ISLAM WITH EMAN
الذهاب إلى القناة على Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
إظهار المزيد1 284
المشتركون
-124 ساعات
-37 أيام
-730 أيام
أرشيف المشاركات
1 284
🌹 ان کہی محنت 🌹
شہر کی بھاگ دوڑ والی زندگی میں سارہ اور احمد ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے۔ سارہ ایک اسکول میں ٹیچر تھی، اور احمد ایک پرائیویٹ کمپنی میں کلرک۔ گزر بسر تو ہو جاتی تھی، لیکن سارہ کو اکثر شکایت رہتی کہ احمد کما تو لیتا ہے، مگر گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا۔ وہ تھک کر گھر آتی، کھانا بناتی، بچوں کو سنبھالتی، اور احمد صرف ٹی وی دیکھتا رہتا۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں سوچا—*"کیا یہی زندگی ہے؟"*
پھر ایک رات، سارہ نے دیکھا کہ احمد چپکے سے اٹھا، اپنا لیپ ٹاپ کھولا، اور گہری نیند میں ڈوبے بچوں کو چُپکے سے چوم کر کام میں جُت گیا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، انگلیاں کی بورڈ پر تیزی سے چل رہی تھیں۔ سارہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ احمد بھی تو تھکا ہوا ہے—وہ صبح سے شام تک دفتر میں کام کرتا، پھر رات کو فری لانس پروجیکٹس لے کر گھر کی اضافی ضروریات پوری کرتا تھا۔
اگلی صبح، سارہ نے احمد سے کہا:
"تم نے کبھی بتایا نہیں کہ راتوں کو بھی کام کرتے ہو..."
احمد نے مسکراتے ہوئے کہا:
"تمہاری اور بچوں کی خوشی کے لیے تھوڑی سی نیند کی قربانی تو کوئی بات نہیں۔"
اس دن کے بعد سارہ کے دل سے تمام گلے شکوے غائب ہو گئے۔ اس نے سمجھ لیا کہ محبت صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ خاموش قربانیوں میں ہوتی ہے۔
🔘 کبھی کبھی ہم دوسروں کی محنت کو "ان کہی" ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر ہم تھوڑی سی توجہ دیں، تو پتا چلتا ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ پر جتن کر رہا ہوتا ہے۔ رشتوں کی مضبوطی صرف تب ہی ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کی کوششوں کو سمجھیں۔
"محبت آنکھوں سے دیکھنے کا نام ہے… زبانیں تو بس تکرار کرتی ہیں۔"
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 بے اولاد جوڑے کی جائیداد 🔷
قریبا سال ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے۔ ایک گھر کا گراونڈ فلور کراے پر لیا۔ یہ بہت بڑا اور ہوادار گھر تھا۔ ایک خوبصورت سا لان بھی ملحقہ تھا۔۔ دیکھتے ہی یہ گھر مجھے بڑا پسند آیا تھا۔۔ شفٹ ہونے کے بعد الماریاں چیک کرنے لگی تو ان الماریوں میں کافی سامان پوٹلیوں میں بند پڑا تھا۔ رسالے۔۔ سلائی کڑھائی کے ڈبے ۔ مختلف فائلیں اور تصاویر کے البمز۔۔۔
گھر والوں سے رابطہ کیا کہ اپنا سامان لے جائیں۔۔ انہوں نے کہا ردی میں دے دیں یہ ہمارے کام کے نہیں۔
اب میں نے اس سامان کو چھانٹنا شروع کیا۔۔کہ جو چیز میرے کام کی ہو وہ رکھ لوں باقی بیچ دوں۔
اتنا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک انتہائی آرگنائزڈ خاتون کی الماری رہی ہوگی۔ مختلف مخملی تھیلیوں سے یہ کیبنٹ بھرا ہوا تھا ۔۔۔بالوں میں لگانے والے پونی کیچرز پنیں وغیرہ ایک تھیلی میں بند تھے ۔۔ تھوڑا سا میک اپ کا بنیادی سامان دوسری تھیلی میں۔۔ ایک میں لیسز۔۔ بٹنز دھاگے سوئیاں۔۔
ایک میں آرٹیفیشل پرانی سی جیولری۔ مخملی ہاتھ کی کڑھائی والے رومال۔۔
سجاوٹ کی یہ اشیا اس چیز کی گواہی دے رہی تھیں کہ یہاں ایک مکمل جہان آباد تھا۔۔
ایک شاپنگ بیگ میں دو تین چادریں اور رومال تھے۔۔ یہ وہی چادریں تھیں جو عموما حج عمرے کر کے لوگ تحفے میں لاتے ہیں۔۔۔
کئی اعزازات اور شیلڈز تھیں جو ان میاں بیوی کو اپنے کامیاب پروفیشنز میں اعزازی طور پر دی گئی ہونگی۔۔۔ کتنے نازاں رہے ہونگے ۔۔ اپنی شیلڈز کو جب بھی دیکھتے ہونگے۔۔ سرشاری سے مسکرا دیتے ہونگے۔۔۔
اب باری آئی تصویروں والے ڈبے کی۔۔۔
متجسس ہو کر ان تصاویر کو نکال کر دیکھنے لگی۔۔ یہ اس ںے اولاد جوڑے کی تصویریں تھیں۔۔ جو وفات پا چکے تھے اور گھر انکے رشتے داروں کے حصے میں آیا تھا۔
بلیک اینڈ وائٹ سے لے کر رنگین۔ ایک پورا دور میں دیکھ رہی تھی۔ زندگی سے بھر پور اس جوڑے نے یقینا بڑی آسودہ زندگی گزاری ۔۔
۔۔ دونوں سرکاری ملازم تھے شوہر وکیل تھا اور بیوی لیکچرر۔۔۔ عہدے بول رہے تھے۔۔
اب وہ تصویریں شروع ہوگئیں جن میں لمبی مسافت اور تھکاوٹ انکے چہروں پر عیاں تھیں۔ ان کی آنکھوں میں وہ محرومی واضح پڑھی جا سکتی تھی جس کو ایک لمبا عرصہ یہ لوگ کامیابی سے چھپاتے آے تھے۔
آخری کی چند تصاویر میں یہ عورت شدید بیمار لگ رہی تھی۔ اسکے بعد تصویریں ختم ہوگئیں۔ میں سمجھ گئی کہ ایک کی زندگی کا باب رک گیا تھا۔
اس کے سال ڈیڑھ سال بعد ہی شوہر بھی شدید بیماری کے بعد اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اور پھر کسی رشتے دار کے حصے میں گھر آیا کسی کے حصے میں دکانیں۔ کسی کے حصے میں جیولری آئی تو کسی کے حصے میں گھر کا سارا سامان۔
ان کی اصل یادیں جس سامان میں تھیں۔ اسے ردی میں بیچ دینے کا کہہ دیا گیا تھا۔ کوئی ایک تصویر بھی تو غائب نہ تھی کہ اندازہ ہو پاتا کہ جن رشتے داروں کو کروڑوں کی جائداد مل رہی ہے انہوں نے احتراما تصویریں سینے سے لگا لی ہیں۔
مجھ سے یہ تصویریں ردی میں نہ دی گئیں۔میں نے انہیں سیمٹا پیک کیا اور اوپر ایک کیبنٹ میں واپس رکھ دیا۔
مجھے یہ شاندار گھر جس حالت میں ملا۔ یوں سمجھیں کیڑے پڑے ہوئے تھے۔ الماریوں میں دیمک لگ چکی تھی۔ کچن کے کیبنٹس اصل شناخت کھو چکے تھے۔ پورا ہفتہ مل مل کر دھویا تب جا کے اصل شکل سامنے آئی۔
کیا لگتا ہے یہ لوگ انکی قبروں پر فاتحہ پڑھنے جائیں گے؟؟ انکے ایصالِ ثواب کے لیے کچھ کریں گے درجات کی بلندی کے لیے دعا یا صدقہ کریں گے۔۔۔؟
مجھ سے پوچھیں تو صاف گوئی سے کہوں گی۔
۔۔بالکل نہیں۔۔
آپکی وفات کے بعد اگر کوئی آپ سے جذباتی وابستگی رکھتا ہے اور اپ کے لیے صدقہ ِ جاریہ بنتا ہے تو وہ آپکی اولاد ہوتی ہے جو آپکی یادوں کو سینے سے لگا کر رکھتے۔ آپکی اعزازی شیلڈز کو آپکی اولاد سنبھال کر ناصرف رکھتی ہے بلکہ اپنی اولادوں کو بھی فخر سے دکھاتی ہے۔ چند ایک منفی مثالیں مجھے مت سنائیے گا۔ میجارٹی ماں باپ کی فرماں بردار اور وفاشعار ہی ہے۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ چلو اپنی اولاد نہ ہونا ان کا نصیب تھا لیکن اتنی دولت جائداد ہونے کے باوجود تو انہوں نے کوئی بچہ کیوں نہ اڈاپٹ کیا؟ اپنوں سے یا غیروں سے لیتے۔ یہ اپنی زندگی میں رنگ تو بھر سکتے تھے۔ یوں پچاس ساٹھ سال کی عمروں میں روگ کا شکار ہو کر مر تو نہ جاتے۔
کیا ممتا صرف اپنی کوکھ سے جنم لینے والے بچوں کے لیے کمپلسری ہوتی ہے؟؟ اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو آپ کسی بچے کے سر پر شفقت کا ہاتھ کیوں نہیں رکھ پاتے؟ کسی بچے کے ماں باپ بن کر اپنے حصے کی خوشیاں سمیٹنے میں کیا قباحت ہوتی ہے۔؟
کیا وہ بچہ جسے یہ ماں باپ بن کر پالتے۔ یہ چیزیں ردی میں پھینکتا؟؟ نہیں۔۔ہرگز نہیں۔ اس اولاد نے مرتے دم تک ماں باپ کے لیے صدقہ جاریہ بننا تھا۔
یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہیں بچے پسند نہ ہونگے۔ اکیلے خوش رہ رہے ہونگے۔۔
ریئلی؟؟؟ بچے کسی کو ناپسند بھی ہوتے ہیں؟
کاپیڈ۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 شادی کرنے والوں کے لئے 🔷
آج کل میں رشتے کی تلاش میں ہوں، جس کی وجہ سے مختلف خواتین سے بات چیت ہو جاتی ہے۔
کل ایک خاتون کی کال آئی اور وہ بہت ایمرجنسی میں لگ رہی تھیں کہ میری عمر 33 سال ہوگئی ہے اور آپ جلدی اپنی تصویر بھیجیں اور لوگ برے ہوتے ہیں، آپ کماتے کتنا ہیں ۔۔۔ فلاں ڈھمکاں
میں نے کہا محترمہ یہ زندگی بھر کا معاملہ ہوتا ہے اور جو ایک دفعہ چوٹ کھا چکا ہو اس کیلئے تو مزید نازک معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ فیصلے پل دو پل میں نہیں ہو جاتے
انسان کا مزاج ملنا، اس کی قوت برداشت ایک دوسرے کیلئے، اس کا طرز رہائش و انداز نشت و برخاست سب دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے ۔
یہ سب ہمیں شادی سے پہلے ضرور دیکھنا چاہیے کیونکہ زندگی فقط محبت کے سہارے نہیں گزرتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مزاج کا ملنا اور ایک دوسرے کیلئے قوت برداشت ہونا انتہائی لازم ہوتی ہے
کمائی یا روپیہ پیسہ بھی ثانوی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ حالات بدلتے وقت نہیں لگتا اور اگر بنیاد مالی حیثیت ہو تو دس پندرہ سال سے چلتے رشتے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
تمام وہ لوگ جو شادی کرنا چاہتے ہیں یہ ان کیلئے ایک نصیحت ہے کہ خدارا جب تک ایک دوسرے سے مزاج نا ملے یا ایک دوسرے کیلئے قوت برداشت نا ہو تو نا کریں شادی
کیونکہ ہمارے معاشرے میں شادی فقط جنسی تعلق کا نام نہیں ہے بلکہ ایک نئے خاندان کی بنیاد ہے جس سے نسلیں چلتی ہیں ۔ خود کو یورپ یا عرب معاشرے پر پرکھتے ہوئے شادیاں نا کریں کیونکہ وہ اور معاشرے ہیں ۔
یورپ میں مرد اکیلا خاندان کا کفیل نہیں ہوتا بلکہ عورت ساتھ کماتی بھی ہے اور بچے بھی سنبھالتی پھر ریاست بھی ان کی مددگار ہوتی ہے، بے روزگاری الاؤنس ، بچوں کے الاؤنس وغیرہ ۔ ان کی ٹینشنز اور راحتیں بالکل مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں ۔ اس لئے مرد و زن کے حقوق و فرائض کا توازن ہم سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
عرب معاشرے میں بیوی ہمارے معاشرے کی طرح جیون بھر کا ساتھی تصور نہیں ہوتی بلکہ شو پیس خصوصاً سیکس پارٹنر کے طور پر دیکھی جاتی ہے اس لئے وہاں کثیر زوج عام سی بات ہے یا ستر سال کے مرد کی بیس سال کی عورت سے شادی عام سی بات ہے ۔ ان کا بھی مرد و زن کے حقوق و فرائض کا توازن بالکل مختلف ہوتا ہے
جب کہ ہمارے معاشرے میں اکثر مرد اکیلا کفیل ہوتا ہے، نا ریاست مددگار ہوتی ہے اور اسی فیصد بیوی بھی معاشی مددگار نہیں ہوتی (اگر ہو تو زیادہ تر مرد کو بیغیرت یا کمزور تصور کیا جاتا ہے)
ایسے میں مرد اکیلا اس بے ہنگم معاشرے میں تکلیف اٹھا رہا ہوتا ہے، جس میں وہ دن بدن نفسیاتی مریض بن رہا ہوتا ہے اوپر سے بیویوں کی خواہش عرب و یورپ والی زندگی اور اس پر مرد و طعن و تشنیع اسے اندر سے ختم کررہی ہوتی ہے۔ اس لئے اس معاشرے میں قوت برداشت ضروری ہے خصوصاً بیوی کو اپنے تکلیف میں مبتلا مرد کے سکون کا باعث بننا چاہیے ۔
لڑکیوں! اگر قوت برداشت نہیں ہے تو خدا کیلئے شادی نا کرو کیونکہ پاکستانی مرد جو ریاست و سماج کے دباؤ میں ہے اسے آپ مریض بنا دیتی ہو۔ ان گنت کیسیز سامنے آرہے ہیں
خدارا ایسا نا کرو کیونکہ اب مردوں کا شادی سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے اور عنقریب اس معاشرے کا خاندانی سسٹم بہت برے طریقے سے ٹوٹے گا جس کا بنیادی victim عورتیں ہوں گی ۔ ابھی خاندانی نظام کے تحت آپ کے حصے کے نوے فیصد نشتر مرد / شوہر مسکراتے ہوئے کھاتا ہے جب یہ نظام ٹوٹا اور آپ بلواسطہ ریاست و سماج کے نرغے میں آگئیں تو آپ کی چیخیں نکل جائیں گی
کیونکہ ہماری ریاستیں تو اپنے شہریوں کا ذمہ نہیں لیتیں اور پھر یورپ کی عورت کی طرح بچے پالنے کے ساتھ ساتھ کمانا بھی پڑ گیا تو کدھر جاؤ گی ؟ یورپ کی بہت بڑی تعداد اسی لئے نشے کی عادی ہے جبکہ ریاست ساتھ بوجھ بھی اٹھواتی ہے ۔ ہمارا کیا ہوگا۔؟
منقول۔۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5862
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 چھوٹے دوکاندار 🔷
ہم اکثر کہتے ہیں کہ چھوٹے دکانداروں، ریڑھی والوں سے چیز خرید لینی چاہیے، چاہے ضرورت نہ ہو۔ ایک بہانہ ہی سہی، لیکن ان کی مدد ہو جاتی ہے۔
ایک پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے، شادی سے پہلے کا۔
ایک بار ایک ریڑھی والے سے چپس خریدنے کا اتفاق ہوا۔
پوچھا، "کتنے کی پاؤ؟"
کہنے لگا، "100 روپے کی پاؤ۔"
ہم نے کہا، "آدھا پاؤ دے دو۔"
میں اور چھوٹی تھیں، ایویں بس منچنگ کا شوق پورا کرنا تھا۔
اس نے 104 گرام تول دی۔
میں نے پوچھا، "ایک پاؤ میں کتنے گرام ہوتے ہیں؟"
کہنے لگا، "250 گرام۔"
میں نے پھر کہا، "تو آدھا پاؤ کتنے کا ہوتا ہے؟"
بولے، "125 گرام۔"
پھر میں نے سیدھا سوال کیا، "تو آپ نے 104 گرام کیوں دیے؟"
جواب میں آئیں بائیں شائیں...
پھر جناب نے 125 گرام پوری کی بڑے احسان کے ساتھ
آج بازار میں ایک طرف کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا کیا رہ گیا ہے لینے والا۔
ایک پھیری والا قریب سے گزرا، جس کے پاس کنگھیاں، شیشے، پونیاں وغیرہ تھیں۔
چھوٹی کنگھیاں نظر آئیں تو دل میں آیا لے لوں، میرے بیٹے کو آج کل جیب میں کنگھی رکھنے کا بڑا شوق ہے۔ وہ باریک کنگھی لیے پھرتا ہے
پوچھا، "کتنے کی ہے؟"
جواب ملا، "30 کی ایک، 50 کی دو۔"
اٹھا لیں۔ پھر زمر کے لیے بلیک پونیاں دیکھیں، وہ بھی پچاس کی لے لیں۔
پھر میری نظر سیفٹی پنز پر پڑی۔ پوچھا، "یہ کتنے کی؟"
کہنے لگا، "40 کی ایک، 100 کی تین۔"
اور بنا وقت ضائع کیے تین گچھے میرے ہاتھ میں تھما دیے۔
دماغ گھوم گیا۔
میں اسی طرح کی چیزوں کے سٹال کے سامنے کھڑی تھی، مجھے اچھی طرح علم تھا ان کی اصل قیمت کا۔
دل میں خیال آیا، یہ بندہ تو میرے 'ترس کھانے کی عادت' کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
میں نے کہا، "واپس لے لو بھائی، یہ 20 کی آتی ہے ایک۔"
کہنے لگا، "یہ سٹیل کی ہے۔"
لو دسو اپنے جہیز کے سامان میں برتن والی ٹوکری اور گلاس سٹینڈ لیا تھا جو بقول دوکاندار سٹیل کا تھا اور مہینے میں وہ دونوں چیزیں زنگ سے خراب ہو گئی تھی کافی مہنگی دی تھی اس نے اور لائف ٹائم گارنٹی کے ساتھ۔
شکایت کی تو آئیں بائیں شائیں اور میں نے پھر وہ دونوں کباڑیے کو بیچیں
اب یہ بھائی مجھے سٹیل کی سیفٹی پنز سیل کر رہے تھے
پاس کھڑا سٹال والا بھی بول اٹھا، "اوئے، 20 کی ہے۔"
مگر مجال ہے کہ وہ مانے۔
"یہ اچھی والی ہے،" وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔
میں نے وہ سیفٹی پنز واپس اس کی ٹوکری میں رکھ دی۔
مسئلہ 30، 40 روپے کا نہیں تھا،
غصہ اس بات پر آیا کہ لوگ کسی کی نیکی، کسی کی ہمدردی کو بیوقوفی سمجھتے ہیں۔
تھوڑا سا ناک بھوں چڑھانے کے بعد اس نے شرافت سے پانچ گچھے دے ہی دیے۔
اور سچ تو یہ ہے، مجھے صرف ایک گچھا ہی کافی تھا،
باقی چار صرف اس سے ہمدردی میں خریدے۔
یہ پاکستان کا وہ طبقہ ہے جسے سب سے زیادہ سہارا چاہیے،
لیکن جھوٹ، چالاکی، بے ایمانی یہاں بھی اتنی ہی گہری ہے جتنی اوپر کے طبقات میں۔
جس کا جتنا ہاتھ پڑتا ہے اتنا دا لگاتا ہے
ہاں ایک اور ڈرامہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے بازار میں
چھوٹے بچے آپ کو کہتے ہیں باجی بسکٹ لے لو ہم غریب ہیں
اور ہم ہمدردی کےمارے سوچتے ہیں چلو زیادہ لے لیتے ہیں اس کا بھلا ہو جائے گا
اور وہ محترم چھوٹو سا بچہ آپ کے ہاتھ سے سو کا نوٹ پکڑتا ہے آپ کے ہاتھ پر پانچ روپے والے پانچ بسکٹ رکھتا اور رفو چکر ہو جاتا ہے
اور آپ منہ دیکھتے رہ جاتے ہو
کہیں تو کیا کہیں
اور پھر ہم حکمرانوں کو گالیاں ، غربت کی دہائیاں ، مر گئے رڑ گئے کے نعرے
مگر محنت کر کے حق حلال کی کوئی بھی کھانا نہیں چاہتا
نوٹ: اب کوئی مجھ پر تھوڑ دلی ہونے کا فتویٰ نہ لگائے میں جانتی ہوں یہ باتیں بہت چھوٹی ہیں جن کے بارے میں بات کرتے ہوئے عموما لوگ جھجھکتے ہیں اور اسی بات کا بے ایمان طبقہ فایدہ اٹھاتا ہے
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی انسان کا مزاج بھی بناتی ہیں اور معاشرے کا بھی.
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 مثبت و منفی ردِ عمل 🔷
ایک گھر کا منظر:
• میاں کمرے میں بیٹھے ہیں۔
• سامنے بچے کھیل رہے ہیں۔
• خاتون گھر میں پوچا لگا رہی ہے۔
• کہ اچانک دودھ جلنے کی بو آتی ہے۔
• خاتون دوڑ کر کچن کی طرف جاتی ہے۔
• اسی لمحے مین گیٹ پر کوئی گھنٹی بجاتا ہے۔
• میاں مین گیٹ کی طرف جانے کے لیے اُٹھتے ہیں
• اور سامنے رکھی پوچے کی بالٹی سے ٹکرا جاتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس پسِ منظر کے دو ممکنہ ردعمل ہو سکتے ہیں:
1۔ایک مثبت ردعمل:
خاتون فوراً آکر پوچھتی ہے: "اللہ نہ کرے! آپ کو چوٹ تو نہیں لگی؟ میں نے جلدی میں بالٹی راستے سے ہٹانا بھول گئی تھی۔"
میاں نرمی سے جواب دیتے ہیں: "نہیں، آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مجھے ہی دیکھ کر چلنا چاہیے تھا۔ میں نے جلد بازی میں دھیان نہیں دیا۔"
2۔ دوسرا منفی رد عمل:
میاں غصے سے چلاتے ہیں: "یہ کوئی بالٹی رکھنے کی جگہ ہے؟ تمہیں عقل نہیں کہ سامان مناسب جگہ پر رکھو!"
بیوی تلخ لہجے میں جواب دیتی ہے: "جی ہاں، کچن بھی دیکھوں، پوچا بھی لگاؤں، بچے بھی سنبھالوں۔ کچھ خود بھی کر لیا کریں!"
بات بڑھتی ہے، جھگڑا شروع ہو جاتا ہے، غصہ ہاتھوں تک پہنچتا ہے، شوہر بیوی کو تھپڑ رسید کرتا ہے اور باہر چلا جاتا ہے اور گھر کا سکون تہس نہس ہو جاتا ہے۔
🔷 دونوں صورتوں میں بچے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
🔹 بچوں کی تربیت پر اثرات
پہلے ردِعمل میں بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ چھوٹی موٹی غلطیوں پر نرمی سے کام لیا گیا ہے۔ لہذا ان کے ذہنوں میں یہ سبق راسخ ہوتا ہے:
• غلطی تسلیم کرلینے سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔
• نرم گفتاری سے تنازعات حل ہوسکتے ہیں۔
• گھر ایک محفوظ اور پرامن جگہ ہے۔
دوسرے ردِعمل میں بچوں کے چہروں سے رنگ اڑ جائیں جاتے ہیں۔ وہ سہم کر رہ جاتے ہیں، اور ان کے دل و دماغ پر یہ تلخ سبق نقش ہوجاتا ہے:
• غلطی ناقابل معافی جرم ہے۔
• گھر خوف و ہراس کی جگہ بن سکتی ہے۔
• طاقتور کو کمزور پر چِلّانے اور اسے مارنے کا حق حاصل ہے۔
🔘 دور رس نتائج:
پہلے گھر کے بچے اعتماد، برداشت اور معافی جیسی اقدار سیکھیں گے۔ دوسرے گھر کے بچوں کے دل میں خوف، عدم تحفظ اور انتقام کے جذبات پروان چڑھیں گے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہماری روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے بڑے ایسے واقعات ہر وقت رونما ہوتے رہتے ہیں- گھر ہو یا بازار، دفتر ہو یا سڑک، ہر جگہ ہمیں ایسے موقعوں کا سامنا رہتا ہے۔ یہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے کہ ہم ان حالات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کس طرح ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔
🔹 ہر معاملے میں ہمارے سامنے دو راستے ہوتے ہیں:
1. تعمیری راستہ: اگر ہم صبر، تحمل اور عقل سے کام لیں، تو معمولی سی بات بھی خوشگوار ماحول کا باعث بن سکتی ہے۔
2. تخریبی راستہ: اگر ہم جلدبازی، غصے اور تنقید کا راستہ اپنائیں، تو چھوٹی سی بات بھی بڑے جھگڑے میں بدل سکتی ہے۔
🔹 ہمارے رویے کے اثرات:
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے آج کے ردِعمل کل کی نسلوں کی شخصیت سازی کررہے ہیں۔ ہر والدین کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو کس طرح کا گھریلو ماحول دے رہے ہیں۔
ہمارا مثبت رویہ خوشگوار ماحول اور امن و سکون فراہم کرتا ہے جبکہ ہمارا منفی رویہ تنازعات، کشیدگی اور بے چینی کو جنم دیتا ہے جو ہمارے امن و سکون کو تباہ کر دیتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشان کن بناتا ہے۔ در حقیقت ہم اپنی سوچ اور رویے سے اپنے ماحول کو خوشگوار یا بدبودار بناتے ہیں۔ ہم خود اپنے ماحول کے خالق ہیں۔
’’اپنی غلطی کو مان لینا یا دوسروں کی غلطی سے درگزر کرنا‘‘، دونوں ہی مثبت رویہ اور مومن کی صفات ہیں۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
۔ ۔ ۔ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿١٣٤﴾ سورة آل عمران
"۔ ۔ ۔ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں (134) سورة آل عمران
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور عفو و درگزر کرنے سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند فرما دیتا ہے“ ۔ (سنن ترمذي: 2029، صحيح مسلم: 2588)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 دوسروں کی خاطر 🔷
یہ 1854 کا سال تھا۔ جاپان کے ایک خوبصورت گاؤں کے کنارے، چاولوں کے کھیت لہلہا رہے تھے۔ موسم خزاں کی خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی، اور لوگ فصل کی کٹائی کی تیاری کر رہے تھے۔ انہی میں ایک بزرگ کسان "گوریو ہاماگُچی" بھی تھا، جس کے کھیت گاؤں کے سب سے اونچے مقام پر تھے، جہاں سے پورا علاقہ صاف دکھائی دیتا تھا۔
ایک دن دوپہر کے وقت وہ چاولوں کے کھیت میں کھڑا آسمان اور سمندر کو تکتا رہا۔ اچانک اس کی نظریں سمندر پر جم گئیں۔ پانی پیچھے ہٹ رہا تھا، پرندے خاموش ہو گئے تھے، اور ایک انجانی سنسنی ہوا میں پھیل چکی تھی۔
اس کی بوڑھی آنکھوں نے خطرے کو پہچان لیا — یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی علامت تھی۔
سونامی آ رہی تھی!
مگر گاؤں والے بے خبر اپنے کاموں میں مگن تھے۔ گوریو جانتا تھا کہ اگر وہ صرف چیخ کر لوگوں کو خبردار کرے گا تو شاید کوئی یقین نہ کرے، وقت کم تھا — اور سونامی ایک لمحے میں زندگیاں نگل سکتی تھی۔
اس نے ایسا قدم اٹھایا جو ایک عام انسان نہیں سوچ سکتا۔
اس نے اپنی ساری چاول کی تیار فصل — اپنی ساری سال کی کمائی — کو آگ لگا دی۔
جلتے کھیتوں سے دھواں اٹھا، آگ کے شعلے آسمان کو چھونے لگے۔ گاؤں والے ہڑبڑا گئے۔ سب بالٹیاں، برتن، جو کچھ ہاتھ لگا اٹھا کر دوڑے۔
"گوریو کے کھیتوں میں آگ لگ گئی!"
"فصل بچاؤ!"
"جلدی کرو!"
لوگ پہاڑی پر واقع کھیتوں کی طرف دوڑنے لگے — جو دراصل وہی محفوظ جگہ تھی جہاں سونامی کا اثر نہیں پہنچ سکتا تھا۔
چند لمحے بعد، جب سب لوگ پہاڑی پر پہنچے، ایک دھماکہ سا ہوا۔ سمندر کی گرجدار لہر ایک دیو کی طرح آئی اور پلک جھپکتے میں پوری بستی کو نگل گئی۔
لیکن جو بچ گئے تھے — وہ صرف وہی تھے جو "آگ بجھانے" دوڑے تھے۔
آج جاپان میں، گوریو ہامگُچی کو ایک ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی قربانی نے پورے گاؤں کو بچایا — اور یہ سکھا گیا:
"کبھی کبھی اپنی قیمتی چیز کو کھونا پڑتا ہے، تاکہ دوسروں کی جان بچائی جا سکے۔"
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 سیپج ( سیم Damp) 🔷
"سیپج ( سیم Damp) " مکان کی خاموش دشمن
ہمارے ملک میں 90 پرسنٹ گھروں میں کچھ عرصے بعد دیواروں سے پینٹ اکھڑنے لگتا ہے، پلستر گیلا محسوس ہوتا ہے اور نمی سی رہتی ہے۔ یہی وہ دشمن ہے جسے ہم "سیپج" یعنی سیم کہتے ہیں۔ یہ وہ خاموش بیماری ہے جو آہستہ آہستہ پورے گھر کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اور ہر سال سفیدی اور پینٹ کی مد میں ہزاروں اور لاکھوں کا خرچہ کرواتی ہے ۔ لیکن پینٹ ہونے کے دو ماہ بعد یہ سیپج اسے بھی چاٹنا شروع کر دیتی ہے اور ٹکڑوں اور ذرات کی صورت میں یہ پینٹ اترنے لگتا ہے اور کمروں کو بدنما بنا دیتا ہے ۔
آج کی پوسٹ میں ، میں اس کے متعلق کچھ بات کرنا چاہوں گا ۔ سیپج عام طور پر زمین کے اندر موجود نمی یا زیر زمین پانی کے سبب پیدا ہوتی ہے، جو دیواروں کے نیچے سے اوپر کی طرف چڑھتی ہے۔ لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف پرانی عمارتوں میں نہیں، بلکہ نئے گھروں میں بھی ہو رہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ سیپج کیوں ہوتی ہے؟
پہلی وجہ تو ناقص تعمیراتی طریقہ کار ہے ۔ جب مکان کی بنیادیں بناتے وقت واٹر پروف شیٹ، ڈی پی سی (DPC) یا پھر سیمنٹ مکسنگ کے دوران سائنسی طریقے استعمال نہیں کیے جاتے، یا دیواروں کے نیچے سیلن روکنے والا کوئی مواد نہیں لگایا جاتا، تو نمی زمین سے دیواروں میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ نمی پینٹ اور پلستر کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے، جس سے دیواریں بدنما، گیلی اور ٹوٹی پھوٹی دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ اس کو چھپانے کے لیے وال پیپر اور پینل تک لگاتے ہیں مگر گھر کی خوبصورتی جاتی رہتی ہے ۔
اکثر ٹھیکے دار یا مستری ناقص یا کم معیار کا میٹریل استعمال کرتے ہیں اور DPC یعنی Damp proof course غلط طریقے سے لگاتے ہیں یا بالکل نہیں لگاتے ۔
اگر بارش یا زیر زمین پانی کی نکاسی کا صحیح انتظام نہ ہو تو بھی نئے مکانوں میں سیم بننا شروع ہوجاتی ہے ۔
تعمیر کے فورا بعد دیواروں پر جلد بازی میں پلستر یا رنگ کروانے سے بھی یہ مسئلہ آ جاتا ہے ۔
لوگ اکثر پوچھتے ہیں سر سیپج کو پھر کیسے کنٹرول کریں ۔ چند باتیں یاد رکھیے ۔ تاکہ آپ کا پیسہ اور مکان ضائع نہ ہو اور اپنی نگرانی میں یہ کام بلڈرز سے کروائیں ۔
بنیادوں میں واٹر پروفنگ ہو ، DPC اعلی معیار اور طریقے کی لگوائیں ، یہ کام پروفیشنل ٹیم ہی بہتر کرسکتی ہے ۔
دیواروں پر پلستر کرنے سے پہلے مکمل خشک ہونے دیں اور اپنے گھر میں واٹر سپلائی پائپس ، سیورج لائینز ، مین ہول اور بارش کے پانی سمیت انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک ، سیپٹک ٹینک کو مکمل واٹر پروف کروائیں ، یہ سب چیزیں عمدہ پلیننگ اور بہترین ورک مین شپ مانگتی ہیں ۔
پلاٹ خریدنے یا تعمیر شروع کرنے سے پہلے زمین کی نوعیت کا معائنہ بھی کروائیں، خاص طور پر اگر اس علاقے میں پانی کا لیول زیادہ ہو۔ تعمیر شدہ مکان میں بھی پانی کی لیکج چیک کریں اور اسے بند کروائیں ۔
اچھا ۔۔۔ اب سب سے ضروری مدعے کی طرف آتے ہیں ۔
اگر مکان میں سیپج آ چکی ہو تو؟
اگر آپ کے مکان میں پہلے سے سیم موجود ہے تو آج کے جدید دور میں کئی حل موجود ہیں ۔ سب سے پہلے تو سیلن زدہ دیواروں سے پینٹ ہٹا کر اینٹی سیم کیمیکل لگوائیں۔ یہ ہر اچھے پینٹ اور سینٹری سٹور پر دستیاب ہے ۔
واٹر پروف پینٹ یا خاص سیلن روکنے والا پلاسٹر بھی مارکیٹ میں موجود ہے ، سیپج کو کھرچ کر وہ پینٹ کروائیں۔
بیرونی دیواروں پر واٹر پروف کوٹنگ کروائیں اور نمی روکنے کے لیے دیواروں کے ساتھ ہوا کی آمد و رفت برقرار رکھیں۔
یہ مسئلہ ایک گھر کا نہیں ، لاکھوں گھروں کا ہے ، اس پوسٹ کو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کیجیے تاکہ وہ اس پریشانی سے چھٹکارا پا سکیں ۔
سیپج صرف دیوار کی خوبصورتی خراب نہیں کرتی، بلکہ گھر کی مضبوطی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر سالوں تک خوبصورت، محفوظ اور پائیدار رہے، تو خدارا اس چھوٹے ۔۔۔۔۔ مگر بڑے مسئلے کو نظرانداز نہ کریں۔
خیر اندیش
مجیب الرحمٰن
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/6145
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 284
🔷 میں تو اسے پہچانتا ہوں 🔷
ایک 65 سالہ شخص انگوٹھے پر مرہم پٹی کروانے آیا وہ بار بار جلدی کرنے کا کہہ رہا تھا ...
ڈاکٹر نے وجہ پوچھی!
اس نے کہا،
بیٹا جی! میں آٹھ بجے دوسرے ہسپتال پہنچتا ہوں. آندھی ہو، سیلاب ہو ،بارش ہو ،سردی ہو گرمی ہو۔ میں کبھی لیٹ نہیں ہوا اور آج بھی نہیں ہونا چاہتا.
ڈاکٹر نے پوچھا
بابا جی!ہسپتال میں آپکا کون ہے؟
بابا جی بتایا کہ میں روز صبح آٹھ بجے ہسپتال پہنچ کر اپنی بیوی کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرواتا ہوں وہ 5 سال سے بیمار ہے۔
ڈاکٹر نے پوچھا اسے کیا ہوا؟
بابا جی بولے
اسکی یاداشت کھو گئی ہے وہ سب کچھ بھول گئی ہے اپنا نام تک اسے یاد نہیں, کسی کو بھی نہیں پہچانتی اور بولنا بھی چھوڑ دیا
ہے.
ڈاکٹر نے پوچھا
جب آپ کی بیوی آپکو نہیں پہچان سکتی، وہ آپ میں اور وراڈ بوائے میں کوئی فرق نہیں کر سکتی ہے تو آپ روز آٹھ بجے یہ تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں.؟
باباجی بولے
میں اس کا قرض دار ہوں 50 برس میں اس نے مجھے روزانہ آٹھ بجے ناشتہ کروایا تھا
ہمارے ہاں نوکروں اور خادموں کی کمی نہیں
تھی مگر سردی، گرمی، بارش ہو یا آندھی ہو
وہ ساڑھے چھ بجے جاگتی اور اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بناتی اور ٹھیک آٹھ بجے میز پر لگا کر میرا انتظار کرتی پھر بولے
جہاں تک یاداشت کا تعلق ہے
تو یاداشت اسکی گئی ہے میری نہیں.....
میں تو اسے پہچانتا ہوں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
