ISLAM WITH EMAN
الذهاب إلى القناة على Telegram
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات... ایڈمن سے رابطہ کیلئے: @syedsajjadhamdani
إظهار المزيد1 285
المشتركون
لا توجد بيانات24 ساعات
-67 أيام
-730 أيام
أرشيف المشاركات
1 285
ذیابیطس کی اصل وجہ لبلبے میں جمی چکنائ!
کیا وجہ ہے کہ میڈیکل سائنس اب تک اس کی دوا نہ بنا پائ؟
ہم سب نے ہمیشہ یہ سنا ہے کہ لبلبہ صرف انسولین بنانے والا ایک غدود ہے۔
جب یہ انسولین صحیح مقدار میں نہ بنائے تو انسان ذیابیطس کا مریض بن جاتا ہے اور پھر ساری زندگی گولیاں یا انسولین کے انجیکشن پر گزارنی پڑتی ہے۔ لبلبہ صرف انسولین بنانے والا غدود نہیں بلکہ ہاضمے اور توانائی کا مرکز ہے۔
لبلبہ کے پوشیدہ فرائض
یہ صرف انسولین بنانے والی مشین نہیں!
بلکہ یہ پورے جسم کے میٹابولزم اور ہاضمے کا بادشاہ ہے۔
انسولین کے ساتھ ساتھ گلوکاگن بھی بناتا ہے جو خون میں شوگر کو بڑھاتا ہے۔
سومیٹوسٹیٹن اور پولی پیپٹائیڈ جیسے ہارمونز خارج کرتا ہے جو ہارمونز کے پورے نظام کو بیلنس رکھتے ہیں۔
لبلبہ روزانہ ہاضمی رس تیار کرتا ہے جو کھانے کو پروٹین، چربی اور کاربوہائیڈریٹس میں توڑتا ہے تاکہ جسم اسے جذب کر سکے۔
یہ معدے کی تیزابیت کو نیوٹرلائز کرتا ہے تاکہ آنتیں جل کر خراب نہ ہوں۔
یعنی! لبلبہ ایک ایسا کارخانہ ہے جو 24 گھنٹے کام کرتا ہے اور جسم کو طاقت دیتا ہے۔
سوال یہ ہے: پھر لبلبہ ناکارہ کیسے ہوا؟
حقیقت یہ ہے کہ لبلبہ کبھی بھی مکمل طور پر ناکارہ نہیں ہوتا۔
یہ بس ایک فنکشنل خرابی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کوئی مشین چلتی تو ہے مگر کسی پرزے میں رکاوٹ آ جائے۔
تو کیا مشین کو کباڑ خانے میں پھینک دیا جاتا ہے؟
نہیں! ہم پرزہ درست کرتے ہیں اور مشین دوبارہ پہلے کی طرح کام کرنے لگتی ہے۔
اسی طرح لبلبہ کو بھی درست کیا جا سکتا ہے۔
اسے ہمیشہ کے لیے "مردہ" قرار دینا ظلم ہے۔
یہاں تک کی تحریر
بشکریہ طبیب احسان الہی ظہیر ( مطب کامل )👆👆👆
اب آجائیے جدید تحقیق کی جانب👇👇
جدید تحقیق کے مطابق لبلبہ ناکارہ نہیں ہوتا بلکہ ایک خاص قسم کی چکنائ جس کو Ceramide کہا جاتا ہے وہ لبلبے میں جم جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی نالیاں کلی یا جزوی طور پر بند ہوجاتی ہیں اور اس سے خارج ہونے والی انسولین اور ھارمونز درست مقدار میں خون میں شامل نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے ذیابیطس کا مرض ہوجاتا ہے۔ اب اگر کسی علاج سے لبلبے میں جمے سیرامائڈ کو نکال دیا جائے تو لبلبہ کی نالیوں کی رکاوٹ ختم ہو کر مریض پہلے کی طرح صحتمند اور نارمل ہوجائے گا۔
حیرت اس بات کی ہے کہ میڈیکل سائنس کرشمہ ساز ترقیوں اور حیران کن ادویات کی ایجاد کے باوجود اب تک لبلبے میں جمی اس سیرامائڈ کا علاج دریافت نہیں کرسکی ہے۔ ایک طرف یہ حال کہ مصنوعی خون بنایا جارہا ہے اور انسان کو سور کا دل لگانے کے کامیاب تجربات کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف لبلبے میں جمی سیرامائڈ کے بارے میں بس تین چار سال سے یہی پیشرفت ہے کہ لیبارٹری میں چوہوں پر کامیاب تجربات ہوچکے ہیں اور بہت جلد ذیابیطس کی ویکسین مارکیٹ میں آجائے گی جس کے بعد یہ مرض ایک قصہ پارینہ بن جائے گا۔ لیکن یہ خواب حقیقت بن کے نہیں دے رہا!
کیا اسٹیم سیل تھراپی کسی طرح لبلبلے کی بحالی میں مدد دے سکتی ہے؟ اب یہ تو کوئ اسٹیم سیل تھراپی کا ماہر ہی بتا سکتا ہے؟ ریسرچ تو یہی بتاتی ہے کہ ذیابیطس والے لبلبہ کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کئی دستیاب آپشنز ہیں جن میں pluripotent ES/iPS خلیات، بالغ اسٹیم سیلز اور VSELs شامل ہیں۔ VSELs دوسروں پر برتری رکھتے ہیں کیونکہ یہ بالغ لبلبہ میں pluripotent اسٹیم سیلز ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بہت مہنگا اور کم دستیاب طریقہ علاج ہے جس کے حتمی نتائج کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
ہومیو میں مختلف ادویات ہیں مگر ان سے شوگر ریورس ہی ہوتی ھے یا آجکل ایسے بہت سے ڈائٹ پلان آگئے ہیں کہ ڈائٹ اور لائف اسٹائل تبدیل کرنے سے شوگر ریورس کی جاسکتی ہے لیکن پھر پرہیز اور لائف اسٹائل سے اس کو برقرار رکھنا پڑتا ھے۔ شوگر مکمل ختم تو نہیں ہوتی اور جہاں بدپرہیزی ہوئ شوگر دوبارہ خطرے کا الارم بجانے لگتی ہے۔ تو پھر یہ علاج تو نہ ہوا کہ مریض ساری زندگی سخت پرھیز کرنے کے بعد اپنا HbA1C برقرار رکھنے کو ہی کامیابی سمجھتا ہے جبکہ اس کا وزن اور مجموعی صحت قابل رحم ہوجاتے ہیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈرگ مافیا دنیا کی سب سے طاقتور مافیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر لبلبے کی ویکسین کو مارکیٹ میں نہیں آنے دے رہے کیونکہ دنیا بھر کی فارما کمپنیاں شوگر کی ادویات سے سالانہ اربوں ڈالرز کماتی ہیں تو وہ کیسے لبلبے کی ویکسین کو مارکیٹ میں آنے دیں گی جو اس مرض کا مکمل شافی علاج ہوگی۔ البتہ اتنی پیشرفت ضرور ہوئ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو دن میں روزانہ دوتن بار ادویات لینا پڑتی تھیں مگر اب کچھ ادویات ایسی متعارف کروائ گئ ہیں جو ھفتے میں صرف ایک گولی لینے سے ایک ھفتے تک جسم میں شکر کی نارمل سطح برقرار رکھتی ہیں اور روزانہ دوا لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس میں Getz فارما کی Trelaget قابل ذکر ہے۔
واللہ اعلم!
1 285
*کیکر کی پھلی کا نسخہ*
کیکر کی پھلی کا قیمتی نسخہ بس ایک چٹکی کھالیں زندگی بھر دعا دوگے،
طریقہ استعمال-
کیکر کی پھلی کاایک بہت کارآمد اور اثر دار نسخہ بتاؤں گا۔ اس علاج کو چند دن استعمال کرنے سے گھٹنوں سے چکناہٹ کی کمی، جوڑوں کا درد، کمرمیں مہروں کا درد، جسم اور ہڈیوں میں درد اور جوڑوں سے ٹک ٹک کی آوازیں آنا۔ انشاءاللہ یہ تمام تر تکالیف ختم ہوجائیں گیں۔ اس کے علاوہ یہ نسخہ مردوں اور خواتین کی پوشیدہ کمزوری کے لیے بے حد ضروری ہے ۔
اس کے علاج کے استعمال سے خواتین کو تھکاوٹ اورسستی نہیں ہوتی۔ آئیے جانتے ہیں اس نسخے کو بنانے اور استعمال کرنے کا آسان طریقہ۔ کیکر کا درخت جسے ببول کا درخت بھی کہتے ہیں۔یہ ہمارے ارد گر د سڑکوں کے کنارے پاس اور کھیتوں میں ہرجگہ موجود ہوتا ہےاس درخت کی چھال اس کے پتے اس کی گوند اور اس کی پھلی دار بیج ہر چیز میں ہمارے جسم کی بہت سی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ لیکن آج ہم جانیں گے کیکر کی پھلی کا ایک بہت زبردست استعمال ھوالشافی۔۔ کیکر سے ان پھلیوں کو توڑ لیں۔ اور ان کو سائے میں خشک کرلیں۔ جب پھلیاں خشک ہوجائیں تو ان کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔ اور کسی ہوا بند جار میں محفوظ کرلیں۔ آپ اس سفوف کو استعمال کرنے کے دوطریقے ہیں۔
اگر آپ کے جسم میں کسی بھی حصے میں درد ہوتو جیسا کہ جوڑوں کادرد ہو، ہڈیوں کادرد ہو، کمرکا درد ہو، گھٹنوں کا تکلیف کا ، ہڈیوں کا کوئی بھی مسئلہ ہو تو صبح اور شام ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ کیکر کی پھلی کا سفوف اور ایک چمچ شہد ملا کر استعمال کریں ۔ آپ کی ہڈیوں کی کمزور اور خشک جوڑ اور جوانی جیسے لیسدار اور مضبوط ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ اگر آپ پوشیدہ کمزوری کا شکا ر ہیں۔ چاہےتو وہ مرد اور یا عورت۔ انہیں چاہیے کہ پچاس کیکرکےپھلی کے پاؤڈر میں بیس گرام مصری ملاکر مکس کرلیں ۔ اب اس سفوف کو صبح اور شام ایک گلاس نیم گر م پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
میرے ایسے بہن بھائی جن کے سپرمز مرچکے ہیں یا پھر کمزور ہیں۔ اس طریقہ علاج سے انشاءاللہ شفاء ہوگی ۔ مگر یاد رکھیں اس علاج کو بیس سال کے بعد ہی استعمال کریں ۔ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو مصری اور شہد کے بغیر استعمال کریں۔ اس کے علاوہ اس علاج کا کوئی نقصان نہیں۔
*❣ﺧَﻴﺮُﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻣَﻦ ﻳًﻨﻔَﻊُ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ❣*
1 285
ڈاکٹر مصطفی محمود لکھتے ہیں:
تم قبر میں ہزاروں سال تک کیا کرو گے؟
میں تمہیں ایک طریقہ بتاتا ہوں جو میرے ساتھ بہت کارآمد ثابت ہوا اور جس سے میں اپنے اللہ سے تعلق پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے لگا ہوں۔
قبر خوفناک ہے، ظاہر ہے کہ نیک لوگوں کے علاوہ۔
میں نے اس کے بارے میں سوچا، اور اب میری عمر 54 سال ہے، اور میں دنیا سے اور اس کی چیزوں سے تنگ آ چکا ہوں۔ اچھا، تو جب میں قبر میں جا کر اکیلا رہوں گا، سینکڑوں ہزاروں سال تک، تو میں کیا کروں گا؟
کیا تم نے کبھی اس کا تصور کیا ہے؟
اس لیے میں نے مندرجہ ذیل طریقے پر عمل کرنا شروع کیا:
دیکھو میں مر جاؤں گا، اور میرے پاس ایک خالی، بالکل تاریک قبر ہوگی۔
اس قبر کو سامان کی ضرورت ہوگی، لہٰذا میں ہر استغفار کو تصور کرنے لگا جیسے میں اسے اپنے قبر کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ وہاں میرا انتظار کرے اور میرے تنہائی کا ساتھی بنے۔
اللہ کی قسم، میں مذاق نہیں کر رہا۔
میں نے اپنی قبر کو مکمل ڈیکوریٹ کر دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
قبر کے ایک کونے کو میں ہزاروں تسبیحات سے بھر رہا ہوں۔
یہاں میرے سر کے قریب کم از کم 300 ختم قرآن ہوں گے جو میرے لیے آرام دہ بستر کا سبب بنیں گے۔
ہر رکوع کو میں یہ تصور کر کے ادا کرتا ہوں کہ میں اسے قبر میں اپنا ذخیرہ بنا رہا ہوں۔
ہر کوئی مجھے چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلا جائے گا، اور میں اکیلا رہ جاؤں گا شاید ہزاروں سالوں تک۔ میرے بچے چند سالوں میں مجھے بھول چکے ہوں گے۔
لہذا، مجھے قبر میں ساتھیوں، روشنیوں، اور جنت کے جیسے مناظر کی ضرورت ہوگی۔
میں تسبیحات، ذکر، قرآن، نماز اور صدقہ سب کو اپنے ساتھ تصور کرتا ہوں کہ وہ میرے دوست ہوں گے، میرے ساتھ وہاں ہنس رہے ہوں گے اور باتیں کر رہے ہوں گے۔
نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا میں نے اپنے معمولات کا ایک اہم عمل بنا لیا ہے، یہ وہاں ہماری محفلوں میں بھی شامل ہوگا ٹھنڈے پانی کی طرح، خوبصورت لباس کی طرح۔
میں یہ چاہتا ہوں کہ میری قبر کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے بھی زیادہ خوبصورت زندگی ہو۔ ان شاء اللہ۔
کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں وہاں جا کر غیبت، چغلی، حسد اور دیگر دنیاوی گناہوں کے نتیجے میں بدبو دار کپڑوں، دیمک لگے فرنیچر اور سخت پتھریلے بستر کے بجائے اپنی قبر کو بہترین چیزوں سے آراستہ کروں۔
میں نے دنیا میں اپنا گھر بنانے کے لیے ساری زندگی جان توڑ محنت کی لیکن یہ گھر تو میرے ورثاء کا ہوجائے گا، اصل میں تو میری ساری محنت اپنے لیے ہے ہی نہیں، سارے فائدے تو اور لوگ اٹھائیں گے۔ تو میں نے سوچا کہ بس بہت ہوگیا ہے، مجھے اپنا گھر بنانا ہے جہاں صرف میں ہی ہوں گا اور ایک طویل عرصہ گزارنا ہے۔
اگر میرے تمام اعمال دنیا کی ضروریات کے لیے تھے اور اپنی قبر کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، تو پھر تو میرے قبر والے گھر کے لیے سوائے عذاب کے فرنیچر، مستقل اندھیرے، اور سخت حساب کے کچھ بھی نہ ہوگا۔ اور میں ایسے گھر میں اکیلا کیسے رہوں گا!
میری آپ کو بھی نصیحت یہ ہے کہ آج سے:
اپنی قبر کو اپنا بینک اکاؤنٹ بناؤ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ڈپازٹ کرو اور لانگ ٹرم والی پالیسی لو۔
اپنی عبادات کا خوب خیال رکھو۔ اللہ کی قسم، جب تم قبر میں ہوگے، تو تم مجھے وہاں سے بھی شکریہ ادا کرو گے۔
اپنی قبر کے گھر کا اس دنیا کے گھر سے زیادہ خیال رکھو۔
ابھی تم اپنے گھر والوں کے درمیان ہو، پہن رہے ہو، کھا پی رہے ہو، آرام سے گھر والوں کے درمیان سو رہے ہو، اور تمہیں تمہاری تمام ضروریات میسر ہیں، پھر بھی تم اپنے حالت سے نالاں رہتے ہو، ہر وقت کوئی نہ کوئی شکایت کرتے رہتے ہو۔
تو سوچو جب تم زمین کے نیچے ہوگے اور سینکڑوں ہزاروں سالوں کے لیے ہوگے تو وہاں تمہارے ساتھ کون ہوگا؟
تمہارے پسندیدہ سیاستدان، کھلاڑی، اداکار، تاجر۔۔۔۔۔ یہ تو تمہیں یہاں بھی نہیں جانتے اور نہ ہی انہیں تمہاری اتنی فکر ہے، تم ہی ان سب کے پیچھے بیوقوفوں کی طرح اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔
تمہارے وہ بچے جن کی شادیوں پر تم لاکھوں روپے فضولیات پر خرچ کردیتے ہو، یقین کرو یہ خرچ تمہارے لیے وبال بن چکا ہوگا، اور بچے مکر جائیں گے کہ ہمارے باپ نے اور ہماری ماں نے خود ہمارے لیے بھی اور اپنے لیے بھی مصیبت کھڑی کی ۔ اس لیے آج سے اپنی جان کی فکر کرواپنا خیال خود
اےاللہ ، ہمیں حسن خاتمہ عطا فرما۔
اے اللہ، ہماری آخرت کو بہتر بنا دے اور ہمیں قبر کے عذاب سے بچا۔
اے اللہ، ہمیں اپنا ذکر، شکر، اور حسن عبادت کی توفیق عطا فرما تاکہ تو ہم پر اپنی رضا اور جنت الفردوس میں نعمتیں نازل کرے، جہاں ہم تیرے نبی محمد ﷺ کی صحبت میں ہوں، جن پر بے شمار درود و سلام ہو۔
تو پھر اپنا گھر بنانا شروع کرو۔
کاپیڈ۔۔۔
1 285
#والدین کی قبروں کی برکت
اپنے مردوں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمھاری آمد سے خوش ہوتے ہیں اور اپنی حاجتیں اپنے والدین کی قبروں کے پاس جا کر مانگو۔
1 285
*بیجوں سے بادام کا درخت کیسے اگائیں؟*
مواد:
بادام کے بیج، پانی، برتن، مٹی، کاغذ کے تولیے۔
مراحل:
1. بیج تیار کریں:
بادام کو 24 گھنٹےگرم پانی میں بھگو دیں۔
انہیں نم کاغذ کے تولیےمیں رکھیں اور 4-6 ہفتوں کیلئے فریج میں رکھیں۔
2. انکرن:
جڑیں ظاہر ہونے کےبعد، بیجوں کو مٹی کےساتھ برتن میں لگائیں۔
3. دیکھ بھال:
برتن کو دھوپ والی جگہ پر رکھیں، باقاعدگی سے پانی دیں، اور مہینے میں ایک بار کھاد ڈالیں۔
مشورہ:
سردیوں میں جوان درخت کو ٹھنڈ سے بچائیں،
اب صبر کریں، کیونکہ درخت کو بادام پیدا کرنے میں چند سال لگ سکتے ہیں!
اپنے ہی بادام کا درخت اگائیں اور گھر پر تازہ بادام کا لطف اٹھائیں!
1 285
*Aloe Vera /کوار گندل / صبر سقاری*
صبر (Aloe Vera / صبر سقاری) ایک مشہور جڑی بوٹی ہے جو دنیا بھر میں علاج اور خوبصورتی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے پتے لمبے، گداز اور کانٹے دار کناروں والے ہوتے ہیں جن کے اندر جیل جیسا مادہ پایا جاتا ہے۔
⚕️ فوائد (خواص)
ہاضمہ کے لیے:
قبض دور کرتا ہے (ہلکا سا جلابی اثر رکھتا ہے)
معدہ کی گرمی اور تیزابیت کو کم کرتا ہے۔
جلد کے لیے:
جلنے، کٹنے اور زخموں پر لگانے سے فوراً سکون ملتا ہے۔
کیل مہاسے اور جھریوں کے علاج میں مفید۔
جلد کو نرم و ملائم اور چمکدار بناتا ہے۔
بالوں کے لیے:
سر کی خشکی ختم کرتا ہے۔
بالوں کو مضبوط اور گھنا کرتا ہے۔
خون کی صفائی:
زہریلے مادے (Toxins) خارج کرتا ہے اور خون صاف کرتا ہے۔
دیگر فوائد:
شوگر میں مفید (خون میں گلوکوز لیول کم کرنے میں مددگار)۔
قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔
جوڑوں کے درد اور سوزش میں آرام دیتا ہے۔
🧴 استعمال کے طریقے
1. اندرونی استعمال (پینے کے لیے)
جیل کا رس (Aloe Vera Juice):
صبح نہار منہ 2 سے 3 چمچ ایلوویرا جیل پانی یا شہد میں ملا کر پی لیں۔
➝ فائدہ: قبض، معدے کی گرمی، شوگر اور جسم کی صفائی۔
صبر سقاری (خشک ایلوویرا):
ایلوویرا کے پتے کا گودا خشک کر کے پاؤڈر بنالیں۔
1 سے 2 گرام نیم گرم پانی کے ساتھ کھائیں۔
➝ فائدہ: قبض کشا، بھوک لگانے والا۔
2. بیرونی استعمال (جلد و بالوں کے لیے)
جلد پر جیل لگائیں:
➝ کیل مہاسے، جھلسنے یا خشکی میں فائدہ۔
بالوں میں لگائیں:
➝ سر کی خشکی دور کرتا ہے اور بال مضبوط بناتا ہے۔
⚠️ احتیاط
زیادہ مقدار میں کھانے سے پیٹ میں درد یا زیادہ جلاب ہوسکتا ہے۔
حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
شوگر کے مریض باقاعدگی سے دوا استعمال کرنے کی صورت میں ڈاکٹر/حکیم سے مشورہ کریں، کیونکہ یہ شوگر کو مزید کم کرسکتا ہے۔
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/7011
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
زندگی کے لیے پانی کیوں ضروری ہے۔۔۔ پانی میں ایسا کیا ہے کہ اس کے بغیر زندگی وجود میں نہیں آ سکتی؟
پانی زندگی کے لیے *انتہائی بنیادی اور ضروری عنصر* ہے۔ اس کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے چند سادہ مگر گہرے نکات:
1. *جسم کا بڑا حصہ پانی ہے:*
انسانی جسم کا تقریباً *60-70٪ حصہ پانی پر مشتمل* ہوتا ہے۔ دل، دماغ، پھیپھڑے، گردے اور خون — سب میں پانی بڑی مقدار میں موجود ہے۔
2. *خلیوں (Cells) کی بنیادی ضرورت:*
ہر خلیہ (cell) کو زندہ رہنے، توانائی حاصل کرنے اور اپنا کام کرنے کے لیے پانی چاہیے۔ بغیر پانی کے خلیے *خشک ہو کر مر جاتے ہیں*۔
3. *نظامِ ہضم (Digestion) کے لیے:*
کھانے کو ہضم کرنے، غذائی اجزاء کو خون میں جذب کرنے، اور فاضل مادوں کو خارج کرنے کے لیے پانی ضروری ہے۔
4. *درجہ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے:*
پانی جسم کا درجہ حرارت *پسینے کے ذریعے کنٹرول* کرتا ہے، جو جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔
5. *گردوں اور جگر کی صفائی:*
پانی گردوں اور جگر کو *زہریلے مادے خارج کرنے میں مدد* دیتا ہے۔ پانی کی کمی سے یہ اعضا ٹھیک کام نہیں کرتے۔
6. *زندگی کی ابتداء پانی سے:*
سائنس کے مطابق زمین پر زندگی کی شروعات پانی میں ہوئی، اور آج بھی *تمام جانداروں کی زندگی پانی پر منحصر* ہے۔
خلاصہ:
پانی کے بغیر *خلیے مردہ، جسم ناکارہ، اور نظام زندگی مفلوج* ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں بھی پانی کو "ہر جاندار کی زندگی کی بنیاد" قرار دیا گیا ہے:
*"اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا"*
(سورۃ الانبیاء، آیت 30)
پانی نہ صرف جسم، بلکہ *روح، فطرت، اور زمین کی زندگی* کا راز ہے۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
*کیا جادو حقیقت ہے؟*
کیا جادو حقیقت ہے یا صرف ایک سائنسی فریب؟
جادو، ایک ایسا لفظ جو صدیوں سے انسانوں کو مسحور اور حیران کرتا آیا ہے۔ ہم نے کہانیوں، فلموں اور ٹی وی شوز میں جادوگروں کو ایسی چیزیں کرتے دیکھا ہے جو ہمارے لیے ناممکن ہیں۔ لیکن کیا حقیقت میں ایسا جادو ممکن ہے؟ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟
سائنسی نقطہ نظر: جادو صرف ایک فریب ہے
سائنسدانوں اور ماہرین نفسیات کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ جادو حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ہاتھ کی صفائی (Sleight of hand) اور نفسیاتی فریب کا ایک فن ہے۔ جادوگر ہمارے دماغ اور ہماری توجہ کو دھوکا دیتے ہیں۔ یہ چند اہم طریقے ہیں جنہیں جادوگر استعمال کرتے ہیں:
ہاتھ کی صفائی (Sleight of Hand): یہ جادو کی بنیاد ہے۔ جادوگر اپنے ہاتھوں کی تیزی اور مہارت کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو غائب یا ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارا دماغ اس تیزی کو پکڑ نہیں پاتا، جس کی وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ یہ جادو ہے۔
نفسیاتی فریب (Psychological Misdirection): جادوگر جانتے ہیں کہ انسان کا دماغ ایک وقت میں صرف ایک چیز پر مکمل توجہ دے سکتا ہے۔ وہ ہماری توجہ کسی دوسری چیز کی طرف موڑ کر اپنا کام کرتے ہیں اور جب ہم دوبارہ دیکھتے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ کیسے ہو گیا۔
آپٹیکل الوژن (Optical Illusion): کچھ جادوگر روشنی، آئینے اور سائے کا استعمال کرتے ہوئے ایسے بصری فریب (Visual Illusions) پیدا کرتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے۔
کیمسٹری اور فزکس کا استعمال: بہت سے جادو کے کرتب حقیقت میں کیمسٹری اور فزکس کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دھواں پیدا کرنا، چیزوں کا رنگ بدلنا، یا کسی چیز کو فوری طور پر غائب کرنا۔
جادوگر اور سائنسدان: ایک جیسے لیکن مختلف
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جادوگر اور سائنسدان دونوں مشاہدہ، تجربے اور نتائج کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کا مقصد مختلف ہوتا ہے۔
جادوگر کا مقصد لوگوں کو حیران کرنا اور یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ یہ کوئی مافوق الفطرت (Supernatural) عمل ہے۔
سائنسدان کا مقصد مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر حقائق اور اصولوں کو جاننا اور سمجھنا ہوتا ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
ہاتھ کی صفائی اور فریب کو جادو کہا جاتا ہے، لیکن یہ کسی بھی طرح سے مافوق الفطرت قوتوں یا پوشیدہ طاقتوں کا استعمال نہیں ہے۔ جادو کا فن سیکھا اور سکھایا جا سکتا ہے، اور ہر کامیاب جادوگر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کے کرتب کے پیچھے ایک سائنسی وضاحت موجود ہے۔
جادو محض ایک دل لگی اور فن کا مظاہرہ ہے جو لوگوں کو خوشی اور حیرت میں ڈالتا ہے۔ یہ ایک پرفارمنگ آرٹ ہے جہاں جادوگر ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ دنیا میں ناممکن بھی ممکن ہے۔ آج کے دور میں، جادو ایک تفریحی فن ہے جو انسانی مہارت اور ذہانت کی ایک شاندار مثال ہے۔
اس لیے، جب اگلی بار آپ کوئی جادو کا کرتب دیکھیں، تو یاد رکھیں کہ یہ مافوق الفطرت نہیں بلکہ انسان کی فطری ذہانت اور مہارت کا کمال ہے۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
🔷 عورتوں میں سرویکل کینسر کی ویکسین 🔷
ایک عورت کی بچہ دانی کی نچلی طرف، بچہ دانی کا چھوٹا سا منہ ہوتا ہے، جو اندام نہانی (یعنی "وجائنا") میں کھلتا ہے۔ اس منہ کو یا بچہ دانی اور اندام نہانی کے درمیان یہ جو چھوٹا سا راستہ ہے، اسے "سروکس" بولتے ہیں۔ "سرویکل کینسر" جسم کے اسی حصے میں ہوتا ہے، یا اس کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں خواتین کو سب سے زیادہ ہونے والے کینسر میں سے سرویکل کینسر کا چوتھا نمبر ہے۔
اس کینسر کی وجہ (نوے فیصد سے زیادہ) ایک وائرس "ایچ پی وی" (پورا نام اردو میں لکھنا مشکل ہے) بنتا ہے۔
وائرل انفیکشنز سے بچاؤ کا سب سے اچھا طریقہ ویکسین ہے، سو اس وائرس کے خلاف بھی ویکسینز موجود ہیں۔ جو کہ اب پاکستان حکومت کی طرف سے چلنے والی مہم کے زیر اثر بچیوں کو لگانے کا پلان ہے۔
جس سے پھر سوشل میڈیا پر وہ طوفان شروع ہوگیا جو کسی بھی ویکسن کے آنے سے شروع ہوتا ہے، بلکہ پولیو ویکسین کی تو ہر مہم پر شروع ہوجاتا ہے۔
اس ویکسین کے لیے بھی لوگوں کے پاس وہی دلائل ہیں جو پولیو ویکسین کے لیے ہیں۔ جیسا کہ "یہ ہماری بچیوں کو بے اولاد کردے گا"۔ بلکل یہی الزام دہائیوں سے پولیو ویکسین پر لگایا جاتا ہے۔ ان عظیم لوگوں کو کوئی بتائے کہ پولیو ویکسین کے ہوتے ہوئے بھی ملک کی آبادی کتنے گنا بڑھ چکی ہے اور مزید کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ نیز دنیا اتنی فارغ نہیں کہ آپ کے ہونے والے بچوں سے ڈر کر سازشیں شروع کردے۔
بلکہ یہ ویکسن بچیوں کی جنسی صحت کے لیے ایک بہتر اقدام ہے۔ ویسے عام زندگی میں دیکھیں تو ہماری بچیاں کوئی بہت صحت مند زندگی نہیں گزار رہیں، ہوا اور پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی دیکھ لیں، یا فاسٹ فوڈ کا رحجان دیکھیں، یا پھر ذہنوں پر اثر کرتی ہوئی فضول ٹک ٹاک، یوٹیوب ولاگز اور ساس بہو کے ڈرامے۔ یہ اصل نقصاندہ چیزیں ہیں نہ کہ ویکسین۔
دوسری بات یہ اڑائی جا رہی ہے کہ "یہ ویکسین تو اصل میں ہم پر ٹیسٹ ہو رہی ہے کہ ٹھیک بنی بھی ہے کہ نہیں"۔ ان عظیم لوگوں سے یہ عرض ہے کہ یہ ویکسین 2006 سے مارکیٹ میں موجود ہے، اب جاکر کہیں پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک تک پہنچی ہے۔
تیسری بات یہ کہ جس وائرس کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ تو جنسی عمل سے پھیلتا ہے۔ تو جناب جنسی عمل دو لوگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ہم اپنی بچی کے کردار کی گارنٹی لیتے ہیں، مگر کیا اس کے ہونے والے شوہر کے ماضی اور حال کی بھی ؟
آغا خان یونیورسٹی کے مطابق 2023 کے ڈیٹا نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زیادہ خواتین کو سرویکل کینسر تشخیص ہوتا ہے اور تین ہزار سے زیادہ مر جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان میں سرویکل کینسر خواتین کو ہونے والا تیسرا بڑا کینسر ہے، جبکہ 15 سے 44 سال کی پاکستانی خواتین کو ہونے والا دوسرا بڑا کینسر ہے۔
گویا کہ سرویکل کینسر اور ایچ پی وی وائرس کا مسلہ تو پاکستان میں موجود ہے، اور بڑھ بھی رہا ہے۔ تو کیا ان فضول باتوں سے نکل کر اپنی پیاری بیٹیوں، بہنوں کی صحت کے لیے ایک اچھا قدم نہیں لینا چاہیے ؟
پھر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ویکسین میں پتہ نہیں کیا ڈالا۔ ایک آسان سی گوگل سرچ کرلیں "ایچ پی وی ویکسین" یا "ایچ پی وی ویکسین کمپوزیشن" آپکے سامنے اس کے اجزاء آجائیں گے۔ اور اگر آپ ان اجزاء کو بھی سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو مان لیں کہ آپ ان معاملات کو سمجھ نہیں سکتے مگر پھ بھی فضول کی مخالفت اور عداوت رکھ رہے ہیں۔۔۔
#وارث_علی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/7006
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🎅 سرشت 🎅
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں بندروں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ ان کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ اکثر بندر اور دیگر جانور بیمار ہو جاتے اور پھر علاج نہ ہونے کے باعث مر جاتے۔ یہ حالت دیکھ کر وہ بہت دل گرفتہ رہتے تھے۔
آخر ایک دن انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی خاندان کے کسی بندر کو شہر بھیجیں تاکہ وہ وہاں جا کر طب سیکھے، حکیم یا ڈاکٹر بنے اور واپس آ کر ہمارا علاج کرے۔ طویل مشاورت کے بعد ایک بندر کو منتخب کیا گیا اور اسے شہر بھیج دیا گیا۔
وہ بندر کئی برس تک ایک حکیم کے پاس تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس نے نہ صرف علاج کے نسخے یاد کیے بلکہ شہر کے تمام اطوار بھی سیکھ لیے۔ کچھ عرصے بعد اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ ڈاکٹر بن چکا ہے۔ تب وہ فخر سے اپنے جنگل واپس لوٹ آیا۔
کچھ دنوں بعد ایک دوسرے قبیلے کا بندر سخت بیمار پڑ گیا۔ اس کے ساتھی اسے فوراً نئے "ڈاکٹر بندر" کے پاس لے آئے اور کہا:
"ہمارے ساتھی کا علاج کرو، یہ بڑی تکلیف میں ہے۔"
ڈاکٹر بندر نے مریض کو دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے کہا:
"اوہو! یہ تو بہت خطرناک حالت میں ہے۔ بہت ہی ایمرجنسی صورتحال ہے۔ ایک لمحہ رکیے، میں فوراً علاج کرتا ہوں!"
یہ کہہ کر وہ اچانک ایک درخت پر چڑھا، زور سے چیخ ماری، پھر دوسرے درخت پر چھلانگ لگا دی۔ وہاں سے تیسرے درخت پر جا پہنچا۔ پھر چیختا ہوا واپس دوسرے درخت پر، وہاں سے پہلے پر اور دوسرے سے تیسرے پر۔ یوں وہ بار بار اچھل کود کرتا رہا۔
نیچے کھڑے باقی بندر حیران و پریشان یہ تماشا دیکھتے رہے کہ مریض کا علاج کرنے کی بجائے یہ ڈاکٹر مسلسل درختوں پر چھلانگیں لگا رہا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ بیمار بندر دم توڑ گیا۔
ڈاکٹر بندر فوراً نیچے اترا اور پوچھا:
"اب کیا حال ہے مریض کا؟"
انہوں نے غصے سے جواب دیا:
"مریض مر گیا! خاک تم نے علاج کیا؟"
ڈاکٹر بندر بڑے اعتماد سے بولا:
"ارے! مریض کی عمر ہی اتنی تھی۔ میں نے تو اپنی طرف سے پوری بھاگ دوڑ کی تھی۔ مگر جب زندگی ہی ختم ہو چکی ہو تو میں کیا کر سکتا ہوں؟"
😂😂🤡😂😂
🔘 اس لطیفے میں ایک سبق موجود ہے اور وہ یہ کہ کچھ لوگوں کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ چاہے وہ کتنی ہی تعلیم حاصل کر لیں یا معاشرے میں کتنا ہی مقام بنا لیں، آخرکار وہ وہی کرتے ہیں جو ان کی اصل سرشت اور کردار کے مطابق ہوتا ہے۔
http://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1 285
"ڈھکن تیار کرنے کی فیکٹریاں"
مجھے اب بھی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد چرب زبان موٹیویشنل اسپیکرز کو سنتی ہے۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انھیں بڑے بڑے انسٹیٹیوشنز میں بطور اسپیکر مدعو کیا جاتا ہے۔
جب کہ یہ لوگ سر سے پیر تک زبان ہی زبان ہیں۔ یہ کسی فیلڈ کے ایکسپرٹ نہیں۔ کوئی اسکلز نہیں جانتے۔ کوئی کمپنی، کوئی ادارہ build نہیں کیا۔ کسی اسٹارٹ اپ کے فاؤنڈر نہیں۔
پھر بھی لاکھوں لوگ انھیں بیٹھ کر سنتے اور اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔
آپ کسی وقت یوٹیوب پر بیٹھ کر انٹرنیشنل TED Talks سنیے تو آپ جانیں کوالٹی اور ٹیلنٹ کسے کہتے ہیں۔ وہاں اپنی فیلڈ کے ماہرین مدعو کیے جاتے ہیں، بڑے بڑے achievers اور Doers کو بلایا جاتا ہے۔ وہ اپنا سفر شئیر کرتے ہیں، چول پنے کے قصے کہانیوں کی بجائے اپنے رئیل ورلڈ experiences شئیر کرتے ہیں۔
پاکستانی قوم کی اکثریت سرے سے جانتی ہی نہیں کہ "ویلیو انفارمیشن" کسے کہتے ہیں۔
میری ایک نصیحت ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں۔
یہ نہ دیکھیں کہ کوئی بندہ کیا کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ یہ کیا کرچکا ہے۔ باتوں سے نہیں، کام سے متاثر ہونا سیکھیں۔
ان جیسے ٹین کے ڈبوں کو سن کر وقت برباد کرنے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مناسب سائز کے کریانہ سٹور کے مالک کے ساتھ بیٹھ جائیے۔ وہ کم سے کم مارکیٹ کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔ ایک مناسب سائز کا اسٹور کھڑا کرچکا ہے۔ اس کی چھوٹی ہی سہی پر ایک عملی اچیومنٹ ہے۔
وہ آپ کو ان سے زیادہ لرننگ دے کر جائے گا۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
🔷 خون کی کمی اور کمزوری کا علاج 🔷
#خون_کی_کمی، #کمزوری اور #چکر_آنا
#چہرے کی_زردی، دل کی #دھڑکن_تیز، ذرا سا کام کریں تو سانس پھول جائے… اس کا آسان #قدرتی_علاج!
یہ مسئلہ آج کے دور میں ہر دوسرے شخص کو ہے، خاص طور پر خواتین کو۔ خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری، #ہاتھ_پاؤں_کا_سن_ہونا، چکر آنا اور چہرے کا مرجھایا ہوا رنگ عام ہو جاتا ہے۔ جب ہمارے جسم میں خون کی مقدار اور اس کے #سرخ_ذرات کم ہو جائیں تو دل اور دماغ تک آکسیجن کی رسائی متاثر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان #تھکن، بیزاری اور بے دلی محسوس کرتا ہے۔.
قدرت نے ہمیں اس بیماری کا حل زمین سے نکال کر دیا ہے، ایک ایسا نسخہ جو نہ صرف #خون_بڑھاتا ہے بلکہ جسم میں نئی #توانائی پیدا کرتا ہے، نظر کو تیز کرتا ہے اور #یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ یہ نسخہ ہمارے بزرگ صدیوں سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔
ھوالشافی۔۔۔!
آپ نے #کھجور کے 5 دانے، #کشمش آدھا کپ اور #سونف ایک چمچ لینی ہے۔ ان سب کو رات کو ایک گلاس #نیم_گرم_دودھ میں بھگو دیں۔ صبح اٹھ کر #دودھ کو ہلکا سا گرم کر لیں، #کھجور کی گٹھلیاں نکال دیں اور باقی سب چیزیں دودھ کے ساتھ بلینڈر میں پیس لیں۔ یہ گاڑھا، #خوش_ذائقہ شیک نہار منہ پی لیں۔۔
صرف 15 دن کے استعمال سے #چہرے_پر_لالی آ جائے گی، جسم میں #تازگی_محسوس ہو گی اور چکر آنا ختم ہو جائے گا۔
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
🔷 مرد کی دائمی صحت کا دارومدار 🔷
جالینوس کا قول ہے مباشرت جماع میں
اگر شہوت مجامت دیر سے پیدا ہو تو ضعف دماغ و ضعف اعصاب کی دلیل ہے۔
اگر لطف لذت نہ آئے تو دماغ کمزور ہے۔
اگر عضو تناسل میں ایریکشن ایستادگی فعلیت سختی نہ ہو تو دل کمزور ہے۔ عضو خاص میں خون پورا نہ ہونے سے تناؤ پورا نہیں ہوتا۔
اگر مجامعت کے وقت دخول کے بعد آلہ تناسل ڈھیلا پڑ جائے تو ضعف جگر کی دلیل ہے۔ کمزوری جگر کی وجہ سے عضو مخصوص میں سکڑاؤ اور ڈھیلا پن ہوتا ہے۔
اگر بغیر ارادے کے ختم ہو تو معدہ کمزور
اگر شہوانی خیال پیدا ہونے سے منی یا مذی کے قطرے آئیں، باتوں ہی باتوں میں فارغ ہو تو گردے کمزور ہونے کی دلیل ہے۔ بلا ارادہ منی نکل جائے کمزوری گردہ۔
منی پتلی کی وجہ سے ٹائمنگ کم جلدی انزال تو خصیتین کمزور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
💕 مرد کی دائمی صحت کا دارومدار مردانہ ہارمونزٹیسٹوسٹیرون لیول پر ہے۔
جہاں یہ لیول کم ہونا شروع ہو گا
مردانہ کمزوری,
بال سفید ہونا,
حرارت غزیزی کم,
جسم ٹھنڈا سیکس سے بے رغبتی ہونا شروع ہو گی.
جس کی بڑی وجہ جست کی کمی بتائی جاتی ہے۔ ٹیسٹوسٹیرون بوسٹ کے لئے قدرتی طور پر غذا میں چلغوزے، تخم کونج کافی بہتر ہیں۔
مگر ہم آج ایک بہت عام سی چیز پر بات کرتے ہیں جسکا بنانا استعمال کرنا بیحد آسان اور ہر خطرے سے مبرا ہے۔
جی وہ چیز ہے *ماش کی دال*
ماش کی دال میں قدرتی طور پر جست کی کافی مقدار پائی جاتی ہے,
اکثر حکماء کوئی دوا بناکر ماش کے دال کا آٹا بناکر اس میں دوا کو آگ دیتے ہیں
جس سے اس دوا میں قدرتی جست دوا کا حصہ بن جاتا ہے۔
ایک پاؤ ماش کی دال صاف کریں
صاف پانی سے دھولیں خشک کریں
تھوڑا سا اصلی دیسی گھی لیں
اور اس میں دال کو بریاں کر لیں
ٹھنڈی کر کے گرائینڈر کر لیں
اور اسکا دگنا شہد ملا لیں
ایک چائے کا چمچ کھانا اور ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں اور سدا بہار جوانی قائم رکھیں۔
💕💕💕💕💕
1 285
🔷 خون کی کمی اور کمزوری کا علاج 🔷
#خون_کی_کمی، #کمزوری اور #چکر_آنا
#چہرے کی_زردی، دل کی #دھڑکن_تیز، ذرا سا کام کریں تو سانس پھول جائے… اس کا آسان #قدرتی_علاج!
یہ مسئلہ آج کے دور میں ہر دوسرے شخص کو ہے، خاص طور پر خواتین کو۔ خون کی کمی کی وجہ سے جسم میں کمزوری، #ہاتھ_پاؤں_کا_سن_ہونا، چکر آنا اور چہرے کا مرجھایا ہوا رنگ عام ہو جاتا ہے۔ جب ہمارے جسم میں خون کی مقدار اور اس کے #سرخ_ذرات کم ہو جائیں تو دل اور دماغ تک آکسیجن کی رسائی متاثر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انسان #تھکن، بیزاری اور بے دلی محسوس کرتا ہے۔.
قدرت نے ہمیں اس بیماری کا حل زمین سے نکال کر دیا ہے، ایک ایسا نسخہ جو نہ صرف #خون_بڑھاتا ہے بلکہ جسم میں نئی #توانائی پیدا کرتا ہے، نظر کو تیز کرتا ہے اور #یادداشت کو بہتر کرتا ہے۔ یہ نسخہ ہمارے بزرگ صدیوں سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔
ھوالشافی۔۔۔!
آپ نے #کھجور کے 5 دانے، #کشمش آدھا کپ اور #سونف ایک چمچ لینی ہے۔ ان سب کو رات کو ایک گلاس #نیم_گرم_دودھ میں بھگو دیں۔ صبح اٹھ کر #دودھ کو ہلکا سا گرم کر لیں، #کھجور کی گٹھلیاں نکال دیں اور باقی سب چیزیں دودھ کے ساتھ بلینڈر میں پیس لیں۔ یہ گاڑھا، #خوش_ذائقہ شیک نہار منہ پی لیں۔۔
صرف 15 دن کے استعمال سے #چہرے_پر_لالی آ جائے گی، جسم میں #تازگی_محسوس ہو گی اور چکر آنا ختم ہو جائے گا۔
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1 285
⭕ کنڈوم کی کیمسٹری ۔
کنڈوم ایک حفاظتی آلہ ہے جو غیر منصوبہ شدہ حمل اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں (STIs) سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم کنڈوم کی بناوٹ، اقسام، اور اس میں شامل کیمیکل اجزاء پر بات کریں گے۔
کنڈوم کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟
کنڈوم بنیادی طور پر:
غیر منصوبہ شدہ حمل سے بچاؤ کے لیے
ایچ آئی وی (HIV)، گونوریا (Gonorrhea)، سفلس (Syphilis) اور دیگر جنسی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کنڈوم کی اقسام
1) مردانہ کنڈوم
یہ عام طور پر لیٹیکس (Latex) سے بنایا جاتا ہے، جو ایک قدرتی ربڑ ہے۔ لیٹیکس کنڈوم نرم، لچکدار، اور زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ ہوتے ہیں، تاہم کچھ افراد کو اس سے الرجی ہو سکتی ہے۔
الرجی والے افراد کے لیے پولی یوریتھین (Polyurethane) یا پولیسوپرین (Polyisoprene) کنڈوم بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
2) زنانہ کنڈوم
یہ پولی یوریتھین (Polyurethane) یا نائٹریل ربڑ (Nitrile Rubber) سے بنتے ہیں، جو کہ زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور خواتین کو اپنی حفاظت کا ایک اضافی اختیار فراہم کرتے ہیں۔
کیا کنڈوم سپرم کو مار دیتا ہے؟
بعض کنڈوم میں Nonoxynol-9 نامی ایک اسپرم کش (Spermicide) کیمیکل شامل کیا جاتا ہے، جو سپرم کو ختم کر کے حمل کے امکانات کو مزید کم کرتا ہے۔ تاہم، زیادہ مقدار میں استعمال سے یہ ویجائنا (اندام نہانی) میں جلن پیدا کر سکتا ہے۔
کچھ کنڈوم میں لبریکینٹ (Lubricant) کی کوٹنگ کی جاتی ہے، جو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی عمل کے دوران رگڑ کو کم کرتا ہے۔
2001 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے پایا کہ Nonoxynol-9 کا زیادہ استعمال حساس جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے بعد اس کا بے دریغ استعمال کم کر دیا گیا۔
خاص کنڈوم: Benzocaine & Erectogenic
بعض کنڈوم میں Benzocaine یا Lidocaine شامل ہوتا ہے، جو کہ ایک ہلکا Anaesthetic (سن کرنے والا) کیمیکل ہے۔ اس کا مقصد وقت سے پہلے انزال (Premature Ejaculation) کو روکنا ہوتا ہے۔
کچھ کنڈوم میں Nitroglycerin Gel بھی شامل کیا جاتا ہے، جو عضو تناسل میں خون کی روانی کو بہتر بنا کر ایریکشن (Erection) کو زیادہ دیر برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نوٹ:-
یہ مضمون صرف سائنسی اور تعلیمی مقاصد کے لیے لکھا گیا ہے۔ براہ کرم غیر ضروری یا نازیبا تبصروں سے گریز کریں۔
🔷🔷🔷🔷🔷
1 285
یہ ایک سفید کوّا (Albino Crow) ہے 🔥
اس غیر معمولی کوّے کے برف جیسے سفید پروں کی وجہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جسے لیوسزم (Leucism) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں پرندے کے جسم میں رنگت کم ہو جاتی ہے لیکن آنکھوں کا رنگ معمول کے مطابق رہتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں کبھی کبھار ایسے کوّے دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنے سیاہ ساتھیوں کے درمیان بہت نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
✨ دلچسپ حقیقت: اصلی البینو کے برعکس، لیوسزم والے کوّوں کی بینائی بالکل نارمل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوّے بھی دوسرے عام کوّوں کی طرح ہوشیار اور ذہین ہوتے ہیں۔ 🐦
