ISLAM WITH EMAN
الذهاب إلى القناة على Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
إظهار المزيد1 282
المشتركون
-124 ساعات
-27 أيام
-930 أيام
أرشيف المشاركات
1 282
🌹 میاں بیوی میں اعتماد ہونا چاہیے 🌹
ایک وکیل دوست نے طلاق کے ایک کیس کے بارے بتایا جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔
فہیم اور ثوبیہ کی شادی تقریباً آٹھ سال پہلے ہوئی۔
شادی کے بعد ثوبیہ نے کہا کہ گھر پر بور ہوتی رہتی ہوں، جاب کر لیتی ہوں۔ تعلیم ، قابلیت اور گریڈ اچھے تھے، سفارش بھی تھی تو سرکاری نوکری مل گئی۔ چار سال بعد اللہ نے اولاد سے نوازا۔ حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد ثوبیہ کو کئی ماہ چھٹیاں کرنی پڑیں جس سے اس کی جاب بہت متأثر ہوئی اور اس کی ترقی بھی لیٹ ہوگئی۔
بچے کی پیدائش آپریشن سے ہوئی تو ثوبیہ نے ڈاکٹر کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اسی آپریشن میں نس بندی (ٹیوبل لگیشن) کر دے۔ یہ بات نہ تو اس نے اپنے شوہر سے ڈسکس کی نہ ہی اسے اس کے بارے بتایا۔ ایک سال بعد ان کا بچہ وفات پا گیا۔
پہلے بچے کی وفات کے بعد فہیم میں مزید بچوں کی خواہش پہلے سے بھی زیادہ ہوئی۔ جب دو سال تک بھی کوئی امید پیدا نہ ہوئی تو فہیم نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہا۔ ثوبیہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی۔
فہیم نے اپنے ٹیسٹ کروائے اور وہ سب نارمل تھے۔ جب فہیم کا اصرار بہت زیادہ بڑھ گیا تو تب ثوبیہ نے نس بندی کا بتایا۔
اس پر میاں بیوی میں بہت جھگڑا ہوا۔
اس جھگڑے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلی اولاد بھی چار سال بعد اس لیے ہوئی کہ ثوبیہ شوہر کو بتائے بغیر مانع حمل گولیاں لیتی رہی۔
مزید کئی ماہ کے بعد فہیم نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا لیکن ثوبیہ دوسری شادی کی اجازت دینے کو بھی تیار نہیں تھی۔
جس کے بعد فہیم نے اسے طلاق دےدی۔
🔹 اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں اولاد کی فطری خواہش رکھی ہے اور بنی نوع انسان کی بقا کا راز بھی اسی خواہش میں مضمر ہے۔ اس دنیا پر لاکھوں سال سے آباد انسان، اس خواہش کے بغیر دو صدیاں بھی نہیں گزار سکتے۔میاں بیوی ایک دوسرے کی رضامندی سے کچھ وقت کے لیے عارضی طور پر مانع حمل ذرائع اپنا سکتے ہیں لیکن شادی شدہ مرد ہو یا عورت، اس طرح بغیر کسی وجہ کے مستقل نس بندی سے اجتناب کرنا چاہیے
کیونکہ میری معلومات کے مطابق تو یہ ایک بار کروا دیں تو پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ کسی وجہ سے یہ ضروری بھی ہو تو سب سے پہلے اپنے زوج (پارٹنر) کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ اس طرح کے فیصلے کا اثر دوسرے پر لازمی طور پر پڑتا ہے۔ مرد نس بندی کروائے تو عورت کو معلوم ہو جاتا ہے (مادہ منویہ خارج نہیں ہوتا) لیکن عورت کروا لے تو پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
🔘 اس طرح کے کیسز سے ایک اور بات جو کبھی کبھی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ مرد جب جاب کرتا ہے تو مقصد خاندان کی کفالت ہوتا ہے۔ عورت جب جاب کرتی ہے تو اس کا مقصد و محور اپنی ذات کیوں ہو جاتی ہے؟
ساری جاب کرنے والی عورتیں یقیناً ایسا نہیں سوچتی ہونگی لیکن اس طرح کے کیسز سے ایسا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔
آپ سب اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
ایک بہت غریب عورت نے ریڈیو اسٹیشن پر کال کی اور خدا سے مدد کی درخواست کی۔ ایک ایسا شخص جو خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا، یہ ریڈیو پروگرام سن رہا تھا اور اس عورت کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ریڈیو اسٹیشن سے اس عورت کا پتہ حاصل کیا اور اپنی سیکریٹری کو حکم دیا کہ وہ اس عورت کے لیے بڑی مقدار میں کھانے پینے کا سامان لے جائے۔ تاہم، اس نے سیکریٹری کو یہ ہدایت دی،
’’جب عورت پوچھے کہ یہ کھانا کس نے بھیجا ہے، تو اسے بتانا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘
جب سیکریٹری عورت کے گھر پہنچی، تو عورت بہت خوش ہوئی اور مدد ملنے پر شکر گزار تھی۔ اس نے فوراً کھانے کے پیکٹ اپنے چھوٹے سے گھر میں رکھنا شروع کر دیے۔ پھر سیکریٹری نے اس سے پوچھا،
’’کیا آپ یہ جاننا نہیں چاہیں گی کہ یہ کھانا کس نے بھیجا ہے؟‘‘
عورت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
’’نہیں، مجھے پرواہ نہیں، کیونکہ جب خدا حکم دیتا ہے تو شیطان بھی اطاعت کرتا ہے!‘‘
1 282
🎅 پانچواں کبوتر 🎅
ماسٹر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے، وہ ریاضی کے ٹیچر تھے اُنہوں نے بچے کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں۔
مثال دیتے ہوئے انہوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دیئے، پھر دو کبوتر دیئے؛ تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئےــــــ؟
بچے نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا کہ
ماسٹر جی "پانچ"
ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ہوئیں؟
بچے نے جواب دیا کہ دو۔
پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں؟
"چار" بچے نے جواب دیا.
ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی علامت تھی۔
پھر دوبارہ پوچھا:
اچھا اب بتاؤ۔ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دیئے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے..؟ "پانچ" بچے نے فورًا جواب دیا۔
ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے۔
اؤ احمق! پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ہیں تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں ؟
اُنہوں نے رونے والی آواز میں پوچھا۔
"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے" بچے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
😂😜🤡😜😂
🔘 ہم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لے آئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں۔ اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللہ بھی کہتے ہیں۔ جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو درود بھی پڑھتے ہیں۔
مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں۔
شادی بیاہ کی رسمیں دیکھ لیں. ہندو' سکھ اور مسلمان کی شادی میں فرق صرف پھیروں اور ایجاب و قبول کا ہے. باقی ہندو دولہے کی ماں بہن ناچتی ہے تو مسلمان کی شادی پہ بھی منڈے کی ماں بہن نہ ناچے تو شادی نہیں سجتی۔ وراثت میں ہندو قانون لاگو ہے ... بیٹی کا کوئی حصہ نہیں. جہیز ہندو رسم ہے کہ بیٹی کو جائیداد میں حصہ تو دینا نہیں لہدْا جہیز کے نام پر مال بٹورو اور یہی کام آج کا مسلمان کر رہا ہے۔ اور تو اور ھر کوئی اسلامی سنت اور حکم و حدیث کی نفی اور اپنی سہل پسندی کے لئے دین کو بدلنا چاھتا ھے.
باقی خیر سے جو اسلام سے پہلے ہی ہمارے پاس ہے، ہم نے *کلمے کی "لا"* کے ساتھ اس پانچویں کبوتر کو اڑا کر پنجرہ خالی نہیں کیا۔...
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 282
🔷 چھٹیاں اور نانو کا گھر 🔷
”ماما! چلو نانو کے گھر ۔۔۔۔ ایک مہینہ ہوگیا چھٹیوں کو ۔۔۔۔۔“
چھوٹے بچے اپنی ماں کے اردگرد جمع تھے اور ماں ماضی کے سفر میں تھی کہ چھٹیاں ہوتے ہی ماں کے فون آنا شروع ہوجاتے کہ ”بیٹا! بچوں کی چھٹیاں ہوگئیں ہیں چکر لگا لو“
”بس ماں! بچوں کے بابا کے پاس وقت نہیں ہوتا ہے، جیسے ہی ان کی دفتری مصروفیات ختم ہوگی تو ہمیں چھوڑ جائیں گے“..
پھر بچوں کے ساتھ ماں سے ملنے اس کے گھر پہنچنا اور سب کا خوشی خوشی ملنا۔ بچوں کا آپس میں لاڈ پیار اور جھگڑا۔۔۔ بھاوج نند کی آپس میں گپ شپ، پھر مل کر کھانا بنانا اور دستر خوان پر مل بیٹھ کر کھانا۔۔۔
پھر ماں فوت ہوگئی اور لگتا ہے کہ پورا میکہ اس کے ساتھ ہی چلا گیا۔ کسی ماں جائے نے کبھی غلطی سے فون کرکے آنے کی دعوت تک نہ دی اور اگر دل بہت ہی تڑپا تو خود ڈھیٹ بن کر گھر چلی گئی لیکن سرد رویوں نے آہستہ آہستہ سب کچھ فراموش کرنے پر مجبور کردیا۔
”ماما! کیا سوچ رہی ہیں“ بڑی بیٹی نے کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو واپس آگئی۔
“بیٹا! آپ تو بڑی ہیں۔۔۔آپ کو پتا ہے نا مہنگائی کتنی ہے پھر کسی کے گھر جاکر رہنا، اس پر بوجھ بننا بے شک ایک دن کے لیے، اچھی بات تو نہیں ہے نا۔۔۔“ اس نے اپنی پندرہ سال کی بچی کو سمجھانا چاہا۔
“لیکن ماما میں نے اسلامیات کی کتاب میں پڑھا ہے کہ ہر مہمان اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے پھر ماموں لوگ تو سب باقاعدہ نمازی پرہیزی ہیں اور دین کو ہم سے بہتر جانتے ہیں تو انہیں تو خوش ہونا چاہیے“ بچی نے جواب دیا۔
“جی ماما میں نے بھی پڑھا ہے کہ اکثر صحابہ بغیر مہمان کے کھانا تک نہیں کھاتے تھے“ منجھلے بیٹے نے بھی معلومات میں اضافہ کیا۔
“اچھا بھئی اپنے کزنز کو فون کرکے پوچھو کہ آج کل کیا کررہے ہیں؟“
“ٹھیک ہے ماما“ بچوں نے پرجوش ہوکر جواب دیا۔
“ماما وہ سب اپنی نانو کے گھر گئے ہوئے ہیں“ بچی نے پژمردگی سے جواب دیا۔
“ماما! جب ان کو نانو چلی جائیں گی تو پھر وہ بھی نہیں جایا کریں گے کیا؟“ چھوٹا بیٹا معصومیت سے بولا۔
“اللہ نہ کرے بیٹا۔۔۔ایسے نہیں بولتے ۔۔۔اللہ سب کی نانو کو سلامت رکھے۔۔۔“ ماں نے اپنے بچے کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🔷 ایمانداری سے محنت کرتے رہو 🔷
کولمبیا یونیورسٹی میں ریاضی کے لیکچر کے دوران ایک طالبعلم کلاس میں سوگیا ، اور اپنے ہم جماعتوں کی آواز سن کر جاگا،
جب لیکچر ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ استاد نے وائٹ بورڈ پر
دو سوال لکھے تھے ، اس نے سوچا کہ یہ ہوم ورک کے سوالات ہیں ، لہذا اس نے اپنی نوٹ بک میں نقل کرلئے ، تاکہ بعد میں حل کرسکے ،
جب اس نے پہلی بار ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ، تو وہ انہیں کافی مشکل پایا ، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری ،اور گھنٹوں لائبریری میں تحقیق اور مطالعہ کیا ، بالآخر آخر وہ اس مسلئے کو حل کرنے میں وہ کامیاب ہوگیا ،
اگرچہ یہ ایک مشکل چیلنج تھا ،
اگلی کلاس میں ، جب استاد نے ہوم ورک کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا تو طالبعلم حیران رہ گیا ،
تجسّس میں وہ کھڑا ہوا اور پوچھا ،، ڈاکٹر ! آپ نے پچھلی کلاس میں اسائنمنٹ کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا ؟ استاد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ،، وہ لازمی نہیں تھا ، وہ تو صرف سوال لکھے تھے جنھیں سائنسدان آج تک حل نہیں کرسکے
یہ سن کر طالبعلم حیران رہ گیا اور بولا ، لیکن میں نے ان میں سے ایک مسلئہ حل کرلیا ہے ، اور میں نے اس پر چار صفحات لکھے ہیں ،
بالآخر اس کی دریافت کو یونیورسٹی نے تسلیم کیا ،اور اس کے حل کو کولمبیا یونیورسٹی کے ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا ، طالبعلم کے کامیاب ہونے کی سب سے بڑھ وجہ یہ تھی کہ اس نے استاد کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا ، کہ یہ ناقابلِ حل نہیں ،،
اس نے سمجھا یہ ایک مسئلہ ہے جسے حل کرنا ہے ، یہ کہانی ایک سبق دیتی ہے ، کبھی ان لوگوں کی نہ سنو جو تمھیں بتاتے ہیں کہ تم کچھ حاصل نہیں کرسکتے ، کیوں کہ آج کی نوجوان نسل کو اگر منفی باتوں اور شک و شبہات الجھا دیا جاتا ہے ، کچھ لوگ دانستہ طور پر ناکامی اور مایوسی کے بیج بوتے ہیں ، لیکن یاد رکھو ! تم میں اپنی منزل تک پہچنے مشکلات پر قابو پانے اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے ،
بس اللّٰہ پاک پر بھروسہ رکھو اور مسلسل محنت کرتے رہو۔
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🌹 محبت فقط شاعری میں نہیں 🌹
کہانی سنانے والی خاتون کہتی ہیں...
میں ہمیشہ یہ خواہش رکھتی تھی کہ میرا شوہر ایک عزت دار، اعلیٰ تعلیم یافتہ، کتابوں کا عاشق، الفاظ اور جذبات کا فنکار، اور ایسا رومانوی ہو جو سرپرائزز اور پھولوں سے مجھے خوش رکھے۔
لیکن تقدیر نے مجھے ہمارے محلے کے ایک مکینک سے جوڑ دیا، ایک سادہ آدمی جس کی تعلیم بھی درمیانے درجے کی تھی، جو کتابوں کی بجائے پرزوں، اوزاروں اور اسکرو ڈرائیورز سے محبت کرتا تھا۔
وہ نہ شاعری جانتا تھا، نہ کتابوں میں دلچسپی لیتا تھا، نہ ہی کسی طور پر رومانوی لگتا تھا، بلکہ ایک انتہائی معمولات پسند شخص تھا۔
لیکن اس سب کے باوجود وہ مجھ سے بے حد محبت کرتا تھا، اور پورا محلہ اس بات کا گواہ تھا۔
آخرکار، میں نے یہ سوچ کر اس کا رشتہ قبول کر لیا کہ:
"جو شخص تم سے محبت کرتا ہے، وہ اس شخص سے بہتر ہوتا ہے جس سے تم محبت کرتے ہو۔"
ازدواجی زندگی کی شروعات
ہماری زندگی عام انداز میں شروع ہوئی، میں اس کے محبت بھرے الفاظ سننے کے انتظار میں تھی، جیسے کہانیوں میں ہوتا ہے۔
لیکن اس نے میرے دل کو جیتنے کی کوئی زحمت نہیں کی، جو کہ میری توقع کے برعکس تھا!
اور یہی چیز اسے میری نظر میں زیادہ باوقار اور پُراسرار بنا رہی تھی۔
آہستہ آہستہ، میں اسے ایک کھلی کتاب کی طرح پڑھنے لگی،
جس کا عنوان تھا: "وہ اجنبی جو میری زندگی میں آیا!"
مقدمہ: ہمارے چھوٹے سے گھر کی طرح خوبصورت تھا، اور حیرت انگیز طور پر اسی نے اپنے ہاتھوں سے ہمارا گھر رنگا، فرش چُنا اور اسے لگایا!
الفاظ: اس کے الفاظ نہیں تھے، بلکہ وہ پرزوں، اوزاروں، کیلوں اور ہتھوڑے کی زبان میں بولتا تھا۔
گھر میں کوئی بھی چیز خراب ہوتی، تو وہ اپنے فنکارانہ لمس سے اسے بغیر کسی نقصان کے ٹھیک کر دیتا!
محبت کی ایک منفرد زبان
ایک دن میں نے دیواریں دھونے اور صاف کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن اس نے منع کر دیا اور کہا کہ ہمیں نئے رنگ منتخب کر کے انہیں دوبارہ رنگنا چاہیے، کیونکہ تبدیلی سے زندگی خوبصورت بن جاتی ہے!
اور سب سے حیران کن بات؟
اس نے مجھ سے کہا کہ میں اس کی مدد کروں، اور مجھے دروازے اور کھڑکیاں رنگنے کا طریقہ سکھایا!
وہ میری مدد کا محتاج نہیں تھا، کیونکہ اس کا کام زیادہ خوبصورت اور تیز تھا،
لیکن میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے ہمیشہ اپنے قریب رکھنا چاہتا ہے!
ہم صبح جلدی اٹھ کر ایک مزدور اور اس کے معاون کی طرح کام شروع کرتے،
اس نے مجھے نل ٹھیک کرنا، دروازوں اور کھڑکیوں کے ہینڈل بدلنا سکھایا،
اسکرو ڈرائیورز اور اوزاروں کے نام اور نمبر مجھے یاد ہونے لگے، اور میں ان کی حفاظت اسی طرح کرنے لگی جیسے میں اپنی کتابوں کی کرتی تھی!
محبت کا نیا مفہوم
وہ کام کے دوران جس طرح کافی سے لطف اندوز ہوتا،
ویسے ہی میں کتاب پڑھتے وقت کافی پیتی تھی۔
اب وہی میرا پسندیدہ "کتاب" بن چکا تھا،
میں اس کے کپ سے کافی پیتی تو اس کا ذائقہ مختلف محسوس ہوتا!
ایسا ذائقہ جو محبت، اپنائیت، اور ساتھ کا احساس دلاتا تھا۔
ایک دن، ہم مارکیٹ سے واپسی کے فوراً بعد دیوار میں ڈرل کر کے نئے پردے لگانے لگے،
ہم دونوں وہ سب کچھ بے حد پسند کرتے جو ہم نے مل کر خریدا تھا۔
ہمارے رنگوں کا انتخاب ہمیشہ مختلف ہوتا، اور ہم ہمیشہ بحث کرتے،
لیکن آخر میں وہ میری پسند کو مان لیتا، اور ہمیشہ کہتا:
"یہ گھر تمہارا ہے، اور تم میرے گھر ہو۔ میں وہی کروں گا جو تمہیں خوشی دے، کیونکہ تمہاری خوشی میری خوشی ہے!"
ہمارا چھوٹا سا گھر ہماری محبت کی فنی تصویر بن چکا تھا،
اور میرا دل، جو اس کے لئیے بند تھا، وہ اس نے اپنے کسی اسکرو ڈرائیور سے کھول دیا تھا!
وہ ایسا فنکار تھا جس کے بارے میں نہ میں نے کبھی کتابوں میں پڑھا،
نہ کسی کہانی میں پایا، لیکن میں اس کے حقیقی جہان میں جیتی رہی،
ہر دن اس کی بنائی گئی تصویروں اور لمس سے مزید محبت میں مبتلا ہو گئی۔
محبت کا نیا مفہوم
مجھے احساس ہوا کہ شادی کے بعد محبت صرف رومانوی الفاظ نہیں،
بلکہ زندگی کو خوبصورت بنانے والے لمحات اور محنت سے جُڑی ہوئی ہوتی ہے!
محبت صرف غزلیں کہنے میں نہیں، بلکہ زندگی کے ہر لمحے کو سنوارنے میں ہے۔
محبت سرپرائز گفٹس میں نہیں، بلکہ اس جذبے میں ہے جو تمہاری خوشی کو اپنی خوشی سمجھتا ہے۔
محبت فقط کہانیوں میں لکھی تحریروں میں نہیں، بلکہ حقیقت میں ہر دن بنائی جانے والی یادوں میں ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
جبکہ سلیمانی بوہروں کے داعی یمن میں ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں بھی ہیں۔
البتہ پاکستان میں بھی سلیمانی بوہروں کی ایک قلیل تعداد ہے۔ داؤدی بوہرہ کے لوگ بہت آرام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ ان کے مرد مخصوص لباس پہنتے ہیں اور ان کی عورتیں ایک مخصوص حجاب کرتی ہیں، جبکہ سلیمانی بوہرہ پہچانے نہیں جاتے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے اسلام کا تعلّق ہے تو بوہریوں کے مسلمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں-
کہتے ہیں کہ ایک زمانے تک یہ امام موسی کاظمؑ کو گالیاں دیتے تھے جو بقول ان کے امامت کو غصب کر بیٹھے (نعوذباللہ)۔ لیکن یہ روش انہوں نے چھوڑ دی تبھی آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کے دور میں ان کو نجف و کربلا زیارت کی اجازت دی گئی۔ وہاں موجود ضریحوں اور حرم کی تعمیر اور چاندی سونے میں بوہریوں نے کافی مدد کی۔ بوہری اب بھی جوق در جوق کربلا اور نجف زیارت کے لئے جاتے ہیں اور شیعہ مراکز کے دروازے بوہریوں کے لئے کھلے ہیں۔
دوسری طرف آغاخانیوں کا اسلام اس لئے مشکوک ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے کئی چیزوں کے منکر ہیں۔ نماز کے بارے میں تو ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ نماز سے انکار نہیں کرتے لیکن نماز کا طریقہ الگ ہے۔ جو چیز ان کے اسلام کو مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ “حلول” کے عقیدے کو مانتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ کا نور علی(ع) میں حلول کر گیا اور علی(ع) کا نور ان کے ہر امام میں آتا رہا، ان کے حساب سے پرنس کریم آغا خان اس وقت کا علی ہے، اور جب یہ لوگ “یاعلی مدد” کہتے ہیں تو ان کی مراد ہماری طرح مولا علی علیہ السلام نہیں ہوتے بلکہ پرنس کریم آغا خان ہوتے ہیں۔
لیکن ہندوستان کے اثناعشری شیعہ خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی سلام کے طور پر یاعلی مدد کہنا شروع کیا۔ آغا خانیوں میں ایک اور خرابی یہ ہے کہ وہ “معاد جسمانی” کے منکر ہیں یعنی ان کے نزدیک میدان حشر، پل صراط، جنّت و جہنّم کا کوئی ظاہری وجود نہیں بلکہ یہ اشارہ یا کنایہ ہے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم اس جسم کے ساتھ حشر کے دن نہیں اٹھائے جائیں گے۔انکے اسلام پر کئی علماء نے اشتباہ کیا ہے-
🔘 عزیزان محترم یہ تھی مختصر غیر جانبدرانہ تاریخ و عقائد جوکہ اسماعیلی فرقوں کے بارے میں تھے اب انکی بنیاد پر کفر و اسلام کے معاملے میں ذاتی طور انتہائی محتاط ہوں اور میں اسماعیلیوں سمیت ہر مذہب کی مقدسات کے احترام کا قائل ہوں اور روحانی پیشواوں کی توہین کو انتہائی معیوب سمجھتا ہوں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5836
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🔷 اسماعیلی فرقے 🔷
اسماعیلی فرقوں کی دوشاخیں بوہری اور آغا خانی ہیں۔ بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے اور کیا بوہری اور آغا خانی مسلمان ہیں؟
امام جعفر صادق علیہ السلام کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام صادقؑ کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادقؑ کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادقؑ کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادقؑ بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، چنانچہ امام جعفر صادقؑ نے اسماعیل کی وفات کے بعد ان کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی تاکہ کوئی اسماعیل کی وفات سے انکار نہ کر سکے۔ جب امام صادقؑ کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظمؑ کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاہیے، لہذا اس گروہ نے ان کے بیٹے کو امام مان لیا اسی وجہ سے یہ لوگ اسماعیلی کہلائے۔ کچھ لوگوں نے امام صادقؑ کے ایک اور بیٹے عبداللہ افطح کو امام مانا، یہ لوگ فطحی کہلائے۔
جن لوگوں نے امام جعفر صادقؑ کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے خلافت فاطمی کی بنیاد رکھی۔ یہ خلفاء بہت شان و شوکت سے وہاں حکمرانی کرتے رہے، قاہرہ شہر اور جامعۃ الازھر کی بنیاد انہی اسماعیلی خلفاء نے رکھی۔ ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔
مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور وہاں قزوین نامی شہر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام “حسن علی ذکرہ السّلام” آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی، کہا جاتا ہے کہ 19 یا 21 رمضان تھی جب اس امام نے ظاہری شریعت ہٹائی تھی، انہوں نے اپنے امام کے حکم پر اپنے روزے توڑے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے شراب سے افطار کیا۔ کیونکہ ان کے امام نے یہی حکم دیا تھا کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، اپنے باطن کی تربیت کرو یہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔ آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو “آغا خان” کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب “محلاّت” نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی جہاں آغاخان مکمّل داخلی خودمختاری کے ساتھ حکومتت کرتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس امام کو “آغا خان محلاّتی” بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی- پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان کو “سر” کا خطاب دیا اور بہت عزّت و تکریم کی۔ ان کی وفات ہندوستان میں ہی ہوئی اور ان کے بعد امامت ان کے بیٹے کو ملی جو تحریک پاکستان کے ابتدائی رہنماؤں میں سے رہی ہے۔ صدرالدّین آغا خان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کی موجودگی میں ہی انہوں نے اپنے پوتے “پرنس کریم” کو جانشین بنایا جن کی والدہ یورپی تھیں اور مغربی بودو باش رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسماعیلیوں کی امامت کا مرکز “محلاّت، کرمان” سے نکل کر “بمبئی ہندوستان” آیا اور وہاں سے اب مغرب منتقل ہو گیا۔
دوسری طرف بوہریوں کی خلافت ایک طویل عرصے تک مصر میں رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلاح الدّین ایّوبی نے پے در پے حملوں کے بعد اس اسماعیلی حکومت کو ختم کر دیا۔ جب مصر میں بوہریوں کی امامت ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنا لیا البتہ یہ لوگ باعمل مسلمان ہیں اور پابندی سے نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔ ان کی امامت کا سلسلہ خلافت فاطمی کے ختم ہوتے ہی ختم ہو چکا ہے، البتہ ان کے ہاں داعیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ برھان الدّین ان کے داعی ہیں جن کا انتقال پچھلے دنوں ہوا۔ آگے چل کر بوہریوں کے ہاں بھی دو فرقے ہوئے؛ 1) داؤدی بوہرہ اور 2) سلیمانی بوہرہ۔ ان کا اختلاف محض علاقائی ہے۔ داؤدی بوہروں کے داعی ہندوستانی ہوتے ہیں اور گجرات کے شہر سورت میں ان کا مرکز ہے۔
1 282
🔷 نوجوانوں کا ہوٹل سے کھانا کھانا 🔷
احمد ایک نوجوان تھا، زندہ دل اور بے فکری سے ہنستا کھیلتا۔ اسے اچھے کھانے کا بہت شوق تھا، خاص طور پر ہوٹل کی چٹخارے دار کڑاہی، تکے اور دیگر مزیدار پکوان۔ جب بھی دوستوں کے ساتھ کھانے جاتا، خوشی خوشی مزے لیتا، لیکن جب گھر آ کر امی کے ہاتھ کی بنی دال یا سبزی دیکھتا تو بے دلی سے کھانے بیٹھتا اور کبھی کبھی تو منہ بنا کر کہہ دیتا، "امی، روز دال سبزی؟ کچھ اچھا نہیں بنتا!"
امی ہمیشہ مسکرا کر کہتیں، "بیٹا، جو نصیب میں ہوتا ہے، وہی کھاتے ہیں۔" احمد ان کی بات سن کر کندھے اچکا دیتا اور چپ چاپ کھانے لگتا۔
ایک رات احمد دیر سے گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ امی اور چھوٹے بہن بھائی ایک چٹائی پر بیٹھے روٹی اور دال کھا رہے ہیں۔ بہن نے آخری نوالہ پلیٹ میں رکھ دیا، شاید امی کے لیے، اور ماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔ یہ منظر احمد کے دل میں کہیں گہرا اتر گیا، لیکن وہ کچھ کہے بغیر اندر چلا گیا۔
کھانے کے دوران احمد نے ہنسی میں کہا، "امی، آپ کو بھی کبھی ہمارے ساتھ ہوٹل چلنا چاہیے، وہاں کی کڑاہی بہت مزے کی ہوتی ہے!"
امی نے مسکرا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور نرمی سے کہا، "بیٹا، ہوٹل کی کڑاہی سے زیادہ مزہ اس کھانے میں ہے جو اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر کھایا جائے۔"
احمد نے کوئی جواب نہیں دیا، مگر اس کی ماں کی باتیں اس کے دل میں گونجتی رہیں۔
اگلے دن احمد جلدی گھر آیا، ہاتھ میں گوشت اور مصالحے کا ایک تھیلا تھا۔ ماں حیرانی سے دیکھنے لگیں، "بیٹا، یہ کیا؟"
احمد نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا، "امی، آج ہم سب مل کر کڑاہی بنائیں گے!"
امی کے چہرے پر حیرت خوشی میں بدل گئی۔ بہن بھائی تالیاں بجانے لگے، اور سب نے مل کر تیاری شروع کر دی۔ ماں نے پیاز کاٹنا شروع کیا، بہن نے مصالحے نکالے، احمد نے گوشت دھویا۔ چولہے پر چٹخارے دار خوشبو پھیلنے لگی، اور پورا گھر ایک خوشگوار ماحول میں ڈوب گیا۔
جب کھانے کا وقت آیا، تو سب نے مل کر ایک ساتھ کھایا، ہنستے بولتے، چٹخارے لیتے۔ وہ رات عام راتوں سے مختلف تھی، اس رات صرف کڑاہی کا ذائقہ نہیں، بلکہ اپنوں کی محبت اور ساتھ کی گرمی بھی تھی۔
احمد نے اس دن جانا کہ کھانے کا اصل لطف کسی ہوٹل میں نہیں، بلکہ اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر، محبت میں بسا ایک نوالہ کھانے میں ہے۔
#نوجوانوں سے ایک #گزارش
سردی اپنے عروج پر ہے، اور یہ وہ موسم ہے جب گرما گرم کھانے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ اکثر ہم نوجوان دوستوں کے ساتھ ہوٹل جا کر مزے سے کڑاہی، تکے اور دیگر چٹپٹے کھانے کھاتے ہیں۔ لیکن کبھی سوچا ہے کہ اسی وقت ہمارے گھر میں والدین اور چھوٹے بہن بھائی دال یا سبزی کے ساتھ روٹی کھا رہے ہوتے ہیں؟
اگر ہم ہوٹل پر کھانے کے بجائے وہی پیسے گھر لے جائیں اور اپنے پیاروں کے لیے گوشت لے آئیں، تو کیسا ہوگا؟ پھر سب مل کر محبت اور ہنسی مذاق کے ساتھ کڑاہی کھائیں، ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے کا جو مزہ ہوگا، وہ کسی ہوٹل میں نہیں ملے گا۔
یہ چھوٹا سا عمل نہ صرف ہمارے رشتوں میں محبت بڑھائے گا بلکہ والدین کے دل میں سکون اور خوشی بھی لائے گا۔ تو آئیں، آج ہی یہ قدم اٹھائیں اور اپنوں کے ساتھ مل کر خوشیاں بانٹیں!
کیونکہ اصل مزہ اپنوں کے ساتھ کھانے میں ہے!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🌹 ایک خاتون کی کامیابی 🌹
میں نے ایک بار ایک بہت کامیاب خاتون سے ان کی کامیابی کا راز پوچھا۔ وہ مسکرائیں اور مجھ سے کہنے لگیں…
"میں نے اس وقت کامیاب ہونا شروع کیا جب میں نے چھوٹی لڑائیاں چھوٹے لوگوں کے لیے چھوڑ دیں۔
میں نے ان لوگوں سے لڑنا چھوڑ دیا جو میری غیبت کرتے تھے…
میں نے اپنے سسرال والوں سے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے توجہ کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے بے حس لوگوں سے اپنے حقوق کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے سب کو خوش کرنے کے لیے لڑنا چھوڑ دیا…
میں نے یہ ثابت کرنے کے لیے لڑنا چھوڑ دیا کہ وہ میرے بارے میں غلط تھے….
میں نے ایسی لڑائیاں ان لوگوں کے لیے چھوڑ دیں جن کے پاس لڑنے کے لیے اور کچھ نہیں…
اور میں نے اپنے وژن، اپنے خوابوں، اپنے خیالات اور اپنی تقدیر کے لیے لڑنا شروع کیا۔
جس دن میں نے چھوٹی لڑائیوں سے کنارہ کشی اختیار کی، وہ دن میری کامیابی اور سکون کا آغاز تھا۔"
🔘 کچھ لڑائیاں آپ کے وقت کے قابل نہیں ہوتیں…. سمجھداری سے انتخاب کریں کہ آپ کس کے لیے لڑیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🔷 کتنا دردناک ہے کمزور ہونا 🔷
یہ عالمی ادب کی تاریخ کی سب سے حیرت انگیز مختصر کہانیوں میں سے ایک ہے، روسی مصنف انتون چیخوف کے نام:
کچھ دن پہلے مجھے اپنے آفس روم میں بلایا گیا، جہاں میرے بچوں کی نینی (یولیا واسیلیونا) اپنا حساب چکانے آئی تھی۔
میں نے اس سے کہا:
"بیٹھو، یولیا... آؤ، حساب کتاب کر لیتے ہیں۔ تمہیں اکثر پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن تم اتنی شرمیلی ہو کہ خود نہیں مانگتی۔ خیر، ہم نے ماہانہ تیس روبل طے کیے تھے۔"
یولیا نے کہا:
"چالیس۔"
میں نے کہا:
"نہیں، تیس... میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ میں ہمیشہ نینی کو تیس روبل ہی دیتا ہوں۔"
اس نے کہا:
"ٹھیک ہے۔"
میں نے پوچھا:
"ہم نے کتنے مہینے کام کیا؟"
یولیا نے جواب دیا:
"دو مہینے اور پانچ دن۔"
میں نے کہا:
"ٹھیک ہے، دو مہینے۔ میرے پاس یہی درج ہے، تو تم ساٹھ روبل کی حق دار ہو۔ لیکن ہم اتوار کے نو دن منہا کریں گے، کیونکہ تم نے ان دنوں میں کولیا کو نہیں پڑھایا، بس اس کے ساتھ رہی تھیں۔ پھر تین دن کی چھٹی بھی لیں۔"
یولیا واسیلیونا کا چہرہ زرد پڑ گیا، اور اس کی انگلیاں کپڑوں میں الجھنے لگیں، مگر اس نے کوئی شکایت نہ کی۔
میں نے مزید کہا:
"ہم تین چھٹیوں کے بارہ روبل کم کرتے ہیں۔ کولیا چار دن بیمار تھا، تو تم نے صرف فاریہ کو پڑھایا، اس کے سات روبل اور کم ہوئے۔ پھر تین دن تمہارے دانت میں درد تھا، تو میری بیوی نے تمہیں دوپہر کے بعد پڑھانے دیا، اس کے بھی بارہ روبل کم۔ تو کل انیس کم کر کے باقی اکتالیس روبل بنتے ہیں، ٹھیک؟"
یولیا واسیلیونا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، اس کی ٹھوڑی کانپنے لگی، مگر وہ اب بھی خاموش رہی۔
میں نے مزید حساب لگایا:
"نئے سال سے پہلے تم نے ایک کپ اور پلیٹ توڑ دی، اس کے لیے چھ روبل کاٹنے ہوں گے۔ پھر، کولیا نے تمہاری لاپرواہی کے سبب درخت پر چڑھ کر اپنی جیکٹ پھاڑ لی، اس کے دس روبل کم۔ نوکرانی نے ایک جوتا چوری کر لیا اور یہ سب کچھ دیکھنا تمہاری ذمہ داری تھی، تو اس کے پانچ روبل اور کم۔ اور 10 جنوری کو تم نے مجھ سے دس روبل ادھار لیے تھے۔"
یولیا واسیلیونا نے سرگوشی کی:
"میں نے نہیں لیے تھے۔"
میں نے کہا:
"مگر میرے پاس ریکارڈ میں لکھا ہے۔"
وہ بولی:
"ٹھیک ہے، جیسا آپ کہیں۔"
میں نے حساب مکمل کیا:
"اکتالیس سے ستائیس کم کریں تو باقی چودہ روبل بچتے ہیں۔"
یولیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اس کی لمبی خوبصورت ناک پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔
اس نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا:
"میں نے صرف ایک بار تین روبل ادھار لیے تھے، اس سے زیادہ نہیں۔"
میں نے چونک کر کہا:
"واقعی؟ میں نے تو یہ ریکارڈ میں نہیں لکھا! تو چودہ میں سے تین نکال کر گیارہ بچتے ہیں۔ لو، یہ لو تمہارے گیارہ روبل!"
میں نے سکے اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہیں جیب میں ڈال لیا اور آہستہ سے کہا:
"شکریہ۔"
مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے پوچھا:
"کس چیز کا شکریہ؟"
اس نے جواب دیا:
"پیسوں کا۔"
میں نے کہا:
"لیکن میں نے تو تمہیں دھوکہ دیا، تم سے لوٹ مار کی، تمہارا حق مارا! اور تم پھر بھی شکریہ ادا کر رہی ہو؟"
اس نے کہا:
"دوسری جگہوں پر تو کچھ بھی نہیں ملتا۔"
میں نے حیرت سے کہا:
"کیا؟ تمہیں کچھ بھی نہیں دیا جاتا؟ کمال ہے! میں تو تم سے مذاق کر رہا تھا، تمہیں سبق سکھا رہا تھا! یہ لو، تمہارے اصل اسی روبل، جو میں نے تمہارے لیے لفافے میں رکھے تھے!"
میں نے رقم اس کے حوالے کی اور مزید کہا:
"لیکن کیا تم اتنی بے بس ہو؟ تم نے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ تم خاموش کیوں رہیں؟ کیا دنیا میں ایسا ممکن ہے کہ تم اپنا حق مانگنے سے بھی قاصر ہو؟ کیا تم واقعی اتنی بے بس ہو؟"
یولیا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"ہاں، ایسا ممکن ہے۔"
میں نے اسے بغور دیکھا، پھر سوچنے لگا: کتنا دردناک ہے اس دنیا میں کمزور ہونا!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🔷 سونا اور سنار 🔷
ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں
اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں
اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا
نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا
آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے آج کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے 1 تولہ سونے کی قیمت 180000 رپے ہے، یعنی
ایک ماشے کی اندازہ قیمت15000 روپے ھے آج کل
یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 45000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے
اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو
ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے
پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے
قیراط
قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ھے۔
تقریبا سو فیصد خالص سونا 24 قیراط ھوتا ھے جتنے قیراط کم ھوں گے مطلب اتنی اس سونے میں ملاوٹ شامل ھے
ویسے یہ 99.99 ٪ خالص ہوتا ھے۔
12 قیراط مطلب 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط 75 فیصد خالص اور 25 فیصد ملاوٹ ھے۔
قیراط کمیت (وزن) کے پیمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ھے
ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں ناپا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل بات کی جانب کہ جب آپ سونا بنواتے / خریدتے ہیں تو
سنیارے عام طور پہ 15 یا 18 قیراط سونا بنا کے دیتے ہیں اور پاکستان میں چند ایک بڑے جیولرز کو چھوڑ کر کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین نہیں ہیں
22 قیراط بس کراچی میں ایک 2 جیولرز بنا کے دیتے ہیں
اگر سنیارے نے آپ کو 18 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس نے سونے میں 25 فیصد ملاوٹ کی ھے
مطلب اگر ایک تولہ زیور بنا کر دیا ھے تو مثلا ایک تولہ ایک لاکھ اسی ہزار کا ھے تو سنیارا آپ کو 135000 کا سونا دے کر ریٹ 180000 روپے لگا رھا ھے
اسی طرح اگر سنیارے نے آپ کو 21 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ زیور آپ کو 158000 کا دے رھا جبکہ قیمت آپ کو 180000 سونے کی لگا رھا ھے
سیدھی سے بات ھے کہ ایک تولہ زیور ملاوٹ کر کے آپ کو بس 135000 سے158000 کا دیں گے اور قیمت پورے تولے کی 180000 لگائیں گے
دوسرا داو ان کا پالش کے نام پہ ھوتا ھے ایک آدھ ماشہ الگ سے لگا لیں گے کہ اتنا ہمارا سونا زیور بناتے ھوئے ضائع ھو گیا ھے جس کی ایک تولے کے پیچھے قیمت 9000 سے 10000 ھو گی
یاد رھے کہ سنیارے کی دوکان کا کوڑا بھی لاکھوں میں بکتا ھے اور ان کا کچھ ضائع نہی ھوتا
آخر پہ انہوں نے مزدوری ڈالی ھوتی ھے
آپ کے بہت زیادہ اصرار پہ آپ کو مزدوری کا 2000 سے 4000 چھوڑ کر آپ پہ بہت بڑا احسان کریں گے اور کہیں گے آپ نے ہمیں بچنے کچھ نہیں دیا اور یہ مزدوری بس آپ کو چھوڑ رھے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہمارا دوسری یا تیسری نسل سے تعلق ھے بلا بلا بلا بلا
سونا بیچتے وقت سونے کی ڈلی بنوائیں (وہ بھی اعتماد والے بندے سے ۔ رعایت خیر وہ بھی نہیں کرتا) مطلب ملاوٹ نکال دی جاتی ھے اور خالص 24 قیراط سونا رہ جاتا ھے
پھر اس ڈلی یعنی خالص 24 قیراط سونے کو اس دن کے سرکاری ریٹ پہ بیچیں
ورنہ آپ کو بہت بڑا چونا لگ جائے گا
زیور بنواتے وقت پہلے طے کریں کہ سونا 24 قیراط یا 21 قیراط بناو گے 18 یا 15
جتنا خالص وہ سونا بنائے اس حساب سے 15، 18 یا 21 قیراط کے مطابق قیمت دیں نا کہ 24 قیراط کی قیمت ادا کریں
ساتھ دھمکی دیں کہ میں ابھی اسے مشین پہ چیک بھی کرواوں گا کہ یہ 15، 18 ھے یا 21 قیراط
اور وقت یا سہولت میسر ھو تو اس کو مشین پہ چیک بھی کروا لیں کے کتنے قیراط بنا اور آپ نے کتنے قیراط کے حساب سے قیمت ادا کی
میری ان سب باتوں سے ہو سکتا ہے چند دوست ناراض ہوں لیکن میرا بتانا فرض تھا تاکہ لوگ Educate ہوں
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے ساری انگلیاں برابر نہیں چند ایک اچھا کاروبار کرنے والے بھی ہوں گے لیکن میرے خیال میں ان کی تعداد شاید 1 فیصد سے زیادہ نا ہو۔۔
Copied...
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5830
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🌹 زینب المعروف ماری کولی کوفسکی 🌹
یہ ایک حیرت انگیز اور سچی کہانی ہے۔ جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہیں سنی ہوگی۔ یہ کہانی ایک آسٹریائی اداکارہ ماری کولی کوفسکی کی ہے، جس نے فلم "قندیل ام ہاشم" میں شکری سرحان کی محبوبہ کا کردار ادا کیا تھا جب وہ میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے جرمنی گیا تھا۔
ماری ایک منتشر خاندان میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کا والد اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور اس کی ماں بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ نتیجتاً، ماری اور اس کے بہن بھائیوں کی زندگی برباد ہو گئی۔ اس کے بہن بھائیوں نے آسان راستہ اختیار کیا اور ناجائز کاموں میں ملوث ہو گئے، لیکن ماری نے کوشش کی کہ وہ خود کو محفوظ رکھے اور جائز طریقے سے زندگی بسر کرے۔ اس نے ایک کیفے میں ویٹریس کا کام شروع کیا۔
ایک دن ایک پروڈیوسر نے اسے دیکھا اور اسے چھوٹے چھوٹے کرداروں میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ اس طرح وہ جرمنی اور آسٹریا میں بطور اضافی کردار کام کرنے لگی۔
جب فلم "قندیل ام ہاشم" کی شوٹنگ کے لیے ٹیم جرمنی پہنچی، تو انہیں ایک جرمن اداکارہ کی ضرورت تھی جو کم خرچ ہو۔ ماری نے اس کردار کے لیے آڈیشن دیا اور منتخب ہو گئی۔
فلم کی کہانی سن کر، ماری نے سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور اہلبیت علیھم السلام کے بارے میں سوالات کیے۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں نے انہیں ان کی پاکیزگی اور نیکی کے بارے میں بتایا۔ ماری اس سے بہت متاثر ہوئی اور اس کی روح کو سکون ملا۔
جب فلم کی شوٹنگ ختم ہوئی تو ماری نے اپنی باقی زندگی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے قدموں میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی جمع پونجی سے مصر کا ٹکٹ خریدا اور قاہرہ پہنچ گئی۔ (مصر میں بھی بیبی زینب سلام اللہ علیہا کا مقبرہ بتایا جاتا ہے۔)
وہاں پہنچ کر اس نے سب سے پہلے سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کا رخ کیا۔ چونکہ وہ عربی نہیں جانتی تھی، اس لیے مقامی لوگوں نے اس کی مدد کی اور اسے معروف اداکار عبد الوارث عسر کے پاس لے گئے جو فلم میں بھی شامل تھے۔
عبد الوارث عسر نے اسے دل سے خوش آمدید کہا اور جب ماری نے اپنے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی تو وہ اسے دار الافتاء لے گئے، جہاں مفتی مصر احمد عبد العال ہریدی نے اس کا اسلام قبول کیا اور اس کا نام "زینب الحسین علی" رکھا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد، زینب نے قرآن پاک کا جرمن ترجمہ پڑھنا شروع کیا اور روتی رہی۔ اس نے عبد الوارث عسر سے حج پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ عبد الوارث نے اس کے لیے حج کا انتظام کیا اور محمد توفیق اور ان کی اہلیہ کے ساتھ سفر کرنے کا بندوبست کیا۔
زینب نے حج کے مناسک سیکھنے میں اپنا وقت گزارا اور آخر کار حج کے لیے روانہ ہو گئی۔ حج کے دوران، محمد توفیق کی اہلیہ نے بتایا کہ زینب کو کسی قسم کی تھکان محسوس نہیں ہو رہی تھی اور وہ ہمیشہ ان سے آگے ہوتی تھی۔
حج کے بعد، وہ مدینہ منورہ گئیں اور جب وہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچیں، تو زینب کا چہرہ چمکنے لگا۔ انہوں نے قرآن پاک کو اپنے سینے سے لگایا اور بلند آواز میں کلمہ شہادت پڑھا اور اسی لمحے وفات پا گئیں۔
زینب کو مدینہ میں جنت البقیع میں دفنایا گیا۔
منقول۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/5828
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
🔷 جانور فطرت انسان 🔷
گدھ اور کوا بھی گوشت خور ہوتے ہیں. لیکن ہم گوشت پوست کے بنے انسان ان سے نہیں ڈرتے. کیونکہ یہ آپ کو تب ہی اپنی خوراک بنا سکتے ہیں جب آپ زندہ نہ ہوں. آپ اگر زندہ ہیں تو پھر کیا ڈر.؟ زندہ لوگ اسی لئے ان سے نہیں ڈرتے.
کچھ لوگ کتوں سے ڈرتے ہیں. ماہرین کہتے ہیں کتا اگر آپ پر بھونکنا شروع کردے تو سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں. کتے کو سخت نظروں سے دیکھیں. اس کیلئے یہی کافی ہے. لیکن اگر آپ کی جسامت کم ہے تو جھک کر کوئی کنکر پتھر اٹھا لیں.
بھوکا بھیڑیا بھی بڑا خطرہ ہے. لیکن اس سے بھی بھاگنا نہیں چاہئے. کیونکہ بھیڑیا بڑا شاطر جانور ہے. اسے پتہ ہے یہ آپ سے جنگ کر کے نہیں جیت سکتا اس لئے یہ چاہتا ہے آپ خوف کے مارے دوڑ لگا لیں. بھاگتے ہوئے انسان کا دفاع پھر کمزور ہو جاتا ہے. وہ دوڑے گا یا لڑے گا.؟ ایک وقت میں تو ایک ہی کام ہو سکتا ہے.
شیر کیلئے بھی ماہرین حیوانات کہتے ہیں دوڑنا نہیں. کیونکہ آپ شیر چیتے کو دوڑ میں ہرا نہیں سکتے. آپ نے صرف ان کو یہ باور کرانا ہے کہ آپ ان کیلئے خطرہ نہیں. ماہرین البتہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شیر پھر بھی نہ مانے تو آپ کو اپنی گردن بچانی ہے.
🔘 آپ کے آس پاس جیسے یہ جنگلی جانور پرندے ہوتے ہیں ایسے ہی ان مردار خور اور گوشت خور جانوروں کی فطرت کے انسان بھی ہوتے ہیں. کچھ گدھ نما ہوتے ہیں. یہ انتظار کرتے ہیں کب آپ زندگی سے مایوس ہوتے ہیں. کچھ کتوں کی فطرت کے ہوتے ہیں تو کچھ بھیڑئے شیر بھالو ہوں گے.
لیکن ڈر کر بھاگنا کوئی حل نہیں. کسی کیلئے بھی نہیں. آپ یا تو وہ راستہ جگہ ہی چھوڑ دیں جہاں اس فطرت کے انسان ہوتے ہیں یا ڈر نکال کر ان کو باور کرادیں آپ زندہ بھی ہیں لڑ بھی سکتے ہیں اور بلاوجہ آپ کسی کیلئے کوئی خطرہ بھی نہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 282
📜 السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ
📜 صبحكم اللہ بالخير والإخلاص
💚 آج کا دن ➖ جمعة المبارک
☀ 07 فروری 2025 عیسوی
🌙 08 شعبان المعظم 1446 ھجری
⭐ 26 ماگھ 2081 بکرمی
■ جمعہ کے اذکار
1۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ 100 مرتبہ۔
2۔ یا نور 256 مرتبہ۔
3۔ یا ذاالجلال والاکرام 1000 مرتبہ
🔷 جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالٰی اُس کے ایمان کو کامل کر دے تاکہ وہ سچا مؤمن بن جائے تو وہ اُن شرائط کو پورا کرے جو خداوندِ متعال نے مؤمنین کیلئے قرار دی ہیں اللہ تعالٰی نے اپنی ذات، اپنے رسول اور آئمہ علیہم السّلام کی ولایت کے ساتھ ساتھ اُن پر شرط رکھی ہے کہ وہ نماز قائم کریں، زکات دیں اور اللہ تعالٰی کو اچھا قرض دیں (یہ کنایہ ہے ناداروں کو قرض دینے سے) اور بُرے اور قبیح کاموں سے اجتناب کریں خواہ وہ آشکار ہوں یا پنہاں۔ (الإمام الصادق عليه السلام، 📚 الكافي ٨-٢)
🤲 اے خداوند متعال ہمارے ایمان کو کامل فرما اور ہمیں سچا مؤمن بننے کی توفیق عطا فرما، اے پروردگار ہمیں نماز پڑھنے اور باقی واجبات ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، ہمیں وسیع مال و دولت عطا فرما اور ہمیں حرام کاموں سے محفوظ فرما، ہماری دلی دینی و دنیاوی جائز خواہشات و حاجات کو پورا فرما۔ اللھم عجل لولیک الفرج۔
آمین یارب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام
📜 التماس دعا:
📜 سید سجاد حسین ھمدانی 📜
