Sobain|سوبین بلوچ
الذهاب إلى القناة على Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
إظهار المزيدلم يتم تحديد البلدالفئة غير محددة
258
المشتركون
+224 ساعات
+87 أيام
+2430 أيام
أرشيف المشاركات
شہید سرمچار عزت عرف جُمی نے 2013 میں بلوچستان کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا انتخاب بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے کیا۔ تین سال تک انہوں نے شہری محاذ پر انتھک محنت اور بے لوث لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ بعد ازاں دشمن کے انٹیلیجنس کی نظر میں آنے کے باعث تنظیم نے انہیں کیمپ منتقل کیا، جہاں انہوں نے مختلف محاذوں پر محنت اور لگن سے اپنی قومی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں اور دشمن کےخلاف کئی اہم معرکوں میں شریک رہا۔ شہید عزت نے اپنے قومی اور تنظیمی فرائض کو ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ انجام دے کر تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔ شہید عزت کے علاوہ انکے خاندان کے متعدد ارکان نے بھی قومی آزادی کے لیے قربانیاں دے کر تاریخ میں باوقار مقام حاصل کرلیا ہے۔
ساتھی سرمچار حمزہ عرف وحید بلوچ نے قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے 2009 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ آپ نے تنظیم کی طرف سے سونپی گئی ہر ذمہ داری کو انتھک محنت اور خلوص سے انجام دیں۔ آپ اور آپ کے خاندان کی قربانیوں نے تحریک اور تنظیم کو استحکام بخشا۔ آپ کی قربانیاں ہمیشہ بلوچ قومی یادداشت کا حصہ رہیں گی۔ شہید عزت عرف جمی اور شہید حمزہ عرف وحید نے گوادر، دشت، تمپ، تربت اور مند سمیت کئی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر متعدد فوجی کیمپوں پر قبضے اور قافلوں پر حملے کیے۔
آخر میں بی ایل ایف تمام شہید ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کو دہراتی ہے کہ شہداء کی مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے تک قابض ریاست کے خلاف یہ جنگ مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
25 اپریل 2026
Ref.No BLF/Apr2026/00055
مادرِ وطن کی دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ساتھی سرمچاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ قومی جنگِ آزادی میں شہادت نوش فرمانے والے ساتھی سرمچاروں لیفٹننٹ سلمان وحیدہ، اکرام بلوچ، کیپٹن شہباز شوہاز، مسعود بلوچ، عزت بلوچ اور حمزہ بلوچ کو خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ شہید ساتھیوں نے سروں کا نزرانہ دے کر خون کے آخری قطرے تک قوم اور وطن کی دفاع کا اپنا عہد اور قومی فرض نبھاتے ہوئے امر ہوئے ۔ شہداء نے اپنے عظیم قربانی سے ثابت کردیا کہ بلوچ سرمچار اپنے قوم اور وطن کی دفاع میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔
شہید لیفٹننٹ سلمان عرف شکاری چراگ جان ابنِ وحیدہ ساکن زامران سال 2023 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے قومی آزادی کی جنگ میں شامل ہوئے۔ اس قلیل مدت میں آپ نے زامران، کلبر، مزن بند، بلیدہ، پروم اور مند کی جنگی محاذوں پر قابض دشمن کے خلاف فوجی مہمات میں بہادری اور مخلصی سے گراں قدر قومی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ گزشتہ سال مند کے علاقے دریا چم میں ایک کاروائی کے دوران قابض دشمن کی کیمپ کو قبضہ کرنے میں، جس میں دشمن فوج کے گیارہ (11) اہلکار ہلاک ہوئے تھے، شہید لیفٹننٹ سلمان کا ایک اہم کردار تھا۔ آپ ایک انتہائی محنتی، ذمہ دار، باہنر اور ماہر نشانہ باز سرمچار تھے۔ آپ اسنائپر ٹیکٹیکل ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود آپ چیزوں کو آسانی سے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ شہید سلمان وحیدہ 16 اپریل 2026 کو زامران، دشتک کے علاقے میں دشمن کے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔
شہید اِکرام بلوچ عرف حمید ولد رحیم بخش ساکنِ عمری کہن، سامی نے سال 2017 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کیا۔ آپ نے جنگِ آزادی میں شاپُک، سامی، ہیرونک، ہوشاب، بالگتر، بلیدہ، پروم اور زامران کے محاذوں پر انتہائی دلیری اور جان فِشانی سے قومی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بالگتر میں دشمن کی کیمپ پر دو مرتبہ قبضہ کرنے کے معرکوں میں آپ سرمچاروں کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ آپ احساسِ ذمہ داری سے واقف، ایک انتہائی بہادر، محنتی اور باشعور سرمچار تھے جس نے اپنے آپ کو بلوچ قوم کی آزادی اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کردیا تھا۔ شہید اِکرام بلوچ عرف حمید 16 اپریل 2026 کو زامران، دشتک کے علاقے میں دشمن کے فضائی حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید کیپٹن شہباز شوہاز عرف کیا بلوچ ولد عبدالمجید ساکن غریب آباد کا بنیادی تعلق گر، پنجگور سے تھا۔ آپ نے سال 2020 میں بی ایل ایف میں شامل ہوکر قومی جد و جہد کا آغاز کیا۔ شروع کے تین سال آپ شہری گوریلہ کی حیثیت سے شہری نیٹورک کے ذمہ دار رہے۔ تین سال تک دشمن کے درمیان رہ کر انتہائی گوریلہ محارت سے آپ دشمن کو کاری ضرف لگاتے رہے، اور سال 2023 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوگئے۔ پہاڑی محاذ پر بھی آپ کو کیمپ کمانڈر کی حیثیت سے جنگی اور انتظامی ذمہ داریاں سپرد کی گئیں جن کو آپ اپنے شہادت تک حوصلہ، برداشت اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے رہے۔ آپ نہ صرف ایک ماہر گوریلہ کمانڈر تھے بلکہ بلوچی زبان کے ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ شہید شہباز قابض فوج کے ایک بزدل اور مکارانہ چال میں دشمن کے ایک خفیہ دلال کے ہاتھوں 15 اپریل 2026 کو شہید ہوئے۔
شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
شہید مسعود بلوچ عرف بارگ ولد ذاکر، ساکن عومری کہن سامی کا رہائشی تھا۔ آپ چھ مہینے تک بی ایل ایف کے شہری نیٹورک کا حصہ رہے جہاں آپ کے ذمہ داریوں میں مشکوک عناصر اور حساس مقامات کی نگرانی، رپورٹنگ اور ساتھیوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا شامل تھا۔آپ تنظیم کی طرف سے دی گئی اپنے قومی فرائض کو انتہائی ذمہ داری سے نبھاتے رہے، اور ہر ٹاسک کو خوش اسلوبی سے بروقت سرانجام دیتے تھے۔ شہید مسعود 19 فروری 2026 کو ساتھیوں کے ساتھ تنظیمی کیمپ کی طرف جاتے ہوئے عومری کہن میں دشمن فوج کی طرف سے کواڈ کاپٹر حملے میں شہید ہوئے جبکہ ان کا ساتھی سرمچار (شہید) اِکرام اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
ساتھی سرمچار عزت عرف جُمی ولد ماسٹر نور اور حمزہ عرف وحید ولد ناکو فیض سکنہ تمپ، دازین، ڈیتھ اسکواڈ کی کارندوں کے ایک حملے میں شہید ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کی سرپرستی میں تحریک آزادی کے خلاف سرگرم کرایہ کے قاتل مسلح جتھہ (ڈیتھ اسکواڈ ) کے کارندوں نے یکم جنوری 2026 کو فائرنگ کر کے آپ دونوں سرمچاروں کو شہید کر دیا۔
آج سے ٹھیک چار سال قبل، 26 اپریل 2022 کو، بلوچستان کی سرزمین نے ایک ایسی تاریخ رقم ہوتے دیکھی جس نے دنیا کے ایوانوں کو ہلا َکر رکھ دیا۔ شاری بلوچ عرف برمش، بلوچ لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور بلوچ قومی تحریک کی پہلی خاتون فدائی بن گئی۔ شاری بلوچ محض ایک نام نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب بلوچ تاریخ نے حرفِ انکار کو اپنے لہو سے ابدیت عطا کی۔ آج ان کی چوتھی برسی پر ہم کسی فرد کا سوگ نہیں، بلکہ اس بلند پایہ شعور کا جشن مناتے ہیں جس نے ثابت کیا کہ جینے کی تمنا جب مقصدِ حیات سے ٹکراتی ہے، تو فنا ہی اصل بقا بن جاتی ہے۔ شاری کی قربانی کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک دانشور ماں کا وہ منطقی انتخاب تھا جس نے مادیت کے تمام بتوں کو توڑ کر ثابت کیا کہ آزادی کی جبلت کسی مصلحت کی محتاج نہیں ہوتی۔
انہوں نے خاموشی کے جمود کو اس زور سے توڑا کہ اس کی گونج غاصب کے ایوانوں سے لے کر عالمی ضمیر کی دہلیز تک سنی گئی۔ شاری نے بلوچ عورت کے وجود کو ایک نیا آہنگ بخشا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ جب جینا غلامی کی قبا بن جائے، تو مر مٹنا ہی آزادی کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے اپنے لہو سے وہ لکیر کھینچی جس نے بزدلی اور بہادری، اور مصلحت اور مقاومت کے درمیان فرق کو واضح کردیا۔
شاری! تم بلوچ تاریخ کی وہ شاہ رگ ہو، جس میں بہتا لہو رہتی دنیا تک آزادی کی نبض چلاتا رہے گا۔
خضدار، نوشکی اور خاران میں فوج پر حملوں میں 2 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی، پولیس تھانے پر قبضہ اور کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر ناکہ بندی: میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 25 اپریل 2026 کو خضدار کے علاقے زاوہ میں دشمن کے فوجی قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا جب وہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کی جانب جا رہا تھا۔ سرمچاروں نے پہلے سے نصب شدہ ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی (IED) کے ذریعے زوردار دھماکہ کیا، جس کے نتیجے میں فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس حملے میں گاڑی میں سوار دو اہلکار موقع پر ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔
ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 24 اپریل 2026 کو نوشکی کے علاقے ملّ میں پولیس تھانے پر حملہ کر کے اس کا کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں موجود مواصلاتی آلات کو ناکارہ بنا دیا۔ پولیس اہلکاروں کو پہلے ہی تنبیہ کی گئی کہ وہ مزاحمت سے گریز کریں، تاہم ان کی جانب سے مزاحمت کرنے کی کوشش پر کارروائی کی گئی جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
اسی طرح 24 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے خاران شہر میں پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کو حملے میں گرنیڈ لانچرز سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے یکے بعد دیگرے متعدد گولے داغے جو درستگی کے ساتھ اپنے ہدف پر لگے، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
علاوہ ازیں، 23 اپریل 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے زاوہ کے مقام پر کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر مکمل ناکہ بندی کی۔ سرمچاروں نے مورچہ بند ہو کر تین گھنٹوں تک شاہراہ پر ہر قسم کی فوجی، و مشتبہ نقل و حرکت کی کڑی نگرانی اور اسنیپ چیکنگ کی۔ اس دوران گاڑیوں کی تلاشی لی گئی تاکہ سویلین مسافر گاڑیوں میں فوجیوں، مخبروں اور رسد لانے والے عناصر کو تلاش کی جا سکے۔ اس ناکہ بندی کا مقصد علاقے میں سرمچاروں کی عمل داری کو مضبوط کرنا تھا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ خضدار میں فوجی قافلے پر آئی ای ڈی حملے، نوشکی پولیس تھانے پر قبضے، خاران میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے اور خضدار میں ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
25 اپریل 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00054
بریکنگ نیوز
خضدار کے علاقے زاوہ میں پاکستانی فورسز کے قافلے پر آئی ای ڈی دھماکہ، اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک گاڑی مکمل تباہ۔
مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔
نوشکی: مسلح افراد کی جانب سے نوشکی مل تھانے پر حملے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے، جسے فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے
بریکنگ نیوز
خاران فوجی ہیڈ کوارٹر پر مسلح افراد کا حملہ،علاقائی زرائع کے مطابق یکے بعد دیگر پانچ بڑے دھماکوں کی آواز سنی گئی بعد میں شدید فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی۔
مزید اطلاعات آنا باقی ہے۔۔
