ar
Feedback

لا تقع ضحية للمخادعين! تيليمتريو يكتشف ويُميّز هذه القنوات 👉 إذا كنت تريد رؤية العلامة، اشترك

ISLAM WITH EMAN

ISLAM WITH EMAN

الذهاب إلى القناة على Telegram

اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani

إظهار المزيد
1 284
المشتركون
-124 ساعات
-17 أيام
-830 أيام
أرشيف المشاركات
🌹 دو قیمتی ہیرے 🌹 ایک سوداگر نے بازار میں گھومتے ہوئے ایک عمدہ نسل کا اونٹ دیکھا سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوئی اور آخرکار سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر سوداگر نے اپنے نوکر کو اونٹ کی زین اتارنے کے لئے بلایا نوکر کو زین کے نیچے ایک مخملی تھیلا ملا جسے کھولنے پر قیمتی ہیروں اور جواہرات سے بھرا ہوا پایا۔ نوکر چلا کر بولا "آقا آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آیا؟"سوداگر بھی حیران ہوا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ میں ہیرے دیکھے جو چمک رہے تھے اور سورج کی روشنی میں اور بھی زیادہ جھلملا رہے تھے۔ سوداگر نے کہا... "میں نے اونٹ خریدے ہیں، ہیرے نہیں، مجھے انہیں فوراً واپس کر دینا چاہئے۔" نوکر دل میں سوچ رہا تھا کہ میرا آقا کتنا بیوقوف ہے... بولا مالک کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا ہیرے رکھ لیں لیکن تاجر نے ایک نہ سنی اور وہ فوراً بازار پہنچا اور اونٹ والے کو تلاش کر اس کو مخمل کا تھیلا واپس کر دیا۔ اونٹ بیچنے والا بہت خوش ہوا، کہنے لگا میں بھول گیا تھا کہ میں نے اپنے قیمتی پتھروں کو زین کے نیچے چھپا رکھا ہے۔ اب آپ کسی ایک ہیرے کو بطور انعام منتخب کر سکتے ہیں سوداگر نے کہا کہ میں نے اونٹ کی صحیح قیمت ادا کر دی ہے اس لئے مجھے کسی شکریہ اور انعام کی ضرورت نہیں۔ سوداگر نے جتنا انکار کیا، اونٹ بیچنے والے نے اتنا ہی اصرار کیا۔ آخرکار تاجر مسکرایا اور کہا کہ حقیقت میں جب میں نے تھیلی واپس لانے کا فیصلہ کیا تو میں نے پہلے ہی دو قیمتی ہیرے اپنے پاس رکھ لئے تھے۔ اس اعتراف کے بعد اونٹ بیچنے والے کو غصہ آگیا، اس نے فوراً ہیرے اور جواہرات گننے کے لئے تھیلا خالی کردیا۔ لیکن اس نے بڑی الجھن میں کہا، "میرے سارے ہیرے یہاں ہیں، تو سب سے قیمتی دو کون سے تھے جو تم نے رکھ لئے؟" سوداگر نے کہا... "میری ایمانداری اور میری خُوداری" 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 ڈیجیٹل بھکاری خاتون 🔷 بعض لوگوں نے فیس بک پر دوسروں کو انبکس یا وٹس اپ نمبر پر مسیج کر کے پیسے مانگنے کا بزنس بنا لیا ہوا ہے، کوئی تین ماہ سے مسلسل مجھے مسیجز آ رہے تھے کہ ہماری مدد کریں جس میں مجبوری اور ساتھ اپنے حالات کی تصاویر بھی ہوتی تھیں۔ گزشتہ کل میں فری بیٹھا ہوا تو اسی طرح پہلے جیسی روٹین کے مطابق وٹس اپ پر میسج موصول ہوا تھوڑی دیر رائٹنگ میسج اور وائس میسج چیٹنگ کرنے کے بعد تھوڑا بات چیت میں فری ہونے کے بعد ڈیجیٹل بھکارن نے بتایا کہ یہ مانگنا بہت محنت طلب کام ہے سوشل میڈیا کے ذریعے مجبوری بتا کر قائل کر کے انجان لوگوں پیسے کمانا، اس کے لیے بہت زیادہ منت ترلے اور ایسی تصاویر بنا کر بھیجنا جس سے دوسرے کا دل نرم ہو اور وہ پیسے بھیج دے، ڈیجیٹل بھکارن نے مذید بتایا کہ گھر بیٹھے ماہانہ کبھی دس سے 20 ہزار روپے کما لیتی ہوں۔ خاتون ڈیجیٹل بھکارن نے مجھے آفر کی کہ آپ اپنی فیس بک پر میری پوسٹ لگائیں جو پیسے ملیں گے وہ آدھے آپ کو دونگی وعدہ،۔ میں نے ڈیجیٹل بھکارن سے کہا کہ آپ فیس بک پر مانگنے کی بجائے محنت کریں۔ محنت میں عظمت اور بہت برکت ہے. اس پر ڈیجیٹل بھکارن نے جواب یہ دیا کہ ہم محنت ہی تو کرتے ہیں۔ احباب گرامی آگاہی کے لیے یہ پوسٹ لگا دی ہے تاکہ سب کو آگاہی ملے اور ڈیجیٹل بھکاریوں اور اس قسم کے فراڈ سے بچ سکیں۔ ۔ (ہمیشہ صدقہ خیرات اپنے مستحق رشتہ داروں اہل محلہ اہل علاقہ کو دیں جن کو آپ جانتے ہیں جو واقعی مستحق ہوں اس تک اس کا حق پہنچائیں اور اگر آپ کا رشتہ دار مستحق ہے اور آپ آپس میں ناراض ہیں تو پھر بھی پہلا حق رشتہ دار کو دیں۔ یاد رہے حقوق اللہ تو اللہ تعالی معاف کر دے گا وہ غفور و رحیم ہے۔ لیکن اللہ تعالی حقوق العباد کبھی معاف نہیں کرے گا، احباب گرامی زکواة کا تو بہت سخت حکم ہے آپ زکواة ہر ایک کو نہیں دے سکتے جو زکواة کے مستحق ہوں زکواة انہی کو دیں اگر سمجھ نا آئے تو پہلے مصارف زکواة پڑھیں پھر اس پر جو پورا اترتا ہو اسے زکواة دے دیں) منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 کوے اور گدھے کی دوستی 🔷 کہتے ہیں کہ جنگل میں ہر جانور اپنی فطرت کے مطابق جیتا ہے، لیکن بعض اوقات قدرت ایسے دوست بنا دیتی ہے جن کی دوستی حیران کر دینے والی ہوتی ہے! ایسی ہی کہانی ہے کائیں اور ڈھینچو کی، جو جنگل کے سب سے عجیب مگر بہترین دوست تھے۔ کاگالا جنگل میں کوؤں کا قبیلہ بہت عقلمند مانا جاتا تھا، اور جنگل کے جانور اکثر ان سے مشورہ لینے آتے۔ دوسری طرف، گدھے زیادہ تر کسانوں کے ساتھ رہتے، بوجھ اٹھاتے، اور اپنی مشقت کے لیے مشہور تھے۔ مگر ڈھینچو عام گدھوں سے مختلف تھا۔ وہ نادان تو تھا، مگر خوش رہنے والا، اور جنگل میں ہر کسی سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن، کائیں ایک درخت پر بیٹھا تھا کہ اس نے نیچے ڈھینچو کو زور زور سے ہنستے دیکھا۔ "اوئے ڈھینچو! تُو کیوں اتنا ہنس رہا ہے؟" کائیں حیرانی سے بولا۔ "ارے بھائی، میں نے اپنی ہی آواز سنی، اتنی مضحکہ خیز ہے کہ میں خود پر ہنسنے لگا!" ڈھینچو نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ یہ بات سن کر کائیں بھی کھکھلا کر ہنس دیا۔ یوں ان دونوں کی دوستی کی شروعات ہوئی۔ کائیں اور ڈھینچو کی زندگی جنگل میں بڑی مزے دار تھی۔ صبح ہوتے ہی کائیں درخت پر بیٹھ کر جنگل کی خبریں سنتا اور سب کو آگاہ کرتا، جبکہ ڈھینچو گھاس چرنے میں مصروف رہتا۔ دوپہر میں دونوں جنگل میں گھومتے، کائیں ہر کسی کو نصیحت دیتا، اور ڈھینچو اپنی بھولی بھالی باتوں سے سب کو ہنساتا۔ رات آتی تو دونوں کنارے جا بیٹھتے، چاندنی میں اپنے دن کے قصے ایک دوسرے کو سناتے اور ہنسی مذاق کرتے۔ کائیں کو کھانے میں بیج، پھل اور کسانوں کے کھیتوں سے چرائے گئے دانے پسند تھے، جبکہ ڈھینچو کو سبز گھاس، پتے، اور کبھی کبھار انسانوں کے چھوڑے ہوئے روٹی کے ٹکڑے بہت پسند آتے۔ جنگل کے جانور کائیں کو "دانشور پرندہ" کہتے تھے، کیونکہ وہ ہوشیاری میں سب سے آگے تھا۔ گدھے کو "مسافر جانور" یا "مظلوم مزدور" کہا جاتا، کیونکہ وہ بوجھ اٹھانے کے لیے مشہور تھا۔ "کوا چالاک ہو، تو باز سے بھی جیت جائے!" "کائیں کرے، تو دانش کرے!" "گدھا جتنا بھی عقل مند ہو، بوجھ اٹھانے سے بچ نہیں سکتا!" "اگر گدھا ہنسنے لگے، تو سمجھو کہ دنیا میں مزہ باقی ہے!" ایک دن جنگل میں طوفان آیا۔ درخت گرنے لگے، بارش تیز ہو گئی، اور چھوٹے جانور خوفزدہ ہو گئے۔ ڈھینچو نے اپنی پیٹھ پر ننھے خرگوشوں اور چوزوں کو بٹھایا اور انہیں محفوظ جگہ پر لے جانے لگا۔ کائیں نے اپنے پروں سے بارش کی بوندیں جھاڑیں اور اپنے دوست کو داد دی۔ جب طوفان تھما اور جانوروں نے دیکھا کہ ڈھینچو نے سب کو بچا لیا ہے، تو بندر نے ہنستے ہوئے کہا، "گدھا بھی بہادر ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ہو گیا؟" کائیں نے فخریہ کہا، "عقل صرف پروں میں نہیں ہوتی، بعض اوقات سیدھے دل میں بھی ہوتی ہے!" سب جانوروں نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں، اور یوں کائیں اور ڈھینچو کی دوستی جنگل کی سب سے دلچسپ اور قابلِ رشک دوستی بن گئی! دوستی رنگ، نسل، یا عقل سے نہیں، خلوص سے ہوتی ہے۔ ہر کسی کی اپنی خوبی ہوتی ہے، کوئی کمزور نہیں ہوتا! خوش رہنا بھی ایک عقل مندی ہے! اور یوں، جنگل میں جب بھی کوئی کوا اور گدھا ساتھ دیکھے جاتے، سب جانتے تھے کہ وہاں عقل اور خوش مزاجی کا بہترین امتزاج موجود ہے! 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 سید محمد باقر قزوینی 🌹 جناب علامہ سید محمد باقر قزوینی نجفی اعلی اللہ مقامہ اعیان علماء میں ایسے جلیل القدر صاحب کرامات بزرگ تھے کہ دو سال پہلے سے 1246 ہجری میں عراق کے اندر وبا طاعون پھیلنے کی خبر دے دی تھی اور ارشاد فرماتے تھے کہ اس موقع پر سب سے آخر میں میری موت واقع ہوگی جس کے بعد یہ بیماری دفعہ ہو جائے گی امیر المومنین علیہ السلام نے خواب میں ان باتوں سے مجھ کو آگاہ فرما دیا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا مرحوم کا قابل حیرت کارنامہ زمانے میں یہ تھا کہ شہر میں اور شہر سے باہر 40 ہزار سے زیادہ مرنے والوں کی تجہیز و تکفین کے متکفل رہے اور سب پر خود نماز میت پڑھی بیس بیس تیس تیس جنازوں پر ایک ساتھ نماز ہو جاتی تھی بلکہ ایک روز ایک ہزار نفر پر ایک ہی نماز پڑھی گئی۔ علامہ کے اخلاص کی یہ حالت تھی کہ کسی کو اپنے ہاتھوں کا بوسہ نہ لینے دیتے تھے لوگوں کو دست بوسی کے لیے حرم اقدس میں ان کے آنے کا انتظار رہا کرتا تھا جب وہاں پہنچتے تو یہ کیفیت ہو جاتی کہ لوگ ہاتھ چومتے علامہ کو اس طرف توجہ نہ ہوتی تھی۔ جنت الماوی میں ہے کہ مولانا سید محمد رضوی نجف معروف بہ ہندی نے نقل فرمایا کہ علامہ کا قزوینی مصروف کے فرزند سید جعفر نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ مسجد سہلہ کی طرف جا رہا تھا جب ہم قریب مسجد کے پہنچے تو میں نے یہ عرض کیا کہ لوگوں سے یہ سنتے ہیں کہ جو شخص چالیس شب چہار شنبہ مسجد سہلہ میں حاضر ہو تو وہ صاحب الامر علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوتا ہے اس کی کوئی اصل معلوم نہیں ہوتی جس پر انہوں نے غصے سے فرمایا کہ کیوں کیا صرف اس وجہ سے کہ تم نے حضرت کو نہیں دیکھا اور جو تم نہ دیکھو تو اس کی کوئی اصلیت ہی نہیں اس طرح انہوں نے اور کلمات ادا فرمائے جس سے میں بہت نادام ہوا بالآخر ہم مسجد میں داخل ہوئے اس وقت وہ لوگوں سے خالی تھی والد دو رکعت نماز استجازہ کے لیے درمیان مسجد میں کھڑے ہو گئے وہاں ایک صاحب مقام جو حضرت حجت علیہ السلام کی طرف سے تشریف لائے ان سے والد کا سلام و مصافحہ ہوا ذرا وہ ہٹے تھے کہ والد میری طرف متوجہ ہوئے فرمایا کہ جانتے ہو یہ کون تھے میں نے کہا کیا یہی امام زماں عج ہے فرمایا کہ پھر کون ہیں یہ سن کر میں دوڑا مسجد کے اندر باہر ہر طرف تلاش کیا مگر کوئی دکھائی نہ دیا۔ 📚 حوالہ کتاب ملاقات امام علیہم السلام واقعات معجزات حضرت امام مہدی علیہ السلام مؤلف مولانا سید محمد قبلہ مجتہد امروہوی ص 177/178۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🔷 پروٹسٹنٹ فرقے کی ابتدا 🔷 ایک تاریخی جائزہ سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ پر چرچ کے پادریوں کی مکمل حکمرانی تھی۔ پادری کسی کو بھی جنت کے ٹکٹ دے سکتے تھے اور کسی کو بھی گناہ گار قرار دے کر جہنم کا مستحق ٹھہرا سکتے تھے۔ عوام چرچ کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرتے تھے، حتیٰ کہ بادشاہ بھی چرچ کے آشیرباد کے بغیر اپنی حکومت نہیں چلا سکتے تھے۔ اسی دور میں جرمنی کے ایک چرچ کے پادری نے اعلان کیا کہ جو بھی اپنے گناہ معاف کروانا چاہتا ہے اور جنت میں جگہ حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ چرچ سے رابطہ کرے۔ جنت کے ٹکٹ فروخت ہونے لگے اور کم علم و بنیاد پرست لوگ اپنی دولت خرچ کر کے جنت کے ٹکٹ خریدنے لگے۔ اسی اثنا میں ایک شخص نمودار ہوا جس نے چرچ کے اس فیصلے کو کھلا چیلنج کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ گرجا گھر پہنچا اور وہاں موجود پادری سے کہا کہ وہ جہنم خریدنا چاہتا ہے۔ پادری پہلے تو حیران ہوا، مگر جب اس شخص نے اصرار کیا، تو پادری نے اسے تین سکوں کے عوض جہنم کی دستاویز دے دی۔ وہ شخص چرچ سے باہر نکلا، اور شہر کے مرکزی چوک میں جا کر بلند آواز سے لوگوں کو جمع کیا۔ جب کافی لوگ اکٹھے ہوگئے، تو اس نے اعلان کیا: "میں نے جہنم خرید لی ہے اور اب یہ مکمل طور پر میری ملکیت ہے۔ میں کسی کو بھی اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا۔ لہذا، اب تمہیں جنت کے ٹکٹ خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں۔" یہ سن کر لوگ حیران رہ گئے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ چرچ انہیں بےوقوف بنا رہا تھا۔ اس شخص کا نام مارٹن لوتھر تھا، جس نے اپنی ذہانت اور جرات سے لاکھوں لوگوں کو اس دھوکے سے نجات دلائی اور ایک نئی اصلاحی تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کو "پروٹسٹنٹ ریفارمیشن" کے نام سے جانا جاتا ہے، اور اس کے پیروکاروں کو پروٹسٹنٹ کہا جانے لگا، یعنی وہ لوگ جو چرچ کے ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ آج دنیا میں تقریباً 800 ملین سے ایک ارب کے درمیان افراد پروٹسٹنٹ عیسائیت سے وابستہ ہیں۔ مارٹن لوتھر: ایک انقلابی شخصیت مارٹن لوتھر 10 نومبر 1483ء کو جرمنی میں پیدا ہوا اور ایک دینی پادری بن گیا۔ 1505ء میں اس نے افورٹ کے ایک اگسٹینین فرائری میں شمولیت اختیار کی، جہاں اس کی گہری دینی سوچ نے اسے چرچ کی غیر منصفانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے پر مجبور کیا، خاص طور پر گناہوں کی معافی کے عوض انڈلجنس (جنت کے ٹکٹ) فروخت کرنے کے عمل پر۔ 95 تھیسس اور چرچ کے خلاف تحریک 1517ء میں، لوتھر نے اپنے مشہور 95 تھیسس لکھے، جن میں چرچ کی بدعنوانیوں پر سخت اعتراضات کیے گئے تھے۔ اس نے یہ پرچے وٹنبرگ کے کیسل چرچ کے دروازے پر چسپاں کر دیے، جو چرچ کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاج ثابت ہوا۔ اس کے خیالات پورے یورپ میں پھیل گئے اور ایک بڑے مذہبی و سماجی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ لوتھر کے مطابق، نجات صرف ایمان پر مبنی ہونی چاہیے اور بائبل ہی واحد مستند مذہبی کتاب ہے۔ پوپ اور سلطنت کا ردعمل لوتھر کے خیالات سے چرچ میں زلزلہ آگیا، اور 3 جنوری 1521ء کو پوپ لیو دہم نے اسے کلیسائی برادری سے خارج کر دیا۔ بعد ازاں، رومن شہنشاہ چارلس پنجم نے وؤرمز شہر میں اس پر مقدمہ چلایا اور اسے ملحد قرار دے کر گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ لوتھر کو مارنے والے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا گیا، لیکن سیکسنی کے حکمران فریڈرک سوم نے اسے خفیہ طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ علمی خدمات اور کامیابیاں لوتھر نے قید کے دوران بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا، جس نے عام لوگوں کو مذہب کو براہ راست سمجھنے میں مدد دی۔ اس نے حمدیہ شاعری بھی تخلیق کی، جسے جرمنی کے معروف موسیقاروں نے موسیقی میں ڈھالا۔ ان کی تحریریں پہلی بار جرمنی میں ہی ایجاد ہونے والے پرنٹنگ پریس کے ذریعے وسیع پیمانے پر شائع ہوئیں، جس سے ان کے خیالات کو مزید پھیلنے کا موقع ملا۔ یورپ پر اثرات مارٹن لوتھر کی تحریک نے یورپ میں چرچ کے اختیارات کو شدید نقصان پہنچایا اور لوگوں کو مذہبی آزادی کا تصور دیا۔ اس تحریک نے نہ صرف مذہبی، بلکہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ عوام نے پہلی بار چرچ کی بالادستی کو چیلنج کیا اور اپنے عقائد کی ازسرنو تشریح کرنے کی کوشش کی۔ مارٹن لوتھر کی کوششوں نے عیسائیت میں ایک نئی شاخ کو جنم دیا، جسے پروٹسٹنٹ ازم کہا جاتا ہے۔ اس تحریک نے چرچ کے ظلم و ستم سے آزادی حاصل کرنے کی راہ ہموار کی اور یورپ کے مذہبی و سماجی نظام میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ اس کی تعلیمات آج بھی کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقائد کی بنیاد ہیں، اور اس کی اصلاحات نے دنیا بھر میں آزادانہ مذہبی سوچ کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ https://t.me/islamwitheman/6034 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

photo content

🔷 کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی 🔷 کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی – ایک سائنسی اور نفسیاتی نقطہ نظر۔۔۔ کسی دور میں ایک نوجوان سائنسدان، ڈاکٹر سلمان، زندگی کی بےمقصدیت سے مایوس ہو چکا تھا۔ وہ نیوروسائنس اور سسٹم بایولوجی کا ماہر تھا، لیکن اس کے کئی سائنسی تجربات ناکام ہو رہے تھے۔ وہ سوچتا، “شاید میری محنت کا کوئی فائدہ نہیں۔” ایک دن، وہ اپنے باغ میں بیٹھا تھا کہ اس کی نظر ایک ننھی سی کونپل پر پڑی، جو زمین کی سخت پرت چیر کر باہر آنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کبھی وہ مٹی میں دب جاتی، کبھی کسی کنکر سے رک جاتی، لیکن ہر بار وہ دوبارہ زور لگا کر اوپر آ جاتی۔ کئی دنوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد، وہ کونپل بالآخر زمین سے باہر آ گئی، سورج کی روشنی کو چُھو لینے میں کامیاب ہو گئی۔ سلمان نے سوچا، “کیا یہ محض اتفاق ہے، یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی حقیقت بھی ہے؟” سائنس کا اصول: توانائی اور عمل کا ضیاع نہیں ہوتا اس کے ذہن میں “قانون بقائے توانائی” (Law of Conservation of Energy) آیا، جو کہتا ہے کہ توانائی کبھی ضائع نہیں ہوتی، بلکہ ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو محنت ہم کرتے ہیں، وہ ضائع نہیں ہوتی، بلکہ کسی اور طریقے سے ہمارے پاس لوٹتی ہے۔ اسے یاد آیا کہ نیوروسائنس میں نیوروپلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) کا ایک نظریہ ہے، جو کہتا ہے کہ دماغ مسلسل سیکھتا ہے، اور جب ہم کسی کام میں لگاتار محنت کرتے ہیں، تو ہمارے نیورونز (دماغی خلیے) آپس میں نئے کنکشن بناتے ہیں۔ یعنی، چاہے ابھی کامیابی نہ بھی ملے، دماغ ہماری محنت کو ایک طاقت میں بدل دیتا ہے، جو کسی نہ کسی وقت کام آتی ہے۔ حقیقی زندگی کا تجربہ اس نے اسی اصول کو اپنی زندگی میں آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ایک بار پھر اپنے سائنسی تجربات پر کام شروع کیا، لیکن اس بار وہ اپنی ہر ناکامی کو ایک قدم سمجھ کر آگے بڑھا۔ کئی مہینوں کی محنت کے بعد، ایک دن، وہ ایک ایسا فارمولا دریافت کرنے میں کامیاب ہوگیا جس نے نیورون ری جنریشن (Neuron Regeneration) میں انقلاب برپا کر دیا۔ وہی تجربہ، جو بار بار ناکام ہو رہا تھا، ایک کامیابی میں بدل گیا اور اس کی تحقیق نیورولوجی کی دنیا میں ایک سنگ میل بن گئی۔ سائنس اور نفسیات کی حقیقت یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ: 1. قانون بقائے توانائی – آپ کی محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی، وہ کسی نہ کسی اور شکل میں آپ کو واپس ملتی ہے۔ 2. نیوروپلاسٹیسٹی – آپ کی کوششیں آپ کے دماغ کو مضبوط کرتی ہیں، چاہے نتائج فوری نظر نہ آئیں۔ 3. کوانٹم فزکس کا اصول: کاز اینڈ افیکٹ (Cause and Effect) – کائنات میں ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے، چاہے ہمیں فوراً نظر نہ آئے۔ نتیجہ ڈاکٹر سلمان نے سیکھا کہ اگر قدرت میں کوئی چیز ضائع نہیں جاتی، تو انسان کی محنت اور نیکی بھی کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی۔ چاہے کامیابی فوراً نہ ملے، لیکن ہر کوشش ہمارے ذہن، جسم اور کائنات میں کسی نہ کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا، اگر کبھی آپ کو لگے کہ آپ کی محنت یا نیکی کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، تو یاد رکھیں کہ سائنس اور نفسیات دونوں اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ آپ کی ہر کوشش، کسی نہ کسی صورت میں آپ کو لوٹ کر ضرور ملے گی۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

کیا ماجرا ہے لڑکے نے ساری بات سنائ تب سانپ نے اُسے بتایا کہ ڈنڈے کو بولو کمال روک وہ لڑکا بھاگتا بھاگتا واپس سرائے پے پہنچا سراۓ کا مالک اصلی گدھا اور چادر لیے دروازے میں ہی اوندھے منہ بے حال پڑا تھا ڈنڈا ابھی تک اُس پے شروع تھا اُس نے پاس پہنچتے ہی ڈنڈے سے کہا کمال روک تو ڈنڈا رُک گیا سراۓ کا مالک بے ہوش ہو چکا تھا لڑکے نے چادر گدھا اور ڈنڈا تینوں چیزیں لیں اور گھر کی طرف چل پڑا راستے میں وہ سوچ رہا تھا اب تو ماں دروازہ ہی نہیں کھولے گی نا یقین کرے گی لیکن جب وہ گھر پہنچا تو اُس کی ماں گھر میں موجود نہیں تھی وہ موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوۓ تینوں چیزیں کمرے میں لے کے گیا اور پہلے گدھے سے کہا تو گدھے نے سونے چاندی کے ڈھیر لگا دیے پھر چادر بچھائ اور اسے کھانے پیش کرنے کا حکم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چادر پے رنگ بُرنگے کھانے حاضر ہو گئے اتنے میں اس کی ماں آگئی اور سب کچھ دیکھ کے حیران رہ گئی۔ اور پھر دونوں ماں پُتر ہنسی خوشی رِہنے لگے۔ 🔘 پیارے بچو بوڑھی عورت کا بیٹا کچھ کرنے کی غرض سے گھر سے نکلا تو اس نے کچھ حاصل کیا اگر گھر میں چارپائی ہی توڑتا رہتا تو کچھ بھی حاصل نہ کر سکتا۔ حرکت میں برکت ہے۔ ختم ۔۔۔ 🌹 پیارے بچو اگر اپ کو کہانی پسند آئی ہے تو دوسروں کے ساتھ شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/6030 https://t.me/islamwitheman/6031 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

واپس اتے ہوئے راستے میں اسے پھر رات ہو گئی تھی اور اسی سرائے کی طرف چل پڑا جس میں اس نے جاتے ہوئے رات گزاری تھی وہاں پہنچ کر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا وہی بندہ باہر نکلا اور اس سے کہا اج مجھے پھر اپ اپنے گھر میں رات گزارنے دو صبح میں نکل جاؤں گا اس بندے نے کہا ٹھیک ہے تم رات گزار سکتے ہو اس کو بستر لگا کے دیا گیا اس نے اپنا گدھا گھر میں موجود ایک درخت کے ساتھ باندھا اور سرائے کے مالک سے کہنے لگا کہ یہ میرا گدھا ہے لیکن تم اس سے کچھ مانگنا مت سرائۓ کے مالک نے کہا ٹھیک ہے ادھی رات کو سرائے کا مالک اٹھا اور گدھے کے پاس گیا اور گدھے سے کہنے لگا ہیرے جواہرات دو اس کا اتنا کہنا تھا کہ گدھے نے ڈھیر لگا دیا جب اس نے یہ دیکھا تو بہت حیران ہوا اس نے سارا کچھ اٹھایا اور گدھا وہاں سے غائب کر دیا اور بالکل اس جیسا گدھا لا کے وہاں پر باندھ دیا صبح ہوتے ہی وہ لڑکا اٹھا اور گدھا کھول کے سرائے کے مالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا گھر پہنچ کر دروازے پہ دستک دی تو ماں نے دروازہ کھولا جب ماں نے اس کے ساتھ ایک گدھا دیکھا تو اس کو پھر برا بھلا کہنے لگی نکمے تو یہ گدھا کہاں سے اٹھا لایا ہے اس کا کیا کرنا اس نے اپنی ماں سے کہا اماں یہ گدھا بہت قیمتی ہے یہ کہتے ہوئے اندر چلا گیا اور دروازہ بند کر دیا ماں سے کہنے لگا ایک سفید اور خوبصورت سی چادر لے کے اؤ اس کی ماں بھی حیران تھی کہ یہ کیا معاملہ ہے خیر اس کی ماں ایک سفید چادر لے کے ائی اس لڑکے نے گدھے کے نیچے چادر ڈالی اور گدھے سے کہا ہیرے جواہرات دو اب وہ ایک عام گدھا تھا وہ چپ چاپ چادر پہ کھڑا رہا دوسری بار اس نے کہا تیسری بار کہا لیکن گدھا چپ چاپ کھڑا تھا اس کی ماں نے پھر ڈنڈے کی طرف ہاتھ بڑھایا اتنے میں گدھے نے سفید چادر پہ پے لِد کر دیے اس کی ماں اور اگ بگولا ہو گئی اور دے مار ساڑھے چار ڈنڈے سے پٹائ شروع کر دی وہ مار کھانے کے بعد غصے میں گدھا ساتھ لیے سیدھا ندی پے چلا گیا اور سانپ کو آواز دی سانپ نے پانی سے سر باہر نکالا اور پوچھا کیا ہوا میرے دوست غصے میں کیوں ہو اس نے کہا مجھے دوست مت بولو تم نے مجھے دھوکا دیا یہ ایک عام گدھا ہے اور اس کی وجہ سے مجھے ماں سے مار بھی پڑھی سانپ نے کہا اچھا چلو یہ ایک چادر لے لو یہ تمھیں دھوکہ نہیں دے گی وہ چادر لے کے پھر واپس گھر کی طرف نکل پڑا راستے میں پِھر رات آگئ اور اسی سراۓ میں قیام کیا سراۓ کے مالک سے کہا یہ میری چادر ہے اس سے کچھ نا مانگنا اس نے کہا بلکل میں کچھ نہیں مانگوں گا آدھی رات ہوئ سراۓ کے مالک نے سوچا یہ چادر بھی گدھے کی طرح عام نہیں اور وہ بھی چھپا لی اور اس جیسی ہی عام چادر اس کے پاس رکھ دی صبح وہ سیدھا سادھا لڑکا اٹھا اور چادر لے کے خوشی خوشی گھر کی طرف چل پڑا گھر پہنچ کے ماں کو کہنے لگا اماں آج میں ایسی چیز لایا ہوں کہ تم واقعی حیران ہو جاو گی ادھر اس نے چادر بِچھائ اُدھر اُس کی ماں نے ڈنڈا ہاتھ میں دَھر لیا اب وہ عام چادر تھی اس نے دو تین مرتبہ اس سے فرمائیش کی لیکن گدھے کی طرح بلکل خاموشی تھی کوئ حرکت نا ہوئ ماں نے پھر اسے ڈنڈے سے پیٹ کے گھر سے نکال دیا اب وہ بہت غصے میں گھر سے نکلا اور ندی پے پہنچ گیا اور زور زور سے چِلانے لگا اے دھوکے باز کہاں ہو باہر آو تم نے مجھے دو بار دھوکہ دے دیا سانپ نے سر نکالا اور وہ بھی سوچ میں پڑھ گیا کہ آخر ماجرا کیا ہے تھوڑی دیر بعد سانپ کو ساری واردات کا پتہ چل گیا سانپ نے اس بار اسے ایک ڈنڈا دیا اور کہا یہ ڈنڈا لو اور اِسے جب کہو گے اپنا کمال دکھا یہ اپنا کمال دکھانے لگ جائے گا اُس لڑکے نے کہا یہ آخری بار ہے اِس بار اگر دھوکہ دیا تو میں کبھی تمھیں معاف نہیں کروں گا وہ ڈنڈا لے کے واپس گھر کی طرف چل پڑا راستے میں پھر وہیں رات ہوگئ اور اُسی سراۓ میں چلا گیا سراۓ کے مالک کی آنکھوں میں اسے دیکھتے ہی چمک اُتر آئ اُسے بِستر لگا دیا سونے سے پہلے وہ لڑکا اُسے کہنے لگا یہ میرا ڈنڈا ہے اسے یہ نا کہنا اپنا کمال دکھا اور یہ کہہ کے وہ سو گیا آدھی رات کو سراۓ کا مالک جو کے لالچ میں اندھا ہو چکا تھا ڈنڈا اٹھا کے اپنے کمرے میں لے آیا اور آہستہ سے ڈنڈے سے کہا اپنا کمال دکھا اُس کا یہ کہنا تھا کہ ڈنڈا اُس پے بَرَس پڑھا اور چند ہی لمحوں میں اُس کے گِٹے گوڈے لال کر دیے اور چیختا چلاتا بھاگتا لڑکے کے پاس چلا گیا ڈنڈا بھی پیچھے پیچھے تھا اُس نے لڑکے کو اٹھایا اور کہا خدا کیلیے اس ڈنڈے کو روکو میں تمھارا اصلی گدھا بھی دیتا ہوں اور اصلی چادر بھی لڑکا بہت حیران ہوا اسے بھی ساری کہانی سمجھ آگئ تھی اُس نے ڈنڈے سے کہا رُک جاو لیکن ڈنڈا رُک ہی نہیں رہا تھا اُس نے ہر مُمکِن کوشش کی لیکن ڈنڈا نہیں رُکا صبح پھوٹی تو وہ لڑکا پھر سانپ کے پاس چلا گیا وہاں رات پوری ڈنڈے نے مار مار سراۓ کے مالک کو باندر بنا دیا تھا لڑکے نے سانپ کو آواز ماری سانپ نے سر نِکالا اور پوچھا سناو دوست

🔷 حرکت میں برکت 🔷 بچپن میں دادی ایک کہانی سناتی تھی کہ کسی بستی میں ایک بوڑھی عورت اور اس کا ایک جوان بیٹا رہتے تھے اس کا بیٹا بہت نکما اور نکٹھو تھا کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا سارا سارا دن گھر میں ویلا پڑا رہتا تھا ماں اس گاؤں میں لوگوں کے گھروں میں جاتی کام کرتی اور اٹا روٹی لے اتی تھی اور اسے بھی کوستی رہتی کہ تم کام دھندا نہیں کرتے میں اور بوڑھی ہو گئی ہوں کمزور ہو گئی ہوں کتنا میں تمہیں پالوں گی کھلاؤں گی لیکن وہ ایک کان سے ڈال کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا ایک دن اس کی بوڑھی اماں بہت تنگ اگئی اور اس نے ڈنڈا لے لیا اور اسے مارتی مارتی محلے کی گلیوں میں گھمانے لگی پورے گاؤں محلے کے لوگ اس کی بیزتی ہوتی دیکھ رہے تھے اسے بہت شرمندگی ہوئی پورا دن اپنے گھر سے باہر رہا اج اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ شہر جائے گا کہ اپنی قسمت ازمانے کے لیے رات کو دیر سے وہ گھر ایا اور گھر کا دروازہ بند تھا دیوار پھلانگ کر اپنے بستر پہ سو گیا صبح جب اس کی ماں اٹھی اور دیکھا وہ سویا تھا تو ماں نے پھر ڈنڈا لے لیا اور اسے کہنے لگی جلدی سے نکلو جب تک کچھ کما کے نہیں لاؤ گے تمہیں گھر میں نہیں چھوڑوں گی اس نے ماں سے کہا ٹھیک ہے میں چاہتا ہوں مجھے مارو مت اور وہ گھر سے نکلنے لگا ماں تو پھر ماں ہوتی ہے ماں نے اسے روٹیاں پکا کے دیں جہاں راستے میں بھوک لگی کھا لینا وہ روٹیاں کپڑے میں باندھ کر نکل پڑا گاؤں اور شہر کے درمیان ایک جنگل پڑتا تھا شہر چونکہ کافی دور تھا اس لیے اسے پورا دن چلتے ہوئے گزر چکا تھا اور جنگل کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا رات ہو چکی تھی ہر طرف اندھیرا پھیل گیا تھا اس نے سوچا رات جنگل سے باہر ہی گزار کے کل اگے کا سفر شروع کروں گا اور اس پاس کسی پناہ کی تلاش میں نظر دوڑائیں تھوڑا سا دودھ اسے کھنڈر نما ایک پرانا سا گھر نظر ایا دور دور تک اس کے علاوہ کوئی مکان نہیں تھا صرف وہی ایک تنہا مکان اس جگہ پر تھا اور وہ اس پرانے سے کھنڈر نما مکان کی طرف چل پڑا پونچ کر دروازے پہ دستک دی تو ایک شخص باہر نکلا اسے کہنے لگا میں پردیسی ہوں شہر جا رہا ہوں اور رات ہو گئی ہے مجھے ایک رات گزارنے دو اپنے گھر میں تو اس شخص نے کہا ٹھیک ہے تم میرے گھر میں رات گزار سکتے ہو اسے کھانا بھی دیا اور اور اور بستر بھی دیا وہ سو گیا دوسرے دن صبح وہ اٹھا اور اپنے سفر پہ نکل پڑا تھوڑا سفر کرنے کے بعد وہ جنگل کی حدود میں داخل ہو چکا تھا جنگل میں چلتے چلتے اچانک اسے ایک طرف جھاڑیوں میں سر سراہٹ محسوس ہوئ جیسے کوئی جانور اپس میں لڑ رہے تھے جب اس نے نزدیک ہو کے دیکھا تو دو سانپ اپس میں لڑ رہے تھے اور ایک سانپ بہت زخمی اور بے حال ہو چکا تھا اس نے ایک لمبا ڈنڈا اٹھایا اور نیکی کی نیت سے دونوں سانپوں کو چھڑایا ایک سانپ اپنی بل میں گھس گیا اور دوسرا زخموں سے چور بے سد اسی جگہ پر پڑا تھا اس لڑکے کو اس سانپ پر بہت ترس ایا اس کو ڈنڈے پہ اٹھا کے ایک سائیڈ پہ درخت کے نیچے رکھ دیا اور اگے چلنے لگا جیسے ہی دو قدم اگے بڑھائے پیچھے سے سانپ نے اسے اواز دی وہ حیران ہو کر پیچھے مڑا اس نے دیکھا کہ واقعی سانپ اسے اواز دے رہا تھا وہ سانپ کے پاس گیا تو سانپ نے اسے کہا کہ مہربان بہت شکریہ اگر میرے ساتھ نیکی کر دی ہے تو ایک اور نیکی کرو اس جنگل کے درمیان میں ایک ندی ہے اس میں مجھے ڈال دو تو اس نے سوچا میں تو ویسے بھی اس طرف ہی جا رہا ہوں اس نے سانپ کو ڈنڈے پہ لٹکایا اور چلنے لگا چلتے چلتے اب وہ ندی کے قریب پہنچ گیا تھا اور سانپ کو ندی میں ڈال دیا جیسے ہی سانپ کو ندی میں ڈالا تو سانپ بالکل ٹھیک ہو چکا تھا اب وہ ایسے لگ رہا تھا جیسے کبھی زخمی ہی نہیں تھا سانپ نے اس لڑکے کا شکریہ ادا کیا اور اس سے پوچھا کہ اب تم کہاں جاؤ گے تو اس لڑکے نے اسے ساری رواداد سنائی کہ میں شہر جا رہا ہوں اپنی قسمت ازمانے سانپ نے اسے کہا کہ تمہیں کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہیں ایک گدھا دیتا ہوں تم اس گدھے سے جو بھی مانگو گے وہ حاضر کر دے گا ابھی وہ لڑکا کچھ بولتا کہ پیچھے اس کو گدھا کھڑا محسوس ہوا سانپ نے اسے کہا یہ گدھا تم اپنے گھر لے جاؤ یہ عام گدھا نہیں ہے وہ لڑکا بہت حیران ہوا اور گدھا لے کر اپنے گھر کی طرف واپس مڑا تو سانپ نے اسے کہا کہ پھر جب بھی کبھی تم یہاں آؤ تو مجھے پکارنا میری اور تمہاری ملاقات ہو جائے گی اب ہم دوست ہیں اس لڑکے نے کہا ٹھیک ہے سانپ کا شکریہ ادا کیا اور واپس گھر کی طرف سفر شروع کر دیا وہ بہت خوش تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب میں بہت امیر ہو جاؤں گا میری ماں مجھ پہ فخر کرے گی

🔷 بیت المقدس 🔷 بیت المقدس کی تاریخ انبیاء علیہم السلام سے جڑی ھوئی ھے بیت المقدس کی تاریخ لکھنے والوں نے لکھا ھے سب سے پہلے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ اس شہر کی طرف ھجرت کی۔ اس کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے صہیون پہاڑ پہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کی تعمیر کی۔ بعد از عرصہ دراز حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم سے جنوں کے ذریعے اسکی تعمیر کی اور شہر کی بنیاد رکھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش بھی اسی شہر میں ھوئی حضرت عزیر علیہ السلام سو سال تک اسی شہر میں اللہ کے حکم سے سوئے رھے۔ پھر اللہ نے انہیں اٹھایا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی قیادت میں مکہ سے بیت المقدس آئے۔ مسجد اقصی میں تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ یہاں سے براق پہ سوار ھو کر عرش معلی پہ گئے۔ اس شہر کی تاریخ بہت شاندار بھی ھے اور درد ناک بھی ھے۔ اس پہ کئی فاتحین نے حملے کئے، فتح کیا، اسے مسمار کیا گیا، آگ لگائی گئی، ویران ھوا، کبھی یہ یہودیوں کے پاس رھا، کبھی یہ عیسائیوں کے قبضہ میں رھا تو کبھی یہ مسلمانوں کی سلطنت رھا۔ مختصر صلاح الدین ایوبی کے بعد اب یہ 1948 سے یہودیوں کے قبضہ میں ھے اور عرب اسرائیل اس پہ کئی جنگیں کر چکے ہیں مزید یہ سلسلہ جاری ھے یہ شہر بیت المقدس تین مذاھب کے ماننے والوں کےلئے بہت بڑا متبرک ھے۔ مسلمان، عیسائی، یہودی۔ مسلمان تمام انبیاء علیہم السلام پہ ایمان رکھتے ہیں سب سے محبت کرتے ہیں یہ شہر انبیاء کا مسکن رھا ھے۔ حضور نبی کریم نے تمام انبیاء علیہم السلام کی یہاں امامت فرمائی کئی عرصہ تک مسلمان اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رھے یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ھے اس لئے مسلمان سمجھتے ہیں یہ مقدس شہر ھمارا ھے۔ عیسائیوں کا دعویٰ ھے یہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ھوئی اور یہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا کا مسکن رھا ھے یہ ھمارے لئے بہت متبرک ھے اس پہ ھمارا حق ھے اور کسی کا نہیں۔ یہودیوں کا دعویٰ ھے کہ یہ شہر بنی اسرائیل کے جد امجد حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعمیر کیا اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہیکل سلیمانی تعمیر کیا۔ مصر سے نکالے جانے کے بعد بنی اسرائیل کی توبہ بیت المقدس میں موجود دیوار گریہ کے مقام پہ قبول ھوئی۔ اس لئے یہ شہر ھمارا ھے۔ ھمارے لئے مقدس ھے۔ اس وقت بیت المقدس (یروشلم) اسرائیل کا دارالحکومت ھے اس میں مسلمان، عیسائی، یہودی رہائش پذیر ہیں مگر سارا انتظام یہودیوں کے کنٹرول میں ھے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں اتفاق ھے کہ یہاں سے مسلمانوں کو نکالا جائے اور انہوں نے اس مقصد کے لئے دنیا کا جدید ترین اسلحہ یہاں جمع کرلیا ھے۔ اس وقت امریکہ پوری دنیا پہ حکومت کر رھا ھے اس کا آرڈر چلتا ھے۔ اسرائیل کی کھل کر سپورٹ کر رھا ھے۔ ساتھ ھی مسلمانوں کو دھمکی دیتا ھے کہ یہاں سے نکل جاؤ۔ مسلمان اس وقت پوری دنیا میں محکوم ہیں اس کے حکمران بھی امریکہ یورپ کی ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ سے خوف زدہ ہیں۔ اسرائیل کے خلاف کسی ایک جگہ بیٹھک کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ مسلمانوں کے فوجی جرنیل بھی اس سوچ اور نظریے سے کوسوں دور چلے گئے ہیں کہ انبیاء کی سرزمین یہودیوں کے پاس کیوں ھے؟ دنیا بھر کے مسلمان بے فکر ہیں انہیں مسئلہ فلسطینیوں کا صحیح ادراک نہیں ھے۔ ان کے نزدیک یہ فلسطینیوں کے اپنے ملک کا مسئلہ ھے نہ کہ یہ سب مسلمانوں کا مسئلہ ھے۔ جس طرح دنیا بھر کے یہودی متحد ہیں اور دنیا بھر کے عیسائی متحد ہیں کہ یہ شہر ھمارے لئے مقدس ھے کاش کہ مسلمان بھی متحد ھوتے کہ یہ مقدس شہر ھمارا ھے کیونکہ حضور نبی کریم خاتم النبیین نے جہاں تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی ھو اور جہاں سے آپکی براق مبارک نے آسمانوں کیطرف سفر کیا ھو مسلمان کئی سالوں تک اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رھے ھوں وہ شہر کیسے کسی دوسری قوم کا ھو سکتا ھے؟ ⭕ 👆👆👆 ⭕

🌴ماہ رمضان کے متعلق پوسٹس🌴 https://t.me/islamwitheman/3320 🌛استقبال ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3330 🌛وجہ تسمیہ ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3331 🌺ماہ رمضان یا رمضان t.me/islamwitheman/3341 🌺فضیلت ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3343 🌷استقبال ماہ رمضان کی دعا t.me/islamwitheman/3344 💐ماہ رمضان میں نماز کیبعد کی دعا t.me/islamwitheman/3346 🌛ماہ رمضان کے اسماء و صفات t.me/islamwitheman/3347 🌴فضیلت ماہ رمضان و روزہ t.me/islamwitheman/3348 👹شیطان کی قید t.me/islamwitheman/3350 🌛اعمال ماہ رمضان شب و روز اول t.me/islamwitheman/3351 🍀یوم الشک کا روزہ t.me/islamwitheman/3352 🌹امام حسینؑ کابچپن میں پہلاروزہ t.me/islamwitheman/3353 🍃 اعمال ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3374 🌷روزے کا فلسفہ t.me/islamwitheman/3375 🌷فلسفة الصوم t.me/islamwitheman/3376 🔷روزے کے مراتب t.me/islamwitheman/3377 🍁روزے کے آثار و جزاء t.me/islamwitheman/3378 🍁گالی دینے کا روزے پر اثر t.me/islamwitheman/3379 🍃احاديث بسلسلہ ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3380 🌷کثیرالسفر کیلئے احکام روزہ t.me/islamwitheman/3381 🌸جن پر روزہ رکھنا واجب نہیں t.me/islamwitheman/3382 🕌ماہ رمضان کی نافلہ نمازیں t.me/islamwitheman/3383 🌼مبطلات و مکروہات روزہ t.me/islamwitheman/3385 🔶تقديم الصلاة علی الافطار t.me/islamwitheman/3386 🔷افطار میں تأخير t.me/islamwitheman/3387 🌴وقت افطار اور وقت غروب t.me/islamwitheman/3388 ♻افطاری کیلئے بہترین چیز t.me/islamwitheman/3389 🌴افطاری کرانے کا ثواب t.me/islamwitheman/3390 🔷افطاری t.me/islamwitheman/3391 🌹گولڈن روزہ t.me/islamwitheman/3392 🌷روزہ دار اور دانتوں کا علاج t.me/islamwitheman/3393 🔶بحالت روزہ انجکشن و ڈرپ لگوانا t.me/islamwitheman/3394 ❄روزہ کی حالت میں بلغم نگلنا t.me/islamwitheman/3395 🌹 خوشبودار چیز سے استفادہ کرنا t.me/islamwitheman/3396 🔷روزے کی قضا، کفارہ t.me/islamwitheman/3397 🌴کھجور احادیث میں t.me/islamwitheman/3398 🌴نبیذ شربت t.me/islamwitheman/3399 🌻ایک مریض کا روزہ t.me/islamwitheman/3401 🌹وفات جناب فاطمہ بنت اسد t.me/islamwitheman/3405 🌹ام المؤمنين جناب خدیجہؑ t.me/islamwitheman/3416 🌹حضرت خدیجہؑ کبرٰی کی وصیتیں t.me/islamwitheman/3417 🌹حضورؑ کے نزدیک مقام خدیجہؑ t.me/islamwitheman/3418 🌹جناب خدیجہؑ کی عظمت و اہمیت t.me/islamwitheman/3419 🌹زیارت خدیجةالکبرٰیؑ t.me/islamwitheman/3420 📄دعائے مجیر t.me/islamwitheman/3423 t.me/islamwitheman/3426 🔷شہادت جناب قنبرؑ t.me/islamwitheman/3432 🔷شہادت امیر مختار ثقفی t.me/islamwitheman/3434 🌸مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی t.me/islamwitheman/3435 🔷مختار ثقفی علماء کی نظر میں t.me/islamwitheman/3436 🌹حضرت امام حسن علیہ السّلام t.me/islamwitheman/3452 t.me/islamwitheman/3452 🌷محمد بن ابی بکر t.me/islamwitheman/3455 ❤️فتح جنگ بدر مبارک t.me/islamwitheman/3459 t.me/islamwitheman/3460 🌺شب قدر کی فضیلت t.me/islamwitheman/3464 🌺شب قدر کی شان t.me/islamwitheman/3465 🌺شب قدر اور حضرت موسٰیؑ t.me/islamwitheman/3466 🌺کونسی رات شب قدر؟ t.me/islamwitheman/3467 🌺شبھائ قدر کے مشترکہ اعمال t.me/islamwitheman/3468 🌺اعمال 19 ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3469 🔷️دعائے جوشن کبیر t.me/islamwitheman/3471 🌺شب قدر میں عمل قرآن t.me/islamwitheman/3472 🌹ضربت حضرت علی علیہ السلام t.me/islamwitheman/3474 t.me/islamwitheman/3475 🌹حضرت علیؑ کی وصیت t.me/islamwitheman/3482 🌹حدیث سفینہ t.me/islamwitheman/3488 🌹حدیث باب مدینةالعلم t.me/islamwitheman/3489 🔷️یوم فتح مکّہ t.me/islamwitheman/3494 🌷اعتکاف کی فضیلت t.me/islamwitheman/3496 🔷 اِعْتِکاف کی فضیلت و احکام t.me/islamwitheman/4295 🌹شھادت حضرت علیؑ t.me/islamwitheman/3500 🔷️ابن ملجم کا انجام t.me/islamwitheman/3502 🌺شب قدر و نزول قرآن t.me/islamwitheman/3507 🔷️الوداع ماہ رمضان t.me/islamwitheman/3528 🔷نماز قضائے عمری کی حقیقت t.me/islamwitheman/3529 🔷️یوم القدس کی مختصر تاریخ t.me/islamwitheman/3530 🔷️اسرائیل ایک ناجائز ریاست t.me/islamwitheman/3532 🌷فطرہ و احکام t.me/islamwitheman/3537 t.me/islamwitheman/2324 🌹عید یا سوگ؟ t.me/islamwitheman/3539 🌹استحباب نماز عیدین t.me/islamwitheman/3540 🌹نماز عید کے حوالے سے چند شبہات t.me/islamwitheman/3541 🌹دعائے رویت ہلال t.me/islamwitheman/3566 🔷️اعمال شب عیدالفطر t.me/islamwitheman/3567 🕌عید کی نماز t.me/islamwitheman/3569 🌹عید کا پیغام t.me/islamwitheman/3570

حب خدا اور حب دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔
حب خدا اور حب دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔

photo content

photo content

🔷 بے جا بھروسہ 🔷 ایک خاتون کہتی ہیں کہ میری ایک پڑوسن تھی جو میرے لیے بہن کی طرح تھی۔ جب اس کے شوہر کا انتقال ہوا اور وہ دو بچوں کے ساتھ رہ گئی، تو ہماری دوستی اور بھی گہری ہو گئی۔ میرے شوہر کو اس پر اور اس کے بچوں پر رحم آتا تھا، اور وہ ہمیشہ ہمارے گھر میں موجود رہتی تھی۔ ہم اکثر ساتھ مل کر کھانا پکاتے، اور جب میں بیمار ہوتی تو وہ گھر کے کام سنبھالتی۔ جب مجھے بازار جانا ہوتا یا کسی اور کام کے لیے باہر جانا پڑتا، تو میں اپنی چھوٹی بیٹی کو اس کے پاس چھوڑ دیتی تھی۔ شروع میں وہ میرے شوہر کے سامنے شرماتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس سے باتیں کرنے لگی اور اپنے بالوں کو بھی کھولنے لگی۔ وہ ایک خوبصورت عورت تھی اور ابھی کم عمر بھی تھی۔ پھر ایک دن اتفاقاً مجھے پتا چلا کہ میرا شوہر اس کے گھر جاتا ہے اور اس کے لیے وہ تمام چیزیں لے کر آتا ہے جو وہ مانگتی تھی۔ جب میں نے اپنے شوہر کا سامنا کیا، تو اس نے کہا کہ وہ اس پر اور اس کے بچوں پر ترس کھاتا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ تم نے مجھے یہ بات کیوں نہیں بتائی، جب کہ میں بھی اس کی مدد کرنے میں کبھی بخل نہیں کرتی تھی۔ اس دن کے بعد سے وہ میرے گھر نہیں آئی، اور جب میں اس کے گھر گئی تو اس نے دروازہ بھی نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ اس کے بچوں کو بھی میں نے پھر کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں اپنی پڑوسن کو نہیں دیکھتی اور نہ ہی وہ اب ہمارے گھر آتی ہے۔ اس نے جواب دیا: "میں نے ہی اسے کہا ہے کہ ہمارے گھر نہ آئے۔" میں نے اس سے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا: "کیونکہ میں اس سے شادی کرنے والا ہوں۔" اس نے مجھ سے کہا کہ اگر تم مان جاتی ہو تو میں اس سے شادی کر لوں گا اور تمہیں بھی ساتھ رکھوں گا۔ اگر تم نہ مانو تو میں تمہیں طلاق دے کر تمہیں اور بچوں کو گھر سے نکال دوں گا، اور آخر میں اسی سے شادی کر لوں گا۔ میں نے اس شرط پر رضا مندی ظاہر کی کہ وہ اپنے گھر میں رہے اور میں اپنے گھر میں۔ اس نے اس سے شادی کر لی اور روزانہ اس کے گھر جانے لگا، اور مجھے نظر انداز کرنے لگا۔ کچھ عرصے بعد اس نے مجھے طلاق دے دی اور مجھے اور بچوں کو گھر سے نکال دیا، اور وہ عورت اس گھر میں رہنے لگی۔ اس نے اپنا گھر کرائے پر دے دیا تاکہ وہ پیسہ جمع کر سکے اور اپنے بچوں پر خرچ کر سکے، جبکہ میرا شوہر اس کے اور اس کے بچوں کے اخراجات پورے کرتا رہا اور اپنے بچوں کو بھول گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر میں رہنے لگی، اور میرا بڑا بیٹا جو کہ 18 سال کا تھا، فوج میں بھرتی ہو گیا۔ میں نے اپنا سارا زیور بیچ کر ایک گھر کرائے پر لیا، کیونکہ میں اپنے والدین کے گھر میں آرام دہ محسوس نہیں کر رہی تھی۔ میں نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا، لوگوں کے کپڑے سی کر اور مٹھائیاں بنا کر بیچنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے بچے بڑے ہو گئے اور میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اس کے والد نے شادی میں شرکت نہیں کی۔ میرے بھائی نے اس سے وکالت نامہ لیا تاکہ ہم اس کی شادی کا عقد کر سکیں، اور اس کا وکیل اس کا ماموں بنا۔ میری چھوٹی بیٹی اپنی پڑھائی میں بہت کامیاب تھی، اور وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں گی۔ حکومت نے مجھے ایک مکان دیا، جس میں میں نے رہائش اختیار کی۔ الحمد للہ، اور اب میں اپنے بیٹے کے لیے دلہن تلاش کر رہی ہوں۔ جہاں تک میرے سابق شوہر کا تعلق ہے، وہ اب بیمار ہے اور کام کرنے کے قابل نہیں رہا، اور اس کی بیوی ہی اب سب کچھ سنبھالتی ہے۔ اس سے چار بچے بھی پیدا ہوئے۔ میں نے اپنی کہانی اس لیے سنائی تاکہ آپ سب جان سکیں کہ اس دنیا میں کوئی امانت دار نہیں، نہ ہی کسی پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی آپ کو خود سے زیادہ محبت نہیں کرے گا۔ اپنے گھروں میں آنے والوں سے ہوشیار رہیں اور انہیں بے جا بھروسہ نہ دیں، کیونکہ انسانوں پر بھروسہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ (ایک عورت کی کہانی ۔۔۔۔۔اس کی زبانی😥💔) منقول۔۔۔ 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

🌹 شریک حیات کا انتخاب 🌹 ♦️جب آپ کسی لڑکی کا رشتہ دیکھنے جائیں اور لڑکی کے باپ کو خاموش اور اس کی ماں کو گفتگو کرتے ہوئے پائیں تو جان جائیں کہ آپ کے گھر ایک نافرمان لڑکی آنے والی ہے. ♦️جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کی شادی شدہ بہن ان کے خاندانی فیصلوں میں مداخلت کرتی رہتی تو جان لیں کہ آپ کا گھر(راز فیصلے لائف سٹال) سب کے لیے کھلا رہے گا۔ ♦️جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرنے جاتے ہیں اور آپ کو معلوم ہو کہ اس کے آدھے بھائی پختہ عمر کے مرد ہیں تو جان لیں کہ آپ کے بچے اس وقت تک تکلیف اٹھائیں گے جب تک کہ وہ خود جوان نہیں ہو جاتے ۔ ♦️جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کی بہنیں بغیر حجاب کے، بغیر چادر کے، یا بغیر شرم و حیا کے گھر باہر گھومتی پھرتی ہیں، تو جان لیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی تربیت کرنے میں شدید دشواری پیش آئے گی. ♦️جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرتے ہیں اور اس کی ماں کو دیکھیں کہ وہ اونچی آواز میں چیختی ہے، شور و غل واویلا مچا کر روتی ہے، تو جان لیں کہ آپ کو اپنی بیوی سے عزت حاصل کرنے میں سخت مشقت کرنا پڑے گی۔ ♦️جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بہت ڈھیر منہ بولے بھائی ہیں (کزن، بھائیوں کے دوست، کزنوں کے دوست جو اس کے منہ بولے بھائی ہیں) تو جان لیں کہ آپ حسد کے دباؤ میں رہ کر مر جائیں گے، یا مستقبل میں اسے چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ♦️جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے فون سے لگی رہتی ہے اور بالکل فون کو نہیں چھوڑتی، تو جان لیں کہ آپ زندگی بھر شک کا شکار ہی رہیں گے. جب آپ کسی لڑکی کو پرپوز کرتے ہیں اور آپ کو اس کے فون سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی تمام نجی معلومات سٹیٹس میں پوسٹ کرتی رہتی ہے تو جان لیں کہ مستقبل میں آپ کے گھر میں آپ کی کوئی رازداری نہیں ہوگی۔ ♦️جب آپ اپنے رشتہ داروں میں سے کسی لڑکی(کزن) کو پرپوز کرتے ہیں اور اس کے خاندان کو دائمی بیماریوں میں مبتلا دیکھیں تو جان لیں کہ آپ کے آنے والے بچے موروثی(جدی پشتی) بیماریوں میں مبتلا ہوں گے۔ شادی یا تو آپ کو زندگی دیتی ہے یا آپ کی موت کا باعث بنتی ہے ، یا تو باعث خوشی ہے یا باعث غم ہے، شادی کے بعد تو آپ خوش رہتے ہیں یا روتے رہتے ہیں ، انتظار کرو اور بس انتظار کرو جب تک کہ تم صحیح بیوی کا اپنے لیے انتخاب نہ کر لو. 🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی معلومات کے لئے شیئر ضرور کریں۔ https://t.me/islamwitheman/5862 ⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕

سچا دوست
سچا دوست

photo content

photo content