Sobain|سوبین بلوچ
الذهاب إلى القناة على Telegram
Freelance journalist from war zone Balochistan
إظهار المزيدلم يتم تحديد البلدالفئة غير محددة
258
المشتركون
لا توجد بيانات24 ساعات
+97 أيام
+2130 أيام
أرشيف المشاركات
31 مارچ: سبی میں مواصلاتی ٹاور کو تباہ کردیا گیا۔ کیچ کے علاقے دشت، کڈان میں سرمچاروں نے علاقے کا کنٹرول حاصل کیا اور لیویز اسٹیشن ونادرا دفتر پر کنٹرول کے بعد ان کا اسلحہ تحویل میں لیا۔ قابض فوج کے کیمپ اور بکتر بند گاڑی پر حملوں میں مجموعی طور پر سات اہلکار ہلاک ہوگئے۔ قلات کے شہر منگچر میں سرمچاروں نے بیک وقت نو مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا، ان حملوں میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ منگچر کالج میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ کو بی ایل اے کی فضائی اور ڈرون وارفیئر یونٹ “قہر” (QAHR) نے پانچ ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جس سے تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔
سوراب، بینچہ کے مقام پر گھات لگا کر کیئے گئے حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ مستونگ، لکپاس کے مقام پر پوسٹ پر حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوئے۔ کمبیلا میں ریڈار سسٹم تباہ کیا گیا اور دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ مَرو میں مرکزی کیمپ پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ اسپلنجی میں بی ایل اے سنائپر نے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا۔ مستونگ کے علاقے گرگینہ میں دو پوسٹوں پر حملے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کوئٹہ-تفتان شاہراہ کو چار گھنٹوں تک کنٹرول میں لیا گیا۔ تربت میں ایم آئی دفتر پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغے گئے۔ کوئٹہ، ہزار گنجی میں ایم آئی ایجنٹ احتشام گجر کو ہلاک کردیا گیا۔
یکم اپریل: زامران، نوانو میں قابض فوج کے لیے راشن لے جانے والی گاڑی ناکارہ بنائی گئی اور موٹر سائیکل سوار اہلکاروں کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔ نوشکی میں خالی فوجی پوسٹ کو بارودی مواد سے تباہ کردیا۔
شہداء:
شہید سنگت زاہد عرف نواز ولد شیر محمد، پنجگور کے علاقے گچک سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ 2016 میں مسلح جہد آزادی سے منسلک ہوئے جبکہ 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بنے۔ سنگت زاہد ایک نڈر جنگجو اور تجربہ کار سرمچار تھے جنہوں نے گچک، کیلکور، اورناچ، رخشان اور پنجگور کے محاذوں پر دشمن کے دانت کھٹے کیئے۔ شہید سنگت سعید اللہ عرف معراج ولد عدل جان کا تعلق واشک کے علاقے راغے سے تھا، وہ 21 اپریل 2025 کو بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور گوارگو اور پنجگور کے محاذوں پر ہراول دستے کے طور پر اپنی جرات کا لوہا منوایا۔ شہید سنگت جہانزیب عرف کمبر ولد بہرام پنجگور کے علاقے نوک آباد، تسپ سے تعلق رکھتے تھے، آپ جنوری 2025 میں بی ایل اے سے منسلک ہوکر قومی آزادی کے جہد کا حصہ بنے۔ آپ کی فکری وابستگی اور عسکری لگن نے ناگاہو اور پنجگور کے محاذوں پر دشمن کو شدید ہزیمت سے دوچار کیا۔
شہید سنگت عامر عرف خالد ولد ڈاکٹر عبدالوحید کا تعلق پنجگور کے علاقے خدابادان سے تھا، وہ 2022 سے بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے اور بطور شہری گوریلا قومی آزادی کیلئے برسرپیکار ہوئے، 2024 میں وہ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے اور کیلکور، گوارگور، پروم، اور پنجگور کے محاذوں پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ شہید سنگت صدام عرف شاویز ولد الطاف کا تعلق کیچ کے علاقے کلگ سے تھا، وہ 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے، آپ ایک جفاکش سرمچار تھے جنہوں نے مختصر وقت میں اپنی عسکری مہارت سے دشمن کے خلاف کئی کامیاب مشن مکمل کیے۔ شہید سنگت عبدوست عزیر (عبدالرحمان) عرف المان ولد مُلا اصغر کا تعلق تمپ کے علاقے کوھاڈ سے تھا، وہ 2018 میں بلوچ مسلح جہد آزادی کا حصہ بنے اور 2019 میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوئے۔ آپ بی ایل اے کے ایلیٹ یونٹ "فتح اسکواڈ" کے رکن تھے اور اپنی جنگی صلاحیتوں کے باعث ہراول دستے کا حصہ تھے۔
سنگت عبدوست جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے، قابض فوج نے اپنے آلہ کاروں کے ذریعے آپ کے چچا مصدق کو شہید کرنے سمیت آپ کے خاندان کو اجتماعی سزا کے طور پر نشانہ بنایا تاہم آپ آزادی کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ سنگت عبدوست کی پرورش ان کی والدہ بی بی عمیرہ نے کی جو آزادی فکر رکھتی تھیں، آپ نے نہ صرف اپنے بیٹے کی نظریاتی پرورش کی بلکہ ہمیشہ بلوچ جہد کاروں کے کمکار کے طور پر پیش پیش رہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی، "ڈیتھ اسکواڈز" سے منسلک افراد کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے بلوچ کش اعمال کو ترک کرکے سرینڈر کریں بصورت دیگر ان کے خلاف بلوچ لبریشن آرمی بھرپور طاقت کا استعمال کرکے انہیں منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ ان مربوط حملوں کے دوران جھل مگسی میں قابض فوج نے عوام کو بطور ڈھال استعمال کرنے کی کوشش کی لہٰذا عوام قابض فوج سے محفوظ فاصلہ اختیار کریں۔ ہماری یہ تزویراتی جنگ اور مربوط حملے آزاد و خود مختار بلوچستان کی بحالی تک اپنی پوری قوت اور شدت کے ساتھ جاری رہیں گے۔
جیئند بلوچ
ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی
مورخہ: 3 اپریل 2026
سبی، مل سریانی کے مقام پر بجلی مین ٹرانسمیشن لائن کے تین ٹاوروں کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی کے قریب بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن کے دو ٹاوروں کو تباہ کردیا۔ سبی، لمجی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنا کر جانی نقصانات سے دوچار کیا۔ ڈھاڈر میں سرمچاروں نے شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے اسنیپ چیکنگ کی۔ سبی میں کٹ منڈائی کے مقام پر سرمچاروں نے دو گھنٹوں سے زائد شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے اسنیپ چیکنگ کی۔
مستونگ کے علاقے کانک میں سرمچاروں نے لیویز چوکی پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود اسلحہ کو تحویل میں لیا جبکہ چوکی وگاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔ کوئٹہ میں زراعت کالونی کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) آفس کو حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے دشمن کے پوزیشنز پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے، دھماکوں کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار ہلاک اور مزید پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ، اختر آباد کے مقام پر سرمچاروں نے پولیس کی گاڑی کو گرنیڈ لانچر سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے کوئٹہ، تیرہ میل کے علاقے میں ریلوے پُل سمیت ٹریک کو پانچ جگہوں پر، اور کوئٹہ ایریگیشن کالونی کے قریب ریلوے ٹریک کو چار جگہوں پر آئی ای ڈی نصب کرکے تباہ کردیا۔
بسیمہ میں لتاڑ کے مقام پر اتوار کی شب سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے تھرمل اسکوپ وخودکار اور بھاری ہتھیاروں سے دشمن پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے اور مزید جانی ومالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ نوشکی، سرمچاروں نے ریلوے ٹریک کو بٹو لانڈی، احمد وال اور گومازی میں پانچ جگہوں پر بارودی مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ڈیرہ بگٹی، سوئی شہر میں محمد کالونی کے مقام پر گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا۔
زامران میں سرکیزا آپِ تنک کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو مختلف اطراف سے نشانہ بنایا، ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے حملے میں سرمچاروں نے بھاری اور جدید اسلحہ استعمال کیا جبکہ جھڑپوں میں سرمچار عبدوست عزیز عرف المان شہید ہوگئے۔ قابض فوج نے قافلوں کی شکل میں علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے دو مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے پانچ اہلکار ہلاک ہوگئے۔ سوراب میں مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے، اس دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا جن میں سے ایک کو سرمچاروں نے مار گرایا۔
30 مارچ: جھل مگسی میں سرمچاروں نے کوٹڑو میں پولیس اسٹیشن کا کنٹرول حاصل کرکے ایک اہلکار گرفتار کیا جبکہ جھڑپوں میں ایک اہلکار ہلاک اور ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ قابض فورسز نے اس دوران عام آبادی کو بطور ڈھال استعمال کیا تاہم سرمچاروں نے عوامی نقصانات سے پرہیز کرتے ہوئے کامیابی سے اپنی کارروائی سرانجام دی، بعدازاں گرفتار پولیس اہلکار کو علاقے کے بزرگوں کی درخواست پر رہا کردیا گیا۔ دوپہر کے وقت قابض پاکستانی فوج کے آٹھ گاڑیوں پر مشتمل قافلے نے پیش قدمی کی کوشش کی جس کو سرمچاروں نے کوٹڑو، نورانی روڈ پر نشانہ بنایا۔ حملے میں قابض فوج کے نو اہلکار ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوگئے۔ دشمن کی دو گاڑیاں مکمل تباہ جبکہ مزید تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سرمچاروں نے ایک گاڑی سے ڈرونز، مارٹر گولے اور دیگر جنگی سامان تحویل میں لینے کے بعد ناکارہ گاڑی کو نذرآتش کردیا۔
دالبندین، سیاہ چنگ میں سرمچاروں نے لیویز چوکی کو کنٹرول میں لے کر اہلکاروں کو حراست میں لیا۔ مائننگ سائٹ کا کنٹرول حاصل کرکے کمپنی کی مشینری کو نذرآتش کردیا جبکہ لیویز اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد رہا کردیا گیا۔ کارروائی میں چودہ ہتھیار اور ایک گاڑی تحویل میں لی گئی۔ خاران میں پتکن کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے کیمپ پر مارٹر گولوں اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس سے دشمن کو بھاری جانی ومالی نقصان پہنچا۔ واشک میں سرمچاروں نے شمسی ایئربیس پر متعدد بی ایم 12 راکٹ داغے جو کامیابی سے اپنے اہداف پر لگے۔ کوئٹہ، مغربی بائی پاس پر گیس پائپ لائن کو بارودی مواد سے تباہ کردیا گیا۔
03 April 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00046
BLF set fire to Zangi Nawad police post and blockaded the Ahmad Wal highway in Nushki- Major Gwahram Baloch
On April 3, 2026, fighters of the Balochistan Liberation Front carried out a coordinated attack on the police post established in the Zangi Nawad area of Nushki and took complete control of it. In the operation, the personnel present at the post were taken into custody and interrogated, and official pistol along with other military equipment were seized from the post. The police personnel were subsequently released on humanitarian grounds, the post was set on fire and completely destroyed.
In another operation, our fighters established a blockade on the Ahmad Wal highway in the Nushki area on April 1, 2026. The primary purpose of the blockade was to monitor and obstruct the movement of the occupying forces and their collaborators, and to maintain organizational control in the area.
The Balochistan Liberation Front claims responsibility for both of these operations in Nushki.
Major Gwahram Baloch
Spokesperson, Balochistan Liberation Front
03 اپریل 2026
Ref. No. BLF/Apr2026/00046
نوشکی میں سرمچاروں نے زنگی ناوڑ پولیس چوکی کو نذرِ آتش کیا اور احمد وال شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔
میجر گہرام بلوچ
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 اپریل 2026 کو نوشکی کے علاقے زنگی ناوڑ میں قائم پولیس چوکی پر ایک منظم حملہ کر کے اس کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ کارروائی کے دوران چوکی پر موجود اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی اور ان کے قبضے سے سرکاری پستول سمیت دیگر عسکری ساز و سامان ضبط کر لیا گیا۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا اور چوکی کو نذرِ آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے یکم اپریل 2026 کو نوشکی کے علاقے احمد وال شاہراہ پر ناکہ بندی کی۔ ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے میں قابض فوج اور ان کے آلہ کاروں کی نقل و حمل پر کڑی نظر کر مسدود کرنا، اور تنظیمی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا تھا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ نوشکی میں ان دونوں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان، بلوچستان لبریشن فرنٹ
بریکنگ نیوز
آج صبح نوشکی کے علاقے زنگی ناوڑ پولیس چوکی پر مسلح افراد نے حملہ و کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نزر آتش کیے،
علاقائی زرائع کے مطابق دو دن پہلے نوشکی کے علاقے احمد وال شائراہ پر دیر تک مسلح افراد نے ناکہ بندی کر کے دیر تک اسنیپ چیکنگ گئی۔
https://x.com/subainbaluch/status/2039982553403199999?s=20
گزشتہ رات افغان طالبان نے پاکستانی فورسز سے بکتر بند ٹینک جنگی مالِ غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیے۔
https://x.com/subainbaluch/status/2039948164933771581?s=20
خوست کے علاقے غلام خان میں پاکستانی فورسز کی گولہ باری کے بعد ڈیورنڈ لائن پر افغان فورسز اور پاکستانی فورسز میں شدید جھڑپیں جاری ہیں،
جن میں ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں
https://x.com/subainbaluch/status/2039770842733711726?s=20
اختر ندیم بلوچ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرکردہ مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ بی ایل ایف کی فعالیت اور اسے مستحکم کرنے میں اُن کا ایک اہم اور قائدانہ کردار ہے۔
پڑھیئے مکمل انٹرویو :
#dailysangar #Balochistan #BLF #AkhtarNadeemBaloch
https://dailysangar.online/?p=72230
سوال:
آپ گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچ قومی آزادی کے مسلح محاذ پر سرگرم ہیں۔ اس طویل اور کٹھن جدوجہد کا مجموعی خلاصہ آپ کن الفاظ میں بیاںکریں گے؟
جواب:
بلوچ قومی تحریکِ آزادی کے ایک کارکن کی حیثیت سے اس طویل سفر میں، میں نے سب سے اہم جو سبق سیکھا ہے، وہ کمٹمنٹ، تسلسل اور جستجو کے باہمی رشتے کا ادراک ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں پر محیط اس جدوجہد سے وابستگی نے مجھے انفرادی مقاصد اور ذاتی خواہشات کے دائرے سے نکال کر ایک وسیع تر اجتماعی اور قومی شعور سے جوڑ دیا ہے۔ یہ وابستگی محض ایک نظریاتی تعلق نہیں رہی، بلکہ اس نے ہر لمحہ میری عملی تربیت کی ہے۔ اس جدوجہد نے مجھے سخت ترین حالات میں جینے کا ہنر سکھایا اور مشکلات کا سامنا حوصلے اور استقامت کے ساتھ کرنے کا شعور دیا۔ مہربان ساتھیوں اور قربانی کے جذبے سے سرشار سرمچاروں کی رفاقت میں، میں اس جدوجہد کو کٹھن نہیں سمجھتا بلکہ میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اس پُرآشوب دور میں اپنی قوم کے لیے فرائض ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔
سوال:
اس بیس سالہ مسلح سفر کے دوران آپ کن بڑے نشیب و فراز اور سنگ میلوں سے گزرے ہیں، جنہوں نے آپ کی سوچ یا تحریک پر گہرے اثرات مرتب کیے؟
جواب: دیکھیں، انسان جس ماحول اور معاشرے میں زندگی گزارتا ہے، وہ لازماً اس کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح اس بیس سالہ جدوجہد کے چشم دید گواہ کی حیثیت سے، میں نے اس سفر کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔ اگر مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو اس جدوجہد کا تسلسل ہی ہماری سب سے بڑی طاقت رہا ہے۔ بلوچ قوم کی بےلوث محبت اور اعتماد نے ہمیشہ ہمارے حوصلوں کو جِلا بخشی اور ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا۔ یہ اعتماد ہی وہ سرمایہ ہے جس نے ہمیں ہر مشکل مرحلے میں ثابت قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں کچھ ایسے نشیب و فراز بھی آئے جنہوں نے ہمارے سفر میں وقتی خلل ضرور ڈالا۔ مثال کے طور پر 2005 میں ہماری گرفتاری ایک اہم موڑ تھا۔ اس وقت ہمیں میدانِ جدوجہد میں آئے محض دو سال ہی ہوئے تھے کہ ہم اپنے قائد کے ہمراہ گرفتار کر لیے گئے۔ اس مرحلے پر ایک گہری ذہنی اذیت بھی رہی، یہ احساس کہ شاید ہم اپنی قوم کے لیے وہ کردار ادا نہ کر سکے جس کے لیے ہم نے برسوں تیاری کی تھی۔ تاہم وقت نے ہمیں ایک اور موقع دیا۔ ہم نے اپنے قومی حلف کی پاسداری کی اور دوبارہ اس جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد سے آج تک کی محنت کا نتیجہ یہ ہے کہ بلوچ قومی آزادی کا شعور اب صرف چند حلقوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ شہروں سے لے کر دور دراز کے گدانوں اور جھونپڑیوں تک پھیل چکا ہے۔ یہی وہ سنگ میل ہیں جنہوں نے نہ صرف میری سوچ کو مزید پختہ کیا بلکہ تحریک کے مستقبل کے بارے میں میرے یقین کو بھی مضبوط تر بنایا ہے۔
https://x.com/subainbaluch/status/2039357759913709792?s=20
سوال:
ایک طرف پاکستانی ریاست کے ساتھ براہ راست جنگ، اور دوسری طرف چین اور عالمی کمپنیوں کے خلاف مہاز آرائی؛ بیک وقت مختلف مہاز کھولنا تحریک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا؟
جواب:
دیکھیں، بلوچ قوم کا چین یا کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے یا قوم کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔ ہم کبھی نہیں چاہتے کہ کسی قوم کے ساتھ ہمارا مسئلہ پیدا ہو۔ ہم دوسروں کے حق ملکیت اور قومی اقتدار کا احترام کرتے ہیں لیکن دنیا کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بلوچ سرزمین جنگ زدہ ہے، اور پاکستانی قابض قوت نے بلوچ نسل کشی، وسائل کی لوٹ مار اور بلوچ سرزمین پر مختلف پالیسیوں کو لاگو کرکے قوم کو نیست و نابود کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ایسے کھٹن حالات میں، اگر بلوچ قوم کی حمایت کے بجائے قابض قوت کا ساتھ دیا جائے، تو یہ دنیا کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
اختر ندیم
https://x.com/subainbaluch/status/2039333712739914090?s=20
ماہنامہ اسپر کے انیسواں شمارے کا اجرا بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلی کیشنز کی جانب سے ماہنامہ اسپر کا انیسواں شمارہ اپریل 2026- آشوب پبلی کیشنز بلوچستان لبریشن فرنٹ
ماہنامہ اسپر کے انیسواں شمارے کا اجرا بلوچستان لبریشن فرنٹ کے زیرِ اہتمام، آشوب پبلی کیشنز کی جانب سے ماہنامہ اسپر کا انیسواں شمارہ اپریل 2026- آشوب پبلی کیشنز بلوچستان لبریشن فرنٹ
