل اور بنیادی بات یہ ہے کہ استاد کو علم میں اپنے شاگردوں سے ایک قدم آگے ہونا چاہئے۔ یہ طلبہ کو قابو کرنے کا سنہری گر ہے کیونکہ جب طالب علم یہ سمجھے گا کہ مجھے استاد کتاب سے زیادہ علم دے سکتا ہے، تو وہ استاد کا احترام بھی کرے گا اور اس سے مستفید ہونے کی کوشش بھی۔ اگر کوئی استاد اور معلم یہ کام نہیں کر سکتا تو درسگاہ میں اس کا شور شرابا، ترشروئی اور رعب جھاڑنے کی ہر کوشش بیکار اورلا حاصل مشق ہے۔ استاد کا رعب اس کا علم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر انسان ہر فن مولا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے تقسیم اسباق کے وقت اہل مدرسہ اور خود مدرس کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ کونسا علم اور فن اچھی طرح پڑھا سکتا ہے۔ اس بات کی رعایت رکھنے کے بےشمار فوائد ہیں۔ مثلا اس سے مدرس پر مطالعے کا بوجھ کم ہوگا اور مدرس سمجھ کر پڑھائے گا، جس سے طلبہ میں اس علم اور فن کا شوق پیدا ہوگا۔ اگر کوئی مدرس کوئی بھی کتاب پڑھاتے وقت درسگاہ میں ایک بار بھی یہ کہہ دے کہ ’’بھئی اس کتاب کا کیا فائدہ ہے؟‘‘ تو اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ تیسری بات یہ کہ استاد سبق کا اچھی طرح مطالعہ کر کے جائے کیونکہ مطالعے کے بغیر درسگاہ جانا ایسا ہی ہے جیسے آدمی تلوار کے بغیر میدان جنگ میں اتر جائے اور استاد کے مطالعے کا مطلب (میرے خیال میں) یہ ہے کہ وہ کتاب کی عبارت سے لے کر مسائل تک، ہر بات کو سمجھتا ہو۔ اس سلسلے میں کتاب کے حاشئے، کسی اچھی شرح (اگر عربی میں ہو تو بہت اچھا ہوگا) سے استفادہ کر لے تو اور اچھا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دوران مطالعہ آپ کو کوئی نئی بات مل گئی اور آپ اسے ضرور بیان کرنا چاہتے ہیں تو اسے مختصرا لکھ لیں اور درسگاہ میں بیان کر دیں لیکن ایسی طویل تقریر سے پرہیز بہتر ہے جس میں دنیا جہان کی باتیں تو آ جائیں لیکن کتاب فہمی نہ ہو کیونکہ ہمارے مدارس میں کوئی بھی فن کتاب کو سامنے رکھ کر پڑھایا جاتا ہے اور طالب علم سے اس کتاب کا امتحان بھی لیا جاتا ہے۔ اس لئے کتاب کی ہر گنجھلک عبارت کی وضاحت ضروری ہے۔ سبق سے قبل اس کا خلاصہ بیان کر دیں اور درسگاہ میں تختہ سیاہ یا سفید ضرور استعمال کریں کیونکہ اس سے سمجھانے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔ یہ کام تفسیر، حدیث اور فقہ پڑھاتے وقت بھی کیا جا سکتا ہے حالانکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تختہ سیاہ کا استعمال ریاضی اور اس جیسے دوسرے مضامین کے لئے ہوتا ہے۔ درسگاہ کا ماحول دوستانہ رکھیں اور طلبہ کو مناسب وقت پر سوالات کی اجازت دے دیں۔ اگر کسی سوال کا جواب فوری طور پر معلوم نہ ہو تو ’’استادی‘‘ کر کے طالب علم کو خاموش کرانے کی بجائے، اگلے دن بتانے کا کہہ دیں اور پھر تلاش کر کے بتا دیں۔ ایسے ہی اگر کوئی طالب علم کسی جگہ غلطی کی نشاندہی کر دے تو اسے کھلے دل سے قبول کر لیں، انا کا مسئلہ نہ بنائیں کیونکہ علم ایک بحر بیکراں ہے۔ اس میں سے کوئی قطرہ استاد کے حصے میں آیا ہے تو دوسرا قطرہ طالب علم کے حصے میں بھی جا سکتا ہے۔ دوران تدریس پوری درسگاہ پر نگاہ رکھیں تاکہ سبق میں کوئی خلل نہ ڈال سکے لیکن اگر کسی طالب علم سے کوئی لغزش ہو جائے تو بات کو طول دینے کی بجائے فوری فیصلہ کریں کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے کیونکہ ایک آدمی کی وجہ سے ساری درسگاہ متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح استاد کو چاہئے کہ وہ اپنے طلبہ کو لکھنے اور مطالعے کی ترغیب دیتا رہے اور گاہے بگاہے کوئی ایسا سوال کرتا رہے جس کا جواب طلبہ خود تلاش کریں۔ ایسے ہی درسگاہ کے اندر اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی بھی کرے۔ میں نے جب پڑھانے کا آغاز کیا تو طالب علم کی کوئی بات یا جواب پسند آ جائے تو پچاس پیسے انعام دیتا تھا اور اب وہ بڑھتے بڑھتے دس روپے ہو گیا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ طالب علم اور اس کا وقت استاد کے پاس امانت ہے۔ اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اس میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی خیال رہے کہ مدرسہ ’’صفہ‘‘ کا تسلسل ہے۔ اس لئے اس کا ماحول صفہ کی طرح پیار بھرا اور شفقت سے لبریز ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ ۔۔۔۔ (ھمدردیات)

ہے۔ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ میرا معمول رہا ہے کہ درسگاہ میں استاد کے سبق کی اہم باتیں لکھ لیا کرتا تھا جبکہ مدارس میں ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جو لائق اور اچھے اساتذہ کا پورا پورا سبق اس باریکی سے لکھ لیتے ہیں کہ بعد ازاں ان کی لکھی ہوئی کاپی طلبہ میں شرح کی طرح مقبول ہو جاتی ہے۔ ایسے اساتذہ بہت کم ہوتے ہیں۔ بہر حال، درسگاہ میں لکھی گئی یہ رف کاپی میرے لئے شرح کا متبادل ہوتی تھی اور جہاں پھنس گئے، وہاں کاپی سے دیکھ لیا۔ یہ بہت اہم بات ہے اگرچہ لوگ اس کا خیال کم رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استاد تیاری کر کے سبق پڑھاتا ہے۔ اس لئے وہ مقامات جو مشکل ہوتے ہیں، ان کو حل کرتا ہے۔ ایسے میں اگر طالب علم صرف حافظے پر اعتماد کر کے بیٹھ جائے تو کوئی ضروری نہیں کہ اسے وہ بات یاد بھی رہ جائے۔ امتحان کے دنوں میں بھی میرا معمول یہی رہتا تھا کیونکہ امتحان کو میں معمول کی چیز اور تعلیم کا حصہ سمجھتا ہوں۔ اس لئے امتحان کے لئے کبھی ’’خطرناک ہنگامی حالت‘‘ نافذ نہیں کی البتہ اس اعتماد کے ساتھ امتحان دینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کتاب کو سرسری ہی سہی، ایک بار نظر سے گزار لیں۔ اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح مخصوص مقامات کا تصور ذہن سے نکال دیں۔ اس سے ساری کتاب آپ کے لئے برابر ہو جائے گی۔ اسی بنیاد پر تدریس کے دوران بھی میرے لئے ساری کتاب ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ اس لئے میرا گمان ہے کہ میرے شاگرد یہ اندازہ کم ہی لگا سکتے ہیں کہ پرچہ کہاں سے آئے گا۔ بات بہت طویل ہو گئی۔ اس لئے خلاصہ تحریر کر کے قلم ’’بند‘‘ کرتا ہوں: • مطالعے کے بغیر درسگاہ کبھی نہ جائیں۔ • درسگاہ میں استاد کا سبق غور سے سنیں۔ • دوران درس جو بات اہم یا اچھی لگے اسے فورا لکھ لیں۔ • کم از کم ایک بار سبق کو دہرا لیں۔ • کتاب کی عبارت اچھی طرح پڑھیں اور شروحات کی بجائے حاشئے اور لغت سے کام چلائیں۔ • علم میں بخل نہ کریں۔ اگر آپ سمجھدار ہیں تو اپنے سے کمزور ساتھیوں کو تکرار میں شامل کریں تاکہ ان کو بھی فائدہ ہو۔ • امتحان کے دنوں میں نصاب کو کم از کم ایک بار نظر سے گزار لیں۔ • امتحان کو کبھی بھی سر پر سوار نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے۔ • علم ادب سے آتا ہے۔ اس لئے ادوات علم، اساتذہ اور مدرسے کا احترام اور ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع نصیب فرمائے۔ اللهم علمنا ما ينفعنا وانفعنا بما علمتنا. إنك أنت العليم الحكيم. اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی ہم نے تو دل جلا کہ سر عام رکھ دیا ۔ مولانا عبد الخالق ہمدرد