Sobain|سوبین بلوچ
前往频道在 Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
显示更多未指定国家未指定类别
258
订阅者
+124 小时
+77 天
+2330 天
帖子存档
گزشتہ روز نا معلوم مسلح افراد نے چاغی کے علاقے پدگ میں ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی اور وڈھ پولیس تھانے کو اپنے قبضے میں لیکر نزر آتش کردیا ۔
🚨🚨
خضدار کے علاقے لاکہریان میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے گزشتہ روز ناکہ بندی کے دوران پولیس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور ایک پولیس افسر، سعید احمد میمن ولد محمد سقیّد، سکنہ گلستانِ جوہر کراچی، کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
مغوی افسر محکمۂ ایکسائز میں انسپکٹر کے عہدے پر تعینات ہیں۔
مسلح افراد نے بارکھان کے علاقے کندی میں نصب یوفون ٹاور کو نذرِ آتش کر دیا اور اس میں نصب جاسوسی کیمروں کو بھی ناکارہ بنا دیا۔
خضدار کے علاقے لاکہریان میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے پولیس کی گاڑیوں کے قافلے پر شدید حملہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق کافی دیر تک جھڑپ جاری رہی، جس کے نتیجے میں پولیس کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
قریبی علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک پولیس افسر کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
مزید اطلاعات کا انتظار ہے۔
Three personnel killed, several wounded, quadcopter and communications tower destroyed, in multiple attacks on Pakistani military camps and checkposts in Mand, Jhao, Shapuk, and Hub: Major Gwahram Baloch
Fighters of the Balochistan Liberation Front targeted Pakistani military checkpoint from a close range at Surap Border in Mand on May 17, 2026. As a result, three personnel on duty outside the post were killed on the spot. Immediately after this initial attack, our fighters targeted the other personnel positioned inside the bunkers, with heavy and automatic weapons, inflacting damage to the defensive structure of the checkpost.
Following the operation, the military tried to pursue our fighters using drones, however, out fighters withdrew safely with exceptional guerrilla tactics.
On May 15, 2026, our fighters attacked a Pakistani military security post in Doleji, area of Jhao, using heavy and automatic weapons, resulting in casualties and material losses for the enemy forces. During the attack, the disoriented enemy used a quadcopter to target the fighters, which was swiftly and effectively shot down mid-air by our sarmachars.
On May 13, 2026, BLF's fighters carried out a coordinated attack on the main camp of the Pakistani military and adjacent security checkposts in Shapuk area of the Kech district. Different units of fighter simultaneously targeted the enemy's camp and checkposts from multiple directions using modern, heavy, and automatic weapons. The operation resulted in severe damage to the enemy's main camp and outer checkposts, while stationed personnel suffered casualties and material losses.
On April 29, 2026, our fighters targeted a state communications tower equipped with surveillance devices in Duriji area of Hub, setting fire to the machinery. As a result of this attack, all critical equipment and related machinery installed on the enemy's communications tower were burnt and distroyed.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for all these attacks including the killing of three personnel and the targeting of camps, checkposts, and the communications tower in Mand, Jhao, Shapuk, and Hub.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation Front
17 May 2026
Ref. No. BLF/May2026/00062
مند، جھاؤ، شاپک اور حب میں قابض پاکستانی فوج کے کیمپوں اور چوکیوں پر مربوط حملے، تین اہلکار ہلاک متعدد زخمی، کواڈ کاپٹر اور مواصلاتی ٹاور تباہ: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 17 مئی 2026 کو مند کے علاقے سوراپ بارڈر پر قائم پاکستانی فوج کی ایک چیک پوسٹ کو انتہائی قریب سے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں باہر ڈیوٹی پر موجود تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس ابتدائی حملے کے فوراً بعد، سرمچاروں نے مورچوں کے اندر پوزیشن لیے ہوئے دیگر اہلکاروں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس سے چیک پوسٹ کے دفاعی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
کارروائی کے بعد فوج نے ڈرون طیاروں کے ذریعے سرمچاروں کا تعاقب کیا، تاہم سرمچار گوریلا حکمتِ عملی اپناتے ہوئے بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
سرمچاروں نے 15 مئی 2026 کو جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں قائم قابض پاکستانی فوج کی حفاظتی چوکی پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ کارروائی کے دوران حواس باختہ دشمن نے سرمچاروں کی پوزیشنز کو نشانہ بنانے کے لیے کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا، جسے سرمچاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہوا میں ہی مار گرایا۔
سرمچاروں نے 13 مئی 2026 کو کیچ کے علاقے شاپک میں قائم قابض پاکستانی فوج کے مین کیمپ اور اس سے متصل حفاظتی چوکیوں پر ایک مربوط حملہ کیا۔ سرمچاروں کے مختلف دستوں نے جدید، بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے دشمن کے کیمپ اور چوکیوں کو متعدد اطراف سے بیک وقت نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کے مین کیمپ اور بیرونی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ وہاں تعینات اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
سرمچاروں نے 29 اپریل 2026 کو حب کے علاقے دُریجی میں جاسوسی کے آلات سے لیس ریاستی مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بناتے ہوئے وہاں موجود مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔ سرمچاروں کے اس حملے کے نتیجے میں مذکورہ مقام پر قائم دشمن کے مواصلاتی ٹاور پر نصب تمام اہم آلات اور متعلقہ مشینری جل کر مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ مند، جھاؤ، شاپک اور حب میں ہونے والے ان تمام حملوں، تین اہلکاروں کی ہلاکت، اور کیمپوں، چوکیوں و مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
17 مئی 2026
Ref. No. BLF/May2026/00062
+1
بلوچستان میں حملوں کے بعد پاکستان آرمی کے 11 زخمی افسران کو سی ایم ایچ کوئٹہ میں داخل کر دیا گیا ہے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
زخمی افسران کے نام
1۔ لیفٹیننٹ باسط
2۔ لیفٹیننٹ سیم
3۔ لیفٹیننٹ حذیفہ
4۔ لیفٹیننٹ سعد حمید
5۔ لیفٹیننٹ عبداللہ
6۔ کیپٹن قاسم
7۔ کیپٹن ارسلان
8۔ کیپٹن وسیم
9۔ کیپٹن وقار
10۔ کیپٹن محمد
11۔ نائب صوبیدار شراللہ
واضح رہے کہ بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتے رہے ہیں۔
بی ایل ایف کے جانب جاری کی گئی ایک ویڈیو کی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چار لاشیں روڈ پر پڑے ہیں جنہیں ایک حملے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ جبکہ بی ایل اے نے چمالنک میں پاکستانی فوج پر حملے میں ایک میجر سمیت 8 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی۔
Seven Military Personnel Killed, Several Wounded in 4 different Operations, Weapons Seized from Police, Mobile Tower Destroyed: Major Gwahram Baloch
On 10 May 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front ambushed a Pakistani military convoy on the RCD Highway in the Bencha area of Surab, using rocket launchers, small machine guns, and other automatic weapons as the convoy was moving from one camp to another. Two vehicles directly came under the attack, resulting in 05 military personnel killed and 4 injured, while both targeted vehicles were completely distroyed.
Immediately after the attack, additional reinforcement troops advanced from the Benicha checkpoint in an attempt to assist the convoy, but our pre-positioned fighters also attacked the reinforcing units and repelled them, causing further casualties and material losses to the occupying forces.
On 10 May 2026, BLF's fighters targeted a Frontier Corps checkpoint located on the main bridge in the Tagzzi area of Kharan. In this operation, our fighters used rocket launchers, grenade launchers, and other automatic weapons, killing two personnel on the spot and injuring three.
On 7 May 2026, our fighters shoot and distroyed a communications tower equipped with surveillance and monitoring devices in the Malaar Dhamb area of Kolwah, and set the machinery ablaze.
Shortly thereafter, personnel from a nearby military camp attempted to surround the fighters from multiple directions, but our fighters responded swiftly and attacked the personnel, forcing them to retreat. They also suffered casualties in this engagement.
On 6 May 2026, BLF's fighters attacked and apprehended an Eagle Force police patrol team at Mastung Adda, and seized a Kalashnikov from them. After interrogation, the police personnel were released on humanitarian grounds.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for these attacks on Pakistani military forces and convoys, police personnel, and communications infrastructure in Surab, Kharan, Kolwah, and Mastung.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson: Balochistan Liberation Front
12 May 2026
Ref. No. BLF/May2026/00061
4 مختلف کارروائیوں میں 7 فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی، پولیس اہلکاروں سے اسلحہ ضبط، موبائل ٹاور تباہ: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 10 مئی 2026 کو سوراب کے علاقے بینچہ میں آر سی ڈی شاہراہ پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو راکٹ لانچرز، چھوٹے مشین گنز اور دیگر خود کار ہتھیاروں سے اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب فوجی قافلہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کی طرف جا رہی تھی۔ دو گاڑیاں مکمل طور پر حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے، جبکہ حملے کی زد میں آنے والی دونوں گاڑیاں مکمل طور ناکارہ ہو گئیں۔
حملے کے فوراً بعد، بینچہ چیک پوسٹ سے دشمن کی کمک کیلئے مزید نفری نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی مگر وہاں موجود پہلے سے پوزیشن سنبھالے ہوئے سرمچاروں نے فوجی قافلے کی کُمکّ کیلئے حرکت میں آنے والے دستوں پر بھی حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا۔ جس سے قابض فوج کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
سرمچاروں نے 10 مئی 2026 کو خاران کے علاقے تاگزّی میں مرکزی پل پر قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ کو حملے کا نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے اس کارروائی میں راکٹ لانچر، گرنیڈ لانچر اور دیگر خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں فورسز کے دو اہلکار موقع پر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
سرمچاروں نے 7 مئی 2026 کو کولواہ کے علاقے مالار دمب میں نصب جاسوسی اور نگرانی کے آلات سے لیس مواصلاتی ٹاور پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا اور متعلقہ مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔
اسی دوران قریبی فوجی کیمپ کے اہلکاروں نے سرمچاروں کو مختلف اطراف سے گھیرنے کی کوشش کی، تاہم سرمچاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے فوج پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی۔ اس جھڑپ میں فوج کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
سرمچاروں نے 6 مئی 2026 کو مستونگ اڈہ پر پولیس کی ایگل فورس کی گشتی ٹیم پر حملہ کر کے انھیں گرفتار کیا اور ان سے ایک کلاشنکوف قبضے میں لے لی، تاہم پوچھ گچھ کے بعد پولیس اہلکاروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ سوراب، خاران، کولواہ اور مستونگ میں پاکستانی فوج اور فوجی قافلے، پولیس اہلکاروں، اور مواصلاتی نظام پر ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
12 مئی 2026
Ref. No. BLF/May2026/00061
خاران کے علاقے تاگزّی میں مسلح افراد کا ایف سی کے چیک پوسٹ حملہ، دھماکوں سے علاقہ گونج اٹھا۔
خاران سے آمدہ اطلاعات کے مطابق آج شام آٹھ بجے کے قریب بلوچ آزادی پسندوں نے تاگزّی پلّ پر قائم ایف سی چیک پوسٹ پر شدید حملہ کیا ہے۔
علاقائی زرائع کے مطابق مسلح افراد نے راکٹ لانچروں کا استعمال کیا اور یکے بعد دیگرے سات دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں آتی رہی۔
حملے کے بعد مزکورہ مقام سے دھوئیں کے بادل بُلند ہوئے۔
