ar
Feedback
Sobain|سوبین بلوچ

Sobain|سوبین بلوچ

الذهاب إلى القناة على Telegram

Freelance journalist from war zone Balochistan

إظهار المزيد
لم يتم تحديد البلدالفئة غير محددة
271
المشتركون
+324 ساعات
+87 أيام
+2830 أيام
أرشيف المشاركات
Three Death Squad Agents Killed, ISI Operative Arrested, Weapons Seized from Police, in 11 Different Operations: Major Gwahram Baloch Fighters of the BLF targeted members of the state-backed death squad operating under the patronage of the occupying army in a coordinated attack in Jhal Magsi on September 17, 2026. As a result of this operation, 2 death squad agents were killed and several others wounded, while the remaining personnel fled the scene in fear. On September 15, 2026, BLF fighters carried out a coordinated operation on Sariyab Road and surrounding areas in Quetta city, established a complete blockade on the main highway, patrolling in the area openly, and conducted snap checks, while also targeted and damaged government buildings and bank infrastructure. On September 15, 2026, BLF sarmachars carried out an operation in the Dalbandin Cross area of Dalbandin and briefly arrested the police personnel, catching them red-handed while they were extorting money from the public. This action was carried out in light of the continuous complaints received from the local people. The sarmachars released the personnel after issuing them strict warnings. A pistol was confiscated from them. The Balochistan Liberation Front warns police personnel to refrain from crimes such as harassment of the public and extortion, otherwise strict action will be taken against them. In another operation on the same day, BLF fighters carried out an attack with heavy and automatic weapons on an occupying army security post at Archenan Khour in the Zamuran area of Kech. The attack resulted in losses of life and material for the occupying army. On September 14, 2026, our fighters shot dead Ehsan son of Huzoor Bakhsh, at his home during an operation in the Tapko area of Gresha. He was a close associate of death squad leader Shafiq Mengal. He was directly involved in facilitating military aggression and was indirectly implicated in the martyrdom of our fellow fighters, martyrs Zubair Baloch, Qandeel, and Safar. He was also involved in theft, extortion of local traders and businessmen, and other social ills in the area. BLF fighters took decisive action and brought him to his logical end. On September 13, 2026, BLF fighters attacked members of death squad, active under Samad, in the Kodask area of Naal. As a result of this operation, 2 death squad agents were severely wounded, and all their weapons were confiscated by the fighters. In another operation on the same day, our fighters shot and disabled a Ufone communications tower in the Kodask area of Naal. The fighters completely destroyed all its related machinery by setting it on fire. On the same day, BLF fighters captured two police checkpoints located at Teharo and Wayari, between Bela and Uthal, taking full control of both posts. The fighters seized all military equipment from the security personnel, however, after detaining the police personnel for a brief moment, they were safely released unharmed on the basis of organizational principles and humanitarian grounds. On the same date, BLF fighters carried out an operation and arrested ISI operative Inspector Ghafar Khilji near the toll plaza in the Gharadi area of Kalat. He is currently under interrogation in the organization's custody. Additionally, on September 13, our fighters conducted a continuous 3-hour blockade and snap checking in the Nodiz area of Turbat. The primary purpose of this blockade was to maintain organizational control and influence in the area and to closely monitor the movements of the occupying army and its local facilitators. On September 12, 2026, our fighters were on a routine patrol at Malar Sham in the Kolwah area of Awaran when an armed group from the local death squad, operating under the patronage of the occupying army, attempted to block their path. The alert fighters acted promptly and attacked the death squad. As a result of the pre-emptive attack, the death squad members panicked, scattered, and were forced to flee, abandoning their motorcycles at the scene.

+1
Aashob Statement Urdu BLF September2026 000107 Page 1.jpg4.85 MB

علاوہ ازیں، 13 ستمبر کو سرمچاروں نے تربت کے علاقے نودز میں 3 گھنٹے تک مسلسل ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں تنظیمی عمل داری اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور قابض فوج اور اس کے مقامی سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ 12 ستمبر 2026 کو سرمچار آواران کے علاقے کولواہ میں مالار شم کے مقام پر معمول کے گشت پر تھے کہ قابض فوج کی سرپرستی میں قائم مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ایک مسلح جتھے نے سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ مستعد سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ پر حملہ کر دیا۔ سرمچاروں کی پیشگی کارروائی کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے حواس باختہ ہو کر منتشر ہو گئے اور اپنی موٹر سائیکلیں موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان کارروائیوں اور ناکہ بندیوں میں قابض پاکستانی فوج اور ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈز کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات اور تنظیمی تحویل میں لیے گئے افراد کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ 18 ستمبر 2026 Ref. No. BLF/September2026/000107

11 کارروائیوں میں ڈیتھ اسکواڈ کے 3 اہلکار ہلاک اور آئی ایس آئی کا اہلکار گرفتار، پولیس سے اسلحہ ضبط: میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 17 ستمبر 2026 کو جھل مگسی میں قابض فوج کی سرپرستی میں سرگرم ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں کو ایک منظم حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے 2 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ بقیہ اہلکار خوفزدہ ہو کر موقع سے فرار ہو گئے۔ 15 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے کوئٹہ شہر میں سریاب روڈ اور اس کے گرد و نواح کے حصوں میں ایک مربوط عسکری کارروائی کے تحت مرکزی شاہراہ پر مکمل ناکہ بندی قائم کرکے علاقے میں آزادانہ گشت کیا اور اسنیپ چیکنگ کی، جبکہ سرکاری عمارتوں اور بینک کے بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔ 15 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے دالبندین کے علاقے دالبندین کراس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو عوام سے بھتہ خوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں حراست میں لے لیا اور ان کے قبضہ سے پسٹل بھی ضبط کیا گیا۔۔ یہ کارروائی مقامی عوام کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے پیشِ نظر انجام دی گئی۔ سرمچاروں نے ان اہلکاروں کو تنظیمی سطح پر سخت تنبیہ کرنے کے بعد رہا کر دیا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ عوام الناس کو بلاجواز تنگ کرنے، ہراساں کرنے اور بھتہ خوری جیسے جرائم سے مکمل طور پر گریز کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے زامران کے علاقے آرچنان کور کے مقام پر قائم قابض فوج کی سیکیورٹی چوکی پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے ہمہ جہت حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ 14 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے گریشہ کے علاقے تاپکو میں ایک کارروائی کے دوران ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے خاص کارندے احسان ولد حضور بخش کو اس کے گھر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص براہِ راست فوجی جارحیت میں سہولت کاری، اور ہمارے ساتھی سرمچار شہید زبیر بلوچ، شہید قندیل اور شہید سفر کی شہادت میں بلاواسطہ ملوث تھا۔ علاوہ ازیں وہ علاقے میں چوری، مقامی تاجروں و کاروباری حضرات سے بھتہ خوری اور دیگر سماجی برائیوں کا مرتکب بھی رہا تھا۔ سرمچاروں نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ 13 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے نال کے علاقے کوڑاسک میں قابض فوج کی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ صمد کے کارندوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 2 ڈیتھ اسکواڈ اہلکار شدید زخمی ہو گئے، جن کے قبضے سے تمام اسلحہ سرمچاروں نے ضبط کر لیا۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے نال کے علاقے کوڑاسک میں واقع یوفون کے مواصلاتی ٹاور کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنا دیا اور اس سے ملحقہ تمام اہم مشینری کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اسی روز سرمچاروں نے بیلہ اور اوتھل کے درمیانی علاقوں ٹیھارو اور وایاری کے مقامات پر قائم پولیس کی 2 چیک پوسٹوں پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں پوسٹوں کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ سرمچاروں نے وہاں موجود تمام سیکیورٹی اہلکاروں سے ان کا حربی ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا، تاہم وہاں تعینات پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کے بعد تنظیمی اصولوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بغیر کسی نقصان کے محفوظ طریقے سے رہا کر دیا گیا۔ اسی تاریخ کو قلات کے علاقے گراڑی میں ٹول پلازہ کے قریب سرمچاروں نے کارروائی کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے کارندے انسپکٹر غفار خلجی کو گرفتار کر لیا۔ مذکورہ شخص اس وقت تنظیم کی تحویل میں ہے جس سے تفتیشی عمل جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق آج دوپہر کوئٹہ شہر میں بلوچ آزادی پسند گشت کر رہے تھے کہ اس دوران ان کا سامنا سی ٹی ڈی اہلکاروں سے ہوا۔ مسلح افراد نے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملے میں دو سی ٹی ڈی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں #بلوچستان https://x.com/sobainbalochh/status/2099880967619977518?s=52

بریکنگ نیوز آواران: کولواہ کے علاقے مالار میں بلوچ سرمچاروں نے ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ کے کارندوں پر حملہ مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099165833645920713?s=52

کیچ کے علاقے زامران میں مسلح افراد کی جانب سے پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر شدید حملہ مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099148657572327837?s=52

Mand.jpg1.97 MB

+1
Aashob Statement English BLF September2026 000106 Page 1.jpg5.05 MB

On September 1, 2026, BLF fighters targeted a patrol team heading to an occupying Pakistani army picket post at Pitok area of Dasht, with heavy and automatic weapons. Comming under the attack, one army vehicle was severely damaged, while several personnel onboard were killed and wounded. The Balochistan Liberation Front accepts responsibility for all the above-mentioned operations, blockades, and losses of life and property inflicted on the occupying army. Major Gwahram Baloch Spokesperson– Balochistan Liberation Front 13 September 2026 Ref. No. BLF/September2026/000106

Six military personnel killed and several wounded in seven operations, weapons seized from police personnel: Major Gwahram Baloch Balochistan Liberation Front fighters set up a checkpoint on the main highway at Koh Daghar area of Mand on September 11, 2026, searching vehicles passing through. The objective of the blockade was to maintain the organization's influence in the area and to closely monitor the movements of the occupying Pakistani army and its collaborators. In another operation, our fighters ambushed an occupying Pakistani army convoy on September 10, 2026, at Tatgar in the Yakmach area of Kharan, targeting it with heavy and automatic weapons. Due to constant attacks by the fighters, the frightened occupying army convoy was using civilian vehicles for its movement, two buses carrying military personnel in the convoy came under direct attack, resulting in 6 occupying army personnel being killed on the spot and several others wounded. The organization strongly warns all transporters and vehicle owners not to allow their vehicles to be used for the occupying army's movement, supply of rations, or other support. The occupying army is always on our target, therefore, civilian transporters who facilitate the army will themselves be responsible for any loss of life or property that results. After the attack, the occupying army attempted to advance against the fighters in the desert area of Harmagy with the intent of encircling them however, the alert fighters counter-attacked, foiling the enemy's advance and forcing the army to retreat after suffering further losses. On the same day, BLF fighters set up a checkpoint and conducted snap checking on the main highway from Nasirabad to Nodiz in the Kech area. The fighters continued searching vehicles at their designated checkpoint for the set time without disrupting the flow of traffic for the general public. The main purpose of this blockade was to maintain organizational influence in the area and closely monitor the movements of the occupying army and its local collaborators. After the fighters withdrew safely, the occupying army's convoy and quadcopters arrived at the checkpoint site and fired indiscriminately into the air, harassing local civilians. On the same day, in another operation, our fighters carried out a comprehensive attack with heavy and automatic weapons on an occupying Pakistani army camp located at Del Kick area of Zamuran, resulting in losses of life and property for the enemy forces. In another attack, our fighters first fired several rounds from grenade launchers at an occupying Pakistani army camp established at Rodbun area of Tump, which landed precisely on their targets. The fighters subsequently targeted the camp's defensive positions with other advanced and heavy weapons, causing heavy losses of life and property to the occupying army. In another operation on September 9, 2026, BLF fighters set up a checkpoint on the main highway in the Khairabad area of Turbat, searching vehicles passing through. During the blockade, the fighters stopped the official vehicle of the Assistant Commissioner of Tump. However, the Assistant Commissioner himself was riding in the vehicle behind rather than the one that was stopped, and taking advantage of this, he managed to escape from the scene. The fighters seized all the official weapons and combat equipment of the Assistant Commissioner's security guards. After completing the operation, the occupying army attempted an aerial attack using a quadcopter, but the alert fighters in counter-attack, foiled the attack and forced the enemy to retreat.

+1
Aashob Statement Urdu BLF September2026 000106 Page 1.jpg4.88 MB

7 کارروائیوں میں 6 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی، پولیس اہلکاروں سے اسلحہ ضبط : میجر گہرام بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 11 ستمبر 2026 کو مند کے علاقے کوہ ڈغار میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں اپنے تنظیمی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور قابض پاکستانی فوج اور اس کے سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ ایک اور کارروائی میں ہمارے سرمچاروں نے 10 ستمبر 2026 کو خاران کے علاقے یکمچ میں ٹٹگار کے مقام پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے مسلسل حملوں کے باعث خوفزدہ قابض فوج کا یہ قافلہ اپنی نقل و حرکت کے لیے سویلین گاڑیوں کا استعمال کر رہی تھی، اس قافلے میں شامل فوجی اہلکاروں کو منتقل کرنے والی 2 بسیں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں قابض فوج کے 6 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ تنظیم تمام ٹرانسپورٹرز اور گاڑی مالکان کو سخت تنبیہ کرتی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو قابض فوج کی نقل و حرکت، راشن کی فراہمی یا معاونت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ قابض فوج جہاں بھی ہوگی وہ سرمچاروں کے ہدف پر ہے، لہٰذا سویلین ٹرانسپورٹرز فوج کو سہولت فراہم کرنے کی صورت میں اپنے ہر قسم کے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ حملے کے بعد قابض فوج نے سرمچاروں کو گھیراؤ میں لینے کی نیت سے ہرماگے کے ریگستانی علاقے میں سرمچاروں کے خلاف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تاہم مستعد سرمچاروں نے ان پر جوابی حملہ کر کے دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بنا دیا اور فوج کو مزید نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑا۔ اسی روز سرمچاروں نے کیچ کے علاقے ناصرآباد سے نودز تک مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ کی۔ سرمچاروں نے عام عوام کی ٹریفک کی روانی کو متاثر کیے بغیر اپنے مقررہ وقت تک ناکہ لگاکر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی کا عمل جاری رکھا۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں تنظیمی اثر و رسوخ برقرار رکھنا اور قابض فوج و اس کے مقامی سہولت کاروں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا تھا۔ سرمچاروں کے باحفاظت نکل جانے کے بعد قابض فوج کے قافلے اور کواڈ کاپٹرز ناکہ بندی کے جگہ پر پہنچے کر اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی اور عام شہریوں کو ہراساں کیا۔ اسی روز ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے زامران کے علاقے ڈیل کِک میں واقع قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے ہمہ جہت حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن فورسز کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں، اسی تاریخ کو ہمارے سرمچاروں نے تمپ کے علاقے رودبن میں قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر پہلے گرینیڈ لانچرز سے متعدد گولے داغے جو عین اپنے اہداف پر جا گرے۔ اس کے بعد سرمچاروں نے دیگر جدید و بھاری ہتھیاروں سے کیمپ کے حفاظتی مورچوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔ ایک اور کارروائی میں 9 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تربت کے علاقے خیرآباد میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے وہاں سے گذرنے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی کو روکا۔ تاہم اسسٹنٹ کمشنر خود مذکورہ گاڑی کے بجائے عقبی گاڑی میں سوار تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سرمچاروں نے اسسٹنٹ کمشنر کے سیکیورٹی گارڈز کا تمام سرکاری اسلحہ و حربی سامان اپنے قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد قابض فوج نے فضا میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملے کی کوشش کی مگر مستعد سرمچاروں نے جوابی فائرنگ کر کے حملے کو ناکام بنا دیا اور دشمن کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یکم ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے دشت کے علاقے میں پٹوک کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کی پیکٹ چوکی پر جانے والی گشتی ٹیم کو بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے نشانے پر لیا۔ فائرنگ کی زد میں آنے سے فوج کی 1 گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ گاڑی میں سوار متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کارروائیوں، ناکہ بندیوں اور قابض فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کی کامل ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ میجر گہرام بلوچ ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ 13 ستمبر 2026 Ref. No. BLF/September2026/000106

خضدار کے علاقے نال میں بلوچ آزادی پسندوں کا ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ صمد سمالانی کی زیرِ نگرانی جاری تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099030452291924070?s=52

خضدار: نال کے علاقے کوڑاسک میں بلوچ سرمچاروں نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ صمد سمالاڑی کی نگرانی میں سی پیک روڈ پر کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ پر حملہ کیا۔ مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔ https://x.com/sobainbalochh/status/2099030000313782394?s=52

photo content

تجارتی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی دو ڈرائیوروں کو گرفتار، سیکورٹی گارڈ کی اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی 12 ستمب
تجارتی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی دو ڈرائیوروں کو گرفتار، سیکورٹی گارڈ کی اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی 12 ستمبر 2026 گزشتہ شب بلوچ ریپبلیکن گارڈز کے سرمچاروں نے مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کچھی بولان کے علاقے کے ایک مقامی ہوٹل پر چھاپہ مار کر بلوچستان سے پنجاب سامان لے جانے والے دو بڑی گاڑی کو اپنے قبضے میں لینے کے بعد ان کے ڈرائیورز کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انہی گاڑیوں پر بطور حکومتی سیکورٹی گارڈ مقرر کیئے گئے، افراد سے ان کا سرکاری اسلحہ ضبط کر کے اپنے ساتھ لے گئے، بعد ازاں بلوچ ہونے کے ناطے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ہماری تنظیم بلوچ ریپبلیکن گارڈز کے طرف سے گاڑی مالکان اور ڈرائیور حضرات کو تنبیہ کرنے کے باوجود بلوچستان سے بلوچ قومی وسائل کو چوری چھپے رات کے اندھیرے میں پنجاب لے جانا ایک عظیم قومی جرم ہے۔ ہم بلوچ قومی وسائل کے ایک ذرا برابر قومی دشمن پنجاب کو لے جانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ اس حملے کی ذمہ داری ہماری تنظیم بی آر جی قبول کرتی ہے اور اس طرح کے کاروائیاں بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری رہیں گے دوستین بلوچ ترجمان بلوچ ریپبلکن گارڈز