ar
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

الذهاب إلى القناة على Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

إظهار المزيد
لم يتم تحديد البلدالفئة غير محددة
258
المشتركون
+124 ساعات
+77 أيام
+2330 أيام
أرشيف المشاركات
Dr Allah Nizar Baloch.jpg4.90 MB

بلوچ قومی شعور کے خلاف ریاستی جنگ دراصل بلوچ قومی آزادی کے منظم تحریک سے خوف کا اظہار ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سرفراز بگٹی اور اس قبیل کے لوگ بنگلہ دیشی کٹھ پتلیوں کے انجام سے سبق حاصل کریں۔ سرفراز بگٹی جیسے آلہ کاروں کو دنیا بھر میں قابضین آزما چکے ہیں۔ یہ وقتی طور پر قابض کے لیے مؤثّر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اپنے قوم و سماج میں ان جیسے کرداروں کے حصے میں صرف رسوائی ہی آئے گی۔ ان کی عوامی نمائندگی کا دعویٰ قابض فوج کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ بیساکھیاں بلوچ قومی قوت کے زور سے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گی۔ سرفراز بگٹی کی جانب سے بلوچ محققین، اساتذہ، پروفیسرز اور شاعروں کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیانات، پاکستانی فوج اور ریاست کے اصل عزائم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہی عزائم ہیں جن پر پاکستان 1971ء میں بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران عمل کر چکا ہے۔ پاکستانی فوج نے سینکڑوں بنگلہ دیشی دانشوروں، محققین اور اساتذہ کو قتل کیا تھا لیکن اس کے باوجود بنگلہ دیش نے آزادی حاصل کرلی۔ بنگلہ دیشی عوام اور اساتذہ کے خون کی بدولت آج بنگلہ دیش آزاد قوموں کی صف میں ایک باوقار ملک کی حیثیت سے کھڑا ہے، اور بنگالیوں کا یہ لہو آج بھی پنجابی حکمران طبقے کی گردن پر قرض ہے۔ بلوچ دانشوروں، پی ایچ ڈی اسکالرز، پروفیسروں اور شعراء کو ریاست کے لیے خطرہ قرار دینا اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچ معاشرے میں قومی شعور اور سیاسی آگاہی بڑھ رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں تحریک آزادی سے بلوچ عوام کی وابستگی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے، اور بلوچ عوام و ریاستی بیانیے میں نا قابل عبور فاصلے  پیدا ہو رہے ہیں۔ بلوچ قوم شعوری طور پر جہدِ آزادی کا حصہ بن رہی ہے جس سے ریاست سخت خوفزدہ ہے۔ ایک باشعور قوم ہمیشہ اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی شعور سے خائف ہو کر قابض ریاست اور اس کے کٹھ پتلی نمائندے بلوچ قوم کے  تعلیم یافتہ اور باشعور طبقات کو نشانہ بنا کر ریاست کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جب مزاحمت کسی سماج کے تمام طبقات میں سرایت کر جائے، تو کٹھ پتلیاں صرف تماشے کا نمونہ بن کر رہ جاتی ہیں، اور آج بلوچستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں پے در پے ہونے والے واقعات، جن میں معروف مصنف و شاعر پروفیسر غمخوار حیات بلوچ کی ٹارگٹڈ کلنگ، اور بلوچ خاتون شاعرہ حبیبہ پیر جان کی جبری گمشدگی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قابض ریاست نے بلوچستان میں فکری اور ادبی آوازوں کو منظم طریقے سے کچلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اور مستقبل میں بھی بلوچ قوم دوست و محب وطن اذہان کو نشانہ بنانے کا یہ عمل جاری رہے گا۔ سرفراز بگٹی اور دیگر حکومتی نمائندوں کے بیانات اس منظم ریاستی فاشسٹ پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت بلوچستان میں مزاحمتی آوازوں، اختلافِ رائے، علم و آگہی، فکری آزادی اور سیاسی شعور کو کچلا جا رہا ہے۔ تاہم یہ پالیسیاں بلوچ عوام کے عزم اور شعور کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کر کے تحریک کو ایندھن فراہم کرنے کا سبب بنیں گی، اور بلوچ قوم دوست و محب وطن اذہان کی فکری رہنمائی ہماری قومی تحریک آزادی کو یوں ہی توانا کرتی رہے گی۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ سپریم کمانڈر بلوچستان لبریشن فرنٹ 29 مئی 2026 Ref. No. BLF/May2026/00066

BLF fighters besieged Dungar Police Station and seized seven government rifles, magazines, and other military equipment in the Jusak area of Kech on May 25, 2026. Meanwhile, our fighters also set up a checkpoint in front of the police station and conducted snap checks of vehicles.

Jusak Kech.jpg2.81 MB

Asshob Statement English BLF May2026 00065.jpg4.98 MB

Five Personnel Killed in Ambush on Military Convoy, Police Station with Official Weapons Seized in Jusak Kech, and Construction Machinery Torched in Winder: Major Gwahram Baloch On May 25, 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front besieged and attacked the Dungar Police Station located in the Jusak area of Kech. After gaining full control of the station, the fighters detained the police personnel and seized seven government rifles, magazines, and other military equipment from the station. After the interrogation, all police personnel were warned and released in accordance with the organization's principles and humanitarian values. During the operation, our fighters also set up a checkpoint in front of the police station and conducted snap checks of vehicles. The purpose of the checkpoint was to maintain military control in the area and to keep surveillance on the occupying forces and their facilitators. Meanwhile, another unit of the fighters shot and destroyed all surveillance cameras installed at and around the police station. The cameras had been installed by the occupying forces to monitor the movement of Baloch fighters and spy on the private lives of the local population. The protective unit of the fighters ambushed a reinforcements convoy of the occupying forces at the Kech-kour Bridge, that had been dispatched from the military headquarters in Turbat city. As the convoy reached the bridge, the alert fighters ambushed it with heavy and automatic weapons. As a result of the ambush, five military personnel were killed and four were injured, while two military vehicles were also damaged. In another operation, BLF fighters attacked a construction company and set its machinery on fire, in the Dam area of Winder on May 27, 2026. The company was constructing roads for projects that served military and exploitative objectives. The BLF has previously made it clear that no such project, operating under the patronage of the occupying forces will be permitted, which facilitates the exploitation of the Baloch national resources or assists the enemy in achieving military objectives. Such exploitative projects remain on our target list. The Balochistan Liberation Front accepts responsibility for the attacks on the police station and the military convey in Jusak Kech, the seizure of weapons, and the attack on the construction company's site in Winder. Major Gwahram Baloch Spokesperson: Balochistan Liberation Front 29 May 2026 Ref. No. BLF/May2026/00065

Asshob Statement Urdu BLF May2026 00065.jpg4.85 MB

کیچ، جوسک میں پولیس تھانے، اور فوجی قافلے پر حملہ، پانچ فوجی اہلکار ہلاک، سرکاری اسلحہ ضبط، وندر میں تعمیراتی کمپنی کی مشینری نذر آتش: میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 25 مئی 2026 کو کیچ کے علاقے جوسک میں قائم ڈنگر تھانے کا محاصرہ کر کے اس پر حملہ کیا۔ سرمچاروں نے تھانے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ان کے قبضے سے 7 سرکاری بندوقیں، میگزین اور دیگر عسکری سازوسامان ضبط کر لیا۔ بعد ازاں تفتیش مکمل ہونے کے بعد تمام پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کرکے تنظیم کے اعلیٰ جنگی اصولوں اور انسانی ہمدردی کے تحت رہا کر دیا گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے پولیس تھانے کے سامنے ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ بھی کی۔ ناکہ بندی کا مقصد علاقے میں اپنا عسکری کنٹرول برقرار رکھنا اور قابض فوج اور اس کے سہولت کاروں پر نظر رکھنا تھا۔ اس آپریشن کے دوران سرمچاروں کے دوسرے دستوں نے تھانے اور اس کے اطراف میں نصب نگرانی کے تمام کیمروں کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا، جو قابض فوج کی جانب سے سرمچاروں کی نقل و حرکت، اور عوام کی نجی زندگی پر نظر رکھنے اور جاسوسی کے لیے لگائے گئے تھے۔ دوسری طرف، سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے تربت شہر کے فوجی ہیڈ کوارٹر سے کمک کے لیے آنے والے قابض فوج کے ایک قافلے کو کیچ کور کے پل پر گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا۔ مستعد سرمچاروں نے قافلے کے پل پر پہنچتے ہی اس پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے، جبکہ دو فوجی گاڑیاں حملے کی زد میں آنے سے ناکارہ ہو گئیں۔ ایک اور کارروائی میں بی ایل اایف کے سرمچاروں نے 27 مئی 2026 کو وندر کے علاقہ ڈام میں ایک تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کر کے اس کی مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ تعمیراتی مشینری عسکری اور استحصالی مقاصد کی غرض سے زیر تعمیر پروجیکٹس کے لیے راستوں کی تعمیر میں مصروف تھی۔ بی ایل ایف پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ قابض فوج کی سرپرستی میں چلنے والے ایسے کسی بھی پروجیکٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی جو بلوچ قوم کے وسائل کی استحصال اور فوجی مقاصد کے حصول میں دشمن کیلئے آسانی کا سبب بنے۔ ایسے استحصالی پروجیکٹس مستقل طور پر ہمارے نشانے پر ہیں۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کیچ، جوسک میں پولیس تھانے اور قابض پاکستانی فوج پر حملے، اسلحہ ضبط کرنے، اور وندر میں تعمیراتی کمپنی کے سائیٹ پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ 29 مئی 2026 Ref. No. BLF/May2026/00065

Asshob Statement English BLF May2026 00064 Page 2.jpg4.11 MB

Asshob Statement English BLF May2026 00064 Page 1.jpg5.00 MB

Seven Personnel Killed, Several Wounded in Nine Different Operations, Highways Blocked and Mineral-Carrying Vehicles Targeted: Major Gwahram Baloch   The fighters of the Balochistan Liberation Front targeted a convoy of the Pakistani Army consisting of four vehicles in the Sabdan Phul area of Dasht on May 25, 2026, with heavy weapons. As a result of the attack, one vehicle in the enemy's convoy came under the intense attack, the driver along with three personnel were killed on the spot and several others were injured.   Fighters of the Balochistan Liberation Front attacked a Pakistani military checkpoint established in the Kasanu area of Tump on May 24, 2026, targeting it with rockets and heavy weapons. In the operation, our fighters also destroyed surveillance cameras installed at the checkpoint. The attack resulted in both casualties and material losses for the enemy.   In another attack on May 24, 2026, our fighters struck a vehicle of a military convoy in the Sarmall area of Nushki with a remote-controlled bomb. As a result, the vehicle was completely destroyed and four personnel aboard were killed and several wounded.   On May 23, 2026, BLF fighters set up a blockade on N-70 Highway at Chang Nadhi Chappar, area of Rakhni Barkhan. During the blockade, our fighters took control of the highway and conducted strict snap-checking of vehicles. The primary objective of this operation was to maintain close surveillance over the enemy in the area, strengthen our military grip over the region, and monitor the movement of forces and the activities of their local facilitators. During this operation, BLF fighters seized a coal-laden truck involved in the looting of Baloch resources and set it on fire. Additionally, surveillance cameras installed on the highway by the occupying forces to monitor fighter movements were also destroyed. During the blockade, a suspicious vehicle did not comply with the fighters' signal to stop and attempted to flee, however the fighters responded immediately by opening fire and forcing it to stop. Meanwhile the blockade, Frontier Corps personnel from posts established on both sides of the highway attempted to advance, however, fighters who had already taken up defensive positions attacked the FC personnel, forcing them to retreat.   On May 22, 2026, BLF fighters targeted FC personnel engaged in the construction of a new military post and an associated road in the Bhawani area of Hub. They were attacked with automatic weapons, which resulted in casualties and material losses for the forces.   In another operation on May 22, 2026, fighters attacked a Pakistani military camp established in Soro, Mand, from multiple directions using heavy and automatic weapons. As a result, the enemy suffered both casualties and material losses. In yet another attack, on May 20, 2026, our fighters carried out an operation against elements involved in the transportation of precious stones in the Duriji area of Hub. Two vehicles loaded with precious stones were shot and their tires were busted. This attack is part of BLF's ongoing campaign against elements involved in the looting of Balochistan's resources and their facilitators. On May 20, 2026, BLF fighters attacked a Pakistani military post in Rodbun area of Tump, targeting it with modern and heavy weapons. As a result, the military suffered casualties and material losses. The fighters also destroyed the surveillance camera installed at the post.   On May 20, 2026, our fighters set up a blockade in the Karodak area of Chagai, conducting strict snap-checking and maintaining close surveillance of vehicles. The blockade continued for three consecutive hours. The primary objective of the operation was to strengthen the military grip over the area and monitor the suspicious movements. Throughout this three-hour operation, our fighters maintained full military control of the area and searched the passing vehicles.

Asshob Statement Urdu BLF May2026 00064 Page 2.jpg3.96 MB

Asshob Statement Urdu BLF May2026 00064 Page 1.jpg4.88 MB

نو مختلف کارروائیوں میں سات فوجی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی، شاہراہوں پر ناکہ بندی اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا: میجر گہرام بلوچ   بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 25 مئی 2026 کو دشت کے علاقے سبدان پھل میں قابض پاکستانی فوج کے چار گاڑیوں پر مشتمل  قافلے کو  بھاری ہتھاروں سے حملہ کرکے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران دشمن کے قافلے میں شامل ایک گاڑی مکمل حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں اس میں سوار ڈرائیور سمیت تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔   سرمچاروں نے 24 مئی 2026 کو تمپ کے علاقے کسانو میں قائم پاکستانی فوجی چیک پوسٹ کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران سرمچاروں نے فائرنگ کر کے چیک پوسٹ پر نصب نگرانی کے کیمرے بھی تباہ کر دیے۔ اس حملے میں فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔   ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 24 مئی 2026 کو نوشکی کے علاقے سر ملّ میں قابض پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ اس میں سوار چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔   سرمچاروں نے 23 مئی 2026 کو شاہراہِ این-70 پر بارکھان کے علاقے چنگ ندی چھپر، رکھنی کے مقام پر ناکہ بندی کی۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ کا کنٹرول حاصل کر کے گاڑیوں کی سخت اسنیپ چیکنگ کی۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد علاقے پر اپنی عسکری گرفت مضبوط رکھنا اور دشمن فورسز کی نقل و حرکت سمیت ان کے مقامی سہولت کاروں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ اس دوران سرمچاروں نے بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں مصروف، کوئلے سے لدے ایک ٹرک کو قبضے میں لے کر نذرِ آتش کر دیا۔ دریں اثنا، سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے شاہراہ پر نصب کردہ فوجی نگرانی کے کیمروں کو بھی فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔ ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک گاڑی نے رکنے کے اشارے کی تعمیل نہیں کی اور فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے فوری فائرنگ کر کے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اسی دوران شاہراہ کے دونوں اطراف قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کی پوسٹوں سے اہلکاروں نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تاہم وہاں پہلے سے پوزیشن سنبھالے سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے فائرنگ کر کے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔   سرمچاروں نے 22 مئی 2026 کو حب کے علاقے بھوانی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی نئی چوکی اور اس سے منسلک سڑک کی تعمیر میں مصروف اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قبض فوج کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔   ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 22 مئی 2026 کو مند کے علاقے سورو میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ پر مختلف سمتوں سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کرکے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فوج کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔   سرمچاروں نے 20 مئی 2026 کو حب کے علاقے دُریجی میں قیمتی پتھروں کی ٹرانسپورٹیشن میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے، پتھروں سے لدی دو گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کے ٹائر برسٹ کر دیے۔ یہ حملہ بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بی ایل ایف کی جاری مہم کا حصہ ہے۔   ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 20 مئی 2026 کو تمپ کے علاقے رودبن میں قائم پاکستانی فوجی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے اسے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ حملے کے دوران سرمچاروں نے چوکی پر نصب نگرانی کا کیمرہ بھی فائرنگ کر کے تباہ کر دیا۔   سرمچاروں نے 20 مئی 2026 کو چاغی کے علاقے کرودک میں ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ اور کڑی نگرانی کا عمل برقرار رکھا۔ یہ ناکہ بندی مسلسل تین گھنٹے تک جاری رہی، جس کا بنیادی مقصد علاقے پر عسکری گرفت مضبوط کرنا اور دشمن کی مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھنا تھا۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس آپریشن کے دوران سرمچاروں نے پورے علاقے کا عسکری کنٹرول سنبھالے رکھا اور وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس دوران فوج کے ممکنہ ردعمل کو روکنے کے لیے سرمچاروں کے حفاظتی دستے الرٹ رہے اور ناکہ بندی کا عمل کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد تمام سرمچار اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔   بلوچستان لبریشن فرنٹ دشت، تمپ، نوشکی، بارکھان، حب اور مند میں قابض فوج پر حملوں میں سات فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، شاہراہوں پر ناکہ بندی اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔   میجر گہرام بلوچ ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ 26 مئی 2026 Ref. No. BLF/May2026/00064

بریکنگ نیوز نوشکی کے علاقے مل میں پاکستانی فورسز کی گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ مزید تفصیلات انا باقی ہے ۔۔

کوئٹہ میں فوجی ٹرین پر فدائی حملہ ہمارے فدائی بلال شاہوانی عرف سائیں نے سرانجام دیا - بی ایل اے بلوچ لبریشن آرمی کے فدائی یونٹ مجید بریگیڈ نے آج صبح کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو منتقل کرنے والی ایک فوجی شٹل ٹرین کو فدائی حملے میں نشانہ بناکر دشمن کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کیا۔ بی ایل اے اس حملے کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اس فدائی حملے کے نتیجے میں دشمن فوج کو پہنچنے والے جانی ومالی نقصانات کی حتمی تفصیلات تنظیم کے باقاعدہ طریقہ کار کے مطابق بعد میں ایک جامع رپورٹ کی صورت میں میڈیا کے لیئے جاری کیا جائے گا۔ اس فدائی مشن کو مجید بریگیڈ کے جانباز فدائی اورتنظیم کے کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں نے از خود سرانجام دیا۔ پچیس سالہ فدائی بلال شاہوانی ولد چیف عبدالغنی شاہوانی، شال کے علاقے کلی سردے، سریاب کے رہائشی تھے۔ انہوں نے سن دو ہزار بیس میں بلوچ مزاحمتی تحریک برائے آزادی میں شمولیت اختیار کی۔ عسکری میدان میں بہترین کارکردگی اور تنظیمی ڈسپلن کی بنیاد پر سن دو ہزار بائیس میں شہید بلال کو انکی رضاکارانہ خواہش پر مجید بریگیڈ کے فدائی یونٹ میں شامل کیا گیا۔ آپ ناگاہو، دشت کومبیلا، کوئٹہ اور قلات کے اہم محاذوں پر سرگرم رہے اور اپنی خداداد عسکری صلاحیتوں کی بنا پر کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں بی ایل اے کے نیٹ ورک کے ایک فعال اور مدبر عسکری دماغ تھے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دشت کومبیلا کے پورے جنگی محاذ پر قابض فوج کے خلاف ہونے والے تمام بڑے حملوں اور گوریلہ آپریشنز کی براہِ راست کمانڈ شہید فدائی بلال شاہوانی کے ہاتھوں میں تھی۔ اس سے قبل، تنظیم کے تاریخی عسکری معرکے "آپریشن ہیروف اول" کے دوران انہوں نے قلات کے محاذ پر دشمن کے خلاف ہراول دستوں کی عسکری قیادت کی تھی، جبکہ "آپریشن ہیروف دوم" کے دوران انہوں نے شال کے انتہائی حساس علاقے، ریڈ زون میں فدائی دستوں کی کمانڈ سنبھال کر دشمن کے حفاظتی حصارکو توڑا تھا۔ آج صبح قابض فوج کے اہلکاروں کو کوئٹہ کینٹ سے شٹل ٹرین کے ذریعے خفیہ طریقے سے جعفر ایکسپریس تک منتقلی کے عین وقت پر کامیابی سے نشانہ بنانا، بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ " زراب" کی گہری رسائی اور کمانڈر بلال شاہوانی کی جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی اپنے فدائی کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں کی تنظیمی خدمات اور لازوال قربانی پر انہیں سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ایک فعال فیلڈ کمانڈر کا خود کو فدائی مشن کے لیئے پیش کرنا بی ایل اے کے ادارہ جاتی ارتقا اور فکری برتری کا واضح ثبوت ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ قومی مزاحمت اب روایتی گوریلہ طریقہ کار سے آگے بڑھ کر ایک ایسے جدید عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں تنظیمی کمانڈرز اجتماعی قومی اہداف کو انفرادی مادی کردار پر ترجیح دیتے ہیں۔ بلال شاہوانی کا یہ اقدام تاریخ میں محکوم اقوام کی سیاسی وعسکری جدوجہد کے ایک ایسے اہم اصول کے طور پر محفوظ رہے گا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ غاصب ریاست کے جدید مادی نیٹ ورک کا مقابلہ صرف اور صرف گہرے فکری ڈسپلن، انٹیلی جنس رسائی، قربانی اور تزویراتی عزم کے پائیدار توازن سے ہی ممکن ہے۔۔ ہماری یہ جنگ بلوچ سرزمین پر مکمل حاکمیتِ اعلیٰ کے قیام اور مکمل آزادی تک جاری رہے گی۔

Fidayee Chief Bilal Shahwani alias Saahin.jpg4.61 MB

⁨ الّے جنگ اس مرے 🍁 شارُل جان💛