Sobain|سوبین بلوچ
前往频道在 Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
显示更多未指定国家未指定类别
253
订阅者
+324 小时
+67 天
+2330 天
帖子存档
+7
چاغی: گذشتہ رات چاغی کے علاقے پدگ گڈانی ہوٹل کے مقام پر مسلح افراد نے 6 بوزروں سمیت مزید 15 بڑے گاڑیوں کو نزر آتش کردیا ہے۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
بارکھان کے علاقے کھڈّا چوکی کے مقام پر مسلح افراد کا ناکہ بندی ذرائع کے مطابق، ناکہ بندی کے دوران ایک سرکاری افسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، جبکہ ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ گزشتہ دو گھنٹوں سے مسلسل جھڑپ جاری ہے۔۔
چاغی :گزشتہ شپ چاغی کے علاقے پدگ گڈانی ہوٹل کے مقام پر مسلح افراد نے 6 بوزروں سمیت مزید 15 بڑے گاڑیوں کو نزر آتش کردیا۔
#بلوچستان
علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز شام تقریباً 5 بجے کے قریب مسلح افراد نے مستونگ کے علاقے تلخہاجی پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ کیمپ سے نکل رہا تھا۔
حملے کے دوران دھماکے اور شدید فائرنگ کی آوازیں دور دور تک سنی گئی۔
#بلوچستان
علاقائی ذرائع کے مطابق کزشتہ روز شام تقریباً 5 بجے کے قریب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ کیمپ سے نکل رہا تھا۔
حملے کے دوران دھماکے اور شدید فائرنگ کی آوازیں دور دور تک سنی گئی۔
#بلوچستان
چاغی کے علاقے پدگ ھُشک نلی میں مسلح افراد نے کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر تین بوزر، اور دیگر چار بڑے گاڑیوں پر حملے
بریکنگ نیوز
خاران کے علاقے ایری کلّگ تنک کے مقام پر فورسز کے قافلے پر مسلح افراد کا شدید حملہ
Seven Military Personnel Killed, Several Wounded in Blockades and Clashes in Kalat and Gomazi: Major Gwahram Baloch
On July 23, 2026, Baloch Liberation Front fighters set up a blockade on the main highway in the Manguchar area of Kalat for over two hours, conducting snap checks and searching all vehicles moving on the highway. After the blockade ended, the occupying army attempted to advance into the area. However, the alert fighters launched an effective attack on them using heavy and automatic weapons. As a result of this counter-attack, two occupying army personnel were killed and several wounded; after suffering losses in life and material, the remaining Pakistani army personnel were forced to retreat.
In another attack, on July 22, 2026, our fighters were on patrol in the Gomazi area of Tump, carrying out routine organizational duties and assessing the situation in the area. Meanwhile, the occupying Pakistani army had set up an advance blockade along the route in order to stop the fighters' advance and encircle them. While advancing, the fighters attacked the occupying army, and a fierce clash broke out from both sides, continuing for more than an hour. As a result of the fighters' effective counter-action, Five personnel of the occupying Pakistani army were killed and several wounded.
In another operation on July 22, 2026, fighters set up a blockade on the main highway at Rodinjho in the Kalat area and searched vehicles. During the blockade, the occupying army attempted to advance and fired several mortar shells at the fighters' positions; the fighters' security units responded swiftly, attacking the enemy with heavy and automatic weapons. During this attack, an RPG round severely damaged an enemy military vehicle, and the army suffered casualties, after which the occupying personnel were forced to retreat.
The Baloch Liberation Front claims responsibility for the killing of Seven personnel of the occupying Pakistani army and the wounding of several others in the blockades and clashes in Kalat and Gomazi.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson: Baloch Liberation Front
25 July 2026
Ref. No. BLF/July2026/00091
قلات اور گومازی میں ناکہ بندیوں اور جھڑپ میں 7 فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 23 جولائی 2026 کو قلات کے علاقے منگچر میں مین ہائی وے پر دو گھنٹے سے زائد وقت تک ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی اور اس دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر نقل و حرکت کرنے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد قابض فوج نے علاقے میں پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پہلے سے مستعد سرمچاروں نے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے موثر حملہ کیا۔ اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جانی و مالی نقصان کے بعد پاکستان فوج کے باقی اہلکار پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
ایک اور کارروائی میں، 22 جولائی 2026 کو ہمارے سرمچار تمپ کے علاقے گومازی میں معمول کے تنظیمی امور کی انجام دہی اور علاقے کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے گشت پر تھے۔ اسی اثنا میں قابض پاکستانی فوج نے سرمچاروں کی پیش قدمی روکنے اور انہیں محاصرے میں لینے کی غرض سے ان کے راستے پر پیشگی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ سرمچاروں نے پیش قدمی کے دوران قابض فوج پر حملہ کیا اور دونوں اطراف سے شدید جھڑپ کا آغاز ہوا جو ایک گھنٹے سے زائد وقت تک مسلسل جاری رہا۔ سرمچاروں کی موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں قابض پاکستانی فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
22 جولائی 2026 کے روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے قلات کے علاقے رودینجُو کے مقام پر مین شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی کے دوران قابض فوج نے آگے بڑھنے کی کوشش کی اور سرمچاروں کی مورچوں پر مارٹر کے متعدد گولے داغے، سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران آر پی جی کا گولہ لگنے سے دشمن کی ایک فوجی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد قابض اہلکار پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ قلات اور گومازی میں ناکہ بندیوں اور جھڑپوں میں قابض پاکستانی فوج کے 7 اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
25 جولائی 2026
Ref. No. BLF/July2026/00091
بریکنگ نیوز
خضدار کے علاقے لاکہریان میں پولیس چیک پوسٹ پر قبضہ، حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ اور دیگر سامان ضبط کرلیے۔
گزشتہ روز قلات کے علاقے رودینجو میں مسلح افراد نے مین شاہراہ پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی جبکہ پیش قدمی کرنے والے اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
گزشتہ روز مستونگ کے علاقے اسپلنچی میں پاکستانی فوج اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی جس میں بڑی تعداد میں جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں، پاکستانی فوج کے جانب دو اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
#بلوچستان
BLF claims responsibility for the attacks on the Coast Guard and Petrol team in Buleida, Pasni and Karachi: Major Gwahram Baloch
On July 23 206, fighters of the Baloch Liberation Front ambushed a two-motorcycle patrol team of the occupying army at the Bazpesh area of Buleida. As a result of the attack, one personnel was killed on the spot while another was seriously injured.
On the night of 21 July 2026, BLF fighters targeted a Coast Guard checkpoint near Hamdard University, located between Karachi and Hub Chowki, with a hand grenade attack, the attack resulted in the death of one Coast Guard personnel on the spot.
In another attack, fighters of the Balochistan Liberation Front, around 10 PM on the night of 17 July, targeted the main Coast Guard camp in Pasni, which also houses a radar system, by firing multiple rounds from grenade launchers. All the rounds struck their main targets, causing the enemy severe losses in both lives and material. Later that night, while enemy military personnel and technicians were busy assessing the damage to the radar system and other losses at the main camp, our fighters once again strategically attacked the camp with grenade launchers, causing further damage to Coast Guard personnel and the radar system installations.
The BLF claims responsibility for the attacks on the Coast Guard in Buleida, Karachi and Pasni.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation Front
25 July 2026
Ref. No. BLF/July2026/00090
بلیدہ، کراچی، اور پسنی میں کوسٹ گارڈ اور گشتی ٹیم پر حملوں کی زمہ داری قبول کرتے ہیں: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 23 جولائی 2026 کو بلیدہ کے علاقے بزپیش کے مقام پر قابض فوج کی دو موٹر سائیکلوں پر مشتمل گشتی ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 21 جولائی 2026 کی رات کراچی اور حب چوکی کے درمیان ہمدرد یونیورسٹی کے قریب قائم کوسٹ گارڈ کے چوکی کو دستی بمب حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کوسٹ گارڈ کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔
ایک اور حملے میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 17 جولائی 2026 کی رات دس بجے کے قریب پسنی میں واقع کوسٹ گارڈ کی مرکزی کیمپ جس میں ریڈار سسٹم بھی قائم ہے، کو گرنیڈ لانچرز سے متعدد گولے داغ کر حملے کا نشانہ بنایا- تمام گولے مرکزی اہداف پر جاگرے جس سے دشمن کو شدید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ رات گئے جب دشمن کے فوجی اہلکار اور ٹیکنیشن مرکزی کیمپ میں ریڈار سسٹم اور دوسرے نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف تھے تو ایک بار پھر ہمارے سرمچاروں نے حکمت عملی کے ذریعے کیمپ پر گرنیڈ لانچرز سے حملہ کردیا جس سے کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں اور ریڈار سسٹم کی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا۔
بی ایل ایف بلیدہ، کراچی اور پسنی میں کوسٹ گارڈ پر ہونے
والے حملوں کی زمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
25 جولائی 2026
Ref. No. BLF/July2026/00090
